52.2K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

وہ آج جلد ہی آفس سے نکل آیا تھا اور ابھی جب سے اپنے جہازی سائز بیڈ پر لیٹا سموک کررہا تھا کیونکہ اسکا وہاں پر ادیان کے ساتھ بیٹھے دم گھٹنے لگا تھا،یہ سوچ ہی اسکی رگیں پھلارہی تھی کہ اب وہ لڑکی ادیان کی ملکیت ہے،یہ گیم کھیلتے کھیلتے وہ اسے گنواں بیٹھا تھا،دل کا درد حد سے بڑھا تو اس نے غصے میں اٹھ کر سائیڈ ٹیبل پر ٹھوکر ماری،جس سے وہ ٹیڑھی ہوتے ہوئے نیچے گری اور اس پر لگا کانچ ٹوٹ کر چکناچور ہوگیا،اپنی لہو رنگ آنکھوں کو اس نے جھپکا،بہت کوشش کے باوجود پچھلے کئی دنوں سے اسکی آنکھوں پر سے سرخائی نہیں جارہی تھی،اسے اب ادیان سے بھی نفرت ہونے لگی،جس نے اس لڑکی کو چند مہینوں میں اپنی ملکیت بنالیا تھا،وہ تو اسکی تھی “زین ذوالفقار آفندی” کی پھر کیسے اب وہ کسی اور کی ہوئی،
کل رات انکا ولیمہ تھا،مطلب دونوں نے کل ایک ساتھ خوبصورت لمحات گزاریں ہونگے،اور۔۔۔۔اور آج تو وہ اسکے فلیٹ پر ہوگی۔۔۔اسکی بیوی کی حیثیت سے۔۔۔غصے کی زیادتی سے زین کا چہرہ حد سے زیادہ سرخ ہوگیا تھا۔
آآآآہ
اسکی اذیت بھری دھاڑ پورے گھر میں گونجی تھی شدید جنون کی حالت میں زین نے پورا کمرہ تہس نہس کر کے رکھ دیا،پھر گرنے کے انداز میں وہ زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہوا اپنے بال جکڑ گیا،کافی دیر بعد تھوڑا بہت خود پر کنٹرول ہوا تو اس نے گردن گھوما کر اپنے بازو پر بنے اس انوکھے شیر کے ٹیٹو کو دیکھا،تمسخر اڑاتی مسکراہٹ نے اسکے لبوں کا احاطہ کیا،اسکا ذہین دماغ خودبخود ادیان کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ تیزی سے بُننے لگا تھا۔
اپنی زندگی کے آخری دنوں کو گن لے ادیان نیازی؟
خون آلود آنکھوں سے نفیس کارپیٹ کو گھورتے ہوئے وہ نہایت نفرت سے غرایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیمور کا غصہ کم ہوکے نہیں دے رہا تھا،اتنے قریب تھا وہ کِلو کے پر اچانک “Z” کی کال پر اسے واپس اسی عمارت پر آنا پڑا لیکن یہاں پر “Z” کو نہ پاکر اسکا غصہ بڑھا تھا،
اس نے فون نکال کر نمبر ڈائل کیا۔۔۔تین بیل کے بعد دوسری طرف سے کال ریسیو کرلی گئی۔
ہیلو سر۔۔۔آپ نے مجھے بلایا تھا پر آپ اب خود غائب ہو۔۔۔۔سر آپ کو نہیں پتا کتنا بڑا نقصان کردیا آپ نے میرا۔۔۔۔میں اگر ان لوگوں کا پیچھا کرتا تو اب تک کتنے ایویڈینس اکھٹے ہوچکے ہوتے۔۔۔۔
