Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode02

Paharon Ki Beti by Maria Shah Episode02

سردی کی شدت بڑھتے ہی پہاڑوں نے چاندی کی چادر اوڑھ لی۔ سر سبز قد آور درختوں پر اٹی سفید اجلی اجلی برف اتنی دلکش لگتی کہ دیکھنے والی آنکھ دیکھتی رہ جائے۔ کڑاکے کی سردی کی وجہ سے ہر طرف چہچہاتے پرندے بھی اپنے گھونسلوں میں جا دبکے تھےاور تین دن سے ہوتی مسلسل برف باری نے ذرائع آمدورفت مفلوج کرکے لوگوں کو گھروں تک ہی محدود کر دیا تھا۔ ایسے میں وہ تینوں گھر کے پیچھے موجود پہاڑ پر چڑھے موسم کا مزہ لیتے ہوئے ایک دوسرے پر برف کے گولے بنا بنا کر پھینک رہے تھے۔ جب اس کھیل سے تھک گئے تو وہ عدیمہ کی فرمائش پر سنو مین بنانے میں اس کی مدد کرنے لگی اور داور انگلی سے برف پر کچھ لکھنے میں مصروف ہو گیا۔
”آپا دیکھیں میں نے اپنا نام ٹھیک لکھا ہے نا۔۔۔ مجھے سارے اسپیلنگ یاد ہیں“ داور کے پرجوش انداز سے کہنے پر وہ عدیمہ کو چھوڑ کر اس کی طرف آگئی۔
”نہیں پھر غلط لکھا ہے ڈی کے بعد اے آنا تھا تم نے ڈبلیو لکھ دیا۔۔۔تم کب سیکھوں گے داور“ برف کی سفید چادر پر لکھے اس کے نام کے چند حروف کو مٹاتے ہوئے اس نے خفگی کا اظہار کیا ۔داور چھ سال کا ہو گیا تھا لیکن پڑھائی میں کمزور ہونے کی وجہ سے یاد کیا ہوا سبق بھی جلدی بھول جاتا تھا۔
”آپایہ مرنے کے بعد ہی سیکھے گا“ عدیمہ نے سنو مین کے سر پر برف کا گولا رکھتے ہوئے مذاق اڑایا۔
“اللہ نہ کرے۔۔ ہر وقت فضول مت بولا کرو کتنی بار کہا ہے زیادہ بولنے سے عقل چلی جاتی ہے“ عدیمہ کی بات پر وہ دہل گئی تھی۔ کشمالہ کو عدیمہ پر برہم ہوتے دیکھ کر داور نے ایک جتاتی ہوئی نظر اس پر ڈالی تھی جواب میں وہ بھی منہ چڑا کر اپنے سنو مین کی طرف متوجہ ہو گئی۔
”مالا۔۔۔ بہن بھائی کو لے کر نیچے آجاؤ شام ہو رہی ہے“ ابھی اس نے داور کا نام مکمل ہی کیا تھا کہ پہاڑوں کے دامن سے آتی اماں کی آواز پر ان دونوں کو ساتھ لئے گھر کی جانب چل دی۔
”آپا میرا نام تو برف میں دب جائے گا“ دوبارہ سے برف باری شروع ہوتے دیکھ کر داور کو اپنے نام کی فکر لاحق ہوئی۔
”کوئی بات نہیں ہم کل آکر پھر لکھ لیں گے“ کشمالہ نے اسے تسلی دی۔
”عدیمہ دھیان سے چلو کہیں گر کر چوٹ نہ لگوالینا“ اس نے اچھلتی کودتی عدیمہ کو ٹوکا اور جُھک کر داور کے جوتوں کے کھلے تسمے بند کرنے لگی۔ کہا جاتا ہے بڑی بہنیں ماں کے جیسی ہوتی ہیں اور وہ اس بات کی عملی تفسیر تھی۔ اپنے چھوٹے بہن بھائی کا خیال بچوں کی طرح ہی رکھتی تھی۔
”آپا۔۔۔ لا۔۔۔لالالاش “ وہ جو داور کے جوتوں کے تسمے بند کر نے کے بعد آخری گرہ لگا رہی تھی عدیمہ کی خوف زدہ آواز سن کر فوراً سیدھی ہو ئی اور دوڑتی ہوئی اس تک آئی تھی۔ عدیمہ سے چند قدم دور برف سے جھانکتا ہوا ایک انسانی ہاتھ نظر آرہا تھا۔ لمحہ بھر کو اس کے چہرے کا رنگ فق ہوا اور پھر وہ بے اختیار داور کی طرف مڑی اس نے برف سے جھانکتے ہاتھ کو اپنے پیچھے چھپانے کی کوشش کی تھی۔
”داور نیچے جا کر ابا کو بھیجو اور ان سے کہو محلے سے کسی کو ساتھ لے کر یہاں آ جائیں“ وہ جانتی تھی داور اچانک سے دیکھ کر ڈر جائے گا اسی لئے اس نے وقتی طور پر اسے وہاں سے بھگانا چاہا۔
”آپا کیا ہوا ؟۔۔ عدیمہ کو کوئی چوٹ لگی ہے؟“ اس نے عدیمہ کی صرف چیخ سنی تھی اس کے الفاظ ٹھیک سے نہیں سن سکا تھا اسی لئے معاملہ سمجھ نہیں آیا۔
”جتنا کہا ہے اتنا کرو۔۔۔ داور جلدی“ اس کے سختی سے کہنے پر وہ بندر کی طرح چھلانگیں لگاتا اگلے ہی پل نیچے تھا۔
داور کے جانے کے بعد اس نے اپنی توجہ عدیمہ کی طرف مبذول کی جو اب بھی متوحش نظروں سے اس ہاتھ کو دیکھ رہی تھی جس پر پھر سے ہلکی ہلکی برف گرنے لگی تھی۔ کشمالہ نے پاس جا کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا لاش پر سے برف ہٹانے کی اس میں بھی ہمت نہیں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد ہی امجد صاحب اپنے ساتھ والے گھر میں مقیم اکمل صاحب کو لئے اوپر آئے تھے۔
”کیا ہوا بیٹا سب ٹھیک ہے ؟ ۔۔۔کہیں چوٹ تو نہیں لگی؟“ انہیں پریشان کھڑے دیکھ کر امجد صاحب نے تشویشناک لہجے میں پوچھا ۔ کشمالہ نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اس ہاتھ کی طرف اشارہ کیا جس کے اب صرف ناخن نظر آرہے تھے۔ اس کے اشارہ کرنے پر امجد صاحب اور اکمل صاحب نے بیک وقت اس طرف دیکھا اور دونوں کے ہی رنگ اڑے تھے۔
”ٹھیک ہے تم دونوں نیچے جاؤ ہم دیکھتے ہیں“ اپنے لہجے کو نارمل رکھتے ہوئے انہوں نے انہیں وہاں سے جانے کا کہااور ہاتھ میں پکڑی دو چھتریوں میں سے ایک کشمالہ کی طرف بڑھائی جسے اس نے تھام لیا۔ عدیمہ ابھی تک سہم کر اس کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی۔
ان دونوں کے واپسی کی طرف بڑھتے قدم دیکھ کر وہ ہاتھ سے ہی برف ہٹانے لگے۔ دل ہی دل میں دعا کر رہے تھے کہ کوئی جانا پہچانا چہرہ دیکھنے کو نہ ملے لیکن برف ہٹانے پر جو چہرہ سامنے آیا اس نے ان دونوں کے ہی اعصاب شل کر دیے تھے ۔ وہ تیرہ سالہ بلال تھا اکمل صاحب کا لخت جگر۔۔۔۔
اگلے ہی پل اکمل صاحب کی دلخراش چیخوں سے پہاڑ لرز اٹھے۔ وہ دنوں بھی دہل کر رک گئیں۔ پہاڑ کے دامن میں بسے گھروں سے کئی لوگ نکل کر چیخوں کی سمت دوڑے تھے اور ان میں سب سے آگے وہ تھی۔ برف سے ٹھنڈے ہوتے بے جان وجود کو دیکھ کر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ پھیل گئی۔ وہ ایسے کیسے مر سکتا تھا ابھی کچھ دن پہلے ہی تو اس نے کہانی سننے کی فرمائش کی تھی جسے وہ فرصت نہ ملنے کی وجہ سے ابھی تک پورا نہیں کر سکی تھی اور اب وہ کہانی سنے بنا ہی چل دیا تھا۔ کشمالہ کو لگا اب وہ کبھی کوئی کہانی نہیں سنا سکے گی۔ بلال کے جسم پر جگہ جگہ جما ہوا خون اس پر ہوئے ستم کی داستان سنا رہا تھا لیکن اس جنگل کے قانون میں اُس داستان کو سننے والا کوئی نہیں تھا۔ مرنے والے کو کیوں مارا گیا اور مارنے والا کون ہے یہ راز اب مرنے والے کے ساتھ ہی دفن ہو جانا تھا۔ وہاں ایسا ہی ہوتا تھا ان کا خون اتنا سستا تھا کہ پانی کی طرح بہایا جاتا ۔یہ وہاں کی عام روایت تھی کہنے والے کہہ سکتے تھے اب تک تو انہیں عادت ہو گئی ہو گی پر یہ ان لوگوں کا دل جانتا تھا کہ ہر بار کسی اپنے پیارے کی لاش دیکھ کر ان کے دل پہ کیسے آرے چلتے تھے۔
کچھ ہی دیر میں محلہ لوگوں سے بھر گیا ہر طرف آہ و بکا تھی۔۔۔ چیخ و پکار تھی۔۔۔ کچھ نوجوان خون بے بسی اور غصے کے ملے جلے جذبات لئے بدلہ لینے کی آگ میں جل رہے تھے وہ اور کر بھی کیا سکتے تھے۔ تھانے تک خبر پہنچی تو رسمی کاروائی کرنے پولیس بھی چلی آئی۔۔۔ اہل خانہ سے چند سوال و جواب کے بعد اپنے رجسٹر بند کئے اور واپسی کی راہ لی۔۔۔ یہ بھی وہاں معمول کی کاروائی تھی۔ وہاں سب جانتے تھے قانون کے ہاتھ کتنے ہی لمبے کیوں نہ ہوں وہ مجرم تک کبھی نہیں پہنچ سکتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کے اس پہر ہر طرف پُر ہول سناٹے کا راج تھا۔ بلال کی موت کے بعد سے لوگوں نے گھر سے نکلنا بند کر دیا تھا۔ گھروں کے پیچھے سے جھانکتے پہاڑ بھی اداسی کی لپیٹ میں آگئے تھے ایسے لگتا تھا جیسے انہوں نے چاندی کی چادر کے بجائے بیوگی اوڑھ لی ہو اور وہاں کوئی بیوہ عدت میں آ بیٹھی ہو۔ اس نے اپنے گرد شال لپیٹتے ہوئے ایک مجرمانہ سی نظر کچن میں کھانا بناتی ماں پر ڈالی جن کے چہرے پر اطمینان تھا اگر انہیں پتا چل جاتا وہ ان سے جھوٹ بول کر کہاں جا رہی ہے تو ان کا اطمینان اڑنچھو ہو جاتا ایک لمحہ کو شرمندگی نے اسے گھیرا لیکن پھر سر جھٹک کر دہلیز پار کر گئی۔ باہر قدم رکھتے ہی یخ بستہ ہوا نے چھوا تو اسے بے اختیار جھر جھری آگئی۔ چادر کو دوبارہ اچھے سے لپیٹتے ہوئے اس نے قدم آگے بڑھا دئیے۔ اسے گلی کے کونے میں موجود اپنی دوست کے گھر جانا تھا۔ وہ صرف پڑاؤ تھا ان کی منزل کوئی اور تھی۔ خنساء کے گھر پہنچ کر اس نے اپنا لباس تبدیل کیا لباس کے ساتھ اس کا حلیہ بھی بدل گیا تھا۔ کوئی اسے دیکھ کر نہیں پہچان سکتا تھا کہ وہ کشمالہ امجد ہے ڈھیلے ڈھالے مردانہ کرتا شلوار کے ساتھ بالوں پر دوپٹّے کو پگڑی نما باندھے وہ نوعمر لڑکا لگ رہی تھی وہاں موجود دوسری لڑکیاں بھی اُسی جیسے حلیے میں تھیں۔ تیاری مکمل کر کے وہ خنساء کے گھر سے نکل آئیں ان کا رخ بستی کے باہر تھا جہاں ان کا انتظار کیا جا رہا تھا۔
