Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Man Mehram (Last Episode)

Man Mehram by Umme Abbas

شام وہ جب آفس سے واپس آیا اس وقت شانزے لاؤنج میں صوفے پر دونوں پیر اوپر کیے بیٹھی تھی ۔میسم کی اک سرسری سی نگاہ اس پر پڑی تھی اگلے ھی پل نگاہ پھیر کر وہ آگے بڑھنے کو تھا ۔

“کہاں تھے آج آپ ؟”سوال غیر متوقع تھا اور انداز اس سے بھی زیادہ۔اتنے دنوں بعد وہ اکیلے میں اس سے مخاطب تھی ۔میسم رک گیا تھا پلٹ کر اسے دیکھا جو گلابی ڈوروں سے مزین آنکھوں میں عجیب سی سرد مہری لئے ہوئے تھی ۔ستے ہوئے چہرے پر سجا تاثر بھی بہت ٹھنڈا سا تھا ۔

“آفس ۔”یک لفظی جواب پر شانزے کھول اٹھی تھی ۔

“آپ کا آفس شہر کے مال کی لیڈیز آؤٹ لٹ میں کب سے منتقل ہو گیا میسم ۔”ایک جھٹکے سے اٹھ کر کھڑی ہوتی وہ تلخی پر اتر آئی تھی ۔میسم نے آنکھیں چھوٹی کرتے ماتھے پر شکنوں کا جال لئے اسکے بد لحاظی بھرے انداز ملا خطہ کیے تھے ۔

“تم کہاں تھی ؟ اور یہ کون سا انداز ہے بات کرنے کا ۔”وہ اب بھی پر سکون سا کھڑا اسکی بد تمیزی پر بَاز پرس کر رہا تھا ۔یعنی اسے ذرا اپنے پکڑے جانے کا ڈر خوف باقی نہیں رہا تھا ۔

“وہیں تھی جہاں آپ اس پر کٹی کبوتری کو بغل میں لئے گھوم رہے تھے ۔گھر میں جس مصروفیت کا ڈھنڈورا پیٹ رکھا ہے آپ نے ۔یہی وہ مصروفیت ہے نا آپ کی ؟”باوجود کوشش کے آنکھیں بھرنے لگی تھیں ۔میسم نے نا گواری سے اسکے درشت لہجے اور طنزیہ انداز پر ضبط کرتے اسے تنبیہی نظروں سے دیکھا تھا ۔

“فضول بکواس مت کرو شانزے ۔تم کچھ نہیں جانتی اس لئے منہ بند رکھو ۔”

“اب بھی میں کچھ نہیں جانتی ؟اتنا سب جانتی تو ہوں آپ کے بارے میں ۔مزید کچھ جاننے کی طلب بھی نہیں تھی مگر آپ کو تو عادت سی ہو گئی ہے ہر کچھ عرصے بعد ایک نیا چاند چڑھانے کی ۔”

وہ اسکی بات حقارت سے کاٹ گئی تھی ۔میسم نے جبڑے بھینچ کر اسے سخت نظروں سے دیکھا تھا ۔

ہاتھ میں پکڑا آفس بیگ صوفے پر پهینكنے کے سے انداز میں رکھتا وہ دو قدم اسکی طرف لیتا تن کر کھڑا ہوا ۔

“ایسا بھی کیا دیکھ لیا ہے تم نے جو یہ سب بکواس کر رہی ہو ؟۔کل کو کسی بھی راہ چلتی کے ساتھ دیکھ کر تم یوں ذہنی مریض قسم کی شکی بیویوں کی طرح بی ہیو کرو گی ۔”دبے دبے لہجے میں وہ اپنے غصے کو دبائے ہوئے تھا جو چہرے پر سرخی کی صورت ظاہر ہونے لگا تھا ۔

“آپ کے کرتوت ہی ایسے ہیں میسم ابھی نہیں تو بہت جلد میں ذہنی مریضہ بن ہی جاؤں گی ۔آپی ٹھیک کہتی ہیں آپ کی فطرت کبھی نہیں بدلنے والی ۔آپ کو عادت ہو گئی ہے کپڑوں کی طرح عورتیں بدلنے کی ۔”تنفر سے کہتے اسکی آواز بھرا گئی تھی ۔میسم نے مٹھیاں سختی سے بھینچ کر اسے آگ برساتی نظروں سے دیکھا تھا مگر وہاں ڈر کسے تھا ۔

“تمہیں پتہ ہے شانزے بی بی تمہارا مسئله کیا ہے ۔تم عقل سے بالکل پیدل ہو ۔چابی والی گڑیا ۔جسکی اپنی کوئی سوچ نہیں ہے بس تمہاری آپی تمہیں جس طرف چابی دے دیتی ہے تم اسی طرف بنا سوچے سمجھے چل پڑتی ہو ۔اور وہ عورت اسے ذرا شرم چھو کر نہیں گزری ۔چاہتی کیا ہے وہ مجھ سے ؟بس بہت لحاظ ہوا اب اس سے بھی دو دو ہاتھ کر کے ہی رہوں گا میں ۔زندگی عذاب بنا کر رکھ دی ہے تم دو بہنوں نے میری ۔”پہلو پر ہاتھ جمائے وہ خطرناک تیور لئے ہوئے تھا ۔

“آپی کو بیچ میں مت لائیے ۔”وہ چینخی تھی ۔

“کیوں نہ لاؤں ؟وہی تو ہمارے بیچ میں شروع دن سے کھڑی ہے ۔تمہیں کیا لگتا ہے مجھے علم نہیں ہے جو زہر وہ تمہارے ذہن میں میرے لئے گھولتی ہے ۔آج میں چاچو سے خود بات کروں گا اس کے بارے میں ۔”اسی کے سے انداز میں اسکی بات کاٹ کر وہ دوبدو بولا ۔

“جب انسان کے پاس اپنی صفائی میں کہنے کو کچھ نہ ہو تو وہ یوں ہی دوسروں پر چڑھائی شروع کر دیتا ہے ۔”سینے پر ہاتھ باندھ کر وہ سرخ ہوتی ناک اور آنکھوں سے بہتے پانی کے ساتھ چلائی تھی ۔میسم نے اسکا بازو پکڑ کر اسے جهنجھوڑ ڈالا تھا ۔اسکی اپنے بازو پر جارحانہ گرفت ،اسکا غصے سے سرخ پڑتا چہرہ اور تنے ہوئے نقوش شانزے کو ایک لمحے کو ساکن کر گئے تھے ۔وہ گھر میں اکیلی تھی ۔اس نے سامنے کھڑے شخص کو اپنی پہلی بیوی کو زد و کوب کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ۔اور اگر آج وہ اس پر ہاتھ اٹھائے تو کیا کر لے گی وہ ؟خوف نے اسکے دل کو کچھ یوں جکڑا تھا کہ ساری تیزی طراری ہوا ہوئی تھی آنکھوں میں خوف و ہراس اور چہرے پر سراسیمگی لئے وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے اسکے گڈ مڈ ہوتے چہرے کے نقش دیکھ رہی تھی ۔

“کیا لگتا ہے تمہیں شانزے محمود ۔میں کوئی پلے بوائے ہوں جسے عورتوں کا کریز ہے ؟یا اتنا ہی گرا ہوا شخص ہوں جو ہر دوسرے دن عورتیں بدلتا رہتا ہے ۔مرد ہوں تو کیا ٹوٹتے رشتے اثر انداز نہیں ہوتے مجھ پر ؟۔سمجھ کیا رکھا ہے تم نے مجھے ۔میں نے آج تک تمہاری ہر بات کو تمہارا بچپنا سمجھ کر کبھی سیریس نہیں لیا ۔مجھے لگتا تھا تم بہت صاف دل کی ہو ۔جو دل میں ہے وہی زبان پر بھی ہوتا ہے ۔مگر تم تو بہت زہریلی نکلی ہو ۔اس دن بھی میرے بچے کو لے کر تم نے انتہائی فضول بکواس کی تھی ۔میں نے برداشت کر لی ۔مگر آج تو حد ہی ہو گئی ہے ۔آخر کب تک چاچو چاچی کا لحاظ کرتے ہوئے میں تمہیں برداشت کرتا رہوں گا ۔ہاں ؟”ایک جھٹکے سے اسے چھوڑتا وہ چھبتی نظروں سے اسکا زرد پڑتا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔شانزے ذرا بھر لڑکھڑائی تھی ۔اسے گرنے سے بچانے کے لئے میسم نے ہی ہاتھ بڑھا کر اسکا بازو تھامتے اسے بچایا تھا ۔شانزے نے اڑی رنگت کے ساتھ اسے دیکھا تھا جس کے چہرے پر اسکے لئے کوئی رعایت نہیں تھی اور شاید دل میں بھی ۔ااگلے ہی پل وہ اپنا ہاتھ اسکے بازو سے ہٹا چکا تھا ۔

“کوشش کرنا میرے سامنے مت آنا ورنہ سچ میں میں کچھ کر گزروں گا ۔اور اگر اوپر والے پورشن یا میرے کمرے میں تم نے قدم بھی رکھا تو ٹانگیں توڑ دوں گا میں تمہاری ۔”بپهرے ہوئے انداز میں انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتا جوں ہی وہ جانے کے لیے مڑا تھا اندرونی دروازے میں ایستاده محمود اور صائمہ کے دنگ چہرے دیکھ کر بری طرح سے چونکا تھا ۔شرمندگی کے احساس سے نظریں چراتا وہ اپنا بیگ اٹھائے لب بھینچ تیزی سے سیڑھیاں عبور کر گیا تھا ۔متفکر سے چہرے کے ساتھ صائمہ آگے بڑھی تھیں صوفے پر بیٹھی چہرہ ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر روتی شانزے کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا جو نظر اٹھا کر انہیں دیکھا تھا پھر ان سے لپٹ کر اسکے رونے کی شدت میں اور اضافہ ہوتا چلا گیا ۔اسکی پشت سہلاتے نظریں گھما کر صائمہ نے محمود صاحب کو دیکھا تھا جو متفکر اور پر سوچ سے نظر آتے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے تھے ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

“میسم ناشتہ کر کے جاؤ بیٹا ۔”وہ خموشی سے نکل جانے کو تھا جب صائمہ کی آواز پر حجل سا رک کر انہیں سلام کرنے لگا ۔کل رات شانزے کمرے میں نہیں آئی تھی ۔اور نہ ہی وہ نیچے آیا تھا ۔کھانے کا بھی اس نے بھوک نہیں ہے کہہ کر منع کر دیا تھا ۔اب بھی بنا ناشتے کے آفس کے لئے نکلنے کو تھا جب صائمہ نے پیچھے سے اسے پكارا تھا ۔انکا سامنا کرتے اسے شرمساری ہو رہی تھی ۔شانزے پر اسے جتنا بھی غصہ سہی مگر ان دونوں کے سامنے وہ اس سے جھگڑ چکا تھا اسے اس بات کا افسوس تھا ۔

“میں آفس میں کر لیتا چاچی ۔”نظریں چراکر دهیمی آواز میں کہہ رہا تھا جب صائمہ نے اسے ٹوک دیا ۔

“آج سے پہلے کبھی بنا ناشتے کے جانے دیا ہے کیا جو آج آفس میں کر لیتے ۔رات بھی کھانا نہیں کھایا تھا ۔اب آ جاؤ ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے ۔”اسکے ناشتے کی ٹرے میز پر رکھتے وہ بالکل روز مره کے سے انداز میں اپنی محبت و شفقت کا اظہار کر رہی تھیں ۔میسم کی ندامت میں کچھ اور اضافہ ہوا تھا ۔ناشتہ کرتے ہوئے انکے پاس چائے کا کپ لے کر بیٹھتے وہ شعوری طور پر اب انکے کسی سوال ،کسی باز پرس کے لئے الرٹ بیٹھا تھا مگر انہوں نے چھوٹی موٹی باتیں کرتے بھولے سے بھی کل شام کے واقعے کا ذکر نہیں کیا تھا ۔وہ ناشتہ کر کے اٹھنے لگا تھا جب محمود آفندی باہر سے آتے دکھائی دیے ۔اسکے سلام پر اسکا کندھا تهپتهپا کر وہ ساتھ والی کرسی پر بیٹھ چکے تھے ۔

:میں چلتا ہوں اب ۔”کچھ بے آرام سا ہوتا وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔

“ٹھیک ہے بیٹا ۔خیر سے جاؤ اللّه حافظ ۔”میز پر پڑا اخبار کھولتے محمود آ فندی نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا ۔وہ چاہ کر بھی مسکرا نہیں سکا تھا ۔سر جھکا کر وہاں سے آگے بڑھ گیا تھا ۔

“تم نے میسم سے کچھ پوچھا تو نہیں ؟”اسکے جانے کے بعد وہ بیوی سے استفار کر رہے تھے ۔

“اتنی بھی بیوقوف نہیں ہوں اب محمود صاحب ۔داماد سے ایسی باتیں پوچھنا کہاں کی عقل مندی ہے ۔جب کہ شانزے کی جذباتیت سے آگاہ بھی ہوں ۔وہ کچھ بتانے پر آماده بھی نہیں ہے ۔بات کیا ہوئی دونوں کے بیچ اس کا بھی تو پتہ نہیں ہے ہمیں ۔”وہ کل رات شانزے سے پوچھ پوچھ کر تھک گئی تھیں مگر اسکی چپ نہیں ٹوٹی تھی ۔کمرے میں جانے کا کہا تو وہ صاف مکر گئی تھی انہوں نے اسکے انکار کو کب خاطر میں لانا تھا ہاتھ پکڑ کر اوپر چھوڑ آتیں مگر محمود آفندی نے انہیں زبردستی کرنے سے روک دیا تھا ۔

“ہوں ۔۔۔۔تم پتہ کرنے کی کوشش کرو شانزے سے ۔میسم شام کو آتا ہے تو میں خود بات کر لوں گا اس سے ۔”انکی بات سن کر سر ہلاتے وہ چائے کی طرف متوجہ ہو گئے تھے ۔صائمہ انہیں کپ پکڑا کر اٹھتی میسم کے برتن اٹھا کچن میں چلی گئی تھیں ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

“شانزے اٹھ جاؤ اب اور کتنا سونا ہے بیٹا ۔”اسکے کمرے میں داخل ہوتے كمبل میں دبکے وجود کو دیکھ کر انہوں نے پاس آتے نرمی سے کہا تھا ۔وہ جو پہلے سے جاگ رہی تھی بس کسلمندی سے یوں ہی پڑی ہوئی تھی منہ پر سے كمبل ہٹاتی اٹھ بیٹھی ۔چہرے کے گرد سے بال سمیٹتے وہ حزن زدہ سی لگتی تھی ۔

“ناشتہ کرلو اٹھ کر میسم تو آفس بھی چلا گیا ہے ۔”انہوں نے کن اکھیوں سے اسے دیکھتے جان بوجھ کر اسکا ذکر کیا تھا ۔شانزے نے ہونٹ بھینچ کر ضبط کیا تھا ۔ساری رات اسکے بارے میں سوچنے کے بعد صبح صبح پھر سے وہ اس شخص کا ذکر تک نہیں سننا چاہتی تھی ۔

وہ اٹھنے لگی تھی جب صائمہ نے اسے روک لیا تھا ۔

“اب بتاؤ مجھے کیا ہوا ہے ؟”اسکے بازو پر ہاتھ رکھے وہ اسکی طرف بغور دیکھ رہی تھیں ۔

“کچھ نہیں ہوا ماما ۔”وہ تلخ ہوئی تھی ۔

“اچھا .۔۔۔۔۔کچھ نہیں ہوا تو تم لوگ اس طرح ایک دوسرے پر چلا کیوں رہے تھے ۔کل رات سے تم یہاں کیوں پڑی ہو ۔اور وہ صبح منہ بنا کر آفس کیوں گیا ہے ۔شانزے میری بات سنو بیٹا شادی شدہ زندگی میں چھوٹی موٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں ۔۔۔۔”

“چھوٹی موٹی باتیں ماما ۔آپ کو لگتا ہے میں کسی چھوٹی سی بات پر یوں لڑوں گی ان سے ؟”وہ خفا نظروں سے انہیں دیکھتی انکی بات کاٹ گئی تھی ۔

“تو پھر ہوا کیا ہے ۔”انکے پوچھنے پر غصے میں وہ سب بتاتی چلی گئی تھی ۔صائمہ حیرت زدہ سی اسکا چہرہ تک رہی تھیں ۔تاسف سے سر ہلاتے انہوں نے ایک ہلکے ہاتھ کی چپت اسکے بازو پر رسید کی تھی ۔

“اللّه پوچھے تم سے شانزے ۔۔۔۔صرف اسے ایک لڑکی کے ساتھ دیکھ کر اتنا بڑا وبال مچانے کی ضرورت کیا تھی تمہیں ۔”انہوں نے پریشانی سے اپنا ماتھا چھوا تھا ۔ماں کے لتاڑنے پر شانزے نے بے یقینی سے انکی طرف دیکھا ۔

“صرف ایک لڑکی ماما ؟آپ انکا سابقہ ریکارڈ چیک کرتے ہوئے بتائیں کیا کرتی میں انہیں کسی کے ساتھ دیکھ کر ؟صبح ناشتے کی ٹیبل پر ہی وہ آپ سے اپنی مصروفیت کا رونا رو رہے تھے نا ۔پھر مالز کے سیر سپاٹے کرنے کا ٹائم کہاں سے مل جاتا ہے انہیں ۔میں نے ان سے پوچھا تھا پہلے اور انہوں نے کیا کہا میں آفس سے آ رہا ہوں ۔یعنی حد ہوتی ہے جھوٹ اور منافقت کی بھی ۔”نخوت سے سر جھٹکتی وہ تیز تیز بولتی چلی گئی ۔

ہاتھ پر گرائے سر کو اٹھا کر وہ سیدھی ہوتی اسے سمجھانے لگی تھیں ۔

“پھر بھی بیٹا تم اگر آرام سے بات کر لیتی تو بات اتنی بڑھتی نہ ۔خیر اب بھی کوئی اتنا بڑا مسئله نہیں ہے وہ آفس سے آئے گا تو تم جا کر اس سے بات کر لینا ۔”

“میں کیوں بات کروں گی ان سے اور وہ بھی انکے پاس جا کر ماما ؟سنا تھا نا آپ نے کیسے کہہ رہے تھے مجھے میں اوپر والے پور شن کی طرف انہیں نظر نہ آؤں ۔”اٹھ کر کھڑی ہوتی کہتی آخر میں اسکی آواز بھرا گئی تھی ۔اسکا ایسا کہنا اسے صحیح معنوں میں برا لگا تھا ۔لڑائی جھگڑا اپنی جگہ مگر وہ اسے یہ کہہ بھی کیسے سکتا تھا ۔افسرده ہوتے دل کے ساتھ وہ ایک بار پھر بھڑ بھڑ آگ میں جل اٹھی تھی ۔

“وہ تو تم دونوں ہی غصے میں تھے تو ۔۔۔۔۔”

“میں اب بھی غصے میں ہی ہوں ۔میسم نے تو اپنے گھر سے نکال دیا ہے اب اگر آپ کو بھی اپنے گھر میں برداشت نہیں ہو رہی تو بتا دیں آپ بھی ۔چلی جاؤں گی یہاں سے بھی میں ۔”بہتی آنکھوں کے ساتھ ناراض ہوتی وہ واش روم میں گھس گئی تھی ۔

“شانزے بیٹا بات تو سن لو ماما کی ۔”پیچھے وہ اسے پکارتی رہ گئیں جو انکی بات کو ان سنا کرتی واش روم میں بند ہو چکی تھی ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

شام کو میسم کی واپسی پر محمود آ فندی جو باہر لان میں ہی بیٹھے ہوئے تھے اسے دیکھ کر پكارا ،وہ سیدھا انکی طرف ہی آ گیا تھا ۔انکے سامنے بیٹھا تو محمود آفندی مسکرا کر اسے دیکھنے لگے ۔

“میسم ۔۔۔”

“آئی ایم سوری چاچو ۔”انکے کچھ کہنے سے پہلے ہی چہرہ اٹھا کر انہیں دیکھتا وہ ندامت سے بول اٹھا تھا ۔محمود آ فندی نا سمجھی سے نیم واہ لب لئے اسے دیکھنے لگے ۔

“مجھے افسوس ہے میں شانزے پر اس طرح سے چلایا ۔اور آپ نے دیکھ بھی لیا ۔آپ کو برا بھی لگا ہو گا ۔اپنی بیٹی آپ نے بڑے مان سے مجھے سونپی تھی ۔میں نے آپکا بھروسہ توڑا ہے ۔”آگے کی جانب ہو کر بیٹھا وہ تاسف سے کہہ رہا تھا محمود آفندی خفیف سا ہنس دیے ۔میسم بات کرتے رک کر حیرانگی سے انہیں دیکھنے لگا ۔

“بالکل بچے لگ رہے ہو اس طرح بات کرتے ہوئے ۔یار میاں بیوی میں سو بار جھگڑے ہوتے ہیں غصے میں ایک دوسرے کو کہہ سن بھی لیتے ہیں ۔تم دونوں بھی نارمل لوگ ہو اور نارمل لوگ آپس میں اکثر جھگڑا کرتے پائے جاتے ہیں ۔تمہارا کیا خیال ہے اس سب سے میں اور صائمہ نہیں گزرے ہوں گے ۔”وہ ہلکے پھلکے سے انداز میں شانے اچکا کر کہتے رکے ۔”مگر خیال اس بات کا رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ میاں بیوی کے آپسی جھگڑے ان تک ہی رہیں ۔بات دو لوگوں سے تیسرے تک نہ پہنچے اور ناراضگیاں زیادہ طول نہ پکڑیں ۔”سنجیده ہوتے وہ مدبر سے لہجے میں اسے سمجھا رہے تھے ۔میسم نے سر ہلایا ۔

“جی چاچو ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ ۔بس بات ہی کچھ ایسی ہوئی تھی میں ضبط کھو گیا ۔وہ میرے دوست کی بیوی تھی ۔میرا دوست بھی ہمارے ساتھ ہی تھا وہ واش روم گیا ہوا تھا جب ہی شانزے نے مجھے ثنا کے ساتھ دیکھ لیا ہو گا ۔وہ دونوں امریکہ سے آئے ہیں ۔کل آفس ٹائم میں فیصل کی کال آئی تھی ۔وہ ملنے کا کہہ رہا تھا ۔تھا بھی میرے آفس کے قریب ہی وہ ریسٹورنٹ جہاں وہ دونوں تھے تو میں جلدی آف لیتے ان سے ملنے چلا گیا ۔وہاں سے کھانے کے بعد انہوں نے شاپنگ کا پلان بنا لیا ۔انکے اصرار پر مجھے بھی ساتھ جانا پڑ گیا بس اتنی سی بات تھی چاچو مگر شانزے نے اسے بہت غلط معنوں میں لے لیا ۔اور آگے سے مجھے بھی غصہ آ گیا ۔آئندہ خیال رکھوں گا ۔”محمود آفندی نے فخریہ نظروں سے بھتیجے کو دیکھا تھا ۔انکا انتخاب صحیح تھا یہ احساس انہیں ہر بار میسم کو دیکھ کر ہوتا تھا ۔

“شانزے کی غلطی ہے میں مانتا ہوں ۔مگر بیٹا تم سمجھ دار ہو ۔ایک پاگل پن پر اتر آئے تو دوسرے کو تھوڑی زیادہ سمجھ داری دکھانی پڑتی ہے ۔”انکے نرمی سے سمجھانے پر اس نے تائیدی انداز میں گردن کو جنبش دی ۔

“میں تو انہیں کل آج شام ڈنرکے لئے بھی انوائٹ کر چکا ہوں ۔اب سوچ رہا ہوں منع کر دوں ۔”انکے ذکر پر میسم کو اچانک سے یاد آیا تھا ۔کل کی بد مزگی کے بعد وہ اس قدر غصے اور شرمندگی کی ملی جلی کیفیت کا شکار تھا کہ ااسکے ذہن سے یہ بات ہی نکل گئی تھی ۔

“کیوں منع کیوں کرو گے ۔ابھی تو بہت ٹائم پڑا ہے ۔اندر جا کر صائمہ اور شانزے سے کہو سب ہو جائے گا ۔”محمود صاحب کے کہنے پر اس نے ہاتھ الٹ کر رسٹ واچ پر ٹائم دیکھا تھا ۔

“ٹائم کم ہے چاچو اتنی جلدی ۔۔۔۔”

“ایک دو ڈشز گھر میں تیار ہو جائیں گی ایک دو ہوٹل سے پکڑ لیں گے یار ۔اتنا بڑا کیا مسئله ہے ۔آ جاؤ اب تم مزید دیر کر رہے ہو ۔”اٹھ کر آگے بڑھتے وہ اس سے کہہ رہے تھے جو صبح کل کے بعد سے اب دل سے مسکراتا اٹھ کر انکے ساتھ ہو لیا تھا ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

صائمہ نے اسے بتایا تھا میسم کا دوست اپنی بیوی کے ساتھ آ رہا ہے ڈنر پر ۔اسکا پارہ تو ہائی ہوا تھا مگر وہ خاموشی سے کچن میں آ کر انکے ساتھ تیاری کرنے لگی تھی ۔مغرب کے قریب کا وقت تھا جب انکے کہنے پر وہ چینج کرنے گئی تھی ۔کل کے کپڑے اب سلوٹوں کے باعث ملگجے سے لگنے لگے تھے ۔اوپر کمرے میں جا کر کپڑے بدلنے کے بجائے وہ اپنے روم میں آئی تھی ۔شادی سے پہلے کے کچھ سوٹ اس کے یہی وارڈ روب میں لٹکے ہوئے تھے ۔تیار ہو کر وہ باہر نکلی تب تک وہ لوگ آ چکے تھے ۔ڈرائنگ روم سے نکلتیں صائمہ نے اسے آتے دیکھا تھا ۔

“جا کر مل لو اندر ۔ میں آتی ہوں ریفریشمنٹ کا انتظام کر کے ۔”سر ہلا کر ہونٹوں پر دهیمی سی مسکراہٹ سجائے وہ اندر داخل ہوئی تو سامنے ہی بیٹھی ہستی کو دیکھ کر اسکے قدم اپنی جگہ تھم سے گئے تھے ۔گولڈن باب کٹ بالوں والی وہی لڑکی ہنستے ہوئے میسم سے کچھ کہہ رہی تھی ۔ایک خوش شکل سا مرد بھی اسکے پہلو میں بیٹھا ہنس رہا تھا ۔ساتھ رکھے صوفے پر براجمان میسم ہونٹوں پر دائیں ہاتھ کی مٹھی بنائے رکھ کر مسکرا رہا تھا ۔اسے دیکھ کر وہ تینوں اسکی طرف ایک ساتھ متوجہ ہوئے تھے ۔فق ہوئے چہرے کو نارمل کرنے کی کوشش کرتے وہ زبر دستی مسکرا کر آگے بڑھی تھی ۔

“شانزے یہ میرا دوست فیصل اور اسکی وائف ثنا ہیں ۔امریکہ سے آئے ہیں ۔اور یہ شانزے ہیں میری وائف ۔”وہیں بیٹھے بیٹھے اس نے مسکرا کر بڑے لگاؤ سے شانزے کی طرف دیکھتے تعارف کروایا تھا ۔ثنا اٹھ کر اسکے گلے ملی تھی اور وہ خفت سے پانی پانی ہو رہی تھی ۔کن اکھیوں سے اس کی جانب دیکھا تھا جو اب اسکی طرف دیکھ تک نہیں رہا تھا ۔فیصل اس سے حال احوال پوچھ رہا تھا ۔مرتی کیا نہ کرتی وہ دهیمی سی رسمی مسکان لئے جواب دیتے میسم کے ساتھ نشست سنبهال لی تھی ۔

