Mohabat Ke Rung Eid Ke Sang by Misbah Khalid NovelR50488

Mohabat Ke Rung Eid Ke Sang by Misbah Khalid NovelR50488 Last updated: 6 January 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabat Ke Rung Eid Ke Sang by Misbah Khalid

Novel Code: NOvelR50488

فاضل تمھارا دماغ ٹھیک ہے کیوں تم رسوا کروانے پر تلے ہو مجھے“

”میں نے کیا غلط کہہ دیا پسند ہے مجھے ملاٸکہ میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں آپ بات کریں ماموں سے“ وہ انتہاٸی بدتمیزی سے گویا ہوا

”وہ نکاح میں ہے عابس کی بچپن میں ان دونوں کا نکاح کروادیا تھا بھاٸی نے منگنی تو ملاٸکہ کی وجہ سے کی ہے کیونکہ جب اس کا نکاح ہوا وہ چھوٹی تھی اس لیے اسے کچھ یاد نہیں اگر ہم اسے سیدھا نکاح کا بتاتے کیا معلوم وہ کیسا ردِ عمل دیتی حساس بھی بہت ہے اس لیے منگنی کی ہے“ رابعہ بیگم نے اسے مکمل تفصیل سے آگاہ کیا

فاضل کا پارہ مزید چڑھ گیا

”تو بچپن میں آپ میرے لیے نہیں مانگ سکتی تھیں اس کو“ وہ دھاڑا تھا۔۔

”اپنی بکواس بند کرو تمھیں کچھ ہوش ہے کیا کہہ رہے ہو تم اس معصوم کا سوچا ہے تم نے جو تمھارے نام پر بیٹی ہے“ ”اس معصوم کے ہونے نہ ہونے سے مجھے کوٸی فرق نہیں پڑتا آپ نے زبردستی باندھا اس کو میرے گلے میں““ غصے کی ذیادتی کی وجہ سے اس کی گردن کی نسے تک واضح ہونے لگیں تھیں

ایک پل کو فوزیہ بیگم بھی اس کے غصے سے ڈر گٸیں تھیں پھر بھی ہمت کرتیں دوبارہ گویا ہوٸیں

”ہاں تمھیں کیوں فرق پڑے گا تم اس سے اپنی ہوس جو پوری کرچکے ہو“ فوزیہ بیگم نے اسے آٸینہ دیکھایا

”چاہے کچھ بھی ہوجاۓ ملاٸکہ کو تو میں حاصل کرکے رہو گا“ وہ اٹل انداز میں کہتا وہاں سے جانے لگا

”روکو اتنی رات میں کہاں جارہے ہو تم “ فوزیہ بیگم نے اس کا بازوں پکڑے اسے روک لیا ”جہاں بھی جاٶں آپ کو کیا اور بار بار کال کرکے مجھے تنگ نہیں کرنا جب دل چاہے گا آجاٶں گا گھر“ وہ بےدردی سے اپنی ماں کا ہاتھ جھٹک کر گھر سے نکل گیا

”کونسے گناہوں کی سزا مل رہی ہے مجھے جو ایسا بدزات بیٹا ملا مجھے فضل کیوں چھوڑ کر چلے گۓ آپ مجھے اتنی جلدی مجھے بھی اپنے ساتھ لے جاتے“ وہ اپنے شوہر کو یاد کرتیں ہاتھوں میں چہرا چھپاۓ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں