Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabat Ke Rung Eid Ke Sang Episode 2

Mohabat Ke Rung Eid Ke Sung by Misbah Khalid

”ممی میں تو دلہن لگ رہی ہوں اتنا کیوں تیار کیا ہے مجھے““

” معلوم ہوجاۓ گا ابھی خاموشی سے میرے ساتھ چلو اور زیادہ باتیں نہیں کرنا““

حرا بیگم کی ہدایت پر اس کا منہ اتر گیا

”بھٸ کیوں نہ کروں بتیں ہمارے گھر اتنے سارے مہمان آٸیں ہیں میری پھپھو خالہ ماموں میرے سب کزن اور میں ان سے باتیں نہ کروں ان کو کتنا برا لگے گا“

”ہاۓ لڑکی میرا سر کھاگٸ ہو تم خاموش ہوجاٶ بلکل ورنہ ٹیپ لگادوں گی تمھارے منہ پر“

حرا بیگم نے اسے ڈنپٹا تو وہ خاموش ہوگٸ

”آپ نے بھی کپڑے تبدیل کر لیے“

ملاٸکہ کہاں چپ رہنے والی تھی کمرے سے باہر نکلتے ہی اس کا سامنہ عابس سے ہوا جو بلیک تھری پیس پہنے کھڑا اس کے آنے کا ہی انتظار کررہا تھا

”ہاں بتاٶ لگ رہا ہوں نہ ہیرو“

”ہیرو سے بھی زیادہ اچھے لگ رہے ہیں““

وہ پیار سے اس کے دونوں رخسار کھنچتی بولی

””ملاٸکہ تمھیں کہا ہے نہ خاموشی سے بیٹھو“

اس کی حرکت پر سب ہی کھلکھلا کر ہنسے تھے

حرا بیگم کا دل کیا اپنا سر پیٹ لے

انہوں نے اسے پکڑ کر صوفے پر بیٹھا دیا اسے سے کچھ فاصلے پر عابس بھی بیٹھ گیا

”اکمل رسم شروع کریں“

”جی جی بھاٸی صاحب بسم اللّٰہ کریں“

”یہ لو بیٹا یہ انگوٹھی ملاٸکہ کو پہنا دو“

”یہ سب کیا ہورہا ہے کوٸی مجھے بھی کچھ بتاۓ““

وہ حیران پریشان سی سب کو تکتی گویا ہوٸی

”ہماری منگنی ہورہی ہے“

عابس نے اس کے ہاتھ کی تیسری انگلی میں انگوٹھی پہناتے ہوۓ سرگوشی کی تھی

عابس کے انگوٹھی پہناتے ہی ہال میں سب کی تالیوں کا شور اٹھا تھا

”ملاٸکہ بیٹا یہ لو عابس کو انگوٹھی پہناٶ“

حرا بیگم نے اس کے ہاتھ میں انگوٹھی پکڑاٸی

وہ ناسمجھی سے کبھی عابس کو دیکھتی تو کبھی ہاتھ میں پکڑی انگوٹھی کو

”کیا ہوا؟“

” کیا تم خوش نہیں“؟

” تم بتادو اگر خوش نہیں تو میں ابھی منگنی روکوا دوں گا“

ملاٸکہ کا اترا چہرا دیکھ وہ اپنے دل پر پتھر رکھ گیا تھا

”آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ہماری منگنی ہے میں اپنی سہیلیوں کو بھی بلاتی“

اس نے منہ پھاڑ کر سب کے سامنے کہا تھا

حرا بیگم نے اپنا سر پیٹ لیا تھا

” کب عقل آۓ گی اس لڑکی کو“

”میری پیاری بیٹی اپنے شادی پر بلالینا سہلیوں کو ابھی انگوٹھی پہناٶ عابس کو“

اکمل صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر محبت سے کہا

اس نے بنا دیر کیے عابس کا ہاتھ پکڑا اور اسے انگوٹھی پہنا دیں

ایک بار پھر ہال میں شور اٹھا سب نے باری باری ایک دوسرے کا منہ میٹھا کیا

”پھپھو یہ نہیں وہ کالا والا گلاب جامن کھلاٸیں وہ پسند ہے مجھے“

فوزیہ بیگم جو اسے سفید رس گلا کھلانے والی تھیں اس نے انہیں درمیان میں ہی روک دیا

”یہ لو تمھارا کالا گلاب جامن“

فوزیہ بیگم نے بڑاسا پیس ملاٸکہ کے منہ میں ڈال دیا

”سنیں“

”جی سناٸیں““

”وہ اب ہم ہمیشہ ساتھ رہے گے نہ“

وہ اس کے پہلو میں بیٹھی لاڈ سے بولی

”ہاں بلکل ہم ساتھ رہے گے“

”واٶ کتنا مزا آۓ گا نہ میں ہمیشہ ممی پاپا کے پاس رہو گی اور مجھے کھانا بنانا بھی نہیں سیکھنا پڑے گا“

”واہ بھٸ خوب مزے ہوگۓ تمھارے تو“

وہ اس کی چھوٹی سی ناک پکڑتا بولا

”اممم نہیں کریں نہ“

”آجاٸیں سب کھانا لگ گیا ہے“

حرا بیگم نے آواز لگاٸی

”چلیں کھانا کھاتے ہیں”

ملاٸکہ نے عابس کا بازوں تھاما

”ابھی تو تم نے اپنا کوٹا پورا کیا تھا پھر بھوک لگ گٸ تمھیں“

”وہ ممی نے بریانی بناٸی ہے نہ تو اگر میں نے بریانی نہیں کھاٸی تو وہ برا مان جاۓ گی “

”کیا چیز ہو یار تم قسم سے فلم ہو پوری“

عابس نے اس کے سر پر چپت لگاٸی

”ہم مجھے پتا ہے چلیں اب کھانا کھاتے ہیں“

”چلو بھوکی“

وہ اس کا ہاتھ تھام کر ڈاٸنیگ ہال میں لے گیا جہاں سب کھانا کھا رہے تھ

”انشو“

”کیسی ہو“ ؟

”ٹھیک ہوں“

وہ اتنا کہہ کر خاموش ہوگٸ تھی

عابس بدمزہ ہوا تھا

”یار تم تو بولتی ہی نہیں تھوڑی بات وات کیا کرو سب سے گھلا ملا کیا کرو چہرے پر بارہ بجا کر گھومتی ہو“

عابس نے انشرہ کے کندے پر ہاتھ رکھا تھا

”دور رہ کر بات کیا کریں مجھ سے“

انشرہ نے غصے سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا

”تمھیں کیا ہوگیا“؟

” پہلے تو ایسی نہیں تھیں تم کسی سے بات کرو نہ کرو مجھ سے تو کرتی تھیں اب تو دیکھتی تک نہیں میری طرف“

اس کے سوال پر انشرہ خاموش رہی

عابس اپنا سا منہ لے کر وہاں سے چلا گیا

عابس کو گۓ کچھ پل ہی گزرے تھے کہ وہاں فاضل آگیا

”کیا باتیں کرہیں تھیں عابس سے“

انشرہ نے کوٸی جواب نہیں دیا اور وہاں سے بھاگنے کے لیے پر تولنے لگی

”میری بات کا جواب دیے بنا نہیں جاسکتی تم“

فاضل اس کا ارادہ بھانپ کر فوراً اس کے بازوں پر ہاتھ رکھ اسے اپنے برابر میں کھڑا کرلیا

”ہٹیں پیچھے مجھ سے دور رہ کر بات کیا کریں“

انشرہ نے فاضل کو پیچھے دھکیلا

سب بڑے باہر لان میں بیٹھے تھے باقی سب اپنی باتوں میں مصروف تھے انہیں کوٸی نہیں دیکھ رہا تھا اسی بات کا فاٸدہ فاضل اٹھا رہا تھا

”اپنے عاشق سے بڑا چپکے کھڑی تھیں مجھے دھکے دے رہی ہو““

اس نے دوبارہ انشرہ کو اپنے حصار میں لے لیا

وہ اس کے گھٹیا الزام پر آنکھوں میں آنسوں بھرے نظریں نیچے جھکا گٸ تھی

”ویسے کافی حسیں ہوتی جارہی ہو دن بہ دن سوچ رہا ہوں ایک اور بار“

”نہیں پلیز نہیں خدا کا واسطہ میرا پیچھا چھوڑدیں کیا ملتا ہے آپکو مجھے یوں اذیت دے کر“

”تمھیں تو میں ساری زندگی اسے ہی اذیت دوں گا بےبی“

وہ اس کے رخسار پر لب رکھتا وہاں سے چلا گیا تھا

انشرہ نے اپنے رخسار کو بے دردی سے رگڑا تھا

”فاضل ذرا یہاں آنا مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے“

”ہاں کہو کیا بات کرنی ہے“

”ادھر آٶ ساٸیڈ میں“

عابس اس کی گردن میں ہاتھ ڈال اپنے ساتھ لے گیا

”عابس کیا کررہا ہے یار گردن توڑے گا کیا“؟

”دل تو یہ ہی چاہ رہا ہے توڑ دوں مگر بدقسمتی سے تم میرے کزن ہو““

عابس نے اس کے گردن پر گرفت اور مضبوط ہوگٸ تھی

”یار تمھارا مسلٸہ کیا ہے کیوں کررہے ہو یہ سب“

وہ کراہتا ہوا بمشکل اپنی گردن چھوڑاتا بولا

”تمھیں میں پہلی اور آخری بار کہہ رہا ہوں آٸندہ میری ہونے والی بیوی کے قریب آنے کی کوشش کی یا اسے چھونے کی کوشش کی تو ہاتھ پاٶں توڑ کر سیگنل پر بیٹھا دوں گا پھر وہاں اپنے سارے واہیات شوق پورے کرنا“

”عابس ہوش میں تو ہو کتنا گھٹیا الزام لگا رہے ہو مجھ پر پورے دو سال بڑا ہوں تم سے کچھ تو لحاظ کرو میرا“

وہ دونوں خاموش گوشے میں کھڑے تھے اس لیے انہیں کوٸی سن نہیں پارہا تھا دور سے دیکھنے پر یہی لگتا وہ دونوں آپس میں باتیں کررہے ہیں

”عورت ہو یا بچی وہ اپنے اوپر اٹھنے والی گندی نظر اور ہاتھ دونوں پہچان جاتی ہے تمھارے لیے بہتر یہی ہے میری ملاٸکہ سے دور رہو سمجھے“

عابس اسے دھمکی دے کر وہاں سے چلا گیا

فاضل بھی بنا کچھ کہے گھر سے نکل گیا تھا

”آہ یہ لڑکی بھی نہ“

”کہا بھی تھا سونا نہیں رات کو آٶں گا روم میں“

”چلو خیر ہے کل بات کرلوں گا اس سے تو میں“

”ایک تو اس کے سونے کا اسٹاٸل اچھے خاصے بندے کا ایمان خراب کردے”

وہ بیڈ پر الٹی لیٹی بے خبر سورہی تھی قمیض اتنی اوپر چڑھی ہوٸی تھی کہ اس کی کمر صاف واضح ہورہی تھی ایک پاٶں کا پاٸیچہ گھٹنوں تک تھا تو ایک کا ٹخنوں سے ذرا اوپر ہاتھ پورے بیڈ پر بھیلے ہوۓ تھے

وہ نفی میں سر ہلاتا آگے بڑھا اس کی قمیض ٹھیک کی دونوں پاٸیچے نیچے کیے اور کمبل اوڑھا کر اس کی پیشانی پر بوسہ دے کر کمرے سے باہر نکل گیا

”فاضل تمھارا دماغ ٹھیک ہے کیوں تم رسوا کروانے پر تلے ہو مجھے“

”میں نے کیا غلط کہہ دیا پسند ہے مجھے ملاٸکہ میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں آپ بات کریں ماموں سے“

وہ انتہاٸی بدتمیزی سے گویا ہوا

”وہ نکاح میں ہے عابس کی بچپن میں ان دونوں کا نکاح کروادیا تھا بھاٸی نے منگنی تو ملاٸکہ کی وجہ سے کی ہے کیونکہ جب اس کا نکاح ہوا وہ چھوٹی تھی اس لیے اسے کچھ یاد نہیں اگر ہم اسے سیدھا نکاح کا بتاتے کیا معلوم وہ کیسا ردِ عمل دیتی حساس بھی بہت ہے اس لیے منگنی کی ہے“

رابعہ بیگم نے اسے مکمل تفصیل سے آگاہ کیا

فاضل کا پارہ مزید چڑھ گیا

”تو بچپن میں آپ میرے لیے نہیں مانگ سکتی تھیں اس کو“

وہ دھاڑا تھا۔۔