”چلو جلدی چلیں۔۔۔کہیں گاڑیاں ہاتھ سے نہ نکل جائیں“ان کے قریب پہنچنے پر گروپ لیڈر ریحان نے کہا اور وہ سب مین روڈ سے ہٹ کر جنگل کے راستے پہ چلنے لگے۔ وہ دس بارہ لوگوں کا گروپ تھا جس میں تقریباً ایک ہی عمر کے لڑکے لڑکیاں شامل تھے۔یہ ان کی چوتھی واردات تھی پہلی تین وارداتوں کی کامیابی کے بعد وہ پہلے سے زیادہ نڈر ہو گئے تھےان کی چال میں عجب سی سرکشی اور بلا کا اعتماد تھا۔ ہر بار نئی جگہ کا انتخاب کیا جاتا اور وہ جگہ بستی سے اتنی دور ہوتی کہ کوئی چاہ کر بھی بستی والوں پر شک نہیں کر سکتا تھا۔ یہ ان کا دشمن سے بدلہ لینے کا اپنا طریقہ تھا اور آج وہ سب بلال کی پرسرار موت کا بدلا لینے آئے تھے۔
”گاڑی گزر تو نہیں گئی؟“ ریحان نے منزل پہ پہنچ کر شاہ بلوط کے درخت پر چڑھے علی سے پوچھا جس کی ڈیوٹی دور بین سے گاڑیوں پر نظر رکھنا تھی اور وہ اس کام کے لئے کافی دیر سے وہاں موجود تھا۔
”نہیں بھائی۔۔۔ کچھ ہی دیر میں آتی ہو گی“ علی نے دور بین پر سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا۔
”خبر پکی تھی نا۔۔؟؟“ اس نے پاس کھڑے احمد سے پوچھا جس نے انہیں یہ خبر دی تھی۔
”ایک دم پکی بھائی“ احمد کی یقین دہانی پر وہ سب کو ان کی پوزیشنز سمجھانے لگا تھوڑی دیر کے لئے ان کی آوازوں سے جنگل میں شور برپا ہوا اور پھر بھید بھری خاموشی چھا گئی۔ وہ سب اپنی اپنی پوزیشن سنبھالے سانس روکے بیٹھے تھے۔پندرہ منٹ کے بعد ان کا انتظار ختم ہوا اور روڈ پر ان کی مطلوبہ گاڑیاں دکھائی دیں۔ جھینگوں کی مخصوص آواز میں دئیے گئے سگنل پر وہ سب الرٹ ہو گئے۔ جیسے ہی پہلی گاڑی ان کی مقرر کردہ حدود تک آئی ایک جھٹکے سے رک گئی اس کے پیچھے آتی باقی دو گاڑیوں کو بھی بریک لگی تھی ۔گاڑی میں ہوئی خرابی دیکھنے کے لئے اگلی گاڑی سے ایک باوری شخص اترا وہ جیسے ہی گاڑی کا پھٹا ہوا ٹائر دیکھنے کے لئے جھکا دائیں طرف سے آتی سنسناتی ہوئی گولی نے اسے ڈھیر کر دیا ۔ یہ کام اتنی خاموشی سے ہوا تھا کہ گاڑیوں میں بیٹھے افراد لاعلم رہے۔اگلے ہی پل وہاں گھمسان کا رن پڑا تھا ان فوجی گاڑیوں پر دونوں اطراف سے تابڑتوڑ پتھر اور گولیاں برسائی جانے لگیں چند لمحوں میں ہی وہ اپنے شکار کو جوابی کاروائی کا موقع دئیے بغیر ہی ڈھیر کر چکے تھے۔وہ لوگ ایک اور مشن میں سُرخرو ہو گئے تھے۔
