No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
ازقلم- اریبہ شاہد
قسط نمبر 2
مجھے تم سے محبت ہے
میں نے ایسا کب کہا شاہ ذر اب تک حیران و پریشان کھڑا تھا اففففف یہ لڑکی خود تو پاگل ہیں مجھے بھی کردے گی۰۰۰۰۰۰۰۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
مجھے آئسکریم کھانی ہیں ۰۰۰۰۰۰دانین اس وقت مجھے تنگ مت کرو میں کام کر رہا ہوں ۰۰۰ نہیں مجھے ابھی کھانی ہیں لے کر آئے بلکہ ایک کام کرے مجھے بھی لے چلے دانین نے لیپ ٹاپ بند کیا ۰۰۰دانین شاہ ذر چیخا ۰۰ جی وہ مصعومیت سے بولی ۰۰ دفع ہوجاؤ میں تھپڑ ماردوگا ورنہ شاہ ذر نے اسے ڈرانا چاہا ۰۰مارے دانین نے چہرہ آگے کر دیا شاہ ذر ضبط کر رہا اس کا دل تو کر رہا تھاکہ لگا دے ایک لیکن وہ کچھ سوچ کے رک گیا دانین میں لاسٹ بار کہہ رہا ہوں جاؤ یہاں سے شاہ ذر ضبط کرتا ہوا بولا
کیا ہوا کیوں غصہ ہورہا ہیں میری پیاری بہن پر آیان کمرے میں آتا ہوا بولا شاہ ذر نے ہی اسے بلایا تھا ۰۰۰
آجا ایک تیری ہی کمی تھی شاہ ذر نے کہا اور تم جاؤ یہاں سے اب اب کی بار وہ دانین کی طرف متوجہ ہوا ۰۰۰۰۰
کنجوس دانین نے منہ بنایا ۰۰۰۰کیا باتیں ہورہی ہیں ذرا ہمیں بھی بتاؤ آیان نے کہا
میں نے تو بس آئسکریم کھانے کا کہا تھا یہ بےوجہ غصّہ کررہے تھے دانین نے معصومیت سے کہا ۰۰ بس اتنی سی بات چلو دانین میرے ساتھ چلو میں کھلاتا آج اپنی بہن کو آئسکریم آیان نے مسکراتے ہوئے کہا سچی دانین نے خوشی سے چہکی ۰۰کوئ ضرورت نہیں ہیں بیٹھو تم یہاں چپ کر اور تم دانین اپنے کمرے میں جاؤ کوئی کہی نہیں جارہا شاہ ذر نے تحکم انداز میں کہا اتنے کھڑوس کیوں ہو تم دانین نے برا سا منہ بنایا شاہ ذر نے اسے گھورا ۰۰۰چل نا یار دیکھ کام تو ہوتا رہتا پلیز چل نا آیان نے اسے منانا چاہا شاہ ذر نے اسے گھورا تو آیان نے معصوم سی شکل بنائ شاہ ذر نے اسے گھورا اور کار کی چابی اٹھائ اور باہر نکل گیا جس کا۔مطلب تھا جلدی باہر آؤ میں انتظار کر رہا ہوں شکر اب چلے۔جلدی صاحب کا موڈ بدلنے میں دیر نہیں لگتی دانین نے آیان سے کہا اور۔دونوں باہر نکل گئے ۰۰۰۰
آیان بھا۰۰۰۰۰دانین خاموش ایک لفظ بھی بولا نا گاڑی سے اتار دونگا شاہ ذر نے دانین کی بات کاٹتے ہوئے کہا۰۰۰۰۰کھڑوس دانین نے آہستہ سے کہا اور باہر بھاگتے نظارے دیکھنے لگی۰۰۰۰۰
میں نے تو سوچا تھا کہ گھر کی بچی گھر۔میں ہی آجائے گی لیکن شاہ اور دانی کی آپس میں بلکل نہیں بنتی بچپن میں تو۔مجھے لگتا تھا چھوٹے ہیں ابھی بڑے ہو کر ٹھیک ہوجائے گے لیکن اب تو ناممکن لگتا ہیں شاہ ذر تو کبھی نہیں مانے گا دانین سے شادی کے لیے سوری یوسف ہوسکتا ہیں میں۔آپکی خواہش پوری نا کر پاؤ وہ اپنی سوچوں میں گھوم تھی گاڑی کے ہارن کی آواز سے وہ سوچوں سے باہر آئ لگتا ہے یہ لوگ آگئے ایک کام کرتی ہوں میں آیان سے بات کر کے دیکھتی ہوں ہوسکتا ہیں بات بن جائے ہاں یہ ٹھیک رہے گا ۰۰۰۰۰۰۰اچھا بھائ میں چلتا ہوں امی انتظار کر۔