“میسنے کہیں کے کیا ہو جاتا جو کل ہی بتا دیتے یہ پر کٹی کبوتری انکے دوست کی بیوی ہے ۔اف اللّه !میں مر کیوں نہیں جاتی ۔”

زار و زار روتے دل اور مسکراتے ہونٹوں کے ساتھ اس نے پہلو میں بیٹھے میسم کو دیکھ کر دل ہی دل دہائی دی تھی جو بے نیاز بنا اسے سرے سے نظر انداز کر رہا تھا ۔ڈھلکتے آنچل کو سر پر برابر کرتے وہ ثنا کی جانب متوجہ ہوئی تھی جو اس سے پر جوش سی کہہ رہی تھی ۔

“میں نے کل میسم کا اتنا سر کھایا تم سے ملنے کے لئے کہ مجبوراً اس بے چارے کو ہمیں ڈنر پر انوائٹ کرنا ہی پڑا ۔اور میں تمہیں دیکھ کر بہت خوش ہوں یار کتنے سویٹ لگتے ہو تم دونوں ایک ساتھ ۔کل پہلی بار میں نے اس بندے کو کسی کے بارے میں اتنی دیر بات کرتے دیکھا ہے ۔میرے تمہارے بارے میں ہر سوال کا جس تفصیل سے اور نرمی سے اس نے جواب دیا تھا میں حیران رہ گئی تھی ورنہ یہ بولتا ہی کب ہے ۔مگر اب تمہیں دیکھ کر یقین آ گیا ہے اسے بولنا ایسے ہی نہیں آ گیا ۔سارا کمال تو تمہارا ہے ۔”اسکے بے تكان بولنے پر وہ جہاں ساری حقیقت کھلنے پر شرمسار ہو رہی تھی وہیں اسکی تعریف پر اپنی جگہ جھینپ بھی گئی تھی ۔

“اب اتنا بے مروت بھی نہیں ہوں میں ۔تم لوگوں کو ڈنر پر تم نہ بھی کہتی تو بھی انوائٹ کرنا ہی تھا میں نے ۔”میسم بولا تو ثنا ہنس دی ۔

“مگر اتنی جلدی بھی نہ کرتے ۔یہ تو میری اپنی کاوش رنگ لائی ہے ۔”

“میسم مان لو یار ۔خواتین سے بحث شروع ہونے سے پہلے ہی ہار مان لینی چاہیے اس سے امن و امان کی صورت حال برقرار رہتی ہے ۔”فیصل کے کہنے پر ان تینوں کا قہقہہ پڑا تھا ۔

“تجربہ بولتا ہے ۔”میسم اسے چھیڑ رہا تھا ۔

“تمہارا بھی ہو گیا ہو گا اب ۔”دو بدو جواب ملا تھا ۔

“کہاں یار ۔میں بڑا خوش قسمت ہوں ۔میری بیوی بحث تو دور کی بات فضول ایک لفظ تک زبان سے نہیں نکالتی ۔میں تو ترس جاتا ہوں کبھی تو یہ کسی بات پر بحث کرے، جھگڑا کرے مگر نہ جی شانزے بی بی میری یہ حسرت شاید ہی کبھی پوری ہونے دیں گی ۔”اسکی طرف دیکھتے بظاہر بڑے پر سکون اور چاہت بھرے انداز میں کہتا وہ اسکی شرمندگی سے سرخ پڑتی رنگت دیکھ رہا تھا ۔شانزے کے لئے مزید وہاں بیٹھنا دوبھر ہوا تھا وہ جو اسے بھگو بھگو کر مار رہا تھا ۔

“واہ بھئی تم اس روئے زمین پر خوش قسمت ترین انسان ہو پھر ۔”

فیصل ستائشی انداز میں گردن ہلاتا کہہ رہا تھا ثنا کے گھورنے پر قہقہہ لگا دیا ۔

“مطلب کہ میرے بعد ۔پہلا نمبر تو میرا ہی ہے ۔”

وہ لوگ اپنی گپ شپ میں مگن تھے ۔شانزے کچھ دیر بیٹھ کر وہاں سے اٹھ آئی تھی ۔

رات ڈنر کے بعد وہ لوگ واپس چلے گئے تھے ۔صائمہ اور وہ دونوں کچن سمیٹ رہی تھیں اور ساتھ ساتھ وہ اسے کھری کھری سنا بھی رہی تھیں ۔

“بس دیکھ لیا اپنی جلد بازی اور جذباتیت کا نتیجہ ۔کھودا پہاڑ نکلا چوہا ۔میسم کے دوست کی بیوی تھی وہ ۔شرمنده کروا کے رکھ دیا بچے کے سامنے مجھے بھی ۔کیا سوچتا ہو گا تمہارے بارے میں وہ ۔کیسی شکی مزاج لڑکی ہے ۔”اسکی غلطی تھی اور اسے احساس بھی تھا تبھی بنا کچھ بھی کہے برّتن دھوتے وہ چپ چاپ انکی جلی کٹی سن رہی تھی ۔

“اتنے بھی معصوم بچے نہیں ہیں ماما اب وہ ۔میسم مجھے کل بھی بتا سکتے تھے لیکن نہیں انہیں تو مجھ پر غصہ ہونے کا بہانہ مل گیا تھا بس ۔”اپنی خفت مٹانے کو اس نے ایک نقطہ اٹھایا تھا ۔کاؤنٹر صاف کرتے صائمہ نے رک کر بیٹی کو خشمگیں نظروں سے دیکھا تھا ۔

“جیسے تم نے تو اسے بڑا موقع دیا ہو گا کچھ کہنے کا ۔جانتی نہیں ہوں نا تمہیں میں ۔غصے میں کیسے اگلے بندے پر چڑھ دوڑتی ہو تم ۔”

شانزے نے منہ بسور کر ہاتھ میں پکڑی پلیٹ کے ساتھ ماں کی طرف خفگی سے دیکھا ۔

“رہنے دیں ماما میں بہت نظر آتی ہوں آپ کو ۔انہیں نہیں دیکھا تھا آپ نے کیسے سلطان راہی بن کر ٹانگیں توڑنے کی تڑی لگا رہے تھے مجھے ۔”

“چاچی ایک مگ کافی بنا دیں گی پلیز ۔”دروازے میں کھڑا وہ سنجیدہ سا کہہ رہا تھا ۔صائمہ نے جہاں بیٹی کی زبان کی کرامات کے باعث کھسیا کر اسے دیکھا تھا وہیں بیٹی صاحبہ کے ہاتھ سے اسکی صور اسرافیل پھونکتی آواز سن کر پلیٹ گرتی سنک میں گرتی دو حصوں میں تقسیم ہوئی تھی ۔آنکھیں میچ کر روہانسی صورت بنائے اس نے پہلو بدلا تھا ۔

“میں بنا دیتی ہوں بیٹا ۔”شانزے کو سخت نظروں سے غگھور کر وہ میسم کی طرف مسکرا کر پلٹیں ۔وہ مشکور سے انداز میں سر ہلاتا واپس مڑ گیا تھا ۔

“میری ناک کٹوانے میں کوئی کسر مت چھوڑنا تم ۔”

“میرے تو ستارے ہی گردش میں ہیں ۔”ماما کو فریج کی جانب بڑھتے دیکھ کر وہ ٹوٹی پلیٹ کو دیکھ کر بڑبڑائی تھی ۔

رات کو باوجود کوشش کے بھی وہ خود کو اوپر جانے کے لئے تیار نہیں کر پائی تھی ۔کل تو وہ خود بہت غصے میں تھی مگر آج اپنا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اسکے غصے کا سوچ کر ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی سی دوڑ گئی تھی ۔

صائمہ نے اپنے کمرے سے نکلتے اسے اپنے کمرے میں جاتے دیکھا تو کلس کر رہ گئیں ۔

“ایک تو آپ کی بیٹی نے میرا خون جلا رکھا ہے محمود صاحب ۔اسے تو میں سیٹ کرتی ہوں جا کر آج ۔”وہیں سے گردن موڑے وہ غصیلے انداز میں کہتی آگے بڑھنے لگیں ۔

“اسے رہنے دو صائمہ ۔کچھ دیر اکیلے رہ کر اپنا احتساب خود کرے گی تو آئندہ ایسی غلطی نہیں دوہرائے گی ۔ابھی وہ شرمندہ ہے میسم سے بات کرے گی تو یہ کیفیت جلد ہی زائل ہو جائے گی ۔پھر دو تین دن میں وہ بھول بھال بھی جائے گی مگر بسر اوقات زندگی میں شرمساری کا دورانیہ تھوڑا طویل ہو تو انسان کو اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے ۔میسم کا بھی یہی خیال ہے اسے کچھ وقت دو وہ اپنے اور اسکے رشتے کے بارے میں اچھے سے سوچے سمجھے ۔اعتبار کرنا سیکھے اپنے ہمسفر پر تا کہ آگے کا سفر ان دونوں کے لئے آسان ہو ۔”انکے اطمینان بھرے انداز میں کہنے اور میسم کا ذکر کرنے پر وہ چپ ہوتیں واپس پلٹ آئی تھیں ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

پچھلے دو دن سے ان دونوں کی آنکھ مچولی چل رہی تھی ۔اسکے آفس جانے کے بعد وہ کافی دیر اپنے کمرے میں آتی تھی ۔اسکا پھیلاوا سمیٹتی تھی اس کی تصویر کے سامنے کھڑے ہو کر گردن تان کر کہتی تھی ۔

“لو آ گئی میں ۔توڑ کر دکھاؤ ٹانگیں اب ۔بڑے آئے پھنے خان ۔”منہ ٹیڑھا کرتے ناک سکیڑ کر کہتی وہ خود ہی ہنس دیا کرتی تھی ۔

تصویر کی اور بات تھی مگر حقیقت یہ تھی وہ خود کو اسکے سامنے کے لئے تیار نہیں کر پا رہی تھی ۔وہ غصہ ہو گا جانتی تھی ۔اور اس بار اسکی غلطی تھی یہ سوچ کر ہی اسکے اؤسان خطا ہونے لگتے تھے ۔

اپنے کہے سبھی تلخی کے زہر میں ڈوبے الفاظ اسکا اپنا حلق کڑوا کرنے لگتے تھے ۔

ایسے میں سبرینہ رہنے چلی آئی تھی ۔شایان کو آؤٹ آف سٹی جانا تھا وہ سبرینہ کو یہاں چھوڑ گیا تھا ۔شانزے نے اسے بھی ساری بات بتائی تھی مگر اس نے آگے سے کوئی تبصرہ کرنے سے گریز ہی برتا تھا ۔

شانزے کے کچھ ٹیسٹ وغیرہ ہونے تھے ۔وہ سبرینہ کے ساتھ ہی ہوسپٹل گئی تھی ۔گائنی ڈیپارٹمنٹ سے نکلتے ہوئے پاس سے گزرتی ایک نقاب پوش عورت نے سبرینہ کو دیکھ کر پكارا تھا ۔

“سبرینہ ۔۔۔۔یہ تم ہو ؟”سبرینہ کے ساتھ ساتھ شانزے بھی پیچھے مڑ کر اسے دیکھنے لگی تھی ۔اس نے نقاب کھینچ کر نیچے کیا تھا ۔حیرت کا شدید ترین جھٹکا تھا جو ان دونوں بہنوں کو لگا تھا ۔

“فریحہ ؟؟؟”مارے حیرت و خوشی کے سبرینہ کے منہ سے ہلکی مگر چینخ نما آواز نکلی تھی ۔وہ آگے بڑھ کر اسکے گلے ملی تھی ۔

“یہ شانزے ہے ؟”پاس کھڑی ہونق سی شانزے کی طرف اشارہ کرتے اس نے کہا تھا سبرینہ نے گردن ہلائی تو وہ مسکرا کر اس سے بھی گلے ملی تھی ۔

“یہ تو اتنی بڑی ہو گئی ہے ماشاءالله ۔”فریحہ تعجب بھری خوشی کا اظہار کر رہی تھی ۔

“صرف بڑی نہیں ہوئی فریحہ بھابھی آپ کی سوکن کے درجے پر بھی فائز ہو گئی ہوں ۔اف اللّه کیا سوچیں گی فریحہ بھابھی ۔۔۔۔میں مر کیوں نہیں جاتی ۔،”دل ہی دل اس نے دہائی دی تھی ۔فریحہ کو بھابھی کہنے کی عادت اب تک نہ چھوٹ پائی تھی ۔

ہوسپٹل کے کیفیٹریا میں جا کر بیٹھتے سبرینہ نے کاؤنٹر سے جوس لیا تھا ۔اب وہ تینوں وہاں ایک کونے میں قدرے پر سکون گوشے میں ،گول میز کے گرد بیٹھی ہوئی تھیں ۔

“تمہاری تو شادی ہو گئی ہو گی سبرینہ ۔”فریحہ پوچھ رہی تھی ۔شانزے نے کن اکھیوں سے اسکی جانب دیکھا تھا جو دس سالوں میں بالکل بدل گئی تھی ۔خوب صورت وہ اب بھی تھی مگر پہلے سی شادابی مفقود تھی ۔چہرے سے وہ اپنی عمر سے زیادہ لگنے لگی تھی ۔گھر میں بھی لپ اسٹک اور کاجل کی دھار آنکھوں سے جدا نہ ہونے دینے والی اس وقت ہر آرائش سے مبرا سامنے بیٹھی تھی تو کوئی اور ہی فریحہ معلوم ہوتی تھی ۔

“پانچ سال ہو گئے ہیں ۔تم سناؤ ۔تم نے تو سارے رابطے ہی ختم کر دیے ۔”سبرینہ شکوہ کر رہی تھی ۔

“جن گلیوں سے گزر نہ ہو وہاں کا راستہ ماپنے کا کیا فائدہ سبرینہ ۔اسی لئے سارے تعلق واسطے ختم کر دیے تھے میں نے ۔”اک افسر ده سی مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر آئی تھی ۔سبرینہ نے سمجھنے کے سے انداز میں سر ہلایا تھا ۔شانزے بنا کچھ بھی بولے جوس کے سپ لے رہی تھی ۔اسے اپنا بی پی لو ہوتا معلوم ہونے لگا تھا ۔

“تم نے شادی کی ؟”کچھ جھجک کر سب رینہ نے پوچھا تو شانزے اسکا چہرہ دیکھنے لگی جہاں کوئی سایا سا آ کر ٹھہرا تھا ۔پھر اس نے ذرا توقف سے سر اثبات میں ہلا دیا ۔

“میسم ۔۔۔۔وہ کیسا ہے ؟”جوس جا کر شانزے کے گلے میں جیسے اٹک سا گیا تھا ۔وہ سیدھی ہوتی پہلو بدل کر کھانسی تھی ۔سبرینہ کے ساتھ ساتھ فریحہ نے بھی اسکی طرف دیکھا تھا ۔

“سوری ۔۔۔۔”معذرت خواہ انداز میں ہاتھ اٹھائے وہ سانس لینے کو رکی ۔سبرینہ نے اس سے نظر ہٹا کر فریحہ کو دیکھا تھا جیسے کسی طفل کو دیکھا جاتا ہے ۔

“تم اب بھی اس شخص کا حال احوال پوچھ رہی ہو فریحہ جس نے تمہارے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کیا ۔”

سبرینہ کی آواز میں غصہ تھا ،بے یقینی تھی ،ناپسندیدگی تھی ۔فریحہ زخمی سے انداز میں مسکرائی ۔

“اب جانوروں سے بدتر زندگی گزار رہی ہوں تو لگتا ہے اپنے منہ سے نكالی ہر بات میرے گلے پڑ رہی ہے ۔”وہ نظریں جھکا کر میز پر رکھے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی

“کیا مطلب ؟”سبرینہ کے ساتھ ساتھ شانزے بھی پوری طرح اسکی طرف متوجہ ہوئی تھی ۔فریحہ نے ایک پل کے لئے ان دونوں کے چہرے دیکھے تھے پھر نظریں جھکا لیں ۔

“میسم مجھ پر شک کرتا ہے ،مجھے مارتا پیٹتا ہے ،گندی زبان استعمال کرتا ہے وہ سب جھوٹ تھا ۔۔۔۔اس نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا ۔بلکہ میرا ابارشن بھی میں نے خود کروایا تھا ۔”شانزے منہ کھولے فق ہوتی رنگت کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی کچھ ایسی ہی حالت سبرینہ کی بھی تھی ۔

“کیا ۔۔۔۔کیا کہہ رہی ہو تم فریحہ ؟”اسکے برسوں کی بد گمانی اور نفرت کا بت ایک دم سے پاش پاش ہونے کو تھا وہ اتنیآسانی سے کیسے برداشت کر سکتی تھی ۔

