Mohabat Ke Rung Eid Ke Sang by Misbah Khalid NovelR504488 Mohabat Ke Rung Eid Ke Sang Episode 6 (Last Episode)
No Download Link
Rate this Novel
Mohabat Ke Rung Eid Ke Sang Episode 6 (Last Episode)
Mohabat Ke Rung Eid Ke Sang by Misbah Khalid
”فاضل“
”کیا دنیا میں ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں؟
انشرہ نے حیرانی سے استفسار کیا
”جب میرے جیسے لوگ اس دنیا میں ہوسکتے ہیں تو ان جیسے بھی ہوسکتے ہیں“
وہ آنسوٶں سے بھیگا چہرا صاف کرتا بولا
”کیا تم مجھے معاف کروگی؟
” میں بدل چکا ہوں میں ویسا نہیں رہا“
وہ ہاتھ جوڑ کر بولا تھا
”میں نے معاف کیا فاضل آپ کو““
وہ فاضل کے جوڑے ہاتھ تھام گٸ تھی
وہ محبت بھرا لمس اس کی پیشانی پر چھوڑتا نرمی سے اس کو سینے لگا گیا تھا
””فاضل دس منٹ ہوگۓ ہیں نکلو باہر“
فوزیہ بیگم نے دروازے پر دستک دی تھی دونوں ہی جھٹکے سے ایک دوسرے سے جدا ہوۓ تھے
””میرے ساتھ باہر چلو گی“
”کہاں پر“؟
””جہاں تم بولو جلدی سے تیار ہوکر باہر ہوجاٶ میں ویٹ کررہا ہوں““
وہ نرمی سے اس کا رخسار چھوتا کمرے سے باہر نکل گیا
انشرہ مسکراتی ہوٸی تیار ہونے لگی
”مانگ لی تم نے معافی انشرہ سے““
فوزیہ بیگم نے استفسار کیا
”جی مانگ لی اس نے مجھے معاف بھی کردیا آپ بھی معاف کردیں خالا مجھے“
”ٹھیک مگر آٸندہ تم نے میری بیٹی کے ساتھ کسی بھی طرح کی بدسلوکی کی تو میں تمھیں سیدھا جیل میں ڈالواٶں گی“
”نہیں خالا اب آپ کو کوٸی شکایت نہیں ہوگی مجھ سے“
”اچھا بیٹھو تم میں تمھارے لیے کچھ کھانے کو لاتی ہوں“
فوزیہ بیگم نے بھی لہجے اور رویے دونوں میں نرمی پیدا کرلی تھی
”نہیں خالا آپ تکلف نہ کریں میں انشو کو لے کر باہر جارہا ہوں کھانا ہم باہر ہی کھاٸیں گے“
”وہ راضی ہے تمھارے ساتھ جانے کو یا تم نے زبردستی کی ہے“
”نہیں خالا وہ راضی ہے تیار ہورہی ہے“
وہ جلدی سے بولا تھا فوزیہ بیگم یہ نہ سمجھے اس نے انشرہ پر کسی قسم کا دباٶ ڈالا ہے
”ٹھیک ہے خیال رکھنا میری بیٹی کا اکیلا مت چھوڑنا اسے کہیں ڈرتی ہے بہت“
”جی خالا آپ بے فکر ہوجاٸیں“
وہ عاجزی سے بولا
فوزیہ بیگم مطمعن ہوتی کچن میں چلیں گٸی
”میری بلا اب تک ناراض ہے مجھ سے“
وہ دبے پاٶں کے کمرے میں داخل ہوا تھا اور اسے پیچھے سے اپنی بانہوں میں بھر لیا تھا
ملاٸکہ جو ناول پڑھنے میں مصروف تھی ہڑبڑا کر دور ہوٸی
”یہ کیا حرکت ہے“؟
” آپ بھی فاضل بھاٸی بن رہے ہیں“
ملاٸکہ کو سچ میں برا لگا عابس کا ایسے بانہوں میں بھرنا
”اب تم میری ہو میں جو چاہوں کروں تمھارے ساتھ تم مجھے نہیں روک سکتیں“
عابس اسے نکاح کے بارے میں بتانے اور اس کی ناراضگی دور کرنے آیا تھا اس کا غصہ سے سرخ ہوتا چہرا دیکھ اسے تنگ کرنے کا ارادہ بنا لیا تھا
”عابس چلیں جاٸیں یہاں سے ابھی ہماری منگنی ہوٸی ہے نکاح نہیں اگر آپ نے میرے ساتھ کوٸی بھی غلط حرکت کی تو میں یہ منگنی بھی توڑ دوں گی“
ملاٸکہ معصوم ضرور تھی لیکن بےوقوف نہیں وہ ہر رشتے کا احترام اور اونچ نیچ اچھے سے سمجھتی تھی
بنا لحاظ کیے اس نے عابس کو بھی سنادی تھی
ا”چھا چھوڑو سب میں مذاق کررہا تھا یہاں بیٹھو مجھے تمھیں کچھ بتانا ہے“
منگنی توڑنے کی دھمکی پر عابس بھی سنجیدہ ہوگیا تھا
”آپ نے ایسا مذاق کیوں کیا “؟
میں نے کتنی بدتمیزی کی آپ سے اور گندے فاضل بھاٸی میں بھی ملا دیا“
اسے اب افسوس ہورہا تھا
وہ منہ بسورتی اس کے پاس آکر بیٹھ گٸ
”مجھے بلکل برا نہیں لگا تمھاری باتوں کا بللکہ مجھے تو خوشی ہوٸی کہ میری بیوی اتنی بہادر ہے ظلم کے خلاف آواز اٹھانا جانتی ہے“
”میں منگیتر ہوں آپ کی آپ بار بار بھول جاتے ہیں“
ملاٸکہ اسے جتلایا
”تم میری بیوی ہو ہمارا بچپن میں نکاح ہوگیا تھا تم چھوٹی تھیں اس لیے تمھیں یاد نہیں مگر مجھے یاد ہے“
”آپ پھر مذاق کررہے ہیں“
ملاٸکہ نے اسے گھورا
”نہیں سویٹی میں سچ کہہ رہا ہوں تمھیں اس لیے نہیں بتایا کہ تم پہلے بڑی ہوجاٶ اس رشتے کو سمجھنے کے قابل ہوجاٶ گی تو بتا دے گے اب ماشاءاللہ سے تم سمجھدار ہو سو بتا دیا“
”تو یعنی میں آپکی واٸف ہوں“
”جی بلکل میری جان“
وہ اس کے پھولے رخسار کھینچتا بولا
”اچھا تو پھر آپ مجھے یہاں پر کس دیں جیسے ناول میں ہیرو ہیرٶن کو دیتا ہے
وہ پیشانی چھوتی معصوم سی خواہش کرگٸ
”بس اتنی سی ابھی دیتا ہوں“
عابس نے اس کا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرا اور اس کے چہرے کا ایک ایک نقش چوم ڈالا
وہ شرماتی ہوٸی اس کے سینے میں چہرہ چھپاگٸ تھی
”فاضل بس کریں میں تھک گٸ ہوں نہ بھوک بھی لگی ہے مجھے“
”یار تم پہلی لڑکی ہو جو شاپینگ کرتے ہوۓ تھک گٸ ہو لڑکیوں کو پورا دن شاپینگ کرواٶ نہیں تھکتیں اور تم دو گھنٹے میں تھک گٸیں“
”ہوتا ہوگا لڑکیوں کو شوق مجھے نہیں ہے آپ مجھے کچھ کھلادیں بھوک لگ رہی ہے صبح ناشتہ بھی نہیں کیا تھا میں نے“
”پاگل لڑکی پہلے بتاتی مجھے میں تمھیں پہلے ناشتہ کروادیتا“
وہ اس کے سر پر چپت لگاتا خفگی سے بولا
”اب چلو ریسٹوران چلتے ہیں“
وہ اس کو اپنے حصار میں لیتا مال سے باہر نکل گیا
”چلو سب گیم کھیلتے ہیں“
آفاق نے سب کو متوجہ کیا تھا
آج عید کا تیسرا دن تھا
وہ سب اکبر صاحب کے گھر میں جمع تھے شادی کی تاریخ رکھنے کے لیے
اگلے ماہ کی پانچ تاریخ رکھی گٸ تھی
عابس اور فاضل کا منہ اتر گیا وہ دونوں جلد سے جلد اپنی محبوب بیویوں کو اپنی دسترس میں چاہتے مگر ضروری نہیں جیسا ہم چاہے ویسا ہو
فاضل نے ملاٸکہ سے اپنے کیے کی معافی مانگ لی تھی
اس نے دل بڑا کرکے اسے معاف بھی کردیا تھا
سب بڑے لاٶنج میں خوش گپیوں میں مصروف تھے
وہ سب لان میں داٸرہ بنا کر بیٹھ گۓ تھے
”گیم کونسا کھیلیں“
یہ رافع کی آواز تھی
”ہم ایسا کرتے ہیں جوڑیا بناتے ہیں اور بوتل درمیان میں رکھ کر گھماتے ہیں جس جوڑی کی طرف بھی بوتل کے ڈھکن والا ساٸیڈ روکا اسے وہی کرناہوگا جو سب بولے گے “
حریم نے تجویز پیش کی جو سب اچھی لگی
سب راضی ہوگۓ
بوتل گھم رہی تھی سب کی نظر اسی پر تھی
اور پھر بوتل روکتے ہی سب کی نظریں تھم گٸیں تھیں
سب کی نظریں عابس اور ملاٸکہ پر تھیں
”چلو بتاٶ کیا کرنا پڑے گا ہمیں “
عابس بولا
”آپ لوگ کپل ڈانس کرکے دیکھاٸیں “
انشرہ کےزبان سے بے ساختہ پھیسلا تھا
سب کی نظر انشرہ کی طرف اٹھی تھیں
وہ بیچاری بلاوجہ گھبراگٸ
پہلو میں بیٹھے فاضل کے کندھے میں منہ چھپا لیا
سب ہی اسکی یہ حرکت دیکھ کر ہنس پڑے
وہ آج پہلی بار ان کے ساتھ بیٹھی تھی فاضل کے ساتھ سے وہ آہستہ آہستہ بدل رہی تھی مگر ابھی بولتی کم تھی وہ شاۓ فیل کرتی تھی
”واہ بھٸ کہاں تو میڈم کی زبان نہیں ہلتی تھی اور اب دیکھو اس کو “
عابس نے اسے گھورا تھا
”تو کونسا کچھ غلط بولا میری بیوی نے کیوں بھٸ سب بولو “
”ہاں ہاں انشرہ نے ٹھیک کہا“
” آپ اچھا سا کپل ڈانس کرکے دیکھاٸیں “
سب ہی ان کے پیچھے پڑ گۓ تھے
عابس فاضل کو کھاجانے والی نظروں سے گھورتا ملاٸکہ کا ہاتھ پکڑے ڈانس کرنے کے لیے کھڑا ہوگیا تھا
تیرے سنگ یارا
خوش رنگ بہارا
توں رااااات دیوانی
میں ذرد ستارہ
او کرم خدا یا ہے
تجھے مجھ سے ملایا ہے
تجھ پر مر کر ہی تو مجھے جینا آیا ہے
او تیرے سنگ یارا خوش رنگ بہارااا
توں رات دیوانی میں ذرد ستارہ
ماحول میں ایک فسوں سا قاٸم ہوگیا تھا
وہ دونوں ایک دوسرے کو تھامے آہستہ آہستہ اسٹیپ لے رہے تھے سب کی نظریں ان پر ٹکیں تھیں
انہیں دیکھ کر فاضل کو بھی جوش چڑھا وہ بھی انشرہ کا ہاتھ تھامے کھڑا ہوگیا
وہ بیچاری نہ نہ کرتی رہ گٸ مگر فاضل باز نہ آیا
وہ اس کی کمر دونوں ہاتھ ڈال کر اس کے دونوں ہاتھ اپنی گردن میں ڈال چکا تھا
وہ شرماٸی شرماٸی سی اس کی گردن میں منہ چھپاگٸ تھی
حریم کا شوہر بھی اسے لیے میدان میں آگیا تھا
سب بڑے بھی باہر آگۓ تھے
ان تینوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوۓ تھے
سب نے ہی ان کو ہمیشہ ایک ساتھ رہنے کی دعا دی تھی
