No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
ازقلم۔اریبہ شاہد
قسط نمبر 5
مجھے تم سے محبت ہے
ایم سوری یار میں اس وقت غصے میں تھا اور پتہ نہیں کیا کیا بول مجھے معاف کردے یار شاہ ذر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس نے آیان سے معافی مانگی وہ واقع اپنی کہی باتوں پر شرمندہ تھا
کیونکہ وہ اچھی طرح سے جانتا ہیں کہ آیان نے ہمیشہ دانین کو اپنی چھوٹی بہنوں کی طرح سمجھا ہیں۰۰۰اٹس اوکے یار آیان نے کہا ۰۰یار دیکھ اس کی وجہ سے ہم کیوں اپنی دوستی خراب کرے ویسے بھی سب تو چھین چکی ہیں وہ اب تو بھی دور ہورہا ہے مجھ سے اسکی وجہ سے شاہ ذر نے دکھ سے کہا۰۰۰۰ ارے یار میں کہی نہیں جارہا اور وہ کیوں دور کرے گی مجھے تجھ سے آیان نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ۰۰۰تو پکا مجھ سے ناراض نہیں نا شاہ نے آیان کو دیکھا ۰۰ارے ہاں یار نہیں ناراض میں تجھ وہ گانا ہیں نا جا تجھے معاف کیا غصے کرنے والے آیان نے ہنس کر کہا لیکن وہ گانا ایسے تو نہیں ہے شاہ نے آیان کی طرف دیکھا ارے بس اس۔ میں وہ کہتا ہیں دل توڑنے والے میں نے کہہ دیا غصہ کرنے والے آیان نے کہا اوہ اچھا شاہ نے کہا۰۰۰اوئے سن تو نے پکا مجھے معاف۔کیا نا شاہ نے کہا طبیعت تو۔ٹھیک ہیں نا تیری یہ لڑکیوں والی حرکتے کیوں کر رہا ہیں آیان نے شاہ ذر کے ماتھے پر ہاتھ رکھا ۰۰۰مطلب شاہ نے اس۔دیکھا۔۰۰مطلب یہ دس دفع پوچھ چکا ہیں معاف کردیا نا پہلے تو کبھی معافی نہیں مانگی آیان نے آئبرو اچکا کر ۔کہا ۰۰۰ارے وہ بس ایسے ہی شاہ ہنس۔دیا ۰۰۰۰۰۰۰۰۰
آج ہوا کیا یہ میرے ساتھ شاہ ذر کو یوں چھپ کر دیکھنا اسے خود بھی سمجھ نہیں آیا تھا ۰۰۰اسے سمرا اور شانزے کی باتیں یاد آئ کہی سچ میں تو ایسا نہیں ہے دانین اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹی چھت کو گھور رہی تھی اور ساتھ ساتھ دن والے واقعے کے بارے میں سوچ رہی تھی ۰۰۰نہیں یہ کیا سوچ رہی ہوں میں ایسا نہیں ہوسکتا یہ دونوں بھی پاگل ہے کچھ بھی بولتی ہیں ۰۰۰دانین کیا ہوگیا ہے تمہیں کیوں سوچ رہی ہو اسکے بارے میں دانین اٹھ کر بیٹھ گئ لیکن اگر سچ۔میں ایسا ہوا تو دانین نے ہاتھوں میں سر۔گرا لیا—————–
کس مشکل میں ڈال دیا ان۔دونوں نے ۰۰نہیں ایسا نہیں ہوسکتا وہ بس اچانک سے۔ہوگیا اور مجھے شاہ کب۔اچھا۔لگتا ہے لیکن اگر۔ماما نے۔کہا۔تو میں۔منع نہیں۔کر پاؤنگی اففف۔کیا مصیبت ہیں دانین گرنے والے انداز میں۔بیڈ۔پر لیٹ گئ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
شاہ ذر اپنے کمرے میں بیٹھا کام کر۔رہا تھا۔تو دروازہ بجا۰۰۰آجائے۰۰۰۰ارے ماما آپ اس وقت کوئ کام تھا مجھے بتا۔دیتی میں۔آجاتا شاہ گھڑی دیکھتا ہوا بولا ۰۰۰بیٹا مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہیں لیکن تم وعدہ کرو تم غصہ نہیں کروگے اور میری بات تحمل سے سن کر سوچ کر فیصلہ کروگے ثناء بیگم بولی ۰۰۰ماما جو بات آپ کرنے آئ ہیں اس کا۔فیصلہ میں پہلے ہی کر۔چکاہوں اور مجھے اس بارے میں اور۔کوئ بات نہیں کرنی ہیں شاہ ذر۔نے۔دو ٹوک انداز۔میں۔کہا ۰۰۰بیٹا دانین بہت پیاری بچی ہیں بس۔تھوڑی نادان ہیں شادی کے بعد ٹھیک ہوجائے گی تم جلد بازی میں فیصلہ مت کرو ثناء بیگم نے اسے سمجھایا۔۰۰۰۰ہاں وہی تو اچھی ہیں بچپن سے لے کر آج تک یہی تو۔سنتا۔آرہا ہوں دانین ایسی دانین ویسی دانین کو۔یہ پسند ہیں ارے یہ نہیں کرنا۔دانین ناراض ہوجائے گی ہر وقت دانین دانین دانین میں تو۔کہی ہوں ہی نہیں مجھے کیا۔پسند۔ ہے کیا۔نا پسند ہے اس۔بات سے کسی کو فرق نہیں پڑتا شاہ ذر مانو پھٹ پڑا تھا ثناء بیگم حیران سی اسے دیکھ رہی تھی نہیں بیٹا ایسا۔بلکل نہیں ہیں تم غلط سوچ رہے ہو ثناء بیگم نے کہا نہیں ماما ایسا۔ہی ہیں ابھی بھی آپ یہی کر رہی ہیں اگر ابھی میری جگہ وہ ہوتی تو۔آپ اسکی بات مان لیتی اور۔نہیں کرتی یہ رشتہ شاہ۔ذر کے لہجے میں دکھ تھا ۰۰بیٹا تم دونوں میرے لیے برابر ہو اور یہ رشتہ تو۔بچپن سے طے تھا تمہارے بابا اور چاچو۔ کی خواہش تھی یہ میں تو بس انکی آخری خواہش کو پورا کرنے چلی تھی۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اگر۔تم نہیں کرنا۔چاہتے دانین سے شادی تو ٹھیک ہیں نہیں کرو میں زبردستی دستی نہیں کرونگی لیکن شاہ خدا۔کا واسطہ ہیں اپنی ماں کی محبت پر شک نہیں کرو۔ایسا نہیں ہیں جیسا تم سوچتے ہو ثناء بیگم رو۔دینے کو۔تھی ۰۰۰ایم سوری ماما۔مجھے معاف کر دے آپ چاہتی ہیں نا میں دانین سے شادی کروں بابا۔کی خواہش پوری کروں تو۔ٹھیک ہیں میں راضی ہوں دانین سے شادی کے لیے شاہ۔ذر نے ثناء بیگم کے آنسو پونچھے ۰۰۰دانین نیچے جارہی تھی جب وہ شاہ ذر کے کمرے کے پاس۔سے گزری تو۔شاہ۔ذر کے آواز پر حیران رہ گئی اور نیچے جانے کے بجائے واپس۔اپنے کمرے میں بھاگی ۰۰۰کیا جو میں نے ابھی ابھی سنا۔وہ واقعی سچ ہیں دانین کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا ۰۰۰۰۰۰۰۰
بڑی خوش نظر آرہی ہو خیر ہے اگلے دن جب دانین کالج گئ تو اسے خوشی سے چہکتا دیکھ کر۔سمرا نے وجہ جاننی چاہی۰۰۰ہاں۔خیر ہے دانین مسکرا کر۔بولی چل اب بتا بھی دے شانزے نے کہا۔تو۔دانین نے ساری بات بتا۔دی ۰۰۰اوووو۔تو۔یہ وجہ ہیں شانزے میں کہتی تھی نا۔یہ شاہ ذر بھائ سے محبت کرتی ہیں دیکھ ذرا اسکو کل تک کیا کہہ رہی تھی اور۔آج چہرے کی لالی دیکھو سمرا نے اسے چھیڑا ۰۰۰بدتمیز میں تو بس اس لیے خوش۔ہوں کہ مجھے رخصت ہو کر کہی جانا۔نہیں پڑے گا۔ہمیشہ اپنی ماما۔کے ساتھ رہوگی دانین نے جلدی سے بات۔بنائ ۰۰۰سچی سمرا نے سچی کو۔لمبا کھینچا ۰۰۰مچی دانین نے بھی ویسے ہی کہا۰۰۰۰اوہ بس کر ڈرامے باز اچھے سے جانتے ہیں تجھے شانزے نے اسکے سر۔پر۔بوک ماری ۰۰۰۰ہاہاہاہاہاہاہا دانین ہنسنے لگی ۰۰۰ارے تم لوگوں کو پتہ ہیں کل کیا ہوا۔دانین بولی۰۰۰ ہوا۔تیرے ساتھ ہیں ہمیں کیسے پتہ ہوگا سمرا نے کہا ۰۰بتا۔رہی ہوں نا ڈیش۔دانین نے اسے ہلکا سا تھپڑ مارا ۰۰دیکھ شانزے دوست پرائی ہوگئ سمرا نے رونے کا۔ناٹک کیا۔۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
۰۰بند کر۔ڈرامے سن اب دانین نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا ۰۰۰اوکے ۰۰۰۰۰۰ہاہاہاہاہاہا لو۔بھئ اب بھائی کو چھپ چھپ دیکھنا بھی شروع سمرا۔اور۔شانزے اسکی بات سن کر۔ہنسنے لگی دانین کو افسوس ہوا کہ اس۔نے کیوں بتایا دفع ہو میں جارہی ہوں دانین اٹھ کر چلی گئی اوئے رک شانزے نے اسے آواز۔دی ۰۰نہیں تم لوگ ہنس لو سکون سے پھر آجانا۔دانین نے جل کر کہا۔۰۰ اوکے سمرا نے ہانک لگائی تو دانین اور چڑ گئی ۰۰دفع ہوجاؤ دانین نے کہا۔اور۔چلی گئی ۰۰۰۰۰۰۰
بہت اچھا فیصلہ کیا ہے تو نے آیان نے شاہ کو گلے لگایا ۰۰۰ہمم شاہ ذر بس اتنا ہی بول پایا ۰۰۰تو خوش ہیں آیان نے شاہ۔ذر سے پوچھا۰۰تجھے کیا لگتا ہے شاہ ذر نے الٹا اس سے سوال کیا ۰۰۰۰دیکھ یار شادی کے بعد سب ٹھیک ہوجائے گا تیری ساری غلط فہمی دور ہوجائے گی آیان نے نرم لہجے میں کہا۰۰امید کرتا ہوں شاہ نے آہستہ سے کہا ۰۰۰۰۰۰۰
