Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

ازقلم_اریبہ شاہد
قسط نمبر 10 سیکنڈ لاسٹ
مجھے تم سے محبت ہے
آخر میں نے کھانا بنا ہی لیا دانین خوشی سے جھومی …..
میں نے شاہ نے حیرت سے کہا….
ارے میرا مطلب ہم نے دانین نے دانت دیکھائے……


چلو اب میں تیار ہوجاوُ دانین نے کہا….
تم کیوں تیار ہوگی شاہ نے آئبرو اچکا کر پوچھا……
بھئ مہمان آرہے ہیں ایسے ہی تو نہیں جاوُنگی نہ ان کے سامنے دانین کو اس کی عقل پر شبہ ہوا…….
تم سے کس نے کہا تم ان کے سامنے جاوُ گی شاہ نے سوال کیا…..
کیا مطلب دانین کو کچھ سمجھ نہیں آیا…..
مطلب کچھ نہیں بس میں نے کہا نہ نہیں شاہ نے کہا….
وجہ بتاوُ پہلے دانین نے بضد ہوئی…..
سب لڑکے لڑکے ہیں تم کیا کرو گی ہمارے بیچ کوئی لڑکی ہوتی تو پھر ٹھیک تھا شاہ نے کہا….
تو میں کون سا تم لوگوں ساتھ بیٹھ کر باتیں کروں گی دانین بولی….
دانین دیکھو پیار سے کہہ رہا ہوں نہ کبھی تو کسی کی بات مان لیا کرو یار شاہ نے آرام سے کہا….
اوکے دانین مسکرا دی….( دانین کو اچھا لگا تھا کہ شاہ ذر اسے دوسروں کی بری نظروں سے بچانا چاہتا تھا)…..
شاہ نےسکون کی سانس لی اور مسکرا دیا……
دانین ایک گلاس پانی ملے گا شاہ نے کہا……
ہاں کیوں نہیں ابھی لاتی ہوں دانین مسکرا نے مسکرا کر کہا اور کچن میں چلی گئی……
اتنی بھی بری نہیں ہیں جتنا میں سمجھتا تھا شاہ ذر نے خود کلامی کی….
شاہ یہ تم کیا کہہ رہے ہو ہاں پھر فوراً ہی شاہ نے خود کو ڈپٹا……
تمہاری طبعیت تو ٹھیک ہیں نہ کس سے باتیں کررہے ہو دانین نے پانی کا گلاس تھماتے ہوئے کہا…..
کسی سے نہیں شاہ گڑبڑا گیا…..
اچھا دانین نے سر ہلادیا…..
دانین شاہ چیخا…..
کیا ہوا؟ دانین چہرے پر معصومیت سجائے بولی…..
یہ کیا ہیں شاہ نے گھورتے ہوئے گلاس سامنے گیا …..
پانِی ہیں یار دانین نے اس کا مزاق اڑایا…
یہ تو مجھے بھی دیکھ رہا ہیں اب کیا ملایا ہیں اس میں شاہ ضبط کرتا ہوا بولا……
کیوں میں نے تو کچھ نہیں ملایا یہ تو بس صبر کا پھل ہیں تم نے صبر کیا نہ تو یہ اس کا پھل ملا ہیں تمہیں دانین نے آنکھ ماری……
تم نہیں سدھر سکتی شاہ نے نفی میں سر ہلایا…..
دانین۔ہنسنے لگی…..


کیسی رہی تمہاری دعوت شاہ رات کمرے میں آیا تو دانین نے پوچھا…….
اچھی شاہ نے مختصر سا جواب دیا…..
کھانا کیسا لگا سب کو دانین نے پوچھا…….
بہت اچھا لگا سب تعریف کر رہے تھے شاہ نے بتایا…..
ہاں آخر بنایا کس نے تھا دانین نے فخریہ انداز میں کہا……
میں نے شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا….
جی نہیں میں دانین نے کہا….
ہاں تم کھڑی صرف چمچ گھما رہی تھی سب تو میں نے کیا شاہ نے طنزیہ کہا…
توبہ توبہ کتنا جھوٹ بولتے ہو تم دانین نے دونوں کانوں کو ہاتھ لگایا……
تم بڑی سچی ہو شاہ نے کہا…..
جی الحمداللہ دانین نے کہا……
حد ہیں ویسے شاہ نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا……
کس بات کی حد دانین نے پوچھا….
کسی کی بھی نہیں بس بات ختم دونوں نے بنایا تھا خوش شاہ نے کہا….
ہاں دانین بولی….


کہاں شاہ نے دانین کو بیڈ سے تکیہ اور چادر اٹھاتے دیکھ کر پوچھا….
سونے دانین نے کہا اور چادر تکیہ لے کر صوفے پر لیٹ گئی ……
شاہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر دانین کو آواز دی ،دانین…..
ہاں دانین نے کہا….
تم ادھر سو سکتی ہو شاہ نے سوچتے سوچتے بات مکمل کی …..
سچ بتاوُ نیند میں تو نہیں تم دانین اٹھ کر بیٹھ گئی….
شاہ کو اس کی حرکت پر ہنسی آگئی نہیں ہوں نیند میں شاہ نے کہا…..
دانین بیڈ پر آگئی…..
دانین کے دماغ کام کرنے لگا کہیں یہ اد کا کوئی پلان تو نہیں دانین نے دل دل میں سوچا……
سنو دانین نے کہا….
ہاں شاہ نے جواب دیا…..
یہ تمہاری کوئی سازش تو نہیں ہیں نہ دانین نے اپنا خدشہ ظاہر کیا….
میں سمجھا نہیں شاہ نے کہا….
نہیں میرا مطلب کہ تمہاری سازش تو نہیں نہ کہی میں سوجاوُ تم مجھے اٹھا پھینک دو یا پھر گلا دبا کے مار دو دانین نے معصومیت سے کہا…..
حد ہیں میں اتنا ظالم بھی نہیں شاہ کو حیرت ہوئی کہ وہ کیا کیا سوچتی ہیں ……
اچھا پھر ٹھیک ہیں دانین لیٹ گئی …..
تمہاری طبعیت تو ٹھیک ہیں نہ دانین نے اٹھ کر اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھا…..
دانین کیا ہوا پاگل ہوگئی ہو کیا مجھے تو تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں لگ رہی شاہ ذر کو وہ اس وقت کوئی پاگل لگی …….
نہیں نہیں اب میں ٹھیک ہوں دانین مسکرا دی اور لیٹ گئی۔…….
عجیب پاگل لڑکی ہیں شاہ اسکی حرکتوں پر ہنس دیا…….
پھر کب نیند کی دیوی ان پر مہربان ہوئی پتہ نہیں چلا……….


ماما آپ کب آئے گی اب تو اتنے دن گزر گئے ہیں دانین نے روہنسے لہجے میں کہا (وہ کبھی بھی ان سے اتنے دن تک دور نہیں رہی تھی)……
آجاوُنگی بیٹا بس کچھ دن میں ثناء بیگم نے پیار سے کہا…..
کب ایک ہفتہ ہونے والا ہیں اب تو دانین بولی……
اچھا ناراض نہ ہو میں بس ایک دو دن میں آجاوُنگی ثناء بیگم نے کہا……
پھر کچھ دیر بات کر کہ دانین نے فون بند کردیا……


وقت پھنک لگائے اڑ رہا تھا….شاہ ذر اور دانین کی شادی کو ایک مہینہ گزر ہوگیا تھا ثناء بیگم بھی اسلام آباد سے واپس آگئی تھی سب کی پہلے جیسی روٹین بن گئی تھی دانین کالج شاہ آفس اور ثناء بیگم گھر پر اکیلی ……
دانین آج کالج نہیں گئی تھی اس نے سوچا تھا وہ شاہ ذر کی پسند کا کھانا بنا کر اس کے آفس لے کر جائے گی شاہ کے آفس جانے کے بعد سے وہ تیاری میں لگی تھی ….ثناء بیگم اسے یوں خوش دیکھ کر مطمئن ہوگئی تھی اور دل ہی دل میں اسکی خوشیوں کی دعا کی….


آجکل بڑا خوش نظر آرہا تو وجہ آیان نے پوچھا…..
ہاں یار شاہ نے کہا….
آیان نے پوچھا تو شاہ نے ساری باتیں اسے بتا دی جو پچھلے ایک مہینے میں ہوئی …..
تو پاگل ہیں کیا یار آیان نے حیرت سے کہا……
کیا مطلب اس میں پاگل ہونے والی کون سی بات ہیں شاہ نے آئبرو اچکا کر پوچھا……
تجھے کیا لگتا ہیں تو یہ سب ٹھیک کر رہا ہیں ؟ تو اس کی ہی نہیں اپنی زندگی بھی برباد کر رہا ہے آیان نے کہا….
کیا بول رہا ہیں یار تو میری سمجھ سے باہر ہے اور میری پہلے ہی مرضی نہیں تھی کہ یہ شادی ہو میں نے پہلے ہی سوچ لیا تھا کہ مجھے اگر کوئی بہتر لڑکی ملی میں اس سے شادی کرلونگا شاہ نے گویا بم پھوڑا…….
تو ہوش میں ہے دوسری شادی کرے گا اگر ایسا ہی کرنا تھا تو اس کی زندگی کیوں خراب کی ہاں آیان نے غصے میں کہا……..
میں نے صرف ماما کی اور بابا کی خواہش کی وجہ سے یہ شادی کی ہیں اور کچھ نہیں شاہ کا کہا……
شاہ سوچ لے ابھی بھی وقت ہیں بعد میں ایسا نہ ہو بس پچتاوا رہ جائے آیان نے اسے سمجھایا……
یار کیا ہوگیا ہیں میں تو سمجھ رہا تھا تو دانی کے ساتھ خوش ہیں اور تو یہ سب ڈرامے کر رہا تھا اور دانین کا کیا ہوگا ہاں جو تو کہہ رہا ہیں کوئی اچھی لڑکی ملی تو تو شادی کرکے گا ……
اس نے ساری زندگی مجھے ستایا ہیں میں نے ایسا کر لیا تو کیا ہوگیا اور ہاں وہ میرے ساتھ رہنے چاہے گی تو ٹھیک ہیں ورنہ میں تلاق دے دونگا اس کو شاہ کا دل بار بار اسے منع کر رہا تھا ایسا مت کہو لیکن وہ اپنی دل کی آواز پر کان بند کیے بولتا گیا……
باہر کچھ گرنے کی آواز آئی شاہ نے نظر انداز کیا …..
شاہ ذر ہوش کر یار کہی ایسا نہ ہو اس کی قدر جب ہو جب تو اسے کھو دے آیان نے اسے سمجھایا…..
مجھے وہ چاہیے بھی نہیں یہ ایک
زبردستی کا رشتہ ہیں اور زیادہ دن قائم نہیں رہ سکتا شاہ نے کہا……
تو سچ سچ بتا کیا تو اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا کیا تجھے ذرا اس کی فکر نہیں یار اتنے دن ساتھ رہنے کے بعد کسی جانور سے بھی لگاوُ ہوجاتا ہیں کیا اتنے دن ساتھ رہنے کے بعد تجھے اس سے ذرا بھی محبت نہیں ہوئی آیان نے اس کی طرف دیکھ کر کہا…..
آیان کی بات پر شاہ خاموش ہوگیا ….
بول نہ اب کیا تو واقع خوش رہ سکے گا اس کے بغیر میں نے تجھے کبھی اس طرح خوش نہیں دیکھا جتنا پچھلے کچھ دن سے دیکھ رہا ہوں سچ بتاوُں تو مجھے لگتا ہیں تجھے اس سے محبت ہوگئی ہیں لیکن یہ تیری انا اڑے آرہی ہیں شاہ محبت میں انا کو سائیڈ رکھنا پڑتا ہیں اور شادی کوئی مزاق نہیں ہیں یار سمجھ میری بات اور کیا آنٹی تیرے اس فیصلے سے خوش ہوگی کتنا دکھ ہوگا انہیں ابھی وہ اس سب کے بارے میں نہیں جانتی جب انہیں پتہ چلے گا تو کیا گزرے گی انکے دل پر شاہ ابھی دانین تیرے پاس ہیں قدر کرلے اسکی اگر میرے اتنے سمجھانے کے بعد بھی تو اپنے فیصلے پر قائم ہیں تو ٹھیک ہیں پھر مرضی ہیں تیری سمجھانا میرا فرض تھا کیونکہ تو میرا دوستوں سے بڑھ کر ہے میں تجھے اداس ،ہارا ہوا نہیں دیکھ سکتا باقی اگے تیری مرضی تیری زندگی ہیں آیان نے اپنی بات مکمل کی …..
کمرے میں خاموشی چھا گئی شاہ سوچ میں پڑ گیا تھا جس بات کو وہ اتنے دن سے جھٹلاتا آرہا تھا وہ آج آیان نے کہہ دی تھی اسکے کانوں میں آیان کے الفاظ گونج رہے تھے کہ تجھے اس سے محبت ہوگئی ہیں…..
دروازے کی آواز نے خاموشی میں ارتعاش پیدا کی…..
کم اِن شاہ نے کہا…..
سر یہ لیں لڑکی نے ٹیفین بوکس شاہ کی طرف بڑھایا……
یہ کون لایا شاہ نے پوچھا؟
سر وہ دانین میم آئی تھی آپ کا پوچھ رہی تھی میں نے بتایا آپ اپنے کیبین میں ہے وہ چلی گئی پھر واپس آئی تو کہا کہ یہ میں آپ کو دے دوں اور سر وہ رو بھی رہی تھی لڑکی نے کہا…..
شاہ کو یاد آیا کہ تھوڑی پہلے کچھ گرنے کی آواز آئی وہ سمجھ گیا کہ اس وقت باہر دانین تھی اور وہ سب سن چکی ہیں………
اوہ شیٹ شاہ نے کہا……
تم جاوُ اپنا کام کرو آیان نے کہا تو وہ لڑکی اثبات میں سر ہلاتی چلی گئی…..
شاہ ذر تو نے اچھا نہیں کیا آیان کہتا ہوا کمرے سے نکل گیا…..
شاہ ذر نے گاڑی کی چابی اٹھائی اور باہر نکل گیا…….


مجھے تو لگتا تھا شاہ ذر کو میں پسند ہوں جب ہی اس نے رشتے کے لیے ہاں کی اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں کبھی ہاں نہیں کرتی دانین کی آنکھوں سے دو موتی رخسار پر گرے …..
( دانین کا دل جب بھی اداس ہوتا یا اسے کسی نے ہرٹ کیا ہوتا تو وہ سمندر پر آجاتی تھی آج بھی وہ سمندر پر آئی تھی اپنے آنسو سمندر کی لہروں بہانے آج اس کا دل ٹوٹا تھا اوردل توڑنے والا شخص اسے جان سے زیادہ عزیز تھا)
دانین وہی ریت پر بیٹھ گئی دانین کو وہ سب لمحے یاد آرہے تھے جو اس نے شاہ ذر کے ساتھ گزارے تھے مجھے لگتا تھا کہ تم ایسے ہی مجھے ستاتے ہو غصہ کرتے ہو لیکن میں نہیں جانتی تھی اس سب کے پیچھے تم مجھ سے نفرت کرتے ہو میں ہی پاگل تھی جو اتنے دن میں یہ بات نہ سمجھ سکی، اور کتنی بےوقوف ہوں میں جو ایسے شخص سے محبت کر بیٹھی جو مجھ سے صرف نفرت کرتا ہیں دانین کی ہچکیاں بندھ گئی اشک اسکے رخسار کو بھیگو رہے تھے وہ کافی دیر وہی بیٹھی روتی رہی پھر کسی سوچ کے تحط سر اٹھایا اور آنسو صاف کیے تمہیں مضبوط بننا ہیں دانین …..
دانین اب کافی حد تک سنبھل چکی تھی اپنا غم وہ یہی چھوڑ کر جارہی تھی اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اسے اب کیا کرنا ہیں…….