52.2K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

فلیٹ کی پارکنگ پر کار روک کر ادیان نے ایک نظر نتاشہ کو دیکھا جس کا خوبصورت چہرہ مہارت سے کیے گئے میک اپ میں اور حسین لگ رہا تھا،
“سسرال آگیا تمہارا۔۔۔”
اس نے مسکاتے لہجے میں نتاشہ سے کہا تو وہ ہلکا سا ہنس دی،کار سے نکل کر ادیان اسکی طرف آیا پھر اسے آرام سے پکڑ کر فلیٹ تک لے گیا،
“ایک منٹ۔۔۔”
وہ گیٹ پر پہنچ کر جیب سے چابی نکالتے ہوئے بولا
“کھولو۔۔”
لوک کھول کر اس نے نتاشہ کو گیٹ کھولنے کا اشارہ کیا ساتھ ہی اسکی لمبی گھیر والی میکسی پیچھے سے اٹھائی تاکہ اسے چلنے میں آسانی ہو۔
نتاشہ ناسمجھی سے اسے دیکھتے ہوئے گیٹ کھولی تھی مگر اگلے ہی لمحے اسکی آنکھیں حیرت سے مکمل کُھل گئیں جب گلاب کی کئی پتیاں اوپر سے اس پر گریں۔۔۔وہ خوش خوشگوار حیرت سے ادیان کو دیکھنے لگی جو خود بھی مسکراتے ہوئے اسکے کھلے چہرے کو دیکھ رہا تھا،خوشی سے ہنستے ہوئے پورے وہ فلیٹ کو دیکھنے لگی جو ادیان نے مکمل سجایا ہوا تھا،تبھی اس کے کندھوں پر پیچھے سے ادیان نے ہاتھ رکھا
“روم میں چلیں۔۔۔”
اسکے نہایت نرمی سے پوچھنے پر نتاشہ مسکرائی تھی پھر اس نے ہلکے سے اثبات میں سر ہلایا تو ادیان اسکا مہندی سے سجا ہاتھ تھامتے ہوئے روم میں جانے لگا،لاؤنج سے لے کر روم تک گلاب کی پتیاں زمین پر کارپیٹ کی طرح بچھی ہوئی تھیں،نتاشہ کو رشک سا آیا اپنی قسمت پر،اسکے نازک سرخ و سفید پیر صرف گلاب کی ٹھنڈی نرم پتیاں ہی محسوس کر رہے تھے،روم میں آکر نتاشہ نے ہر طرف نظر دوڑائی،روم میں جگہ جگہ کینڈلز جلیں ہوئیں تھیں اور پورے فلیٹ کی طرح اس کمرے کو بھی بہت خوبصورت سجایا گیا تھا،
“انبلیویبل۔۔۔”
بےساختہ نتاشہ کے منہ سے الفاظ ادا ہوئے تھے،تبھی اسے پیچھے سے اپنی نازک کمر پر ادیان کے مضبوط ہاتھ محسوس ہوئے
“کیسا لگا جانم؟”
وہ سرگوشی میں اس سے پوچھ رہا تھا
“بہت حسین۔۔۔”
کمرے کے خواب ناک ماحول کے سحر میں ڈوبی نتاشہ کے صرف لب ہل سکے،پر اگلے ہی پل اسے اپنی صراحی دار گردن پر ادیان کا پہلا نرم لمس محسوس ہوا تو وہ ہوش کی دنیا میں قدم رکھتے ہوئے اپنی کمر کے گرد حائل اسکے مضبوط ہاتھوں کو اپنے نازک ہاتھ سے ہٹانے لگی۔
“اد۔۔۔ادیان۔۔میں تھک گئی ہوں۔۔۔مجھے۔۔”
اسنے پلکیں جھکائے ہکلاتے لہجے میں بولنا چاہا پر ادیان نے جھٹکے سے اسکا رخ اپنی طرف کیا،
“کیوٹی پائی۔۔۔آج ہماری گولڈن نائٹ ہے۔۔۔اور اس میں بہانے نہیں چلتے۔۔۔”
وہ بولتے ہوئے مسلسل اسکے لپسٹک سے سجے گلابی لبوں کو دیکھ رہا تھا نتاشہ کو اپنے چہرے پر اسکی گرم سانسیں محسوس ہوئی تھیں۔
“میں۔۔۔بہانہ نہیں۔۔۔کررہی۔۔سچ میں تھک۔۔۔گئی ہوں۔۔۔”
وہ تیز ہوتی دھڑکنوں سمیت بمشکل بول پائی تو ادیان کی ہنسی اسے سنائی دی
“جاؤ چینج کرلو۔۔۔تمہارے کپڑے وارڈروب میں ہیں۔۔”
اس سے دور ہوتے ہوئے ادیان نے مسکراکر کہا تو نتاشہ اسے ایک نظر دیکھ کر روم میں نظریں دوڑانے لگی
“وہ رہا ڈریسنگ روم۔۔۔۔”
ادیان کے اشارہ کرنے پر وہ ڈریسنگ روم کی طرف گئی،کچھ دیر بعد ساری جیولری اتارے وہ چینج کر کے سادہ سے ڈریس میں نکلی تو ادیان بھی کوٹ اتار کر اپنی وائٹ شرٹ کے اوپری بٹنز کھول کر صوفے پر آنکھیں موندے بیٹھا تھا۔
اسے یوں آنکھیں موندے دیکھ نتاشہ کو شرارت سوجھی اسنے لب دباکر بیڈ پر سے ایک تکیہ اٹھایا پھر دھیمے قدم اٹھاتی ہوئی ادیان کے پاس آئی،اس سے پہلے وہ تکیہ ادیان کے سر پر مارتی،وہ پھرتی سے اسکا ہاتھ پکڑ کر نتاشہ کو اپنے اوپر گراگیا،تکیہ نتاشہ کے ہاتھ سے چھوٹا تھا،ادیان نے اسکا وہ ہاتھ پکڑ کر کمر سے لگادیا۔
“آہ۔۔ادیان۔۔”
وہ سسکی تھی اسکی مضبوط گرفت میں مقید اپنا ہاتھ مڑنے پر
“تم تو تھک گئی تھی؟”
وہ آئیبرو اچکاتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا
“ہاں۔۔۔تھک تو گئی ہوں۔۔”
نتاشہ بےچاری بن کر بولی
“تو پھر یہ کیا ہے۔۔۔۔مارنے لگی تھی مجھے۔۔۔”
اسکے پوچھنے پر نتاشہ مسکرائی
“نہیں۔۔۔میں تو بس۔۔ایسی مستی کررہی تھی۔۔”
کندھے اچکاکر وہ بولی
“کیوں نہ۔۔تھوڑی مستی مل کر کریں۔۔”
وہ رازدارانہ لہجے میں بولا ساتھ ہی پِلو اٹھا کر نتاشہ کو مارا،تو وہ سیدھا نیچے گری۔
“آہ۔۔۔ادیان میں چھوڑونگی نہیں آپکو۔۔”
نیچے گری نتاشہ تپ کر بولی
“پہلے پکڑ تو لو جانم۔۔۔”
وہ ہنستے ہوئے بول کر وہاں سے بھاگا تو نتاشہ اسے گھورتے ہوئے اٹھی اور بیڈ سے دوسرا پِلو اٹھائے اسکے پیچھے بھاگنے لگی،پھر دونوں پورے کمرے میں بھاگتے ہوئے ایک دوسرے کو جب موقع ملتا تکیہ مارنے لگتے،یہ کھیلتے ہوئے ان لوگوں کو کافی ٹائم گزرگیا،تبھی تھک کر نتاشہ بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹ گئی۔
“اب تو۔۔۔سچ میں تھک گئی میں۔۔”
وہ ہانپتے ہوئے ہنس کر بولی تو ادیان بھی اسکے برابر میں لیٹ گیا
“بس۔۔۔اتنی جلدی تھک گئی۔۔۔ابھی تو اور گیمز باقی ہیں۔۔۔”
اسنے ہنستے ہوئے کہا ساتھ ہی نتاشہ کی کمر پر بازو حائل کرتا اسے اٹھا کر اپنے اوپر کرلیا۔
“نہیں۔۔ادیان۔۔۔اب اور نہیں میں بہت تھک گئی ہوں۔۔۔سچی۔۔”
