52.2K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

“آپ نے بلایا؟”
طاہر علوی کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے یمنا نے ان سے پوچھا جو اپنی مخصوص چھڑی کو اس مضبوطی سے پکڑے تھے جیسے اپنا غصہ ضبط کرنے کی کوشش کررہے ہوں۔
“کیا ہوا ہے۔۔۔”
انہیں مسلسل زمین کو گھورتے دیکھ ہمنا نے پھر پوچھا اب کے لہجے میں پریشانی گھلی تھی۔
“صبح ایک انجانے نمبر سے ویڈیو آئی ہے میرے فون پر۔۔۔۔اب اس نمبر پر کال کررہا ہوں تو بند جارہا ہے۔۔۔۔”
بہت ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ بول رہے تھے
“ویڈیو۔۔۔کیسی ویڈیو؟”
یمنا کے پوچھنے پر انہوں نے بیڈ پر اپنے برابر سے موبائل اٹھاکر یمنا کو دیا،کوئی ویڈیو اس میں پوس تھی،اس نے پلے کر کے دیکھنا شروع کیا،جیسے جیسے ویڈیو آگے چل رہی تھی ویسے ویسے یمنا کے تاثرات بدل رہے تھے،وہ گرنے کے انداز میں بیڈ پر بیٹھی تھی،ایک ہاتھ منہ کو جالگا تھا،یمنا آنکھیں پھیلائے وہ ویڈیو دیکھنے لگی جس میں ایک عورت بری طرح نتاشہ کو ڈنڈے سے پیٹ رہی تھی،بےساختہ اسکا ہاتھ منہ کو جالگا،ویڈیو بند ہوتے ہی اس نے موبائل سائیڈ پر رکھا،پھر جھک کر اپنا سر تھام گئی۔
“یہ۔۔۔یہ کیا کررہے ہیں وہ لوگ نتاشہ کے ساتھ۔۔۔”
بھیگے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے طاہر علوی کو دیکھا
“میں بخشوں گا نہیں اگر نتاشہ کو کچھ بھی ہوا۔۔۔۔میں برباد کردوں گا ان لوگوں کو۔۔۔”
غضب زدہ لہجے میں کہتے ہوئے انہوں نے آخر میں سائیڈ لیمپ زور سے ہاتھ مار کر گرایا تھا،یمنا اپنا سر تھامے رونے لگی تھی،جس دوست کی شروع سے اتنی کئیر کی تھی،اب اسکا یہ حال دیکھ کر بہت تکلیف ہورہی تھی اسے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج وہ اسی عمارت میں آیا تھا زبرین کے بلانے پر،اندر آکر اس نے دیکھا زبرین راکنگ چئیر پر بیٹھا تیمور اور چند افسران سے کچھ باتیں کررہا تھا اسکے روم میں انٹر ہوتے ہی وہ افسران وہاں سے نکلے تھے جبکہ اب تیمور منہ بنائے اسے گھور رہا تھا،آخر یہ انسان بھی تو شامل تھا اسے بیوقوف بنانے میں۔
“تمہیں انویٹیشن دینا بھول گیا میں۔۔۔”
اچانک زبرین کے کہنے پر تیمور چونک کر اسکی طرف متوجہ ہوا
“کس چیز کا انویٹیشن سر؟”
اس نے حیران ہوتے ہوئے زبرین سے پوچھا
“یہاں سے جانے کا۔۔۔”
لہجہ بدل کر اس نے کہا تو تیمور بوکھلاتے ہوئے سر ہلا کر باہر نکلا،اسکے جانے کے بعد زین زبرین کے سامنے رکھی چئیر پر بیٹھا تھا۔
“تو۔۔۔کیا خبر ہے وہاں کی۔۔۔”
اسکے بیٹھتے ہی زبرین نے پوچھا
“شک صحیح نکلا۔۔۔۔لڑکیاں طاہر علوی کی ایک فیکٹری کے تہ خانے میں قید ہیں۔۔۔”
کہتے ساتھ زین نے آستین فولڈ کی جس سے بازو پر آدھا شیر کا ٹیٹو نمایاں ہوا،زبرین کی نظر اس پر پڑی تو وہ ناگوار نظروں سے زین کو دیکھنے لگا۔
“یہ سٹیکر ہٹایا نہیں تم نے۔۔۔”
اب کے وہ سرد لہجے میں پوچھا تھا جس پر زین نے ایک نظر اپنے بازو پر بنے زبرین کے بازو جیسے ٹیٹو کا سٹیکر دیکھا
“ہٹادوں گا۔۔۔اتنی جلدی بھی کیا ہے۔۔۔”
ہلکا سا مسکراتے ہوئے اس نے کہا
“ابھی ہٹاؤ کیوں کہ اب اسکی ضرورت نہیں ہے تمہیں۔۔۔یہ مجھ پر ہی ٹھیک ہے۔۔۔”
زبرین نے دانت پیس کر کہا تو زین نے آئیبرو اچکاتے ہوئے وہ اسٹیکر اتارا
“پہلی بار تو اپنا ٹیٹو مجھے دیا تھا اور وہ بھی صرف سٹیکر کی شکل میں۔۔۔۔اب وہ بھی اتروارہا ہے۔۔۔لحاظ بھی نہیں کرتا “بچپن کی دوستی کا۔۔۔”
اسے دیکھتے ہوئے زین نے طنزیہ مسکراہٹ لیے کہا
“دوستی کا لحاظ ہی کررہا ہوں ورنہ جو میری “چیزوں” پر نظریں گاڑتا ہے میں اسکی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔۔۔۔”
سرد لہجے میں زبرین کا کہنا تھا کہ زین کے چہرے پر ٹہری طنزیہ مسکراہٹ غائب ہوئی،مطلب اسکے دل میں نتاشہ کے لیے پنپتے جذبات سے زبرین واقف تھا،زین کے گلے میں گلٹ سی ابھری تھی،بےساختہ وہ زبرین سے نظریں چرا گیا تھا،
“جیسا تم سمجھ رہے ہو ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔”
نگاہ پھیرتے ہوئے اس نے زبرین کو وضاحت دی تھی
“ایسا کچھ نہ ہی ہو تو بہتر ہے۔۔۔”
اس پر نظریں جمائے زبرین نے سختی سے کہا
“آؤ تمہیں کچھ دکھاؤں۔۔۔”
کچھ دیر تک اسکے چپ رہنے پر اچانک زبرین نے کہا ساتھ ہی راکنگ چئیر گھوماتے ہوئے سامنے لگی بڑی سی سکرین کو دیکھتے ہوئے ریموٹ اٹھایا اور سکرین اون کی،زین جو اسکی کاروائی دیکھ رہا تھا اب سکرین پر چلتی ویڈیو پر جیسے ہی اسکی نظر پڑی وہ بےساختہ اپنی چئیر تھام گیا،فوراً سے پہلے اس نے نگاہ جھکائی تھی جبکہ کانوں پر ہما کے ڈنڈے سمیت نتاشہ کی رونے اور چیخنے کی آواز نے اسکی آنکھیں لال کردیں،زبرین دلچسپی سے اسکے ایکسپریشن دیکھ رہا تھا۔
“تم ٹھیک ہو۔۔۔”
اس نے استہزاء لہجے میں پوچھتے ہوئے سکرین اوف کی تھی،جس پر زین نے لہو رنگ نظروں سے اسکی طرف دیکھا
“کبھی کبھی میرا شدت سے دل کرتا ہے کہ تیری جان لے لوں۔۔۔”
اسے یوں محضوظ ہوتا دیکھ زین نے جبڑے بھنچتے ہوئے کہا،آنکھوں میں ہلکی سی نمی جھلکی تھی جسے اس نے پلکیں جھپکاتے ہوئے اپنے اندر اتارا۔
“ہااا۔۔۔تُو بھی نا یار۔۔۔اب منہ نہیں کھولے گی تو یہیں کیا جائے گا اسکے ساتھ۔۔۔یا شاید اس سے بھی بدتر۔۔”
کندھے اچکاتے ہوئے زبرین نے ہنس کر کہا
“زبرین۔۔۔مر جائے گی وہ کمینے۔۔۔”
خود پر کنٹرول نہ ہوا تو اچانک زین چئیر سے جھٹکے میں اٹھتا ہوا دھاڑا
“تو کیا ہوا۔۔۔یہاں پر اکثر ایسے سسپیکٹ ہوتے ہیں جو منہ نہیں کھولتے تو انہیں ماردیا جاتا ہے۔۔۔۔اسے تو پھر بھی بخشا ہوا ہے میں نے۔۔۔”
سفاکی سے بولتے ہوئے وہ بےنیازی سے راکنگ چئیر ہلانے لگا تو زین نے چند پل اسے ملائمت سے دیکھا پھر وہاں سے واک آؤٹ کرگیا،ناچاہتے ہوئے بھی بار بار آنکھیں نم ہورہی تھیں،کار میں بیٹھنے سے پہلے اس نے جلدی سے گلاسس آنکھوں پر چڑھائے تھے،دوستی کا بھرم رکھنے کے لیے وہ وہاں تو زیادہ نہیں بولا پر اب وہ فل سپیڈ میں گاڑی چلائے اپنے دل میں اٹھتی ٹیس کو نظر انداز کرنے کی ناکام کوششیں کررہا تھا،ورنہ آنکھوں میں اب تک نتاشہ کا تڑپتا وجود گھوم رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو زبرین کے حکم پر اسکی ڈریسنگ کی گئی تھی ساتھ ہی چند لیڈی افسران نے اسے ایک روم میں لے جاکر اسکے پھٹے کپڑے ہٹا کر دوسرے کپڑے پہنائے تھے،چینج کرنے کے فوراً بعد وہ افسران نتاشہ کو واپس ٹورچر سیل میں لائیں ساتھ ہی اسکی گردن پر کچھ انجیکٹ کیا،پہلے تو نتاشہ کو کچھ سمجھ نہ آیا پر پھر اسکا دماغ آہستہ آہستہ غنودگی میں جانے لگا،آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتے ہی وہ لہرا کر گری تھی،اور اب،
اسے چئیر سے بندھے بےہوش ہوئے کافی گھنٹے گزرچکے تھے،پیروں پر ہوتی شدید جلن پر اسکی آنکھیں پٹ سے کھلیں،دونوں پاؤں ہلانے کی کوشش کی تو وہ کسی چیز سے بندھے محسوس ہوئے،جلن جب حد سے بڑھی تو نتاشہ نے چیختے ہوئے نظریں اپنے پیروں پر ڈالی جنہیں رسّی سے باندھے ایک برتن میں کھولتے ہوئے پانی پر ڈالا گیا تھا،
“آاااہ۔۔۔۔پلیز ہٹائیں اسے۔۔۔”
وہ حد سے زیادہ تکلیف میں چیخ کر بولی تھی،جبکہ ہما دونوں بازوؤں کو فولڈ کیے مطمئن سی ہوکر اسے بری طرح تڑپ کر روتے دیکھ رہی تھی۔
“تم مجھے پاسورڈ بتادو تو میں یہ ہٹادوں گی۔۔۔”
اسکا مچلنا دیکھ ہما نے مسکراتے ہوئے کہا
“میں۔۔۔قسم کھاتی۔۔۔ہوں۔۔مجھے کچھ نہیں۔۔۔پتا۔۔۔وہ صرف غصے میں۔۔۔کہا۔۔۔تھا میں نے۔۔۔پلیز مت کریں یہ۔۔۔”
اذیت سے آنکھیں میچے وہ التجاء کرنے لگی تھی اس سے پر ہما کو جیسے کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا اس سے،تبھی زبرین ٹورچر سیل میں داخل ہوا،اسے دیکھ کر ہما جلدی سے سیدھی ہوئی،چند قدم چلتے ہوئے وہ نتاشہ کے پاس آکر چند پل سنجیدگی سے اسکا آنکھیں بند کیے بآواز رونا دیکھتا رہا،پھر جھٹکے اس کھولتے پانی کے برتن کو ٹھوکر ماری تو وہ دور جاکر پھیکایا،اس شور پر نتاشہ نے آنکھیں کھولیں تھی پر سامنے کھڑے انسان کو دیکھ وہ پھر سر جھکائے رونے لگی،زبرین نے ایک نظر پلٹ کر مس ہما کو دیکھا تو وہ ٹورچر سیل سے نکل گئیں،انکے جانے کے بعد وہ تھوڑا سا جھکتے ہوئے نتاشہ کی تھوڑی کے نیچے اپنی ایک انگلی رکھے اسکا جھکا چہرہ اٹھایا،پھر بغور اسکا سرخ چہرہ دیکھنے لگا،آنکھوں کے گرد ہلقے،گال پر لگی پٹیاں،یہ کہیں سے بھی وہ نتاشہ تو نہیں لگ رہی تھی جو ہر پل اسے مسکراکر دیکھتی جو اپنی زندگی کے ہر لمحے کو کھل کر جیتی،یہ تو کوئی اور ہی لڑکی لگ رہی تھیجیسے کافی دن کی بیمار ہو،نتاشہ ادھ کھلی آنکھوں سے اسے خود کو دیکھتا پاکر چہرہ موڑنے لگی پر زبرین نے اور سختی سے اسکا چہرہ دبوچا اور یونہی خاموشی سے بغور اسکا ایک ایک نقش دیکھنے لگا،نگاہ بھٹکی تو اسکے سوجے ہوئے ہونٹ پر گئی۔
“چھو۔۔۔چھوڑیں۔۔۔ادیا۔۔”
اسکی گرفت جب تھوڑی پر اور سخت ہوئی تو نتاشہ نے بمشکل بولنا چاہا پر زبرین نے اسکے لبوں پر انگلی رکھ دی جیسے ابھی کوئی مداخلت نہ چاہتا ہو،اس نے ایک نظر نتاشہ کی ہیزل رنگ آنکھوں میں دیکھا،کیا کچھ نہیں تھا ان میں،بھروسہ ٹوٹنے کا دکھ،بےفائی کے اذیت،وہ ہواؤں میں اڑنے والی لڑکی وہ زندگی سے بھر پور آنکھیں اس وقت بلکل کھوکھلی لگ رہی تھیں زبرین کو۔
“پاسورڈ بتادو نتاشہ۔۔”
پتا نہیں کیوں اسکا لہجہ نرم ہوا یا شاید نتاشہ کی حالت دیکھ اس نے جان بوجھ کر لہجہ نرم کیا تھا،جبکہ نتاشہ جو پہلے ہی پیر پر ہوتی جلن سے تڑپ رہی تھی اب اسکے سوال پر بےساختہ اسکا خودکشی کرنے کا دل کیا۔
“مجھے کچھ نہیں پتا۔۔۔۔تھک چکی ہوں بتا بتاکر۔۔۔آخر آپ لوگ یقین کیوں نہیں کرتے۔۔۔۔میرے پاپا کو بار بار سب۔۔۔۔غلط بول رہے ہیں۔۔۔۔میں کہہ رہی ہوں۔۔۔وہ غلط نہیں ہیں۔۔۔انہوں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔”
آخر تنگ آکر اس نے زبرین کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پریقین لہجے میں کہا،اسکی بات پر زبرین ایک بار پھر انیس سال پیچھے چلاگیا تھا،جہاں بےدردی سے وہ لوگ اسکی ماں اور بہن کی عزت کا جنازہ نکال رہے تھے،اس وقت وہ وہاں ہوتے ہوئے بھی بےبس تھا،اسکی ماں اور بہن کس قدر روئیں تھی چیخ چیخ کر،کتنی بھیک مانگی تھی اسکی ماں نے ان لوگوں سے عزت کی،پر اُس وقت،وہاں پر طاہر علوی کھڑا چند آدمیوں کے ساتھ کیسے قہقہہ لگا کر ہنس رہا تھا ان لوگوں کی بےبسی پر اور آج نتاشہ جتنے یقین سے اپنے باپ کی حمایت میں دلیل دے رہی تھی،ایک شعلہ سا بھڑکا تھا زبرین کے اندر،دل میں جو تھوڑا بہت رحم بھی جاگنے لگا تھا اس لڑکی کے لیے وہ پل میں ہوا ہوچکا تھا،
“تمہارا باپ کتنا نیچ انسان ہے یہ تم سے بہتر اور کوئی نہیں جانتا لڑکی۔۔۔۔اسکی اصلیت تو میں سب کے سامنے لاکر رہوں گا۔۔۔۔فلحال تم نے اگر پاسورڈ نہیں بتایا تو یقین کرو اب میں وہ کروں گا تمہارے ساتھ کہ روح کانپے گی تمہاری۔۔۔۔”
دانتوں کو سختی سے بھنچے وہ خون آلود نظروں سے نتاشہ کو گھورتے ہوئے غرّایا تھا
“ادیان میں مرجاؤں گی۔۔۔مت کریں اس طرح میرے ساتھ۔۔۔۔۔مجھے کچھ بھی نہیں پتا۔۔۔”
ایک بار پھر وہ بولتے ہوئے چہرہ جھکا گئی ساتھ ہی پھوٹ کر رودی،مقابل کا یہ رویہ کتنا تکلیف پہنچارہا تھا اسے وہ بیان نہیں کرسکتی تھی،زبرین نے تپ کر اس ڈھیٹ لڑکی کو دیکھا،دماغ میں یہ سوال ابھر رہا تھا کہ آخر کیوں اتنی تکلیف برداشت کرنے کے بعد بھی وہ زبان نہیں کھول رہی تھی،
“ٹھیک ہے۔۔۔۔مت بتاؤ پر اب جو میں تمہارے ساتھ کروں تو پلیز۔۔۔۔اسکے بعد مجھ سے نفرت نہیں کرنا۔۔۔”
طنزیہ لہجے میں کہتے ہوئے وہ پلٹ کر وہاں سے جانے لگا
“ادیان نیازی۔۔۔۔نتاشہ علوی کبھی آپ سے نفرت نہیں کرسکتی۔۔۔”
نتاشہ کے بھیگے لہجے میں کہے گئے ان الفاظوں پر بےساختہ زبرین کے قدم تھمے تھے،سینے میں رکھے پتھر پر ہلکی سی دراڑ پڑی تھی،کیا تھی وہ لڑکی جو اس سے دھوکہ کھانے کے بعد بھی وہی ورد کررہی تھی،جلد ہی اس لڑکی کی حمایت میں آنے والی سوچوں کو جھٹکتے ہوئے وہ وہاں سے نکلا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو تیمور کار میں بیٹھا اپنے گھر کی طرف روانہ ہورہا تھا تبھی اسکی کار کے سامنے ایک کار تیزی سے آکر رکی تھی،تیمور نے جھٹکے سے بریک لگایا ورنہ سامنے والی کار سے ٹکر ہوکر رہتی،وہ جلدی سے کار سے نکلا دوسری طرف سے بھی کوئی کار سے نکلا تھا،اسے حیرت ہوئی مقابل یمنا کو دیکھ کر جو تیزی سے اسی کے پاس آرہی تھی،ابھی وہ کچھ بولتا کہ یمنا نے اسکے قریب آتے ہوئے جھٹکے سے اسکا کالر اپنی مٹھیوں میں لیا،تیمور نے حیرت سے پہلے اسکے ہاتھ میں دبوچے اپنے کالر کو دیکھا بعد میں یمنا کو جسکی پلکیں نم ہورہی تھیں،جیسے ابھی کچھ دیر پہلے روئی ہو۔
“تم لوگ سمجھتے کیا ہو خود کو۔۔۔۔کیا حشر کیا ہے تم لوگوں نے نتاشہ کا۔۔۔۔میں نے تم سے کہا بھی تھا کہ وہ بے قصور ہے۔۔۔۔تو پھر کیوں اسے ٹورچر کیا جارہا ہے۔۔۔۔”
وہ نم زدہ لہجے میں چیختے ہوئے اس سے استفسار کرنے لگی،آنکھوں میں واضح تڑپ تھی اسکی نتاشہ کے لیے،تیمور ہنسا تھا،ایک مذاق اڑاتی ہنسی ہنسا تھا وہ۔
“تم لوگ اس لڑکی کو کتنا معصوم سمجھتے ہو۔۔۔۔جبکہ وہ لڑکی بہت تیز ہے۔۔۔۔اب تک جتنی معصوم لڑکیوں کے ساتھ اس نے جو کیا ہے اب وہی بھگت رہی ہے۔۔۔”
اپنے کالر پر سے اسکا ہاتھ جھٹکتے ہوئے تیمور نے کہا
“میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی کہہ رہی ہوں کہ نتاشہ بےگناہ ہے۔۔۔۔اسے کچھ بھی نہیں پتا تو پھر اسے یوں ٹورچر کر کے کیا ملے گا تم لوگوں کو۔۔۔”
غصے کی شدت سے یمنا نے اسکے سینے پر مکا مارنا چاہا پر اب تیمور نے اسکے دونوں ہاتھ تھام لیے
“میں بھی یہ بات تمہیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور اب بھی کہتا ہوں کہ اگر اپنی دوست کی آزادی چاہتی ہو تو اسکے بےقصور ہونے کا کوئی ثبوت لاؤ۔۔۔”
اپنی بات کہتے ہی تیمور نے اسکا ہاتھ جھٹکے سے چھوڑا پھر ایک نظر اسے دیکھنے کے بعد اپنی کار کا گیٹ کھولا،یمنا جو سوچ میں پڑی تھی کہ آخر کیا ثبوت دے اسے نتاشہ کی بےگناہی کا،تیمور کے کار سٹارٹ کرنے پر وہ ہوش میں آتے ہوئے اسکی طرف متوجہ ہوئی،وہ کار یمنا کے برابر سے نکالتا ہوا لے جانے لگا تبھی یمنا جلدی سے اٹھ کر اسکی کار کی طرف بھاگی۔
“رکو۔۔۔تیمور بات سنو۔۔۔میری۔۔۔نتاشہ میں بےگناہ ہے۔۔۔”
اسکی بھرائی ہوئی آواز کو ان سنا کرتے ہوئے تیمور نے کار کی سپیڈ تیز کی،
“پچھتاؤ گے۔۔۔۔تم لوگ بہت پچھتاؤ گے۔۔۔”
اسکی دور جاتی کار کو دیکھتے ہوئے یمنا بےبسی سے چیخ کر بولی ساتھ ہی وہی زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی،اسکے کیے کی سزا وہ لوگ نتاشہ کو دے رہے تھے،یمنا کا شدت سے دل کیا کسی کار کے نیچے آکر اپنی ہی جان دیدے،بےساختہ اسکے ذہن میں وہ لڑکیاں آئیں تھیں جنہیں ان لوگوں نے اغواء کر کے فیکٹری کے تہ خانے میں رکھا ہوا تھا،آج اگر وہ اپنی دوست کے لیے بےبس تھی تو پھر ان لڑکیوں کے بھی تو کتنے اپنے انکے لیے بےبس ہوکر تڑپتے ہوں گے انکے لیے،یہ سوچ یمنا کا سر درد کرنے لگی تھی،کتنے لوگوں کی گناہگار تھی وہ پر اب ان سب کی سزا وہاں اس ایجنسی کے قید میں اسکی دوست بھگت رہی تھی،رو رو کر جب وہ تھکی تھی تب وہاں سے اٹھ کر جانے لگی پر اچانک یمنا کا سر چکرایا،اس سے پہلے وہ زمین پر گرتی دو مضبوط بازوؤں نے اسے تھاما تھا۔