”لے کے رہیں گے آزادی۔۔۔۔کشمیر بنے گا پاکستان“ جنگل ان کے نعروں سے گونج اٹھا۔ آسمان نے سالوں پہلے یہ نعرہ برصغیر کی گلیوں میں سنا تھا اور آج تھوڑے سے ردوبدل کے بعد وہ یہ نعرہ کشمیر کے جنگل میں سن رہا تھا۔۔۔۔ستر سال گزرنے کے بعد بھی ان کی قدریں مشترک تھیں آزادی اور پاکستان۔
__________
وہ وادی خون کی وادی تھی۔۔۔ شاید کاتب تقدیر نے اس کا نام خون سے لکھا تھا تبھی تو وہ ہر وقت خون مانگتی تھی۔۔۔وہ کشمیر کی وادی تھی جسے لوگ جنت کہتے تھے لیکن وقت کے فرعونوں نے اسے جہنم بنا رکھا تھا۔۔۔ جس کی فضا میں ہر وقت بارود کی بو رہتی تھی۔۔۔ جہاں ہر لمحہ کسی بھی طرف سے آتی گولی کا دھڑکا لگا رہتا تھا۔۔۔ جہاں دن رات لاشے اٹھائے جاتے تھے۔۔۔ اور ایسا ہی ایک لاشہ آج پھر اٹھایا جانے والا تھا۔
وہ دوپہر کے وقت ذرا ستانے کو لیٹی تھی ابھی کچی پکی نیند میں ہی تھی جب باہر سے آتے شور کی وجہ سے ہڑبڑا کر اٹھ گئی۔ شور میں شامل لوگوں کی آہ و بکا سن کر ٹھٹکی اور فوراً دوپٹہ اوڑھ کر باہر آگئی۔ گھر کے سب افراد پہلے ہی باہر تھے وہ بھی گلی میں نکل آئی۔ ریحان کے گھر کے باہر رش دیکھ کر بے اختیار اس کے پیروں تلے سے زمین کھسکی تھی۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ دروازے تک پہنچی اور تمام تر ہمت مجتمع کر کے اندر جھانکنے کی کوشش کی۔ گھر کے صحن میں رکھے پلنگ پر پڑے وجود کو دیکھ کر وہ چوکھٹ پر ہی جم گئی۔ ابھی کل ہی تو وہ ان کے ساتھ تھا۔۔۔ ہدایات دیتا۔۔۔ ان کی راہنمائی کرتا۔۔۔ ان کا سپاہ سالار۔۔۔ اور اس وقت وہ بے جان پڑا تھا۔ اس کا شدت سے دل چاہا کاش اس کی جگہ کوئی اور ہوتا۔۔۔ کاش اس کی جگہ وہ خود ہوتی۔۔۔ بس اسے یہاں نہیں ہونا چاہیے تھا وہ بلا کا ذہین اور نڈر تھا انیس سال کی عمر میں ہی ایسے ایسے کارنامے سر انجام دے چکا تھا کہ عقل دنگ رہ جاتی۔۔۔ انہیں اس کی ضرورت تھی کشمیر کو اس کی ضرورت تھی۔۔۔اسے اتنی جلدی نہیں مرنا چاہیے تھا۔ کوئی اسے دھکیلتا ہوا اندر داخل ہوا تو وہ بے ہنگم سوچوں سے باہر آئی۔ ہوش میں آنے پر اس نے ارد گرد نظر دوڑائی تھی ان کے خفیہ گروپ کے سبھی ممبرز الگ الگ کونوں میں گم صم کھڑے تھے۔ پلنگ کے پائے کے ساتھ لگی خنساء یک ٹک اپنے بھائی کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔۔۔ جس پر جگہ جگہ زخم اور کھر وچ لگنے کے باوجود طمانیت بھرا احساس تھا۔۔۔ وہ اونچا لمبا خوبصورت بھائی جس پر اسے فخر تھا۔۔۔ وہ اب نہیں رہا تھا۔۔۔ اذیت کی انتہا تھی جس سے اس محلہ کے لوگ گزر رہے تھے ایک ہی ہفتہ میں وہاں دو جوان موتیں ہو چکی تھیں۔۔۔ یہ سردیاں بھی انہیں راس نہیں آئی تھیں بلکہ انہیں کوئی بھی موسم راس نہیں آتا تھا۔۔۔ وہ بوجھل قدموں سے گھر کی طرف واپس آگئی اور اپنے کمرے کا دروازہ بند کرکے زمین پر بیٹھ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
