Mohabat Ke Rung Eid Ke Sang by Misbah Khalid NovelR504488 Mohabat Ke Rung Eid Ke Sang Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Mohabat Ke Rung Eid Ke Sang Episode 4
Mohabat Ke Rung Eid Ke Sang by Misbah Khalid
وہ غصے میں گھر سے نکلا تھا تیز رفتاری سے گاڑی چلاتا وہ کافی دور نکل آیا تھا آدھی رات کا وقت تھا ہر جگہ سنناٹے کا راج تھا
وہ کافی تھک چکا تھا آرام کے غرض سے اس نے گاڑی روکی اور سیٹ پیچھے کرکے سیدھا ہوگیا
سیگریٹ سلگا کر لبوں میں دباٸی اور کار کا شیشہ نیچے کر دیا تاکہ دھواں باہر نکلتا رہے
وہ آنکھیں موندے سیگریٹ کے کش لے رہا تھا کہ اسے اپنی گردن پر چبھن سی محسوس ہوٸی اس نے پٹ سے آنکھیں کھولیں
اس کی گاڑی کو چار ہٹے کٹے آدمی گھیرے کھڑے تھے ایک نے اس کی گردن پر تیز دھار چاقو رکھا ہوا تھا
”کون ہو تم لوگ “؟
کیا چاہیے تمھیں““؟
وہ خوفذدہ سا سیدھا ہو بیٹھا
”چل گاڑی کا دروازہ کھول“
وہ آدمی اسے عجیب نظروں سے گھورتا بولا
”دیکھو تمھیں جو کچھ چاہیے لے لو میں خاموشی سے دے دوں گا پلیز مجھے جانے دو“
وہ چار ہٹے کٹے مرد تھے وہ ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا ان کی بات ماننے کے علاوہ فاضل کے پاس کوٸی راستہ نہیں تھا
”وہی لے گے تجھ سے چل جلدی گاڑی انلاک کر““
اس نے چاقو کی نوک سے اس کی گردن پر دباٶ ڈالا
”آہہ اچھا کھول رہا ہوں““
اس نے جلدی سے گاڑی انلاک کی
گاڑی کا لاک کھولتے ہی وہ چاروں گاڑی میں آبیٹھیں اور اسے گاڑی چلانے کا کہا
کچھ دور جاکر انہوں نے گاڑی رکوادی
”چل اتر گاڑی سے“
وہ خاموشی سے نیچے اتر گیا
وہ غنڈے اسے اپنے ساتھ ایک گھر میں لے گۓ
اس جگہ آبادی نہ ہونے کے برابر تھی گھر کافی دور دور بنے ہوۓ تھے وہاں زیادہ تر چور ڈاکوٶں کا بسیرا رہتا تھا
وہ گھر کافی چھوٹا تھا ایک چھوٹا سا صحن جہاں چرپاٸی رکھی تھی
سامنے درمیانہ ساٸز کا ایک کمرہ داٸیں طرف کچن تھا باٸیں طرف باتھ روم تھا
”اوۓ چل جو جو تیرے پاس ہے سب نکال یہاں رکھ“
فاضل نے بنا دیر کیے اپنی جیب سے پیسے موباٸل سیگریٹ سب نکال کر چرپاٸی پر رکھ دیا
”یہی سب ہے میرے پاس اب مجھے جانے دو پلیز“
فاضل ہاتھ جوڑے بولا
”چپ کر زیادہ چپڑ چپڑ کی نہ زبان کاٹ کر پھینک دوں گا کھڑا رہ خاموشی سے“
اس میں سے ایک آدمی نے زور کا منہ پر تمانچہ مارا
دوسرا آدمی کمرے میں گیا اور ایک لمبی سی چادر اٹھا لایا
”چل یہ پکڑ وہ سامنے کمرا ہے وہاں جا اور اپنے سارے کپڑے اتار کر یہ چادر ساڑھی کی طرح باندھ کر آ کپڑے سارے اتاریو سمجھا“
اس آدمی کی بات سن کر فاضل کی روح کانپ گٸ تھی وہ سمجھ گیا تھا ان کی عجیب نظروں کا مطلب اور یہ بھی کہ وہ اسے کس کام کے لیے لاٸیں ہیں
”نہیں نہیں پلیز میں ایسا لڑکا نہیں مجھے جانے دو پلیز میری گاڑی بھی رکھ لو میں کسی کو کچھ نہیں بتاٶں گا تمھارے بارے میں
وہ خوش شکل تھا رنگ بھی صاف تھا نین نقش بھی اچھے تھے وہ چاروں اس پر لٹوں ہوگۓ تھے
وہ ان کے سامنے گڑاگڑانے لگا
مگر کوٸی فاٸدہ نہیں ہوا
بللکہ اسکے دوسرے گال پر بھی تھپڑ پڑ گیا تھپڑ اتنا شدید تھا کہ وہ زمین پر جاگرا
”میں ایسا لڑکا نہیں ہوں میں اچھے گھر کا شریف لڑکا ہوں میں ایسے کام نہیں کرتا“
”ہاہاہاہا ہم تو ایسے ہیں نہ اور ہم ایسے ہی کام کرتے ہیں چل اٹھ جلدی جو کہا ہے وہ کر“
وہ آدمی اس کے بال پکڑ کرے اسے اٹھاتا بولا
”میں نہیں مانوں گا تمھاری بات جوکرنا ہے کرلو“
وہ دھاڑا تھا
اس آدمی کے منہ پر زور سے مکہ مار کر دروازے کی طرف بھاگا تھا
دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ دوبارہ غنڈوں کی گرفت میں آچکا تھا
بہت چربی چڑی ہے تجھے روک ابھی بتاتا ہوں تجھے
دو آدمی اسکے ہاتھ پکڑے تھے ایک اس کے سامنے کھڑا تھا چوتھا چرپاٸی پر بیٹھا تماشا دیکھ رہا تھا
”مجھے جانے دو پلیز مجھے جانے دو“
وہ باقاٸدہ رونے لگا تھا
اس کے رونے پر ان چاروں کے جناتی قہقے صحن میں گونجے تھے
”جیسا ہم کہہ رہے ہیں ویسا کر ہم چھوڑ دیں گے تجھے“
”نہیں نہیں میں نہیں کرسکتا ایسا کیوں کر رہے ہو میرے ساتھ ایسا تم لوگ“
”اوۓ کیا دیکھ رہے ہو تم لوگ یہ ایسے ہی ڈرامے کرتا رہے گا جاٶ تم لوگ خود تیار کردو اس کو“
چرپاٸی پر بیٹھا آدمی اسے للچاٸی نظروں سے دیکھتا بولا
”چل تجھے تیار کرتے ہیں“
وہ اسے گھسیٹ کر کمرے کی طرف لے جانے لگے
”اچھا میں خود تیار ہوجاٶں گا چھوڑو مجھے“
وہ ہار مانتا بولا
”چل جا پانچ منٹ میں تیار ہو“
وہ اس کے ہاتھ میں چادر تھما کر کمرے کی طرف دھکیلتا بولا
وہ جلدی سے کمرے میں گھسا اور دروازے کی کنڈی لگا لی
پھر وہی دروازے سے لگ کر بیٹھ گیا
”کاش میں مام سے بدتمیزی کرکے گھر سے نہ نکلا ہوتا “
”کاش “
”مجھے احساس ہوگیا ہے میں بہت برا ہوں میں نے سب کے ساتھ برا کیا ہے سب سے بڑا مجرم تو میں انشرہ کا ہوں اسکی بددعا لگی ہے جو میں یہاں اس حال میں ہوں “
”کیا کروں اب میں“؟
وہ گھٹنوں میں منہ دیے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا
”اوۓ پانچ منٹ ہوگۓ ہیں اگر توں نے دو منٹ میں دروازہ نہیں کھولا تو ہم دروازہ توڑ کر اندر آجاٸیں گے جلدی کر“
اسے بھاگنے کے لیے کوٸی کھڑکی تلاش کی لیکن اس کمرے میں دیواروں کے سوا کچھ نہیں تھا
مجبوراً اسے ان کی بات پر عمل کرنا پڑا
”کھول رہا ہے دروازہ یا توڑ دیں“
ان کی دھمکی پر اس نے دروازہ کھول دیا
”واہ رے چمک چھلو کیا آٸٹم لگ رہا ہے“
ایک آدمی اس کے رخسار کھینچتا بولا
وہ سر جھکاۓ آنسو بہارہا تھا
وہ اسے دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کر رہے اسے ساڑھی باندھنی تو آتی نہیں تھی جیسے کیسے کرکے اس نے اپنا آپ چھپانے کے لیے باندھ لی تھی
اس کے اوپری جسم پر ادھورا ڈھکا ہوا تھا کمر پیٹ بازوں برہنہ تھے
آج فاضل کو وہ تکلیف محسوس ہورہی تھی جو انشرہ نے کی تھی جب فاضل نے اس کی قمیض پھاڑ کر اسے برہنہ کیا تھا
انہوں نے ایک وِک (مصنوعی بال)اس کے سر پر پہنا دی اور سرخ لپسٹک اس کے ہونٹوں پر لگا دی جو زبردستی لگانے کی وجہ سے ہونٹوں کے کنارے تک پھیل گٸ تھی
وہ کافی مضحکہ خیز لگ رہا تھا
”چل ناچ کے دیکھا ہمیں“
وہ چاروں چرپاٸی پر بیٹھے اسے حکم دینے لگے
”مجھے نہیں آتا ناچنا“
وہ نظریں جھکاۓ بولا
”چل ہم سکھا دیتے ہیں“
وہ چاروں اس کے ارد گرد جمع ہوگۓ اور اسے زبردستی اپنے ساتھ نچوانے لگے
وہ کبھی اس کی کمر کو چھوتے تو کبھی سینے کو
فاضل کو ان کے چھونے سے کراہیت ہورہی تھی گھن آرہی تھی اپنے وجود سے
دو تین بار وہ اس حساس جگہوں کو بھی چھو چکے تھے وقفے وقفے سے اس چہرے اور کندھوں پر بوسے دے رہے تھے
”پلیز بس کرو مجھے جانے دو مجھے جانے دو مجھے گھر جانا ہے مجھے میری مام کے پاس جانا ہے“
وہ وہی بیٹھ کر دھاڑے مار کر رونے لگا
”ہاہاہاہا ابے دیکھ سالے کو کیسے بچوں کی طرح رو رہا ہے“
ایک آدمی اسے اٹھا کر کندھے پر ڈالتا کمرے میں لے گیا
کمرے میں لے جاکر اسے بیڈ پر پھینک دیا
وہ آدمی اس پر جھکتا کہ پیچھے سے ایک آدمی آیا اور اسے پکڑ کر پیچھے کیا
”ابے ہٹ اس کو یہاں لانے کا پلین میرا تھا میں پہلے چانس ماروں گا“
”اس کو پہلے میں نے دیکھا تھا پہلے میری باری آۓ گی“
تیسرا آدمی بولا
”نہیں پہلے میں“
”نہیں پہلے میری باری آۓ گی“
ایسے بحث کرتے کرتے وہ لوگ فاضل کو بھول کر آپس میں ہی لڑنے لگے اس نے موقعے سے فاٸدہ اٹھایا
بجلی کی تیزی سے اٹھا اور کمرے سے نکل کر باہر سے دورازے کی کنڈی لگا دی
چرپاٸی پر رکھا اپنا سامان اٹھایا اور گھر کے دروازے سے باہر نکل کر اس کی بھی باہر سے کنڈی لگا دی کیونکہ وہ کمرے کا دروازہ توڑ چکے تھے جو لکڑی کا بنا تھا
اس نے فل اسپیڈ میں گاڑی بھگاٸی اور اپنے گھر کے دروازے پر جاکر روکی
بنا دیر کیے وہ گھر میں داخل ہوا اور سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا
الماری سے کپڑے نکال کر واشروم میں گھس گیا
شاور کے نیچے کھڑا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا
بےدردی سے اپنے جسم کو رگڑ رہا تھا جیسے اس کے جسم پر گند لگا ہو
”انشرہ آج مجھے تمھاری نکلیف کا احساس ہورہا ہے اس وقت تم پر کیا گزری ہوگی مجھے آج معلوم ہوا“
” ملاٸکہ کو میرا چھونا کتنا برا لگتا ہوگا اس کا اندازہ مجھے آج ہوا “
”میں سب غلط کام چھوڑ دوں گا معافی مانگ لوں گا سب سے جس جس کا میں نے دل دکھایا ہے تکلیف دی ہے“
کچھ دیر بعد وہ کپڑے پہن کر رابعہ بیگم کے کمرے میں گیا
وہ سورہیں تھیں
ان کے دونوں پاٶں پکڑ کر اس پر پیشانی ٹکاۓ وہ سسکنے لگا
رابعہ بیگم کو اپنے پاٶں پر نمی کا احساس ہوا تو ان کی آنکھ کھول گٸ
”فاضل میرا بچہ کیا ہوا ہے “؟
”ایسے کیوں رو رہے ہو“؟
وہ تڑپ اٹھیں تھیں تھیں
”مام مجھے معاف کردیں میں بہت برا بیٹا ہوں بہت بدتمیزی کرتا ہوں آپ سے بہت دل دکھاتا ہوں آپ کا“
وہ ہاتھ جوڑ کر روتا ہوا معاف مانگ رہا تھا
”نہیں نہیں میرا بچہ کوٸی بات نہیں میں نے تمھیں معاف کیا تم رونا بند کرو“
رابعہ بیگم اس کے آنسو صاف کرتیں سینے سے لگاٸیں بولیں
”مام کیا انشرہ مجھے معاف کردے گی“
اس کی آنکھوں میں ایک امید تھی جو رابعہ بیگم نے ٹوٹنے نہیں دیا
”اگر تم سچے دل سے طوبہ کرلو اور دل سے اس سے معافی مانگوں تو وہ تمھیں ضرور معاف کردے گی“
”میں مانگوں گا اس سے معافی نہیں معاف کرےگی تو اس کے پاٶں میں گرجاٶں گا“
وہ اٹل لہجے میں بولا
”آج ہو کیا گیا تمھیں“؟“
رابعہ بیگم حیرانگی سے بولیں وہ بہت بدلہ بدلہ لگا ان کو وہ
اس نے جب سے ہوش سنبھالا پہلی اور آخری بار اپنے والد کی وفات پر رویا تھا اس کے بعد سے آج وہ اسے روتا ہوا دیکھ رہیں تھیں
”مام بس یہ سمجھے میری آنکھیں کھول گٸیں ہیں میرے دماغ پر جما گند دھول گیا ہے“
”بیٹا میں بہت خوش ہوں تمھارے لیے میرے دل کو قرار آگیا مجھے ہر وقت تمھاری فکر لاحق رہتی تھی اب میں پرسکون ہوں میرے بچے“
رابعہ بیگم نے محبت سے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا
”اچھا مام فجر کی اذان ہورہی ہے میں نماز پڑھ کر آتا ہوں آپ بھی پڑھ لیں“
اس کی سماعت میں جیسے ہی اذان کی آواز پڑی وہ اٹھ کھڑا ہوا
رابعہ بیگم حیران رہ گٸیں وہ کبھی بھی اپنی نیند کو قربان کرکے فجر کی نماز پڑھنے نہیں جاتا تھا رمضان میں بھی بڑی مشکل سے رابعہ بیگم زبردستی اسے بھجتی تھیں
”اللٰہ تیرا تیرا لاکھ لاکھ شکر توں نے میرے بچے کو سیدھی راہ دیکھاٸی“
وہ اپنے آنسوں پونچتی وضو کرنے چلیں گٸیں تھیں
