Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabat Ke Rung Eid Ke Sang Episode 3

Mohabat Ke Rung Eid Ke Sang by Misbah Khalid

”اپنی بکواس بند کرو تمھیں کچھ ہوش ہے کیا کہہ رہے ہو تم اس معصوم کا سوچا ہے تم نے جو تمھارے نام پر بیٹی ہے“

”اس معصوم کے ہونے نہ ہونے سے مجھے کوٸی فرق نہیں پڑتا آپ نے زبردستی باندھا اس کو میرے گلے میں““

غصے کی ذیادتی کی وجہ سے اس کی گردن کی نسے تک واضح ہونے لگیں تھیں

ایک پل کو فوزیہ بیگم بھی اس کے غصے سے ڈر گٸیں تھیں پھر بھی ہمت کرتیں دوبارہ گویا ہوٸیں

”ہاں تمھیں کیوں فرق پڑے گا تم اس سے اپنی ہوس جو پوری کرچکے ہو“

فوزیہ بیگم نے اسے آٸینہ دیکھایا

”چاہے کچھ بھی ہوجاۓ ملاٸکہ کو تو میں حاصل کرکے رہو گا“

وہ اٹل انداز میں کہتا وہاں سے جانے لگا

”روکو اتنی رات میں کہاں جارہے ہو تم “

فوزیہ بیگم نے اس کا بازوں پکڑے اسے روک لیا

”جہاں بھی جاٶں آپ کو کیا اور بار بار کال کرکے مجھے تنگ نہیں کرنا جب دل چاہے گا آجاٶں گا گھر“

وہ بےدردی سے اپنی ماں کا ہاتھ جھٹک کر گھر سے نکل گیا

”کونسے گناہوں کی سزا مل رہی ہے مجھے جو ایسا بدزات بیٹا ملا مجھے فضل کیوں چھوڑ کر چلے گۓ آپ مجھے اتنی جلدی مجھے بھی اپنے ساتھ لے جاتے“

وہ اپنے شوہر کو یاد کرتیں ہاتھوں میں چہرا چھپاۓ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں

”نہیں نہیں چھوڑیں مجھے“

”دور رہے مجھ سے“

”ہاتھ نہیں لگاٸیں مجھے“

”امی امی کوٸی مدد کرو میری“

”پیلز بھاٸی جانے دیں مجھے““

”نہہہہہہیں“

وہ یکدم ہوش میں آٸی تھی جسم پسینے سے شرابور تھا

امی اپ نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ مجھے کیوں انصاف نہیں دلایا آپ بھی گنہگار ہیں میری“

”اللّٰہ میں نے اپنا فیصلہ تجھ پر چھوڑا ہے توں بہتر انصاف کرنے والا ہے میرے مجرم کو بھی ایسی سزا دینا کہ اس کی روح کانپ جاۓ”

نیند آنکھوں سے تو اڑ چکی تھی وہ روتے روتے بستر سے اٹھی اور وضو کرکے تہجد کی نماز پڑھنے لگی

❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤***(ماضی*** **)**

***🌸تین سال قبل*** **🌸**

”فاضل بیٹا ہماری ایک عزیز سہیلی کی ساس کا انتقال ہوگیا ہے ہم لوگ وہاں جارہے ہیں“

”تم انشرہ کے ساتھ رہنا وہ گھر میں اکیلی ہے بھاٸی صاحب(فوزیہ بیگم کے شوہر) آجاٸیں تو تم گھر چلے جانا“

”امی جلدی آٸیے گا“

سترہ سالہ انشرہ اپنی ماں کو رخصت کرتی بولی

”ہاں بیٹا جلدی آٸیں گے تم پریشان نہیں ہو بھاٸی ہے نہ تمھارے ساتھ تھوڑی دیر میں تمھارے ابو بھی آجاٸیں گے“

وہ پیار سے اپنی بیٹی کو سمجھاتے ہوۓ گھر سے باہر نکل گٸیں

”اے انشو چاۓ تو پلادو یار بڑی طلب ہورہی ہے“

”جی بھاٸی ابھی بنا کر لاتی ہو آپ بیٹھیں“

فاضل وہی صوفے پر بیٹھا موباٸل چلانے لگا انشرہ کچن میں چلی گٸ

کچھ دیر بعد وہ گرما کرم بھانپ اڑاتی چاۓ لے آٸی

اس کو دیکھ کر فاضل ایک دم سے گھبرا گیا ہاتھ میں پکڑا موباٸل جلدی سے بند کرکے جیب میں ڈال لیا

اس کے ماتھے پر پسینہ چمک رہا تھا

آنکھوں میں ایک عجیب سا تاثر تھا

”فاضل بھاٸی آپ ٹھیک تو ہیں آپکو اتنے پسینے کیوں آرہے ہیں“

انشرہ نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوۓ استفسار کیا

فاضل نے ایک بھر پور نظر اسکے سراپے پر ڈالی وہ سبز کرتی کے ساتھ پلازوں پہنے تھی دوپٹہ سینے پر پھیلایا ہوا تھا وہ اس وقت فاضل کو اپنی ہوس کے لیے آسان شکار لگی

اس نے اپنے ماتھے پر انشرہ کا رکھا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچ لیا وہ سیدھا اس کے سینے پر آ گری

وہ اٹھتی اس سے پہلے ہی فاضل اسے اپنے مضبوط حصار میں لے چکا تھا

اس کے بالوں میں منہ چھپاۓ ان کی خوشبوں اپنے اندر اتار رہا تھا

”چھوڑیں مجھے فاضل بھاٸی یہ کیا کررہے ہیں“؟

وہ اس دور ہونے کی کوشش کرتی بولی

”چھوڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا“

وہ انشرہ کو بانہوں میں بھرتا کمرے میں لے گیا جو انشرہ کا ہی تھا

”چھوڑیں مجھے فاضل بھاٸی پلیز نہیں کریں ایسا یہ گناہ ہے مجھے جانے دیں“

وہ روتی گڑگڑاتی اس سے دور ہونے کی کوشش کررہی تھی

”نہیں میری بلبل آج تو ہاتھ آٸی ہے آج نہیں چھوڑوں گا“

وہ اسے بیڈ پر پھینکتا اس پر جھک گیا

اس کے ہونٹوں کا لمس اپنے لبوں پر محسوس کرکے وہ تڑپ اٹھی تھی وہ بھر پور کوشش کررہی تھی اسے پیچھے ہٹانے کی مگر وہ نازک سی جان کہاں اس طاقتور مرد کا مقابلہ کرسکتی تھی

”میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں چھوڑ دیں مجھے میں کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہوں گی چھوڑ دیں فاضل بھاٸی“

وہ بےدردی سے اس کے کپڑے پھاڑ رہا تھا اسے نوچ رہا تھا اس کی التجاٶں کا بھی اس پر کوٸی اثر نہیں ہورہا تھا

وہ اپنی حدیں پار کرتا اس سے پہلے ہی دروازہ کھولا

دونوں کی نظریں دروازے پر کھڑے نفوس پر پڑیں

انشرہ فاضل سے اپنا آپ چھڑاتی اپنی ماں کے سینے سے جالگی

میری بچی

ان کا تو دل بند ہونے کو تھا اپنی بیٹی کو اس حالت میں دیکھ

اس کی کرتی تو تقریباً پھٹ ہی گٸ تھی اس کا اوپری جسم واضح ہورہا تھا اس کے جسم پر کاٹنے اور کھروچنے کے نشان تھے

فوزیہ بیگم نے اپنی چادر جلدی سے انشرہ کے وجود پر پھیلاٸی تھی

فاضل نظریں جھکاۓ آگے کا لاحقہ عمل سوچ رہا تھا

چہرے پر پڑھنے والے تھپڑ سے ہوش میں آیا

”بے غیرت شرم نہیں آٸی بہن کی عزت پر ہاتھ ڈالتے ہوۓ“

وہ اس کا چہرہ تھپڑوں سے سرخ کرچکی تھیں

وہ خاموشی سے مار کھا رہا تھا رنگے ہاتھ پکڑا گیا تھا مار کھانے کے علاوہ کچھ کربھی نہیں سکتا تھا

فوزیہ بیگم اسے مار مار تھک گٸیں تو اپنا سر پٹنے لگی

”کس گناہ کی سزا ہو تم میرے کاش پیدا ہوتے ہی مرجاتے میں جنم ہی نہ دیتی کیوں کیا فاضل ایسا کیوں میری بہن کے سامنے زلیل کرکے رکھ دیا تم نے مجھے“

”مام مجھے معاف کردیں میں بہک گیا تھا“

وہ بھر پور اداری کرتا مگرمچھ کے آنسو بہتا معافی مانگ رہا تھا

”انشرح مجھے معاف کردو مجھ سے غلطی ہوگٸ میں بہک گیا تھا“

وہ ہاتھ جوڑے انشرہ کے پاس کھڑا تھا جو اپنی ماں کے سینے سے چپکی رو رہی تھی

”فاضل چلے جاٶ یہاں سے اب بات فضل بھاٸی (رابعہ بیگم کے شوہر) اور فہیم صاحب (فوزیہ بیگم کے شوہر)کے درمیان ہوگی وہی تمھاری سزا منتخب کریں گے“

ان کا لہجہ ٹھنڈا تھا ہر جذبات سے آری ان کو خود پر غصہ آرہا تھا کیوں جوان بیٹی کو تنہا چھوڑ کر گٸیں ایک لڑکے کے ساتھ

اگر وہ موباٸل لینے واپس نہ آتیں تو ان کی بیٹی آج اپنا سب کچھ کھو چکی ہوتی

”نہیں نہیں فوزیہ یہ بات یہی ختم کردو اگر آدمیوں تک یہ بات گٸ تو بات بہت بڑھ جاۓ گی آدمی غصے کے تیز ہوتے ہیں رشتے داریاں ختم کرنے میں دیر نہیں لگاٸیں گے پھر اپنی بچی کا سوچوں یہ کیسے کسی سے نظریں ملا پاۓ گی

تم جتنا چاہو اس کو مار پیٹ لو گالیاں دے لو بس اس بات کو یہی دفن کردو یہ پھر کبھی تمھارے گھر نہیں آۓ گا“

رابعہ بیگم نے سمجھداری سے معاملے کا حل نکالا

”آپا آپ پلیز چلیں جاٸیں اپنے بیٹے کو لے کر یہاں سے ابھی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا میرا دماغ کام نہیں کررہا“

فوزیہ بیگم بےلچک انداز میں بولی

رابعہ بیگم بنا کچھ کہے فاضل کو لے کر وہاں سے چلیں گٸیں

فاضل کو تو کوٸی فرق نہیں پڑھا اس کی ماں نے اس کو بچا لیا تھا

رابعہ بیگم کی طرف سے بھی بلکل خاموشی تھی

مگر انشرہ تو جیسے اپنے ہوش ہواس کھو بیٹھی تھی

راتوں کو سوتے ڈر جاتی چیخنے لگ جاتی

وہ ہر وقت خاموش رہتی جب بولتی تو فوزیہ بیگم کا دل پھٹنے لگتا

”امی انہوں نے مجھے یہاں ہاتھ لگایا تھا“

”یہاں سے میرے کپڑے ایسے پھاڑے تھے“

”میں گندی ہوگٸی ہوں نہ“

”نامحرم نے مجھے برہنہ دیکھا“

”مجھ پر اللّٰہ کا عذاب پڑے گا نہ“

اس کے منہ سے ادا ہوتے یہ چند جملے سن کر ان کا دل چاہتا فاضل کی جان لے لیں

اس کے جسم کی بوٹیاں بنا کر چیل کوّوں کی کھلا دیں

اپنی بہن کے خاطر چپ تھیں وہ ڈرتی بھی تھیں غیرت کے نام پر ان کے شوہر کوٸی بڑا قدم نہ اٹھالیں وہ ویسے بھی غصے کے تیز تھے

فہیم صاحب کام کی وجہ سے گھر والوں کو زیادہ وقت نہیں دے پاتے تھے اس لیے ابھی تک وہ ہر قصے سے انجان تھے

وہ انشرہ کا پوچھتے بھی تو فوزیہ بیگم کہہ دیتیں اس کو بخار ہے آرام کررہی ہے

اس واقع کو ایک ہفتہ گزر گیا تھا

دونوں بہنوں کے درمیان کوٸی بات چیت نہیں ہوٸی تھی

آج ہمت کرکے رابعہ بیگم اپنی بہن سے ملنے آٸیں تھیں

”فوزیہ میں بہت شرمندہ ہوں گھر جاکر بھی میں نے خوب سناٸیں ہیں فاضل کو“

”تمھارے بیٹے نے میری بچی کو برباد کردیا ہے کسی کے لاٸق نہیں رہی وہ“

فوزیہ بیگم آنکھوں میں آنسو لیے بولیں

”لیکن اس دن ہم لوگ وقت پر پہنچ گۓ تھے کچھ غلط ہونے سے پہلے“

”چلیں آٸیں آپا میں ملواتی ہوں انشرہ سے آپکو“

فوزیہ بیگم اپنی بہن کا ہاتھ پکڑے انہیں انشرہ کے کمرے میں لے گٸیں

”دیکھیں اس کو لگ رہی ہے کہیں سے میری انشرہ“

وہ بیڈ پر بیٹھی تھی بال چڑیا کا گھونسلہ بنے ہوۓ تھے جیسے کتنے دن سے بناۓ نہ ہو سلوٹ ذداہ کپڑے وہ ہلکی آواز میں کچھ بڑبڑارہی تھی

رابعہ بیگم کو بہت دکھ ہوا ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسوں نکل آۓ

انشرہ کی ان پر نظر پڑی تو وہ چلانے لگی

”آپ کیوں آٸی ہیں جاٸیں یہاں سے وہ وہ آپ کے بیٹے بھی آجاٸیں گے پھر وہ میرے کپڑے پھاڑ دیں گے مجھے گندہ کردیا انہوں نے مجھے ایسے ایسے ہاتھ لگا رہے تھے ایسے کپڑے پھاڑے تھے میرے اللّٰہ کا عذاب پڑے گا مجھ پر نامحرم نے مجھے برہنہ دیکھا“

”بس کرجا میری بچی بس کرجا معاف کردے اپنی خالہ کو جس نے اس شیطان کو جنہ“

وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی اسے سینے سے لگاگٸیں تھیں

”فوزیہ میرے بیٹے نے تمھاری بیٹی کا یہ حال کیا ہے اب وہ ہی ٹھیک کرے گا اس کو اگر یہ ٹھیک نہ بھی ہوٸی تب بھی یہ اسی کی رہے گی تم نکاح کروادو اس کا فاضل سے“

”آپا یہ کیسی باتیں کررہی ہیں فاضل جیسے وحشی کے ساتھ کبھی نہیں بیاہوں گی اپنی بیٹی کو“

فوزیہ بیگم بھڑک اٹھیں تھیں

”فوزیہ تحمل سے میری بات سنو انشرہ نے یہ بات سر پر سوار کرلی ہے کہ ایک مرد نے اس کو برہنہ دیکھا اگر اسی مرد کو اس کا محرم بنادیں تو ہوسکتا ہے اس کو کچھ سکون آۓ وہ ٹھیک ہوجاۓ لیکن وہ اگر ٹھیک بھی نہیں ہوٸی تو بھی وہ فاضل کی رہے گی اور فاضل کی طرف سے بے فکر ہوجاٶ اسے میں پھر کبھی انشرہ کو تکلیف پہنچانے نہیں دوں گی میری بہن میری بات مان لو اس سے پہلے انشرہ کی حالت دیکھ کر کسی کو شک ہو ہمیں اس کا نکاح کردینا چاہیے“

رابعہ بیگم کے کافی دیر سمجھانے کے بعد فوزیہ بیگم راضی ہوگٸیں

فاضل کو رابعہ بیگم نے دھمکی دے کر راضی کیا تھا کہ” اگر وہ نہیں مانا تو وہ سب کچھ اس کے والد کو بتادیں گیں“

انشرہ کو جب فوزیہ بیگم نے بتایا تو وہ بہت روٸی لڑی بھی بہت فوزیہ بیگم سے کہ وہ اس کو انصاف دلانے کے بجاۓ اس درندے کے حوالے کررہی ہیں اس کو

فوزیہ بیگم کی ہزار التجاٶ کے بعد وہ مان گٸ تھی

نکاح سے فرق اتنا ہوا تھا انشرہ نے پرانہ زخم بھول کر نیا غم سینے سے لگا لیا تھا

اس کی ساری زندگی اس شخص کے نام ہوگٸ تھی جس نے اس کی عزت پر ہاتھ ڈالا تھا

وہ بلکل خاموش ہوگٸ تھی

رابعہ بیگم فوزیہ بیگم سے بھی بات کرنا چھوڑ دی تھی اس نے

اپنے ماموں کے گھر جاتی تو ایک طرف خاموشی سے بیٹھ جاتی وہ ویسے بھی کم گو تھی اب اور بھی خاموش ہوگٸ تھی کوٸی اس سے بات کرتا تو کرلیتی یا مصنوعی سا مسکرا دیتی

فاضل کو جب موقع ملتا وہ اس کے قریب آتا اسے نکاح ختم کرنے کی کہتا وہ خود تو مجبور تھا ماں کی دھمکی کی وجہ سے اس لیے اسے ڈراتا دھمکاتا رہتا

جب فضل صاحب کا انتقال ہوا تھا فاضل بہت دکھی تھا وہ جیسا بھی تھا اپنے باپ سے بہت محبت کرتا تھا

وہ اکثر ان کی تصویر لے کر آنسو بہاتا

انشرہ اور فوزیہ بیگم کو رابعہ بیگم نے اپنے پاس روک لیا تھا

انشرہ کو فاضل کی حالت پر ترس آیا تو وہ اس کے لیے کھانا لے کر اس کے کمرے میں چلی گٸ اس نے دودن سے کچھ نہیں کھایا تھا

”فاضل کھانا کھالیں“

وہ کمرے میں کھانا لے کر داخل ہوٸی کھانا بیڈ پر ایک طرف رف رکھ کر اسے آواز دی

”نہیں کھانا مجھے جاٶ یہاں سے تم“

وہ رخ پھیر کر لیٹ گیا

”کھالیں پلیز دو دن سے کچھ نہیں کھایا آپ نے“

وہ ڈرتی ڈرتی اس کے بال سہلاتی بولی

فاضل نے سرپر رکھا اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے طرف کھینچ لیا

وہ اس سینے پر آگری

”انشو میں بہت تکلیف میں ہوں میرے ڈیڈ مجھے چھوڑ کر چلے گۓ میں اکیلا رہ گیا“

وہ اسے بانہوں میں لیے بچوں کی اس سے کہہ رہا تھا

”فاضل آب اکیلے نہیں ہیں میں ہوں آپ کے ساتھ خالا ہیں امی ابو ماموں مامی سب ہیں آپ کبھی خود کو اکیلا نہیں سمجھنا“

اس نے تھوڑا سر اوپر کرکے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ اپنے ہونے کا احساس دلایا تھا

”تم ہمیشہ میرے ساتھ رہو گی نہ“

”جی ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گی اب آپ اٹھیں کھانا کھالیں ٹھنڈا ہورہا ہے“

وہ اس کے اوپر سے اٹھتی ہوٸی بولی

”تم کھلاٶ اپنے ہاتھ سے“

وہ لیٹے لیٹے ہی بولا

”اچھا اٹھ کر بیٹھیں“

وہ اٹھ کر بیٹھا تو انشرہ نے اس کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا

وہ وہاں کچھ دن رہی فاضل اس کا برتاٶ اس کے ساتھ یکسر بدل چکا تھا

وہ سمجھتی تھی فاضل ان کے رشتے کو قبول کرچکا ہے مگر یہ اس کی خوش فہمی تھی

جب فاضل کا غم کم ہوا تو اس نے ملاٸکہ پر نظر رکھنی شروع کردی انشرہ کے ساتھ بھی پہلے والا برتاٶ کرنا شروع کردیا تھا

اس کا دل جو ذرا نرم پڑا تھا فاضل کے لیے وہ دوبارہ سخت ہوچکا تھا