رہی ہوگی آیان نے کہا رک جائے چائے پی لے پھر چلے جائیے گا دانین نے کہا تو آیان ہنسنے لگا ابھی آئسکریم کھا کر آئے ہے اور اب چائے ۰۰۰۰ارے ہاں میں بھول گئ دانین نے اپنے سر پر ہاتھ مارا ۰۰۰ ارے آگئے تم لوگ آجاؤ اندر آیان بیٹا ثناء بیگم نے کہا ۰۰۰۰السلام وعلیکم آنٹی کیسی ہیں آپ آیان نے کہا۰۰۰وعلیکم السلام بیٹا میں ٹھیک الله کا کرم ہیں اندر آجاؤ ثناء بیگم نے کہا نہیں آنٹی پھر کبھی ابھی میں بس۔نکل ہی رہا تھا۔امی پریشان ہوگی آیان نے کہا چلو۔ پھر۔ضرور آنا مجھے ایک کام میں۔تم۔سے ثناء بیگم نے کہا ٹھیک ہیں پھر۔میں کل آتا۔ہوں اللہ حافظ
۰۰۰اللہ حافظ ۰۰۰۰۰۰
بیٹا آرام سے کھاؤ ناشتہ بھاگا۔نہیں جارہا ثناء بیگم نے دانین کو کہا ۰۰۰ ماما ناشتہ نہیں بھاگ رہا لیکن اگر۔میں نے جلدی ناشتہ نہیں کیا آپکا وہ کھڑوس بیٹا ضرور مجھے چھوڑ کر بھاگ جائے گا دانین نے جوس کا گلاس ختم کیا ۰۰۰۰انہیں باتوں پر۔وہ ناراض ہوتا ہیں تم سے ثناء بیگم نے دانین کے کان کھینچے آآآ ماما سچ تو۔کہہ رہی ہوں ویسے اب ایک بات بتائے آپ اور بڑے بابا تو اتنے سوئیٹ ہیں یہ کس پر چلا گیا دانین نے عجیب سا منہ بنا کر کہا ۰۰۰ اففف یہ لڑکی نہیں سدھرے گی ابھی سنا نہ اس نے پھر دیکھنا۔کتنا غصہ ہوگا ۰۰۰ہوتا رہے دانین نے شانے اچکائے ۰۰ چلو شاہ ذر بھی آگیا آؤ۔بیٹا ناشتہ کرلو ۰۰نہیں ماما مجھے دیر ہورہی ہیں میں آفس میں ہی کر لونگااللہ حافظ ماما دانین نے اپنا بیگ اٹھایا اور اسکے پیچھے بھاگی اللہ حافظ ۔۔کیا ہوگا ان دونوں کا میں آیان کو کال کرتی ہوں یہاں سے ہوتا ہوا آفس۔چلا جائے ۰۰۰
میں نے تمہیں کہا تھا نہ خان بابا کے ساتھ جایا کرو شاہ ذر اسے اپنے پیچھے آتے دیکھ کر کہا تمہیں اپنے ساتھ لے جانے میں کیا ہیں اور ابھی کوئ بحث مت کرنا میں لیٹ ہورہی ہوں جلدی چلو ورنہ میں ماما کو۔بول رہی پھر۔انکو جواب خود دینا دانین گاڑی میں بیٹھتی ہوئ بولی شاہ ذر کو غصہ تو بہت آیا لیکن وہ ضبط کرگیا کیونکہ اسے دیر ہورہی تھی اگے آکر بیٹھو میں تمہارا ڈرائیور ۔نہیں شاہ ذر نے کار میں بیٹھتے ہوئے کہا۔دانین بھی خاموشی سے آگے آکر بیٹھ گئی سارے راستہ خاموشی سے گزرا دانین کا کالج آیا تو وہ اتر۔کر چلی گئی اور۔شاہ ذر آفس چلا گیا۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
ناممکن آنٹی شاہ ذر کبھی اس رشتے کے لیے راضی نہیں ہوگا اسے دانین بلکل نہیں پسند اور جس کے ساتھ وہ کچھ دیر رہنا پسند نہیں کرتا اس کے ساتھ پوری زندگی گزرنا۔ناممکن ہیں آیان نےکہا۰۰بیٹا تم بات کر کے دیکھو ہوسکتا ہیں مان جائے یوسف کی بہت خواہش تھی کہ دانین شاہ ذر کی دلہن بنے ثناء بیگم بولی۰۰۰۰آنٹی میں سمجھ رہا آپکی بات لیکن آپ جانتی تو ہیں اسے آیان نے کہا ۰۰۰میں پھر۔بھی کوشش کرونگا ہو سکتا ہیں بات بن جائے آپ پریشان مت ہو آیان نے ثناء بیگم کا۔اداس چہرہ دیکھ کر تسلی دی ۰۰۰شکریہ ثناء بیگم مسکرا دی ۰۰۰شکریہ کی ضرورت نہیں آنٹی اور اب میں چلتا۔ہوں شاہ کی کالز آرہی ہیں آیان نے فون چیک کرتے ہوئے کہا۰۰۰ٹھیک ہیں اللہ حافظ بیٹا ۰۰۰اللہ حافظ آنٹی۰۰۰۰
باقی اگلی قسط میں انشاءاللہ ۰۰۰۰۰
