Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Man Mehram (Episode 02)

Man Mehram by Umme Abbas

آٹھ سال بعد اسے ضرور دیکھ رہی تھی مگر اسکے نین نقش اب بھی ذہن کی تختی پر پوری طرح نقش تھے ۔وہ بھی ٹھوڑی اٹھا کر اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔پہلے سے قدرے بھری جسامت اور صاف رنگت کے ساتھ اپنے تیکھے نین نقوش اور تھکاوٹ و نیند کی کمی کے باعث ہلکی گلابی ڈوروں والی آنکھیں لئے وہ اسے پہچان تو گئی تھی رہی کسر محمود صاحب نے پوری کر دی تھی ۔

“میسم آیا ہے ابھی کچھ دیر پہلے ہی ۔اور میسم یہ شانزے ہے۔ پہچانا تم جب گے تھے تب تو بہت چھوٹی تھی ۔”خوش دلی سے بیک وقت دونوں کو متعارف کروایا گیا تھا ۔میسم اسکی ہونق بنی شکل سے نظر ہٹاتا مسکرا کر محمود آفندی کی جانب متوجہ ہوتا سر ہلا گیا تھا ۔وہ اسے نہ پہچانتا اگر محمود اسے اسکے نام سے نہ پکارتے ۔جب وہ گیا تھا تب وہ بارہ سال کی تھی ۔دو پونیاں بنائے پورے گھر میں اچھلتی کودتی پائی جاتی تھی ۔جس کی شرار توں سے پورے گھر میں اک بھونچال سا آیا رہتا تھا ۔مگر اسکی سنجیدہ طبیعت کے باعث اس سے ذرا خائف ہی رہتی تھی ۔اور اب کھلی کھلی رنگت کے ساتھ خوب صورت نقوش لئے سر پر سلیقے سے دوپٹہ لئے وہ واقع ہی بڑی ہو گئی تھی کہ اسے پہچاننے میں دشواری ہوئی تھی ۔

“کیسی ہو تم ؟”اسے یوں ہی یک ٹک حیرانگی سے خود کو دیکھتے کم گھورتے زیادہ پا کر اسے ہی بولنا پڑا تھا ۔اسکی آواز اور لب و لہجہ اب بھی پہلے جیسا تھا ۔آرام سے ٹھہر ٹھہر کر بولتا ،شانت سا انداز ۔

“میں ٹھیک ہوں ۔آپ ٹھیک ہیں ؟”ہوش میں آتے باپ کے سامنے رواداری کا مظاہرہ کرتے اس نے بھی حال دریافت کر ہی لیا تھا جس پر سر کو جنبش دیتے وہ ایک بار پھر محمود آفندی کی جانب متوجہ ہو چکا تھا ۔

“میں ماما کو دیکھتی ہوں ۔”محمود صاحب کو دیکھ کر کہتی وہ سر پٹ وہاں سے غائب ہوئی تھی ۔

کچن میں غائب دماغی سے داخل ہوتے کھانے کی خوشبوؤں نے اسکے حواس کو جهنجھوڑ ڈالا تھا ۔ماما مصروف سی تیز تیز ہاتھ چلاتے ہوئے ہانڈی میں ڈوئی ہلا رہی تھیں ۔

“اٹھ گئی تم ۔شکر ہے اب جلدی سے یہ چائے دیکھ کر ناشتہ ٹیبل پر لگانے کی کرو ۔”انکا موڈ خوش گوار تھا تبھی اسے ڈانٹنے کے بجائے وہ نارمل انداز میں بات کر رہی تھیں ۔خود اب وہ برنر بند کرتے بھنا ہوا قیمہ ڈش آؤٹ کر رہی تھیں ۔

“یہ کب آئے ؟”کھولتی چائے کو دیکھتے وہ پوچھ رہی تھی ۔

“صبح صبح آیا ہے ۔ڈور بیل پر تمہارے ابو نے دروازہ کھولا تو باہر کھڑا تھا ۔تمہارے ابو نے تو ڈانٹ بھی دیا کہ بنا اطلا ع کیوں آیا ۔بتا دیتا تو کم از کم ایئر پورٹ پر سے پک تو کر لیتے بے چارے کو ۔کہاں سامان کے ساتھ خوار ہوتا ٹیکسی میں آیا ہو گا ۔”انکے لہجے میں چھپی محبت و فکر نے شانزے کا موڈ خراب کیا تھا ۔

“امی ٹیکسی میں بندہ کہاں خوار ہوتا ہے آپ تو یوں کہہ رہی ہیں جیسے پیدل اپنا سارا لیگیج سر پر اٹھا کر آئے ہیں ۔”چائے دان میں چائے انڈیلتی وہ منہ پھلا کر اظہار رائے کر رہی تھی ۔صائمہ نے ایک تیز نگاہ بیٹی پر ڈالی ۔

“میری بات سنو شانزے خبر دار جو تم نے اپنی زبان کے یہ جوہر بچے کے سامنے دکھائے مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔انسانوں کی طرح شرافت کے جامے میں رہنا ۔اتنے سالوں بعد وہ گھر آیا ہے کوئی تلخ بات اسکے سامنے کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ابھی وہ دوسری آئے گی تو اس کے ساتھ بھی مغز ماری کرنی پڑے گی ۔یاد رکھنا وہ اپنے گھر واپس آیا ہے تم لوگوں کے گھر نہیں جو اتنے دنوں سے تم دونوں بہنوں کے ناک منہ چڑھے ہوئے ہیں سب نظر آ رہا ہے مجھے ۔”ہاتھ روک کر دبی ہوئی آواز میں بیٹی کو کھری کھری سناتے ایک تنبیہی نگاہ ڈال کر وہ ناشتے کا سامان اٹھائے باہر نکل گئی تھیں ۔پیچھے صبح ہی صبح ہونے والی اس عزت افزائی پر اسکے موڈ کی رہی سہی بتی بھی گل ہو چکی تھی ۔باقی ماندہ عزت بچانے کو اس نے بھی تیز تیز ہاتھ ہلا تے باہر کی راہ لی تھی ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

“میسم کو دیکھ آئی ہو نا کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے “رات کو کمرے میں آنے پر محمود آفندی ان سے استفار کر رہے تھے ۔انہوں نے بدلے میں سر ہلاتے بستر پر اپنی جگہ سنبهالی تھی ۔

“فکر کیوں کرتے ہیں محمود میرا بھی اپنا ہی بچہ ہے ۔”انکی فکرمندی پر وہ مسکرا دی تھیں ۔

“بھابھی کی موت کے بعد پہلی بار گھر آیا ہے نا تو ظاہری بات ہے محسوس تو کرے گا ۔بھابھی سب سے زیادہ پیار بھی تو اسی سے کرتی تھیں ۔دیکھا نہیں کیسے اس کے باہر جانے کے کچھ ہی عرصے میں بستر مرگ تک پہنچ گئی تھیں ۔اور پھر بھائی صاحب اور زید ،علی بھی تو یہاں نہیں ہیں ۔اکیلا پن محسوس نہ کرے بس اسی لئے کہہ رہا ہوں۔”بستر پر نیم دراز انکی طرف دیکھتے انہوں نے تفصیلی جواب دیا تھا ۔میسم انہیں باقی بھتیجوں کی نسبت زیادہ پیارا تھا ۔جس کی جهلک انکے قول و فعل میں خوب نظر آتی تھی ۔

کہہ تو ٹھیک رہے ہیں محمود صاحب ۔بھائی صاحب کو بھی چاہیے اب باہمی رنجشیں ترک کر کے میسم کے لئے کوئی اچھا سا رشتہ ڈھونڈ شادی کر دیں ۔آخر کب تک یوں ہی چھڑا چھانٹ گھومتا رہے گا ۔خیر سے اس سے چھوٹا علی بیوی بچوں والا ہے ۔اس کی بھی ایک بار شادی ہو گئی تو پھر زندگی میں توازن آ جائے گا ۔ویسے بھی اب اس بات کو کافی عرصہ ہو گیا ہے ۔غلطیاں تو سبھی کرتے ہیں ۔میسم سے بھی چلو ہو گئی غلطی آج کل کی جوان نسل نے تو اسے فیشن بنایا ہوا ہے۔ مگر اب ساری زندگی تو اس غلطی کی نذر نہیں ہو سکتی نا ۔ “

ڈھکے چھپے لفظوں میں شوہر سے کہتے انہوں نے گہرا سانس لیا تھا ۔محمود صاحب نے بھی بات سمجھتے ہوئے سر کو پر سوچ انداز میں ہلایا تھا ۔

“کہہ رہا ہے ایک دو دن میں کراچی جائے گا بھائی صاحب سے ملنے ۔ایک بار مل آئے تو پھر میں خود بھی بات کروں گا بھائی صاحب سے ۔”

کہتے ہوئے وہ سرہانہ سیدھا کرتے سونے کے لئے لیٹ گئے تھے ۔صائمہ بھی اٹھ کر وضو کی نیت سے واش روم کی جانب بڑھ گئی تھیں ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

رات کا نجانے کون سا پہر تھا جب اسکی آنکھ پیاس لگنے کی وجہ سے کھلی تھی ۔مندی مندی آنکھیں کھول کر بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پانی کی بوتل تلاشنی چاہی ۔مگر آج کا دن اتنا برا تھا کہ وہ رات سونے سے پہلے پانی رکھنا بھی بھول گئی تھی ۔صبح صبح جس شخص کا چہرہ دیکھا تھا اس کے بعد دن اچھا گزرنے کی کوئی امید اسے یوں بھی نہیں تھی جس پر مہر ثبت پورا دن ماما نے اسکی دوڑیں لگوا کر کی تھی ۔ناشتے کے بعد موصوف کا کمرہ صاف کرنے کی ذمہ داری اسی کے سر ڈالی گئی تھی ۔ماما کی نگرانی میں اس نے کونہ کونہ چمکا ڈالا تھا ۔حالانکہ کچھ دن پہلے ہی وہ یوم صفائی منا کر گئی تھی مگر صائمہ کو اس پر یقین نہیں تھا ۔

اس کے بعد کا بچا کچا پورا دن کچن میں كهپتے گزر گیا تھا ۔اتنی تیاری دیکھ کر اسے ہول اٹھنے لگے تھے ۔ماما ساری کسریں ایک ہی دن میں نکالنے کے درپے تھیں ۔پتہ نہیں کتنی ڈشیں تو وہ بنا چکی تھیں ۔وہ اکیلا کیا کیا ٹھونسے گا یہ سوچ سوچ کر شانزے اپنا خون جلاتی رہی تھی اور وہ سارا دن خواب خرگوش کے مزے لیتا رات کھانے کی ٹیبل پر دوبارہ نظر آیا تھا ۔اسکے ماں باپ اسے وہ وی آئی پی پروٹوکول دے رہے تھے جیسے وہ سکندر اعظم ہو اور دنیا فتح کر کے واپس لوٹا ہو ۔اور یہ سب دیکھ دیکھ کر اسکی اپنی بھوک مر گئی تھی ۔

اب پیاس کے ساتھ ساتھ بھوک کا احساس بھی جاگ اٹھا تھا ۔بستر سے اٹھ کر دوپٹہ گلے میں ڈالتے وہ کمرے سے نکل کچن میں آئی تھی ۔پہلے تو ایک گلاس پانی کا وہیں رکھی کرسی پر بیٹھ کر اطمینان سے پیا تھا پھر فریج کھول کر جائزہ لیا تھا ۔کچھ سوچ بچار کے بعد رشین سیلٹ کا انتخاب کیا تھا وجہ تھی اسے وہ ٹھنڈا بھی کھا سکتی تھی ورنہ دوسری کوئی بھی چیز منتخب کرتے اسے پہلے اسے گرم کرنا پڑتا جو اس وقت اسے بالکل منظور نہیں تھا ۔باؤل میں نکال کر وہ سکون سے وہیں بیٹھتی کھانے میں مگن ہو گئی تھی ۔ابھی دو تین چمچ ہی لئے تھے ۔جب قدموں کی آہٹ پر سر اٹھا کر دیکھا تھا ۔وہ جو اپنے ہی دھیان میں کچن میں داخل ہو رہا تھا اسے سامنے پا کر وہ بھی لمحے کے لئے رک سا گیا تھا ۔شانزے کا چمچ منہ میں ہی ره گیا تھا ۔تعجب سے اسے گھور کر دیکھا تھا جو ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس پاؤں میں سلیپر اڑسے ہلکے سے منتشر بالوں کے ساتھ سامنے کھڑا تھا ۔

اسکا جائزہ لینے کے بعد اس نے گردن گھما کر ایک نظر کچن میں آویزاں وال کلاک پر ڈالی تھی جو رات کے دو بجا رہی تھی ۔ بنا کسی اچھے میز بان کے اسکی آمد کا مدعا جانے وہ جھک کر منہ سے چمچ نکالتی دوبارہ کھانے کی جانب متوجہ ہو چکی تھی ۔جیسے اس نے اسے وہاں دیکھا ہی نہ ہو ۔میسم کو نہ چاہتے ہوئے بھی آکورڈ سی فیلنگ آنے لگی تھی ۔

دن میں زیادہ سونے سے اسکی رات میں نیند ٹوٹ گئی تھی اور اتنے سال باہر اکیلے رہنے سے ایک عادت بڑی پختہ ہو گئی تھی ۔رات نیند سے آنکھ کھل جانے پر اسے شدت سے كافی کی طلب ہونے لگتی تھی ۔اب بھی کتنی دیر سے کروٹ بدلتے وہ سونے کی کوشش کرتا رہا تھا بلا آخر ہار مان کچن کی راہ لی تھی کہ کافی کا سامان ڈھونڈنا اتنا مشکل بھی نہیں تھا ۔پر اب یہاں شانزے کو دیکھ کر اسے یک دم سے اجنبیت بھرا احساس ہونے لگا تھا ۔لیکن اب یہاں تک آ گیا تھا تو بنا کافی کے جانے کو دل آمادہ بھی نہیں تھا ۔

“وہ میں کافی بنانے آیا تھا ۔”یہ بتاتے ہوئے اسے خود بھی عجیب سا احساس ہوا تھا ۔اس نے کون سا اس سے جھوٹے منہ ہی سہی پوچھا تھا جو وہ بتا رہا تھا ۔شانزے سے سر اٹھا کر اسے خاموش نظروں سے دیکھا تھا پھر اطمینان سے اپنا آخری چمچ لیتے باؤل اٹھا کر سنک کی جانب بڑھی تھی ۔

“اوپر والی کیبنٹ میں سارا سامان رکھا ہے ۔دودھ فریج میں سے مل جائے گا۔”اپنا باؤل اور چمچ دھوتے اسٹینڈ پر رکھ کر وہ مڑی تھی ۔وہ ابھی تک یوں ہی دروازے کے بیچ و بیچ کھڑا تھا ۔

“راستہ تو چھوڑ دیں ۔”اس سے ذرا فاصلے پر آ کر رکتے اس نے جتایا تھا ۔میسم اس عجیب و غریب مخلوق کو دیکھتا خاموشی سے ایک سائیڈ پر ہو گیا تھا جو اب سر جھٹک کر اس کے پاس سے گزرتی باہر نکل گئی تھی ۔اس کے جانے کے بعد اس نے بے ساختہ جھرجهری سی لی تھی ۔پورا دن اسکی خاموش مگر چھبتی نظروں کو محسوس کرنے کے بعد اب کے ہوئے اس ٹکراؤ نے اسے یقین دلا دیا تھا اسکا دماغی کوئی نہ کوئی پرزه بڑے ہو جانے کے باوجود ڈھیلا تھا ۔وہ آگے بڑھ کر برنر کی جانب گیا تھا ۔

اپنے کمرے میں آ کر بستر پر دراز ہوتے اس نے منہ کے زاویے بگاڑے تھے ۔

“بتا تو ایسے رہے تھے جیسے میں جی جان سے انکو کافی بنا کر نوش کرنے کے لئے پیش کروں گی ۔ماما نے کہا تھا بس زبان کے جوہر مت دکھانا ۔اب کیا آدھی رات کو مہمان نوازیاں کرتی پھروں؟ ۔ویسے بھی ماما نے کہا تھا وہ اپنے ہی گھر واپس آئے ہیں تو پھر مہمان کب ہوئے ۔کریں اپنے کام خود ۔”بستر پر دراز ہوتے كمبل سینے تک تان کر وہ کروٹ لیتی سونے کے لئے آنکھیں بند کر گئی تھی ۔پیٹ پوجا ہو چکی تھی اب نیند اچھی آنے والی تھی ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

اگلے دن وہ کراچی چلا گیا تھا ۔شانزے نے بھی سکھ کا سانس لیا تھا ۔تین دن بڑے آرام سے گزرے تھے اور چوتھے دن وہ واپس آیا تو غیر متوقع طور پر سجاد آفندی اسکے ساتھ آئے تھے ۔شانزے کی تو اپنے بڑے ابو سے بنتی بھی بہت تھی اس لئے اسکی خوشی دیدنی تھی ۔انکی پسند کی ڈشز بناتے ،انکے ساتھ گپیں لڑاتے وہ سامنے اگر کبھی بیٹھا بھی ہوتا تو وہ اسے یوں نظر انداز کرتی تھی جیسے دودھ میں سے مكهی نکالی جاتی ہے ۔

اتنے سالوں بعد بیٹے کی آمد نے بلا آخر کچھ حد تک سجاد آفندی کی اسکی بابت سرد مہری کو کچھ تو کم کر ہی دیا تھا ۔جو وہ اکثر اسکے پاس بیٹھے پائے جاتے تھے ۔ہلکی پهلكی باتوں کا تبادلا بھی ہونے لگا تھا ۔اور یہ ایک اچھی پیش رفت تھی ۔محمود صاحب کو یک گونہ اطمینان حاصل ہوا تھا ۔

سبرینہ بھی اس کے آنے کے بعد دو تین بار آ چکی تھی ۔مگر وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے نہ تو مخاطب ہوتے تھے نہ ہی کوئی بات چیت ہوئی تھی ۔ماما کے کہنے پر بادل خواستہ سبرینہ نے اس سے علیک سلیک کر لی تھی اور فلحال یہی کافی تھا ۔ویسے بھی وہ زیادہ تر گھر سے باہر پایا جاتا تھا اسکی نئی جاب سٹارٹ ہو چکی تھی جس میں وہ بزی ہو چکا تھا اس کے علاوہ بھی اگر وہ گھر میں ہوتا بھی تھا تو زیادہ تر اوپر اپنے ہی پورشن میں پایا جاتا تھا ۔زیادہ تر نیچے وہ صرف کھانے کی میز پر نظر آتا تھا یا پھر رات کو کھانے کے بعد کچھ دیر سجاد آفندی اور محمود آفندی کے ساتھ نشست میں دکھائی دے جاتا ۔وہاں بھی زیادہ تر وہ چپ کا روزہ رکھے یا تو ان دونوں کی باتیں سنتا رہتا تھا یا پھر ٹی وی پر کوئی پولیٹیکل ٹاک شو دیکھنے میں مگن ہوتا تھا ۔

اس دن صبح صبح ہی وہ اپنے پودوں کو پائپ کی مدد سے پانی دے رہی تھی جب وہ آفس کے لئے تیار ہو کر نکلا تھا ۔اسے دیکھ کر اسکا خون کھول اٹھا تھا ۔جب سے آیا تھا اس کے ہی سر پر مسلط تھا ۔اس کے زیادہ تر کام اسی کو کرنے پڑتے تھے ۔ویسے تو سب کے کپڑے وہ بہ راضی و رضا جس دن بھی مشین لگتی دھلا ئی کے بعد ایک ساتھ ہی استری کر دیا کرتی تھی مگر اس کے کرتے اسے موت پڑنے لگتی تھی ۔کل ہی صائمہ نے پھر اسکی ساری وارڈروب اٹھا کر شانزے کے سامنے آ رکھی تھی ۔اور اگلے دو گھنٹے اسکے کپڑوں کو جم جم کر استری کرتے صرف ہوئے تھے ۔

ارد گرد سے بے نیاز وہ نک سک سا تیار، لش پش کرتے کالے جوتوں سمیت سست روی سے چلتا موبائل پر بزی آگے بڑھا تھا ۔اسکے سامنے سے گزرنے پر شانزے کے دل میں یک دم نجانے کیا سمائی تھی کہ اس نے پائپ کا آگے سے منہ ہلکا سا دبایا تھا ۔پانی کی تیز دھار زیادہ اچھال اور بہاؤ سے كياری تک گئی تھی اور نتیجتاً کل ہی ڈالی گئی تازہ تازہ مٹی کے کہیں چھینٹے كياری سے نکل کر پاس سے گزرتے میسم کی ڈریس پینٹ کو سلامی پیش کر گئے تھے ۔اس اچانک پڑی افتاد پر وہ چونک کر ركتا سر جھکا ئے اپنی پینٹ اور جوتوں کا جائزہ لینے لگا تھا جہاں گیلی مٹی نے کہیں نقش ونگار بنا ڈالے تھے ۔

بظاہر اس سے بے نیازی برتتے شانزے یوں ایکٹ کر رہی تھی جیسے یہ سب ہوتے اس نے دیکھا ہی نہ ہو اور میسم کی ساری غلطی ہو جو اپنے دھیان میں آتے پانی کے چھینٹوں پر توجہ نہیں دے پایا تھا ۔

سر اٹھا کر ایک نظر اسے دیکھا جو خود میں مگن پائپ پکڑے کھڑی تھی ۔اسکے دیکھنے پر نا سمجھی سے اسکی جانب دیکھا جس کے چہرے پر کوفت کے آثار صاف نظر آ رہے تھے دل کو تسکین سی ملی تھی۔مگر دنیا دکھاوا بھی تو لازمی تھا نا اسکے کپڑوں کی حالت دیکھ کر چہرے پر تشویش بھرے تاثرات لئے پائپ نیچے رکھتے كياری سے گھوم کر اسکے پاس آئی تھی ۔

“یہ کیا کیا میسم بھائی ؟دیکھ کر گزرنا تھا نا کل کتنی محنت سے یہ پینٹ رگڑ رگڑ کر استری کی تھی میں نے ۔”پہلوؤں پر ہاتھ جمائے قدرے آگے کو جھک کر دیکھتے اسکا اپنا ہی دکھ تھا جس کا رونا وہ رو رہی تھی ۔میسم نے ایک گہری سپاٹ نگاہ اس کے چہرے پر ڈالی تھی اگلے ہی پل وہ بنا کچھ کہے اسکے پاس سے گزر کر واپس اندر کی جانب چلا گیا تھا ۔اسکے جاتے ہی اسکی پشت کو گھورتے اس نے ہاتھ جھاڑے تھے ۔پھر پائپ کا پانی بند کرتے گنگناتی ہوئی اندر کی جانب بڑھ گئی تھی ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

ویک اینڈ پر علی کی فیملی کے آنے سے گھر میں رونق سی لگ گئی تھی ۔تین سالہ صفا اور پانچ سالہ صفوان پورے گھر میں دوڑتے بھاگتے زندگی کا احساس دلاتے تھے ۔شیریں تھی تو علی کی یونی فیلو مگر شادی کے بعد وہ بہت اچھے سے سب میں گھل مل گئی تھی کہ کبھی غیریت کا احساس نہ ہوا تھا ۔سجاد آفندی بھی بہو کی تعریف کرتے نہ تھکتے تھے ۔

شیریں اور وہ دونوں اسکے کمرے میں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں جب شانزے اپنے اور اسکے لئے چائے بنانے باہر نکلی تھی ۔سیڑھیوں کے پاس کا منظر دیکھتے وہ ٹھٹکی تھی ۔وہ میسم تھا جو پنجوں کے بل نیچے بیٹھا تھا اور اسکے سامنے صفا کھڑی تھی جس کے دونوں ننھے ننھے بازو میسم کے ہاتھوں میں نرمی سے قید تھے ۔وہ کچھ کہہ رہی تھی اور مسکراتے لبوں کے ساتھ اسے دیکھتے ہوئے میسم پوری توجہ سے اسکی بات سن رہا تھا ۔کچھ عجیب سا محسوس کرتے اچانک ہی میسم نے نظریں گھما کر دیکھا تھا ۔اپنے کمرے کے باہر وہ کھڑی پر تپش چھبتی نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔ان آنکھوں میں اس کے لئے اتنی ناگواری و تنفر تھا کہ وہ بے ساختہ بیٹھے سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔اس کے اپنی طرف متوجہ ہونے پر وہ بھی ہوش میں آئی تھی ۔نظریں اس پر سے ہٹا کر ماتھے پر ناپسندیدگی کے بل لئے وہ تیزی سے چلتی اس کے پاس سے گزر گئی تھی ۔میسم نے غیر ارادی طور پر اسکی پشت کو کچن میں گم ہونے تک اپنی نظروں کے حصار میں رکھا تھا ۔اسکی کشاده پیشانی پر پر سوچ لکیروں کا جال سا بن گیا تھا ۔شانزے کا رویہ اسے الجھا گیا تھا ۔صفا کی پکار پر وہ اسے اٹھائے اسکی بات سنتا اوپر کی جانب بڑھ گیا تھا ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

