Rate this Novel
Episode 2
آگئی تم۔۔۔انکل ناراض ہیں تم سے۔۔
وہ گھر کے اندر داخل ہوئی تبھی یمنا جو کہ اسکی بیسٹ فرینڈ تھی اس نے نتاشہ سے کہا
اوہ۔۔۔
وہ گلابی ہونٹوں کو گول کر کے مسکراتے ہوئے اوپر کی طرف گئی
پاپا۔۔
وہ طاہر علوی کے روم میں انٹر ہوتے ہی چہکی جو اس وقت اپنے ہال نما کمرے کے ٹیرس میں رکھی چئیر پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔
انہوں نے ایک نظر اسے دیکھا پھر واپس اخبار پڑھنے لگے۔۔۔صاف ناراضگی کا اظہار تھا۔۔نتاشہ مسکراہٹ دباتے ہوئے انکے پاس پہنچی۔
سوری۔۔۔میرے جوجو۔۔۔
اس نے پیچھے سے آکر انکے گلے میں بازو حائل کر کے پیار سے کہا
آپ جانتی ہیں مجھے ڈر لگا رہتا ہے آپ کو لے کر۔۔۔پھر کیوں یہ سب کرتی ہیں۔۔۔
انہوں نے یونہی بیٹھے ہوئے خفگی سے پوچھا
پاپا۔۔۔مجھے عجیب لگتا ہے ان گارڈز کو ساتھ لے جانا۔۔۔مجھے لگتا ہے کہ سب ہنس رہے ہیں مجھ پر اور ویسے بھی میں تھوڑی نہ باہر کسی کو بتاتی پھرتی ہوں کہ میں طاہر علوی کی بیٹی ہوں
نتاشہ نے منہ بناکر کہا ساتھ ہی ان کے پاس سے ہٹ کر برابر والی چئیر پر آکر بیٹھی
بیٹا نہیں بتانے سے کیا کسی کو پتا نہیں چلے گا۔۔۔آپ کو میں نے بتایا تو ہے کہ میرے روز تیزی سے بلندی پر پہنچنے سے کتنے ہی عزیز بھی میرے دشمن بن چکے ہیں۔۔۔اور ان دنوں دشمن کب وار کر دے مجھ پر یا آپ پر بھروسہ نہیں ہے۔۔اسی لیے ایٹ لِیسٹ ایک گارڈ کو ہی رکھ لیا کریں اپنے ساتھ۔۔۔یوں اکیلے نہ جایا کریں باہر۔۔۔
طاہر علوی نے جس بےبسی سے کہا وہ چند پل کے لیے خاموش ہوگئی۔۔جانتی تھی اسکا باپ کا قدر پھول کے مانند رکھتا ہے اسے۔۔۔اگر اسے زرا بھی کھروچ آئی تو اسکے باپ کا کیا حال ہوگا۔
پاپا۔۔۔کچھ بھی پر یہ نہیں۔۔میں یہ نہیں کر سکتی۔۔۔۔اور ویسے بھی آپ مجھے کلاسس تو دلوارہے ہو نا کراٹے کی۔۔۔میں اسکے سکلز یوز کر کے خود کو سیف رکھوں گی۔۔۔
نتاشہ شانِ بےنیازی سے بول کر چئیر پر ٹیک لگا گئی
جی بلکل۔۔۔بتایا ہے آپ کی ٹیچر نے کل۔۔۔زرا دل نہیں لگتا آپ کا کراٹے سیکھنے میں۔۔۔اور اب تک ایک بھی سیشن نہیں کمپلیٹ کیا ہے آپ نے۔۔۔
انہوں نے اسے دیکھتے ہوئے آبرو بھینچ کر کہا
اپنی چوری پکڑی جانے پر وہ عادتاً دانت میں لب دبا کر اٹھی تھی
اوہ پاپا۔۔۔میری لوجک سمپل سی ہے۔۔۔جب میں نے کسی کے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا تو کوئی کیوں میرے ساتھ غلط کرے گا۔۔
وہ کھلکھلاتے ہوئے بول کر انکے روم سے نکل گئی
کبھی کبھی کسی کی غلطی کی سزا کسی اور کو بھگتنی پڑتی ہے بیٹا۔۔۔
طاہر علوی نفی میں سر ہلاتے ہوئے اسکی پشت کو دیکھ کر بڑبڑائے پھر اپنی پیشانی مسلنے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نتاشہ کے کیفے سے جانے کے بعد ادیان اپنے آفس کے لیے نکل گیا۔۔۔وہاں پر وہ ایک عام سے کلیگ کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔۔۔ابھی اسے کام کرتے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ اس کے برابر والے وارڈ میں ایک انجان آدمی آکر بیٹھا اور خاموشی سے لیپ ٹاپ کھول کر فائلز رکھتے ہوئے کام کرنے لگا ادیان نے حیرت سے اسے دیکھا۔
ایکسکیوزمی۔۔۔
ادیان نے اسے مخاطب کرنا چاہا مگر وہ اسی طرح اپنے کام میں لگارہا
آپ؟
نیو کلیگ ہوں۔۔۔آج فرسٹ ڈے ہے۔۔اور کچھ۔۔
ادیان کی بات کاٹتے ہوئے اچانک اسنے سرد لہجے میں کہا پھر واپس اپنا کام کرنے لگا۔۔ادیان نے اس عجیب آدمی کو چہرہ بگاڑ کر دیکھا پھر خود کو نارمل ظاہر کرتے ہوئے بولا
ہیلو میں ادیان۔۔۔آپ کا نام؟
اسکے پھر بولنے پر اس آدمی کے لیپ ٹاپ پر ٹائپنگ کرتے ہاتھ رکے اب کی بار اس نے ایک نظر ادیان کو دیکھا جو اسکی طرف ہاتھ آگے بڑھائے ہوئے تھا پھر گہرا سانس لیتے ہوئے اس سے ہاتھ ملاکر بولا
زین۔۔۔زین نام ہے میرا۔۔۔
یہ کہتے ہوئے اس آدمی کے چہرے پر ایک فارمل مسکراہٹ تک نہ آئی۔۔۔تبھی آفس میں بلکل کونے میں منہ چھپائے کھڑے تیمور نے ان دونوں کی یوں ہاتھ ملاتے ہوئے تصویر لی۔۔۔تیمور کو ادیان کے ساتھ بیٹھے اس آدمی کے ہالف برہنہ بازو سے دکھتا آدھا ٹیٹو کچھ انوکھا سا لگا۔۔۔شاید وہ کسی شیر کا ٹیٹو تھا۔۔جو کچھ ہیبت ناک سا لگ رہا تھا۔۔تیمور نے بےساختہ جھرجھری لی۔
اب کے لیے اتنا ہی۔۔۔بس اب باقی کام مسٹر “Z” سے پوچھ کر۔۔۔
وہ بولتے ہوئے یونہی منہ چھپائے وہاں سے باہر نکلا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر یہ کچھ کِلپ ہیں۔۔۔یہ ادیان نامی آدمی کچھ دن سے طاہر علوی کی بیٹی کے ساتھ دِکھ رہا ہے۔۔۔
دو دن بعد وہ پھر اسی عمارت میں آیا تھا اور تیمور اسے اب تک کی ساری تفصیل سے آگاہ کر رہا تھا۔
اس لڑکی کے بارے میں اور کچھ پتا چلا۔۔۔
اس نے تمام تصاویر دیکھتے ہوئے تیمور سے اپنے مخصوص سرد لہجے میں پوچھا
سر ابھی تک تو اس لڑکی کے بارے میں زیادہ پتا نہیں چلا ہے۔۔۔بس اتنا پتا ہے کہ وہ لڑکی انیس سال کی ہے۔۔۔۔روٹین اسکی یہی ہے کہ صبح تقریباً آٹھ ساڑھے آٹھ بجے تک یہ کیفے میں کافی پیتی ہے پھر گھر چلی جاتی ہے۔۔۔گھر سے یہ صرف صبح اور شام میں ہی باہر نکلتی ہے۔۔۔باقی اسکے لیے شاید ایک ٹیچر بھی آتی ہیں۔۔۔جو کراٹے کی کلاس دیتی ہیں اسکو۔۔بس۔۔۔
تیمور کہتے ہوئے آخر میں اسکے برابر والی چئیر پر بیٹھا تھا مگر اسکی ایک ناگوار نظر پر ہی اگلے لمحے گڑبڑا کر کھڑا ہوا۔۔۔آج پھر وہ شخص ماسک میں ہی آیا تھا۔۔۔تیمور کو اپنے سامنے بیٹھا یہ شخص کہی نہ کہیں اس آدمی میں مشابہت ہونے لگا جسے اس نے ادیان کے آفس میں اسکے ساتھ ہاتھ ملاتے دیکھا تھا۔۔۔
اور یہ۔۔۔
اس کی بھاری آواز پر تیمور ہوش میں آتے ہوئے اسکے ہاتھ کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔جس میں اس نے ادیان کے آفس والی پِک پکڑی تھی۔
سر میں نے سوچا آپ کے بولنے سے پہلے ایک مرتبہ اس ادیان نامی آدمی کی بھی تھوڑی بہت انکوائری کر لوں۔۔۔سر یہ اس آفس میں ایک عام سا کلیگ ہے۔۔۔سیلری زیادہ نہیں ہے۔۔۔ایک فلیٹ میں اکیلے رہتا ہے یہ۔۔۔سر اگر آپ کہیں تو اور انفورمیشن کلیکٹ کروں اسکی۔۔
تیمور نے اب کی بار ادیان کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہوئے آخر میں اس سے پوچھا
نہیں ابھی صرف اس لڑکی پر نظر رکھو۔۔۔اگر یہ آدمی بیچ میں کچھ پروبلم کرئیٹ کرے تو۔۔۔شُوٹ کر دینا اسے۔۔۔
اس نے ادیان کی تصویر پر اشارہ کر کے کہا
اوکے سر۔۔۔ایک منٹ۔۔
تیمور نے رسانیت سے کہا پر پوری بات سمجھ آنے پر اچانک جھٹکے سے رکا
سر۔۔سر شُوٹ کیسے کرسکتا ہوں۔۔۔می۔۔میرا مطلب یہ تو بےچارہ شریف آدمی لگتا ہے۔۔
اس نے سنبھل کر کہا اب سامنے بیٹھا وہ شخص تیمور کو سچ میں درندہ لگنے لگا۔
کبھی بھی لگنے پر کسی کو شریف مت سمجھ لیا کرو۔۔۔ہر شریف دکھنے والا آدمی سچ میں شریف نہیں ہوتا۔۔۔۔اور جتنا کہا ہے ابھی صرف اتنا کرو۔۔۔
اس نے ادیان کی مسکراتی تصویر پر نظریں گاڑے سرد لہجے میں کہا تو تیمور نے آہستہ سے اثبات میں سرہلادیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی اپنے محل نما گھر کے ایک سادہ سے ہال جیسے کمرے میں کراٹے کلاسس لے رہی تھی۔
اوہ میم نہیں ہورہا مجھ سے۔۔
آخر تھک اس نے وہی پر نیچے بیٹھتے ہوئے کہا
نتاشہ۔۔۔گڑیا ایسے تھوڑی ہوگا۔۔۔آپ ہار مت مانو کوشش کرو گی تو بہت جلد تم سیکھ جاؤ گی۔۔۔
انہوں نے اسکی ڈھارس باندھنے کی کوشش کی
نو میم۔۔۔آپ کوئی چیز تب سیکھ لیتے ہو جب آپ کا اس میں دل لگتا ہو۔۔۔اور اس میں تو میرا زرا دل نہیں لگتا۔۔۔اِنف۔۔۔۔اب میں پاپا کو منع کر دونگی۔۔۔کیونکہ مجھ سے نہیں ہوپائے گا یہ۔۔اور نہ ہی مجھے اب سیکھنا ہے۔۔۔میں جیسی ہوں ویسی ہی ٹھیک ہوں۔۔۔
اسکی کراٹے ٹیچر کو اس چھوٹی سی لڑکی پر بےساختہ پیار آیا جس کی جھنجھلاتی آواز بھی دھیمی اور نرم تھی۔
اوکے ایز یو وِش۔۔۔میں آپ کو فورس نہیں کرونگی۔۔۔
انہوں نے نرمی سے اسے کہا تو وہ ہلکا سا مسکرادی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادیان کی اس آدمی سے دوستی ہوئے دو ہفتے ہوگئے تھے۔۔۔پر اس دوستی میں زیادہ ہاتھ ادیان کا ہی تھا کیونکہ وہ شخص اس سے کھنچا کھنچا رہتا پر ادیان کی ہر وقت بات چیت نے اسے تھوڑا فرینک کردیا تھا ادیان سے۔۔۔اب وہ زیادہ تو نہیں پر تھوڑی بہت بات کرلیتا تھا ادیان سے۔۔۔انہیں دو ہفتوں میں تیمور نے بھی مکمل نظر رکھی ہوئی تھی ادیان اور نتاشہ پر۔۔۔آج ادیان زین کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ میں آیا تھا۔۔۔زین کے منع کرنے کے باوجود وہ زبردستی اسے لے کر آیا تھا یہاں۔
برو۔۔تھوڑا چِل کیا کرو۔۔۔۔ہر وقت یوں سب سے الگ سلگ رہنا ٹھیک نہیں۔۔۔
ادیان نے مسکراتے ہوئے چئیر پر بیٹھ کر اس سے کہا جس پر زین ایک نظر اسے دیکھ کر بیٹھتے ہی بازو فولڈ کر گیا
کچھ ہی دیر میں کھانے کے دوران ادیان کی نظر دوسری طرف پڑی تو وہ چونک کر اٹھا۔
کیا ہوا۔۔
زین نے سنجیدگی سے پوچھا
ایک منٹ میں ابھی آیا۔۔۔
وہ اسے بولتے ہوئے فوراً دوسری طرف گیا جہاں نتاشہ اکیلی بیٹھی کھانا کھارہی تھی آج وہ یمنا کے ساتھ یہاں آنا چاہتی تھی پر اینڈ ٹائم میں اچانک یمنا نے کسی کام کی وجہ سے آنے سے انکار کردیا۔۔۔جس کی وجہ سے وہ ابھی اکیلی بیٹھی ڈنر کررہی تھی۔
ہائے۔۔
ادیان نے اسکے پاس چئیر پر بیٹھتے ہوئے کہا تو نتاشہ نے چونک کر اسکی طرف دیکھا
آپ۔۔۔آپ بخشتے کیوں نہیں ہمیں کہیں۔۔
وہ کھانا چھوڑ کر چڑتے ہوئے بولی ان لوگوں سے دور تیمور بیٹھا یہ منظر خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔۔۔تبھی اسکا فون بجا
ہیلو۔۔
میجر تیمور۔۔۔مسٹر “Z” کے لیے کوئی ایویڈینس اکھٹا کیا۔۔۔اگر وہ آگئے تو کیا دکھائیں گے آج انہیں۔۔۔
تیمور کے ساتھی رافع نامی افسر نے پریشانی سے پوچھا
تم فکر مت کرو ہوجائے گا سب۔۔۔ابھی اسی کے لیے نکلا ہوں۔۔۔
وہ ان لوگوں کو دور سے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولا
مجھے نا یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔۔۔اچھا خاصا موڈ خراب ہوگیا میرا آپ کو دیکھ کر۔۔
نتاشہ نے اسے غصہ دلانے کے غرض سے کہا جس پر ادیان مسکرا اٹھا دوسری طرف بیٹھا زین سرد نظروں سے بغور ادیان کے سامنے بیٹھی نتاشہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ایک طنزیہ مسکراہٹ نے اسکے لبوں کا احاطہ کیا۔۔۔جبکہ تیمور کی نظر اب ادیان اور نتاشہ سے ہٹ کر زین پر گئی۔۔۔وہ کیوں عجیب نظروں سے ادیان اور نتاشہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔تیمور کو حیرت ہوئی اس پر۔۔۔
ویسے تو میں ہر جگہ آپکا پیچھا کر کے آتا ہوں بٹ آج میں یہاں پر اپنے ایک دوست کے ساتھ آیا تھا۔۔۔وہ دیکھیں۔۔۔
ادیان نے اب باقاعدہ زین کی طرف اشارہ کر کے اپنی بات کی تصدیق کروائی۔۔نتاشہ نے اس طرف دیکھا پر زین کی سرد نظریں اسے کافی عجیب لگیں تبھی وہ جلد نگاہ پھیر گئی۔۔۔
ویٹر۔۔۔
اس نے جلدی سے ویٹر کو بلایا اور اپنا کلچ اٹھایا پر اگلے ہی پل اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔۔۔اسکے پیسے کہاں گئے۔۔۔
اوہ شٹ۔۔۔
اس نے غصے میں تقریباً دھپ سے کلچ بند کیا
کیا ہوا۔۔
ادیان نے تشویش سے پوچھا
وہ۔۔۔۔وہ۔۔۔میں۔۔۔اماونٹ گھر پر بھول گئی۔۔
اس کے شرمندگی سے کہنے پر ادیان نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا پھر سامنے کھڑے ویٹر کو اپنی جیب سے اماؤنٹ نکال کر مینیو میں رکھ کر دے دیا۔۔۔ان سب کے دوران نتاشہ خاموشی سے اسکو دیکھ رہی تھی۔
آپ ان سب سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟
نتاشہ نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا
زیادہ نہیں۔۔۔۔بس تمہاری رضامندی۔۔۔
ادیان نے مسکراتے ہوئے رسانیت سے کہا
چھ فٹ سے نکلتا قد،کسرتی جسم بلاشبہ وہ ایک وجیہہ مرد تھا اسکی آنکھوں میں دیکھ کر پہلی مرتبہ نتاشہ کا دل زور سے دھڑکا تھا گھبرا کر جلدی سے وہ نگاہیں پھیر گئی
مجھے یہ سب فضول لگ رہا ہے اور کچھ نہیں۔۔۔ویسے بھی آپ بڑے لگتے ہیں۔۔
ویسے تو وہ مضبوط جسامت کا مالک آدمی اسے اچھا لگنے لگا تھا پر پھر بھی اس نے یونہی یہ بات کہی
اچھا۔۔۔پر مجھے تو نہیں لگتا کہ ان سب میں بڑا چھوٹا دیکھا جاتا ہے اور ویسے بھی لڑکے تو بڑے ہی ہوتے ہیں لڑکیوں سے۔۔۔
اس نے پینٹ کی جیب میں ہاتھ گھساتے ہوئے کہا جس سے شرٹ کے اوپر میں ہی اسکے کسرتی بازو نمایا ہوئے تھے
آپ لڑکے نہیں۔۔۔۔اچھے خاصے آدمی لگتے ہیں۔۔
نتاشہ نے اسکے لمبے قد کاٹھ کو دیکھ کر کہا
اتنا نوٹ کرتی ہو مجھے۔۔۔
ادیان نے اسکی ہیزل رنگ آنکھوں میں جھانک کر رازدارانہ لہجے میں کہا تو بے ساختہ نتاشہ کے سفید گال سرخ پڑے جسے پُرشوق نظروں سے ادیان نے اپنی نظروں میں اتارا۔
دیکھیے آپ جان بوجھ کر باتوں کو طول دے رہے ہیں۔۔۔سیدھی سی بات ہے آپ نے ابھی میری مدد کی اسکے لیے تھینکس۔۔۔۔میں پیسے آپ کو پھر کبھی واپس دے دونگی۔۔۔
وہ بوکھلا کر ایک ہی سانس میں بول کر جلدی سے پلٹتے ہوئے جانے لگی مگر اگلے ہی قدم میں اسکا پیر سلپ ہوا۔۔موقع پر ادیان نے اسے دونوں بازوؤں سے سنبھالا۔۔نتاشہ سانس روک کے رہ گئی۔
یہ کچھ فلمی نہیں ہوگیا۔۔
ادیان کی بھاری مسکاتی آواز پر نتاشہ جو اس کے پُرکشش چہرے کو دیکھنے میں گم تھی اچانک ہوش میں آئی اور تقریباً جھٹکے سے اس سے دور ہوئی۔
سوری۔۔۔سوری۔۔۔آئی ایم رئیلی سوری۔۔۔
وہ سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ گھبراکر بولی اور فوراً پلٹ کر تیزی سے اپنے راستے چل دی۔۔۔وہ الگ بات تھی کہ اسکے چہرے پر اب خوبصورت مسکراہٹ پھیلی تھی جو اسنے دانتوں سے لب دباکر چھپائی اور اپنی بیوقوفی پر ایک آنکھ میچی۔۔۔۔پیچھے کھڑے ادیان نے بھی نفی میں سر ہلاتے ہوئے نرمی سے مسکراکر اس لاابالی لڑکی کی پشت کو دیکھا۔۔۔جو جتنی خوبصورت دکھتی تھی اتنی ہی بُدھو بھی تھی۔۔۔
دور ان دونوں کا یہ منظر تیمور نے کیمرے میں کیپچر کرلیا تھا۔
ہیلو۔۔۔مسٹر Z کے لیے ایک اور کلپ اکھٹی کرلی ہے۔۔
تیمور نے رافع کو کال پر کہا پر تیز نظریں اسکی اب بھی مسکراتے ہوئے ادیان اور دور جاتی نتاشہ پر تھیں۔
جبکہ دوسری طرف زین بھی گردن گھوما کر سرد نظروں سے نتاشہ کی پشت کو گھوررہا تھا۔۔۔
تیمور کو اس پر اب شک ہونے لگا۔۔۔وہ کیوں صرف نتاشہ کو یوں گھورے جارہا تھا۔۔۔اس نے زین کی بھی انکوائری کرنے کا سوچا پر ابھی مسٹر “Z” کا حکم یاد آیا تو زین کی انکوائری کا بعد میں سوچ کر نتاشہ کا پیچھا کرنے لگا۔۔۔پر کچھ دور تک اسکی گاڑی کا پیچھا کرنے کے بعد تیمور کو اپنا آپ بیوقوف سا لگنے لگا۔۔۔کیونکہ وہ آج بھی سیدھا گھر کی طرف جارہی تھی۔۔۔
ابے یار۔۔
