Mere Humnawa Mere Hum Kadam by Dua Fatima NovelR50684 Mere Humnawa Mere Hum Kadam (Episode 02)
Rate this Novel
Mere Humnawa Mere Hum Kadam (Episode 02)
Mere Humnawa Mere Hum Kadam by Dua Fatima
“”” شام کو شکیلہ بیگم اور طارق صاحب کرن کے گھر اس کا رشتہ مانگنے گۓ تھے جو کہ کرن کے والدین محمود اور سمرین نے خوشی خوشی قبول کرلیا تھا اور بہت خوش بھی تھے منگنی 2 ہفتے بعد طے پائ تھی ![]()
![]()
اور کرن کو اب سمجھ آیا تھا مناہل مزاق نہیں کررہی تھی اسکا مطلب وہ جانتی تھی اور مجھے بتایا بھی نہیں اس کمینی نے ![]()
![]()
مناہل نے کرن والوں کی طرف سے ہاں سن کے ہی ادھم مچا دیا تھا
اور کرن کو کال کی ہمممم ہممم بھابھی جان کیسا لگا سرپرائز
اور کرن کو اس پر رہ رہ کر غصہ آرہا تھا تو نے مجھے بتایا کیوں نہیں پہلے اب بات ناں کر ![]()
ارے پگلی اگر پہلے بتاتی تو سرپرائز تھوڑی رہتا اور ویسے بھی کل طاہر بھائ کے ساتھ جانا ہے تم نے منگنی کی انگوٹھی لینے جبکہ کرن یہ سن کر ہی بوکھلا
نہیں یار میں نہیں جاؤں اس جلککڑے کے ساتھ کتنا غصیل ہے وہ ![]()
مناہل یہ سن کر قہقہ لگانے لگی
اور اسے مزید تپانے لگی کرن اب تو تمہیں بھائ کے ساتھ ہی رہنا ہے ابھی سے عادت ڈال لو اور کوئ بات نہیں سنوں گی میں کل تم دونوں نے جانا ہے مطلب جانا ہے بس ![]()
اچھا ایک شرط پر جاؤں گی تم میرے ساتھ چلو پھر ![]()
مناہل نے ناں چاہتے ہوۓ بھی حامی بھرلی اور کال کاٹ دی جب واپس مڑی تو سفیان کو اپنے سامنے پایا
باگڑ بلی میں تو تمہیں سمجھدار سمجھتا تھا لیکن تم تو
مناہل طیش سے اسے گھور کر دیکھنے لگی کیا میں تو ۔۔۔۔۔۔تم کیسے جا سکتی ہو ان کے ساتھ کباب کی ہڈی ٹائپ فیلنگ نہیں آرہی تمہیں
اور یہ کہتے ہی سفیان نے دڑکی لگا دی کہیں شامت ہی ناں آ جاۓ ![]()
اور مناہل سوچ بچار میں پڑ گئ
کہہ تو ٹھیک رہا تھا اب کیا کروں پھر کچھ سوچتے ہوۓ سفیان کو کال کی اور کیسے ناں کیسے کل کے لیے تیار کیا کہ اگر میں ناں گئ تو کرن بھی نہیں جاۓ گی اور سفیان اپنی کار میں مجھے لے جاۓ مال جبکہ کرن اور طاہر ایک گاڑی میں ![]()
____________
صبح طاہر کرن کو لینے انکے گھر پہنچ چکا تھا محمود صاحب اور سمرین سے بیگم مل رہا تھا جب ہی اسے کرن دکھائ دی وہ ریڈ فراک میں کسی پری سے کم ناں لگ رہی تھی اور کالے سلکی بالوں کو اس وقت پونی میں مقید کررکھے تھے اس نے طاہر نے بڑوں کا لحاظ کرتے جلد ہی اپنی نگاہوں کا زاویہ بدلہ ___![]()
![]()