“سچ کہہ رہی ہوں سبرینہ ۔میں اپنے کزن میں انٹرسٹڈ تھی مگر گھر والے نہیں مانے ۔میری میسم سے شادی ہو گئی ۔شروع شروع میں میں خوش تھی ۔وہ اچھا تھا ہر لحاظ سے بس ذرا سنجیده سا تھا ۔بولتا کم تھا ۔اسکی عادتیں تھوڑی عجیب تھیں مگر پھر بھی وہ ایک اچھا شوہر ثابت ہوا تھا ۔مگر پھر میرے کزن نے مجھ سے دوبارہ رابطہ کیا ۔وہ کہہ رہا تھا وہ میرے بغیر نہیں رہ سکتا ۔میں میسم کو چھوڑ دوں وہ مجھ سے شادی کر کے مجھے اپنے ساتھ کہیں دور لے جائے گا ۔ایک چور دروازہ کھلا دیکھ کر میرا دل بے ایمان ہونے لگا ۔میں اس میں پھر سے انوالؤ ہونے لگی تھی ۔میسم سے میرا رویہ بدلنے لگا تھا جسے اس نے جانچ بھی لیا تھا ۔میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس سے الجھنے لگی تھی ۔تم اسے نا پسند کرتی ہو میں اچھے سے جانتی تھی ۔اسی سے فائدہ اٹھا کر میں نے تم سے اسکی برائی کرنا شروع کر دی تاکہ وقت آنے پر کوئی ایسا ہو جو میرا گواہ ہو ۔۔انہی دنوں مجھے میری پریگننسی کی خبر ملی ۔میں چکرا کر رہ گئی تھی ۔میں شہزاد کے ساتھ ایک نئی زندگی کے خواب دیکھ رہی تھی ۔ایسے میں یہ بچہ میرے پاؤں کی بیڑی بننے لگا تھا ۔میری ایک دوست تھی وہ گائناکالوجسٹ تھی میں نے اسکی ہیلپ لی ۔میسم سے یہ بات چھپانا نا ممکن تھا اسی لئے میں نے اپنی دوست کے ساتھ مل کر ایک پلان بنایا ۔میں اسے ساتھ لے کر گئی جہاں میری دوست نے کہیں جواز دے کر اور میری فیک میڈیکل رپورٹ بنا کر یہ ثابت کر دیا کہ یہ پریگننسی میرے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے ۔میسم ابارشن کے لئے راضی ہو گیا تھا ۔مگر اس نے ایک غلطی کر دی ۔اس نے گھر میں یہ بات کسی کو نہیں بتائی ۔میسم کی امی پوتے پوتی کا منہ دیکھنے کی دعائیں کرتے نا تھکتی تھیں وہ انہیں یہ دکھ نہیں دینا چاہتا تھا ۔میرا ابارشن ہو گیا ۔اس دن میں شہزاد سے فون پر اپنے تمام پلان اور ابار شن کے بارے میں ہی ڈسکس کر رہی تھی ۔میں اسے قائل کرنا چاہتی تھی وہ جلد از جلد سب تیاری کرے ۔ہم نے طے کر رکھا تھا ہم پہلے یہاں سے بھاگ جائیں گے پھر خلع کا مقدمہ دائر کر دیں گے ۔مگر میسم نے سب سن لیا ۔وہ پہلا دن تھا جب میں نے اسے غصے میں دیکھا تھا ۔اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا تھا ۔مجھ سے بد زبانی کی تھی ۔اور میری اچھی قسمت ۔۔۔۔اس وقت تو یہی لگا تھا ۔شانزے نے یہ سب دیکھ بھی لیا ۔میں جو اس سے چھٹکارا چاہتی تھی مجھے ایک اچھا اور آسان موقع میسر آ گیا تھا جس سے فائدہ اٹھا کر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے میسم کی زندگی سے نکل آئی ۔”اپنی بات مکمل ہونے تک کہیں آنسوؤں کی ایک لكیر سی اس کے چہرے گال پر بنتی چلی گئی ۔

سبرینہ دم سادھے سنتی رہی تھی اس کے چہرے نے کہیں رنگ بدلے تھے اور آخری رنگ اس کے چہرے پر شدید غصے اور صدمے کا تھا ۔

“تم ۔۔۔۔تم گھٹیا عورت میرے جذبات کا فائدہ اٹھا کر ہمارے ہی گھر میں طاق طاق کر نشانے لگاتی رہی ۔اور ہم اس غلط فہمی میں مارے گئے کہ تم مظلوم ہو ۔شرم نہیں آئی تمہیں اپنے ہی شوہر پر بہتان لگاتے ہوئے ۔ایک بے گناہ انسان کو سب کی نظروں سے گراتے ہوئے ۔اگر نہیں رہنا تھا اسکے ساتھ تو چھوڑ دیتی اسے اتنا سب ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔”

سبرینہ کو خود احساس نہیں تھا اسکی آنکھیں بھیگ رہی تھیں ۔اپنے ہاتھوں کو سختی سے بھینچ کر سامنے بیٹھی عورت کا منہ توڑنے سے اس نے خود کو باز رکھا تھا ۔فریحہ کی نگاہیں اب بھی جهکی ہوئی تھی ۔

“پہلے نہیں آئی تھی جب تک شہزاد نے مجھے ٹھکرایا نہیں تھا ۔اسے کوئی اور مل گئی تو مجھ سے شادی سے انکار کر دیا اس کے بعد میں مٹی ہو گئی سبرینہ بس شرم ہی باقی رہی باقی سب ختم ہو گیا ۔یہ شرم ہی ہے جو مجھے خود سے بھی نظریں ملانے کے قابل نہیں رہنے دیتی اب ۔بہت کوشش کی ایک بار تم سب کے سامنے آ کر اپنی غلطی کی معافی مانگ سکوں خاص کر اس انسان سے جس کی میں گناہ گار بن گئی تھی ۔مگر معافی مانگنے کے لئے ہمت چاہیے ہوتی ہے بزدلوں کا شیوه نہیں ہے معافی مانگنا ۔نہیں مانگ سکی ۔میرے گھر والے بھی یہی سمجھتے رہے ساری غلطی میسم کی ہے میں تو اتنی بزدل نکلی کہ لاکھ چاہ کر بھی انکو نہ بتا سکی ۔اپنے لئے اپنوں کی آنکھوں میں نفرت اور ناپسندیدگی دیکھنا آسان نہیں ہوتا ۔سب کی لعن ط عن کا خوف مجھے ہمیشہ روک دیتا تھا ۔”وہ بے تاثر چہرہ لئے میکانکی انداز میں بول رہی تھی ۔

“اور تمہاری وجہ سے میسم نے جو اپنوں کی بیگانگی سہی اسکا کیا ؟اسکے حصے میں جو سب کی لعنت ملامت آئی اس تکلیف کا کیا ؟”سبرینہ آگے ہو کر غرائی تھی ۔

“مزید کوئی بکواس نہیں سننی ہمیں تمہاری ۔چلو شانزے اٹھو یہاں سے ۔”کہتے ہوئے وہ خود بری طرح سے چونکی تھی اتنی دیر میں وہ اسے بالکل بھول چکی تھی ۔اب جو اسکی طرف دیکھا تو دنگ رہ گئی ۔اسکا چہرہ خطرناک حد تک زرد پڑ رہا تھا ۔اسے اٹھانے کی غرض سے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تو اسکا ہاتھ یخ ٹھنڈا ہو رہا تھا ۔پتھرائی آنکھوں سے وہ بس فریحہ کو دیکھ رہی تھی جیسے کسی گہرے شاک میں ہو ۔

“شانزے اٹھو ۔”سبرینہ کے ہلا نے پر وہ اسکی طرف یوں دیکھنے لگی جیسے کسی ڈراؤنے خواب سے بیدار ہوئی ہو ۔

“اٹھو ۔”سبرینہ نے پھر سے دوہرایا شانزے نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔

“نہیں آپی مجھے سننا ہے ۔ہم نے ہمیشہ انکی ہی تو سنی ہے اتنے سالوں بعد بھی انکے سنائے الفاظوں کی بازگشت نے ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا ۔ہم نے انکے کہے پر کھرے کھوٹے کی پہچان کی تو آج بھی پوری بات سننی ہے مجھے ۔”اسکی آنکھ سے ایک قطرہ گر کر میز کی سطح پر آ پڑا تھا ۔اسکے چہرے پر جو تکلیف تھی اس نے سبرینہ کو آنکھیں چرانے پر مجبور کر دیا تھا ۔سر ہلا کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔

“میں باہر تمہارا انتظار کروں گی ۔”آہستہ آواز میں اس سے کہتے اس نے فریحہ کو نفرت بھری نظروں سے دیکھا تھا ۔جاتے جاتے وہ رکی تھی ۔اپنے آگے پڑا جوس کا گلاس اسکے منہ پر اچھالا تو وہ ہڑبڑا کر رہ گئی ۔”شیم آن یو ۔”ہتک آمیز لہجے میں کہہ کر وہ آگے بڑھ گئی تھی ۔فریحہ نے بنا کسی ناگواری کے اپنا سانس بحال کرتے چہرہ اپنے سکارف سے صاف کیا تھا

“فریحہ مجھے آپ کی پوری کہانی سننی ہے ۔آپ کہیں میں سن رہی ہوں ۔آپ کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے عرصہ ہوا آپ کو بھی کوئی میسر نہیں آیا اپنی کہنے کو تو آج کھل کر کہیں میں سب سنوں گی ۔”انداز تخاطب جو اتنے سالوں میں نہ بدل سکا تھا ایک لمحے میں بدل کر رہ گیا تھا ۔اسکی طرف دیکھتے اپنے ہاتھوں کی کپكپاہٹ کو اس نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں باهم پیوست کیے چھپانا چاہا تھا ۔آواز بالکل ہموار تھی مگر اندر کہیں دل بہت گہری کھائی میں جا گرا تھا ۔

“تم آج بھی ویسی ہی ہو شانزے نرم دل ۔سب کا احساس کرنے والی ۔”فریحہ اسکی طرف دیکھتے ہلکا سا مسکرائی تھی ۔بڑی کھوکھلی سی مسکراہٹ تھی اسکی ۔شانزے کا دل خون کے آنسو رویا تھا (کاش اس سب میں وہ ایک شخص بھی شامل ہوتا )۔

