Pachtawaye Inteqam By Nishaal Azeez Readelle50278 Last updated: 10 September 2025
Rate this Novel
Pachtawaye Inteqam
By Nishal Azeem
اس عمارت کے کمپیوٹر روم میں بیٹھا وہ جب سے سکرین میں نتاشہ کا رونا بلکنا دیکھ رہا تھا،جس طرح وہ چیخ چیخ کر تڑپتے ہوئے ادیان کے لیے رورہی تھی،دیکھنے والے کی آنکھیں بھیگ جاتی پر یہاں مقابل پتھر دل تھا،جو کیمرے میں اسے روتا دیکھ کر دکھی ہونے کے بجائے الٹا زہریلی ہنسی ہنس رہا تھا،راکنگ چئیر میں گھومتے ہوئے وہ کیمرے کے ذریعے اسکا تڑپنا یوں دیکھ رہا تھا جیسے کوئی دلچسپ تماشہ چل رہا ہو، "ہااا۔۔۔۔بہت ہوگیا تمہارا ڈرامہ۔۔۔" "Now it's time to meet darling..." استہزیہ انداز میں کہتے ہوئے وہ چئیر سے اُٹھا تھا،ساتھ ہی کمپیوٹر روم سے نکلتا ہوا ٹورچر سیل کی طرف گیا مگر وہاں جانے سے پہلے اس نے ایک لیڈی افسر کو نتاشہ کو لانے کا کہا کافی دیر تک جب وہ رو رو کر نڈھال ہوگئی تو سر نیچے جھکاگئی،دل کا درد تھا کہ ختم ہی ہو کہ نہیں دے رہا تھا،بار بار آنکھوں کے سامنے ادیان کا مسکراتا چہرہ آرہا تھا،آنسو روانی سے آنکھوں سے نکل کر چہرہ بھگورہے تھے،نتاشہ کا سر بری طرح درد سے پھٹنے لگا تھا،آہستہ آہستہ وہ پھر غنودگی میں جانے لگی تھی جبکہ لبوں پر صرف ادیان کے نام کا ہی ورد جاری تھا،ہاں وہ دیوانی ہی تو ہوگئی تھی اپنے شوہر کی پر اب اسکی جدائی نتاشہ کی جان لینے کو تھی،اس سے پہلے کہ وہ مکمل ہوش کھوتی،ایک بھاری نسوانی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی۔ "اے لڑکی اٹھو۔۔۔تم سے سر ملنا چاہتے ہیں۔۔۔" تحقیر آمیز لہجے میں مس ہما نے اسے پکارا ساتھ ہی اسکے مقید وجود کو رسیوں سے آزاد کیا، پھر ہاتھوں سمیت چئیر سے لگی ہتھکڑیاں کھولی انکی اس مکمل کاروائی میں وہ یونہی زمین کو گھورتی رہی "سنائی نہیں دے رہا کیا۔۔اٹھو۔۔۔" آزاد ہونے کے بعد بھی جب وہ اسی طرح بیٹھی رہی تب مس ہما نے اسے جھنجھوڑتے ہوئے بلند آواز میں کہا،جس پر وہ ایک بار پھر چیخ کر رودی۔ "نہیں ملنا مجھے کسی سے۔۔۔۔چلی جائیں یہاں سے۔۔۔میرے ادیان کو مار کر بھی سکون نہیں ملا کیا آپ لوگوں کو۔۔۔۔۔" ایک بار پھر وہ ہذیانی انداز میں چیخی تھی چٹاخ۔۔۔ اس کی ہڈدھرمی پر مس ہما نے پھر سے زوردار طمانچہ اسکے گال پر مارا جس سے نتاشہ لڑکھڑائی تھی،آنکھیں دھندلائیں اسکی جبکہ گال پر کٹ لگا تھا نتاشہ کے،شدید جلن کے باعث اسکی آواز بند ہوئی تھی،بنا آواز کے وہ دھندلی نظروں سے زمین کو گھورنے لگی تبھی مس ہما اسکا بازو دبوچتے ہوئے نتاشہ کو گھسیٹ کر اس کمرے سے لے کر نکلی پھر سیدھا ٹورچر سیل میں لے آئیں۔ انکے ساتھ وہ کسی کٹی پتنگ کی طرح جھولتے ہوئے آئی تھی،اندر آکر نتاشہ نے نظر اٹھا کر دیکھا،یہ کمرہ پہلے کمرے کی طرح نیم اندھیرہ تو تھا پر ساتھ ہی اس سے کافی بڑا بھی تھا،اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی پر تھوڑے دور اپنے بلکل سامنے اسے کوئی کھڑا نظر آیا تھا،مضبوط جسامت،دراز قد،بلیک جیکٹ میں کھڑے اس شخص نے اپنے چہرے کو ماسک سے چھپایا ہوا تھا۔ "یہ کون ہے؟" وہ حیرت سے اس شخص کو دیکھتے ہوئے بڑبڑائی "یہ ہمارے سر ہیں "Mr Z"، جنکے حکم سے ہی یہ سب ہورہا ہے،انہیں ہی تمہارے باپ یعنی کہ طاہر علوی کہ خلاف مِشن ملا ہے،جسکی انکوائری کے لیے انہوں نے تمہیں کڈنیپ کروایا ہے،" اب کی بار ہما نے "Z" کا لحاظ کرتے ہوئے نتاشہ کو طریقے سے اسکا تعارف کروایا،جس پر نتاشہ کے تاثرات بدلے تھے،اب حیرت کی جگہ غصے نے لی تھی،جب سے یونہی کھڑے "Z" نے اس بار انگلی کے اشارے سے ہما کو جانے کا اشارہ کیا تو وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے باہر نکلی، "اوہ۔۔۔تو تم ہو وہ انسان۔۔۔جسکی وجہ سے یہ سب ہورہا ہے۔۔۔۔" ہما کے جانے کے بعد نتاشہ نے اس سے تلخ لہجے میں کہا "تم جانتے بھی ہو کہ تم نے کیا کِیا۔۔۔۔میرے شوہر کو مارڈالا تم نے۔۔۔۔ارے قید مجھے کیا تھا۔۔۔تم لوگوں کی نظر میں گناہگار میں تھی تو پھر ان سب میں ادیان کی جان کیوں لی۔۔۔۔کیوں مارا میرے شوہر کو تم نے۔۔۔بتاؤ مجھے۔۔۔" اسکے چپ رہنے پر اب نتاشہ تکلیف دہ لہجے میں چیختے ہوئے بولی "آخر کیا دشمنی ہے تمہاری مجھ سے۔۔۔۔کیوں کیا تم نے یہ سب۔۔۔۔کون ہو تم۔۔۔" مسلسل اسکی خاموشی سے تنگ آکر نتاشہ نے اب آواز کو اور بلند کیا تھا،ادیان کی موت کے غم سے دل پھٹنے کو تھا،تبھی سامنے کھڑے اس سنگ دل پر اپنی بھڑاس نکال رہی تھی وہ چلّا کر، نتاشہ کے آخری سوال پر "Z" جو اب دائیں بائیں چکر لگانے لگا تھا اسکے قدم رکے تھے،نتاشہ کی طرف شوز گھما کر وہ اسکے پاس آیا تھا،پھر اس سے دو قدم کے فاصلے پر رکا،لگاتار اسکی ہیزل رنگ آنکھوں میں دیکھتے رہنے کے بعد اس نے ایک ہاتھ اپنے ماسک پر رکھا تھا پھر اسے ہلکے سے کھسکاتے ہوئے اوپر کیا،نتاشہ جو بھنچی ہوئی آئیبرو سمیت سوجی ہوئی سرخ آنکھوں سے اسکی کاروائی دیکھ رہی تھی،"Z" کے ماسک ہٹانے پر اسکی یہی آنکھیں پل میں ساکت ہوئیں تھیں،بنا پلک جھپکائے وہ سامنے کھڑے اس انسان کو دیکھنے لگی، "ادیان!!!" اسکے لبوں کی پھڑپھڑاہٹ اتنی ہلکی تھی کہ وہ خود بھی اپنی آواز نہ سن سکی،وہی چہرہ،وہی جسامت وہی گرے رنگ آنکھیں پر ایک چیز مختلف تھی،اسکی مسکراہٹ، وہ ادیان کی نرم مسکراہٹ تو نہ تھی بلکہ ایک عجیب تمسخر اڑاتی مسکراہٹ تھی،اسکا دماغ جیسے ایک دم بھک سے اڑا تھا،جبکہ مقابل کھڑا وہ، اپنی مخصوص زہریلی ہنسی سمیت نتاشہ کے ایکسپریشن انجوائے کررہا تھا، "ایک منٹ۔۔۔" اچانک اس نے اپنے مخصوص سرد لہجے میں کہا ساتھ ہی چہرہ تھوڑا جھکا کر اپنا ایک ہاتھ آنکھوں پر لے گیا اور ایک ایک کر کے دونوں آنکھوں پر لگی گرے لینس اتاری،اب کے اس نے نظر اٹھائی تو نتاشہ بےساختہ ایک قدم پیچھے ہٹی تھی،وہی کالی خوفناک آنکھیں جن سے وہ ہمیشہ ڈرتی تھی،بےیقینی کا مجسمہ بنے وہ آنکھیں پھیلائے ادیان نیازی کو دیکھ رہی تھی، "کیسا لگا میرا سرپرائز کیوٹی پائی نہیں۔۔۔۔"ڈارلنگ" اپنی بات کہہ کر وہ ہنسا تھا،ایک پر نفرت،مذاق اڑاتی ہنسی جیسے مقابل کے بےوقوف بننے پر بہت خوش ہوا ہو۔ "اد۔۔۔ادیان۔۔۔آپ۔۔" "نہ ڈارلنگ۔۔۔ادیان نہیں۔۔۔" نتاشہ نے لڑکھڑاتے لہجے میں کہنا چاہا پر ادیان نے سختی سے اسکی بات کاٹتے ہوئے کہا ساتھ ہی تین قدم اٹھاتا اسکے قریب آیا پھر نتاشہ کے کان کے پاس اپنے لب لے جا کر کہا "ادیان نہیں ڈارلنگ۔۔۔۔زبرین!!" اسکی سرد سنسناتی آواز سرگوشی سے زیادہ نہ تھی جبکہ نتاشہ کا دل دھک سے ہوا تھا،کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے دماغ جیسے خالی ہوچکا تھا،یاد رہی تو صرف ایک بات کہ اسکے ساتھ دھوکہ ہوا تھا،بہت بڑا دھوکا،اور وہ دھوکا دینے والا کوئی غیر نہیں بلکہ خود اسکا محافظ اسکی محبت،اسکا شوہر، ادیان نیازی! نہیں۔۔۔ بقول مقابل کے "زبرین" تھا۔
