52.2K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

وہ سیدھا اسکے کشادہ سینے پر گری تھی پر زین نے اگلے ہی پل اسے تھوڑا فاصلے پر کر کے اپنے برابر میں بٹھایا،ازہا کی جان پر بن آئی اسکے اتنے نزدیک بیٹھنے پر،اسکی کلائی اب تک زین کی مضبوط گرفت میں تھی،بمشکل اس نے نظر اٹھاکر ترچھی نظروں سے زین کو دیکھنا چاہا پر زین کو اپنی ہی طرف دیکھتا پاکر فوراً نظریں جھکائیں،
زین نے اسے سخت گھوری سے نواز کر اپنی پینٹ کی جیب سے چھوٹا چاقو نکالا،پھر اسے ازہا کی طرف بڑھایا
پکڑو۔۔
اسکے چاقو کو ناسمجھی سے دیکھنے پر زین نے ناگواری سے کہا
پر کیوں۔۔۔
وہ اب بھی یونہی بیٹھے چاقو کو دیکھتے ہوئے پوچھی پر زین کی ناگوار نظروں کو دیکھ جلدی سے چاقو پکڑی
اسکے چاقو پکڑتے ہی زین پلٹا تھا پھر ازہا کی طرف پشت کر کے بیٹھ گیا،اسکے کندھے پر سے خون نکلتا دیکھ ازہا نے منہ پر ہاتھ رکھا تھا۔
یہ۔۔۔
کندھے پر بُلٹ پیوست ہے۔۔۔اس چاقو سے نکالو اسے۔۔۔
تکلیف سے لب بھینچے زین نے کہا جس پر ازہا الجھی،وہ کونسی ڈاکٹر تھی جو اسے یہ کرنے کا کہہ رہا تھا زین،وہ تو ایسا عجیب چھوٹا سا چاقو بھی پہلی مرتبہ پکڑ رہی تھی۔
میں۔۔کک۔۔کیسے۔۔۔نکالوں۔۔۔
اس نے چاقو تھامے پریشانی سے پوچھا
جیسے بھی کر کے نکالو اسے فوراً۔۔۔۔
زین نے دانت پر دانت جمائے کہا،ضبط کی شدت سے اسکا وجیہہ چہرہ بلکل سرخ ہوچکا تھا،ازہا نے ایک نظر زین کو دیکھا پھر گہری سانس لیتے ہوئے کپکپاتے ہاتھوں سے چاقو کو اسکے کندھے پر بنے سوراخ پر رکھا،زین سختی سے جبڑے بھینچے تکلیف برداشت کرنے کی کوشش میں لگا تھا،ازہا اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے اس سے تھوڑا اور قریب ہوئی پھر کندھے پر جھک کر بغور سوراخ میں دیکھنے لگی،گولی زیادہ اندر نہیں گئی،بری طرح دھڑکتے دل پر قابو پاتے ہوئے اس نے دانتوں میں لب دباکر چاقو کو زین کی پشت پر گھسادیا پھر تیزی سے بُلِٹ کے برابر لاکر پھرتی میں وہ چاقو باہر کو کھینچا،ساتھ ہی بلٹ نکل کر چوکی پر گری،شدت ضبط میں زین نے جھٹکے سے اپنے کندھے پر ہاتھ رکھا پر بےساختہ وہ ازہا کی کلائی تھام گیا جو کہ اسی کی پشت پر تھی،کندھے سے دھار کی صورت میں تیزی سے نکلتا خون ازہا کے کپڑے بھی داغدار کر گیا،چند چھینٹے اسکے چہرے پر پڑے تھے لیکن اسے اسکی پرواہ نہیں تھی،ڈری تو وہ زین کے ہاتھوں میں اپنی کلائی دیکھ کر تھی،تکلیف حد درجہ بڑھنے پر اس نے ازہا کی کلائی پر گرفت سخت کی جس سے وہ سسک کر رہ گئی۔
کپڑا باندھو جلدی۔۔۔