“تم نے کیسے جان لیا مجھے کوئی اپنی کہانی کہنے کو ملا نہیں ؟۔لیکن میری کہانی میں کچھ خاص ہے ہی کیا جو کوئی سنے ۔اس میں کوئی خاص رنگ نہیں ہیں لوگوں کو تو رنگ اچھے لگتے ہیں ۔مگر ہاں اس میں عبرت ہے شانزے ۔جو کوئی لینا نہیں چاہتا ۔میں نے اپنی اندھا دھند خواہشوں کے پیچھے بھاگ کر سب کچھ کھو دیا ۔ہاتھ آیا ہیرا گنوا کر پیتل کو چنا تو وہ بھی ہاتھ سے نکل گیا ۔اور جانتی ہو مجھے کیا ملا ۔کوئله جس نے میرے ہر رنگ پر کالک مل دی ۔مجھے بے رنگ کر دیا ۔میری دوسری شادی ایک ایسے شخص سے ہوئی جو ہو بہو ویسا تھا جیسا میں تم دونوں کو میسم دکھایا کرتی تھی ۔تقدیر نے مجھے آئینہ دکھایا تھا ۔میرے سارے الفاظ پلٹ پلٹ کر مجھ تک آئے ۔جانتی ہو وہ شخص کوئی مذہبی نہیں ہے نہ ہی دین و پردے کا پابند بس اسے مجھ پر شک ہے کہ میں غیر مردوں کو اپنا آپ دکھا کر انہیں رجهانے کی کوشش کرتی ہوں اس نے مجھے برقع پہنا دیا ۔مجھے گھر کے اندر بھی میک اپ کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔میرے پاس موبائل تک نہیں ہے شانزے ۔اور میری چھوٹی چھوٹی کوتاہی پر وہ مجھے جانوروں کی طرح پیٹ ڈالتا ہے ۔پر اب میں بولتی نہیں ہوں چپ رہتی ہوں ۔میری ماں مجھے دیکھ کر روتی ہے اسے لگتا ہے یہ میری آزمائش ہے مگر میں تمہیں بتاؤں شانزے میرا یقین ہے یہ میری سزا ہے ۔”خود اذیتی سے وہ اپنا تمسخر اڑاتی ہنسی ہنسی ۔

“میں نے خود اپنی اولاد کو مارا تھا نا ۔دیکھو آج ٹھوکریں کھا رہی ہوں اسی اولاد کے لئے مگر اللّه نہیں دے رہا ۔میرا ایک کام کرو گی شانزے ۔میسم سے کہنا وہ مجھے معاف کر دے ہو سکتا ہے اس سے میری سزا میں کچھ کمی آ جائے ۔”کس قدر یاس تھا اسکی آواز میں یہ کہتے ہوئے ۔شانزے آسیب زدہ سی اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔

“آپ کہہ رہی ہیں میسم آپ کو معاف کر دے ۔لیکن میں کہتی ہوں میسم کس کس کو معاف کرے گا ۔”

وہ آگے بڑھی تھی پھر رک کر اسے دیکھا تھا ۔

“اور آپ کے ضمیر کا بوجھ کچھ کم کرتی جاؤں میسم اپنی زندگی میں بہت خوش ہیں ۔آپ انہیں ڈیزرو ہی نہیں کرتی تھیں اس لئے اللّه نے آپ کو دے کر انہیں واپس لے لیا ۔مگر میں كفران نعمت نہیں کروں گی فریحہ ۔میں انہیں بہت سنبھال کر رکھوں گی ۔شانزے میسم ،میسم عبّاس کو ہمیشہ سنبهال کر رکھے گی ۔”اک ترحم سے عاری نظر اس پر ڈال کر وہ آگے بڑھ گئی تھی پیچھے وہ اسکی بات کا مطلب سمجھ کر زخمی سے انداز میں مسکرا دی تھی ۔

“تم نے اتنی دیر کر دی شانزے ۔کیا ضرورت تھی اسکی بکواس سننے کی ۔”اسے آتا دیکھ کر باہر اسکا انتظار کرتی سبرینہ بولی تھی ۔

“بکواس نہیں تھی آپی ۔بہت ضروری تھا یہ سب سننا میں تو اللّه کی شکر گزار ہوں جو یہ سب سن لیا آج میں نے ۔”بھاری دل کے ساتھ بھیگی پلکوں اور مسکراتے لبوں کے ساتھ وہ آگے بڑھ گئی تھی ۔سبرینہ نے مزید کچھ نہیں کہا تھا ۔اسکے پاس کہنے کو کچھ باقی رہا ہی کب تھا ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

“آئی ایم سوری شانزے ۔”وہ منہ سر لپیٹے ہوئے بستر پر لیٹی تھی مگر سبرینہ جانتی تھی وہ جاگ رہی ہے ۔اسکے اچانک سے کہنے پر اس نے چہرے پر سے كمبل ہٹا کر دوسرے بیڈ پر بیٹھی بہن کو دیکھا تھا جو نادم سی نظر آتی تھی ۔

“آپ کیوں سوری بول رہی ہیں ؟”

“تمہارے اور میسم کے درمیان جو کچھ غلط ہوا اسکی کہیں نہ کہیں ذمہ دار میں بھی ہوں ۔بلکہ میں ہی ذمہ دار ہوں اس سب کی ۔”سر جھکا کر کہتی وہ دلگرفتگی کا شکار تھی ۔فریحہ کی باتیں ابھی تک ذہن پر ہتھوڑے برسا رہی تھیں اور شاید ضمیر پر بھی ۔

“آپ کی غلطی نہیں ہے آپی ۔میری اپنی یقین کی دیوار کمزور تھی۔بد گمانی کا ذرا سا دباؤ نہیں سہہ سکی اور ڈھے گئی ۔اس میں کسی کی غلطی نہیں ہے میری اپنی ہے ۔مگر اب میں نے سوچ لیا ہے میں اسے مضبوط کروں گی اتنا مضبوط کے اس کی چار دیواری میں مقید میرے اور میسم کے رشتے تک باہر کی کوئی آندھی اپنا اثر نہ دکھائے ۔”

وہ اک نیا عزم کرتی مسکرائی تھی ۔سبرینہ کا دل ہلکا ہوا تھا اسے یوں مسکراتے دیکھ کر ۔

“چلو اب بستر چھوڑو جب سے آئی ہو یوں ہی پڑی ہو امی دو بار مجھ سے تمہارا پوچھ چکی ہیں ۔میں تمہارے اور اپنے لئے چائے بنا کر لاتی ہوں ۔”اسے کہہ کر وہ باہر نکل گئی تھی ۔صائمہ کو بھی مختصر اس نے فریحہ سے ہوئی ملاقات کا احوال سنايا تھا انہیں بھی بہت دکھ ہوا تھا ۔محمود آفندی کو انکی بابت پتہ چلا تو وہ غمگیں تو ہوئے پر ساتھ ہی اک سکون انکے اندر پھیلتا چلا گیا ۔

“میں نا کہتا تھا صائمہ میسم ایسا نہیں کر سکتا ۔میرا یقین سچ ثابت ہوا ۔”انکے چہرے پر اپنے یقین کی خوشی جگمگا رہی تھی ۔

سبرینہ کچن میں داخل ہوئی تو وہ وہاں پہلے سے موجود تھا ۔اسے دیکھ کر پہلی بار اسکے ماتھے پر ناگوار یت کی لکیریں نمودار نہیں ہوئی تھیں ۔بلکہ دل میں ندامت نئے سرے سے سر اٹھانے لگی تھی ۔

“کیا ۔۔۔۔کیا کر رہے ہو ؟”اسے مخاطب کرنا جتنا اسے مشکل لگا تھا اتنا ہی میسم کو اسکے منہ سے نرمی بھرے ان الفاظ کو سن کر ان پر یقین کرنا ۔

“اپنے لئے چائے بنانے لگا ہوں ۔”نگاہ پھیر کر چائے کے لئے پتیلے میں نل میں سے پانی ڈالا ۔وہ ابھی ابھی آفس سے آیا تھا ۔کپڑے بھی نہیں بدلے تھے ۔

“رہنے دو تم میں بنا دیتی ہوں ۔”مصروف سے انداز میں اسکے ہاتھ سے پتیلا لیتے وہ کوكنگ رینج کے آگے آ کر کھڑی ہوئی تھی ۔میسم کی حیرانگی اب حد سے سوا ہوئی تھی ۔

“یہ تم دونوں بہنوں کے دماغی اسکرو ڈھیلے ہیں کیا ؟”

“نہیں اب ٹائٹ ہو گئے ہیں ۔”اسکی بات پر خفیف سا ہنس کر وہ چائے کی پتی پانی میں ڈال رہی تھی ۔

“معجزے ہو رہے ہیں آج تو ۔”بڑبڑاتا ہوا وہ باہر نکلنے لگا تھا جب سبرینہ نے اسے پكارا تھا ۔

“اچھا سنو ۔۔۔۔ہمارا ماضی کا ٹریک ریکارڈ کافی خراب رہا ہے مگر ۔۔۔۔۔”وہ کہتے کہتے رکی تھی ۔”کیا آگے جا کر ہم نارمل کزنز کی طرح ایک دوسرے سے اچھے سے بی ہیو کر سکتے ہیں ۔اگر تم کہو گے تو میں ۔۔۔۔۔میں اپنے سابقہ رویے کی معافی مانگنے کو تیار ہوں ۔”وہ ندامت سے سر جھکائے کہہ رہی تھی ۔میسم کو جھٹکا لگنا یقینی تھا ۔اسے سنبھلنے میں کچھ وقت لگا تھا ۔

“نہیں معافی کی ضرورت نہیں ہے ۔اور نارمل بی ہیو کرنے کی ہم کوشش کر سکتے ہیں ۔”وہ کھلے دل سے ہلکا سا مسکرایا تھا ۔سبرینہ نے مشکور نظروں سے اسے دیکھا ۔جو ایک بار پھر پلٹنے کو تھا ۔

“سنو ۔۔۔۔”

“سناؤ ۔”

“میری معافی کی ضرورت نہیں ہے تو اسے کیوں بیچ میں لٹکا رکھا ہے ۔اسے بھی بنا معافی مانگے معاف کر دو ۔وہ سچ میں بہت شرمندہ ہے اور اسی وجہ سے تمہارے سامنے تک نہیں آ رہی ۔”اس نے لگے ہاتھ بہن کا کیس بھی دائر کیا تھا ۔

“تمہاری بات اور ہے ڈئیر کزن ۔اسکی طرف میرے بہت سے حساب نکلتے ہیں ۔جس کے لئے اپنے بل سے باہر اسے خود ہی آنا پڑے گا ۔چائے باہر لے آنا میں لاؤنج میں بیٹھا ہوں ۔”

کہہ کر وہ باہر نکل گیا تھا ۔سبرینہ نے سکھ کا سانس لیتے چائے کی جانب دھیان دیا تھا ۔وہ اتنا برا نہیں تھا جتنا وہ اسے سمجھتی تھی ۔اس سوچ پر وہ خود ہی ہنسی تھی ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

رات وہ واش روم سے باہر آیا تو اسے سامنے صوفے پر دیکھ کر لمحہ بھر کے لئے اسکی آنکھوں میں کچھ بدلا تھا ۔اگلے ہی لمحے اسے نظر انذار کرتے وہ ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھ گیا تھا ۔شانزے نے اسکی یہ نظر اندازی کی جاری پریکٹس پر دکھے دل سے اسے دیکھا تھا ۔

“میں آ گئی ہوں ۔”ہمت کرتے اس نے اطلاع دی تھی ۔

“نظر آ رہی ہو ۔اندھا نہیں ہوا ابھی میں ۔”بنا مڑے وہ بے مروتی سے بولا تھا ۔شانزے کا بجھا دل کچھ اور بجھا ۔

“کوئی اتنے دنوں بعد واپس آئے تو ایسے ویلکم کیا جاتا ہے ۔”منہ بسور کر بڑے ناز سے کہا گیا تھا ۔میسم برش واپس رکھتے پورا کا پورا اسکی طرف گھوما تھا ۔

“ویلکم ؟۔۔۔۔۔وہ جو ہماری آخری گفتگو میں گل تم نے کھلائے تھے انکے بعد بھی تم مجھ سے کسی ویلکم کی امید رکھتی ہو شانزے بی بی ۔”تیز تیز قدم لیتا اسکے پاس آ کر رکتے وہ اسے کینہ توز نظروں سے گھور رہا تھا ۔اسکا دل خوفزدہ ہونے لگا تھا

“تو ٹھیک ہے ۔چھوٹوں سے غلطیاں ہو جاتی ہیں ۔بڑوں کا کام بنتا ہے وہ انہیں نظر انداز کریں ۔”اسکی نظروں سے خائف ہوتے وہ نگاہیں چرا گئی تھی ۔

“کیا بڑا بڑا لگائے رکھا ہے اور اتنی چھوٹی بھی نہیں ہو اب تم ؟تئیس کی ہونے والی ہو ۔بڑی ہو جاؤ تھوڑی اب ۔مجھے اپنے بچے کی پرورش کسی بچی سے بالکل نہیں کروانی ۔”

“کیوں بڑے نہیں ہیں آپ ؟پورے تیرہ سال بڑے ہیں مجھ سے آپ سے تو بہت چھوٹی ہوں پھر میں ۔”منہ بسور کر کہنے پر وہ اسکی طرف بڑھا تھا ۔شانزے گڑبڑا کر اپنی جگہ سے اٹھی ۔

“دیکھیں میسم ۔آپ کو بھی پتہ ہے ڈرتی ورتی کوئی نہیں ہوں آپ سے میں ۔اگر اپنے ٹانگیں توڑنے والے قول پر عمل کرنے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں تو باز آ جائیں ۔میں تایا ابو سے شکایت کروں گی آپ کی وہ ویسے بھی کل آ رہے ہیں ۔”فق ہوتی رنگت کے ساتھ وہ تیز تیز بول رہی تھی یہاں تک کہ اسکے اتنے قریب آنے پر اسکی بولتی بند ہو گئی تھی ۔اسکے سینے سے مس ہوتی اپنی ٹھوڑی اسکے سینے پر ٹکاتے اس نے اپنے ہاتھ اسکے گرد لپیٹ دیے تھے ۔

“آئی ایم سوری ۔”مدهم سی آواز بمشکل اسکے کانوں تک پہنچی تھی ۔اب اتنے خوب صورت انداز پر مزید خفگی جتانا میسم عبّاس کے لئے نا قابل عمل ہو گیا تھا ۔

“اتنی دیر لگا دی آنے میں ۔”اسکے گرد اپنے بازو کا حصار کرتے اس نے نرمی سے کہا تھا ۔

“کیسے آتی ٹانگیں توڑنے کی دهمكی دے کر جو آئے تھے آپ ۔”پر سکون ہو کر آنکھیں موندے وہ شکوہ کر رہی تھی ۔

“اور جیسے تم تو بہت ڈرتی ہو نا مجھ سے ۔”اسے ہلکے سے خود میں بھینچ کر اس نے خفگی سے کہا تھا ۔

“ڈر تو گئی تھی میں میسم ۔”چہرہ اٹھا کر اسکی طرف دیکھا تھا ۔

“بہت بری ہو تم یار ۔دو بار دل توڑا ہے تم نے پچھلے کچھ دنوں میں ۔”اسکے چہرے کے گرد سے بال ہٹاتے وہ شکوہ کر رہا تھا ۔

“میں جوڑ دوں گی ۔اس بار ایلفی سے نہیں ۔اپنی محبت سے ۔”جزب کے عالَم میں کہتی وہ آنکھوں میں شریر سی چمک لیے اسکی بات اسے ہی لوٹا رہی تھی ۔

میسم نے زیر لب اپنی ہنسی دبائی تھی ۔

“پکی بات ہے ؟”

جواب میں اس نے شد و مد سے گردن ہلائی تھی ۔

“پھر ٹھیک ہے جاؤ کیا یاد کرو گی معاف کیا تمہیں ۔”فیاضی کا کمال مظاہرہ کیا گیا تھا ۔

“اب مجھے بھی آپ سے ایک گلہ ہے ۔”واپس سے اس کے سینے پر سر رکھے اس نے کہا تھا ۔میسم چونکا ۔

“کیا ؟”

“آپ نے ایک بار بھی میری غلط فہمی دور کرنے کی کوشش نہیں کی ۔آپ نے ایک بار بھی اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہا ۔کم از کم تب تو کہنا چاہیے تھا جب میں نے آپ سے وہ بکواس کی تھی ۔”وہ جیسے اسکے ساتھ ساتھ خود کو بھی ملامت کر رہی تھی ۔

“کون سی بکواس ۔”اسے خود سے الگ کرتے اس نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا تھا ۔

“اپنا بچہ مارنے والی ۔:نظریں جھکا کر اس نے پر ملال سے لہجے میں کہا تھا ۔میسم چپ رہا تھا ۔

“آج فریحہ ملی تھیں ہوسپٹل ہمیں ۔انہوں نے سب سچ سچ بتا دیا ۔”ایک اور انکشاف کیا گیا تھا ۔میسم نے ہاتھ پیچھے کرتے ایک گہرا سانس خارج کیا تھا ۔تو یہ وجہ تھی سبرینہ کے رویے میں تبدیلی کی ۔

“وہ سچ تھا شانزے ۔دھوکے سے ہی سہی سب میری مرضی سے ہوا تھا ۔اس لحاظ سے اپنے بچے کو میں نے خود ہی مارا تھا ۔”وہ اداس ہوا تھا ۔

“لیکن آپ نے وہ سب فریحہ کی جان بچانے کے لیے کیا تھا ۔”اس نے نفی میں سر ہلاتے اسے اس کیفیت سے نکالنا چاہا تھا ۔میسم ہلکا سا مسکرا دیا ۔

چلیں اب مجھ سے اظہار محبت کریں اچھا سا ۔کبھی اتنی توفیق تو ہوئی نہیں آپ کو ۔”وہ اپنی جون میں واپس آ گئی تھی ۔

میسم نے پر شوق نظریں اسکے چہرے پر جمائی تھیں ۔

“تم چاہتی ہو میں تم سے اظہار محبت کروں ۔”زیر لب ہنسی روکتے اسکے پوچھنے پر شانزے نے گردن اکڑا کر ہاں میں سر ہلایا تھا ۔اور شانزے تو میسم عبّاس کو یوں ہی اتراتی ہوئی اچھی لگتی تھی ۔

“تو سنو شانزے میسم تم میرے دل کی محرم ہو ۔کیا اتنا کہہ دینا کافی نہیں ہے ۔”وہ جو اس سے کوئی بہت خوبصورت لمبا چھوڑا سا اظہار محبت سننے کا ارادہ رکھتی تھی ۔منہ بنا کر رہ گئی تھی پھر اسکی آنکھوں میں دیکھتے وہ دل سے مسکرائی تھی ۔ان آنکھوں کے ہوتے ہوئے اسے بھلا کسی لمبے چوڑے اظہار محبت کی ضرورت ہی کب تھی ۔اپنا سر سرشاری اسکے اسی دل کے مقام پر رکھتے وہ آنکھیں موند گئی تھی جسکی وہ محرم تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *