Mohabat Ke Rung Eid Ke Sang by Misbah Khalid NovelR504488 Mohabat Ke Rung Eid Ke Sang Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Mohabat Ke Rung Eid Ke Sang Episode 5
Mohabat Ke Rung Eid Ke Sang by Misbah Khalid
””دوسری عید سب کو مبارک ہو“
وہ چہکتی ہوٸی کمرے سے باہر نکلی سب ناشتہ کررہے تھے وہ عابس کے برابر والی کرسی پر بیٹھ گٸ جہاں وہ ہمیشہ بیٹھتی تھی اگر وہاں کوٸی بیٹھ جاۓ تو وہ خود تو ناشتہ کرتی نہیں تھی عابس کو بھی اپنے ساتھ اٹھا کر لے جاتی تھی
”سنیں ایی سنیں تو“
وہ عابس کو کوہنی مارتی اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کررہی تھی
لیکن وہ کان بندھ کیے ناشتہ کرنے میں مصروف تھا
”میری بات سن لیں یقین کریں آپکا ناشتہ کہیں نہیں بھاگے گا“
وہ خونخوار تیور لیے اس کے سامنے سے انڈے کی پلیٹ کھینچ چکی تھی
عابس نے بھی گھور کر اسے دیکھا تھا
”ملاٸکہ کیا ہر وقت بچوں کی طرح حرکتیں کرتی رہتی ہو خود بھی ناشتہ کرو عابس کو بھی کرنے دو“
”آپ کو تو میں بعد میں بتاٶں گی مجھے نظر انداز کررہے ہیں“
وہ عابس کو تڑی لگاتی ناشتہ کرنے لگ گٸ
”ڈیڈ چاچو میں قبرستان جارہا ہوں دادا دادی کی قبر پر آپ لوگ چل رہے ہیں“
وہ کرسی کھیسکاتا اٹھتا بولا
وہ لوگ اکثر عید پر اپنے عزیزوں کی قبروں پر جاتے تھے
”بیٹا ہم لوگ کل ہو آۓ تم ہوآٶ فضل کی قبر پر بھی فاتحہ پڑھ آنا“
”جی ڈیڈ ہو آٶں گا“
وہ ان کو جواب دیتا راہ داری کی طرف چل دیا
اسے جاتا دیکھ ملاٸکہ اپنا ناشتہ چھوڑ کر اس کے پیچھے بھاگی
”سنیں“
”سنیں نہ بہرے ہوگۓ ہیں کیا“؟
”کیا ہے“؟
” کیوں آوازیں دے رہی ہو مجھے“؟
وہ پیچھے مڑتا کرخت لہجے میں بولا
”آپ کی ہمت کیسے ہوٸی مجھے نظر انداز کرنے کی“
وہ اس کا کالر پکڑے جنونی انداز میں بولی
”مرضی میری جو کروں میں اب ہٹو پیچھے“
وہ لاپرواٸی سے کہتا اپنا کالر چھوڑا چکا تھا
”آپ کی مرضی میں نے کبھی چلنے دی ہے جو اب چلنے دوں گی بتاٸیں کیوں ناراض ہیں مجھ سے“؟
”مجھے نہیں بات کرنی تم سے“
وہ جانے کے مڑا ہی تھا
ملاٸکہ نے اس کی کلاٸی تھام لی اور اتنی مضبوطی سے پکڑی کہ ملاٸکہ کے ناخون عابس کی کلاٸی میں گڑھ گۓ تھے
ملاٸکہ کی آنکھوں میں اپنے لیے جنون دیکھ کر عابس مسکرایا تھا
”ناراض نہیں ہوں مذاق کررہا تھا“
”جاٸیں اب میں آپ سے ناراض ہوں“
وہ اس کلاٸی چھوڑ کر منہ پھلاۓ اندر بھاگ گٸ
”اس بلا کو تو آکر منالوں گا مناٶں گا پہلے قبرستان ہوآٶں دادا دادی انتظار کر رہے ہوں گے میرا““
وہ اس کی پشت دیکھتا مسکراتا ہوا دروازہ عبور کرگیا
”فاضل تم ٹھیک ہو“
عابس دادا دادی کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کے بعد وہ اپنے خالو کی قبر پر آیا تھا
وہاں فاضل کو اپنے والد کی قبر سے لپٹ کر روتا دیکھ وہ حد درجہ پریشان ہوا تھا
ے”فاضل میرے بھاٸی کیا ہوا ہے “؟
وہ اسے دونوں شانوں سے پکڑ کر سیدھا کرتا گویا ہوا
”عابس“
”مجھے معاف کردو میں نے تمھاری بیوی پر گندی نظر رکھی اس کے قریب آنے کی کوشش کی“
وہ عابس کے گلے سے لگا معافیاں مانگ رہا تھا
عابس کو تو یہ کایا پلٹ سمجھ نہیں آرہی تھی
”فاضل ٹھیک ہے میں نے تمھیں معاف کیا تم رو نہیں سنبھالو خود کو چلو میں تمھیں گھر چھوڑ دیتا ہوں“
”نہیں مجھے ایک کام سے جانا ہے تم جاٶ میں چلا جاٶں گا“
””مجھے تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی تمھیں گھر جانا چاٸیے“
عابس سچ میں فکر مند تھا اس کے لیے جیسا بھی ہو وہ اس کا کزن تھا
”نہیں عابس میں جس کام کے لیے جارہا ہوں اگر وہ ہوگیا تو میں ٹھیک ہوجاٶں گا تم دعا کرنا میرا کام ہوجاۓ“
عابس اسے جاتا دیکھتا رہ گیا وہ آج اسے پہلے والے فاضل سے بلکل مختلف لگ رہا تھا
اس کی آنکھیں بھی رو رو کر سوج چکی تھیں ہمیشہ والی شوخی غاٸب تھی وہ کافی سنجیدہ نظر آرہا تھا
”اَلسَلامُ عَلَيْكُم“
”خالا کیسی ہیں آپ“؟
”وَعَلَيْكُم السَّلَام“
سناٶ کیسے آنا ہوا ؟
فوزیہ بیگم فاضل سے بات نہیں کرتی تھیں اگر وہ خود کرتا تو کافی بےروخی کا مظاہرا کرتیں
”خالو کہاں ہیں“ ؟
”وہ اپنے دوست سے ملنے گۓ ہیں تم آنے کا مقصد بیان کرو“
وہ اس دفع کافی سختی سے بولیں تھیں
”مجھے انشرہ سے ملنا ہے“
وہ کافی آہستگی سے بولا
”تم نہیں مل سکتے اس سے چلے جاٶ اب یہاں سے“
”خالا معاف کردیں مجھے میں مجرم ہوں انشرہ کا میں اس سے معافی مانگنے آیا ہوں پلیز مجھے ملنے دیں اس سے ایک بار“
”فاضل یہ ڈرامے بازیاں نہیں کرو چلے جاٶ یہاں سے جب رخصتی ہوجاۓ تو ایک بار ہی مل لینا اس سے“
فوزیہ بیگم کو اس کی باتیں ابھی بھی جھوٹی لگ رہیں تھیں
”خالا ہاتھ جوڑتا ہوں آپ سے ایک دفع ملنے دیں اس سے اگر میں کچھ بھی غلط کروں آپ انکل کو سب کچھ بتادینا میں کچھ نہیں کہوں گا“
”ٹھیک ہے صرف دس منٹ ہیں تمھارے پاس اس سے زیادہ نہیں “
”وہ اپنے کمرے میں ہے جاٶ جاکر مل لو اس سے“
”ٹھیک ہے خالا“
وہ سیدھا انشرہ کے کمرے کی طرف آیا
دروازے پر دستک دی
اجازت ملنے پر کمرے میں داخل ہوگیا
”امی مجھے نہیں جانا کہیں نہ مجھے تیار ہونا ہے میرا دل اندر سے مرچکا ہے پلیز اکیلا چھوڑ دیں مجھے میں تنہا ہی اچھی ہوں “
وہ بنا دیکھے اپنی رو میں بولتی جارہی تھی
فاضل کا دل درد سے بھر رہا تھا
”انشو“
وہ جھٹکے سے پیچھے مڑی تھی
اپنے کمرے میں فاضل کو دیکھ کر خوفزدہ ہوگٸ تھی
”آ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں“؟
” جاٸیں یہاں سے“
”انشو ڈرو نہیں میں بس تم سے بات کرنا چاہتا ہو پلیز ایک دفع میری بات سن لو“
اس نے التجا کی تھی
”بولیں جلدی کیا کہنا چاہتے ہیں“
وہ دیوار سے چپکی اس سے کافی فاصلے پر کھڑی ہوگٸ تھی
”انشو مجھے معاف کردو میں نے بہت دکھ دیے ہیں تمھیں تمھاری زندگی کے تین سال میری وجہ سے اذیت میں گزرے ہیں مگر اب بدل چکا ہوں میں اپنی پوری زندگی تمھارے نام کردینا چاہتا ہوں پلیز انشو مجھے معاف کردو“
”اس دفع کونسا غم ملا ہے آپ کو جو میں یاد آگٸ جب خالو فوت ہوۓ تھے تب بھی آپ نے میرے ساتھ یہ ڈرامہ کیا تھا نہ اچھے بننے کا اب پھر آگۓ ہیں مجھے بےوقوف بنانے“
وہ پتھریلے لہجے میں بولی
”اس دفع مجھے غم نہیں سزا ملی ہے میرے گناہوں کی مجھے تمھاری تکلیف اذیت کا احساس ہوگیا جو میری ذات سے تمھیں ملی میں وعدہ کرتا ہوں آٸندہ تمھیں کبھی کوٸی دکھ نہیں دوں گا بس ایک بار مجھ پر بھروسا کرکے مجھے معاف کردو
وہ نادم تھا اس کی ندامت چہرے پر نظر آرہی تھی آنکھیں بھی نم ہوگٸیں تھی
”کونسی سزا ملی آپ کو““
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے روبرو آکھڑی ہوٸی تھی
”جو میں نے تمھارے ساتھ کرنے کی کوشش کی وہ میرے ساتھ بھی کرنے کی کوشش کی گٸ چار مرد مجھے اغوہ کرکے لے گۓ تھے اپنی ہوس کو پورا کرنے کے لیے جیسے میں نے تمھاری التجا پر کان بند کرلیے تھے ویسے ہی انہوں نے میری التجاٶں پر میرے کان پر دو رکھ کر دیے تھے
جیسے میں نے تمھیں برہنہ کیا تھا ایسے ہی انہوں نے بھی مجھے برہنہ کیا جیسے میں تمھیں چھورہا تھا چوم رہا تھا ایسے ہی وہ مجھے چھو رہے تھے چوم رہے تھے وہ چار تھے انشو میں نے جو تمھارے ساتھ کیا تین گنا زیادہ میرے ساتھ ہوا“
وہ اس کا لباس تھی وہ اس سے کیوں چھپاتا کچھ وہ اپنا دکھ کس سے کہتا اپنا درد کس سے بانٹتا ایک وہی تھی جو اس کا پردہ رکھ سکتی تھی
