Paharon Ki Beti by Maria Shah NovelR50756

Last updated: 5 July 2026

Paharon Ki Beti by Maria Shah

تھک ہار کر وہ واپس اسی فٹ پاتھ پر آگئی تھیں جہاں عدیمہ گم ہوئی تھی ۔ ان دونوں نے رات وہیں فٹ پاتھ پر اونگھتے ہوئے گزاری ۔ذرا آنکھ لگی تھی کہ بھوک کی شدت سے کھل گئی اب تو انتڑیاں بد دعائیں دینے لگی تھیں کتنی بھی مشکل کیوں نہ پیش آجائے بھوک ستانے لگ ہی جاتی ہے۔ وہ شاپنگ بیگ میں سے کل صبح کی خریدی گئی چیزیں نکال کر بے دلی سے پیٹ کی آگ بجھانے لگی۔ اس نے زینب بی بی کو بھی کھانے کا کہا لیکن وہ صاف انکار کر گئیں۔
”باجی بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔۔ کچھ ہے تو مجھے بھی دے دو“ کشمالہ نے دیکھا اس کے پاس کھڑا دس بارہ سالہ بچہ للچائی نظروں سے اس کے ہاتھ میں پکڑے سینڈوچ کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے کپڑے میلے کچلے تھے اور چہرے پر چھائی بے چار گی پہلی نظر ڈالنے پر ہی غربت کا پتہ دے رہی تھی۔ کشمالہ کو بے اختیار ترس آیا اور اس نے ہاتھ میں پکڑا سینڈوچ اس کی طرف بڑھا دیا۔ اپنے گندے ہاتھوں میں سینڈوچ لے کر وہ اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔
”ہمارا تو کوئی گھر نہیں اسی لئے ہم یہاں سوتے ہیں۔۔ ۔ تم یہاں کیوں سو رہی ہو ؟“ سینڈوچ کا بڑا سا لقمہ لیتے ہوئے اس نے قدرے مدبرانہ انداز اپنایا تھا۔
”میری بہن کل یہاں سے گم گئی تھی۔۔۔ابھی تک نہیں ملی“ کشمالہ کی آنکھ سے چند آنسو گرے تھے۔
”اور پولیس میں ریپورٹ لکھوائی؟“ بچے نے ابرو اچکا کر پوچھا۔
”انہوں نے کہا ہے چوبیس گھنٹوں سے پہلے ریپورٹ درج نہیں ہو سکتی“اسے بتاتے ہوئے پولیس والوں کا رویہ یاد آیا تھا اور وہ گھٹنوں میں سر رکھ کر رو دی تھی۔ وہ امجد صاحب کی موت کی خبر سن کر اتنا نہیں روئی تھی اس نے داور کے مرنے پر بھی آنسو نہیں بہائے تھے۔ اور تو اور عدیمہ کے گم جانے پر بھی اس کے حوصلے پست نہیں ہوئے تھے۔ اسے رلایا تھا تو پاکستانیوں کے رویے نے رلایا تھا۔ وہ پاکستان کی تاریخ پڑتی رہی تھی اسے حال کی کیا خبر تھی۔ اسے کیا پتا تھا کہ وہ جن اسلاف کی قربانیوں کو سینے سے لگائے بیٹھی ہے اسے پاکستانیوں نے خود بھلا دیا ہے۔۔۔وہ مری کی ایک سڑک کنارے بیٹھ کر اپنی محبت کا بھرم ٹوٹ جانے پر رو رہی تھی۔۔۔ وہ سولہ سال کی محبت کی ایک دن میں ہوئی نیلامی پر آنسو بہا رہی تھی۔
”تم روؤں نہیں ۔۔۔یہاں کی پولیس ایسے ہی کرتی ہے۔۔۔مجھے ایک جگہ پتہ ہے جہاں گم ہوئے بچے مل جاتے ہیں“ وہ کھانے کے بعد اب جلدی جلدی اپنی گندی قمیض سے ہاتھ صاف کر رہا تھا۔
”کہاں؟“کشمالہ نے سرعت سے سر اٹھا کر نم آنکھوں سے پوچھا اس کے لہجے میں بے قراری تھی۔
”کچرے کے ڈھیر میں“ اس کی بات پر کشمالہ کو ایسے لگا جیسے مری اورکشمیر کے سارے پہاڑ دھڑا دھڑ اس کے اوپر آ گرے ہوں۔
___________
وہ بچہ جس نے اپنا نام عاشر بتایا تھا اسے اپنے ساتھ لئے اونچی نیچی پگڈنڈیوں سے گزرتا ایک کوڑے کے ڈھیر کے پاس لے آیا ۔ جہاں سے اٹھتے بدبو کے بھبھوکوں نے کشمالہ کو ناک پر ہاتھ رکھنے پہ مجبور کر دیا تھا۔ جگہ جگہ لگے گندگی کے ڈھیر دیکھ کر اسے کراہیت محسوس ہوئی تھی اس نے شدت سے عدیمہ کے وہاں نہ ہونے کی دعا مانگی ۔عاشر بلا جھجک کوڑے کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا اور وہ زینب بی بی کا ہاتھ تھامے خود کو رونے سے روک رہی تھی۔
”یہاں تو کوئی نہیں ہے۔ “ کوڑے کے ڈھیر پہ جھکے جھکے عاشر نے کہا۔
”وہ یقیناً راستہ بھول گئی ہو گی۔۔۔ ورنہ اب تک کوئی نہ کوئی اسے ہمارے پاس ضرور چھوڑ جاتا“ موہوم سی ایک امید اب بھی باقی تھی۔
” یہاں جب بچے گم جائیں تو پھر ملتے نہیں ہیں اور اگر مل بھی جائیں تو وہ زندہ نہیں ہوتے“ عاشر نے سنسنی خیز انداز میں خبر سنائی جسے سن کر کشمالہ کا دل دہل گیا تھا۔
”ایک دو اور جگہیں ہیں وہاں چل کر دیکھتے ہیں “ اس کے چہرے کے اڑے رنگ دیکھ کر عاشر نے تسلی دینے والے انداز میں کہا تو وہ بنا کچھ کہے اس کے ساتھ چل پڑی۔
”لگتا ہے تمہاری بہن اب کبھی نہیں ملے گی“ عاشر نے مایوسی سے کہا۔ چوتھی جگہ پر ڈھونڈنے کے بعد بھی عدیمہ کا کچھ پتا نہیں چلا تھا۔
”آہ۔۔۔“ کسی کے کراہنے کی آواز پر ان کے کان کھڑے ہو گئے تھے وہ دونوں بیتابی سے اردگرد ڈھونڈنے لگے۔
آپا۔۔۔اماں۔۔۔داور۔۔۔ابا“ درد میں ڈوبی آواز مسلسل آئے جارہی تھی اور آواز دینے والی کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ عاشر نے آگے بڑھ کر دیوار کے دوسری طرف دیکھا اور وہاں پڑے نیم برہنہ وجود کو دیکھ کر فوراً نظریں موڑ کر کشمالہ کو آواز دی تھی۔ وہ دس بارہ سالہ لڑکا کسی بہترین سکول نہیں گیا تھا کسی درسگاہ سے نہیں پڑھا تھا لیکن پھر بھی اس میں روایات باقی تھیں۔
”عدیمہ۔۔۔عدیمہ میری جان۔۔“ اس کی حالت دیکھ کر کشمالہ پر بجلیاں گری تھیں اور اس نے پوٹلی سے اپنا دوپٹہ نکال کر اس کے گرد لپیٹا تھا۔
”آپا۔۔۔۔“ وہ کچھ بولنا چاہ رہی تھی لیکن لفظ اس کے منہ سے ادا نہیں ہو رہے تھے۔
” عاشر یہاں ہسپتال کہاں ہے؟ ۔۔۔ عدیمہ کو ہسپتال لے کر جانا ہے“ وہ عدیمہ کا سر گود میں رکھتے ہوئے تڑپ کر چلائی تھی زینب بی بی بھاگتی ہوئی آئی تھیں اور اپنی معصوم بیٹی کی حالت دیکھ کر ان کا کلیجہ منہ کو آ گیا تھا۔
”تم اسے لے کر سڑک تک آ جاؤ کوئی گاڑی مل جائے گی۔۔۔یہاں سے ہسپتال دور ہے “ عاشر کے کہنے پر وہ بمشکل عدیمہ کو اٹھائے سڑک تک آئی اور اسے زینب بی بی کی گود میں لیٹا کر گاڑی روکنے کی کوشش کرنے لگی۔ اس نے اور عاشر نے اس مصروف ترین سڑک پر نجانے کتنی گاڑیوں کو ہاتھ دے کر روکنے کی کوشش کی تھی لیکن ان کے لئے کوئی ایک بھی گاڑی نہیں رُکی تھی۔ سب انہیں مانگنے والا سمجھ کر نظر انداز کرتے جا رہے تھے۔
عدیمہ کی بگڑتی حالت دیکھ کر وہ دوبارہ اس کے پاس آئی تھی۔
”آپا۔۔۔“ عدیمہ نے کانپتا ہوا اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا۔
”سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ ابھی ہم ڈاکٹر کے پاس جا رہے ہیں“عدیمہ کا ہاتھ تھپتھپاتے اس کی آواز رندھ گئی تھی۔
”آپا۔۔۔“ اس نے دوبارہ کچھ بولنے کی کوشش کی تو کشمالہ نے اپنے کان اس کے منہ کے پاس کر لیے۔
”آپا۔۔۔ تیرا۔۔۔ پاکستان تو۔۔۔ بہت۔۔۔ برا ہے“ عدیمہ کے منہ سے لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہوئے تھے اور پھر وہ خاموش ہو گئی۔
”نہیں عدیمہ نہیں۔۔۔ ہوش میں آؤ“ اس نے زینب بی بی کی گود میں رکھا اس کا چہرہ ہلایا لیکن وہاں کوئی ہلچل نہیں ہوئی۔
”عدیمہ نہیں۔۔۔ آنکھیں کھولو۔۔۔ ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔۔۔ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔۔۔ پلیز آنکھیں کھولو“ کشمالہ کی آہ و بکا سن کر اردگرد لوگ جمع ہونے لگے تھے۔ زینب بی بی کی زبان تالو سے چمٹ گئی تھی بیٹی کے بے جان ہوتے وجود کو دیکھ کر انہیں لگا اب وہ کبھی نہیں بول سکیں گی۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Categories: Adult After Marriage after nikah Crime Emotional Drama Family Dispute Innocent heroin Kidnapping Rude Hero urdu novels
Tags: After Marriage COMPLETE NOVEL Forced marriage Innocent Heroine Revenge Based Novels Rude hero Urdu Novels

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *