No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
ازقلم۔اریبہ شاہد
قسط نمبر 4
مجھے تم سے محبت ہے
۰ ٹھیک ہیں دانی نے اثبات میں سر ہلایا ۰۰۰۰۰
السلام وعلیکم دانین نے گھر میں گھستے ہی سلام کیا۰۰۰ وعلیکم السلام کیسی ہوآیان جو لاونج میں بیٹھا تھا دانین کو دیکھ کر کھڑا ہوگیا ۰۰۰میں ٹھیک آپ سنائے آپ کب آئے دانی نے پوچھا ۰۰ میں بھی ٹھیک بس ابھی ابھی آیا ہو آیان نے جواب دیا۰۰۰ آپ شاہ ذر کے ساتھ آئے ہو دانی نےپھر سوال کیا ۰۰ نہیں شاہ ذر میرے ساتھ آیا ہے آیان نے ہنس کر کہا ۰۰ اچھا۔ماما کہا ں ہیں دانی بھی ہنس دی ۰۰ اففف لڑکی اتنے سوال آیان نے اسے گھورا ۰۰ہاہاہاہاہاہا ۰۰۰آنٹی اوپر ہیں۔اب سوال بعد میں کرنا۔جاؤ فریش ہوجاؤ آیان نے کہا۔تو وہ سر ہلاتی ہوئ کمرے میں چلی گئ۰۰۰
شاہ ذر کھڑکی کے پاس کھڑا اپنے غصے کو قابو پانے کی کوشش کر۔رہا تھا جب دروازہ بجا ۰۰۰مجھے کسی سے بات نہیں کرنی ہیں شاہ ذر نے کہا ثناء بیگم کو بھی ابھی بات کرنا مناسب نا لگا اچھا آکر کھانا کھاؤ ثناء بیگم نے رات کو۔بات کرنے کا۔ارادہ کر کے شاہ ذر کو نیچے آنے کا کہا ۰۰مجھے بھوک نہیں شاہ ذر نے کھڑکی سے باہر۔دیکھتے ہوئے کہا شاہ ذر میں نے کہا نا۔نیچے آؤ ثناء بیگم تھوڑی سخت۔ہوئی ۰۰ آپ چلے میں آرہا ہوں شاہ ذر نے کہا ۰۰اوکے جلدی ثناء بیگم نے کہا۔اور کمرے سے نکل گئ۰۰۰۰۰۰۰۰۰دانین اپنے کمرے سے نکلی اور نیچے جانے لگی تو۔اسے۔شاہ۔ذر۔کا خیال آیا نا چاہتے ہوئے بھی اسکے قدم اس کے کمرے کے جانب بڑھ گئے ۰۰شاہ ذر کے کمرے کا۔دروازہ تھوڑا۔سا کھولا تھا وہ اندر جانے کہ بجائے باہر چھپ کر۔اس۔کو دیکھنے لگی شاہ۔ذر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا چونکہ دروازہ ڈریسنگ کے سامنے تھا تو شاہ ذر نے دانین کو کمرے میں جھانکتے دیکھ لیا اسکے بالوں میں۔چلتے ہاتھ رک گئے تم یہاں کیا کر رہی ہو شاہ ذر پیچھے مڑا دانین کو اپنی جان نکلتی ہوئ محسوس ہوئ جیسے کوئ چوری پکڑی گئ ہو وہ جانے کے لیے مڑی ۰۰رکو شاہ۔ذر اس کے مقابل آکر کھڑا ہوگیا ۰۰جی دانین نے پیچھے مڑ کر تابعداری سے کہا جیسے وہ اسکی ساری باتیں مانتی ہو ۰۰ کیا کر رہی تھی یہاں شاہ۔ذر کو اسے دیکھ کر پھر۔سے سب یاد آگیا۔اور۔وہ ناچاہتے بھی سخت ہوگیا ۰۰۰وہ میں وہ دانین کو۔سمجھ نہیں آیا وہ کیا بولے پہلے تو کبھی ایسا۔نہیں ہوا تھا۔اسکے ہر سوال کا جواب ہوتا تھا۔اسکے پاس آج نا جانے کیا ہو گیا تھا وہ دل ہی دل میں خود۔کو۔ملامت کرنے لگی۰۰۰۰بولو چپ کیوں ہو اسے خاموش دیکھ کر شاہ ذر کو اور غصہ آیا ۰۰۰ میں۔یہاں۔سے گزر۔رہی تھی تو بس۔آگئ کیوں نہیں آسکتی صرف تمہارا۔گھر ہیں کیا دانین واپس پہلے والی دانین بن گئ اسے خود۔بھی نہیں پتہ تھا۔وہ یہاں کیوں آئ ۰۰۰یہ میرا۔کمرہ ہیں آئندہ یہاں۔نظر۔مت آنا۔سمجھی شاہ نے غصےسے کہا میں تو آؤنگی وہ ڈھٹائ سے بولی اور یاد آیا مجھے لینے کیوں نہیں آئے دانین یاد آنے پر بولی ۰۰۰میں تمہارا۔نوکر۔نہیں ہوں اور دفع ہوجاؤ میرے کمرے سے شاہ ذر نے دانین۔کا ہاتھ پکڑ کر۔کمرے سے باہر کر۔دیا اور پھر۔سے خود کو نارمل کرنے لگا ۰۰۰۰عجیب انسان ہیں یہ کھڑوس ہائے اللہ میرا ہاتھ توڑ دیا ڈیش نے پتہ نہیں انسان یا حیوان دانین نے اپنا ہاتھ دیکھا پھر۔بند دروازہ پھر۔ذور سے دروازے پر پیر۔مارا اففف میرا پیر دانین تم بھی پاگل ہو کس نے کہا تھا دروازے پر۔مارنے کو اور کیا۔ہوگیا تھا۔کچھ دیر پہلے کیوں گئ تم اسکے کمرے میں۔اور۔کیا۔ضرورت۔تھی اسے چھپ کے دیکھنے کی ۰۰۰ہاں تو صرف اسکاگھر ہیں کیا۔میری مرضی۔جہاں جاؤ اور یہ تو مجھے بھی سمجھ نہیں آیا۔کہ مجھے کیا۔ہوگیا۔تھا دانین خود ہی سوال کر۔رہی تھی اور۔جواب بھی خود ہی دے رہی تھی۰۰۰۰۰۰۰۰۰
سب کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو آیان نے کہا۰۰۰۰۰۰
اچھا آنٹی اب میں چلتا ہوں آیان نے کہا اور کھڑا ہوگیا ٹھیک ہیں بیٹا اللہ حافظ ۰۰۰اللہ حافظ۰۰۰رک آیان میں بھی ساتھ چلوں گا شاہ ذر نے آیان کو آواز دی تو وہ رک گیا اور پھر تھوڑی دیر میں وہ دونوں آفس کے لیے نکل گئے ۰۰۰ ایم سوری یار میں اس وقت غصے میں تھا اور پتہ نہیں کیا کیا بول مجھے معاف کردے یار شاہ ذر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس نے آیان سے معافی مانگی وہ واقع اپنی کہی باتوں پر شرمندہ تھا ۰۰۰۰۰۰
