Mere Humnawa Mere Hum Kadam by Dua Fatima NovelR50684 Mere Humnawa Mere Hum Kadam (Episode 03)
Rate this Novel
Mere Humnawa Mere Hum Kadam (Episode 03)
Mere Humnawa Mere Hum Kadam by Dua Fatima
“””سفیان جب ہوش میں آیا تو اسے یقین ہوگیا تھا کہ مناہل کو یہیں رکھا گیا ہے اسے کچھ ناں کچھ کرکے یہاں سے نکل کر مناہل کو بچانا””
ہوگا اب وہ اپنے ہاتھوں کو کھولنے کی کوشش کررہا تھا تب اسے کڈنیپر کے آنے کی آہٹ سنائ دی اور پہلے کی طرح آنکھیں بند کرکے
بے ہوش ہونے کی ایکٹنگ کرنے لگا جیسے ہی وہ کڈنیپر اندر آیا تو سفیان کو دیکھنے کے بعد اسی کمرے میں ایک طرف کھڑے ہو کر کسی
کو کال کرنے لگا دوسری بیل پہ کال اٹھالی گئ تھی ___جی سر وہ بندہ اب تک بےہوش ہے افروز خان کبھی بھی پہنچتا ہوگا مال لے
کر تب تک یہ ہوش میں نہیں آۓ گا لیکن اسے کیا خبر کے اسکا ٹائم آنے والا ہے سفیان نے کرسی کی کیل کی مدد سے اپنے ایک ہاتھ کو
کھول لیا تھا اور دوسرا بھی عنقریب کھلنے ہی والا تھا کہ کڈنیپر کال کاٹ کر جا ہی رہا تھا اور سفیان نے اپنا پاؤں آگے کرکے اسے گرا دیا اور
پستول کڈنیپر کے ہاتھ سے اچھٹ کر دور جاگری وہ دوڑا ہی تھا پستول اٹھانے کے لیے کے سفیان کے جھٹکے سے اپنا دوسرا ہاتھ بھی
آزاد کرکے اس سے پہلے اسکے سامنے جاکر کھڑا ہوگیا کڈنیپر نے ہاتھ اٹھایا ہی تھا اسے مارنے کے لیے لیکن سفیان کے آگے اسکی محبت کے آگے وہ کچھ نہیں تھا ![]()
سفیان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر زور سے پیچھے کو گھمایا مانا کہ ہڈی ٹوٹ گئ ہو جس سے وہ تڑپ اٹھا سفیان اس بال نوچتے ہوۓ پوچھنے لگا ۔۔۔
مناہل کہاں ہے بول۔۔۔
لیکن وہ اتنی آسانی سے کہاں ماننے والا تھا سفیان نے پستول اٹھا کر اسکے سر پر تان دی جس سے وہ اچھا خاصا خوفزدہ ہوگیا ___
اگر اب تو نے اپنا منہ نہیں کھولا تو تجھے یہیں گاڑ دوں گا””بول مناہل کہاں ہے””سفیان کی آنکھوں میں خون سوار تھا اس وقت اور اس نے
فٹافٹ اپنی زبان کھولی اور اسے بتادیا کہ وہ تمام لڑکیوں کے ساتھ فروخت ہونے والی ہے سفیان نے یہ سنتے ہی اسے ایک مکا رسید کیا
آخر کیسے وہ اپنی زندگی کے بارے میں ایسے الفاظ سن سکتا تھا “””اور کڈنیپر کو پیٹنے لگا بری طرح اتنا پیٹا کہ وہ نیم بےہوش ہوگیا
“”میری باگڑ بلی کے بارے میں
ایسے بکے گا منہ نوچ لوں گا میں تیرا گھٹیا ____لیکن اس ٹائم اسے جوش میں ہوش
نہیں کھونا تھا اسکی محبت اور اسکے ساتھ ساتھ باقی لڑکیوں کی حفاظت بھی تو اسے ہی کرنی تھی ایک انسان ہونے کے ناطے__![]()
اور اسے بےہوش کرکے فورا اسکا فون جو گرگیا تھا اسے اٹھا کر آن کرنے لگا![]()
___________
“”طاہر اور عمیر پولیس سٹیشن سے نکلے ہی تھے گھر جانے کے لیے کہ طاہر کے نمبر پر ان ناؤن نمبر سے کال آنے لگی تو عمیر کہنے
لگا شاید کڈنیپرز کی کال ہوگی اٹینڈ کرتے ہی طاہر کو سفیان کی آواز آئ اور سفیان نے جلدی جلدی کہا بھائ ہم اس وقت پرانی فیکٹری میں ہیں پولیس کو لے کر جلدی پہنچے ___طاہر نے کچھ بولنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا تو سفیان جلدی سے کہنے بھائ سب
سوالوں کے جواب بعد میں ابھی پولیس کو لے کر جلدی پہنچے ورنہ بہت دیر ہوجاۓ گی__طاہر نے عمیر کو اشارہ کیا کہ دوبارہ پولیس
سٹیشن لے چلے جو منہ کھولے ان دونوں کی باتیں سن رہا فون سپیکر آن ہونے کی وجہ سے___سفیان کال کاٹتے ہی اپنے آس پاس
کا جائزہ لینے لگا اور سوچنے لگا اگر میں باہر نکلا تو اس کے پتا نہیں کتنے ساتھی ہونگے اور انہوں نے تمام لڑکیوں کو نقصان پہنچا دیا تو
نہیں۔۔لیکن۔۔میں ایسے یہاں کب تک بیٹھا رہوں مناہل بھی خطرے میں ہے اس نے کچھ سوچتے ہوۓ اپنے کپڑے کڈنیپر کو پہناۓ اور اس کے کپڑے پہن کر باہر نکل آیا جہاں اس وقت کوئ موجود نہیں تھا ___
وہ اب لڑکیوں کا کمرہ تلاش کر ہی رہا تھا اسے کچھ آواز سنائ دی اور جیسے ہی پیچھے مڑا ایک آدمی اس کی طرف ڈنڈے سے وار
کرنے ہی والا تھا سفیان نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور دوسرے ہاتھ سے زوردار تھپڑ کھچا کر اسے مارا اور ڈنڈا جھپٹ کر اسکے ہی سر پہ مار کر
اسے بےہوش کردیا اور واپس جانے لگا پھر کچھ سوچتے ہوۓ رک کر اس آدمی کو گھسیٹتے ہوۓ اسی کمرے میں لے گیا جہاں اسے رکھا
گیا تھا اور پہلے سے ہی ان کا بےہوش ساتھی وہاں پڑا تھا اسے وہاں پٹک کر اس نے دائیں بائیں دیکھا تو اسے ایک رومال نظر آیا اس نے
وہ اپنے منہ پر اچھے سے لپیٹ لیا تا کہ اسکا چہرہ واضح ناں ہو اور باہر نکل آیا اب وہ دوبارہ جا رہا تھا۔۔۔
طاہر اور عمیر پولیس کو لے کر وہاں پہنچ چکے تھے اور ہوشیار اور چکنے رہتے ہوۓ آگے بڑھ رہے تھے۔۔۔۔
مناہل نیم بے ہوشی کی حالت میں پڑی تھی اور اچانک اسے سفیان کی خوشبو محسوس ہوئ لیکن اس نے یہ کہہ کر اپنے دل کو سمجھایا کہ وہ یہاں کیسے آ سکتا ہے
نہیں یہ وہم ہے میرا__
پھر اسکے دماغ میں سفیان کے ساتھ ایک ایک پل فلم کی طرح اسکے دماغ میں چل رہا تھا اور اسکے آنسوں اسکے گال بھگو رہے تھے ___
سفیان شاید اب تمہاری باگڑ بلی تمہیں کبھی ناں ملے بہت دور چلی جاؤں گی میں بہت دور
کبھی واپس ناں آنے کے لیے پھر تو تم
خوش ہو جاؤگے ناں تم سے کوئ لڑنے والا جو نہیں ہوگا لیکن میرا کیا میں تو تم سے لڑے بغیر اب رہ بھی نہیں سکتی کیسے جیوں گی
میں تمہارے بغیر پلیز لے جاؤ کیسے ناں کیسے مجھے یہاں سے تم میری کوئ بات نہیں ٹالتے ناں چاہے جتنی بھی لڑائ ہو ہمارے درمیان یہ بات بھی سن لو پلیز پلیز اور کہتے ہی دوبارہ بےہوش ہوگئ___!!
______________
“”پولیس وہاں پہنچتی ہے اور اپنی جیپ پیچھے ہی چھوڑ آتی ہے اور اب وہ محتاط ہوتے ہوۓ آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں__تاکہ ان کو کسی
قسم شبہ ناں ہو اور تمام گروہ کو وہ آسانی سے پکڑ سکیں پولیس نے وہ فیکٹری ہر جگہ سے گھیر لی تھی۔۔ اور اندر کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں
تب ہی 2 آدمی وہاں سے نکلتے ہیں اور نکل کر بھاگنے ہی لگتے ہیں
لیکن پولیس ان کے ارادے پہ پانی پھیرتے ہوۓ ان کو گرفتار کر لیتی ہے اور انہیں پیٹتے ہوۓ پوچھتی ہے کہ اس گروہ کا اصلی انچارج کون ہے تب ان دو آدمیوں میں ایک ہمت ہارتے ہوۓ
ساری بات بتا دیتا ہے کہ ابھی وہ لڑکیوں کو لے کر جانے والے ہیں اور پولیس چھپ کر ان کا انتظار کررہی ہوتی ہے وہاں کڈنیپرز کے صرف
4 آدمی ہوتے ہیں ۔۔ جن میں سے دو تو سفیان ہی دیکھ چکا ہوتا ہے اور دو پولیس کے ہاتھ لگ جاتے اور پولیس ان کے مین
سرکٹ کے آنے تک کوئ ایکشن نہیں لیتی تاکہ ان کو بھی اپنے انجام تک پہنچا سکے__
___طاہر اور عمیر بھی پولیس کے ساتھ ہوتے ہیں
تبھی طاہر کا فون رنگ کرنے لگتا ہے جہاں پاپا جی کالنگ جگمگاتا ہے اور وہ کال رسیو کرکے سائیڈ پر ہوجاتا ہے ___بیٹا کچھ پتا لگا
مناہل اور سفیان کا طارق صاحب پریشانی اور بےچینی کی حالت میں پوچھتے ہیں __
جی پاپا بس آپ دعا کریں وہ جلد ہی باحفاظت مل جائیں گے گھبرائیں مت ان کو کچھ نہیں ہوگا ___☜طارق صاحب کو مطمئن اور یقین دلا کر وہ کال کاٹ دیتا___
سفیان اس کمرے کی طرف پہنچ جاتا ہے جہاں لڑکیوں کو
رکھا گیا ہے اور اس کا دل محسوس کرتا ہے کہ مناہل یہیں ہے اور کمروں کو چھوڑ کر اس کمرے کو کھولنے کے چکر میں ہوتا ہے لیکن
وہاں تالا لگا ہوتا ہے اب وہ کوئ ایسی چیز ڈھونڈرہا ہوتا ہے جس سے وہ تالا کھول سکے ___
____________________
افروز خان بھی اپنے ساتھیوں اور اس سب کارنامے کے کھلاڑی مطلب کے جو لڑکیوں کو فروخت کرتا ہے گڈو باس کے ساتھ وہاں پہنچ جاتا ہے ___!!!
_____________________!!
سفیان کو اتنا ڈھونڈنے کے بعد آخر ایک لوہے کی تار مل ہی جاتی اور وہ اس سے تالا کھولنے کی کوشش کررہا ہوتا ہے لاکھ کوششوں کے
بعد تالا کھل جاتا ہے اور وہ اندر داخل ہوتا جہاں اندھیرے کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آتا اور دائیں بائیں دیواروں پر ہاتھ مارنے کے بعد آخر
اسے بورڈ مل جاتا ہے اور کمرہ روشن ہوجاتا وہاں کافی لڑکیوں کو بےہوش دیکھ کر ایک کونے میں اپنی دشمن جاں اپنی باگڑ بلی
بےہوشی کی حالت میں نظر آتی ہے وہ دیوانے وار چلتا اسکے پاس پہنچتا ہے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے گلے لگاتا اور اور اسکے بالوں میں
ہاتھ پھیررہا ہوتا ہے مانو اسے یقین ہی ناں ہو کہ اسکی دھڑکن اسے واپس مل گئ جو پتا نہیں کتنے دنوں بعد اسے دھڑکتی ہوئ
محسوس ہورہی
اور مناہل اسے تو خبر ہی نہیں تھی کہ اس کا باگڑ بلا آگیا ہے ہر بات ماننے والا اسکی یہ بات کیسے رد کرسکتا تھا اتنا خوش وہ کبھی نہیں ہوا تھا جتنا اب تھا وہ![]()
____________
“”افروز خان اور گڈو باس فیکٹری کے اندر داخل ہوجاتے ہیں اور ان کے باڈی گارڈز بھی ان کے ہمراہ ہوتے ہیں جیسے ہی وہ سب اندر
داخل ہوتے ہیں تو پولیس انسپیکٹر افروز خان کے سر پر پستول تان دیتا ہے ۔۔۔۔
اور افروز خان کا گارڈ جیسے ہی اپنی پستول نکالنے لگتا ہے انکسپکٹر اسے وارننگ دیتا ہے کہ اگر اپنے ہتھیار نہیں پھینکے سب نے تو
اپنے باس کو اوپر جاتے دیکھنا اور افروز خان کا اشارہ ملتے ہی سب اپنے ہتھیار زمین پر ڈال دیتے ہیں گڈو باس موقع دیکھ کر فرار ہونے کے
چکر میں ہوتا ہے جیسے ہی بھاگنے کے لیے پلٹتا ہے آگے طاہر کھڑا ملتا ہے اور طاہر زور سے اسے کک مارتا ہے جس سے وہ توازن
کھوکر زمین پہ گر جاتا ہے ۔۔۔انسپیکٹر کا اشارہ ملتے ہی پولیس افروز خان اور گڈو کو ان کے بندوں کے ہمراہ گرفتار کر لیتی ہے ان کو
اور لے کر چلی جاتی ہے جب کہ انسپیکٹر تمام لڑکیوں کو ان کے گھر پہنچانے کی زمہ داری لے کر آگے بڑھ جاتا اور طاہر اور عمیر بھی
انسپیکٹر کے ساتھ اسی کمرے میں انٹر ہوجاتے ہیں جہاں مناہل اور تمام لڑکیوں کو رکھا جاتا سامنے سے سفیان مناہل کے بے
ہوش وجود کو بانہوں اٹھا کر باہر ہی لے کر آرہا ہوتا ہے تب سامنے اسے طاہر اور عمیر انسپیکٹر کے ہمراہ ملتے ہیں طاہر کا دل
مطمئن ہوجاتا ہے لیکن مناہل کو دیکھ کر ایک دم پریشان ہوجاتا ہے
سفیان میرے بھائ تو ٹھیک تو ہے اور مناہل کو کیا ہوا طاہر پریشانی سے پوچھتا ہے
اور سفیان بس اتنا ہی کہتا ہے بھائ گھر جا کر بات
کریں گے
ابھی اسے ہاسپیٹل لے کر جارہا ہوں اور آپ پریشان ناں ہو
عمیر یہ سنتے ہی اسے اپنی گاڑی کی چابی دے دیتا ہے اور کہتا ہے
سفیان تم مناہل کو لے کر میری گاڑی میں چلے جاؤ میں اور طاہر ٹیکسی سے آجائیں گے
سفیان چابی لیتے ہی شکریہ کہتے ہوۓ لمبے
لمبے ڈگ بھرکر گاڑی میں بیک سائیڈ پہ مناہل کو لٹا دیتا ہے اور اپنے آپ کو مطمئن کرتا ہے مناہل کچھ نہیں ہوگا میں تمہیں کچھ نہیں
ہونے دوں گا اور دل ہی دل میں پرشان بھی تھا کہ مناہل ابھی تک ہوش میں نہیں آئ
___
وہ مناہل کو لے کر ہاسپٹل پہنچ جاتا ہے اور ڈاکٹر جیسے ہی مناہل کا چیک اپ کرتا ہے تو اسے اطلاع دیتا ہے کہ پریشانی کی کوئ بات نہیں یہ ایک دم ٹھیک ہیں بس تھوڑی ویک نس
ہو گئ ہے آپ ان کے کھانے پینے کا خیال رکھیں اور یہ کچھ دوائیاں ہیں جو کھانے بعد کھلانی ہے سفیان شکریہ کہتے ہوۓ وہ دوائیوں
کی چٹ پکڑ لیتا ہے جب وہ مناہل کو لینے کے لیے روم میں جاتا ہے تب تک وہ ہوش میں آچکی ہوتی ہے اور سفیان کو دیکھتے ہی بھاگ کر
اسکے گلے لگ جاتی ہے سفیان بھی اس کے گرد اپنے بازوں حائل کرلیتا ہے اور اسکے سینے پر مکے رسید کرتی ہے جنگلی کہیں کے تم
مجھے چھوڑ کر کیوں گئے تھے اور اگر وہ لوگ مجھے لے جاتے تو تمہارے بغیر میں رہتی سفیان یہ سنتے ہی مسکرانے لگا….