وہ بولتے ہوئے اسکے سینے پر سر رکھ گئی تو ادیان نے نرمی سے اسکی پیشانی چوم لیں پھر یونہی نتاشہ کو اپنے اوپر لٹائے آنکھیں موند گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج وہ شہر کی بندرگاہوں کی فوٹیج دیکھنے گیا تھا،ایک دو بندرگاہوں پر اسے شک تھا جہاں پر وہ اپنا مخصوص خفیہ کیمرہ لگاکر آنے کے بعد اب اسی عمارت میں بیٹھا انکی ویڈیوز دیکھ رہا تھا،تبھی اسکے نمبر پر بیل ہوئی۔
“ہیلو۔۔”
تیمور نے کال ریسیو کیے فون کان سے لگائے کہا نظر اب تک سکرین پر تھی
“بہت برا پھنسوگے میجر۔۔۔بچنا چاہتے ہو تو روک دو اپنی کاروائی۔۔۔”
نسوانی شاطرانہ آواز پر تیمور کی نظر اب سکرین سے ہٹی تھی وہ حیرت سے فون کو دیکھنے لگا۔
“آپ کون بہن؟”
اس نے فون واپس کان سے لگاتے ہوئے فوراً سے پہلے اس انجان کو بہن بنالیا
“بہن مائے فُٹ۔۔۔جتنا کہا ہے اتنا کرو۔۔۔”
دوسری طرف سے وہ غصے میں بولی
“اووو میڈم۔۔۔میجر تیمور کو سمجھ کیا رکھا ہے سب نے۔۔۔جس کا دل چاہا کہہ دیتا ہے کہ جتنا کہا ہے اتنا کرو۔۔۔آج میں کہتا ہوں۔۔۔کرونگا اپنی مرضی کرلو جو کرنا ہے۔۔۔”
وہ تپا تھا،پہلے ہی “Z” ہر بات پر اسے یہی القابات سناتا اوپر سے اب یہ پتا نہیں کون تھی جو اسے کال کر کے ایسے حکم دے رہی تھی۔۔۔
“یُو۔۔۔تم بچو گے نہیں میجر۔۔۔میں۔۔پہلی اور آخری بار کہہ رہی ہوں۔۔۔اسے وارننگ سمجھنا۔۔۔”
دوسری طرف کوئی کلس کر بولی تھی
“غلام رکھا ہے کیا۔۔۔فری فٹے میں آگئیں مجھے میجر تیمور کو دھمکیاں دینے۔۔۔گھر میں باپ بھائی نہیں کیا۔۔۔رکھو فون۔۔۔”
تیمور اس پر اپنی ساری بھڑاس نکالتا ہوا کال کاٹ گیا جبکہ دوسری طرف اس نے غصے میں موبائل پٹخا تھا
ابھی اس ادیان کے فلیٹ پر جانا ہوگا۔۔۔پھر وہاں سے اسکا پیچھا کر کے اسکے آفس۔۔۔تیمور۔۔۔تیری تو ساری زندگی لوگوں کا پیچھا کرتے ہی نکل جانی ہے۔۔۔
وہ لاچارگی سے خود کو بول کر فون جیب میں رکھتا ہوا اٹھا اور باہر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی جائیں یہاں سے۔۔۔”
وہ نروٹھے پن سے بولی
صبح ادیان نے خود ہی ناشتہ بناکر اسکے ساتھ ناشتہ کیا تھا پر ابھی جب وہ آفس کے لیے تیار ہونے لگا تو نتاشہ کا منہ بنا تھا،وہ چاہتی تھی کہ کل ہی ولیمہ ہوا ہے تو کم از کم ادیان ایک ہفتے تک آفس نہ جائے پر ادیان کے منع کرنے پر وہ اب اس سے ناراض ہوگئی تھی۔اور وہ جب سے اسکے آگے پیچھے گھومتا ہوا اسے منارہا تھا
“جانم مان جاؤ یار۔۔۔دیکھو اگر میں آفس نہیں جاؤں گا،کماؤں گا نہیں تو اپنی کیوٹی پائی کی سبھی فرمائشیں پوری کیسے کرونگا۔۔۔”
نتاشہ کے گرد بازو حائل کرتا وہ اسے پیار سے سمجھانے لگا
“میں نے آپ کو کمانے سے تھوڑی منع کیا ہے۔۔۔میں تو صرف اتنا کہہ رہی ہوں کہ ایٹ لیسٹ ایک ہفتے تک تو آفس نہ جائیں۔۔۔”
وہ منہ پھیر کر بولی تھی
“نتاشہ۔۔۔۔ادھر دیکھو آئی سوئیر میں دوپہر کو ہالف لیوو پر آجاؤں گا پر ابھی جانے دو۔۔۔میٹنگ ہے یار۔۔۔پلیز سمجھو۔۔۔”
وہ تھوڑی سے اسکا چہرہ تھام کر اپنی طرف کرتا بولا
“اچھا ٹھیک ہے پر جلدی آئیے گا۔۔۔مجھے اکیلے ڈر لگتا ہے۔۔۔”
وہ منہ بناتے ہوئے آمادگی ظاہر کرنے لگی
“ایسے کیسے جاسکتا ہوں۔۔۔پہلے میری کیوٹی پائی مجھے اچھی سی کِس دے گی پھر۔۔۔”
ادیان نے اسکا چہرہ ہاتھوں کی پیالی بناکر اس میں تھامتے ہوئے محبت سے فرمائش کی تو نتاشہ بوکھلائی
“بھئی۔۔۔میں نہیں کررہی۔۔۔”
وہ چہرہ پیچھے کر کے بولی تو ادیان نے چند لمحے خاموشی سے اسکا چہرہ دیکھا پھر سنجیدگی سے اثبات میں سر ہلاکر اسے چھوڑتا ہوا روم سے باہر نکل گیا۔
نتاشہ کو بےساختہ شرمندگی ہوئی،وہ سمجھ گئی تھی ادیان کو برا لگا تھا اسکا یہ گریز،تبھی جلدی سے بھاگتے ہوئے باہر گئی۔
“ادیان۔۔۔”
اسے گیٹ کھولتا دیکھ نتاشہ پکار بیٹھی تو ادیان نے مڑ کر اسے دیکھا،چند قدم کا فاصلہ طے کر کے وہ اسکے قریب آئی پھر اسکے کچھ سمجھنے سے پہلے ہی ادیان کے گال پر اپنے لب رکھ دی،پھر اگلے ہی لمحے پلٹ کر واپس روم کی طرف بھاگی مگر ادیان نے اسکا بازو پکڑ لیا۔
“یہ کیا تھا؟”
اسے اپنے سامنے کرتے ہوئے ادیان نے سنجیدگی سے پوچھا
“جو آپ نے کہا تھا۔۔۔”
وہ سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ نظریں جھکائے بولی
“میں نے یہاں تو نہیں کہا تھا کرنے۔۔۔”
ادیان آئبرو بھینچ کر بولا ساتھ ہی نظر اسکے پنکھڑی جیسے لبوں پر گئی،نتاشہ بوکھلائی تھی اسکی بےباک نظریں دیکھ
“ادیان۔۔۔”
اسکے لب ہلے تھے پر ادیان کو خود پر جھکتا دیکھ وہ چہرہ پیچھے کرگئی،جس پر ادیان نے اسے آنکھیں دکھائیں
“ایک شرط پر۔۔۔”
وہ اترا کر بولی
“کیسی شرط؟”
ادیان نے اسکی چہرے پر کھیلتی آوارہ لٹوں کو پیچھے کرتے ہوئے پوچھا
“شرط یہ ہے کہ۔۔۔۔۔پہلے آپ آفس سے جلدی آئیں گے۔۔۔پھر”
وہ اسے اچانک دھکا دیتے ہوئے ہنس کر بولی ساتھ ہی وہاں سے بھاگتے ہوئے روم میں گئی
بےساختہ ادیان کی ہنسی چُھوٹی تھی نتاشہ کی اس معصوم ادا پر،وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا گیٹ کھول کر باہر گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیمور ادیان کا پیچھا کرتے ہوئے اسکے آفس میں آیا تھا،پر وہاں ادیان کے وارڈ کے برابر میں زین کو چئیر پر بیٹھے آنکھیں موندے دیکھ الرٹ ہوا،آج اتنے دنوں بعد وہ زین کو دیکھ رہا تھا،ویسے بھی اسے اب مسٹر “Z” اور زین کی اتنی مشابہت پر شک ہونے لگا تھا،
“ہائے۔۔۔اتنے دنوں بعد دکھ رہے ہو؟”
ادیان اپنی چئیر پر بیٹھتا ہوا خوش اخلاقی سے زین سے پوچھنے لگا جس پر وہ سرخ آنکھیں کھول کر اسے دیکھا تھا پھر نظر ہر طرف گھومانے لگا
“کہاں گُم تھے اتنے دنوں سے؟”
ادیان نے پھر پوچھا تو زین نے ایک نظر اسے دیکھ کر اپنے لیپ ٹاپ کو دیکھا
“کچھ کام میں بزی تھا،تم سناؤ شادی کرلی تم نے؟”
اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے ادیان سے پوچھا تو وہ مسکرادیا
“ہمم۔۔۔بلکل۔۔۔پر تم آئے نہیں۔۔”
بول کر ادیان پھر اسے دیکھنے لگا تو زین نے کوفت سے آنکھیں بند کیں
“کہا تو ہے بزی تھا۔۔۔”
اب کی بار وہ روکھے لہجے میں بولتا ہوا اپنی تمام تر توجہ لیپ ٹاپ پر دیے کام کرنے لگا،ادیان نے کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھا پھر خود بھی اپنا کام نپٹانے لگا۔
دور کھڑا تیمور جو ان لوگوں پر نظر رکھے ہوئے تھا،اپنے ذہن میں جب سے امڈتے شک کو یقینی بنانے کے لیے جیب سے موبائل نکالا اور “Z” کا نمبر ڈائل کرنے لگا۔ساتھ ہی اسکی نظر زین پر تھی،پر اگلے ہی لمحے وہ چکراگیا جب زین اور ادیان دونوں کا فون ایک ساتھ بجا۔
“ہیلو۔۔”
ادھر تیمور کے فون پر اسکی بھاری آواز گونجی تو وہ بوکھلایا
“سوری سر، غلطی سے لگ گئی تھی کال۔۔۔”
وہ بولتے ساتھ کال کاٹ گیا،نظر ابھی تک وہیں پر تھی جہاں پر زین اب فون رکھ چکا تھا پر ادیان ابھی تک کال پر کسی سے بات کر رہا تھا۔
“تیرا شک صحیح تھا تیمور۔۔۔”
وہ بڑبڑایا پھر آفس سے نکلا دوسرے کام کے لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🖤🖤🖤🖤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“جلدی کرو۔۔۔”
طاہر علوی کی ایک خفیہ فیکٹری کے باہر وہ آدمی کھڑا سبھی ورکرز کو آرڈر دیتے ہوئے بولا جو بڑی بڑی پیٹیاں اٹھائے ٹرک میں رکھ رہے تھے
“ہوگیا مالک۔۔۔”
سبھی پیٹیاں رکھنے کے بعد ایک ورکر نے پسینہ پوچھتے ہوئے اس سے کہا
“ہمم۔۔۔اب چلو جلدی۔۔۔یہ مال آج ہی جائے گا۔۔۔”
وہ آس پاس احتیاطاً ایک نظر دیکھتا ہوا دھیمے لہجے میں بولا ساتھ ہی ٹرک میں بیٹھ گیا کچھ دور درختوں کے پیچھے چھپا تیمور سنجیدگی سے ان لوگوں کے ہر عمل کو دیکھ رہا تھا پھر ٹرک سٹارٹ ہوتے ہی خود بھی جاکر کار میں بیٹھ گیا۔
وہ کافی دیر تک اس گاڑی کا پیچھا کررہا تھا پر اچانک اسکا فون رنگ کرنے لگا “Z” کا نمبردیکھ کر تیمور نے کال ریسیو کی۔
“ہیلو سر۔۔”
“کدھر ہو ابھی تم۔۔”
اس نے مخصوص بھاری لہجے میں پوچھا
“سر ابھی میں ڈرگز سے بھری ایک ٹرک کا پیچھا کررہا ہوں۔۔۔جس میں چند مشکوک لوگ ہیں۔۔۔۔اور یقیناً یہ لوگ طاہر علوی کے لیے ہی کام کررہے ہیں۔۔۔”
وہ مسلسل اس ٹرک کا پیچھا کرتے ہوئے کال پر بول رہا تھا
“وہ ٹرک ابھی کس طرف جارہی ہے۔۔۔”
اس نے تشویش سے پوچھا
“سر۔۔۔پتا نہیں یہ کوئی سنسان جگہ ہے۔۔۔پہنچنے پر میں آپ کو بتاؤں گا۔۔۔”
اپنی تیز نظریں ٹرک پر گاڑے وہ بولا ساتھ ہی گاڑی کی سپیڈ تھوڑی تیز کی
“فوراً کار کو ریورس کرو۔۔۔اور واپس آؤ۔۔”
اسکی سرد آواز پر تیمور کو حیرت کا جھٹکا لگا
“پر کیوں سر۔۔۔”
وہ حیرت سے پوچھنے لگا
“میں نے کہا فوراً واپس آؤ۔۔۔”
دوسری طرف “Z” اب دھاڑا تھا جس پر تیمور نے فون کو کان سے ہٹا کر گھورا پھر کان سے لگایا
“سر کوئی ریزن تو بتائیں کیوں۔۔۔۔”
وہ بجھے چہرے سے پوچھا اسے سچ میں “Z” کوئی پاگل لگا۔۔۔خود ہی انفورمیشن کلیکٹ کرنے کا بولتا ہے اور جب کرو تو واپس بلاتا ہے۔۔۔
“بات سنو۔۔۔پہلے بھی بول چکا ہوں۔۔۔اور اب بھی بول رہا ہوں۔۔۔جتنا کہوں صرف اتنا کیا کرو۔۔۔ابھی تم لڑکے۔۔۔۔فوراً واپس آؤ۔۔۔”
وہ غراکر ٹہرے ہوئے لہجے میں بولا تو تیمور لب بھینچ گیا
“آتا ہوں سر۔۔۔”
منہ بنا کر بولتے ہوئے تیمور نے کال کٹ کی پھر موبائل ڈیش بورڈ پر تقریباً پٹختے ہوئے کار ریورس کری اور واپسی کے رستے پر بھگانے لگا۔
دوسری طرف ٹرک میں بیٹھا وہ آدمی اپنی گن لوڈ کرتے ہوئے سر ٹرک کی کھڑکی سے نکالتا ہوا پیچھے شوٹ کرنے لگا مگر حیرت میں اس سے شوٹ ہی نہ کیا گیا۔۔۔جہاں تک اسے معلوم تھا۔۔۔وہ میجر اب تک تو ٹرک کا پیچھا کررہا تھا پھر اچانک کہاں گیا۔
ٹرک اپنے مقام پر آکر رکی،تو وہاں پر پہلے سے ہی ایک کار موجود تھی جس کے بونٹ سے ٹیک لگائے گرین شرٹ پر جینز کی پینٹ پہنے بلیک گوگلز لگائے یمنا دونوں بازوؤں کو باندھے کھڑی تھی۔
“ہوگیا کام تمام۔۔۔”
وہ بونٹ سے ہٹ کر اس آدمی کے پاس آتے ہوئے پوچھی جو ٹرک سے اترا تھا
“نو میم۔۔۔وہ میجر پتا نہیں اچانک کہاں غائب ہوگیا۔۔۔۔”
شرمندگی سے اس آدمی نے کہا
“آر یُو میڈ۔۔۔طاہر علوی نے تمہیں اس لیے کام میں رکھا تھا کہ ایک بھی نشانہ نہیں چُوکتا تمہارا۔۔۔اور یہ کیا تم نے۔۔۔۔ایک انسان کو مار نہیں سکے۔۔۔”
وہ چشمہ اتارتے ہوئے غصے میں اسے جھڑکی
“سوری میم۔۔۔”
وہ سر جھکائے بولا
“سوری مائے فُٹ۔۔۔ایڈیٹ اور اچانک وہ جائے گا کہاں یہ بتاؤ۔۔۔اچھا خاصہ تو پیچھا کررہا تھا ٹرک کا۔۔۔”
یمنا کو جیسے برداشت نہیں ہورہا تھا تیمور کا بچ نکلنا
“پتا نہیں میم۔۔۔میں خود حیران۔۔۔”
“جسٹ شٹ اپ۔۔۔”
وہ اسکی بات کاٹتے ہوئے بھڑکی تھی ساتھ ہی غصے میں جاکر کار میں بیٹھی اور زن سے کار بھگا لے گئی۔
“ایک بار بچ سکتے ہو۔۔۔ہر بار تو نہیں بچ سکتے نا میجر۔۔۔”
وہ تپ کر سوچتے ہوئے فُل سپیڈ میں ڈرائیو کر رہی تھی۔