Mere Humnawa Mere Hum Kadam by Dua Fatima NovelR50684 Mere Humnawa Mere Hum Kadam (Episode 04)
Rate this Novel
Mere Humnawa Mere Hum Kadam (Episode 04)
Mere Humnawa Mere Hum Kadam by Dua Fatima
“”سفیان مناہل کو لے کر گھر جا رہا تھا اور مناہل تو نظر ہی نہیں ملا پا رہی ہوتی شرم کی وجہ سے ہاسپیٹل میں اس نے جو کیا اور کہا اس سے اس کو”” اپنے سے بھی شرم آرہی تھی
اور سفیان اسکے منہ کے اتراؤ چھڑاؤ دیکھ رہا ____آخر کار بول ہی پڑا وہ ہاں تو باگڑ بلی سناؤ کیسا رہا ٹور
آخر تین دن گھومی ہو تم اور مجھے بہت مس کیا لگتا ہے![]()
اور مناہل یہ سنتے ہی اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔تم۔۔یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے تم مجھے چھوڑ کر
گئے تھے ناں اور مناہل روتے ہوۓ اسے کہنے لگی اور سفیان گاڑی روک کر اسے چپ کروانے میں لگا ہوتا ہے۔۔۔ اچھا آئندہ تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا جہنم میں گیا تب بھی تمہیں
اپنے ساتھ گھسیٹ کر لے جاؤں گا
بیشک تم جنت میں ہی کیوں ناں ہو![]()
اور مناہل اس کی یہ بات سنتے ہی قہقہ لگاتی ہے۔۔اچھا تم ایک بات بتاؤ جنگلی بندر تم وہاں
پہنچے کیسے مطلب تمہیں کیسے پتا کہ میں وہاں ہوں۔۔۔۔اچھا تو غور سے ملاحظہ فرمائیے سفیان اعلان والے انداز میں کہتا ہے
۔۔
“”میں گھر پہ ٹیرس پہ کھڑا کافی پی رہا تھا تب
مجھے تمہاری لڑائ کی سخت کمی محسوس ہوئ اور میرا دل کہنے لگا یہ کافی تمہیں اس باگڑ بلی کی لڑائ کے بغیر ہضم نہیں ہوگی میں نے وہ کافی رکھی اور سوچنے لگا ایسے تو
گزارا نہیں کل کھانا بھی ہضم ناں ہوا پھر میرا تو ہوجاۓ گا کام تمام بھوکے رہ رہ کر اور تم پتا نہیں کب دورے سے واپس آؤ اس لیے اپنے
کھانے اور اپنے لیے تمہیں کھوجتا کھوجتا وہاں تک پہنچ گیا آخر ہیرو ہوں انٹری تو ہونی تھی ناں میری
وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا ایک ادا سے بولا
مناہل پلک جھپکاۓ بغیر اس کی ساری کہانی سن رہی ہوتی ہے اور جیسے ہی وہ خاموش ہوتا ہے ٹکا کے اسکے پاؤں پہ اپنا پیر مارتی ہے![]()
جس سے وہ تڑپ کر رہ جاتا ہے۔۔تو اس لیے تم مجھے ڈھونڈنے کے لیے آۓ اپنے کھانے کے لیے ۔۔۔سفیان اسکی بات سنتے ہی فورا بولتا ہے۔۔ہاں تو اور کیا میرا میٹر شاٹ تھا جو
سکون سے رہتے ہوۓ تمہیں لا کر اپنے پیر پہ کلہاڑی جیسے تمہارے پاؤں مرواتا
مناہل اس کی بات کو ان سنی کرتی ہے کیونکہ آئسکریم پارلر نظر آجاتا ہے اسے
تو سب بھول بھال کر صرف آئسکریم یاد رہتی ہے ![]()
سفیان۔۔وہ دیکھو آئسکریم پارلر
جب اسے کچھ منوانا ہوتا تھا تو سفیان ہی کہتی ہے ورنہ تو آپ لوگوں کو پتا ہی ہے ![]()
سفیان اسکے منہ کی طرف دیکھتے ہوۓ آئسکریم لانے اترنے لگتا ہے اور گاڑی لاک کرکے چلا جاتا مناہل وہیں سیٹ کو ٹیک لگا کر آنکھیں موند کر بیٹھ جاتی ہے ![]()
______________________
طاہر گھر پہنچ جاتا ہے اور سب کو یقین دلاتا ہے کہ مناہل اور سفیان ایک دم ٹھیک ہیں اور بس آتے ہی ہونگے سب بے صبری سے ان کا
انتظار کررہے ہوتے ہیں۔۔کرن بھی وہیں ہوتی ہے جب اسکی نظر اس پر پڑتی ہے گلابی سوٹ میں وہ بہت خوبصورت لگتی ہے اور
آنکھیں شاید رونے کی وجہ سے سرخ ہوجاتی ہیں اس کی طاہر یہ دیکھ کر دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کرتا ہے کہ اسکی ہمسفر مجھ سے
بڑھ کر بھی گھر والوں کا خیال کرتی ہے اور مجھے کیا چاہیے فریش ہونے وہ اپنے روم میں چلا جاتا ہے اور وہ اپنی سوچوں سے باہر آتا ہے تو کرن کو سامنے پاتا وہ چاۓ لے کر دروازے میں کھڑی ہوتی ہے____!!!
____________
“”سفیان آئسکریم اور کچھ تازہ پھل بھی ساتھ لے کر پہنچ جاتا ہے اور مناہل کو تھماتا ہے جسے مناہل بنا وقت ضائع کیے پکڑ لیتی اور
گھر کے لیے روانہ ہوجاتے ہیں تھوڑی ہی دیر میں گھر پہنچ جاتے ہیں وہ دونوں اور تمام گھر والے گرمجوشی سے ان کا ویلکم کرتے ہیں
ثمینہ بیگم کے تو آنسو آجاتے ہیں اور اپنی لخت جگر کو اپنی مناہل کو اپنے سینے میں چھپا لیتی ہے اور ظفر صاحب بھی اپنی بیٹی
اور بھانجے کو سہی سلامت دیکھ کر خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہیں ۔۔۔اتنے میں کرن سب کے لیے چاۓ بنا کر لے آتی ہے اور مناہل
وہ تو کرن کو دیکھتے ہی خوشی سے گلے لگ جاتی ہے اور کرن بھی اسکے حال احوال دریافت کرنے لگتی ہے۔۔تب مناہل اسکے کان میں
سرگوشی کرتی ہے کہ بھابھی صاحبہ ابھی سے پریکٹس جاری اہمم اہمم جسے طاہر آتے آتے باخوبی سن لیتا ہے اور مسکراتا ہے۔۔۔گڑیا
اب تمہاری طبیعت ٹھیک ہے چکر تو نہیں آرہے اب تمہیں وہ مناہل کو اپنے ساتھ لگاتے اس کے سر پہ ہاتھ پیر کر پیار سے پوچھتے
ہیں ۔۔۔نہیں بھیا میں بالکل ٹھیک ہوں آپ سب کی دعاؤں نے مجھے کچھ نہیں ہونے دیا اور سہی سلامت آپ لوگوں کے پاس پہنچا دیا تو
طاہر پرسکون اور مطمئن ہوجاتا ہے ۔۔۔کافی دیر بعد سفیان فریش ہوکر نیچے آتا ہے تو سب مناہل کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں ۔۔۔۔وہ ہنکارا
بھر کر سب کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن کوئ نہیں سنتا اسکی اور اپنی باتوں میں مگن رہتے ہیں وہ دوبارہ زور سے
ہنکارا بھرتا ہے
تو سب اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہیں ۔۔۔میری تو پرواہ ہی نہیں کسی کو اس سے اچھا تھا میں
اس باگڑ بلی کو پہنچا کر واپس چلا جاتا ان کے گینگ میں شامل ہونے
وہ رونے والی شکل بنا کر معصومیت سے کہتا ہے۔۔۔۔جبکہ
مناہل کہاں چپ رہنے والوں میں سے ہے
۔۔۔ہر ٹائم روتے رہتے ہو جنگلی بلے کب چھوڑوں گے یہ لڑکیوں والے کام جس سے سب
کے قہقہے گونجتے ہیں تو ثمینہ بیگم سفیان کو گلے لگاتے ہوۓ مناہل کو باز رہنے کے لیے گھورتی ہے اور اسے اثر بھی ہوجاتا ہے۔۔۔کرن
بھی سب سے اجازت لیتی ہے ۔۔۔ محمود صاحب تو کرن کو چھوڑ کر معزرت لے کر چلے جاتے کیونکہ کرن کی والدہ کا چچا زاد فوت
ہوجاتا ہے تو وہ دونوں وہاں چلے جاتے اور کرن کو یہاں چھوڑ دیتے ہیں ۔۔۔۔کرن بیٹا تم اکیلی کیسے جاؤگی رکو میں سفیان کو کہتی ہوں ۔
۔سفیان یہ سنتے ہی اپنا پیٹ پکڑ کر بیٹھ جاتا
ہے
بہت درد ہے میرے پیٹ میں میں کیسے جاؤں۔۔۔ ایک کام کریں طاہر بھیا کو
کہیں طاہر یہ سنتے ہی سفیان کی طرف دیکھتا ہے اور سفیان دیکھتے ہی آنکھ مارتا ہے
جسے مناہل با آسانی دیکھ لیتی ہے۔۔۔تو
طاہر نفی میں سر ہلا کر مسکراتا ہے کہ یہ کبھی باز نہیں آۓ گا اب کرن تو بوکھلا جاتی ہے اور مناہل اسے دیکھ کر اسے اور تنگ کرنے
اس کے پاس پہنچ جاتی ہے اور اس کے کان میں کہتی ہے۔۔۔ہیپی جرنی اور کرن غصیلی اور شرمیلی نظروں سے اس کی طرف دیکھتی
ہے۔۔۔اور آگے بڑھ جاتی ہے اتنے میں طاہر گاڑی لے آتا ہے اور کرن فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ جاتی ہے اور چلے جاتے ہیں ۔۔آدھا راستہ
خاموشی سے گزرتا ہے تو طاہر کہتا ہے کرن شکریہ تمہارا بہت بہت ۔۔۔کرن نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھتی ہے اور پوچھتی ہے
شکریہ کیوں۔۔اور وہ پیار سے کرن کا ہاتھ تھامتے ہوۓ کہتا ہے جسطرح تم نے گھر والوں کو سنبھالا ہے ایسے شاید میں بھی نہیں
کرسکتا تھا اور کرن کبھی اپنے ہاتھ کو دیکھتی ہے کبھی طاہر کو ۔۔۔میری زندگی میں آنے کے لیے شکریہ کرن اس کے منہ سے
ایسے الفاظ پہلی بار سن رہی تھی مانو کہ کھو گئی ہو اس کی باتوں میں۔۔۔اور گھر کب آیا گاڑی کب رکی اسے ہوش ہی نہیں تھا
اچانک طاہر کا فون بجا ۔۔تو خیالوں کی دنیا سے باہر آئ طاہر نے دو بات کرکے ہی کال کاٹ دی اور کرن کا ہاتھ چھوڑتے ہوۓ پہلے
خود اترا پھر کرن والا ڈور کھولا۔۔۔الودائ الفاظ کہتے ہی کرن جلدی جلدی جانے لگی کہ کہیں اسکا دل ہی ناں باہر نکل آۓ اور طاہر مسکراتا ہوا اسے دیکھتا رہا جب تک وہ اسکی نظروں سے اوجھل ناں ہوئ____!!
_____________
“”” اتوار کے دن تمام گھر والے اکٹھے ہوتے ہیں اور کرن کی فیملی کو بھی رات کے کھانے کی دعوت دے دیتے ہیں۔۔تمام لوگ کھانا کھا
کر لاؤنج میں ڈیرا جماۓ ہوتے ہیں
۔۔۔طارق صاحب تمام لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔۔
میں نے اور شکیلہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اب طاہر اور کرن کی منگنی کرنے کے بجاۓ سیدھا نکاح کرتے ہیں اور رخصتی کرن کی
پڑھائ مکمل ہونے کے بعد اگر آپ لوگوں کو کوئ اعتراض ناں ہو وہ ظفر صاحب اور محمود صاحب کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھتے ہیں۔۔اور کرن تو یہ سنتے ہی شرم سے لال ہوجاتی
ہے اور پانی پینے کے بہانے کچن میں جا کر اپنا سانس بحال کرتی ہے اور مناہل کی خوشی کا تو ٹھکانہ ہی نہیں رہتا وہ فورا کرن کے
پیچھے پیچھے دوڑی کچن میں آجاتی ہے اور اس کا منہ دیکھ کر آنکھ دباتے ہوۓ کہتی ہے ہاااۓ بھابھی جان اب تو آپ بھیا کی مطلب
(غصیل بقول آپکے
)ان کی منکوحہ بننے والی ہو کیسا محسوس کررہی ہو مجھے ذرا تفصیل سے بتائیں اور ہاتھوں کا مائیک اٹھا کر
کرن کے منہ کے پاس لے جاتی ہے اور کرن بھی بنا موقع ضائع کیے اس کے ہاتھ پہ کاٹ لیتی ہے پتا چلا کیسا لگا
اس حرکت سے مناہل تڑپ کے رہ جاتی ہے۔۔۔۔
تمام بڑوں کے فیصلے کے بعد نکاح ٹھیک ایک ہفتے بعد رکھا جاتا ہے اور بالکل سادگی سے کرنا طے پاتا ہے۔۔۔کیونکہ رخصتی تو ہونی ہی
دھوم دھام سے جس سے مناہل ہڑبڑا جاتی ہے کہ ایک ہفتے میں میری تیاری کیسے پوری ہوگی وہ بیڈ پہ بیٹھی سوچ ہی رہی ہوتی ہے
اتنے میں سفیان آجاتا ہے صوفے پہ بیٹھ کے اسے کشن مارتے ہوۓ پوچھتا ہے کہ کیا ہوا چھپکلی ایسے کیوں بیٹھی ہو۔۔۔اور مناہل وہ
کشن واپس اسے مارتے ہوۓ بولتی ہے کچھ نہیں بندر تم سے مطلب اپنے کام سے کام رکھو میرے معاملے میں پڑنے کی ضرورت نہیں
تمہیں اور سفیان چلتا ہوا اس کے پاس بیڈ پہ بیٹھ کے نرمی سے اسکا ہاتھ تھام کر گویا ہوتا ہے اور مناہل تو ششدہ رہ جاتی ہے اس کی
حرکت سے دیکھتے دیکھتے سفیان اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئ سوئ اسے زور سے چبھا کر بھاگ جاتا ہے اور مناہل اسے تو کچھ سمجھ
ہی نہیں آتا اور دیکھتے ہی دیکھتے اسے گالیوں سے نواز رہی ہوتی ہے![]()
اگلے دن کرن اور مناہل کالج میں بیٹھے ہوتے ہیں تو مناہل کا لٹکا ہوا منہ دیکھ کر کرن پریشانی کی وجہ پوچھتی ہے اور مناہل معصوم
سی شکل بنا کر اپنی پریشانی بتاتی ہے کہ اتنے کم ٹائم میں میں کیسے اپنی تیاری کروں
اور کرن تو یہ سنتے ہی اس کے سر پہ ایک
لگاتے ہوۓ گویا ہوتی ہے۔۔۔کمینی ابھی میری بدائ نہیں نکاح ہے صرف اور اداس ناں ہو دونوں اکھٹے شاپنگ کریں گے کونسا روزانہ روزانہ نکاح ہوتے ہیں
مناہل اسے ایک مکا
لگاتے ہوۓ اب لگی ناں کرن ویسے بھی شرم کا ہم دونوں سے کیا لینا دینا دے تالی اور دونوں کے قہقہے گونجتے ہی
______________________
“”آخر وہ دن بھی آجاتا ہے۔۔جب کرن کسی کی امانت کسی کی منکوحہ بننے جارہی ہوتی ہے اور سرخ لہنگے میں کسی اپسرا سے کم نہیں لگتی اس کے مقابل طاہر بھی کسی
ریاست کا شہزادہ لگ رہا ہوتا ہے ۔۔نکاح کا انتظام ایک مشہور میرج کلب میں رکھا جاتا ہے اور صرف خاص دوستوں اور رشتے داروں کو ہی
بلایا جاتا ہے۔۔مناہل جلدی سے آکر کرن اور باقی لڑکیوں کو کہتی ہے کہ مولوی آرہا ہے قبول ہے قبول ہے کروانے
گھونگھٹ کرو دلہن صاحبہ کا۔۔۔اور کرن اسے گھوری سے
نوازتی ہے ۔۔جب وہ نکاح نامے پہ سائن کرتی ہے تو بچپن سے لے کر اب تک کے تمام لمحات کسی فلم کی طرح اس کی آنکھوں کے آگے
چل رہے ہوتے ہیں۔۔۔اور یہی ہر لڑکی کے لیے وہ لمحہ ہوتا ہے چاہے وہ جتنی بھی خوش ہو لیکن آنسو آ ہی جاتے ہیں اتنا آسان نہیں ہوتا
اپنی زندگی کسی کے نام کرنا اور اس کے بھی آنسو جاری ہوجاتے ہیں __مولوی کے جانے کے بعد مناہل اسے حوصلہ دیتی ہے کہ ایک دن سب کو جانا ہے تو کیوں فکر کررہی ہے
بچپن سے تو یہاں ہی زیادہ رہی ہے اور اب کیسے ایکٹنگ کررہی ہے
۔۔۔اور سفیان اس کی ساری باتیں سن رہا ہوتا ہے اور دل ہی دل
میں کہتا ہے آنا تو تمہیں بھی یہیں ہے بیٹا
کرن کو ناں چاہتے ہوۓ بھی مناہل کی باتوں پہ ہنسی آرہی تھی وہ اس وقت بلکل دادی اماں لگ رہی تھی اسے سمجھاتے ہوۓ![]()
مناہل بھی کسی پری سے کم نہیں لگ رہی ہوتی سی گرین لہنگے میں دوپٹہ کاندھے پہ سیٹ کیے ہوۓ اور بس نام کا میک اپ کیے
ہوۓ بالوں سائیڈ سٹائل سے سیٹ کیے ہوۓ وہ اس حد تک خوبصورت لگ رہی تھی کہ ہر کوئ دیکھنے والا مڑ کر دیکھنے پہ مجبور ہوجاتا
تھا۔۔۔اور دیکھتے ہی دیکھتے نکاح اپنے اختتام پہ پہنچا سب مہمان چلے جاتے ہیں مناہل کی زد کی وجہ سے فوٹوگرافر کو بلایا جاتا ہے اور
کرن کو سٹیج پہ لایا جاتا ہے طاہر اسے دیکھ کر پلک جھپکانا بھول جاتا ہے اور دل ہی دل میں اسکی بلائیں لیتا ہے جب وہ سٹیج کے پاس آتی
ہے تو طاہر اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھاتا ہے تو وہ جھجھکنے لگتی ہے اور مناہل اس کا ہاتھ طاہر کے ہاتھ میں تھما دیتی ہے اور وہ اوپر
چلی جاتی ہے۔۔۔مناہل وہ تو اب الگ الگ پوز سے تصویریں کھچوا رہی ہوتی ہے اور سٹیج سے اترتے ٹائم اسکا پاؤں مڑ جاتا ہے وہ گرنے ہی لگتی ہے لیکن کسی کی بانہیں اسے تھام لیتی ہیں۔۔۔اور سفیان کا خون کھول جاتا ہے یہ سب دیکھ کر ضبط کی انتہا پر ہوتا ہے وہ___!
