Mohabat Ke Rung Eid Ke Sang by Misbah Khalid NovelR504488 Mohabat Ke Rung Eid Ke Sung Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
Mohabat Ke Rung Eid Ke Sung Episode 1
Mohabat Ke Rung Eid Ke Sung by Misbah Khalid
وہ گھیردار فراک پہنے اس کے ساتھ نیلی جینز کی پینٹ ہلکہ پھلکے میکاپ کے ساتھ اپنا حناٸی دودھیا ہاتھ اس کے سامنے پھیلاۓ سراپہ امتحان بنے کھڑی تھی
وہ کوٸی بہت خوبصورت نہیں تھی رنگ دودھ کی طرح تھا ناک نقشہ کھڑا تھا اپنی باتوں اور چنچل طبیعت کی وجہ سے وہ اور پیاری لگتی تھی رنگ صاف ہونے کی وجہ سے وہ خاندان کی خوبصورت لڑکی کہلاتی تھی
وہ اس کے خوبصورت سراپے سے نظریں چراتا مدھم سا مسکرایا تھا اور اس کے ہاتھ پر تالی ماری تھی
”بھٸ یہ کیا آپ نے سب بچوں کو عیدی دی مجھے نہیں دے رہے“
”تم بچی تھوڑی ہو بڑی ہوگٸ ہو پورے اٹھارہ برس کی ہوگٸ ہو خیر سے“
”ہاں تو کیا ہوا ہماری پھپھو کتنی بڑی بڑی ہیں ان کی شادی بھی ہوگٸ بچے بھی ہوگۓ پھر پھی پاپا اور بڑے پاپا ان کو عیدی دیتے ہیں ہر عید پر“
وہ اسے یاد دلا رہی تھی جیسے وہ سب بھول بیٹھا ہو
”اوہ ہاں مجھے تو یاد ہی نہیں تھا یہ لو اپنی عیدی““
اس نے جیب سے کڑک سا پانچ ہزار کا نوٹ نکال کر اس کی ہتھیلی پر رکھ دیا“
”اتنی ساری عیدی“
وہ خوشی سے چہکتی اچھلی تھی
”اب خوش“
وہ اس کو خوشی سے جھومتا دیکھ بولا تھا
”بہت بہت خوش مگر آپ نے مجھے اتنی ساری عیدی کیوں دی باقی سب کو تو ہزار ہزار روپے دیٸے ہیں“
”بس اس دفع کی عید میرے لیے بہت خاص ہے اس لیے اب تم زیادہ دماغ نہ چلاٶ میرے ساتھ باہر چلو تمھارا پرس پیسوں سے بھروا کر لاتا ہوں“
”سچ میں کہاں لے کر جارہے ہیں مجھے”
اس کی آنکھوں میں تجسس تھا
”میرے دوست نے عید پر دعوت کی ہے میری وہیں لے جارہا ہوں“
”پھر میں نہیں جارہی وہاں تو سب لڑکے ہوں گے اچھا نہیں لگے گا میں آپ کے ساتھ جاٶں گی تو“
”ہممم سمجھدار ہوگٸ ہو مگر میں تمھیں پھر بھی لے کر جاٶں گا کیونکہ میرے دوست نے سب کو فیملی سمیت بلایا ہے یہاں سے کوٸی جانے کو راضی نہیں اس لیے تمھیں لے جارہا ہوں جاٶ چاچی سے بول کر آٶ میں تمھیں اپنے ساتھ لے جارہا ہوں“
”اوکے میں ابھی آتی ہوں بھاٸی“
وہ جانے کے لیے پلٹی ہی تھی اس نے اس کی کلاٸی تھام لی
”تمھیں کتنی بار کیا ہے بھاٸی نہیں بولا کرو سمجھ نہیں آتی“
اس بار اس کا لہجہ سخت تھا پہلے والی نرمی نادار تھی
”آپ بڑے ہیں مجھ سے بھاٸی نہ بولوں تو اور کیا کہہ کر مخاطب کروں““
”تم کہا کرو اے جی سنتے ہیں مجھے آپ سے بات کرنی ہے“
اس نے اس کا سہما چہرا دیکھ کر بات کو مزاح کا رنگ دے دیا
”ہاہاہاہا ایسے تو ممی پاپا کو بلاتی ہیں“
وہ کھلکھلا کر مسکراٸی تھی
”کتنی باتیں کرتی ہو جاٶ جلدی سے چاچی کو بتا کر آٶ میں باہر ویٹ کررہا ہوں““
کچھ سیکنڈ بعد ہی وہ باہر آگٸ تھی اس سے پہلے وہ گاڑی می بیٹھتے سامنے سے آتے اپنے پھپھو کے بیٹے فاضل کو دیکھ کر روک گۓ
”عید مبارک“
”عید مبارک““
فاضل عابس دونوں عید ملے تھے
جبکہ ملاٸکہ جانے کیوں عابس کا بازوں پکڑے اس سے چپکی کھڑی تھی
”تم کہاں چھپ رہی ہو اینجل مجھ سے عیدی نہیں لو گی“
”نہ نہیں مجھے نہیں لینا“
وہ مزید عابس کے پیچھے چھپ گٸ تھی
”ارے کیا ہوا ہے تمھیں چلو نکلو میرے پیچھے سے““
عابس نے زبردستی اسے اپنے پیچھے سے نکال کر فاضل کے سامنے کھڑا کردیا
”یہ لو تمھاری عیدی“
فاضل نے ہزار کا نوٹ اس کے سامنے کیا
”مجھے نہیں چاہٸے آپ رکھ لیں“
”ہاہاہا عیدی لینے سے کون منا کرتا ہے“
فاضل نے زبردستی اس کا ہاتھ پکڑ کر پیسے تھما دیے
”ویسے بڑی پیاری لگ رہی ہو آج“
وہ انگلیوں کے پوروں سے اس کے پھولے رخسار چھوتا اندر چلا گیا
”مجھے نہیں چاہیے ان کے پیسے“
ملاٸکہ نے غصے میں ہزار کا نوٹ پھینک دیا
“
”ملاٸکہ کیا ہوگیا ہے تممھیں زیادہ بدتمیز ہوتی جارہی ہو تم کیوں نہیں لینے تمھیں فاضل کے پیسے“
عابس بھڑکا تھا
”وہ اچھے نہیں لگتے مجھے“
”کیوں اچھے نہیں لگتے روشنی ڈالو ذرا اپنے جملے پر“
عابس کی چھٹی حس نے کام کرنا شروع کیا تھا
”وہ جب بھی آتے مجھے چھوتے ہیں مجھے اچھا نہیں لگتا اور مجھے کس کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں اب میں بچی تو نہیں رہی بڑی ہوگٸ ہوں“
وہ اپنی رو بولے جارہی تھی یہ دیکھے بغیر عابس کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ چکا ہے
”کہاں کہاں چھوتا ہے وہ تمھیں“
عابس نے بڑے ضبط سے پوچھا تھا
”وہ میرے گلے میں ہاتھ ڈال کر مجھے اپنے ساتھ چپکا کر بیٹھا لیتے ہیں“
”کبھی میرے گالوں کو انگلیوں سے سہلاتے ہیں مجھے اچھا نہیں لگتا میں نے ممی کو کتنی بار بتایا وہ کہتی ہیں بڑا بھاٸی ہے پیار کرتا ہے تم سے مجھے ان کا چھونا بلکل نہیں پسند“
وہ برے برے منہ بناتی بولی
”مجھے یہ امید نہیں تھی تم سے فاضل کہ تم اپنے گھر میں ہی نقب لگاٶ گے“
وہ طیش میں گھر کی طرف دوڑا لیکن کچھ قدم بڑھانے کے بعد ہی رک گیا
”نہیں نہیں میں یہ کیا کررہا ہوں عید کا دن ہے میں اس مسلٸے کو اچھال کر سب کی عید خراب نہیں کرسکتا اس کو تو میں اکیلے میں دیکھوں گا ذرا مل جاۓ مجھے“
وہ واپس پلٹا اور ملاٸکہ کا ہاتھ پکڑ اسے گاڑی میں بیٹھایا پھر خود بیٹھا اور گاڑی زن سے بھگا لے گیا
اکبر عباسی اکمل عباسی دونوں بھاٸی تھے ان کی دو بہنیں رابعہ اور فوزیہ اپنے گھر سدھار گٸیں تھیں چاروں بہن بھاٸیوں میں مثالی محبت تھی
اکبر صاحب کے تین بچے تھے بڑا بیٹا عابس جو چوبس سال کا خوش شکل نوجوان تھا گندمی رنگت لمبا قد تیکھے نقوش وہ کافی ہنڈسم تھا
گریجوشن کے بعد پڑھاٸی کو خیرآباد کرکے اس نے اپنے والد کا شوپینگ مال سنبھال لیا اس سے چھوٹی حریم جو اکیس سال کی تھی اور وہ بھی کچھ ماہ پہلے اپنے اصل گھر پہنچ گٸ تھے سب سے چھوٹا تھا آفاق جو ابھی پندرہ سال کا تھا
اکمل صاحب کے دو بچے تھے بڑی بیٹی اٹھارہ سالہ ملاٸکہ جو گھر میں سب کی جان تھی اور سب سے زیادہ وہ عابس کے قریب تھی اس کے بعد تھا رافع جو آفاق کا ہم عمر ہی تھا
رابعہ صاحبہ کی ایک ہی اولاد تھی چھبیس سالہ فاضل جس کی مشکوک حرکتوں کی وجہ سے وہ ہر وقت پریشان رہتی تھیں ان کے شوہر کا ایک سال پہلے ہی انتقال ہوا تھا وہ دل کے مریض تھے ان کے لیے فاضل ہی تھا ان کا سب کچھ جسے وہ کھونا نہیں چاہتی تھیں
فوزیہ بیگم کی ایک ہی بیٹی تھی بیس سالہ انشرہ جو بہت ہی کم گو فرمانبردار نیک سیرت لڑکی تھی
”اب گھر چلیں کافی دیر ہوگٸ ہے ہمیں سیر و تفریح کرتے کرتے“
”ابھی تو سات ہی بجے ہیں اور مجھے بھوک بھی لگی ہے چلیں کھانا کھلاٸیں پہلے مجھے“
وہ لاڈ سے معصوم سا چہرا بناۓ اسے اپنی ہر بات ماننے پر مجبور کردیتی تھی
ّ”اچھا بتاٶ کیا کھاٶ گی“
”چکن بروسٹ ملاٸی بوٹی گولہ کباب کلب سینڈویچ اور آخر میں مزیدار سا فالودہ“
”کھا لو گی یہ سب“
وہ حیرت سے بولا
”جی جی کھا لوں گی آپ بھی تو ہو ساتھ دینا میرا“
”اوکے مدام““
”آرام سے کھاٶ کہیں بھاگا نہیں جارہا کھانا“
وہ ٹیشو سے اس منہ کرتا بولا
”کیا کروں اتنے دنوں بعد جو کھایا دل چاہ رہا ہے سب ایک ساتھ کھاجاٶں رمضان میں جیسے شیطان بند ہوتا ہے نہ ایسے ہی میرا کھانا پینا بھی بند ہوجاتا ہے اتنی ساری افطاری کے بعد بھوک نہیں لگتی پھر کھانا سحری پر کھانے کو ملتا ہے“
”ہممم صحیح ویسے اتنا کھاٶ گی تو موٹی ہوجاٶ گی مجھے موٹی لڑکیاں نہیں پسند“
وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگاۓ عام سے لہجے میں بولا
”اگر میں موٹی ہوگٸ تو آپ کو اچھی نہیں لگوں گی“
”نہیں“
عابس نے یک لفظی جواب دیا
”اچھا پھر میں نہیں کھاتی یہ سب
اس نے ہاتھ میں پکڑا گولہ کباب دوبارہ پلیٹ میں رکھ دیا
”ہاہاہاہا پاگل میں مزاق کررہا تھا کھالو“
عابس کے مذاق کو اس نے کافی سنجیدگی سے لے لیا تھا
”کہاں رہ گۓ یہ لوگ صبح سے نکلے ہوۓ ہیں دونوں ابھی تک گھر نہیں لوٹیں ہیں“
اکبر صاحب یہاں وہاں چکر کاٹتے ان دونوں کے آنے کا انتظار کررہے تھے
وہ دونوں تھے کہ اپنے گھر کا رستہ بھولے بیٹھے تھے
”آجاٸیں گے آپ کیوں خود کو تھکا رہے ہیں بھاٸی صاحب بیٹھ جاٸیں“
اکمل صاحب نے ان کو پکڑ کر صوفے پر بیٹھا دیا
”اَلسَلامُ عَلَيْكُم“
وہ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے گھر میں داخل ہوۓ تھے وہاں سب کو جمع دیکھ ملاٸکہ بے انتہا خوش ہوٸی تھی
کیونکہ اس وقت گھر میں اس کی دونوں پھپھو اس کے خالہ ماموں اپنی فیملیز کے ساتھ موجود تھے حریم بھی اپنے شوہر کے ساتھ آٸی ہوٸی تھی
”ممی آپ نے بتایا نہیں آپ نے سب کی دعوت کی پھر ہم جلدی گھر آجاتے نہ“
”ٹھیک وقت پر گھر آۓ ہو یہ لوگ بھی بس ابھی آٸیں ہیں تم ایک منٹ میرے ساتھ کمرے میں آٶ“
”جی ممی آٸی“
وہ خاموشی سے حرا بیگم کے پیچھے چلدی
”یہ لو جاٶ یہ کپڑے پہن کر آٶ“
حرا بیگم نے ریشمین کڑھاٸی سوٹ ملاٸکہ کی طرف بڑھایا
”کیا ؟“
یہ میں پہنو ممی یہ کتنا ہیوی ہے میں ایسے کپڑے نہیں پہنتی آپ کو معلوم تو ہے“
اس سوٹ ہاتھ میں پکڑنا بھی ضروری نہیں سمجھا
جبکہ حرا بیگم سوٹ ہاتھ میں لیے اسے گھور رہیں تھیں
”تم ایسے نہیں مانو گی روکو ذرا“
”عابس
عابس بیٹا یہاں آٶ ذرا“
”جی چاچی کیا ہوا“ ؟
عابس فوراً ہی حاضر ہوا
”دیکھو یہ کپڑے نہیں پہن رہی یہ والے“
”میں تمھارے لیے اتنے پیار سے کپڑے لایا اور تم کپڑے نہیں پہن رہیں پہنو نہ یار میں تمھیں دیکھنا چاہتا ہوں اس سوٹ میں تم کتنی پیاری لگتی ہو“
”آپ ایسے کپڑے کیوں لاۓ آپ کو معلوم ہیں نہ میں اتنے ہیوی کپڑے نہیں پہنتی”
وہ بےبسی سے بولی عابس کے سامنے اس کی کہاں چلنے والی تھی
”میری فیری بس کچھ دیر کی بات ہے پہن لو پھر تبدیل کرلینا پلیز پہن لو““
عابس نے اتنے پیار سے کہا کہ وہ منع نہیں کرسکی
”اچھا ٹھیک ہے پہن لوں گی بس تھوڑی دیر کے لیے“
”ہمم گڈگرل اور ہاں اس کے ساتھ جو میچینگ کا سامان لایا ہوں سب پہننا چاچی کو تنگ مت کرنا جیسا وہ کہیں ویسا کرنا اوکے“
”ہممممم“
وہ بھلا عابس کی بات کیسے ٹال سکتی تھی اس نے خاموش سے حرا بیگم کی ساری بات مانی اب وہ آٸینے کے سامنے کھڑی خود نہار رہی تھی
