Mere Humnawa Mere Hum Kadam by Dua Fatima NovelR50684 Mere Humnawa Mere Hum Kadam (Last Episode)
Rate this Novel
Mere Humnawa Mere Hum Kadam (Last Episode)
Mere Humnawa Mere Hum Kadam by Dua Fatima
“”دیکھتے ہی دیکھتے وقت پر لگاۓ اڑ جاتا ہے اور آج ان چاروں کی مہندی ہوتی ہے۔۔۔قیصر بھی اپنی فیملی کے ساتھ پہنچ جاتا
ہے۔۔سب اپنی اپنی تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں اور سفیان سب سے الگ تھلگ دنیا سے بیگانہ ۔۔مناہل کی آخری شرط کی تیاری کررہا ہوتا ہے ![]()
قیصر سفیان کو اس کا سوٹ دینے اسکے کمرے میں جاتا ہے اور دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے تھوڑی ہی دیر بعد ہنس ہنس کے لوٹ ہوجاتا
ہے سفیان کے ڈانس سٹیپس دیکھ کر جب سفیان کی نظر پڑتی ہے تو شرمندگی محسوس کرکے فورا سانگ بند کرکے بیڈ پہ بیٹھ جاتا ہے
اور قیصر وہ تو ہنسنے میں ہی مصروف ہوتا ہے اتنی دیر میں طاہر بھی سفیان کے کمرے میں اپنے کھسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے پہنچ جاتا ہے
جو عین وقت پر غائب ہوجاتے ہیں ۔۔اور قیصر کو دیکھتا ہے۔۔
بھائ آپ ہنس کیوں رہے ہیں اتنا؟؟اور قیصر مشکل سے ہنسی کنٹرول کرکے سفیان کا کارنامہ بتاتا ہے
اور سفیان وہ تو دل ہی دل میں مناہل کو کوس رہا ہوتا ہے ۔۔۔پتا نہیں
پاگل کو کیا سوجھی پتا بھی ہے ڈانس نہیں آتا پھر بھی بلبتوری کہیں کی آۓ گی تو یہاں ہی پھر بتاؤں گا اسے ![]()
پھر بھی طاہر اور قیصر تھوڑے بہت ڈانس سٹیپس اسے سکھا دیتے ہیں۔۔۔
یار تو بھی پہلے نہیں سیکھ سکتا تھا ہڈحرام 2
مہینے گزرے ہیں پہلے سویا رہا اور آج اپنی عزت کی فکر ہورہی ہے تجھے کمینے انسان ۔۔۔ قیصر اس کی عزت افزائ کررہا ہوتا
ہے طاہر اسکی ہنسی نکل جاتی ہے سفیان کا منہ دیکھ کر اور سفیان وہ پیر پٹک کر سوٹ اٹھا کر واش روم گھنس جاتا ہے۔۔۔
اب آتے ہیں دلہنوں کی طرف ![]()
“”کرن بھی مناہل کی زد کی وجہ سے وہیں مناہل کے گھر آئ ہوئ تھی اور مناہل اسے اپنا ڈانس دکھا رہی ہوتی ہے ۔۔۔یار تجھے شرم
نی آتی آج تیری بھی مہندی ہے اور تو خود ہی ڈانس کررہی ہے حد ہے کرن اسے سناتی ہے لیکن آگے اثر کسے ![]()
دیکھ کرن۔۔نہیں بلکہ بھابھی جان ![]()
آج میرے بھائ کی بھی مہندی ہے اور سٹیج پر نہیں کرسکتی تو یہیں کرلینے دو ناں اور میں تو سٹیج پر بھی کرلیتی لیکن ماما نے سختی سے منع کردیا اور کہنے لگی مناہل بیٹا دلہنیں
اپنی شادی پر نہیں ناچتی اب تو بس اس چلغوزے کا ڈانس دیکھوں گی اور وہ دونوں قہقہ لگاتی ہیں۔۔۔
“”مہندی سٹارٹ ہوجاتی ہے اور سفیان اور طاہر ایک جیسے تھری پیس سوٹ میں شہزادے لگتے ہیں ۔۔کچھ دیر بعد دولہنوں کو
سٹیج پر لایا جاتا ہے جنہیں دیکھنے والے دیکھتے ہی رہتے ہیں اور سفیان اور طاہر وہ تو دیوانے وار انہیں دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔گرین
لہنگے میں دوپٹہ سر پر سیٹ کیے بالوں کو سائیڈ پر کرکے میک اپ میں وہ دونوں ہی بے حد حسین لگتی ہیں۔۔۔ان کے نزدیک آتے ہی سفیان
اور طاہر اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہیں جنہیں وہ تھام لیتی ہیں۔۔طاہر تو کرن کو لے کر سٹیج پت چلا جاتا ہے ۔۔لیکن سفیان وہ تو جھٹکے
سے اپنا ہاتھ چھڑ واکر اپنی ہتھیلی کو مسل رہا ہوتا ہے جہاں مناہل نے بھی اسی دن کی طرح اپنا بدلہ لیتے ہوۓ سفیان کے ہاتھ میں سوئ چبھائ تھی اور اب سفیان کو دیکھ کر
آنکھ مارتی ہے
سفیان تو حیران رہ جاتا ہے کہ کوئ اپنی مہندی پہ بھی ایسی حرکتیں کرتا ہے جنگلی بلی۔۔۔اور دوبارہ سے مناہل کا ہاتھ تھامتے ہوۓ اسے اوپر لے جاتا ہے ۔۔۔
“”فنکشن شروع ہوتے ہی سفیان ڈی جے کے پاس اسے سانگ کا کہہ کر آتا ہے اور مناہل وہ تو بےچین ہوتی ہے سفیان کا ڈانس دیکھنے کے
لیے لیکن سفیان اگلے ہی پل مناہل کے آگے اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے اور مناہل تھام لیتی ہے ۔۔۔طاہر بھی کرن کو لے کر نیچے آجاتا ہے اور اب وہ کپل ڈانس کررہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔
ملے ہو تم ہم کو بڑے نصیبوں سے
چرایا ہے میں نے قسمت کی لکیروں سے
سفیان مناہل کے کان میں سرگوشی کرتا ہے۔۔۔آئ لو یو سویٹ ہارٹ ![]()
“”مناہل کو تو سمجھ ہی نہیں آتی کہ کیا کرے جانے ہی لگتی ہے وہ لیکن سفیان اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچ لیتا ہے اور مناہل بے خبر
کھنچی چلی جاتی ہے اور سفیان کے سینے سے جا لگتی ہے ۔۔۔نہیں جانی اب مجھ سے بچنا آسان نہیں اب تو ساری زندگی میرے ہی
پاس ہو تم گن گن کے اپنے بدلے لوں گا اور ویسے بھی ڈانس کا آئیڈیا اتنا برا بھی نہیں ۔۔۔اور دوبارہ مناہل کے گرد بازو حائل کرلیتا ہے اور ان کا ڈانس مکمل ہوتے ہی سب رسم کرکے فنکشن کو اختتام پر پہنچاتے ہیں۔۔۔
رات کو مناہل سونے ہی لگتی ہے کہ سفیان کا میسج جگمگاتا ہے ۔۔۔
نہ کوئی حال دل تھا اور نہ کوئی حالت جاں تھی___ ![]()
ہمیں اس سے، اسے ہم سے، محبت ہو گئی آخر
S.M
مناہل کے لبوں پہ مسکراہٹ دوڑ جاتی ہے ۔۔۔اور پتا نہیں کب نیند کے آغوش میں آجاتی ہے ۔۔۔۔۔””
______________________
صبح شادی ہوتی ہے۔ مناہل کرن اور ان کی کزنیں تو پارلر چلی جاتی ہیں تیار ہونے ۔۔۔
اور باقی سب حال پہنچ جاتے ہیں۔۔ آج بھی سفیان اور طاہر نے ایک جیسی بلیک شیروانی پہنی تھی اور بہت خوبصورت لگ رہے تھے___
کرن اور مناہل بھی حال پہنچ جاتی ہیں۔۔۔ان کے آتے ہی سفیان اور طاہر بھی سٹیج سے نیچے ان کے ساتھ ساتھ آتے ہیں۔۔۔فوٹوگرافر اپنا کام کررہا ہوتا ہے۔۔۔سب ان چاروں کی
جوڑی کو سراہتے ہیں کرن اور مناہل بھی ان دونوں سے کم نہیں لگتی ریڈ لہنگے بندیا لگاۓ میک اپ میں وہ دونوں پریاں لگتی ہیں۔۔اور
شکیلہ بیگم ان چاروں کی نظر اتارتی ہیں اور وہ سب سٹیج پر چلے جاتے ہیں۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ٹائم آجاتا ہے جب ایک بیٹی اپنا
بچپن اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر ایک دوسرے گھر جاتی ہیں اور وہ دونوں بھی سب سے الوداع ہورہی تھیں ۔۔۔۔!!!قرآن کے ساۓ میں وہ دونوں اپنی نئ زندگی میں رخصت ہوجاتی ہیں ۔۔۔
_____________________
شکیلہ بیگم ان دونوں کو اپنے اپنے کمرے میں بھجوا دیتی ہیں ۔۔۔۔طاہر اپنے کزنوں کے ساتھ ڈرائنگ روم میں بیٹھ جاتا ہے کچھ دیر کے
لیے۔۔ اور سفیان وہ بچتے بچاتے جانے ہی لگتا ہے کمرے میں ۔۔کہ قیصر اس کے کاندھے پہ ہاتھ رکھتا ہے اور سفیان مڑ کر مسکرا کر قیصر کو دیکھنے لگتا ہے ![]()
قیصر اسے کھینچ کر ڈرائنگ روم میں لے جاتا ہے ۔۔۔۔
کرن بیڈ پہ بیٹھی چاروں طرف نظریں گھما کر سجاوٹ کو دیکھتی ہے جو بہت خوبصورت طریقے سے دونوں کمروں کی ایک جیسی ہی کی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اور مناہل اس کا دم گھٹ رہا ہوتا ہے بھاری لہنگے اور جیولری کی وجہ سے ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ دونوں کزنوں سے پیچھا چھڑوا کر اپنی اپنی زندگی کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔۔
“”طاہر کے آتے ہی کرن کو گھبراہٹ ہونے لگتی ہے اور اپنا گھونگھٹ اور نیچے کرکے اپنے آپ میں ہی سمٹ کر بیٹھ جاتی ہے ۔۔۔
طاہر سلام کرتا ہے جس سے وہ سر ہلا کر جواب دیتی ہے اور وہ اسکا گھونگھٹ اٹھاتا ہے پلکیں جھکائے وہ اس وقت طاہر کو دنیا کی
حسین ترین لڑکی لگتی ہے۔۔۔طاہر ڈریسنگ ٹیبل کے ڈور سے ایک مخملی ڈبی نکالتا ہے اسے کھول کر انگوٹھی نکال کر کرن کے دودھیا
نازک ہاتھ میں پہنا کر اس پہ اپنے لب رکھ دیتا ہے اور کرن تو گھبراہٹ کی وجہ سے آنکھیں بند کرلیتی ہے طاہر اس کی ایک ایک حرکت سے لطف اٹھا رہا ہوتا ہے چاند بھی شرما جاتا ہے ان کے ملن پر
۔۔۔۔۔
“”سفیان جیسے ہی کمرے میں داخل ہوتا ہے بیڈ خالی دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے اور جیسے ہی پیچھے مڑتا ہے مناہل اسے ڈرانے کے چکر میں خود گرنے لگتی ہے اس وقت وہ سفیان کی
بانہوں میں ہوتی ہے اور سفیان اسے اپنے مزید قریب کرلیتا ہے اور سرگوشی کرتا ہے انہیں حرکتوں کی وجہ سے تم دل کو بھا گئ باگڑ بلی ورنہ لگتی تو مراسن ہی ہو![]()
یہ سنتے ہی مناہل اس کے پاؤں پہ اپنا پاؤں مارتی ہے اور اپنے آپ کو چھڑوانے لگتی ہے لیکن مقابل کو منظور نی ہوتا اور اسے اٹھا کر
بیڈ پر لے جاتا ہے مناہل ناں چاہتے ہوۓ بھی اس سے شرما رہی تھی سفیان اس کو قریب کرکے اس کے پیشانی پہ اپنے پیار کی نشانی
چھوڑ دیتا ہے اور اسی کے ساتھ ہی ان کی حسین شام اختتام پر پہنچتی ہے۔۔۔۔
ختم شــــد