اسکی سسکی سن کر زین نے اسکا ہاتھ چھوڑ کر آنکھیں میچے کہا،تو ازہا بوکھلا کر جلدی سے چوکی سے اتری پھر نیچے پڑا کپڑا اٹھا کر واپس زین کی پشت کی طرف آئی اور اسکے کسرتی کندھے پر کپڑا باندھنے لگی،کپڑا باندھتے ہی وہ پیچھے ہٹی تھی پھر تیزی سے گیٹ کی طرف جانے لگی،اسے گیٹ کے پاس جاتا دیکھ زین اٹھا تھا،ابھی وہ ناب گھماتی کہ زین نے اسے بازو سے جکڑ کر اپنی طرف کھینچا پھر سیدھا دیوار سے لگا کر اسکے حد درجہ نزدیک کھڑا ہوگیا،ازہا کی جان ہوا ہونے لگی اپنے چہرے سے انتہائی نزدیک اسکا وجیہہ چہرے دیکھ کر،
مجھ۔۔۔مجھے ج۔۔جانے دو۔۔۔چھوڑو۔۔
اپنے بازوؤں پر زین کی انگلیاں گڑتے محسوس کرکے ازہا مچل کر بولی،گال مکمل ٹماٹر ہورہے تھے مقابل کا کشادہ سینا دیکھ کر تبھی وہ نگاہ دوسری طرف پھیرگئی۔
زین نے اسکا نورانی خوبصورت چہرہ ناگواری سے دیکھتے ہوئے اسکا ایک ہاتھ جو وہ اپنی پشت پر چھپائی ہوئی تھی،وہ پکڑ کر اسکی آنکھوں کے سامنے لایا،ازہا نے شرمندہ نظریں اٹھا کر اسکی گرفت میں جکڑے اپنے ہاتھ کو دیکھا،جس میں زین کا موبائل تھا،پھر سبکی سے گردن جھکالی،زین نے سرخ آنکھوں سے اسے گھورتے ہوئے اسکے دوسرے بازو سے اپنا ہاتھ نیچے پھیرتے ہوئے ازہا کی کلائی پکڑی پھر کمر پر لے جاکر اسکی کلائی مروڑ دی،ازہا جھٹکے سے سر اٹھاکر دانتوں میں لب دبائے سسکی،نازک لب کپکپاکر رہ گئے،تبھی زین اپنا وجیہہ چہرہ اسکے کان کے قریب لے گیا۔
آئیندہ اگر ایسی حرکت کی۔۔۔۔تو جس چاقو سے تم نے وہ بلٹ نکالی ہے۔۔۔اسی چاقو سے تمہارا یہ چہرہ بگاڑ کر رکھ دونگا۔۔۔۔
دانت پیستے ہوئے اس نے ازہا کے کان میں دھیمے لہجے میں سرگوشی کی جبکہ وہ اسکی گرم سانسوں سے اپنا چہرہ جھلستا ہوا محسوس کررہی تھی،زین نے اسکی کلائی تھوڑی اور مروڑی تو ازہا سے اب برداشت نہیں ہوپایا۔
میں۔۔۔نہیں کرونگی اب ایسا۔۔پلیز چھوڑدو۔۔۔
وہ تکلیف سے مچلنے لگی تھی تبھی زین نے اسکے ہاتھ سے اپنا موبائل چھین کر جھٹکے سے اسے سائیڈ پر کیا،ازہا نے بمشکل خود کو گرنے سے بچایا،پھر جب تک زین نے شرٹ پہنی تب تک وہ یونہی شرمندگی سے آنسو روکے وہیں سر جھکا کر کھڑی رہی،شرٹ پہننے کے بعد چاقو اور موبائل جیب میں رکھ کر زین نے ایک نظر ناگواریت سے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا جو پہلے تو اسے تکلیف میں دیکھ کر فائدہ اٹھاتے ہوئے اسکا موبائل چرائے وہاں سے بھاگ رہی تھی،پر اب یوں سر جھکائے کھڑی تھی جیسے اس سے زیادہ مظلوم اور کوئی نہ ہو۔
اسے ایک نظر دیکھ کر وہ گیٹ کھول کر باہر نکلا تو ازہا بھی سر جھکائے اسی کے پیچھے نکلی،اچھا خاصا وہ اسکا موبائل چراچکی تھی تاکہ کال کر کے کسی سے کچھ مدد لے سکے پر پتا نہیں اس انسان نے کیسے دیکھ لیا،اب وہ ہاتھ مسل کہ رہ گئی تھی،زین کو کچھ ہی دیر بعد ازہا کے ساتھ واپس آتے ان گارڈز نے حیرت سے دیکھا
ان دونوں گارڈز کو اگنور کرتے ہوئے زین نے لاک کھول کر گیٹ وا کیا پھر مڑ کر ازہا کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی پر زین کے دیکھتے ہی فوراً نگاہ جھکاگئی اور اسکے برابر سے ہوتے ہوئے اندر چلی گئی،اندر داخل ہوتے ہی وہ پلٹ کر بھیگی نظروں سے زین کو دیکھنے لگی،جیسے التجاء کررہی ہو مدد کی پر زین نے اسے دیکھتے ہوئے گیٹ اسکے منہ پر بند کیا جس سے وہ دو قدم پیچھے ہٹی،سبھی لڑکیاں ازہا کو دیکھ حیران تھیں کیونکہ اب تک جو بھی لڑکی وہاں سے گئی تھی وہ دوسرے دن ہی آئی تھی اس میں بھی ہوش میں نہ ہوتی پر ازہا کو دیکھ کر سبھی حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھیں،روِش بھاگتے ہوئے ازہا کے پاس آئی،جو اب تک بند گیٹ کو تک رہی تھی۔
ازہا۔۔۔تم ٹھیک ہو؟
اسے کندھوں سے تھام کر روش نے بےچینی سے پوچھا مگر اگلے ہی پل ازہا نے اسے دھکا دیا
کوئی نہیں نکل سکتا یہاں سے۔۔۔کوئی مدد نہیں کرے گا ہماری۔۔۔ہم سب مر جائیں گے گھٹ گھٹ کر اس جگہ پر۔۔۔۔
تکلیف دہ لہجے میں چیختے ہوئے اسکا گلا رندھ گیا تبھی وہ گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھ کر بھبھک کر رودی،
دم گھٹتا ہے اس جگہ پر میرا۔۔۔۔مرجاؤں گی میں یہاں۔۔۔۔میرے رب تھک چکی ہوں۔۔۔معاف کردیں۔۔۔
زمین پر ہی سجدہ ریز ہوکر وہ کلپتے ہوئے فریاد کرنے لگی،نازک وجود لرزراہٹ کا شکار تھا،روِش اسے یوں تڑپتا دیکھ منہ پر ہاتھ رکھے رونے لگی پر کچھ دیر بعد ازہا کا لرزتا وجود جب ساکت ہوا تب روِش اسے تحیر سے دیکھتے ہوئے نیچے جھکی
ازہا۔۔۔ازہا۔۔
اسکا کندھا ہلاتے ہوئے روِش نے اسے پکارا پر لمحے کے ہزارویں حصے میں ازہا کا سجدہ ریز ہوا وجود زمین پر گرا تھا،روِش بوکھلائی جبکہ کمرے میں ایک مرتبہ پھر شور برپا ہوا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح طاہر علوی اپنے مینشن کے ہال نما لاؤنج میں بیٹھے کسی سے بات کررہے تھے،تبھی کوئی دھڑلے سے اندر داخل ہوتا ہوا آیا اور سیدھا ان کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ کر ٹیبل پر ٹانگ پہ ٹانگ یوں جمائی کہ اسکے جوتوں کا رخ طاہر علوی کی طرف ہوا،طاہر علوی نے ایک ناگواریت بھری نظر مقابل کی اس حرکت پر ڈالی جو کہ اب مطمئن سا دونوں بازوؤں کو صوفے کی پشت سے ٹکائے دل جلانے والی مسکراہٹ لیے انکے ایکسپریشن انجوائے کررہا تھا،انہوں نے کال پر ایکسکیوز کر کے فون رکھا،پھر خاموشی سے چند پل بغور مقابل کو دیکھتے رہے۔
یہ کیا حرکت ہے ادیان؟
انکے لہجے میں واضح ناگواری محسوس کر کے زبرین محضوظ ہوکر ہنسا تھا
کیا حرکت سسر جی۔۔۔۔داماد ہوں آپکا اب اتنا تو حق بنتا ہے میرا۔۔۔
وہ محضوظ ہوتے لہجے میں بول کر انکے چہرے کی طرف کیے جوتے ہلانے لگا،
داماد کس حق سے بول رہے ہو۔۔۔۔اب تک میری بیٹی کو تو ڈھونڈ نہیں پائے اور آئے ہو اپنا حق بتانے مجھے۔۔۔۔
اب کے وہ سخت لہجے میں کہنے لگے جس پر زبرین نے پہلے تو کچھ پل صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں موندی،پھر آنکھ کھول کر واپس انہیں دیکھنے لگا
میں “آپکی بیٹی” کو کیوں ڈھونڈوں؟
وہ جانتے بوجھتے انجان بنا جبکہ طاہر علوی کی پیشانی پر بل پڑے تھے،انہیں ادیان کا لہجہ آج سبھی دنوں سے مختلف اور کچھ عجیب لگا۔
کیا مطلب کیوں ڈھونڈو گے۔۔۔۔بیوی ہے وہ تمہاری۔۔۔
اس بار انہوں نے کہا تو پر لہجہ انکا بلکل الجھا تھا، جیسے اسکے رویے کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہوں
سسر جی۔۔۔پہلے میری پوری بات تو سن لیں۔۔۔۔میں پوچھ رہا ہوں کہ میں “آپکی بیٹی” کو کیوں ڈھونڈوں جب وہ ہے ہی میری تحویل میں۔۔۔
وہ رسانیت سے پوری بات کہہ گیا جبکہ طاہر علوی جھٹکے سے کھڑے ہوئے تھے اسکی آخری بات پر
کیا مطلب ہے تمہارا؟
انہوں نے تنے ہوئے جبڑوں سمیت پوچھا تو زبرین دل کھول کر ہنسا،
او مائے گاڈ۔۔۔سسر جی۔۔۔کتنے بھولے ہیں آپ۔۔۔
اپنی ہنسی روک کر وہ سر نفی میں ہلاتے ہوئے بولا
بکواس بند رکھو۔۔۔کہاں ہے میری بیٹی یہ بتاؤ۔۔۔
اسکے ہنسنے پر وہ غصے سے دھاڑے،زبرین نے ایک نظر انکے غصے سے لال چہرے کو دیکھا پھر کہا
اگر میں نہ بتاؤں۔۔۔تو کیا کریں گے آپ۔۔۔
اس نے جیسے چیلینج کیا تھا انہیں،جس پر طاہر علوی نے مٹھیاں بھینچی،انکے شیطانی دماغ نے انہیں الرٹ کردیا تھا کہ مقابل بیٹھا انکے داماد کے درجے پر فائز انسان وہ نہیں ہے جو اسے انہوں نے سمجھا تھا۔
کون ہو تم؟
دھیمے لہجے میں انہوں نے استفسار کیا جس پر زبرین نے مسکراتے ہوئے آبرو اٹھائی
آپ نے مجھے نہیں پہچانا۔۔۔حیرت ہے۔۔۔مرزا انکل۔۔۔
چہرے پر ٹہری ہلکی مسکراہٹ غائب کر کے اس نے اچانک سنجیدگی سے کہا،دوسری طرف طاہر علوی کو اسکے آخری الفاظ نے جیسے ساکت کردیا تھا،وہ جیسے زلزلے کے زد میں آئے تھے،پتھرائی آنکھیں اب تک مقابل کے وجیہہ چہرے پر تھیں۔
زیبی!!!
انکے لب بلکل آہستگی سے ہلے،آنکھوں میں انیس سال پہلے والا وہ بھولا بھٹکا واقعہ بلکل تازہ ہوا جب وہ تیرہ سالہ بچہ انہیں یہ بات کہہ رہا تھا۔
مجھے آپ صحیح نہیں لگتے۔۔۔
اس بچے نے سمندر کی لہروں کو دیکھتے ہوئے کھرا لہجے میں کہا
“جن کی نظروں میں ہم نہیں اچھے،
کچھ تو وہ لوگ بھی برے ہونگے۔”
میں تمہیں صحیح کیوں نہیں لگتا۔۔۔
انہوں نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے ایک شعر پڑھا ساتھ ہی مسکراتے ہوئے پوچھنے لگے،انکے شعر پر وہ تیرہ سالہ بچہ انہیں ایک نظر دیکھ کر واپس لہروں کو دیکھنے لگا،
آپیا کہتی ہیں آپ اچھے ہیں۔۔۔۔پر پھر بھی مجھے لگتا ہے جیسے آپ کسی مطلب سے ہمارے پاس آئے ہو یا کوئی ایسی وجہ۔۔۔جسکے بارے میں ہمیں بتا نہیں رہے۔۔۔۔اور میں نے امی کو بھی کہہ دیا ہے کہ آپ کی باتیں نہ مانا کریں۔۔۔۔
وہ بچہ بلکل سنجیدگی سے انہیں اپنے دل کی بات بتارہا تھا،اور جس قدر وہ بےخوف اور نڈر تھا ایک پل کے لیے طاہر ستائشی نظروں سے اسے دیکھنے لگا،واقعی وہ بچہ کچھ الگ صلاحیت رکھتا تھا،جو اتنی سی عمر میں بھی اس پر ٹھوس شک ہونے کا مطالبہ کررہا تھا۔
“تلاش جاری ہے ان الفاظ کی۔۔۔
جو ترے دل تک جانے کا راستہ جانتے ہو”
آخر ایسا کیا کروں میں لڑکے کہ تمہیں صحیح لگوں۔۔۔
ایک اور شعر پڑھتے ہوئے انہوں نے لہجے میں بمشکل عاجزی گھولی،اس بار اس بچے نے انہیں گھور کر دیکھا
ایک تو آپ شعر بہت بولتے ہو بات بات پر مرزا غالب کی طرح۔۔۔آپ مجھے کبھی صحیح لگو نہ لگو پر میری نظر میں اب سے آپ مرزا ضرور ہیں۔۔۔
اس بچے نے منہ بناتے ہوئے ناگواری سے انکا یہ نام رکھا جس پر طاہر علوی کا ہلکا سا قہقہہ لگا
چلو ٹھیک۔۔۔جیسے چاہو ویسے پکار لو مجھے۔۔۔پر ابھی چلو گھر۔۔۔تمہاری ماں پریشان ہوگی رات ہونے لگی ہے۔۔۔
انہوں نے ایک نظر آسمان دیکھ کر مسکاتے لہجے میں کہا
چلیں مرزا انکل۔۔۔
وہ بچہ بولتے ہوئے وہاں سے نکلا تھا،
آنکھوں کے سامنے سے اب انیس سال پرانہ منظر ہٹا تھا اور اب انہوں نے پھر اپنے مقابل بیٹھے اس شخص کو دیکھا،وہ چھوٹا سا تیرہ سال کا ناتواں بچہ اب ایک مضبوط طاقتور مرد میں تبدیل ہوچکا تھا۔
تم۔۔۔
انہوں نے بےیقینی سے ایک بار پھر بغور زبرین کو دیکھا
ہاں میں۔۔۔کیسا لگا سرپرائز مرزا انکل۔۔۔آہ سوری۔۔۔سسر جی۔۔۔
اپنے الفاظ کی تصحیح کرتے ہوئے وہ طنزیہ انداز میں گویا ہوا
تم فریبی انسان۔۔۔اتنا بڑا دھوکہ دیا۔۔۔مجھے۔۔۔طاہر علوی کو۔۔۔۔میں چھوڑونگا نہیں تمہیں۔۔۔
یکایک اشتعال کی لہر انکے وجود میں دوڑی،اپنا بےوقوف بننا جیسے ہضم نہ ہو پارہا ہو ان سے،تبھی بلند آواز میں بولے تو زبرین ٹیبل پر پیر سے ٹھوکر مارتے ہوئے ٹھیک انکے مقابل کھڑا ہوا۔
اے۔۔۔آواز نیچے۔۔۔کسی نے سکھایا نہیں کہ جس کے پاس آپکی قیمتی چیز ہو اس سے تمیز سے بات کرنی چاہیے۔۔۔۔ورنہ۔۔۔
جملہ چھوڑ کر وہ پھر قہقہہ لگا کر ہنسا،طاہر علوی اسے یوں بےبسی سے دیکھنے لگے جیسے چاہ کر کے بھی کچھ نہ کرسکتے ہوں۔۔۔
تم۔۔۔میری بیٹی کو چھوڑ دو۔۔۔۔اسکے بدلے جو چاہو وہ لے لو۔۔۔۔جتنے پیسے مانگو گے دونگا تمہیں۔۔۔۔
وہ اب تک کافی سنبھل چکے تھے تبھی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کافی دھیمے لہجے میں کہنے لگے جبکہ انکی آفر پر زبرین کی ہنسی تھمی تھی،وہ آئیبرو بھینچے طاہر علوی کو سرخ آنکھوں سے گھورنے لگا،
اپنی حرام کی کمائی اپنے پاس رکھ۔۔۔۔ابھی جو میں کہوں وہ کر۔۔۔تو شاید میں تیری بیٹی کو بخش سکتا ہوں۔۔۔
صوفے سے اٹھتے ہوئے اسنے انکے مقابل کھڑے ہوکر کہا جس پر طاہر علوی صبر کے گھونٹ بھر کے رہ گئے،
کیا کرنا ہے؟
اسے ملامت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے انہوں نے پوچھا
زیادہ کچھ نہیں۔۔۔۔بس جن لڑکیوں کو تُو نے اسمگلنگ کے لیے قید کر رکھا ہے انہیں چھوڑ دے۔۔۔تو تیری بیٹی کی آزادی کے امکان بڑھ سکتے ہیں۔۔۔
بدلحاظی سے کہتے ہوئے زبرین نے طاہر علوی کا رئیکشن دیکھا جو کہ اسکی توقع کے مطابق ناگوار ہی تھا۔
میں ایسا نہیں کرونگا۔۔۔وہ لڑکیاں میرے لیے بونس ہیں۔۔۔بلکل ویسے ہی جیسے تیری ماں کے ساتھ بہن بونس تھی۔۔۔۔
اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے طاہر علوی نے فطرتاً اسکی دکھتی رگ دبائی جس پر زبرین کا ہاتھ بےساختہ اپنی جیب پر رکھی پسٹل پر گیا،اسکی آنکھوں میں سرخ ڈورے صاف واضح ہورہے تھے،وجیہہ چہرہ پر واضح اذیت رقم ہوئی تھی،
اب تُو دیکھ علوی۔۔۔۔میں تیری بیٹی کا کیا حشر کرتا ہوں۔۔۔
دانت پیس کر کہتے ہوئے زبرین طاہر علوی کے برابر میں سے ہوتا ہوا وہاں سے تیز قدم اٹھاتا ہوا نکلا،گردن اور پیشانی کی پھولی ہوئی رگیں اسکے بےپناہ ضبط کی گواہی تھیں،ناچاہتے ہوئے بھی ایک بار پھر ماں کا نورانی چہرہ آنکھوں میں گھوما،ساتھ ہی جان سے عزیز بہن کی دلخراش چیخ کانوں میں گونجی۔
ایک منٹ۔۔۔رکو۔۔۔زیبی۔۔۔زبرین سنو۔۔۔تم ایسا کچھ نہیں کروگے۔۔۔
طاہر علوی بوکھلاکر اسے روکنے لگے مگر وہ ان سنا کیے باہر نکلتا چلاگیا،اسکے جانے کے بعد وہ صوفے پر ڈھے سے ہوکر گر گئے،اپنی فطرت سے مجبور ہوکر بولی گئی بات پر اب وہ پچھتانے لگے،زندگی میں پہلی بار اس طرح چکراگئے تھے،کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن ماضی یوں انکے سامنے آکر کھڑا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنو ہر روز رلا دیتے ہو،
کسی کے درد سے درد نہیں ہوتا تمہیں؟
صبح آنکھ کھلنے پر سر بری طرح دکھ رہا تھا اسکا،تھوڑی دیر تک بےخیالی میں وہ یونہی زمین کو گھورتی رہی پھر جب حواس آہستہ آہستہ بحال ہونے لگے تو اسے شدید پیاس محسوس ہوئی،اس نے اٹھنا چاہا پر اچانک وہ چونکی،کل رات والے کمرے میں نہیں تھی وہ ابھی بلکہ پہلے کی طرح چئیر سے باندھ دیا گیا تھا اسے،نتاشہ بےبسی سے ہر طرف نظر دوڑانے لگی،
تبھی اسکے چہرے کے سامنے پانی سے بھرا گلاس آیا،نتاشہ نے نظر اٹھاکر دیکھا سامنے کھڑا تیمور دھیمی مسکراہٹ لیے اسے دیکھ رہا تھا،نتاشہ کے دیکھنے پر اس نے گلاس کی طرف اشارہ کیا جس پر نتاشہ نے بےبسی سے اپنے ہاتھوں کو دیکھا جو اس بار ہتھکڑیوں کی جگہ صرف رسیوں میں مقید تھے۔
اوپس۔۔۔سوری۔۔۔ویٹ آ منٹ۔۔۔
اسے اپنے ہاتھوں کو دیکھتا پاکر تیمور نے جلدی سے کہا پھر نتاشہ کی ہاتھوں پر بندھی رسیوں کو کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا،ابھی وہ رسیاں چھوتا کہ کسی نے کندھے سے پکڑ کر اسے جھٹکے سے موڑا پھر زور دار تھپڑ اسکے منہ پر مارا،نتاشہ نے بوکھلا کر سامنے دیکھا جبکہ تیمور گال پر ہاتھ رکھے حیرت سے اپنے مقابل زبرین کو دیکھنے لگا جسکے تاثرات بلکل پتھریلے تھے،آنکھیں لہو رنگ جبکہ چہرہ ضبط سے مکمل سرخ ہورہا تھا۔
بہت بار اگنور کیا ہے تمہاری فضول حرکتوں کو۔۔۔اب نہیں کرونگا۔۔
اسے انگلی دکھاتے ہوئے زبرین نے سخت لہجے میں کہا
سر میں صرف اسے پانی۔۔۔
ہزار بار کہا ہے تم سے کہ جتنا کہا جائے اتنا کیا کرو۔۔۔۔آئندہ اسکی ہمدردی کے غرض آس پاس بھی بھٹکے تو یقین کرو مجھ سے برا یہاں پر کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔اور پھر یہ برا تمہارا بہت برا حشر کردے گا۔۔۔
وہ غراتے ہوئے اسے وارننگ دے رہا تھا جبکہ خون آلود نظریں نتاشہ کو گھوررہی تھیں جو اسکی گھوری سے ڈرتے ہوئے نظریں جھکاگئی تھی۔
جاؤ یہاں سے۔۔۔
اسے پر نظر گاڑے ہی زبرین نے کہا تو تیمور نے نظر اٹھاکر ملامت سے ایک نظر اپنے سر پر ڈالی جو پتا نہیں اس لڑکی سے انویسٹیگیشن کے نام پر کس چیز کا بدلہ لے رہا تھا،پھر خاموشی سے باہر نکل گیا،اتنا تو تیمور کو یقین ہوچکا تھا کہ زبرین نتاشہ کو ٹورچر کسی انفورمیشن یا ایویڈینس کے لیے نہیں کرتا پر وہ کیوں پھر اس لڑکی کے اس قدر پیچھے پڑا ہے،یہاں آکر وہ الجھنے لگا تھا،
تیمور کے جانے کے بعد زبرین گیٹ بند کرتا ہوا ٹورچر سیل میں بنے ایک سلیپ کے پاس گیا پھر اسکی دراز سے کچھ نکالا،نتاشہ جو اب تک ناسمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی،زبرین کے ہاتھ میں کٹر دیکھ اسکی روح کانپ کہ رہ گئی،وہ منہ کھولے اپنے ہاتھوں کو ایک نظر دیکھنے کے بعد پھر زبرین کے ہاتھ میں اس کٹر کو دیکھنے لگی،ایک بار پھر اسکی آنکھیں بھیگیں آنسو ٹوٹ کر گالوں پر پھسلے،وہ بری طرح لرزنے لگی تھی زبرین کے قدم دیکھ کر جو کہ اسی کی طرف بڑھ رہے تھے،نتاشہ نے چئیر کی ہینڈل سے بندھے اپنے دونوں ہاتھ کی انگلیوں کو بند کر کے مٹھی بنالیا،دل بری طرح خوفزدہ تھا اسکے اگلے عمل کا سوچ کر،اسکے وجود کو کپکپاتا دیکھ زبرین تمسخر ہنسی ہنسا،پھر ایک چئیر گھسیٹ کر اسکی چئیر کے سامنے رکھی اور اس پر بیٹھ کر چند پل نتاشہ کے خوف سے سفید پڑتے چہرے کو دیکھنے لگا۔
نتاشہ کے مٹھی بنے ہاتھ کی پشت کو وہ نرمی سے سہلاتے ہوئے اسکی بند مٹھی اچانک جھٹکے سے کھول گیا،پھر کٹر والا ہاتھ آگے کر کے نتاشہ کے ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی کو کٹر میں پھنسایا،نتاشہ گہرے سانس لیتے ہوئے مسلسل نفی میں سر ہلارہی تھی،آواز اندر ہی جیسے دم گھوٹ گئی تھی،اسکی سانس رکنے لگی تھی،جبکہ زبرین مطمئن سا کٹر میں اسکی انگلی پھنسائے مسکاتی نظروں سے اسکا زرد چہرہ دیکھ رہا تھا۔
اد۔۔ادیا۔۔۔ادیان کککچھ بھی۔۔۔پر۔۔۔یہ نہی۔۔نہیں۔۔۔ادی۔۔ادیان۔۔۔نہ۔۔۔نہیں۔۔۔
اسکے الفاظ بمشکل منہ سے ادا ہورہے تھے،پیشانی عرق آلود ہونے لگی۔۔۔اپنی لرزراہٹ پر قابو پانے کی کمزور سی کوشش کیے وہ آنکھیں پھیلائے ساکت سی بیٹھی رہی،