No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
ازقلم۔اریبہ شاہد
قسط نمبر 7
مجھے تم سے محبت ہے
ٹھیک ہیں اور ہاں کل آیان کے ساتھ جاکر تم۔بھی اپنی شاپنگ کرلینا ثناء بیگم نے کہا تو۔شاہ تابعداری سے سر۔ہلاتا۔چلا گیا۰۰۰۰
____________________________,
ہر طرف گہما گہمی تھی آج شاہ اور دانین کی شادی تھی سب۔مہمان آچکے تھے ہر۔کوئی اپنے اپنے کام میں مصروف تھا ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
ماما بابا آج آپکی کمی بہت محسوس ہورہی ہیں آج میری زندگی کا۔اتنا بڑا دن ہیں اور آپ لوگ میرےساتھ نہیں کوئی تو میرے پاس رک جاتا دونوں چلے گئے مجھے اکیلا کردیا مس یو ماما۔بابا مس۔یو سو مچ دانین خضر صاحب اور انیلا بیگم کی تصویر سے باتیں کر رہی تھی اور روتی جارہی تھی اور روتے روتے کب سوگئی اسے پتہ ہی نہیں چلا ۰۰۰۰۰۰۰
دانین دانین بیٹا شانزے اور سمرا آئی ہیں انکے ساتھ پالر چلی جاؤ ثناء بیگم کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا دانین صوفے پر لیٹی ہاتھ میں فوٹو فریم لیے سورہی ہیں ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
دانین،ثناء بیگم نے آہستہ سے کہا اور آرام سے فوٹو فریم دانین کے ہاتھ سے نکالا دانین کی نیند کچی تھی اس لیے وہ ایک دم سے اٹھ گئی اور ثناء بیگم کو۔سامنے دیکھ کر انکے گلے لگ کر رونے لگی ۰۰۰۰ماما ،ماما۔بابا۔مجھے کیوں چھوڑ کر چلے گئے دانین۔روتے ہوئے بولی ۰۰۰بیٹا اللّٰہ کی چیز۔تھی اللّٰہ نے واپس لے لی ویسے بھی سب کو اس کے پاس جانا ہیں ثناء بیگم نے اس۔کے آنسو پونچھے ۰۰۰۰۰۰تو وہ مجھے بھی لے جاتے دانین نے کہا۰۰۰۰بیٹا ایسی باتیں نہیں کرتے اور وہ نہیں تو کیا۔ہوا میں تو۔ہوں نا اور مجھے پتہ ہیں میں تمہارے ماما بابا کی کمی تو پوری نہیں کر۔سکتی لیکن ہمیشہ تمہیں اپنی سگی اولاد کی طرح چاہا ہیںثناء بیگم کی آنکھیں بھی نم ہوگئی ۰۰۰۰۰دانین کافی دیر ایسے ہی بیٹھی ان کے پاس روتی رہی ثناء بیگم نے بھی اسے رونے دیا کیونکہ رونے سے دل ہلکا ہوتا ہے۰۰۰۰۰۰۰
چلو اب چپ ہوجاؤ فریش ہوجاؤ پھر پالر بھی جانا ہیں ثناء بیگم نے کہا۔۰۰۰دانین سر ہلاتی ہوئی کھڑی ہوگئی۰۰۰۰
شاہ۔ذر بھائی آپ یہاں کیا۔کررہے ہیں شانزے نے کہا وہ دونوں دانین کے کمرے میں جانے لگی تو۔باہر شاہ۔ذر کو کھڑا دیکھ کر پوچھا۰۰۰۰۰۰وہ میں ماما کو بلانے آیا تھا شاہ۔نے جلدی سے کہا ۰۰۰۰ارے کہہ دے دانین سے ملنے آئے تھے سمرا نے شرارت سے کہا۰۰۰۰ارے نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں ہیں اچھا میں چلتا۔ہوں۔شاہ نے کہا اور اپنے کمرے میں چلاگیا۰۰۰۰چلو ہم۔تو۔چلے شانزے نےہنستے ہوئے کہا۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰دانین تمہاری سہلیاں آگئی ہیں جلدی کرو ثناء بیگم نے کہا ۰۰بیٹا۔تم دونوں اس۔کو۔لے جانا میں اور کام دیکھ لوں ثناء بیگم نے کہا۔اور کمرے سےنکل گئی ۰۰۰۰
کیسی ہو دانین فریش ہوکر آئی تو۔سمرا نے۔پوچھا ۰۰۰ٹھیک دانین۔بس۔اتنا ہی بول پائی ۰۰۰سمرا اور شانزے سمجھ گئی تھی کہ دانین رو۔رہی تھی ۰۰۰۰۰۰۰اوئے ایک مزے کی بات بتاؤ سمرا نے اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے کہا ۰۰۰۰ہاں دانین بولی ۰۰۰پہلے یہ رونا ختم کرو سمرا بولی ۰۰۰۰نہیں رو رہی میں دانین نے چہرہ جھکا کر کہا ۰۰۰۰ اچھا ادھر دیکھو سمرا نے اسکا چہرہ اٹھایا تو یہ کیا ہے ۰۰۰۰۰سمرا کتنا اچھا ہوتا ماما بابا بھی ہوتے یہاں دانین کی۔ہچکیاں بندھ گئی ۰۰۰سمرا اور شانزے اسے کبھی اس طرح روتا نہیں دیکھا ۰۰۰۰ہم ہیں نہ تمہارے پاس میری جان ایسے نہیں روتے ان کو تکلیف ہوگی سمرا نے اسے گلے لگایا ۰۰۰۰اچھا ادھر دیکھو کیا تم چاہتی ہو کہ انکو تکلیف ہو شانزے نے کہا تو دانین نے نفی میں سر ہلایا ۰۰۰تو پھر چپ ہوجاؤ ۰۰۰۰تمہیں پتہ ہے ابھی ہم تمہارے کمرے میں آرہے تھے نہ تو شاہ بھائی کھڑے تھے کمرے کے باہر شانزے نے بتایا۰۰۰کیوں دانین نے پوچھا ۰۰۰ہم۔نے پوچھا تھا بتایا نہیں سمرا بولی۰
۰ارے دلہن سے ملنے آئے ہوگے شانزے نے کہا۰۰۰۰کچھ بھی بولتی ہیں دانین ہنس دی ۰۰۰شاہ ذر بھائی کے نام پر چہرے کا رنگ ہی بدل گیا اور اتنی دیر سے ہم چپ کروا رہے تھے تو میڈم کے آنسو نہیں رک رہے تھے سمرا نے کہا۰۰۰۰۰چلو اب یار دانین نے ہنس کر کہا۰۰۰ کہاں شانزے بولی ۰۰۰پالر دانین بولی ۰۰۰کیوں شانزے بولی ۰۰۰۰میری شادی ہے آج یار دانین نے کہا ۰۰تو ہم کیا کرے شانزے نے ہنسی روکی۰۰۰نہیں کرو تنگ دانین نے معصوم شکل بنائی۰۰۰۰اچھا چلو شانزے بولی ۰۰۰
نکاح کےبعد دانین اور شاہ ذر اسٹیج پر بیٹھے تھے دانین گہرے سرخ کامدانی لہنگے میں خوبصورتی کا شاہکار لگ رہی تھی اوپر سے بیوٹیشن کا خوبصورتی سے کیا میک اپ اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہا تھا۰۰۰۰۰اور شاہ ذر بھی گولڈن شیروانی میں بالوں کو سلیقے سے سیٹ کیے بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۰۰۰
رخصتی کا وقت آیا تو آیان نے قرآن کے سائے میں دانین کو رخصت کیا گھر آکر شانزے اور سمرا اسے شاہ کے کمرے میں بیٹھا گئی تھی۰۰۰۰۰
افف اللّٰہ کتنا بھاری ہیں یہ پتہ نہیں کیا پہنا دیا ہیں اوپر سے یہ کھڑوس پتہ نہیں کہاں ہیں دانین بیڈ پر بیٹھی شاہ کا انتظار کر رہی تھی پھر وہ اٹھی اور کمرے میں ٹہلنے لگی اتنے کلک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا اور شاہ ذر اندر آیا دانین ایک نظر اسے دیکھا اور نظرے جھکا گئی ۰۰۰شاہ ذر نے دانین کو دیکھا تو نظر ہٹانا بھول گیا وہ واقع بہت خوبصورت لگ رہی تھی دانین شاہ کی نظریں خود پر محسوس کر کے شرما گئی شاہ ہوش میں آیا تو سیدھا ڈریسنگ روم میں چلا گیا کچھ دیر بعد باہر آیا اور بیڈ پر آکر لیٹ گیا دانین تم بھی چینج کرلو اور سوجاؤ بہت دیر ہوگئی ہیں شاہ نے کہا
۰۰۰کیا اور میری منہ دیکھائی دانین جو اتنی دیر سے اچھی بچی بنی ہوئی تھی پہلے والی دانین بن گئی ۰۰۰۰اتنی دفعہ تو تمہیں دیکھا ہیں کیسی منہ دیکھائی، منہ دیکھائی تو ان کو دیتے ہیں جن کو دیکھا نہ ہو شاہ نے آرام سے کہا۔۰۰۰۰یہ کہاں لکھا ہے دانین نے کمر پر ہاتھ رکھ کر کہا ۰۰۰میری کتاب۔میں شاہ نے کہا۰۰۰۰اور تم نے کب سے کتابیں لکھنی شروع کی دانین نے اسے گھورا ۰۰۰بس ابھی سے شاہ نے کہا اور کروٹ لے کر لیٹ گیا ۰۰۰تمہیں اللّٰہ پوچھے گا دانین نے چڑ کر کہا اور ڈریسنگ روم میں جانے لگی تھی کہ شاہ ذر کی آواز آئی سب کو اللّٰہ ہی پوچھے گا ۰۰۰اففف دانین پیر پٹختی چلی گئی جب وہ باہر آئی تو دیکھا شاہ ذر صاحب پورے بیڈ پر پھیلے سورہے ہے شاہ ذر اٹھو دانین نے اسے ہلایا ۰۰۰کیا ہوا شاہ نے اٹھ کر کہا اصل میں وہ جاگ رہا تھا بس سونے کا ناٹک کررہا تھا۰۰۰کیا مطلب کیا ہوا سونا ہے مجھے جگہ دو دانین نے دانین نے غصے سے کہا۰۰۰۰شاہ ذر نے اسے ایک تکیہ اور چادر پکڑا دی اور پھر سے لیٹ گیا ۰۰۰دانین کبھی چادر اور تکیے کو دیکھتی تو کبھی شاہ کو کیا ہے یہ دانین نے اسے پھر سے ہلایا ۰۰۰۰تکیہ اور چادر شاہ نے آرام سے کہا ۰۰۰مجھے بھی پتہ ہیں میں یہ پوچھ رہی ہوں یہ مجھے کیوں دیا دانین نے دانت پیس کر کہا ۰۰ارے تم نے تو کہا تمہیں سونا ہے شاہ اٹھ کر بیٹھ گیا ۰۰ہاں تو دانین بولی ۰۰تو یہ مجھے عادت نہیں کہ میں اپنا بیڈ کسی کے ساتھ شئیر کروں اس لیے وہ رہا صوفہ جاؤ اور سوجاؤ شاہ نے صوفے کی طرف اشارہ کیا ۰۰۰اور پھر سے لیٹ گیا ہیں۰۰۰۰ کھڑوس شرم نہیں آتی ایک دن کی دلہن کے ساتھ ایسا کرتے ہوئے دانین کو پتہ تھا اب بحث فضول ہیں اور رات بھی بہت ہوگئی ہے تو وہ خاموشی سے جاکر لیٹ گئی تمہیں تو میں صبح پوچھوں گی۰۰۰۰۰۰
اب تم سے میں تمہاری ہی طرح نپٹوں گا بہت ستا لیا تم نے اب تمہاری باری شاہ سوچتا سوچتا سوگیا ۰۰۰۰۰۰۰۰۰