سفیان ایک گھنٹے سے مناہل کا انتظار کر رہا تھا اور اب غصہ آرہا تھا اس پر جبکہ اس کی تیاری ہی مکمل نہیں ہونے میں آرہی تھی ![]()
مناہل میں دس تک گنتا ہوں اگر ناں آئ تو میں اپنے کام سے چلا جاؤں گا اور گنتی گننے لگا جب 7 تک گنتی پہنچی تو اسے اپنی دشمن جاں نظر آئ جو بلیک سوٹ میں ملبوس تھی
اور سفیان تو اسے دیکھتے ہی 7 پہ اٹک گیا ![]()
مناہل نے مکا رسید کیا تب وہ ہوش میں آیا اور ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور مناہل بھی اسکے ہمراہ بیٹھ گئ تھی
نالائق تمہیں 7 سے آگے گنتی بھی نہیں آتی کیا بنے گا تمہارا نقل کرکرکے اتنا پڑھ لیا تم نے ورنہ دماغ میں تو بھوسا بھرا ہوا ہے
اور سفیان بڑبڑانے لگا بھوسے کے اب تم بھی ہو جنگلی بلی ![]()
![]()
جو کہ مناہل کو سنائ نہیں دیا ![]()
______________
“”وہ چاروں مال پہنچ گئے تھے مناہل اور سفیان ان سے فاصلے پر تھے ![]()
طاہر نے موقعہ دیکھ کر بات کا آغاز کیا کیا آپ اس رشتے سے خوش ہیں ![]()
اور کرن کے ہاتھ پاؤں پھول رہے تھے کہ یہ تم سے سیدھا آپ پر آگیا واہ بھئ واہ وہ سوچ رہی تھی
اور طاہر اسکے منہ کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا![]()
طاہر کے دوبارہ پوچھنے پر کرن نے جواب دیا جی سب کی خوشی میں ہی میری خوشی ہے اور ایک جیولری شاپ کی طرف بڑھ گۓ![]()
اور سفیان اور مناہل کیفے میں چلے گۓ اور اس وقت کافی پی رہے اچھا باگڑ بلی ایک بات تو بتاؤ سفیان نے بات کا آغاز کیا ![]()
ہاں جنگلی بندر بولو
اس نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا
تم کب سدھروگی آج فائنل بتا ہی دو مجھے ![]()
تمہارے پرلوگ سدھارنے کے بعد بھی نہیں سدھروں گی ایسی ہی رہوں گی ![]()
![]()
اور سفیان قہقہ لگانے لگا نہیں یار میرا دل کہتا ہے تم بہت جلد سدھر جاؤ گی ![]()
تمہارے دل نے نجومی کا کورس کیا ہوا ہے
ہاں تمہارے معاملے میں کیا ہوا ہے
اچھا چلو کرن اور بھائ کو دیکھتے ہیں رنگ لے لی ہوگی انہوں نے مناہل اپنا پرس اٹھا کر اس کے ساتھ ساتھ ہو لی ![]()
وہ جیولری شاپ میں پہنچے تو طاہر کرن کو نیکلس پہنا کر چیک کر رہا تھا اور کرن نے جب مناہل اور سفیان کو دیکھا تو شرم سے پانی پانی ہوگئ ![]()
اور طاہر کو انکے آنے کی خبر ہی نہیں ہوئ ۔۔مناہل نے ہاتھوں کو مائک کی طرح جوڑا اور انکے پاس جاتے ہوۓ بولی”””با ادب “””با ملاحظہ ہوشیار ایک شہزادی اور جنگلی بندر تشریف لا رہے ہیں ![]()
![]()
اور طاہر فورا خیالی دنیا سے باہر آیا اور اسکے سر پر چپت لگاتے ہوۓ بولا تم کہاں تھے ہم تمہارا انتظار کررہے تھے
بھیا اس بوکھڑ کو بھوک لگی تھی میں اسے کیفے لے گیا تھا سفیان نے مناہل کے بولنے سے پہلے ہی بات سنبھالی اور
مناہل منہ پھاڑے اسے دیکھنے لگی جو خود اسے لے کر گیا تھا
اچھا مناہل گڑیا تمہیں کچھ پسند ہو تو لے لو
اتنے میں سفیان کا فون رنگ کرنے لگا اور وہ سائیڈ پر ہوگیا بات کرتے کرتے _____
اسکی نظر ایک رنگ پر پڑی اور کال ختم ہوتے ہی وہ رنگ پیک کروائ سب سے بچتے بچاتے اور خود ہی مسکرا دیا
____________
“””دیکھتے ہی دیکھتے منگنی میں ایک دن باقی رہ گیا تھا سب کی تیاری مکمل تھی لیکن مناہل میڈم تو ہیں ہی الگ ان کو اب چوڑیاں پہننے کا شوق چڑھا ہوا تھا اور سب مصروف تھے گھر کے کاموں میں ___
سفیان اسکا پھولا ہوا منہ دیکھ کر اس کے پاس چلا آیا ہااۓ باگڑ بلی منہ کیوں سوجا ہوا ہے تمہارا
اور مناہل نے ان سنا کردیا سفیان نے اسکی بازو پہ چٹکی کاٹی ![]()
آؤچ مناہل زور سے چلائ بیوقوف گدھے کہیں کے اور اپنی بازو سہلاتی ہوئ اسے نوازنے لگی جب کہ آگے پرواہ کسے تھی تم زندہ ہو ![]()
میں نے سوچا حرکت نہیں کر رہی چیک کرلوں کیا پتا دنیا سے رخصت ہوگئ ہو
اچھا اور باتیں چھوڑو یہ بتاؤ تم ایپسٹ کیوں ہو اور سیریس ہوکر اس سے پوچھنے لگا اور مناہل نے بھی بتا دیا کہ چوڑیاں پہننی ہے اور سب مصروف ہیں ![]()
سفیان اٹھا اور اسے تیار ہونے کا کہہ کر باہر اسکا انتظار کرنے لگا اور مناہل اس تبدیلی پر حیران تھی لیکن ابھی اسے حیرانگی سے زیادہ خوشی ہورہی تھی اور جلدی جلدی تیار ہوکر نیچے آگئ ![]()
وہ دونوں اب مارکیٹ میں پھر رہے تھے جب سفیان کو کال آگئ تو وہ سائیڈ پہ ہو گیا اور مناہل چوڑیاں دیکھنے لگی لیکن جب سفیان واپس آیا تو وہاں مناہل نہیں تھی
سفیان آس پاس دوکانوں میں دیکھنے لگا لیکن وہاں بھی اسے وہ نہیں دکھی وہ دیوانہ وار مارکیٹ میں اسے ڈھونڈ رہا تھا تب اسے مناہل کا سینڈل نیچے پڑا نظر آیا اور برائیوں کی
گھنٹی اسکے دماغ میں بجنے لگی اور ہیں زمین پہ بیٹھ کر چیخنے لگا اس وقت وہ اپنے حال سے بے حال ہو رہا اسکی زندگی اسکی جان اسکی سانس لینے کی وجہ کہی کھو جو گئ تھی
____________
“”تیسرا دن تھا اور مناہل کا کچھ پتا نہیں چل رہا پولیس بھی اپنی پوری کوشش کر رہی تھی گھر سے بھی بھرپور کوشش تھی لیکن اس کا کچھ پتا نہیں چل رہا ![]()
سفیان شام کو کھڑکی کے پاس کھڑا چاند کو تک رہا جو ادھورا تھا بالکل سفیان کی طرح وہ اندر سے ٹوٹ رہا تھا بالکل لیکن
امید تھی اسے
پیار کی امید کہ اسکی زندگی واپس آجاۓ گی یہ اور دو موتی ٹوٹ کر اسکے گال پہ آۓ
اور وہ مسکرا کر اپنے آپ سے کہنے لگا نہیں مناہل
تم کہیں نہیں جاسکتی اپنے باگڑ بلے کو چھوڑ کر ابھی تو میں نے اظہار بھی نہیں کیا کہ تم میری جان میری سانسیں بن چکی____
تمہیں واپس آنا ہی ہوگا میں تمہیں واپس لے کر آؤں گا اور چابی اور والٹ اٹھا کر باہر نکل گیا۔۔۔۔
ثمینہ بیگم اور ظفر صاحب کی حالت بھی غیر ہورہی تھی جسے انہوں نے اتنے نازوں سے پالا
ان کی لاڈلی ان کی لخت جگر ایک ہی تو تھی وہ ان دونوں کے جینے کی وجہ اور آج تیسرا دن تھا کوئ خبر نہیں تھی اسکی ![]()
سب مناہل کو ڈھونڈ رہے تھے اور کرن اور طاہر کی منگنی بھی مناہل کے آنے تک ملتوی کردی تھی کرن بھی اس کے غائب ہونے کے
بعد گم سم ہوگئ تھی آخر کیوں ناں ہوتی بہنوں سے بڑھ کر اسکی دوست جو لاپتہ تھی ![]()
اور اس ٹائم وہ عشاء کی نماز پڑھ کر دعا مانگ
رہی
اے اللہ پاک بےشک تو ہمارے شہ رگ سے زیادہ قریب ہے تو سب جانتا ہے ہر کسی کی حالت
سے واقف ہے یا اللہ پلیز مناہل کو عزت آبرو سے گھر بھیج دے اللہ پاک اور وہ گڑگڑا کر دعا مانگ رہی تھی مناہل کے لیے ___
اور اللہ پاک کیسے اپنے بندے کی بات رد کر سکتا ہے 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا وہ واحد ذات ہے جو اپنے بندوں کو سمجھتا ہے
جانتا ہے ان کی کیفیت کو
کبھی کبھی وہ ہماری بات نہیں بھی مانتا تو ہم شکوے کرتے ہیں یہ نہیں سمجھتے کہ اسی میں ہماری بھلائ ہوگی
_____________
“”مناہل کی آنکھ کھلی تو وہ ایک کمرے میں تھی اندھیرے کی وجہ سے اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا اور اسے شروع سے ہی اندھیرے
سے خوف آتا تھا![]()
اور آج وہ اندھیرے کا مقابلہ کرکے اپنے دماغ پہ زور دے رہی تھی کہ وہ یہاں آئ کیسے وہ تو چوڑیاں لینے گئ تھی سفیان کے ساتھ اور
اچانک اسکے منہ پہ کسی نے رومال رکھا اسکے بعد کیا ہوا اسے بھی نہیں پتا اور یہاں پہنچ گئ
وہ سوچ ہی رہی تھی
کہ اچانک کسی شخص کی آواز آئ شاید وہ فون پر کسی سے بات کررہا تھا۔۔۔۔۔
جی سر 20 لڑکیاں تیار ہیں آج شام تک افروز پٹھان لے جاۓ گا اور مال ہمیں مل جاۓ گا ____
مناہل کی حالت غیر ہوگئ یہ سنتے ہی اور اپنے دونوں ہاتھوں سے منہ چھپا کر بے آواز رونے
لگی
گڑگڑانے لگی کہ یا اللہ میری عزت تیرے ہاتھ میں ہے پلیز مجھے میری پاک عزت
سمیت موت دےدے بیشک لیکن میری عزت ان تمام لڑکیوں کے ساتھ اب تیرے ہاتھ میں ہے ہماری حفاظت فرما اللہ پاک۔۔۔۔۔
___________________!!!
سفیان اسی جگہ پہنچ چکا تھا ڈرائیو کرتے کرتے جہاں سے مناہل غائب ہوئ تھی اور
چلتے چلتے اسے مناہل کی چین زمین پر پڑی ملی اور اس نے اسی راہ جلدی جلدی چلنا شروع کردیا آگے بالکل سنسان راستہ تھا لیکن
اسے اپنی زندگی بچانی تھی اپنی پرواہ کیے بغیر وہ چلتا جارہا تھا۔۔۔””
____________
“””چلتا چلتا وہ ایک پرانی فیکٹری کے پاس پہنچ گیا جس میں لڑکیوں کو اغوا کرکے رکھا گیا تھا بالکل سنسان جگہ لیکن اس نے جیسے ہی
اندر قدم رکھا اس کے سر پہ بہت بھاری چیز سے وار کیا گیا جس سے وہ اپنا توازن بر قرار نہیں رکھ سکا اور نیچے گرتے ہی بےہوش ہوگیا![]()
وہ آدمی اٹھا کر اسے تہہ خانے لے کر جاہی رہا تھا کہ اسکا فون رنگ کرنے لگا___
ہاں افروز خان لڑکیاں تیار ہے تم بس مال لے کر فیکٹری پہنچو اور کال کاٹ دی اور سفیان کو
ایک کمرے میں لے گیا جو لڑکیوں والے کمرے کے ساتھ تھا اور کرسی پہ بٹھا کر اسکے ہاتھ پاؤں باندھنے لگا____
باہر نکلتے ہی اس نے کسی کے پاس کال کی
ی
جی سر=اسے باندھ دیا ہے مجھے تو یہ کوئ پولیس یا انٹیلیجنس کا بندہ معلوم ہوتا جب تک افروز خان لڑکیوں کو نہیں لے کر جاتا اس پہ
کڑی نظر رکھنی پڑے گی اور بعد میں اس کا کام تمام کردیا جاۓ گا کہتے ہی اس نے فون کاٹ دیا___
_________________
گھر میں سب پہلے مناہل کی وجہ سے پریشان تھے اور اب سفیان کا بھی پتا نہیں لگ رہا تھا 3 گھنٹے سے اس سے کوئ رابطہ نہیں ہوا
ماتم چھا گیا تھا سب بہت پریشان تھے
ہمارے گھر کو پتا نہیں کس کی نظر لگ گئ پہلے مناہل اور اب سفیان کون دشمن بنا ہوا ہے ہمارے بچوں کا شکیلہ بیگم کو تو صبر ہی نہیں آرہا تھا ___
جبکہ ثمینہ بیگم ان کی نسبت صبر تحمل کیے بیٹھی تھی ان کو دلاسے دے رہی جبکہ خود بھی اندر سے ٹوٹ چکی تھیں وہ آخر ماں جو ٹھہری ___![]()
طاہر پولیس سٹیشن پہنچ چکا تھا اور اپنے آپے سے باہر ہو کر اب ان پر برس رہا تھا ___
آپ لوگ اگر اپنا کام ایمانداری سے کرتے تو اب تک میری بہن مل جاتی لیکن آپ لوگ کی لاپرواہی کی وجہ سے میرا بھائ بھی پتا نہیں
کہاں چلا گیا ہے مجھے تو لگتا ہے آپ لوگوں کو بھی خریدا ہوا ہے ان کڈنیپرز نے میں چھوڑوں گا نہیں آپ لوگوں کو __
جبکہ طاہر کا دوست عمیر اسے قابو کیے ہوۓ تھا ورنہ تو ایک دو تھپڑ بھی لگا دیتا وہ انسپیکٹر کو اور اسے اپنے ساتھ زبردستی پولیس سٹیشن کے باہر لے گیا ____
کرن ابھی سو کر اٹھی تھی تو محمود صاحب نے اسے سفیان کے لاپتہ ہونے کی خبر دی کرن وہیں رونے لگ گئ پتا نہیں بابا کون دشمن بنے
ہوۓ ہیں پہلے مناہل اور اب سفیان بھیا بھی غائب ہوگۓ مل تو جائیں گے ناں وہ ___
محمود صاحب اسے سمجھا رہے تھے بیٹا اللہ پر یقین رکھو کچھ نہیں ہوگا ان دونوں کو اور اب وہ لوگ ان کے گھر جا رہے تھے آخر مشکل وقت میں اپنے ہی اپنوں کے کام آتے ہیں…
