Mere Humnawa Mere Hum Kadam by Dua Fatima NovelR50684 Last updated: 15 May 2026
Rate this Novel
Mere Humnawa Mere Hum Kadam by Dua Fatima
""وہ چاروں مال پہنچ گئے تھے مناہل اور سفیان ان سے فاصلے پر تھے
طاہر نے موقعہ دیکھ کر بات کا آغاز کیا کیا آپ اس رشتے سے خوش ہیں
اور کرن کے ہاتھ پاؤں پھول رہے تھے کہ یہ تم سے سیدھا آپ پر آگیا واہ بھئ واہ وہ سوچ رہی تھی
اور طاہر اسکے منہ کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا
طاہر کے دوبارہ پوچھنے پر کرن نے جواب دیا جی سب کی خوشی میں ہی میری خوشی ہے اور ایک جیولری شاپ کی طرف بڑھ گۓ
اور سفیان اور مناہل کیفے میں چلے گۓ اور اس وقت کافی پی رہے اچھا باگڑ بلی ایک بات تو بتاؤ سفیان نے بات کا آغاز کیا
ہاں جنگلی بندر بولو اس نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا تم کب سدھروگی آج فائنل بتا ہی دو مجھے
تمہارے پرلوگ سدھارنے کے بعد بھی نہیں سدھروں گی ایسی ہی رہوں گی
اور سفیان قہقہ لگانے لگا نہیں یار میرا دل کہتا ہے تم بہت جلد سدھر جاؤ گی
تمہارے دل نے نجومی کا کورس کیا ہوا ہےہاں تمہارے معاملے میں کیا ہوا ہے اچھا چلو کرن اور بھائ کو دیکھتے ہیں رنگ لے لی ہوگی انہوں نے مناہل اپنا پرس اٹھا کر اس کے ساتھ ساتھ ہو لی
وہ جیولری شاپ میں پہنچے تو طاہر کرن کو نیکلس پہنا کر چیک کر رہا تھا اور کرن نے جب مناہل اور سفیان کو دیکھا تو شرم سے پانی پانی ہوگئ
اور طاہر کو انکے آنے کی خبر ہی نہیں ہوئ ۔۔مناہل نے ہاتھوں کو مائک کی طرح جوڑا اور انکے پاس جاتے ہوۓ بولی"""با ادب """با ملاحظہ ہوشیار ایک شہزادی اور جنگلی بندر تشریف لا رہے ہیں
اور طاہر فورا خیالی دنیا سے باہر آیا اور اسکے سر پر چپت لگاتے ہوۓ بولا تم کہاں تھے ہم تمہارا انتظار کررہے تھے بھیا اس بوکھڑ کو بھوک لگی تھی میں اسے کیفے لے گیا تھا سفیان نے مناہل کے بولنے سے پہلے ہی بات سنبھالی اور
مناہل منہ پھاڑے اسے دیکھنے لگی جو خود اسے لے کر گیا تھا اچھا مناہل گڑیا تمہیں کچھ پسند ہو تو لے لواتنے میں سفیان کا فون رنگ کرنے لگا اور وہ سائیڈ پر ہوگیا بات کرتے کرتے
اسکی نظر ایک رنگ پر پڑی اور کال ختم ہوتے ہی وہ رنگ پیک کروائ سب سے بچتے بچاتے اور خود ہی مسکرا دیا
"""دیکھتے ہی دیکھتے منگنی میں ایک دن باقی رہ گیا تھا سب کی تیاری مکمل تھی لیکن مناہل میڈم تو ہیں ہی الگ ان کو اب چوڑیاں پہننے کا شوق چڑھا ہوا تھا اور سب مصروف تھے گھر کے کاموں میں ___
سفیان اسکا پھولا ہوا منہ دیکھ کر اس کے پاس چلا آیا ہااۓ باگڑ بلی منہ کیوں سوجا ہوا ہے تمہارا اور مناہل نے ان سنا کردیا سفیان نے اسکی بازو پہ چٹکی کاٹی
آؤچ مناہل زور سے چلائ بیوقوف گدھے کہیں کے اور اپنی بازو سہلاتی ہوئ اسے نوازنے لگی جب کہ آگے پرواہ کسے تھی تم زندہ ہو
میں نے سوچا حرکت نہیں کر رہی چیک کرلوں کیا پتا دنیا سے رخصت ہوگئ ہو\اچھا اور باتیں چھوڑو یہ بتاؤ تم ایپسٹ کیوں ہو اور سیریس ہوکر اس سے پوچھنے لگا اور مناہل نے بھی بتا دیا کہ چوڑیاں پہننی ہے اور سب مصروف ہیں
سفیان اٹھا اور اسے تیار ہونے کا کہہ کر باہر اسکا انتظار کرنے لگا اور مناہل اس تبدیلی پر حیران تھی لیکن ابھی اسے حیرانگی سے زیادہ خوشی ہورہی تھی اور جلدی جلدی تیار ہوکر نیچے آگئ
وہ دونوں اب مارکیٹ میں پھر رہے تھے جب سفیان کو کال آگئ تو وہ سائیڈ پہ ہو گیا اور مناہل چوڑیاں دیکھنے لگی لیکن جب سفیان واپس آیا تو وہاں مناہل نہیں تھی
سفیان آس پاس دوکانوں میں دیکھنے لگا لیکن وہاں بھی اسے وہ نہیں دکھی وہ دیوانہ وار مارکیٹ میں اسے ڈھونڈ رہا تھا تب اسے مناہل کا سینڈل نیچے پڑا نظر آیا اور برائیوں کی
گھنٹی اسکے دماغ میں بجنے لگی اور ہیں زمین پہ بیٹھ کر چیخنے لگا اس وقت وہ اپنے حال سے بے حال ہو رہا اسکی زندگی اسکی جان اسکی سانس لینے کی وجہ کہی کھو جو گئ تھی
