No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
ازقلم۔اریبہ شاہد
قسط نمبر 9
مجھے تم سے محبت ہے
ہمم شاہ کار اترا اور دانین کو آنکھ ماری اور اندر چلا گیا ۰۰۰۰۰۰
دانین حیران سی اسے جاتا دیکھنے لگی۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
کھانے سے فارغ ہوئے تو چائے کا دور چلا شاہ ذر شانزے کے ماما بابا کے ساتھ باتیں کر رہا۔تھا اور شانزے سمرا دانین اپنا۔گروپ بنائے بیٹھی تھی ۰۰۰۰۰۰
تم۔لوگوں کو ایک راز کی بات بتاؤ لیکن وعدہ کرو کسی کو نہیں بتاؤ گے دانین نے کہا۰۰۰۰۰۰۰
بتاؤ مجھے راز رکھنے آتے ہیں شانزے نے کہا۰۰۰۰۰۰
بس زیادہ جہان سکندر بننے کی ضرورت نہیں ہیں دانین نے اسے ڈپٹا۰۰۰۰۰
اچھا بتاؤ بھی سمرا بولی۰۰۰۰۰۔
مجھے محبت ہوگئی ہیں دانین نے آنکھیں میچ کر کہا۰۰۰۰
جہان سکندر سے شانزے بولی ۰۰۰
دانین نے اسے گھورا ۰۰۰
ارے شاہ ذر سے دانین نے شاہ کی طرف اشارہ کیا۰۰۰۰۰
شانزے اور سمرا نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ذور ذور سے ہنسنے لگی۰۰۰
ہنس کیوں رہی ہو دانین نے حیرت سے انہیں دیکھا۰۰۰۰۰۰
اس میں راز کی کیا بات تھی یہ تو۔ہمیں پتہ ہیں یاد نہیں ہم نے ہی تجھے بتایا تھا سمرا نے ہنستے ہوئے کہا۰۰۰۰۰۰
بدتمیز ہو تم لوگ میرا مذاق اڑا رہے ہو دانین نے منہ بنایا (وہ ہمیشہ ہی ایسے کرتی تھی پھر۔خود منہ بنا کر بیٹھ جاتی تھی )۰۰۰۰۰۰
تم نے جھوٹ کیوں کہا ہاں میں کب کہا تمہیں کہ شانزے نے صرف مجھے بلایا ہے ہاں دانین نے واپسی پر شاہ ذر کی خبر لی……
شاہ ذر خاموش رہا……..
تم کچھ بول کیوں نہیں رہے جواب دو اسے خاموش پاکر دانین پھر سے بولی….
تم سے خاموش نہیں رہا جاتا کیا ہر وقت فضول بولتی رہتی ہو چپ کر کہ بیٹھ جاوُ ورنہ گاڑی سے باہر پھینک دونگا شاہ نے جھنجھلا کر کہا…..
تمہیں کریلے پسند ہیں دانین نی سنجیدگی سے کہا…..
اب کریلے کہاں سے آگئے بیچ میں؟
شاہ ذر نے گاڑی کو بریک مارا…..
کریلے تمہیں بہت ہی پسند ہوگے نہیں میرا مطلب ہیں اتنی کڑوی کڑوی باتیں کرتے ہو بلکل کریلے کی طرح تو تمہیں کریلے بہت پسند ہوگے نہ دانین نے کہا…..
تم اتنی فضول باتیں کیسے کرلیتی ہو شاہ ذر نے اسے گھورا ……..
جس طرح تم کڑوی باتیں کر لیتے ہو دانین نے شانے اچکائے …….
اففففف یہ خود تو پاگل ہے مجھے بھی کردےگی شاہ نے اسٹرینگ پر سر گرایا…….
کچھ کہا تم نے؟ دانین نے آگے بڑھ کر پوچھا……..
نہیں شاہ نے سر اٹھا کر کہا اور گاڑی سٹارٹ کی …….
روکو روکو روکو دانین تقریباً چلائی…..
کیا ہوا شاہ ذر نے جلدی سے گاڑی کو بریک مارا…….
وہ دیکھو سامنے دانین نے اشارہ کیا….
کیا ہے سامنے شاہ نے پوچھا…..
وہ دیکھو نہ گول گپے مجھے کھانے ہیں دانین نے چھوٹی سی بچی کی طرح کہا…….
دانین تمہارا دماغ تو جگہ پر ہے نہ میں سوچو پتہ نہیں کیا ہوگیا جو تم ایسے چیخی ڈرا دیا مجھے شاہ ذر نے غصے سے کہا………
ہاں تو اگر میں ایسے ہی کہتی تو تم رکتے کیا دانین نے منہ بنایا ……
رک ہم ابھی بھی نہیں رہے سمجھی شاہ نے سختی سے کہا……
پھر ٹھیک ہیں چلے جاوُ اکیلے دانین نے کار کا ڈور کھولا……
دانین یہ کیا بچپنا ہیں شاہ نے اسکا ہاتھ پکڑا ……
دانین نے ایک نظر اسے دیکھا پھر اپنے ہاتھ کو جو شاہ کی گرفت میں تھا ….
ہاتھ چھوڑو دانین بولی……
کیا حرکتے کرتی پھرتی ہو اب بچی نہیں ہو تم شاہ نے کہا…….
جب نہیں ہوگی نہ میں یہی سب حرکتے یاد آئے گی دانین نے جھٹکے سے ہاتھ چھڑایا اور گاڑی سے باہر آگئی….
یہ کیا بول کر گئی ایک تو مجھے اس کی ایک بات سمجھ نہیں آتی پتہ نہیں کیا کیا بولتی رہتی ہیں شاہ خود سے باتیں کرتے کرتے اس کے پیچھے گیا…..
السلام وعلیکم ماما دانین نے آتے ہوئے سلام کیا ……
وعلیکم السلام بیٹا آوُ ناشتہ کرو ثناء بیگم نے کہا ……
شاہ ذر اور بتاوُ کیا پلان ہیں تمہارا ثناء بیگم نے شاہ ذر کو مخاتب کیا…..
کیسا پلان شاہ نے حیرت پوچھا…..
ارے گھومنے جانے کا ثناء بیگم نے کہا….
اوہ اچھا شاہ نے کہا…..
جی ہاں تو بتاوُ ثناء بیگم پھر سے گویا ہوئی……
وہ ماما میں تو کہہ رہا تھا لیکن دانین نے ہی منع کردیا شاہ نے دانین کو دیکھا……
کیوں بھئ ثناء بیگم نے دانین سے پوچھا……
وہ وہ ماما بس ایسے ہی دانین نے شاہ کو گھورا ……
بدتمیز میں نے ایسا کب کہا جھوٹا انسان دانین نے دل میں شاہ کو کوسا…..
اچھا چلو تم لوگ نہیں جارہے لیکن میں تو جارہی ہوں ثناء بیگم بولی….
کہاں دونوں نے ساتھ میں کہا….
اسلام آباد بھائی کے گھر کافی وقت سے بلا رہے ہیں اب بس تم لوگوں کی شادی سے بھی فارغ ہوگئی تو میں جارہی ہوں (یہ سب تو بس بہانا تھا اصل میں وہ چاہتی تھی کہ شاہ اور دانی اکیلے میں وقت گزارے) …..
یہ تو اچھی بات ہیں آپ ہو کر آجائے پھر دانین نے مسکرا کر کہا……
اب مزا آئے گا شاہ نے دل میں کہا….
تم کہاں کھو گئے دانین نے شاہ کو ہلایا …..
کہیں نہیں شاہ نے کہا…..
ثناء بیگم کو ائیرپورٹ چھوڑ کر دانین اور شاہ واپس گھر آگئے ….
دانین ڈرامہ دیکھ رہی تھی جب شاہ نے اسے آواز دی دانین،
کیا ہے دانین نے مصروف انداز میں کہا…..
پانی لا کر دو شاہ نے کہا اور صوفے پر بیٹھ گیا…..
صبر کرو دانین بولی…
دانین ابھی جاوُ شاہ نے تھوڑا غصے سے کہا……
اب دانین کا تو فرض تھا کہ اسے مزید غصہ دلانا ورنہ اسکا کھانا ہضم نہیں ہونا تھا ……
صبر کرو صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے اب جب تم صبر کروگے نہ تمہیں پانی بھی میٹھا لگے گا دانین نے مزے سے کہا…….
دانین تم جا رہی ہو یا نہیں شاہ نے اسے گھورا……
جارہی ہوں کڑوے کریلے دانین نے منہ بنایا اور کچن میں چلی گئی……
دانین نے گلاس میں پانی نکالا تو اس کی نظر سامنے نمک کی برنی پر پڑی اس کے شیطانی دماغ میں ایک آئیڈیا آیا اس نے چمچ بھر کر نمک گلاس میں ڈال دیا اور مکس کر کہ باہر لے گئی……..
شاہ ذر کو گلاس تھما کر وہ خود بھی صوفے پر بیٹھ گئی……..
شاہ نے پانی کا گھونٹ بھرا اور کھانستے ہوئے منہ سے پانی باہر نکال دیا …..
دانین شاہ ذر چیخا …
کیا ہوا دانین نے معصومیت سے کہا…
پانی میں نمک خود نے ملایا اب پوچھ مجھ سے رہی ہو کہ کیا ہوا شاہ نے غصے سے کہا …….
میں نے تو کہا تھا صبر کر لو اب تم نے صبر نہیں کیا تو صبر کا پھل نمکین ہوگیا میری کیا غلطی دانین نے دنیا بھر کی معصومیت چہرے پہ سجائے کہا……
تم سے بات کرنا ہی فضول ہے شاہ ذر اٹھ کر چلا گیا اور دانین ہنستے ہوئے پھر سے ڈرامے میں مگن ہوگئی…….
سنو رضیہ شاہ ذر نے رضیہ کو مخاتب کیا……
جی صاحب …..
رضیہ کل تمہاری چھٹی ہے کل مت آنا شاہ ذر نے کہا……
ٹھیک ہے شکریہ صاحب جی ……..
شکریہ کی ضرورت نہیں ہے شاہ مسکرایا……..
اب مزا آئے گا شاہ شطرانہ مسکرایا……
دانین سنو شاہ ذر رات کمرے میں آیا ….
سناؤ دانین بولی…..
کل میرے کچھ دوست آرہے ہیں گھر کھانے پر ……
تو میں کیا کروں دانین نے شاہ ذر کی بات کاٹی……
کھانا بنا لینا اور جو جو آئے گا مجھے بتا دینا میں لے آوُ گا شاہ نے اپنی بات مکمل کی……
مجھے کیوں کہہ رہے ہو رضیہ کو کہو وہ بنائے گی کھانا دانین نے کہا……
رضیہ کل نہیں آئے گی اس کی امی کی طبعیت ٹھیک نہیں ہیں شاہ ذر نے جھوٹ بولا ( شاہ کو پتہ تھا دانین کام سے کتنا بھاگتی ہیں اس لیے اس نے جان بوجھ کر ایسا کیا)…..
اچھا تو پھر ہوٹل سے مانگا لینا دانین نے جھٹ سے کہا …..
وہ لوگ ہوٹل کا کھانا نہیں کھاتے شاہ نے کہا……
اچھا ٹھیک ہے دانین نے ہامی بھر لی….
سارا سامان میں لے آیا ہوں اب تم تیاری کرو ویسے بھی تمہیں بہت دیر لگے گی شاہ نے حکم دیا……
کیا مطلب تیاری کرو میں اکیلے وکیلے کچھ نہیں کر رہی چلو تم بھی دانین نے تیوری چڑھا کر کہا……
مجھے کہہ رہی ہو شاہ نے حیرت سے اپنے اوپر انگلی رکھی …..
نہیں بھوتوں سے ،تمہارے علاوہ اور کوئی ہیں یہاں دانین نے کہا….
چلو بھی اب دانین نے پھر سے کہا …..
دونوں کچن میں آگئے ….
ہاں اب مجھے پیاز کاٹ دو تم جب تک میں دوسرا کام کر لوں دانین نے کہا…..
شاہ کو مجبوراً اس کی مدد کرنی پڑی کیوں کہ وہ سب کو دعوت دے چکا تھا…….
شاہ ذرا فریج سے دہی نکال کر دینا…..
سنو مصالحہ پاس کرنا….
فریج سے چکن نکال کر دینا…..
دانین ہر پانچ منٹ بعد اسے کچھ نہ کچھ کام بتائے جارہی شاہ ایک غصے سے بھری اس پر ڈالتا اور کام میں مصروف ہوجاتا…..
اب تو وہ دل ہی دل خود کو کوس رہا تھا کہ اس نے رضیہ کو کیوں چھٹی دی اس کو سبق سیکھانے کے چکر میں وہ خود گھن چکر بن گیا تھا…….
تھوڑی نوک جھوک تھوڑا کام کرتے کرتے آخر کچھ گھنٹوں میں ان لوگوں کھانا تیار کرلیا……
آخر میں نے کھانا بنا ہی لیا دانین خوشی سے جھومی …..
میں نے شاہ نے حیرت سے کہا….
ارے میرا مطلب ہم نے دانین نے دانت دیکھائے……
