Man Mehram by Umme Abbas NovelR50604 Man Mehram (Episode 01)
Rate this Novel
Man Mehram (Episode 01)
Man Mehram by Umme Abbas
واش روم کا دروازہ کھول کر جوں ہی قدم کمرے میں رکھے تھے ماں کو بیڈ پر بیٹھا کینہ توز نظروں سے خود کو دیکھتے پایا تھا ۔متوقع عزت افزائی کے لئے خود کو تیار کرتی وہ تولیے میں لپٹے بال آزاد کرتی آگے قدم بڑھاتی ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھی تھی ۔
“صفائی کر لی تھی تم نے شانزے ؟”انکے پوچھنے پر اس نے آئینے میں سے ہی خفگی بھری نگاہ ان پر ڈالی تھی ۔
“دیکھ تو آئی ہیں ماما پھر پوچھ کیوں رہی ہیں ۔”نم دراز بالوں کو دائیں کندھے پر اگے کی جانب ڈالے وہ اب تولیے سے رگڑ کر خشک کر رہی تھی ۔
“دیکھ آئی ہوں تبھی تو یہاں ہوں ۔”وہ طنز کرتیں بیٹی کے دھلے دھلائے شاداب چہرے کو دیکھ رہی تھیں ۔کوئی اور وقت ہوتا تو بڑی محبت سے اسکے بالوں کو خشک کرتے برش کرتیں مگر فلحال اس کے تازہ تازہ کارنامے نے پارہ ہائی کر رکھا تھا ۔
“ماما پورا پورشن تو چمکا آئی ہوں آپ پھر بھی خوش نہیں ہوتیں مجھ سے ۔صبح کی لگی ہوئی ہوں مگر مجال ہے جو ایک ذرا سی تعریف کر دیں بس غصہ ہی ہوتی رہتی ہیں ۔”متوقع ڈانٹ سے کچھ نہ کچھ بچت کے لئے جوابی کاروائی ضروری خیال کرتی وہ روٹھے روٹھے انداز میں کہتی پلٹی تھی ۔بیڈ پر انکے پاس رکھے دوپٹے کو اٹھا کر کھولتے شانوں پر برابر کیا ۔
“ضرور کرتی تمہاری تعریف اگر تم اس ایک کمرے کے ساتھ سوتیلوں والا سلوک نہ کرتی تو ۔پتہ نہیں کیا خار ہے تمہیں اس سے ۔ہر بار یہی کرتی ہو ۔پورا پورشن لش پش کر کے آ جاؤ گی اور اس ایک کمرے کو یوں چھوڑ کر آ جاتی ہو جیسے وہاں سانپ بچھو بیٹھے ہوں ۔”اسکی جذباتی تقریر کا بنا اثر لئے اسے گھور کر اب وہ گھرک رہی تھیں جو منہ بسور کر خاموشی سے سن رہی تھی ۔یہ سب کوئی نئی بات تو تھی نہیں ۔ہر ماہ اسکی والدہ کو بقول اس کے اوپر والے پورشن کی صفائی کا دورہ پڑتا تھا اور پھر اس سب میں درگت اسکی بنتی تھی ۔ایسے میں اسکا آدھا دن اوپر والے پورشن کی نذر ہو جاتا تھا ۔پوری دلجمعی سے ایک ایک کونہ کھدره صاف کرنے کے باوجود اسے انکی باتیں سننی پڑتی تھیں ۔وجہ تھی اس ایک کمرے میں اسکے جھانک کر دیکھنے تک کی زحمت گوارہ نہ کرنا ۔
“سانپ بچھو نہیں ناگ دیوتا کہیں ۔”نخوت سے سر جھٹک کر منہ ہی منہ بڑبڑاتے اس نے جیسے انکی اصلاح کی تھی ۔
“کیا کہا ابھی تم نے ؟”انکی سماعتوں تک اسکی آواز صحیح سے پہنچی نہیں تھی ورنہ ایک اور گھنٹے کی کلاس لگنا لازم ہو جانا تھا ۔
“کچھ نہیں کہہ رہی ماما ۔آج بہت تھک گئی ہوں ۔اب کل جا کر صاف کر آؤں گی لارڈ صاحب کا کمرہ ۔”جان خلاصی کے لئے کہتے وہ واپس مڑ کر بالوں میں برش کا ارادہ رکھتی تھی ۔
“رہنے دو تم ۔کرنے والی ہوتی تو آج ہی کر کے آتی ۔میں خود جا کر کر لوں گی تم اتارو اپنی تهكن ۔پہاڑ توڑ آئی ہو نا جیسے ۔”اسے سخت نظروں سے گھورتے وہ جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی تھیں جب ہاتھ میں لیا برش اس نے پٹخنے کے سے انداز میں واپس ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا تھا ۔
“ماما ۔۔۔۔۔۔”وہ احتجاجی آواز میں چیخی تھی مگر وہ بنا رکے دروازہ کھول کر کمرے سے نکل گئی تھیں ۔
“رکیں تو سہی ۔جا رہی ہوں میں پھر سے کام والی ماسی بننے ۔ابھی شاور لیا تھا پھر سے بھوتنی بن کر آؤں گی واپس ۔”انکے پیچھے پیچھے کمرے سے نکلتے سے بالوں پر اچھے سے دوپٹہ لپیٹتے ہوئے وہ تیزی سے چلتے ہوئے ان سے پہلے سیڑھیاں عبور کر گئی تھی ۔دهپ دهپ ناراضگی و غصے سے سیڑھیاں چڑھتے انکی آواز نے اسکا تعاقب کیا تھا ۔
“اب احسان کر ہی رہی ہو تو ایک اور مہربانی کر دینا ماں پر ۔اس بار کوئی چیز توڑے بنا واپس آ جانا ۔ہر بار کچھ نہ کچھ توڑ کر آتی ہو یہی حال رہا نا تو ایک دن وہ کمرہ سامان سے خالی ہو جانا ہے ۔”ایک نظر پلٹ کر انہیں دیکھا تھا جو نیچے کھڑی پہلو پر ہاتھ رکھے خشمگیں نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھیں پھر روہانسی شکل بنا کر باقی کی سیڑھیاں چڑھ گئی تھی ۔
جھاڑو اٹھا کر جس لمحے وہ اس کمرے کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی اسے وہ کمرہ بھی خود پر ہنستا محسوس ہوا تھا ۔غصے بھرے انداز میں دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی ۔تیز تیز ہاتھ چلاتے سب سے پہلے جالوں پر ہاتھ صاف کیا تھا ۔پھر جھاڑو لگا کر آخر میں ڈسٹنگ کی باری آئی تھی ۔پورا کمرہ آدھے گھنٹے کے بعد چمک رہا تھا ۔اک مطمئین سی نگاہ چاروں اطراف ڈال کر وہ کمرے سے نکل جانے کو تھی مگر پھر اماں کا جلالی چہرہ نظروں کے سامنے لہرایا تھا ۔روہانسی ہو کر وہ بیڈ کے اوپر چڑھی تھی پھر بیڈ کراؤن کے اوپر دیوار پر آویزاں اس ان لارج فوٹو فریم کو یوں گھورا تھا جیسے وہ صحیح سالم اس کے سامنے کھڑا ہو اور وہ اپنی آگ برساتی نظروں سے اسے بھسم کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہو ۔بیڈ سائیڈ ٹیبل پر موجود اسکی تصویر تو وہ عرصہ ہوا دراز میں قید کر چکی تھی یہ کہہ کر کہ صفائی کرتے ہوئے اس سے چیزیں ٹوٹ جاتی ہیں کسی دن وہ بھی گر گئی تو فریم پر فاتحہ پڑھنے کی نوبت آ جائے گی وہ الگ بات کہ چیزیں اس کے ہاتھ سے صرف اسی کمرے کے اندر ہی صفائی کرتے ٹوٹتی تھیں ورنہ وہ اپنی اماں کی کافی سگهڑ بیٹی ثابت ہوئی تھی ۔
“سانپ بچھو اونہہ ۔۔۔۔یہاں شاہ جنات بستے ہیں اور ماما خواہ مخواہ ادنی سے حشرات سے انکا موازنہ کرنے بیٹھ جاتی ہیں ۔”بے دلی سے کپڑا فریم کے شیشے پر مارتے وہ حتی الامكاں اسکے چہرے کے خدوخال پر نظر کرنے سے گریز برتتی رہی تھی ۔
“انکے تو کرتوتوں پر ہی گرد پڑی ہوئی ہے کیا ہو جائے اگر تھوڑی سی چہرے پر بھی پڑ جائے تو مگر یہ بات میری ماں کو کون سمجھائے ؟” تیزی سے جان چھڑانے والے انداز میں سیدھا الٹا ہاتھ مارتے وہ نیچے اتری تھی ۔اب سب ٹھیک تھا ۔ایک گہرا سکوں آمیز سانس خارج کرتے وہ باہر نکلنے کو تھی جب نظر دروازے کے ساتھ ملحق دیوار کے ساتھ رکھے درمیانے سائز کے بک ریک پر سجے گلدان پر پڑی تھی ۔اسکی آنکھوں میں اک بجلی سی کوندی تھی ۔اتنی دیر سے چہرے پر چھائے کوفت اور بیزاریت کے سارے آثار یکلخت زائل ہوئے تھے ۔اگلے ہی لمحے اس نے مسکراتے ہوئے اس گلدان کو دونوں ہاتھ میں احتیاط سے اٹھا کر تھوڑا اونچا کیا تھا اور پھر دونوں ہاتھ پیچھے کرتے آنکھیں میچ کر دو قدم پیچھے لئے تھے ۔چھنا کے کی آواز آئی تھی اور نیچے سفید فرش پر نیلے کانچ بکھرتے چلے گئے تھے ۔
“آہ !چس آ گئی قسم سے ۔”آنکھیں بند کرتے اس نے پر لطف انداز میں ٹھنڈی آہ بھری ۔
“اب صفائی کرتے ہوئے میرا دوپٹہ لگ گیا تو اس میں میری کیا غلطی ۔”شانے اچکا کر معصومیت سے کہتے اس نے کانچ صاف کرنے کو خوشی خوشی اس بار جھاڑو اٹھایا تھا ۔اس کمرے کے درو دیوار نے تاسف سے اس خبطی سی لڑکی کو دیکھا تھا جو اس کمرے کے مکین سے اپنی سرد جنگ کا بدلا وہاں کی چیزیں توڑ کر لیتی تھی جس کے قدموں کی آہٹ تک پچھلے کہیں سالوں سے اس در و دیوار کو سننا نصیب نہیں ہوئی تھی ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
“ابو !دیکھیں میرے پودے پر پہلا پھول لگا ہے ۔”لاؤ نج میں چائے کی چسکیوں کے ساتھ وہ اخبار پڑھنے میں گم تھے جب کھلے داخلی دروازے سے وہ چہچہاتی ہوئی آئی تھی ۔اخبار کا ایک کونہ موڑ کر انہوں نے عینک کے پیچھے سے اپنی نور نظر کو دیکھا تھا جس کے چہرے پر چار سو چالیس واٹ کا بلب روشن تھا ۔
“کیا قیامت آ گئی ہے جو صبح صبح چینخ رہی ہو ۔”کچن سے جهنجلائی آواز کے ساتھ صائمہ باہر نکل آئی تھیں ۔بیٹی کی چینخ و پکار کبھی کبھی طبیعت پر بڑی گراں گزرتی تھی ۔
“قیامت نہیں آئی ماما پہلا پہلا پھول کھلا ہے وہ بھی اتنا خوب صورت ۔آئیں آپ کو بھی دکھاؤں ۔”اپنی ہی ترنگ میں کہتی ساتھ آفر کی گئی ۔
“مجھے معاف رکھو تم ۔کچن میں بہت کام پڑا ہے ابھی ۔تم ہی جشن مناؤ ۔”اسکی بچگانی حرکتوں پر کڑھتی وہ واپس مڑ گئی تھیں ۔جب اخبار رکھتے عینک اتار کر ، محمود صاحب مسکرا کر اٹھے تھے ۔
“تمہاری ماں کو باغبانی کا شغف ہی نہیں ہے ورنہ اسے پتہ ہوتا جب نیا پھول کھلتا ہے تو دل کو کیا خوشی میسر آتی ہے ۔چلو بھئی اپنے باذوق باپ کو اس خوشی سے ہمکنار کراؤ تم ۔”بیٹی کے شانے پر بازو دراز کرتے راز و نیاز کرتے وہ باہر کی جانب بڑھ گئے تھے ۔
اور پھر آدھا گھنٹہ وہ دونوں لان میں لگے پودوں پر سیر و حاصل گفتگو کرتے رہے تھے ۔بلا آخر صائمہ کو خود ہی آ کر ناشتہ تیار ہونے کی اطلاع دینی پڑی تھی ۔
“ان باپ بیٹی کے چونچلوں کے چکر میں ناشتہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے ۔”منہ ہی منہ بڑبڑاتی ہوئیں وہ میز سیٹ کر رہی تھیں ۔شانزے اور محمود صاحب ایک ساتھ ڈائینگ ٹیبل کی طرف آئے تھے ۔
“اب ناشتہ کر کے کچن میں نظر آؤ مجھے تم ۔”چائے کا کپ شوہر کے آگے رکھتے ہوئے انہوں نے انکے ساتھ بیٹھی بریڈ دانتوں سے کترتی بیٹی کو گھورا تھا ۔
“کیا ہو گیا ہے بیگم کیوں میری بیٹی کو صبح صبح عتاب کے نشانے پر رکھے ہوئی ہیں ۔”بیٹی نے اترے چہرے کو دیکھتے انہوں نے بیوی سے پوچھا تھا ۔
“بیٹی کے بھی کارنامے ملا خطہ فرمایا کیجئے محمود صاحب ۔کل پھر میسم کے کمرے میں گلدان توڑ کر آئی ہے ۔خدا جانے کیا بیر ہے اسے اس کمرے کی چیزوں سے ۔کچھ نہ کچھ توڑ کر ہی آتی ہے ۔اور وہ بھی چن چن کر وہ چیزیں جو بچے نے اپنی پسند سے لائی تھیں ۔میں تو یہ سوچتی ہوں خیر سے جب کبھی وہ واپس آئے گا اسکے کمرے کا صفایا نہ ہو چکا ہو ۔”بنا لگی لپٹی رکھے انہوں نے بھی ساری روداد انکے گوش گزار کر دی تھی ۔اس سب کے دوران وہ چہرے پر دنیا جہاں کی مسکینیت طاری کر چکی تھی ۔محمود صاحب ہنس دیے تھے اور اس ہنسنے نے صائمہ کو اور بھی پتنگے لگائے تھے ۔
“بس آپ کے ہی لاڈ پیار نے بگاڑ کر رکھا ہوا ہے اسے ۔خیر سے کل اس کو بیاہنا بھی ہے ۔سسرال والے تو یہی کہیں گے نا ماں نے کچھ سیکھا کر نہیں بھیجا ۔خوب ناک کٹوائے گی اگلے گھر جا کر ماں کی ۔”سر کو نخوت سے جھٹکتے انہوں نے اپنی چائے سامنے سرکائی تھی ۔
“ابو ۔میں نے کون سا جان بوجھ کر توڑا ہے بس لگ گیا میرا دو پٹہ بے دھیانی میں اور ٹوٹ گیا گلدان ۔”وہ جو بھرپور انداز میں اپنا دفاع کرنے لگی تھی ماں کی تنبیہی نظروں پر آخر میں منمنا کر ره گئی ۔
“ہاں ہاں یہ ساری بے دھیانياں وہیں جا کر تو یاد آتی ہیں تمہیں ۔”چائے کا سپ لیتے وہ اس کے لتے بھی ساتھ خوب لے رہی تھیں ۔
“کیا ہو گیا ہے صائمہ ۔کہہ تو رہی ہے بے دھیانی میں ہو گیا ہے ایسا ۔ویسے بھی میری بیٹی بہت سمجھدار ہے اور جو بھی کام اپنے ذمہ لیتی ہے پوری ایمانداری سے کرتی ہے ۔بھلا جان بوجھ کر وہ ایسا کیوں کرے گی ۔”وہ اسکی حمایت میں بول رہے تھے اور معصومیت بھری مسکراہٹ چہرے پر لئے اس نے شد و مد سے گردن ہلائی تھی ۔دل میں کمینی سی خوشی کا احساس جاگا تھا ۔
“یہ تو بالکل ٹھیک کہا آپ نے ابو ۔میں پوری ایمان داری سے اپنے زمے سارے کام کرتی ہوں جیسے اس کمرے کی چیزیں توڑنا ۔”
“سبرینہ کافی دنوں سے گھر نہیں آئی ؟”ناشتہ کرتے ہوئے انہیں بڑی بیٹی کا خیال آیا تھا یا انہوں نے جان بوجھ کر موضوع بدلا تھا مگر صد شکر صائمہ کا دھیان اب بٹ گیا تھا ۔شانزے نے سکوں آمیز سانس لیتے ناشتے کی جانب اپنی پوری توجہ مرکوز کی تھی۔صائمہ اب محمود کو سبرینہ کے بارے میں بتا رہی تھیں اور اب وہ سکوں سے ناشتہ کر سکتی تھی ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
آفندی ہاؤس میں کبھی خوب رونقیں ہوا کرتی تھیں جب نچلے پورشن میں محمود آفندی اور اوپر والے پورشن میں بڑے بھائی سجاد آفندی کی فمیلیز بسا کرتی تھیں ۔کھلے سے رقبے پر بنے اس گھر کے دونوں پورشن ایک سے طرز پر تعمیر کیے گئے تھے ۔تین بیڈ رومز ،ڈرائینگ روم ، کچن اور اس سے ملحق ڈائینگ روم کے ساتھ ٹی وی لاؤنج ۔جدید طرز پر بنے ایک جیسے پورشنز والے اس گھر کے مكین بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے ۔سجاد آفندی کے تین بیٹے تھے ۔محمود آفندی کو اللّه نے دو بیٹیوں سے نوازا تھا ۔اس گھر میں ہر وقت چہل پہل رہا کرتی تھی ۔اوپر نیچے کرتے دن کب شروع ہوتا اور کب اختتام پزیر کچھ پتہ نہ لگتا تھا ۔پھر تلاش معاش نے جیسے سب کو بکھیر کر رکھ دیا ۔سجاد کے بڑے بیٹے زید اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بیرون ملک شفٹ ہو گئے ۔تو چھوٹا بیٹا علی جاب کے سلسلے میں کراچی رہائش پزیر ہو گیا ۔رہا میسم تو اسے بھی عرصہ ہوا تھا پردیس گئے ہوئے ۔جب تک سجاد کی بیوی زندہ تھیں وہ یہیں رہے ۔پھر انکی وفات کے بعد علی کے اصرار پر اسکے ہمراہ کراچی چلے گئے ۔اب کبھی خوشی غمی یا عید کے عید ہی اس گھر کی رونقیں بحال ہوتی تھیں ۔وہ بھی جب زید اور علی اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ آتے تھے ۔رہا میسم تو اسے عرصہ ہوا تھا نیو یارک گئے ہوئے ۔وہ صرف ایک بار واپس آیا تھا اپنی ماں کی بیماری کے آخری دنوں میں ۔وہ بھی صرف کچھ دن رہا تھا انکی وفات کے بعد جو واپس گیا تو آٹھ سال ہوئے مڑ کر نہیں دیکھا تھا ۔خود محمود صاحب کی بڑی بیٹی بياه کر اپنے گھر کی ہو چکی تھی ۔اب آفندی ہاؤس میں آ جا کر تین لوگ بستے تھے ۔محمود ،صائمہ اور شانزے ۔
شانزے کی تعلیم مکمل ہو چکی تھی ۔آج کل ایک دو رشتے بھی زیر بحث تھے ۔ایسے میں اسے رخصت کرنے کے خیال سے ہی محمود آفندی کا دل ہولنے لگتا تھا ۔اس کی موجودگی میں گھر، گھر سا لگتا تھا۔محبت تو انہیں دونوں بیٹیوں سے ہی تھی ۔مگر اپنی فرمانبرداری اور چہچہاتی ہنس مکھ طبعیت کے باعث اس سے انسیت زیادہ تھی ۔پھر تھی بھی وہ انکے گھر کی چھوٹی اولاد تو اس ناطے بھی دل کے زیادہ قریب تھی ۔فلحال تو وہ ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے ۔صائمہ جب بھی کسی رشتے کا ذکر کرتیں تو وہ یہ کہہ کر ٹال دیتے کہ اگلی بار سجاد افندی کے آنے پر ان سے صلح مشورہ کر کے کوئی فیصلہ کریں گے ۔مگر وہ خود بھی جانتے تھے یہ تدبیر صرف دل کو بہلانے کے مترادف ہے ایک نہ ایک دن بیٹی کو رخصت تو انہیں کرنا ہی تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
رات کھانے کے بعد صائمہ تو کچن سمیٹ کر نماز پڑھنے چلی گئی تھیں ۔جبکہ وہ اپنے اور محمود آفندی کے لئے چائے کے دو کپ لئے ٹی وی لاؤنج میں ڈیرہ جما کر بیٹھ گئی تھی ۔ٹی وی سکرین پر ہلکی آواز کے ساتھ پولیٹیكل ٹاک شو لگا ہوا تھا مگر اس جانب توجہ کسی کی نہیں تھی ۔سامنے میز پر لڈو کی بساط بچھی ہوئی تھی اور سنگل صوفے پر محمود جبکہ پاس ہی نیچے کشن پر وہ خود براجمان تھی ۔امی کی متوقع ڈانٹ سے بچنے کے لئے وہ محمود صاحب کی گوٹ مارنے کے بعد خوشی کا اظہار بھی بہت دھیمی آواز میں کر رہی تھی ۔جب کہ ہار کے دہانے پر کھڑے محمود صاحب پر سوچ نظریں اپنی بچی دو گوٹ پر جمائے ہوئے تھے ۔شریر نظروں سے انہیں دیکھتی وہ سامنے پڑے باؤل میں سے چپس نکال کر منہ میں رکھ رہی تھی جب انکے فون بجنے پر بد مزہ ہوئی تھی ۔
جیب سے موبائل برآمد کرتے سکرین پر جلتے نام کو مسکرا کر دیکھتے انہوں نے ریموٹ سے اینکر پرسن کی آواز کا گلا بالکل ہی گھونٹ کر رکھ دیا تھا ۔دوسرے ہاتھ سے کال ریسیو کر کے موبائل کان سے لگایا جا چکا تھا ۔
“وعلیکم سلام بیٹا کیسے ہو ۔”خوش دلی سے کہتے وہ پیچھے ہو کر بیٹھے تھے ۔
“میں بھی ٹھیک ہوں الحمدللہ ۔تمہاری چاچی بھی ٹھیک ہیں ۔”شانزے منہ میں چپس رکھتے بے زاری سے ٹی وی سکرین دیکھتی کال بند ہونے کا انتظار کرنے لگی تھی ۔
“آج تو بڑے دنوں بعد کال کی ۔میں صبح بھی ذکر کر رہا تھا صائمہ سے کہ میسم کی کال نہیں آئی کافی دن ہوئے ۔”محمود کہہ رہے تھے اور میسم نام پر اسکے کان کھڑے ہو گئے تھے ۔شدید بد مزہ ہوتے ہوئے اس نے سامنے بچھی لڈو کی گیم پر دل ہی دل فاتحہ پڑھ ڈالی تھی ۔اور فہما ئشی نظروں سے اپنے باپ کو دیکھا تھا جو ابھی دو دن پہلے اس سے ایک گھنٹہ بات کر کے بھی بہت دنوں بعد کال کا گلہ کر رہے تھے ۔بے دلی سے گوٹ اکٹھی کرتے اسکا موڈ بری طرح سے آف ہو چکا تھا محمود صاحب اسکی طرف متوجہ نہیں تھے ۔لڈو اٹھا کر اٹھتی وہ جانتی تھی اگلے آدھے پونے گھنٹے تک اب انہیں فرصت ملنے والی نہیں تھی ۔ویسے تو اس کے منہ میں زبان نہیں ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے جیسے مہینوں بعد کبھی بولتا ہو گا مگر محمود آفندی سے پتہ نہیں کیسے اتنی دیر تک اور کیا کیا باتیں کر لیتا تھا ۔اور یہی بات اسے اور بھی چھبتی تھی ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
رات وہ جلدی اٹھ کر سونے چلی گئی تھی مگر صبح ناشتے کی ٹیبل پر اسکے سر پر بم پھوڑا گیا تھا ۔میسم عبّاس واپس آ رہا تھا ۔صبح صبح ہی اسکی بھوک پیاس سب اڑ گئی تھی ۔اڑے اڑے حواس کے ساتھ وہ مند دلی سے ناشتہ کر رہی تھی جبکہ اس کے برعکس محمود اور صائمہ بڑے خوش اور پر جوش تھے ۔اسے بھی خوشی ہوتی اگر یہی اطلاع زید یا علی کی آمد کے بارے میں ہوتی ۔تب تو اسکی خود کی استقبالی تیاریاں عروج پر ہوتیں ۔
گھر کی صفائی کے بعد اس نے کھڑاک سے سبرینہ کو کال ملائی تھی ۔اور اسکی توقع کے عین مطابق شام کو وہ گھر پہنچ چکی تھی ۔اس وقت اپنے اور اسکے مشترکہ کمرے وہ دونوں بہنیں بیٹھی ہوئی تھیں ۔
“سوال یہ پیدا ہوتا ہے اتنے عرصے بعد اسے واپسی کی کیا سوجھی ؟”اپنے بستر پر نیم دراز وہ کہنی تکیے پر ٹکائے اپنا سر ہاتھ پر رکھے اسے دیکھ رہی تھی جو اس سے ذرا فاصلے پر اپنے بیڈ پر آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی ۔
“ابو بتا رہے تھے انکا جاب کنٹریکٹ ختم ہو گیا ہے تو ظاہری بات ہے واپس تو آنا ہی تھا ۔”اس نے اطلاع دی تھی ۔
“خیر آتا ہے تو آتا رہے ہماری بلا سے ۔خاندان بھر میں کوئی سیدھے منہ بات تو کرتا نہیں یہاں تک کہ تایا ابو بھی بمشکل ہی بات کرتے ہیں اور ایک ہمارے ابا کو اسکی محبت کا بخار چڑھا ہوا ہے۔ ۔”ناک منہ چڑھا کر کہا گیا تھا ۔
“مجھے تو یہی نہیں بھولتا کہ انہوں نے فریحہ بھابھی کے ساتھ کیا ظلم کیا تھا ۔”وہ اداسی سے بولی ۔سالوں پہلے کی بھولی بسری یاد پھر سے تازہ ہونے لگی تھی ۔
“بھولنے والی حرکت کی بھی تو نہیں تھی ۔اور پھر کون سا فریحہ پر ہی بس کر دی تھی وہاں امریکہ میں جس انگریز لڑکی سے شادی رچائی تھی وہ کون سا کامیاب ہو پائی ۔اب یہ تو نہیں ہو سکتا نا کہ اس کی زندگی میں آنے والی عورتوں کا ہی ہر بار قصور ہو باقی سب غلط اور ایک وہ سب صحیح ہو ۔یقیناً اسکی ذات میں ہی کچھ کمی ہوگی جو کوئی بھی لڑکی زیادہ عرصہ اسے جھیل نہیں پاتی ۔میں تو شکر پڑھتی ہوں اللّه نے مجھے بچا لیا ورنہ فریحہ کی جگہ میں ہوتی ۔”اک جھرجهری سی لے کر کہتی وہ اٹھ بیٹھی تھی ساتھ ہی اپنے کھلے بکھرے شانوں سے نیچے آتے خوب صورت بالوں کو سمیٹا تھا ۔شانزے نے اس سے متفق ہوتے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔واقع ہی یہ سبرینہ کی اپنی دلیری تھی یا اچھی قسمت جو وہ گھر کے بڑوں کے فیصلے کے سامنے ڈٹ گئی تھی ۔ورنہ تایا ابو اور ابو دونوں کی خواہش میسم اور سبرینہ کو ایک ساتھ دیکھنے کی تھی ۔میسم نے تو کوئی اعتراض نہیں کیا تھا مگر سدا کی پر اعتماد اور منہ پھٹ سبرینہ نے جھٹ سے اپنا مقدمہ بڑوں کی عدالت میں پیش کر دیا تھا ۔وجہ تھی اسے میسم کا ایک آنکھ نہ بھانا ۔دونوں کے مزاج میں زمین و آسمان کا فرق تھا میسم کی حد درجه سنجیدگی اور کم گوئی کے باعث وہ گھر بھر میں سب سے الگ دکھتا تھا ۔اس پر مستزاد اسکی ریزرو سی لئے دیے والی نیچر سے سبرینہ کو سخت خار تھی ۔اور یوں اسکی مرضی نہ دیکھ کر بڑوں نے بھی چپ سادھ لی تھی ۔اسکے انکار نے سب سے زیادہ دکھی بشری کو کیا تھا ۔اپنے خوبرو و لائق بیٹے کے لئے اسکا صفا چٹ انکار انکے دل پر برچھی کی طرح لگا تھا اور ان پر دھن سی سوار ہو گئی تھی وہ جلد از جلد بیٹے کے لئے چاند سی بہو لانے میں سر گرم عمل ھو چکی تھیں ۔کچھ ہی وقت میں آناً فاناً وہ اپنے دور پار کی رشتے داروں میں سے فریحہ کو بياه کر گھر لے آئی تھیں ۔جس کے چند ماہ بعد ہی گھر میں جو تماشہ لگا تھا جس نے سبھی ذہنوں پر اتنے عرصے بعد بھی انمٹ نشان چھوڑے ہوئے تھے ۔خاص کر کے شانزے محمود جو اس واقعے کی چشم دید گواہ تھی ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
صبح فجر کی نماز پڑھ کر وہ سو گئی تھی اور خلاف معمول صائمہ نے اسے جگایا بھی نہیں تھا ۔اب خود سے جو آنکھ کھلی تھی تو صبح کے ساڑھے آٹھ بج رہے تھے ۔باہر سے بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں پہلا خیال سبرینہ کا ہی آیا تھا ۔وہ اکثر صبح و سویرے ہی آتی تھی جب شایان آفس جاتا تو جاتے ہوئے اکثر اسے یہاں ڈراپ کر جایا کرتا تھا ۔خوشی خوشی اٹھ کر واش روم میں منہ پر پانی کے جهپاکے مار وہ گیلے چہرے کے ساتھ ہی باہر نکل آئی تھی ۔
لاؤنج میں محمود آفندی کے سامنے اسکی طرف پشت کیے بیٹھے شخص کو دیکھ کر اسکے تیز قدموں کی رفتار دھیمی پڑتی تھم گئی تھی ۔وہ شایان تو نہیں تھا اتنا تو وہ جان گئی تھی پھر کون تھا جسے ڈرائنگ روم کے بجائے لاؤنج میں بٹھایا گیا تھا ۔متذبذب سی وہیں کھڑی وہ سوچ میں پڑ گئی تھی آیا آگے جائے یا یہی سے واپس کمرے کی راہ لے جب محمود آفندی کی نگاہ اٹھی تھی ۔
“شانزے آ جاؤ بیٹا !دیکھو کون آیا ہے ؟”ابو کی پکار پر وہ مسکرا کر دو پٹہ شانوں پر برابر کرتی ایک کونہ سر پر ٹکائے آگے بڑھی تھی ۔صوفے کے پیچھے سے گھوم کر جب وہ محمود صاحب کے پہلو میں جا کر کھڑی ہوئی تھی تب اس شخص کا چہرہ اسے پوری طرح دکھائی دیا تھا اور سلام کرنے کے لئے کھلا منہ کھلے کا کھلا ہی ره گیا تھا ۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