رات وہ سونے کی تیاری میں تھا جب دروازے پر دستک کے ساتھ سجاد آفندی کا چہرہ نمودار ہوا تھا ۔وہ بستر چھوڑتا اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔اسکی ساری زندگی میں چند ایک بار ہی وہ خود چل کر اسکے کمرے تک آئے تھے ۔انکی اس وقت اپنے کمرے میں موجودگی اسکے صحیح تعجب کا باعث تھی وہ بھی اس صورت میں جب وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی گھنٹہ بھر انکے ،محمود آفندی اور علی کے پاس بیٹھ کر آیا تھا ۔چل کر اسکے پاس آ کھڑے ہوتے وہ بھی اسکی حیرت بھانپ چکے تھے ۔

“تم سے کچھ ضروری بات کرنی تھی ۔”

“جی بیٹھیں ۔”وہ بیڈ پر ہی بیٹھ گئے تھے ساتھ ہی اسے بھی اشارہ کیا تو کچھ فاصلے پر وہ بھی بیٹھ گیا تھا ۔

“آگے کے بارے میں کیا سوچا ہے تم نے؟ ۔”گلا کھنگار کر انہوں نے بیڈ پر رکھی کتاب اٹھائی تھی ، اسکی ورق گردانی کرتے بنا اسکی طرف دیکھے بات کا آغاز کیا تھا ۔

انکی بات کے جواب میں اس نے انکی جانب نا سمجھی سے دیکھا تھا ۔

“میرا مطلب ہے تم واپس آ گئے ہو ۔جاب بھی شروع کر دی ہے تو شادی کے بارے میں بھی کچھ سوچا ہے کہ نہیں ۔”

بظاہر وہ اسکی جانب دیکھ نہیں رہے تھے مگر انکی حسيات سبھی اسی کی جانب مرکوز تھیں ۔

انکی بات سن کر میسم نے لب سختی سے باہم پیوست کرتے نظریں نیچے فرش پر گاڑھ دی تھیں ۔

“دیکھو میسم جو ہو چکا سو ہو چکا ۔اب اسی لكیر کو پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔مجھے امید ہے تم نے اپنے ماضی کے تجربات سے بہت کچھ سیکھا ہوگا ۔میں اور محمود اب چاہتے ہیں تم بھی زندگی میں آگے بڑھو ۔آخر کب تک یوں ہی رہو گے ۔چھوٹا بھائی بھی بال بچوں والا ہو گیا ہے میرے خیال میں اب تمہیں بھی شادی کر کے اپنی زندگی میں سیٹل ہو جانا چاہیے ۔”

کتاب واپس بیڈ پر رکھتے وہ کافی نرم آواز میں اس سے کہہ رہے تھے جو ایک عرصہ ہوا اس کے لئے مختص نہیں رہی تھی ۔

“میں نے اس بارے میں فلحال کچھ سوچا نہیں ۔”بے تاثر سی آواز میں وہ بولا تو سجاد آفندی نے بیٹے کے حد درجه سنجیدہ چہرے کی جانب دیکھا تھا ۔

“تو سوچو اس بارے میں ۔اور کب سوچو گے؟ ۔سر کے بال پوری طرح سفید ہونے کے بعد ۔”اس کی کنپٹی کے قریب سے سیاہ بالوں کے بیچ میں سے جھانکتے چند ایک گرے بالوں پر گرفت کرتے انہوں نے اسے گھرکا تھا ۔میسم خفت زدہ سا پہلو بدل کر ره گیا تھا ۔

“میں تو کل جا رہا ہوں مگر محمود اور صائمہ کو تمہاری ذمہ داری سونپ کر جا رہا ہوں ۔وہ تمہارے لئے کوئی معقول رشتہ تلاش کریں گے ۔اگلی بار کا چکر میرا بھی جلدی ہی لگے گا ۔آج شانزے کو دیکھنے بھی کچھ لوگ آئے تھے ۔لڑکا انگلینڈ ہوتا ہے اگلے ماہ وہ واپس آئے گا تو دیکھ بھال کر ہی بات آگے بڑھائیں گے ۔تب تک میں نے محمود کی ڈیوٹی لگائی ہے وہ تمہارے لئے بھی کوئی اچھا سا رشتہ دیکھ لے ۔اس لئے تم بھی خود کو ذہنی طور پر تیار رکھو ۔اور میں امید کرتا ہوں اپنی سابقہ غلطیوں سے تم نے بہت کچھ سیکھا ہوگا ۔اور اس بار تم انہیں نہیں دہراؤ گے ۔”

کہتے ہوئے آخر میں انکا لب و لہجہ ہلکی سی تلخی کی نذر ہو گیا تھا ۔اٹھ کر کھڑے ہوتے ہاتھ پیچھے باندھ کر انہوں نے پہلو میں کھڑے ہوئے بیٹے کو ایک نظر دیکھا تھا ۔

“میری بات سمجھ تو آ گئی ہو گی ؟”میسم نے صرف ایک لمحے کے لئے انکا چہرہ دیکھا تھا پھر نگاہ چراتے سر ہلا دیا تھا ۔سجاد آفندی کے چہرے پر تناؤ کی كیفیت زائل ہوئی تھی ۔ہاتھ بڑھا کر بیٹے کا کندھا تهپکا تھا ۔

“اب میں چلتا ہوں ۔”انکے ساتھ وہ دروازے تک انہیں چھوڑنے آیا تھا پھر دروازہ بند کرتے ایک گہرا سانس خارج کرتے تھکے تھکے سے انداز میں بیڈ کی جانب بڑھا تھا ۔سائیڈ لیمپ کی تیز روشنی کم کرتے کتاب اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی تھی اور خود بیڈ پر دراز ہوا تھا ۔

اتنے سالوں بعد ایک بار پھر سے شادی کا موضوع چھڑ چکا تھا جس کے بارے میں اس نے عرصہ ہوا سوچنا تک گوارہ نہیں کیا تھا ۔فریحہ سے شادی ٹوٹنے کے بعد امریکا چلے جانے کے باوجود اسے دو سال لگے تھے اس ذہنی انتشار میں سے باہر نکلنے میں ۔پھر امی کی اچانک موت نے اسے اور بھی زیادہ ذہنی و جذباتی توڑ پھوڑ کا شکار کیا تھا ایسے میں اسکی کولیگ روز کی اس میں حد درجہ بڑھتی دلچسپی اور جذباتی سہارے نے اس سے ایک اور فاش غلطی کروائی تھی ۔روز کا پرو پوزل بنا سوچے سمجھے اس نے آناً فاناً قبول کر لیا تھا ۔گھر میں سب کی اس سے لا تعلقی فریحہ سے طلاق کے بعد سے ہنوز قائم تھی ۔اسکی دوسری شادی پر جیسے سب نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا ۔ایک محمود آفندی تھے جنہوں نے خوشی کا اظہار کرتے اس کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا ۔مگر صرف چھ ماہ کے عرصے میں ھی اس شادی کا انجام بھی طلاق کی صورت سامنے آیا تھا ۔جس کے بعد سات سال ہونے کو آئے تھے اس نے کبھی شادی کرنے کے بارے سوچا تک نہیں تھا ۔مدهم روشنی میں چھت کو تکتے ہوئے نیند اب ان آنکھوں سے کوسوں دوری پر تھی ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

علی کے بچے سجاد آفندی سے خاص لگاؤ رکھتے تھے ۔پہلی بار ایسا ہوا تھا جو وہ انکے بغیر یہاں آئے تھے اور وہ بھی ایک ماہ سے اوپر ہونے کو آیا تھا یہی پر رکے ہوئے تھے ۔شیر یں (علی کی بیوی )بار بار کال کر کے انکی واپسی کا پوچھ رہی تھی کہ بچوں نے اسکے ناک میں دم کر رکھا تھا ۔اس ویک اینڈ وہ سب آ رہے تھے پھر ممکن تھا سجاد آفندی بھی انکے ساتھ ہی واپس ہو لیتے ۔اس لئے صائمہ کا اصرار بڑھ گیا تھا کہ محمود صاحب اب سجاد آفندی سے شانزے کے لئے آئے رشتوں کی بابت بات کر کے کوئی صلح مشورہ کرتے بات آگے بڑھائیں ۔

اسی سلسلے میں دونوں بھائی سر جوڑ کر بیٹھے تھے ۔جب شانزے سے بات چلتی میسم پر آ رکی تھی ۔محمود صاحب نے محتاط سے انداز میں بھائی کی توجہ اس جانب بھی مبذول کروائی تھی ۔جس کے بعد انہوں نے گھمبیر چپ سادھ لی تھی ۔

“جانتے تو ہو محمود خاندان بھر میں اسکی فریحہ سے طلاق کی وجہ جنگل میں آگ کی طرح پھیلی تھی ۔کس قدر پورے خاندان میں شرمند گی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔پھر جو اس نے وہاں امریکہ میں اپنی کولیگ سے نکاح کیا تھا اسکا بھی قریب قریب کے رشتے داروں کو پتہ ہی ہے ۔دو شادیوں میں ناکامی کے بعد آخر خاندان میں کون اسے اپنی بیٹی دے گا ۔اور خاندان سے باہر ڈھونڈنے کے لئے تو کافی وقت درکار ہے ۔لیکن خیر کسی میرج بیورو سے بات کر دیکھتے ہیں شاید کوئی اچھی لڑکی مل جائے تو میری بھی اسکو لے کر فکر ختم ہو ۔ماں تو آخری وقت تک اسکے گھر بسنے کا خواب آنکھوں میں لئے حسرت سے منوں مٹی تلے جا سوئی تھی ۔مجھے بھی پتہ نہیں دیکھنا نصیب ہوگا یا نہیں ۔”کچھ دیر بعد جب وہ بولے تو محمود صاحب کو انکی بات سن کر خوشی ہوئی تھی یعنی انہیں بھی اسکی پرواہ تھی بس جتاتے نہیں تھے ۔

“کیسی باتیں کرتے ہیں بھائی صاحب اللّه آپ کو لمبی زندگی دے سبھی بچوں کی خوشیاں دیکھنا نصیب کرے ۔”انہوں نے نرمی سے بھائی کو ٹوکا ۔

“باقی تو الحمدللہ محمود مجھے میرے بچوں کی طرف سے ہر سکون میسر ہے ۔بس میسم اپنی زندگی میں سیٹل ہو جائے ۔تمہاری سنتا ہے تم بھی سمجھاؤ اسے ۔پینتس سال کا ہو گیا ہے تھوڑا اپنے طور طریقے وہ بھی بدلے تاکہ آگے چل کر پھر سے وہی مسئلے نہ کھڑے ہوں ۔”کہتے ہوئے انکا لہجہ ذرا تلخ ہوا تھا ۔

“بھائی صاحب بس نصیب کی بات ہے ساری جوڑ جڑا رہنا نہیں لکھا تھا ۔ورنہ میسم کی طرف سے کسی معاملے میں بھی کبھی کوئی شکایت ہوئی ہمیں ۔اچھا سلجها ہوا بچہ ہے ۔بچپن سے لے کر جوانی تک کبھی جو کوئی ایسی حرکت کی ہو جو ہمیں ذرا بھی شرمساری کا سامنا کرنا پڑا ہو ۔”انکے دل میں بھتیجے کے لئے نرم گوشہ تو شروع سے موجود تھا اب بھی فوری اسکے دفاع میں بول اٹھے ۔

“ہاں اور پھر ساری کسریں ایک ہی بار نکالی تھیں ۔اس بچی کے سامنے تو شرمندہ کیا ہی کیا پورے خاندان میں ہمارا تماشہ الگ بنایا ۔”وہ جیسے اس طرف بھی انکی توجہ دلا رہے تھے ۔محمود صاحب بھائی کے یوں تپے انداز پر مسکرا دیے ۔

“اچھا آپ اب غصہ نہ کریں ۔اس بات کو بھی کتنا عرصہ ہو گیا ہے ۔تب کے میسم اور اب کے میسم میں بہت فرق ہے ۔وہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے غلطیاں ہو جاتی ہیں ۔میسم نے بھی ایک غلطی کی اسکا خميازہ بھی بھگتا ۔اتنے سال گھر سے دور ره کر بن باس الگ کاٹا ۔اب ہم بڑوں کو بھی چاہیے درگزر سے کام لیں ۔”وہ بردباری سے کہہ رہے تھے سجاد آفندی نے ان سے متفق انداز میں سر ہلایا تھا ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . ویک اینڈ پر علی کی فیملی کے آنے سے گھر میں رونق سی لگ گئی تھی ۔تین سالہ صفا اور پانچ سالہ صفوان پورے گھر میں دوڑتے بھاگتے زندگی کا احساس دلاتے تھے ۔شیریں تھی تو علی کی یونی فیلو مگر شادی کے بعد وہ بہت اچھے سے سب میں گھل مل گئی تھی کہ کبھی غیریت کا احساس نہ ہوا تھا ۔سجاد آفندی بھی بہو کی تعریف کرتے نہ تھکتے تھے ۔

شیریں اور وہ دونوں اسکے کمرے میں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں جب شانزے اپنے اور اسکے لئے چائے بنانے باہر نکلی تھی ۔سیڑھیوں کے پاس کا منظر دیکھتے وہ ٹھٹکی تھی ۔وہ میسم تھا جو پنجوں کے بل نیچے بیٹھا تھا اور اسکے سامنے صفا کھڑی تھی جس کے دونوں ننھے ننھے بازو میسم کے ہاتھوں میں نرمی سے قید تھے ۔وہ کچھ کہہ رہی تھی اور مسکراتے لبوں کے ساتھ اسے دیکھتے ہوئے میسم پوری توجہ سے اسکی بات سن رہا تھا ۔کچھ عجیب سا محسوس کرتے اچانک ہی میسم نے نظریں گھما کر دیکھا تھا ۔اپنے کمرے کے باہر وہ کھڑی پر تپش چھبتی نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔ان آنکھوں میں اس کے لئے اتنی ناگواری و تنفر تھا کہ وہ بے ساختہ بیٹھے سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔اس کے اپنی طرف متوجہ ہونے پر وہ بھی ہوش میں آئی تھی ۔نظریں اس پر سے ہٹا کر ماتھے پر ناپسندیدگی کے بل لئے وہ تیزی سے چلتی اس کے پاس سے گزر گئی تھی ۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *