Rate this Novel
Episode 5
منگنی کی رسم شروع ہوچکی تھی تیمور نے ابھی ساری سوچیں جھٹک کے کام پر فوکس کیا،اور موقع دیکھ کر سیڑھیاں طے کرتے ہوئے اوپر آیا دوسری منزل پر پہنچ کر اس نے دیکھا لائن سے چار کمرے بنے ہوئے ہیں،نیچے ہال میں منگنی ہونے کی وجہ سے پہلی منزل پر اِکا دُکا مہمان تھے تو دوسری منزل پر کوئی بھی نہیں تھا،وہ ایک نظر سیڑھیوں پر ڈال کر پہلے روم میں انٹر ہوا وہاں پر کچھ خاص نہ ملنے پر وہ دوسرے روم میں گیا،اسی طرح تیسرے اور پھر آخر میں چوتھے نمبر والے کمرے میں گیا،وہ کمرہ باقی تینوں سے کافی زیادہ بڑا اور کشادہ تھا،بیچ میں جہازی سائز بیڈ کے اوپر طاہر علوی کی بڑی سی تصویر نسب تھی جس میں وہ چئیر پر اپنی مخصوص چھڑی لیے بیٹھے تھے،تیمور سمجھ گیا کہ یہ طاہر علوی کا ہی کمرہ ہے۔
“چل میجر تیمور لگ جا کام پر۔۔۔”
وہ خود کو بولتا ہوا روم کی تلاشی لینے لگا،سب چیک کرنے کے بعد وہ آخر میں وارڈروب کی طرف گیا تبھی اسے کمرے کے باہر قدموں کی چاپ سنائی دی۔تیمور جلدی سے واشروم میں گھس گیا اور گیٹ سے کان لگائے سننے لگا کہ کون ہے۔
“اس وقت کال کیوں کی تم نے۔۔۔”
طاہر علوی فون کان سے لگائے روم میں انٹر ہوتے ہوئے غصے میں بولے
“سر بات ہی ارجنٹ ہے آپ سن تو لیں پہلے۔۔۔”
دوسری جانب سے پریشان آواز آئی تھی
“بولو”
“سر جس بندرگاہ سے ہم نے کل ہی ڈرگز فروخت کرنے تھے۔۔۔اس شِپ کو روک لیا گیا اور ڈرگز سمیت ہمارے بہت سے آدمیوں کو پکڑ لیا گیا ہے”
اس نے پریشانی سے بتایا جس پر طاہر علوی کے جبڑے تن گئے
“کیا بکواس کررہے ہو۔۔۔کیسے ہوا یہ اور پولیس کو کیسے پتا چلا اس بندرگاہ کے بارے میں۔۔۔۔کہیں اپنی ہی گینگ میں سے کوئی غداری تو نہیں کررہا۔۔۔”
وہ برہم ہوئے تھے یہ سن کر
“نہیں سر غداری کسی نے نہیں کی بلکہ ہماری گینگ کے بارے میں ایک خفیہ ایجنسی کو معلوم ہوچکا ہے اور جہاں تک مجھے لگتا ہے انہیں کے سربراہ نے ہماری مخبری کروائی ہے”
اس نے تفصیل سے پوری بات بتائی
“کون سی ایجنسی۔۔۔۔اور کس کے ماتحت یہ کام کررہی ہے پتا کرو فوراً۔۔۔”
انہوں نے سختی سے کہا
“سر کچھ معلومات ملی ہیں اس ایجنسی کی۔۔۔اسکا کوئی نیو سربراہ آیا ہے نام تو نہیں پتا بس اتنا معلوم ہے کہ اسے “Z” کے نام سے پکارا جاتا ہے۔۔۔”
اسکی بات پر طاہر علوی سوچ میں پڑ گئے جبکہ دوسری طرف تیمور مکمل گیٹ سے کان لگائے طاہر علوی کے منہ سے ادا ہوا ایک ایک لفظ سن رہا تھا۔
“اب یہ کونسی بلا ہے”Z”۔۔۔پہلے ہی کم دشمن پیچھے پڑے ہیں۔۔۔۔اچھا ایسا کرو اور کچھ پتا چلے تو بتانا فلحال یہ بتاؤ کہ تین مہینے بعد لڑکیوں کو بھی بیچنا ہے۔۔۔تو اب تک ہو ہی چکی ہوں گی وہ چھ سو۔۔۔”
اب طاہر علوی نے ٹاپک بدل کر اصل بات پوچھی جس پر دوسری طرف کچھ دیر کے لیے خاموشی چھائی پھر کہا
“سر۔۔۔ابھی چھ سو تو نہیں ہوئیں ہاں پر چار سو پچپن ہو گئی ہیں۔۔۔”
اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا
“تم لوگوں کو میں نے بہت ڈھیل دے دی ہے۔۔۔بس کرو اب۔۔۔تین مہینے بعد مال جائے گا اور مجھے نہیں معلوم کسی بھی طریقے سے چاہے بہلا پھسلا کر یا پھر اغواء کر کے تیسرے مہینے کی آخری تاریخ کو مکمل چھ سو لڑکیاں ہوجانی چاہئیے۔۔۔”
طاہر علوی نے کہتے ساتھ فون کاٹ دیا اور کمرے سے نکل گئے دوسری طرف تیمور کا شدید خون کھولا اس شریف انسان کی شکل میں بھیڑیے کی کرتوت سن کر۔۔۔خود پر قابو نہ رکھتے ہوئے اس نے واشروم کی دیوار پر زور سے مکا مارا،کتنا گھٹیا انسان تھا وہ،خود کی بیٹی ہونے کے باوجود اسکے دل میں احساس نام کی کوئی چیز نہیں تھی کہ دوسروں کی بیٹیوں کو بیچ رہا ہے۔۔
“مجھے یہ بات سر کو بتانی ہوگی۔۔۔”
وہ بڑبڑایا تھا پھر ابھی باقی کی تلاشی چھوڑ کر وہ روم سے نکلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ایک بہترین شام کے اختتام پر نتاشہ حد درجہ خوش تھی،سبھی مہمانوں کے جانے کے بعد وہ ادیان کو چھوڑنے باہر آئی تھی،
“ادیان۔۔”
وہ تیزی سے باہر نکل رہا تھا تبھی نتاشہ نے اسے پکارا
“ہمم۔۔”
ادیان پلٹا تھا اسکے پکارنے پر لیکن وہ خاموشی سے کھڑی اسے دیکھنے لگی
“کیا ہوا؟”
اس نے آئبرو اچکاتے ہوئے پوچھا تو نتاشہ نے مسکراکر نفی میں سر ہلایا اور اندر جانے لگی،تبھی ادیان نے اسکا ہاتھ تھام لیا اور اسکے سامنے آیا
“تم خوش ہو؟”
اس نے نتاشہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“بہت۔۔۔بہت زیادہ خوش ہوں۔۔۔”
یہ بولتے ہوئے اسکا چہرہ جس قدر کِھلا ہوا تھا ادیان چند لمحے تک اس پر سے نظر ہی نہیں ہٹا پایا
“تمہیں پتا ہے ابھی میرا کیا دل کررہا ہے؟”
اس کے خوبصورت چہرے پر نظر جمائے ادیان نے پوچھا تو نتاشہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
“میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں کل ہی تم سے نکاح کرلوں۔۔۔”
اسکی اس بات پر نتاشہ بری طرح بلش ہوئی تھی اور گھبرا کر نگاہ جھکاگئی،ادیان کے لب مسکرا اٹھے اسکا سرخ چہرہ دیکھ کر،وہ آہستگی سے اسکی طرف بڑھتے ہوئے اسے گلے سے لگاگیا،پھر کچھ دیر بعد الگ ہوا
“اپنا خیال رکھنا”
نرمی سے کہتے ہوئے وہ اسے ایک سمائل دے کر وہاں سے اپنی کار میں جابیٹھا۔
جب تک وہ وہاں سے چلا نہ گیا نتاشہ تب تک وہیں کھڑی رہیں،اسکے چہرے پر سے مسکراہٹ ہٹ کے ہی نہیں دے رہی تھی۔وہ یونہی مسکراتے ہوئے اندر گئی،ادیان کے جانے کے بعد ایک بار پھر اسکی سوچوں نے نتاشہ کے ذہن میں گردش کرنا شروع کردیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سر آج آپ اتنی لیٹ کیوں آئے”
تیمور جو اسی عمارت کے روم میں بیٹھا کب سے اسکا انتظار کر رہا تھا ابھی اسکے آنے پر کھڑا ہوتے ہی شروع ہوگیا۔
“کل سے تم سے پوچھ کر آیا کروں گا”
اس نے چئیر پر بیٹھ کر سگریٹ کا کش لیتے ہوئے کہا
“ارے سر اتنی عزت تو نہ دیں اب مجھے۔۔۔”
تیمور سر کھجاتا ہوا ہنس کر بولا جس پر “Z” نے اپنی سرخ پڑتی کالی آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا،اسکی لہو رنگ آنکھیں دیکھ کر تیمور گڑبڑایا تھا،اسے حیرت ہوئی آج اسکی آنکھیں اتنی سرخ کیوں ہورہی تھیں۔
“آنکھیں ہی اتنی خوفناک لگتی ہیں تو چہرہ پتا نہیں کیسا ہوگا۔۔۔شکر ہی ہے کہ چھپا کر رکھتے ہیں”
اس نے دل میں سوچا البتہ بولنے کی ہمت تو نہ تھی
“میرا چہرہ آنکھوں سے بھی زیادہ خوفناک ہے دیکھنا چاہو گے”
اسکے اچانک پوچھنے پر تیمور کو حیرت کا جھٹکا لگا اسکی سوچ کیسے پڑھ لیتا تھا وہ۔
“فضول سوچوں کو ابھی دفع کرو۔۔۔کوئی انفورمیشن ملی تو بتاؤ…”
اب وہ سیدھا مدعے پر آیا تھا تو تیمور بھی الرٹ ہوا
“سر۔۔۔آج میں طاہر علوی کے روم میں گیا تھا تاکہ کچھ کِلو مل سکے۔۔۔کِلو تو نہیں ملا لیکن ایک امپورٹنٹ نیوز ملی ہے”
تیمور نے سنجیدگی سے بتانا شروع کیا
“کیا نیوز”
وہ مسلسل سیگریٹ کے کش لیتا ہوا پوچھا
“سر آپ گیس کریں”
پتا نہیں کیوں وہ تھوڑی دیر کے لیے بھی سنجیدگی سے نہیں رہ پاتا تھا ابھی بھی وہ اپنی پرانی ٹون میں آتا ہوا جوش س پوچھنے لگا
مسٹر “Z” نے صبر کا گھونٹ پیتے ہوئے آنکھیں موندی
“تم۔۔۔لڑکے۔۔۔۔کوئی بھی بات سیدھی بتانے سے کوئی الرجی ہے تمہیں”
اس نے پیشانی مسلتے ہوئے تیمور سے کہا جس پر تیمور نے منہ بناتے ہوئے اسے طاہر علوی کی کہی بات بتائی،پوری بات سننے کے بعد اسکی پیشانی پر لاتعداد شکنیں پڑیں تھیں،وہ مٹھیاں بھینچے خود پر کنٹرول کرنے کی کوشش کررہا تھا،یہ بات سن کر ایک بار پھر آنکھوں کے سامنے انیس سال پہلے والا واقعہ گھوما تھا،
“سر”
اسکی چپ پر تیمور نے آہستگی سے اسے پکارا
“ابھی جاؤ یہاں سے”
وہ دانت پیستے ہوئے بولا تو تیمور خاموشی سے جانے لگا مگر انجانے میں اسکی نظر “Z” کے بازو پر پڑی،آج اسنے جیکٹ نہیں پہنی تھی اور گرے شرٹ کی آستینوں کو کہنیوں تک فولڈ کیا ہوا تھا،اسکے ہالف برہنہ بازو پر آدھا شیر کا وہی انوکھا سا ٹیٹو بنا تھا،تیمور کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا،وہ بےیقین نظروں سے “Z” کو دیکھنے لگا،تو کہیں وہ زین تو نہیں۔۔۔
“جاؤ”
تیمور کو اب تک وہیں پر ایستادہ دیکھ کر وہ دھاڑا جس پر وہ بوکھلاتے ہوئے وہاں سے نکلا پر ذہن میں طرح طرح کی سوچیں گھومنے لگیں تھیں اسکے،یہ ٹیٹو اس نے طاہر علوی کی کلائی کے برابر میں دیکھا تھا۔
“کہیں نا نہیں سر کا اس طاہر علوی سے کچھ کنیکٹ ضرور ہے”
عمارت سے باہر نکلتے ہوئے وہ مسلسل سوچ رہا تھا۔
تیمور کے جانے کے بعد اس نے جلتی سیگریٹ کو انگلیوں سے مسل کر بجھایا اور اسے دور پھینکتے ہوئے کھڑا ہوا،کمرے کی ایک وال پر جہاں کئی سسپیکٹس (suspects) کی تصویریں لگی تھیں وہ اسی کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا،اور سبھی تصاویر کے بیچ میں لگی نتاشہ کی پک کو لہو رنگ نظروں سے دیکھنے لگا پھر ٹیبل سے ایک چھوٹا چاقو اٹھاکر نتاشہ کی مسکاتی تصویر پر زور سے چاقو دے مارا،اس وقت اسے شدید نفرت محسوس ہورہی تھی طاہر علوی کی اس اکلوتی بیٹی سے،غصے میں اس نے چاقو وہاں سے نکال کر بار بار نتاشہ کی تصویر میں کبھی اسکی آنکھ تو کبھی گال،ناک پر چاقو سے مارنے لگا،کچھ دیر بعد اس تصویر کا حشر بگاڑ کر بھی اسے سکون نا ملا تو وہ غصے سامنے رکھی ٹیبل پر ٹھوکر مار بیٹھا۔
“ڈارلنگ۔۔۔کیوں نہ ابھی ملاقات کرلی جائے۔۔۔بہت شدت سے دل کررہا ہے تم سے ابھی ملنے کا”
وہ اسکی بگڑی ہوئی تصویر کو دیکھ کر زہر خندہ لہجے میں غرایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آدھی رات کو وہ اپنے خوبصورت کمرے میں محوئے خواب سکون کی نیند سورہی تھی،اور سکون کیوں نہ ہوتا اسے،آج خوش بھی تو اتنی تھی وہ،پر اس بےخبر نازک لڑکی کو نہیں معلوم تھا کہ یہ سکون چند پل کا ہے،عجیب سی گھٹن پر رات کے دوسرے پہر اچانک نتاشہ کی آنکھ کھلی،اسے لگا کوئی پوری طرح اسکے نازک وجود پر ہاوی ہے جسے وہ روم میں مکمل اندھیرا ہونے کی وجہ سے دیکھ نہیں پارہی تھی،اندھیرا!
اچانک اسکے خواب آور دماغ میں جھماکا ہوا وہ پٹ سے مکمل آنکھیں کھول گئی،اسکے روم میں اندھیرا کیسے،وہ تو لائٹس اون کر کے سونے کی عادی تھی پھر یہ اندھیرا کیسے،گھٹن بڑھنے پر نتاشہ نے اٹھنا چاہا مگر اگلے ہی پل اسکے چہرے پر خوف کے آثار نمایاں ہوئے یہ دیکھ کر کہ اسکے نازک ہاتھ کسی کی مضبوط گرفت میں مقید تھے،اس نے گھبراکر آنکھیں بند کر کے کھولیں اور ٹھیک سے تھوڑا بہت اپنے اوپر سوار اس وجود کو دیکھنا چاہا پر مکمل اندھیرے میں نتاشہ کو صرف دو چمکتی آنکھیں دکھیں تھیں،اپنے چہرے سے حد درجہ نزدیک،
“ک۔۔۔کون۔۔۔ہے۔۔؟۔۔۔چھ۔۔۔چھوڑو۔۔۔”
وہ خوف سے زرد پڑتے چہرے کے ساتھ ہکلاتے ہوئے پوچھنے لگی تبھی اسکے ہاتھ پر “Z” کی سخت گرفت اور سخت ہوئی تو نتاشہ سسک کر رہ گئی
اپنی گردن پر جھلسادینے والی گرم سانسیں محسوس کر کے وہ تڑپتے ہوئے چیخنے لگی مگر معائے افسوس کے زرا سی آواز نکلنے سے پہلے ہی اسکے منہ پر بھاری ہاتھ رکھ دیا گیا تھا،وہ وحشت سے آنکھیں پھاڑے مقابل خود پر سوار اس شخص کی کالی چمکتی آنکھوں کو دیکھنے لگی،جس میں جلتے شعلے نتاشہ کی جان ہوا کرنے لگے تھے۔
“آج کا تمہارا فیصلہ تمہاری لائف کا سب سے برا فیصلہ تھا۔۔۔۔تمہیں یہ نہیں کرنا چاہیے تھا ڈارلنگ۔۔۔پر اب کیا ہوسکتا ہے۔۔۔۔اب اپنی بربادی کے لیے تیار ہو جاؤ لڑکی۔۔۔۔”
وہ اسکے کان کے قریب اپنے بھنچے ہوئے لب لاتے ہوئے پھنکارا جبکہ نتاشہ بڑھتے ہوئے خوف کے باعث رونے لگی۔۔۔اسکی ہچکیاں سن کر “Z” کے لب پراسراریت میں مسکرائے تھے اس نے ایک نظر نتاشہ کی خوف سے پھیلیں ہیزل رنگ آنکھوں کو دیکھا پھر اسکے چہرے پر جھکتا ہوا اسکے ٹھنڈے پڑتے گال پر اپنے تشنہ لب رکھ گیا،نتاشہ تڑپی تھی،اسکا گرم لمس تھا یا کیا نتاشہ کو لگا اسکے گال پر کسی نے کھولتا ہوا پانی انڈیل دیا ہو۔
“پھر ملیں گیں ڈارلنگ۔۔۔”
گال پر سے لب ہٹا کر وہ غراکر بولتا ہوا اس پر سے اٹھا اور کھڑکیوں کے پاس جاتے ہوئے گھپ اندھیرے میں ہی کہیں غائب ہوگیا۔
اسکے جانے کے بعد نتاشہ کی آواز جیسے حلق میں اٹکی تھی،زندگی میں پہلی مرتبہ اسے کسی نے اس قدر بری طرح ڈرایا تھا اور ڈرایا بھی نہیں دھمکی دے کر گیا تھا،زندگی برباد کرنے کی،وہ بیڈ شیٹ کو اپنے نازک ہاتھوں میں دبوچے بمشکل حلق کے بل چلائی تھی۔
اسکا چیخنا تھا کہ علوی مینشن کی لائٹس آن ہوئیں،کچھ دیر تک وہ پیلے پڑتے چہرے کے ساتھ یونہی لیٹے رہی،تبھی طاہر علوی دھاڑ سے روم کا دروازہ کھولتے ہوئے اندر داخل ہوئے ساتھ ہی انہوں نے روم کی ساری لائٹس اون کیں۔۔انکے پیچھے روم سے باہر چند ملازم کھڑے تھے۔
“کیا ہوا میری بچی۔۔۔”
انہوں نے ٹینشن سے نتاشہ کے پاس آتے ہوئے پوچھا
مانوس آواز سنتے ہی نتاشہ جھٹ سے اٹھی اور بھاگتے ہوئے جاکر طاہر علوی کے گلے لگ گئی۔
“پاپا۔۔۔پاپا۔۔۔و۔۔وہ۔۔ک۔۔۔کوئی۔۔۔”
وہ بری طرح ڈری ہوئی تھی اسی لیے انکے گلے لگے ہکلا کر بولنے کی کوشش کرنے لگی
“کیا بیٹا۔۔۔کیا کوئی۔۔۔ادھر دیکھو اپنے پاپا کو دیکھو۔۔۔”
انہوں نے الجھ کر اسے نرمی سے خود سے دور کرنا چاہا جس پر نتاشہ نے اور جکڑ کر انہیں پکڑ لیا،طاہر علوی کو تشویش ہوئی کیونکہ کبھی نتاشہ رات کو اس طرح نہیں چیخی تھی،ہاں وہ ڈرتی تھی اندھیرے سے تبھی روم کی لائٹ اون کر کے سوتی پر۔۔۔ابھی اسکا اتنا ڈرنا انہیں پریشان کر گیا۔
“میرا بچہ۔۔۔کیا ہوا ہے آپ کو۔۔۔اور پہلے یہ بتاؤ روم کی لائٹس کیوں آف کی ہوئی ہے آپ نے”
اسے خود سے دور کر کے سامنے کرتے ہوئے انہوں نے پوچھا
“می۔۔۔میں۔۔نے۔۔نہ۔۔۔نہیں۔۔کی۔۔۔پاپا۔۔۔وہ۔۔۔اس۔۔۔اس نے کیں۔۔۔وہ۔۔۔وہاں پر۔۔۔تھا۔۔۔می۔۔۔میرے۔۔۔اوپر۔۔۔پھر
وہا۔۔۔وہاں۔۔گیا۔۔۔نہی۔۔۔نہیں۔۔۔ابھ۔۔ابھی۔۔تھا۔۔۔”
وہ ٹوٹے لفظوں میں انہیں بتانے لگی
“ریلیکس۔۔۔ریلیکس۔۔۔نتاشہ ادھر دیکھو ضرور آپ نے کوئی برا خواب دیکھا ہے۔۔پاپا کو دیکھو۔۔۔سب ٹھیک ہے کوئی نہیں ہے یہاں پر۔۔۔آئیں چلیں سوجائیں۔۔۔میں یہیں ہوں آپ کے ساتھ۔۔۔”
وہ اسکے کپکپاتے وجود کو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر اسے بیڈ تک لائے نتاشہ مسلسل نفی میں سر ہلاتے ہوئے رورہی تھی۔
“پا۔۔پا۔۔میں۔۔ن۔۔نے۔۔۔خو۔۔خود۔۔دیکھ۔۔دیکھا۔۔”
“کچھ نہیں ہے۔۔۔میں یہیں پر ہوں بیٹا آپ سوجاؤ۔۔۔”
وہ اسکی بات کاٹتے ہوئے نرمی سے بولے ساتھ ہی اسے زبردستی لیٹا دیا۔۔۔پھر جب تک وہ سو نہیں گئی طاہر علوی وہیں پر بیٹھے رہے۔
“سنو۔۔۔کوارٹر میں جانے سے پہلے ہر طرف ایک نظر دوڑالینا۔۔۔”
نتاشہ کے سونے کے بعد وہ گیٹ کے باہر ملازمین کو ہدایت دے کر جانے لگے۔۔۔ساتھ ہی ایک آخری نظر سوتی ہوئی نتاشہ پر ڈالی۔۔۔۔۔جسکا نازک وجود سوتے ہوئے بھی ہلکا سا لرزرہا تھا انہوں نے احتیاطاً دو ملازمائیں اسکے روم میں بھیجیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر کو تیمور علوی مینشن کے باہر چھپ کر کھڑا ہوا تھا تبھی مین گیٹ کھلا،وہ الرٹ ہوگیا،کچھ دیر بعد طاہر علوی کی کار مینشن سے نکلی تھی،تیمور جلدی سے اپنی کار پر جاکر بیٹھا اور اس کار کا پیچھا کرنے لگا،کچھ دور جاکر تیمور کو تشویش ہوئی کیونکہ طاہر علوی کی گاڑی ایک سنسان راستے پر جانے لگی تھی،وہ مسلسل ایک فاصلے پر رہ کر اس کار کا پیچھا کر رہا تھا،اس سنسان سڑک پر صرف یہیں دو گاڑیاں تھوڑے فاصلے پر آگے پیچھے تیزی سے رواں دواں تھیں۔۔۔مگر اچانک تیمور کی گاڑی کے آگے سامنے سے ایک اور کار آئی۔۔۔تیمور نے جلدی سے بریک پر پیر رکھ کر کار کی ٹکر ہونے سے بمشکل بچایا تھا۔
سب کچھ اچانک ہونے پر کچھ سنبھل کر تیمور حیرت سے سامنے کھڑی کار کو دیکھنے لگا۔پھر اسکے سائیڈ میں دور جاتی طاہر علوی کی کار کو دیکھا،غصے میں جبڑے بھینچے ہوئے وہ کار کا دروازہ کھولتے ہوئے نکلا۔
مرنے کا شوق ہے جو رونگ وے میں آرہا ہے؟
سامنے کھڑی کار کے قریب جاکر اس نے شیشہ بجاتے ہوئے غصے میں کہا جس پر شیشہ نیچے ہوا تیمور کو شدید حیرت ہوئی یہ دیکھ کر کہ اس کار میں کوئی اور نہیں بلکہ یمنا بیٹھی تھی جو خود بھی سخت چتونوں سے تیمور کو گھور رہی تھی۔
“تم۔۔۔”
وہ حیرت سے بولا
“ہاں میں۔۔۔سوچا کل کا حساب بےباک کر دوں۔۔۔”
وہ طنزیہ انداز میں مسکراکر بولتے ہوئے کار سے اتری
کل کی چھوٹی سی بات پر تم جانتی ہو ابھی میرا کتنا بڑا نقصان کر چکی ہو۔۔۔
وہ تپا تھا اسکی فضول بات پر کیونکہ اسے “Z” کو آج کچھ بھی کر کے طاہر علوی کی اس جگہ کا پتا لگا کر بتانا تھا جہاں پر وہ اغواء شدہ لڑکیوں کو رکھا ہوا تھا۔
نقصان بڑا ہو یا چھوٹا۔۔۔ہوتا تو وہی ہے نا۔۔۔
وہ بولتے ساتھ پیچھے چھپائی ایک ہاتھ میں پانی کی بوتل کو آگے کر کے تیمور پر پانی پھینکی،دوسری طرف وہ جو اسکی بے وقوفانہ بات پر غصے میں اسے گھوررہا تھا اچانک منہ پر پانی پڑنے سے ایک دو قدم پیچھے ہوا۔
یہ کیا کِیا تم نے؟
اپنی بھیگی شرٹ کو دیکھ کر تیمور نے حیرت میں یمنا سے پوچھا
“حساب برابر۔۔۔”
وہ اتراکر بولتی ہوئی وہاں سے جانے لگی مگر اگلے ہی تیمور نے اسے بازوؤں سے پکڑ کر یمنا کی پشت کار سے لگادی۔
“آہ۔۔۔چھوڑو۔۔۔”
وہ چڑکر بولی ساتھ ہی اسے دھکا دینے لگی تو تیمور نے گرفت اور مضبوط کردی۔
“ابھی تم نے کہا نقصان چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔۔۔وہ بس نقصان ہوتا ہے۔۔۔تو اپنے حساب برابر کرنے کے چکر میں تم نے جو میرا نقصان کیا ہے اب اسکی بھرپائی بھی تو کرتی جاؤ۔۔۔۔”
وہ اسکے تیکھے نقوش کو دیکھتے ہوئے بولا
“او ہیلو۔۔۔حساب برابر ہوچکا ہے۔۔۔اب کوئی بھرپائی نہیں رہتی۔۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔”
وہ جھنجھلا کر بولی پر تیمور کو اپنی بات اگنور کر کے خود پر جھکتا دیکھ گھبرا کر رخ موڑتے ہوئے آنکھیں میچ گئی۔
تیمور نے ایک نظر اسکے گھبرائے چہرے کو دیکھا پھر اسکے ہاتھ سے بوتل چھینی اور آدھا بچا ہوا پانی اس کے سر پر انڈیل دیا۔
اچانک حملے پر یمنا بوکھلاتے ہوئے اسے دھکا دے کر دور ہوئی پھر اپنے بھیگے بال چہرے پر سے ہٹاتے ہوئے تیمور کو گھورنے لگی جو اب اسے تپانے کے لیے مسکراکر اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔
“یُو۔۔”
“حساب برابر۔۔۔”
اسکی بات کاٹتے ہوئے تیمور نے رسانیت سے کہا ساتھ ہی کار میں جاکر بیٹھا پھر بلکل اسکے برابر سے کار زن سے بھگا لے گیا،یمنا گھبرا کر چند قدم پیچھے ہٹی،پھر دور جاتی اس کی کار کو دیکھنے لگی،چہرے کے تاثرات اب بدلے تھے اسکے،غصے کی جگہ اب باریک لبوں پر مکروہ مسکراہٹ پھیلی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج دیڑھ مہینے بعد ادیان اور نتاشہ کا ولیمہ تھا،نکاح ادیان کے کہنے پر طاہر علوی نے مجبوراً سادگی سے کل ہی کروایا تھا پر ولیمہ انہوں نے اپنی مرضی سے بڑے پیمانے پر بہت دھوم دھام سے کیا تھا۔نتاشہ بھی اب اس واقعہ کو برا خواب سمجھ کر بھول بھلا کر کافی حد تک سنبھل چکی تھی کیونکہ اس رات کے بعد کبھی کوئی نہیں آیا تھا اسکے کمرے میں،لیکن آج ایک بات نتاشہ کو بہت کھٹک رہی تھی،اور وہ تھا ادیان کا طاہر علوی کے ساتھ سرد رویہ،وہ نوٹ کررہی تھی کہ طاہر علوی کی کسی بھی بات کا وہ صحیح طریقے سے جواب نہیں دے رہا تھا،دوسری طرف طاہر علوی بھی اسکے لہجے کو سمجھ رہے تھے،جانتے تھے وہ انکی آفر پر اب تک ان سے تپا ہوا ہے،دل تو انکا بھی نہیں چاہ رہا تھا ادیان سے ڈھنگ سے بات کرنے کا پر نتاشہ کی خوشی کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ چپ تھے،وہ ادیان کی ذہانت کو دیکھتے ہوئے چاہتے تھے کہ پہلے اسے اپنے گھر پر رکھیں بعد میں اسے اپنے ہی بزنس میں شامل کرتے مگر اس نے تو انکی پہلی ہی آفر ٹھکرادی تھی۔
ولیمے کی تقریب کے اختتام پر نتاشہ کو چند لڑکیوں نے مل کر کار پر بیٹھایا،ادیان ابھی کار پر بیٹھتا کہ طاہر علوی نے اسے روک لیا۔۔۔جس پر وہ سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگا۔
“میں نے اپنی اکلوتی بیٹی کو بہت نازو نعم سے پالا ہے۔۔۔۔ویسے تو میرا ابھی اتنی سی عمر میں اسکی شادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا پر تمہاری حد درجہ ضد اور اپنی “لاڈلی” بیٹی کی خوشی کے لیے میں مان گیا۔۔۔۔تم نے میری آفر ٹھکرائی اس پر مجھے برا لگا پر میں نے وہ بات جانے دی۔۔۔۔لیکن اب میں ہر مہینے ایک اچھی خاصی رقم تمہارے “فلیٹ” میں بھجواتے رہوں گا۔۔۔کیونکہ میری اکلوتی بیٹی بہت سی آسائشوں کی عادی ہے تو تمہاری “اتنی سی” سیلری میں اسکا گزارا نہیں ہوگا اور میری بیٹی کو زرا سی بھی تکلیف ہو یہ میں بلکل برداشت نہیں کرسکتا۔۔۔۔”
انہوں نے چند لفظوں پر زور دیتے ہوئے دھیمے لہجے میں ادیان کو اسکی اوقات یاد دلائی جس پر اسکی پیشانی کی رگیں پھولیں تھیں،وہ چند پل خاموش رہا پھر کہا
“میں نتاشہ کو ہر آسائش دوں گا۔۔۔۔۔
یہ بات تو میں بلکل نہیں کہوں گا۔۔۔کیونکہ “اب” وہ آپکی بیٹی سے میری بیوی بن چکی ہے۔۔۔۔تو اپنی “بیوی” کو میں اپنے ہی طریقے سے رکھوں گا چاہے کوئی کچھ بھی کر لے اور ویسے بھی “آپکی بیٹی” نتاشہ “محبت” کرتی ہے مجھ سے تو جیسے میں کہونگا مجھے یقین ہے وہ ویسے ہی رہے گی۔۔۔۔”
ان سے انہی کے لہجے میں بات کر کے وہ رکا نہیں،بلکہ سیدھا کار میں جاکر بیٹھا،طاہر علوی نے ناگواری سے اپنے اس اکلوتے مگر اکھڑ داماد کی دور جاتی کار کو دیکھا