وہ “Z” کے ریسیو کرتے ہی شروع ہوچکا تھا،پوری بات مکمل ہونے کے بعد دوسری طرف کچھ دیر تک خاموشی رہی پھر کہا گیا۔
اگر تم اسی وقت واپس نہ آتے تو ہوسکتا ہے کہ ابھی تم ایویڈینس کلیکٹ کرنے کے لیے زندہ ہی نہ ہوتے۔۔۔۔۔سنو لڑکے۔۔۔تم ان لوگوں کی نظروں میں آچکے ہو۔۔۔اور میں۔۔۔۔۔۔اپنے لوگوں کی حفاظت کرنا اچھے سے جانتا ہوں۔۔۔۔اسی لیے کہتا ہوں تمہیں کہ جو کہا کروں وہ سُن لیا کرو۔۔۔
اس نے دھیمے لہجے میں بات مکمل کرتے ہی کال کاٹ دی جبکہ ادھر تیمور سکتے کی حالت میں تھا۔
کیا میجر تیمور کو مارنے کی سازش کی جارہی ہے۔۔۔اگر ایسا ہوا تو اس ملک کا کیا ہوگا۔۔۔
تیمور فون پکڑے اپنے ہی آپ بڑبڑایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر کو آفس سے ہالف لیوو پر فلیٹ میں آکر وہ نتاشہ کو پک کرتے ہوئے طاہر علوی کے گھر لے گیا تھا،انکے روکنے پر بھی ادیان وہاں نہیں رک رہا تھا تو نتاشہ نے اس سے ریکویسٹ کی جس پر وہ ناچاہتے ہوئے بھی مان گیا۔
اب رات کو وہ لوگ طاہر علوی کے گھر سے آئے تھے،ادیان کو ڈرائیو کرتے ہوئے مسلسل کسی سوچ میں گم دیکھ نتاشہ نے اس سے تھوڑی بہت بات کی پر آگے سے اس نے مختصر جواب دیا تو وہ خود بھی خاموش ہوگئی۔
فلیٹ پر آکر نتاشہ تھکن کی وجہ سے چینج کر کے سیدھا بیڈ پر سونے چلی گئی،جبکہ ادیان ایک نرم نظر اس پر ڈال کر بالکونی میں چلا گیا۔
آدھی رات کو پیاس سے نتاشہ کی آنکھ کھلی تو وہ اٹھ کر پانی پی،ابھی وہ لیٹتی کہ اسے ادیان والی سائیڈ خالی دِکھی،نتاشہ حیران ہوئی،اپنی مندی مندی آنکھیں مسلتے ہوئے وہ بیڈ سے اٹھی تھی،وہ روم سے نکلنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ اسے بالکونی سے سگریٹ کی سمیل آئی،اسنے اپنے قدم وہی پر موڑ لیے،وہاں جاکر نتاشہ نے دیکھا ادیان خاموشی سے سموکنگ کرتا مسلسل اوپر نظر کیے کھلے آسمان کو دیکھ رہا تھا،
ادیان۔۔۔
اسکے برابر میں کھڑے ہوتے ہوئے نتاشہ نے اسے پکارا،پتا نہیں طاہر علوی کے گھر سے آنے کے بعد سے وہ اتنا چپ چپ کیوں تھا،
نتاشہ کے پکارنے پر ادیان سگریٹ نیچے گرا کر پیروں سے مسلتے ہوئے گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
کیا ہوا؟
وہ نرم لہجے میں پوچھی جس پر ادیان چپ چاپ اسکی ہیزل رنگ آنکھوں میں دیکھنے لگا،اسے نتاشہ کی ہیزل کلر کی آنکھیں بہت پسند تھیں،محسوس ہوتا جیسے سبز کانچ پر کسی نے زرد رنگ کی تتلیاں چھوڑیں ہوں،وہ بےساختہ اس پر جھکتے ہوئے ان آنکھوں کو چوم گیا،نتاشہ حیا سے سمٹی تھی اسکی عنایت پر،
ایک بات پوچھوں؟
اس نے دھیمی آواز میں نتاشہ کا چہرہ ہاتھوں میں تھامتے ہوئے پوچھا تو وہ ہلکے سے اثبات میں سر ہلانے لگی۔
اگر مجھے کچھ ہوا یا میں نہیں رہا تو۔۔۔۔
ادیان کے الفاظ منہ میں رہ گئے جب نتاشہ نے تڑپ کر اسکی طرف دیکھا ہیزل رنگ آنکھیں پل میں سرخ ہوئیں تھیں،
ادیان۔۔۔ایسے کیوں۔۔۔بول۔۔رہے۔۔ہیں آپ۔۔۔
وہ تڑپ ہی تو گئی تھی،اس بےخبر لڑکی نے تو صرف خوشیاں دیکھیں تھیں اپنی زندگی میں،پہلی بار کسی غم کا سوچ کر اسکا تڑپنا لازم تھا،
ارے کیوٹی پائی۔۔رو تو نہیں۔۔۔میں تو بس یونہی پوچھ رہا تھا۔۔۔
اسکی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرتے دیکھ ادیان نے جلدی سے ہلکے پھلکے لہجے میں کہا
یوں بھی نہ پوچھیں۔۔۔مجھے اچھا نہیں لگتا یہ سننا بھی۔۔۔
وہ روٹھتے ہوئے بولی تکلیف واضح طور پر اسکے خوبصورت چہرے پر رقم تھی،ادیان کو حیرت نے آلیا،وہ لڑکی جو کبھی اسے اگنور کرتی تھی اب اس سے جدا ہونے کے تصور میں ہی روپڑی تھی،
اچھا سوری نہیں بولوں گا آئندہ۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا جس پر نتاشہ ایک نظر اسے دیکھ کر ادیان سے دور ہوتی ہوئی واپس روم میں جانے لگی،پر بالکونی کے گیٹ پر پہنچ کر وہ رکی تھی،ادیان یونہی گردن موڑے اسکی پشت کو دیکھ رہا تھا،اچانک وہ پلٹی پھر چند قدم اٹھا کر واپس اسکے قریب آئی،کچھ لمحے اسے دیکھنے کے بعد نتاشہ نے ایک لمبی سانس لی پھر پیروں کو اونچا کرتے ہوئے ادیان کے نزدیک چہرہ کر کے اسکے باریک لبوں پر اپنے گلابی لب رکھ گئی،ادیان جو حیرت کی مورت بنا اسکے اس انوکھے عمل کو دیکھ رہا تھا،اب آنکھیں بند کیے اسکے نرم لمس کو محسوس کرنے لگا،وہ نرمی سے اس سے دور ہوئی تھی پر اگلے ہی لمحے ادیان نے اسکی نازک کمر کے گرد اپنے مضبوط بازو حائل کردیے،
نتاشہ ادھ کھلی آنکھوں سے ادیان کی گِرے رنگ آنکھوں میں دیکھنے لگی،جس میں اب الگ ہی سحر دکھ رہا تھا،وہ نتاشہ کو کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیے بغیر اسکے نازک وجود کو بازوؤں میں بھر کر اندر روم میں لے گیا،نتاشہ اسکے سینے پر سر رکھ کر مطمئن سی ہوکر آنکھیں موند گئی،رات کی خاموشی میں دونوں کے جذبات کا طلاطم برپا ہوا تھا،چاند ان دونوں کے خوبصورت ملن پر شرما کر بادلوں کے اوٹ میں چُھپ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایک نایاب اور خوبصورت سی فیکٹری کے تہ خانے کا منظر تھا اندر گھپ اندھیرے میں صرف ایک چھوٹا سا بلب لگا تھا،جس سے بمشکل آس پاس کا منظر نظر آرہا تھا،اس اندھیر تہ خانے میں کچھ لڑکیوں کی رونے تو کچھ کی چیخنے کی آوازیں گونج رہیں تھیں،انہیں لڑکیوں میں سے ایک لڑکی بلکل کونے میں گھٹنوں پر سر رکھے خاموشی سے بیٹھی تھی،محبت کے نام پر ماں باپ کو چھوڑ کر گھر سے چھپ کر نکلی تھی پر بھول چکی تھی جو مرد اسے بہلا پھسلا کر ماں باپ کو چھوڑنے کا کہے وہ کبھی خود اسکا نہیں ہوپائے گا،اور اب وہ کم عقل لڑکی ایک انسان کی شکل میں بھیڑیے کی حوس کا شکار بنے بلکل سکتے کے عالم میں تھی،اسکے اردگرد لڑکیاں جن میں سے کچھ اغواء ہوکر تو کچھ اسی کی طرح جھوٹی محبت کے بہکاوے میں یہاں تک لائیں گئیں تھیں،بری طرح رورہی تھیں،پر اسے جیسے آس پاس سے کچھ مطلب ہی نہ تھا وہ بس یونہی منہ گھٹنوں میں چھپائے بیٹھی تھی،
سنو۔۔۔
انہیں لڑکیوں کی بھیڑ میں سے ایک لڑکی جو کب سے اسے نوٹ کررہی تھی اسے پکار بیٹھی پر آگے سے کوئی رسپانس نہ ملنے پر وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے پاس آئی،
نام کیا ہے تمہارا؟
اب کی بار وہ لڑکی اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھی تھی
اِزہا۔۔۔
بنا سر اٹھائے اس نے یونہی جواب دیا
تم کب سے ہو یہاں پر؟
اپنے آنسو پوچھتے ہوئے اس لڑکی نے پوچھا
پتا نہیں۔۔۔
پہلے کی طرح نہایت مختصر جواب دیا گیا
اغواء کیا تھا تمہیں؟
وہ لڑکی اسکی بےرخی پر بھی ہمت نہیں ہاری،اسے بھی کوئی چاہیے تھا اپنا دل ہلکا کرنے کے لیے،پچھلے دو مہینے سے ایک ہی جگہ پر رہتے رہتے اسکا یہاں دم گھٹنے لگا تھا اب۔
نہیں۔۔۔
پھر روکھا جواب آیا
میری طرح جھوٹی محبت کی ماری گئی ہو نا۔۔
اس لڑکی کی اس بات پر اِزہا نے تڑپ کر اپنا چہرہ اٹھایا اور وہ لڑکی،شدید حیرت کے عالم میں اسکے چہرے کو دیکھے گئی،آنسوؤں سے بھیگا کم عمر معصوم سرخ و سفید چہرہ نہایت نورانی سا تھا،وہ چند لمحے تک کچھ بول ہی نہ پائی،کیا اتنی کم عمر لڑکی بھی ان سب چکروں میں پڑ سکتی تھی،اسے مشکل سے سامنے بیٹھی وہ معصوم لڑکی سترہ،اٹھارہ سال کی لگی تھی،
تم۔۔۔بھی۔۔کیا۔۔
کچھ دیر بعد بمشکل اسکے منہ سے لفظ ادا ہوئے تھے
مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔۔۔
اس بار اِزہا تھوڑا بلند آواز میں تلخی سے بولی تھی،ساتھ ہی واپس گھٹنوں پر سر رکھ گئی۔
وہ لڑکی چند لمحے اسکے جھکے سر کو دیکھے گئی پھر خاموشی سے اٹھ کر وہاں سے چلی گئی۔
میرے رب۔۔۔۔صرف ایک موقع دیدیں۔۔۔
نہایت ہلکی سی بڑبڑاہٹ میں وہ بھیگی آواز میں وہی ورد کرنے لگی جو وہ جب سے کررہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو ہفتوں بعد آج تیمور جتنی بھی انفورمیشن کلیکٹ ہوئی تھیں وہ “Z” کو دکھانے لے جارہا تھا،پر اچانک راستے میں اسے اپنی کار روکنی پڑی کیونکہ چند قدموں کے فاصلے پر یمنا اپنی کار کے پاس پریشانی سے ٹہلتے ہوئے موبائل کان سے لگائے کسی سے بات کررہی تھی،تیمور کار سے نکلتا ہوا اسکے پاس گیا،
کیا ہوا۔۔۔خیریت؟
اسکے پیچھے کھڑے ہوئے تیمور نے فارملی پوچھا تو وہ پلٹی تھی
تم یہاں۔۔
وہ تیمور کو دیکھتے ہی منہ بناتے ہوئے بولی
نہیں۔۔۔میری روح یہاں۔۔
الٹا جواب دیتے ہوئے وہ مسکرایا
منہ بند رکھو۔۔۔سچ سچ بتاؤ۔۔تم یہاں میرا پیچھا کر کے پہنچے ہو نا۔۔۔۔شرم نہیں آتی کسی لڑکی کا پیچھا کرتے ہوئے۔۔۔
یمنا کی سُوئی اب تک وہی اٹکی دیکھ تیمور نے چہرہ بگاڑا
تمہیں اتنی خوش فہمی کیوں ہے کہ ہر بندہ صرف تمہارا پیچھا کر کے تمہارے پاس آتا ہے۔۔۔۔دنیا میں تمہارے علاوہ اور بھی کام ہیں۔۔۔
تیمور نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا
میں نے سب کی نہیں صرف تمہاری بات کی ہے۔۔۔
وہ منہ بسورے بولی تو تیمور کی ہنسی چُھوٹی
چلو کلئیر کرتا ہوں۔۔۔۔میں تمہارا پیچھا نہیں کررہا تھا۔۔۔بائے دا وے۔۔۔تم یہاں پریشان کھڑی ہو کوئی پروبلم ہے کیا؟
اب وہ سنجیدگی سے پوچھا تھا
ہاں۔۔۔وہ دراصل میری کار کا ٹائر پنکچر ہوگیا۔۔۔
یمنا ہچکچاتے ہوئے بولی
لو اتنی سی بات۔۔۔ایسا کرو گھر سے کسی کو کال کر کے بلاؤ اور چلی جاؤ۔۔۔
وہ رسانیت سے اسے آئیڈیا دیتا ہوا مڑا تھا جبکہ یمنا اس میجر کی پشت کو مکمل آنکھیں کھولے دیکھے گئی
او ہیلو۔۔۔
اسے جاتا دیکھ وہ جلدی سے اسکے پیچھے بھاگتے ہوئے بولی،
شرم نہیں آتی ایک شریف لڑکے کا پیچھا کرتے ہوئے۔۔۔۔
وہ رک کر تھوڑی دیر پہلے والا حساب بڑے مزے سے بےباک کرا تھا،جس پر یمنا کا منہ کھلا رہ گیا
تمہارا پیچھا کروں گی مائے فُٹ۔۔۔
وہ تپ کر غصے میں بولی
تو پھر روک کیوں رہی ہو مجھے؟
آئبرو اٹھاتے ہوئے تیمور نے پوچھا
وہ۔۔۔وہ تو میں۔۔اس لیے روک رہی ہوں کہ۔۔۔تمہیں زرا لحاظ نہیں میجر کہ کسی لڑکی کو یوں مشکل میں دیکھ کر کیا کرتے ہیں۔۔۔
وہ سوچ سوچ کر بولنے لگی
کیا کرنا چاہیے؟
اب کے تیمور بھی ناسمجھی میں اسے دیکھنے لگا تو یمنا کا بےساختہ اپنا سر پیٹنے کا دل چاہا،آخر کیسے یہ کم عقل انسان میجر بن گیا تھا۔
مطلب کہ۔۔۔گھر پر کوئی کال ریسیو نہیں کررہا۔۔۔تو۔۔۔تو تم چھوڑ دو نا مجھے اپنی کار میں۔۔۔
یمنا نے تنگ آکر آخر اس سے کہہ دیا
میں کیوں چھوڑوں تمہیں اپنی کار میں۔۔۔اگر تم نے میری کار کا بھی ٹائر پنکچر کردیا تو۔۔۔۔ویسے بھی بلکل نیو ہے۔۔۔
اسکی اس بات پر یمنا سچ میں چکراگئی تھی،اسے یہ جتنا آسان لگا تھا اتنا ہی مشکل ٹاسک نکلا تھا وہ۔
میں تمہیں پنکچر کرنے والی لگتی ہوں کیا؟
وہ غصے میں چیخی تھی،تیمور نے اپنے کان مسلے تھے
اچھا نا لے جاؤں گا۔۔۔۔چلاؤ تو مت۔۔۔
احسان کرنے والے انداز میں بولتے ہوئے وہ کار کی طرف جانے لگا یمنا بھی خود پر ضبط کیے اسکے پیچھے چلنے لگی تبھی وہ اچانک رکا
ایک منٹ۔۔۔
اس نے مڑ کر ایک نظر یمنا کو دیکھ کر کہا
اب کیا ہے؟
اسے کوفت ہوئی تھی اسی لیے آنکھیں بند کرتے ہوئے پوچھی
تمہیں۔۔۔کیسے۔۔۔پتا۔۔۔کہ۔۔۔میں۔۔میجر۔۔۔ہوووووں۔۔۔
آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے تیمور نے رک رک کر اس سے شکی لہجے میں پوچھا جس پر یمنا جھٹکے سے بند آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی
آ۔۔۔وہ۔۔۔مجھے کیسے پتا چلا۔۔۔ہاں۔۔۔تم۔۔تمہاری پرسنیلٹی ہی ایسی ہے کہ مجھے لگا تم میجر ہی ہوگے۔۔۔
وہ ہکلاکر بہانہ سوچتے ہوئے بولی تھی تو تیمور حیرت سے اسے دیکھا
سچ میں۔۔۔
پہلی بار کسی کے منہ سے وہ بھی ایک لڑکی سے اپنی تعریف سن کر اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
ہاں بلکل۔۔۔پر تم نے بتایا نہیں۔۔۔کیا تم سچ میں میجر ہو۔۔۔
اپنا تیر صحیح نشانے پر لگنے پر یمنا جلدی سے لہجے کو پُر تجسس بناکر اس سے پوچھی
ہاں۔۔۔میں میجر ہی ہوں۔۔۔پر یہ بات تم کسی کو مت بتانا۔۔۔تمہیں پتا ہے۔۔۔میری جان خطرے میں بھی ہے۔۔۔پر میں بےفکر ہوں کیونکہ میجر ڈرتے تھوڑی ہیں۔۔۔۔
وہ رازدارانہ لہجے میں اس سے بولا تھا دوسری طرف یمنا کو پتا نہیں کیوں اندر کہیں اچانک دھچکا سا لگا تھا۔۔۔سامنے کھڑا وہ مضبوط جسامت کا میجر جسے وہ کم عقل سمجھ کر بے وقوف بنا رہی تھی،کتنے صاف اور معصوم دل کا مالک تھا،بےاختیار وہ اس سے نظریں چراگئی
اب چلو۔۔۔مجھے اور بھی کام ہیں۔۔۔
اسے خاموش دیکھ کر تیمور نے بات بدلتے ہوئے جلدی سے کہا تو وہ ہلکے سے اثبات میں سر ہلاگئی۔
گاڑی میں بیٹھتے ہوئے یمنا نے ایک نظر اپنے کوٹ کی اندرونی جیب میں چھپی پسٹل کو دیکھا پھر آج کیے جانے والا ارادہ خود ہی ملتوی کرگئی،اس نے یہ کیوں کیا،یہ وہ خود بھی نہیں سمجھ پائی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج چھٹی کے دن ادیان کے ساتھ وہ شام کو باہر گھومنے نکلی تھی،ڈھیر ساری شاپنگ کرنے کے بعد جب نتاشہ نے اس سے باہر ہی ڈنر کی فرمائش کی تو وہ مسکراکر سر اثبات میں ہلاگیا،اور اب ادیان اسے ایک خوبصورت ریسٹورنٹ میں لے کر آیا تھا،پر کار سے اترتے ہی کچھ آدمیوں نے ادیان کو گھیرا تھا،نتاشہ بےساختہ گھبرائی۔
آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے،
ان میں سے ایک آدمی جس نے گلاسس لگائے ہوئے تھے ادیان کو بولا
آپ لوگ کون؟
وہ ان سب پر ایک نظر ڈالتا ہوا پوچھا
ارجنٹ بات ہے۔۔۔اکیلے میں کرنی ہے۔۔۔سائیڈ میں آئیں۔۔۔
اسی آدمی نے اب کی بار نتاشہ کو ایک نظر دیکھ کر کہا جس پر وہ ادیان کے پیچھے ہوئی
ایک منٹ رکیں۔۔۔نتاشہ ایسا کرو تم اندر جاؤ۔۔۔میں آتا ہوں۔۔۔
ادیان مڑکر نتاشہ کو بولا تو وہ نفی میں سر ہلانے لگی
چندہ۔۔۔بات سن لیا کرو۔۔۔تم جاؤ اندر۔۔۔آرہا ہوں میں۔۔۔
اب کی بار ادیان نے نرمی سے اسے سمجھایا،
نتاشہ اسکے پیچھے کھڑے ان آدمیوں کو ایک نظر دیکھ کر لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی ریسٹورنٹ کے اندر جانے لگی
ریسٹورنٹ کی پہلی منزل پر کھڑے زین نے پراسراریت سے مسکراتے ہوئے شیشے سے یہ منظر دیکھا تھا
اندر آکر نتاشہ نے مڑ کر ایک نظر شیشے سے باہر کا منظر دیکھا وہ لوگ ادیان کو لے کر سائیڈ میں جارہے تھے،وہ واپس پلٹ کر سیڑھیاں طے کر کے اوپر آئی،پھر ادیان کی بُک کی ہوئی سیٹ پر آکر بیٹھ گئی اور ادیان کے آنے کا انتظار کرنے لگی،ابھی اسے وہاں بیٹھے چند لمحے ہی گزرے تھے کہ اچانک سبھی لائٹس مدھم ہوئیں تھیں،دھیمی آواز میں میوزک بجنے لگا،تھوڑی ہی دیر میں فرنٹ پر بنے سٹیج پر ایک ایک کر کے کپلز مسکراتے ہوئے اپنی سیٹز سے اٹھ کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے ہوئے ڈانس کے غرض سے جانے لگے۔۔
نتاشہ ایک سحر کے زیرِ اثر ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی تبھی اسکے چہرے کے سامنے ایک بھاری ہاتھ آیا تھا،نتاشہ نے نظر اٹھا کر دیکھا بلیک ماسک لگائے کوئی مضبوط جسامت کا مالک مرد اسکے سامنے کھڑا تھا۔
Would you like to dance with me?
مخصوص بھاری آواز میں پوچھا گیا
No..
فوراً سے پہلے نتاشہ نے جواب دیا تھا مگر اسے یونہی اپنی چئیر کے سامنے ایستادہ دیکھ کر وہ پریشان ہوکر اٹھی،ادیان بھی پتا نہیں کہاں رہ گیا تھا،وہ یہ سوچتے ہوئے وہاں سے جانے لگی مگر اس آدمی نے نتاشہ کا بازو جکڑتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لیا تھا،ابھی نتاشہ کچھ سمجھتی کہ وہ زبردستی اسکا بازو پکڑے تیز قدم اٹھاتا ہوا اسے سٹیج پر لے آیا،اسکے عمل پر نتاشہ بری طرح ڈری تھی،
چھوڑو مجھ۔۔۔۔
وہ بولنے لگی تھی مگر اچانک مقابل کی آنکھوں پر نظر پڑتے ہی اسکے الفاظ گنگ ہوگئے،وہی وحشت سے بھر پور کالی آنکھیں جنہیں دیکھ کر وہ پہلے بھی ڈری تھی۔
وہ ایک ہاتھ سے نتاشہ کا ہاتھ تھامے جبکہ دوسرے بازو کو اسکی کمر کے گرد حائل کرتا سبھی کپلز کی طرح مدھر میوزک پر ڈانس کرنے لگا تھا،ادھر نتاشہ کا دماغ جیسے ماؤف ہونے لگا تھا،آنکھوں کے پردے پر دو مہینے پہلے والا واقعہ گھومنے لگا جب آدھی رات کو وہ اسکے کمرے میں پہلی مرتبہ آیا تھا،خوف سے آنکھیں پھیلائے وہ مستقل مقابل کی کالی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی دوسری طرف وہ اسکی ہیزل رنگ آنکھوں میں ناجانے کیسا طلسم پھونک رہا تھا کہ وہ ٹرانس کی کیفیت میں اسکے ساتھ قدم سے قدم ملارہی تھی،پر اگلے ہی لمحے نتاشہ کے ماؤف ہوتے دماغ میں ادیان کا چہرہ آیا تھا تبھی وہ تقریباً دھکا دیتے ہوئے اس سے دور ہوئی،اپنی حد سے زیادہ تیز ہوتی دھڑکنوں پر اس نے بمشکل قابو پاتے ہوئے سامنے دیکھا پر یہ کیا،
وہ اب وہاں پر نہیں تھا،اچانک میوزک بند ہونے پر ساری لائٹس آن ہوئیں تھیں پھر سبھی کپلز یک بیک تالیاں بجاتے ہوئے اپنی سیٹ پر جابیٹھے،وہ پریشان سی ہوکر سر تھام گئی،کون تھا وہ،کیوں اسکے پیچھے پڑا تھا،
نتاشہ۔۔۔
ادیان کی آواز پر وہ پلٹی تھی سامنے ہی وہ کھڑا آئبرو پر بل لیے اسے دیکھ رہا تھا،نتاشہ جلدی سے اسکے پاس گئی۔
آپ کہاں رہ گئے تھے ادیان؟
اس نے ٹینشن سے پوچھا
وہ کون تھا؟
ادیان کے اچانک پوچھنے پر نتاشہ کا چہرہ زرد پڑا تھا۔
ک۔۔۔کون۔۔
اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے وہ بولی
جس کے ساتھ تم ڈانس کررہی تھی؟
اس بار ادیان نے خود پر ضبط کیے پوچھا تھا
وہ۔۔۔پ۔۔۔پتا۔۔نہیں۔۔۔کون۔۔میں نے۔۔۔منع کیا تھا۔۔۔ادیان۔۔پر۔۔۔وہ زبردستی۔۔۔
وہ رک رک کر اسے بتانے لگی
چلو ابھی یہاں سے۔۔۔
سنجیدگی سے اسکی بات کاٹتے ہوئے ادیان نے اسکا ہاتھ تھاما تھا پھر باہر کی طرف چل دیا،نتاشہ نے بھی بحث کرنا مناسب نہ سمجھا اور خاموشی سے اسکے ساتھ ہولی۔
سیدھ میں جاتے ہوئے ادیان نے گردن گھوما کر ایک نظر ہر طرف ڈالی تبھی اسے کونے میں ایک سیٹ پر زین بیٹھا نظر آیا جو تمسخر اڑاتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا،اسے دیکھ کر ادیان نے پہلی مرتبہ ناگواری نے نگاہ پھیری تھی۔