”کیوں تو ہماری داد رسی کے لئے کسی محمد بن قاسم کو نہیں بھیجتا۔۔۔ کہاں ہے وہ تیرے دین کا پرچم لہراتا ایوبی لشکر۔۔۔ کہاں ہے وہ طارق بن زیاد جو اپنی کشتیاں جلا کر ہمیں اس جہنم سے نکالے۔۔۔ کہاں ہیں وہ سب مسلمان جو کسی ایک مسلماں کی آہ پر دوڑے چلے آئیں۔۔۔ کہاں رہ گئے ہیں وہ سب میرے مولا۔۔کہاں رہ گئے ہیں “ گھٹنوں میں سر دئیے رونے کے ساتھ ساتھ خدا سے اس کی فریاد بھی جاری تھی۔
”مالا۔۔۔ دروازہ کھولو“ مسلسل دروازہ پیٹنے کے ساتھ زینب بی بی کی پریشان سی آواز سنائی دی تو اس نے ہاتھوں کی پشت سے آنکھیں رگڑتے ہوئے دروازہ کھول دیا۔
”تمہارے ابا صبح سے نظر نہیں آرہے۔۔۔ تم نے انہیں کہیں دیکھا ہے؟ “ وہ ہراساں چہرہ لئے اس سے پوچھ رہی تھیں بستی کے موجودہ حالات نے سب کے ہی دلوں کو وہموں کا شکار کر دیا تھا اک ذرا سی آہٹ پر بھی دل دھڑک دھڑک جاتا۔ اس کے نفی میں سر ہلانے پر وہ وہیں رکھی چارپائی پر ڈھے گئیں۔ کشمالہ بھاگ کر کچن سے ان کے لئے پانی لے آئی۔
”کہیں انہیں کچھ ہو نہ گیا ہو۔۔۔ مجھے لگتا ہے وہ انہیں اٹھا کر لے گئے ہیں ۔۔۔ اگر انہیں کچھ ہو گیا تو ہم کیا کریں گے “ زینب بی بی نے اپنے وہموں کو زبان دی انہوں نے گلاس پکڑنے کے لئے ہاتھ نہیں بڑھایا تھا۔
”کچھ نہیں ہوا ابا کو۔۔ ابھی آ جائیں گے آپ خوامخواہ ہی پریشان ہو رہی ہیں۔“ اس نے انہیں تسلی دیتے ہوئے گھڑی میں وقت دیکھا وہاں شام کے پانچ بج رہے تھے اس وقت تک انہیں آجانا چاہیے تھا وہ بھی پریشان سی ان کی خیریت کے لئے دعا مانگنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خنساء کے کمرے میں بیٹھے وہ سب ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے۔ یہ کمرہ گھر سے الگ تھلگ ہونے کی وجہ سے ان کی خفیہ میٹنگ کے لئے مختص تھا۔ لیکن دو دن پہلے جو کچھ ہوا اس کے بعد ان میں بولنے کی سکت نہیں رہی تھی۔ ویسے بھی اس جگہ پر سب سے زیادہ ریحان کی آواز گونجتی تھی۔۔۔اس مقام پر وہی بولتا اچھا لگتا تھا۔۔۔ان در دیوار کو اسی کی آواز سننے کی عادت تھی ۔۔۔اس کے بولنے کا انداز بھی تو دل موہ لینے والا ہوتا تھا۔۔ پھر ہر پلان بتاتے ہوئے ایک ایک باریکی کو ایسے بیان کرتا تھا کہ مزید سوال کرنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی تھی ۔۔اس کا ہر پلان جھول سے خالی ہوتا تھا ایسے ہی تو وہ پاک انٹیلی جینس کا دلدادہ نہیں تھا وہ انہیں آئیڈیل مانتا تھا اسی لئے ہر کام اتنی صفائی سے کرتا کہ اپنے پیچھے کوئی ثبوت نہ چھوڑتا ۔۔۔یہ پاک انٹیلی جینس سے اس کی محبت ہی تو تھی کہ اپنے گروپ کا نام بھی مارخور رکھا تھا۔۔۔اسے بولتے دیکھ کر خنساء دل ہی دل میں بھائی کے صدقے واری جاتی نہیں تھکتی تھی ۔۔۔وہ ایسا ہی تھا کوئی بھی لڑکی دیکھے تو دیکھتی رہ جائے۔اگر وہاں عام لڑکیاں ہوتیں تو اس کے عشق میں گرفتار ہو چکی ہوتیں۔۔۔لیکن وہ کشمیر کی بیٹیاں تھیں جنہیں حالات نے کبھی محبت کے بارے میں سوچنے ہی نہیں دیا تھا۔
“ہم ایسے نہیں بیٹھ سکتے ہم ریحان کا بدلہ لیں گے۔۔۔ ہمیں اپنے بھائی کا بدلہ لینا ہو گا“ علی نے سب سے پہلے بولنے کی ہمت کی اس کی آواز پر جوش تھی۔
”فی الحال ہم ایسا کچھ نہیں کریں گے ۔۔۔ میں نہیں چاہتی کہ ہم کوئی اور بھائی بھی کھو دیں“ خنساء نے خالی خالی نظروں سے کمرے کے وسط میں دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
”مجھے لگتا ہے ہم میں کوئی غدار ہے۔۔۔“ احمد نے بھی اپنا منہ کھولا سب نے ناسمجھی سے اسے دیکھاتھا۔
”اور تمھیں ایسا کیوں لگتا ہے؟ “ علی نے پوچھا۔
”ریحان نے آخری مشن سے واپسی پر کہا تھا کہ اسے کسی پر شک ہے لیکن اس کا نام نہیں بتایا شاید اسے خطرہ تھا کہیں گروپ میں پھوٹ نہ ڈل جائے اور اگر پچھلے دنوں کے واقعات پر غور کیا جائے تو وہی لوگ ٹارگٹ بنے ہیں جو کسی نہ کسی طرح مارخور سے وابستہ تھے۔۔۔سب سے پہلے بلال جو کبھی کبھی ہمارا کوئی پیغام یہاں سے وہاں لے جانے کا کام کر دیتا تھا۔۔۔ پھر ریحان اور اب کشمالہ کے ابا امجد انکل کا دو دن سے کوئی آتا پتا نہیں“ احمد نے ان سب کی طرف ایک نظر ڈالتے ہوئے اپنے خیال کی وضاحت کی۔ وہ سب لمحہ بھر کے لئے سوچ میں ڈوب گئے۔ اس کی بات ٹھیک بھی ہو سکتی تھی لیکن اگر ایسا کوئی ہے تو پھر وہ کون ہے؟ سب کی سوچ اسی سوال پر آ ن رُکی ۔
”امجد انکل کا مارخور سے کیا تعلق۔۔۔ میرے خیال میں اگر ہم میں کوئی غدار ہو گا بھی تو اس میں اتنی غیرت تو باقی ہو گی ہی کہ کسی لڑکی کے بارے میں نہ بتائے“ حارث نے سوچتے ہوئے اپنے خیال کا اظہار کیا۔
”غدار جب غداری پر اتر آئے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔۔ اور وہ جو کوئی بھی ہو گا میرے ہاتھوں سے نہیں بچ سکتا“ احمد نے حارث کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے مضبوط لہجے میں کہا تو وہ گڑبڑا گیا۔
”وہ لوگ ابا کو میری وجہ سے پکڑ کر لے گئے ہیں “ کشمالہ کی آواز پر سب کی نظریں اس کی طرف اٹھی تھیں۔
”کیوں؟“ گُل نے پوچھا ۔
”میں نے میجر آتش کو تھپڑ مارا تھا“ ان سب کی طرف دیکھتے ہوئے کشمالہ نے وجہ کے ساتھ ساری بات بتائی تھی۔
”اگر یہ وجہ ہوتی تو وہ اب تک تمہیں بھی لے جا چکے ہوتے۔۔۔ گھر کے مردوں کو وہ اسی لئے پکڑ کر لے جاتے ہیں تاکہ عورتوں پہ آسانی سے ہاتھ ڈال سکیں“ اس کی بات سننے کی بعد احمد نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اور حقیقت بیان کی۔
”یہی تو سرا نہیں مل سکا ابھی تک۔۔۔“ وہ بے چینی سے پہلو بدل کر رہ گئی۔ یہ ان کی پہلی ایسی میٹنگ تھی جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین دن گزرنے کے بعد بھی امجد صاحب کا کچھ پتا نہیں چلا تھا۔ محلے والوں کو بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کس کس کی داد رسی کریں۔ ایک طرف ابھی بلال کا غم تازہ تھا تو دوسری طرف ریحان کی قبر کی مٹی گیلی تھی۔۔اور اب امجد صاحب کا یوں پرسرار انداز میں غائب ہونا۔۔ پھر بھی وہ ان سب کا خیال رکھنے کی کوشش میں لگے تھے بہت سے لوگوں نے امجد صاحب کو اپنے اپنے طور پر ڈھونڈا بھی تھا لیکن وہ سب ناکام رہے تھے۔ زینب بی بی نے رو رو کر برا حال کر لیا تھا اور وہ داور اور عدیمہ کے سوالوں کے جواب دے دے کر ہلکان ہو چکی تھی۔ اسی لیے چوتھے دن اس نے دونوں کو تیار کر کے سکول بھیجوا دیا لیکن اپنے گروپ کے کچھ لوگوں کو عدیمہ کا خیال رکھنے کی تاکید کرنا نہیں بھولی تھی۔ تقریباً دس بجے کا وقت تھا جب تیز دستک سنائی دی وہ بھاگتی ہوئی دروازے تک آئی تھی آج کل ہر دستک پر اس کا ایسا ہی حال ہوتا تھا۔ دروازے میں کھڑے امجد صاحب کو دیکھ کر اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا تھا اسے لئے بنا پلک جھپکے دیکھے گئی۔
“مالا۔۔۔ راستہ دو یہ زیادہ دیر کھڑے نہیں رہ سکتے“ اسے دروازے میں جمے دیکھ کر احمد کو کہنا پڑا۔ اس کی بات پر وہ جیسے ہوش میں آئی تھی اس نے اب غور کیا امجد صاحب کی دائیں ٹانگ پر پلستر بندھا ہوا تھا اور وہ احمد کا سہارا لئے بمشکل کھڑے تھے۔ وہ میکانکی انداز میں سائیڈ پر ہو گئی۔
اندر داخل ہوتے ہوئے انہوں نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا تو وہ آنسو ضبط کر کے رہ گئی۔امجد صاحب کو دیکھ کر زینب بی بی کی حالت بھی کم بیش ایسی ہی تھی۔ کبھی وہ ان کے گھر واپس آنے پر روتے ہوئے خدا کا شکر ادا کرنے لگتیں ۔۔۔ اور کبھی ان کے زخم دیکھ کر آنسو بہانے لگتیں ۔۔ تو کبھی احمد کو دعائیں دینے لگتیں جو امجد صاحب کو بستی کے باہر زخمی حالت میں پڑے دیکھ کر انہیں ہسپتال سے مرہم پٹی کروا کے گھر چھوڑ گیا تھا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *