Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mere Humnawa Mere Hum Kadam (Episode 05)

Mere Humnawa Mere Hum Kadam by Dua Fatima

“””جب مناہل نے آنکھیں کھولی تو اپنے آپ کو عمیر کی بانہوں میں پایا اور جلدی سے سنبھلنے کی کوشش کی اور عمیر وہ تو پلک

جھپکاۓ بغیر اسے ہی یک ٹک دیکھ رہا تھا اور پھر اسے آزاد کردیتا ہے ۔۔۔۔اور سفیان وہ بہت اپنے آپ پر ضبط کرتے ہوۓ وہاں سے نکل جاتا

ہے۔۔۔۔فوٹوسیشن ہونے کے بعد سب اپنے اپنے گھر جاتے ہیں تھکاوٹ سے سب کا برا حال ہوجاتا ہے۔۔۔اور سفیان اس کا تو کچھ اتا

پتا ہی نہیں ہوتا کہاں ہے کہاں نہیں اور شکیلہ بیگم کا پریشانی سے برا حال ہوجاتا ہے کہ پتا نہیں کہاں ہوگا کہاں نہیں اتنے میں انہیں

سفیان آتا ہوا دکھائ دیتا ہے جو بارش کی وجہ سے بلکل بھیگ جاتا ہے۔۔سفیان شکیلہ بیگم کو دیکھ کر ان کے قدموں میں بیٹھ جاتا ہے اور ان

کی گود میں اپنا سر رکھ دیتا ہے شکیلہ بیگم پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی ہوتی ہیں اور اس کا منہ دیکھ کر ان کے دل کو عجیب

بے چینی سی محسوس ہوئ اور اس سے سبب پوچھتی ہیں۔۔۔تو وہ بات ٹال کر جانے ہی لگتا ہے کہ شکیلہ بیگم اسکا ہاتھ اپنے سر پر رکھتے ہوۓ اپنی قسم دیتے ہوۓ پوچھتی ہے۔۔۔

۔۔سفیان اب چاہے تم جھوٹ بولو یا سچ میں نے اپنی قسم دی ہے اور فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔سفیان ناں چاہتے ہوۓ بھی ان کو ساری

بات سے آگاہ کرتا ہے اور شکیلہ بیگم ان کو حیرانگی کم خوشی زیادہ ہوتی ہے۔۔۔وہ تو شروع سے ہی مناہل کو اپنی بیٹی بنانا چاہتی

تھیں لیکن یہ سوچ کر ٹال جاتی کہ سفیان پتا نہیں کیا ری ایکٹ کرے گا ۔۔۔۔سفیان غور سے اپنی ماں کی طرف دیکھ رہا تھا اس کا دل

کافی حلقہ ہوجاتا ہے اپنی ماں سے جسکے قدموں تلے جنت ہے اس سے اپنے دل کا حال بتا کر اس کے دل میں چین سا اتر جاتا ہے ۔۔۔

سفیان انہیں خاموش پاکر دوبارہ اپنی بات شروع کرتا ہے۔۔۔ماما مجھے خود نہیں معلوم یہ سب کیسے ہوا ۔۔۔جب وہ اغوا ہوئ تو مجھے

عجیب گھٹن محسوس ہورہی تھی جیسے اپنا دل کہیں دور جارہا ہے یا کوئ میری دھڑکن کو مجھ سے دور کررہا ہے۔۔۔اور میں جانتا ہوں آپ مجھ سے ناراض ہونگی___!!

کہ میں نے اپنا فیصلہ بنا آپ کے اور بابا سے پوچھ کر سنا دیا لیکن ۔۔۔میں آپ لوگوں کے بغیر کوئ فیصلہ نہیں لے سکتا وہی ہوگا جو آپ

لوگ چاہیں گے اور اوپر اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے۔۔۔شکیلہ بیگم بہت خوش ہوتی ہیں لیکن ابھی اس لیے سفیان کو اپنی خوشی ظاہر

نہیں کرتیں کہ اسے ایک ہی دم خوشخبری دیں گی ۔۔۔۔اور کل ہی محمود صاحب سے بات کرکے ۔۔۔بھائ کے گھر رشتہ لے کر جائیں گی مناہل کا وہ شروع سے ہی ان کی لاڈلی

تھی اور ان کی یہی خواہش تھی کہ مناہل میری ہی بیٹی بنے لیکن طاہر وہ تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا مناہل کو ایسے ۔۔۔اور

سفیان اس کی اور مناہل کی تو بلی چوہے والی لگی ہوتی تھی ۔۔لیکن انہیں یہ نہیں پتا تھا کہ ان کا بیٹا بھی ان کی ہی پسند کو اپنی پسند بنا کر بیٹھا ہے 😋

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مناہل تین دن بعد کالج جانے کی تیاری کررہی ہوتی ہے اور ظفر صاحب اس کے کمرے میں کچھ بات کرنے کی غرض سے آتے ہیں۔۔

۔مناہل انہیں دیکھتے ہی ان کے گلے لگ جاتی ہے وہ پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہیں

اور اسے لیے بیڈ تک آ کر اسے بٹھا کے خود سامنے صوفے پہ بیٹھ جاتے ہیں ۔۔۔

مناہل بیٹا مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی تھی ۔۔۔میں جانتا ہوں تم میری بات سن کر تھوڑی دیر کنفیوز ہوجاؤگی لیکن مجھے

یقین ہے تم میرا مان رکھوگی مجھے کبھی شرمندہ نہیں ہونے دو گی میں نے تم سے بنا پوچھے ایک فیصلہ کیا ہے تمہارے لیے ۔۔

۔مناہل نا سمجھی سے انہیں دیکھتی ہے اور ان کے پاس آکر ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر محبت بھرے انداز میں کہتی ہے ۔۔

بابا میں آپ کا مان کبھی ٹوٹنے نہیں دوں گی ہمیشہ ہی آپ کا سر فخر سے اونچا کروں گی اور آپ جو بھی فیصلہ کریں گے میں دل سے قبول کروں گی __!!

ظفر صاحب اسے تفصیل سے آگاہ کرتے ہیں ۔۔بیٹا 2 دن پہلے تمہاری پھپھو آئ تھی ۔۔سفیان کا رشتہ لے کر تمہارے لیے اور میں اور

تمہاری ماما کو کوئ اعتراض نہیں لیکن بغیر تمہاری اجازت ہم زبردستی نہیں کریں گے اسی لیے میں نے کچھ وقت مانگا ہے شکیلہ سے ۔۔۔تم اچھے سے سوچ کر مجھے جواب

دے دینا وہ اٹھ کر چلے جاتے ہیں اور مناہل اس کے سر پہ تو بمب پھوٹ جاتا ہے کہیں ناں کہیں اس کے دل کا ایک حصہ بھی خوشی سے جھوم رہا ہوتا ہے لیکن وہ ابھی اس بات سے انجان تھی ۔۔۔۔

_________

“””سب کی خوشی دیکھتے ہوۓ۔۔ اور اپنے دل کی مانتے ہوۓ۔۔ مناہل سفیان سے رشتے کے لیے ہاں کردیتی ہے ۔۔لیکن تین شرطیں رکھتی ہیں اپنی جسے سب سن کر حیران ہوتے ہیں ۔۔۔

پہلی شرط=جب بھی میں کہوں گی مجھے وہ بندر شاپنگ پہ لے جاۓ گا”””

دوسری شرط=لڑائ جتنی بھی شدت سے کیوں ناں ہو اور غلطی بیشک میری ہو کبھی ہوتی تو نہیں😎 لیکن پھر بھی اگر ہو تو اسے مجھ سے سوری کرنی ہوگی۔۔۔

تیسری شرط=وہ اپنی مہندی پر لڑکیوں کے بیچ ڈانس کرے گا 😋گانا جو بھی ہو چلے گا اور وہ اچھے سے جانتی ہے اسے ڈانس نہیں آتا اسی لیے یہ شرط رکھتی ہے ۔۔۔۔

اور ان دونوں کی شادی دو مہینے بعد طاہر اور کرن کی شادی کے ساتھ ہی طے پاتی ہے ۔۔۔۔۔سفیان تو یہ سنتے ہی اپنی ماں کے

گلے لگ جاتا ہے اور ان کے ہاتھ چومتا ہے لیکن اگلے ہی پل مناہل کی شرطیں سن کر دنگ رہ جاتا ہے اور فورا کھڑا ہوتا ہے۔۔میں بتاتا ہوں

اسے اس معاملے میں بھی وہ ایسی حرکتیں کررہی ہے اور شکیلہ بیگم اسے پیار سے بٹھاتی ہیں ۔۔۔بیٹا مجھے تمہاری پسند پہ فخر ہے

میں خود یہی چاہتی تھی شکیلہ بیگم اس کے ماتھے پہ بوسہ لیتے ہوۓ بولتی ہے لیکن اگر تمہاری وجہ سے اسے کوئ بھی پریشانی ہوئ

تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا اور اگر اس سے پیار کرتے ہو تو یہ شرطیں تو ماننی ہی پڑیں گی 😌سفیان کچھ سوچتے سمجھتے

ہوئے تینوں شرطیں مان لیتا ہے ۔۔۔اتنے میں مناہل وہاں داخل ہوتی ہے اور سفیان کو دیکھ کر واپس ہی جانے لگتی ہے کیونکہ اب اسے سفیان کے سامنے آنے میں شرم آتی ہے کیوں یہ اسے

خود نہیں پتا۔۔۔لیکن شکیلہ بیگم اسے روک لیتی ہے سفیان اسے ایک نظر دیکھ کر اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے ۔۔۔ طاہر کے نکاح کے

بعد سے ان کا اب آمنا سامنا ہوا تھا لیکن سفیان نے اس سے بات نہیں کی یہی اسکے لیے حیرانگی کا سبب تھی ۔۔۔وہ پھپھو سے

چند باتیں کرکے اپنے گھر چلی جاتی ہے اور گھر جاتے ہی اسے کرن نظر آجاتی وہ خوشی سے بھاگتے ہوۓ اسکے گلے لگ جاتی ہے ۔۔

۔کمینی تو کہاں دفعہ ہوگئ تھی ابھی بھی ناں آتی میں تیری ہوتی ہی کون ہوں۔۔ وہ مصنوعی آنسو صاف کرتے ہوۓ کہتی ہے”” اور کرن اسے جب سے ثمینہ بیگم سے معلوم ہوتا ہے

مناہل اور سفیان کے بارے وہ تو پاگل ہی ہوجاتی ہے اور اس کی باتوں کو نظر انداز کرکے اسے زور سے دوبارہ گلے لگا کر مبارکباد دیتی

ہے۔۔۔تو تو بڑی چھپی رستم نکلی یار ویسے مجھے بھی شک تھا تم دونوں پر کہ کوئ ناں کوئ چکر ہے لیکن اتنی جلدی بات بڑھ جاۓ گی یہ نہیں سوچا تھا اور تو نے جو شرطیں

رکھی ہیں سپرب ہیں سپرب 😂👌اور دے تالی اب تو ہم ایک ہی گھر میں جارہے ہیں خوب مزے کریں گے 😍لیکن مناہل وہ تو اس

کی پہلی بات میں الجھ جاتی ہے۔۔کیا پتا تھا تجھے پہلے سے ۔۔یہی کہ سفیان بھائ اور تو ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو محبت کرتے ہو۔۔۔

مناہل اس کی بات پہ قہقہ لگاتی ہے ۔۔۔میں اس بندر کو پسند کروں گی ہنننن شکل دیکھی ہے اس کی کہاں میں کہاں وہ 😎اور کرن وہ

تو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے ہی دیکھ رہی ہوتی ہے ۔۔۔اچھا جب اس دن کالج میں سفیان بھائ نے اور لڑکیوں کی بات کی تو کیوں

جیلس ہورہی تھی ۔۔۔اور مناہل کچھ بولنے ہی لگی تھی لیکن کرن نے اپنی بات جاری رکھی۔۔اور جب بھی تو سفیان بھائ کے بارے میں سوچتی ہے تیرے ہونٹوں پہ مسکراہٹ

آجاتی ہے۔۔۔اور ویسے بھی سفیان بھائ تو ایک دم ہیرو ہیں ہیرو ان کے آگے تو باندری لگتی ہے😝یہ کہتے ہی وہ بھاگ جاتی ہے اور مناہل کو جب تک سمجھ آتی ہے غائب ہو جاتی ہے

اور وہ پھر مسکرانے لگتی ہے اپنے آپ پہ ہی ۔۔کتنی پاگل ہوں میں مجھے محبت ہوگئ اور پتا بھی نہیں ابھی وہ سوچ ہی رہی ہوتی ہے اس کے موبائل کی رنگ بجتی ہے اور سفیان کا میسج جگمگا رہا ہوتا ہے ۔۔۔

تیرے جانے کے بعد وقت

تھم سا گیا تھا

وہ تو بعد میں پتہ چلا کہ

گھڑی کا سیل ختم ہوگیا تھا___!!

مناہل یہ پڑھتے ہی ہنس کے نفی میں سر ہلاتی ہے ۔۔یہ بندر نہیں بدل سکتا اور خود بھی ایک میسج اسے سینڈ کردیتی ہے ۔۔۔

#محبت سمیٹ لیتی ہے

زمانے بھر کے #رنج_و_غم

سُنا ہے ہمسفر اچھا ہو

تو #کانٹے بھی نہیں #چبھتے۔۔۔SM

سفیان پڑھتے ہی مسکرانے لگتا ہے ۔۔۔کہ اس باگڑ بلی نے خود اظہار کیا ہے وہ بھی شاعری کے ذریعے 😍اور ایس ایم کون ہیں ؟ اور جب سمجھ آتا ہے اس کی مسکراہٹ مزید گہری ہوجاتی ہے 😍

“”مناہل جب کالج سے گھر داخل ہوتی ہے تو عمیر طاہر اور باقی لوگوں کے ہمراہ بیٹھا ہوتا ہے ۔۔وہ آتے ہی سب کو مشترکہ سلام کرکے اوپر چلی جاتی ہے ۔۔عمیر کو جب اس رشتے

کے بارے میں معلوم ہوتا ہے ۔۔۔تو وہ دکھی ضرور ہوتا ہے کیونکہ کافی عرصے سے مناہل کو دل ہی دل میں پسند کرلیتا ہے اور موقع کی تلاش میں ہوتا ہے لیکن جب سفیان اور مناہل

کے بارے اسے جب پتا لگتا ہے تو وہ اپنے دل کو سمجھا لیتا ہے کہ “””محبت صرف حاصل کرنا نہیں ہوتی اور سفیان اور وہ ویسے بھی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو وہ دل ہی دل میں

ان کی خوشی کی دعائیں مانگتا ہے ۔۔۔اور بہت کم ہوتے ہیں ایسے لوگ جو یہ صلاحیت رکھتے ہیں دوسروں کی خوشی میں خوش ہوتے ہیں___

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *