Man Mehram by Umme Abbas NovelR50604 Man Mehram (Episode 07)
Rate this Novel
Man Mehram (Episode 07)
Man Mehram by Umme Abbas
“آپ کی بڑائی میں کمی آ جاتی اگر آپ آپی سے حال چال پوچھ لیتے ؟”میسم نے فائل سے سر اٹھا کر گردن موڑ کر دیکھا تھا ۔وہ دروازے کے پاس کھڑی بگڑے تیور لئے کھڑی تھی ۔
ابھی کچھ دیر پہلے وہ نیچے ہی تھا جب سبرینہ کے آنے پر وہاں سے اٹھتا ہوا اوپر آ گیا تھا ۔شانزے کو یہ بات چھبی تھی ۔کچھ دیر بعد وہ کمرے میں کھڑی اب اس سے خفگی جتا رہی تھی ۔
“میں نے نہیں پوچھا تو تمہاری آپی نے کون سا زحمت کر دی ؟”رخ اسکی طرف کرتے وہ پیچھے کی جانب ٹیک لگائے بازو سینے پر لپیٹ چکا تھا ۔
“آپ بڑے ہیں بڑوں کو پہل کرنی چاہیے ۔”وہ بضد ہوئی ۔میسم نے سر کو استہزائیہ ذرا سا جھٹکا تھا ۔
“جیسے میرے بڑے ہونے کا تو بڑا لحاظ ہے نا تمہاری آپی کو ۔”شانزے کی تیوری چڑھی تھی ۔پہلو پر ایک ہاتھ جمائے وہ چلتی ہوئی اسکے قریب آ کھڑی ہوئی تھی ۔
“یہ کیا تمہاری آ پی تمہاری آپی لگا رکھی ہے آپ نے ۔آپ کی بھی کچھ لگتی ہیں کہ نہیں ۔”
“ہاں بالکل لگتی ہیں میرے چاچو کی دختر نیک ہیں مگر صرف نام کی ہی نیک ہیں ۔”اس کا انداز کچھ طنزیہ سا تھا شانزے منہ کھولے اسے دیکھنے لگی تھی ۔
“ایسے تو مت کہیں اب آپ ۔آپی ہیں میری وہ ۔”وہ ناراض ہوئی تھی ۔
“وہ تمہاری آپی ہے تو میں کیا ہوں ؟پڑوس والی کا شوہر ؟”وہ بظاہر بہت پر سکون سا اسے دیکھ رہا تھا مگر آواز میں گلہ سا بولنے لگا تھا ۔
“سیریل قسم کے شوہر بن کر بھی آپ کی حسرتیں پوری نہیں ہوئیں ۔دو کو کنارے لگا چکے ہیں ۔تیسری کے ہوتے ہوئے بھی ابھی پڑوس والی کا شوہر بننے کے ارمان باقی ہیں ؟”وہ سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ دبی دبی سی چینخی تھی ۔میسم نے بے آرام ہوتے ذرا سا پہلو بدلا
“دیکھو تم مجھے بار بار میری شادیوں کے طعنے مت دیا کرو ۔اب نصیب میں ہی تین شادیاں ہونا لکھی تھیں تو میں کیا کر سکتا ہوں ؟”خفیف سا ہوتا وہ شانے اچکا گیا ۔
“ہاں جی بالکل ۔اتنے ہی کوئی آپ مظلوم ترین آدمی ۔آپ کے تو ہاتھوں کی لكیروں میں ہی شادیوں کی بھرمار لکھی ہوئی تھی ۔”اگے ہو کر جھکتے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑ کر ،کشاده ہتھیلی سامنے کی ۔پھر بغور اسکا ہاتھ دیکھتی وہ تپ کر کہہ رہی تھی ۔میسم اسکے جلے بھنے لب و لہجے پر اپنی امڈ آتی ہنسی کو دباتا تھوڑا آگے کو ہوتا اپنا چہرہ اسکے خفا خفا سے غصے کی لالی لئے چہرے کے قریب لے کر گیا تھا ۔پھر آنکھ کے اشارے سے اسے اپنی ہتھیلی کی جانب متوجہ کیا تھا ۔
“بس نصیب کا لکھا کون مٹا سکتا ہے ۔ابھی کچھ دنوں سے میرے ہاتھ میں ایک نئی لكیر بن رہی ہے ۔یہ دیکھو کہیں چوتھی شادی کی ہی نہ ہو ۔”چہرے پر سنجیدگی لئے وہ پر سوچ انداز میں کہہ رہا تھا ۔شانزے جو بڑی توجہ سے اسکی ہتھیلی دیکھتی ،اسکے دوسرے ہاتھ کی انگلی سے نشان دہی کی جانے والی ایک ننھی سی لكیر پر غور کر رہی تھی ،کو جھٹکا لگا تھا اور اگلے ہی لمحے اسکی آنکھوں سے شرارے لپکے تھے ۔وہ لب بھینچ کر سیدھی ہوتی اسے کینہ توز نظروں سے دیکھ رہی تھی جو اب واپس پیچھے کی جانب کرسی سے ٹیک لگا چکا تھا ۔
“اللّه کی قسم میسم ۔اگر یہ چوتھی شادی کی لكیر ہوئی نا تو ۔۔۔۔”تنے ہوئے نقوش کے ساتھ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ اپنا غصہ اس پر ظاہر کیسے کرے ۔
“تو ؟”میسم کا متبسم انداز اسے اکسانے جیسا تھا ۔
شانزے نے ذرا سا جھک کر اسکا وہی ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے تھوڑا اوپر کی جانب اٹھایا تھا ۔
“تو میں مشرقی بیویوں کی طرح رونے دھونے پر اکتفا نہیں کروں گی ۔یہ ہاتھ ہی کاٹ دوں گی ۔نہ رہے گا ہاتھ نہ ہو گی چوتھی شادی کی لكیر ۔پھر کٹے ہاتھ کے ساتھ سر پیٹتے رہیے گا آپ ۔”اسکا ہاتھ جھٹک کر چھوڑتے وہ تن فن کرتی جانے لگی تھی ۔میسم کا قہقہہ بے ساختہ تھا ۔اس نے مڑ کر چھبتی نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔جو اب گردن نیچے کی طرف پهینكے سر کو دائیں بائیں جنبش دیتے ہنس رہا تھا ۔ایک خوب صورت ہنسی ۔شانزے کا دل اس ہنسی کے بھنور میں کہیں الجھ کر ره گیا تھا ۔تو وہ اسے صرف تنگ کر رہا تھا ۔
“ویسے کچھ زیادہ ہی خوش فہمیاں پال رکھی ہیں آپ نے ۔یہ میرے ابو ہی تھے جو آپ کی محبت میں اندھے ہو کر آپ کے سفید ہوتے بالوں کی پرواہ بھی نہیں کی اور لے کر بیٹی بياه دی آپ کے ساتھ ۔ورنہ بڑھاپے کی دہلیز پر تو آپ کھڑے ہیں کس نے اپنی بیٹی دینی ہے اب آپ کو ۔”وہیں کھڑے کھڑے اس نے دو دو ہاتھ کرتے مسکرا کر چڑانے والے انداز میں کہا تھا ۔میسم کی ہنسی کو بریک لگی تھی اور شانزے نے دل میں ڈھیروں سکون لئے باہر کی راہ لی تھی ۔بڑھاپے کی دہلیز ۔۔۔۔یہ طعنہ اس نے سے دوسری بار دیا تھا ۔میسم نے دروازے کی جانب دیکھ کر خفگی سے گھورا تھا جہاں سے ابھی ابھی اسکا لہراتا سبز آنچل اوجھل ہوا تھا ۔
“پینتس سال کی عمر میں کون بوڑھا ہوتا ہے؟ ۔۔۔۔۔پاگل عورت نہ ہو تو ۔”بڑبڑاتے ہوئے اس نے آگے کی طرف ہوتے فائل کھول کر سر جھٹکتے اپنا دھیان اس جانب مبذول کرنے کی کوشش کی تھی
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
نیند میں اپنے گال پر کوئی چیز سرسراتی چیز محسوس کرتے اسکی آنکھ کھلی تھی ۔اس نے اپنے چہرے پر ہاتھ مارا تھا ۔ہاتھ کی گرفت میں اسکی نرم و ملائم انگلیاں آئی تھیں ۔میسم نے آنکھیں پوری طرح کھول کر خود سے تھوڑے سے فاصلے پر اپنی طرف کروٹ لئے سوئی شانزے کو دیکھا تھا جس کا ہاتھ نیند میں اسکے چہرے کو چھو گیا تھا ۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا وہ سوتے ہوئے ہاتھ چلانے کی عادی تھی ۔اپنی بنائی کشنز کی باڑ سے اسکا ہاتھ کہیں بار اسکے علاقے میں آیا تھا وہ ہر بار باعزت طریقے سے اسے پتہ چلے بغیر ہی واپس اسکے علاقے میں چھوڑ آتا تھا ۔مگر آج اسکا ایسا کوئی ارادہ معلوم نہیں ہوتا تھا ۔نہ تو میسم نے اسکا ہاتھ اپنے گال پر سے ہٹایا تھا اور نہ ہی اپنے ہاتھ کی گرفت سے آزاد کیا تھا ۔اس کا لمس ،اس قربت کا احساس اور اپنے رشتے کے استحقاق نے اس کے دل میں پر لطیف سا احساس جگایا تھا ۔
یہ سچ تھا جب سجاد آفندی نے اس سے شانزے کی بابت بات کی تھی تو اسے حیرت کا شدید ترین جھٹکا لگا تھا ۔وہ اس سے تیرہ سال چھوٹی تھی ۔عمر ،مزاج ،عادات وہ دونوں ایک دوسرے سے یکسر الگ تھے ۔اسے خود بھی اپنا اس کے لئے کیا جانے والا محمود آفندی کا انتخاب غیر معقول لگا تھا ۔جس کا ذکر اگلی صبح اس نے ان سے کیا بھی تھا ۔بدلے میں انکے جواب نے اسے چپ کروا دیا تھا ۔دو ناکام تجربات کے بعد وہ ایک بار پھر سے شادی جیسی بھاری ذمہ داری کے لئے خود کو اہل نہیں جان پا رہا تھا مگر یہ بھی حقیقت تھی اسے احساس تھا بنا شادی کے وہ ازدواجی زندگی میں دو بار کی ناکامی کے معاشرے تو کیا گھر میں ہی معیوب سمجھا جائے گا ۔شادی تو کرنی ہی تھی تو کیوں نہ یہیں سہی ۔وہ جانتا تھا یہ مشکل ہو گا وہ بھی اس صورت جب شانزے کی اپنے بارے میں ناپسندیدگی سے وہ خود بھی واقف تھا ۔اور اسکی وجہ بھی جانتا تھا ۔شادی کی رات اسکے رویے نے اسے باور کروا دیا تھا وہ اس کو کتنا نا پسند کرتی ہے جس پر مہر اسکی اگلی رات کی باتوں نے ثبت کر دی تھی ۔
وہ خاموش ہو گیا تھا ۔ویسے بھی اس رشتے کو اور خاص کر کے شانزے کو قبول کرنے کے لئے اسے خود وقت درکار تھا ۔شانزے بھی غلط نہیں تھی اسکے ماضی کو مد نظر رکھتے اسکا رویہ میسم کے ساتھ کوئی ایسا غیرمعقول بھی نہیں تھا ۔میسم نے اسکی طرف سے چپ سادھ لی تھی ۔اس نے اپنے رشتے کا کسی قسم کا بوجھ شانزے پر نہیں ڈالا تھا ۔
اسکی کڑوی کسیلی باتیں بھی وہ آرام سے سن لیتا تھا ۔مگر پچھلے کچھ دنوں سے اسکے بدلے رویے نے میسم عباس کے احساسات میں بھی بدلاؤ لایا تھا ۔دل اسکی طرف ہمکنے لگا تھا اور اسے روکنے کی کوشش اس نے بھی نہیں کی تھی ۔وہ کرنا چاہتا بھی نہیں تھا ۔
پر شوق نظروں سے اسکے نیم اندھیرے میں غیر واضح نقوش دیکھتے اس نے ہاتھ بڑھا کر چہرے پر آئے بال پیچھے کیے تھے ۔ہاتھ کی پشت سے دھیرے سے اسکا گال سہلایا تو وہ ذرا سا کسمسائی تھی ۔میسم نے ہاتھ کی جنبش روک دی ۔وہ پرسکون ہوتی ساکن ہوئی تھی ۔کچھ دیر بعد اس نے پھر سے وہی عمل دوہرایا تھا اور ایسا کرتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر شریر سا تبسم کھیل رہا تھا ۔شانزے کی آنکھ کھلی تھی ۔مندی مندی آنکھوں سے اس نے سامنے دیکھا تھا ۔پہلا جھٹکا اپنے ہاتھ کے اسکے گال پر ٹھہرے ہونے سے لگا تھا اور دوسرا میسم کے اپنے گال پر رینگتے لمس سے ۔آنکھیں پھاڑ کر اس نے بے یقینی سے اسے دیکھا تھا جو اب اسکے چہرے کو بغور دیکھ دیکھ رہا تھا ۔شانزے نے اپنا ہاتھ کھینچنا چاہا تھا جس پر میسم نے سختی سے اپنی گرفت کرتے اسکی کوشش ناکام بنائی تھی ۔وہ حواس باختہ سی دھڑکتے دل کے ساتھ اسکی اس جسارت پر ساکت و جامد ره گئی تھی ۔اور اگلے ہی پل وہ اسے اپنی طرف کھینچ کر مزید حیران ہونے کا موقع دیے بنا اپنے اور اسکے درمیان ہر فاصلہ مٹا گیا تھا ۔
“کہا تھا نا اپنی بنائی باڑ سے اس پار مت آنا ورنہ نتائج کی ذمہ دار تم خود ہو گی ۔”اپنے کان کے پاس اسکی گرم سانسوں کے بیچ سرسراتی جذبوں سے بوجھل ، مخمور کن سی خموشی نے اسکے اوسان خطا کیے تھے ۔
اسکی پیش رفت پر شانزے نے کوئی مزاحمت نہیں کی تھی اور اسکے خود سپردگی کے اس احساس نے میسم کے لبوں پر جان فزا تبسم بکھیرا تھا۔اسکی گرفت میں نرمیوں کی حلاوتیں گھلنے لگی تھیں ۔قطره قطرہ بیتتی رات میں ان دونوں کے رشتے میں ایک نئی شروعات ہوئی تھی ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
اگلے ویک اینڈ سجاد آفندی ،علی اور شیریں بچوں کے ہمراہ محمود آفندی کی عیادت کے لئے آئے تھے ۔علی اور شیریں ویک اینڈ کی چھٹیوں میں آئے تھے ۔انکی واپسی دو دن بعد ہونی تھی جبکہ سجاد آفندی کچھ دن رکنے کا ارادہ رکھتے تھے ۔گھر میں اچھی خاصی رونق سی لگ گئی تھی ۔بہت دنوں بعد محمود آفندی بھی کمرے سے نکل کر باہر لان میں دھوپ میں بیٹھے نظر آئے تھے ۔صفا اور صفوان بلی کے بچے کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے ۔مگر صرف شانزے سے مانوس جیزی ان بچوں کی آمد پر کچھ بے سکون سا لگتا تھا اسی لئے انکے اپنے قریب آنے پر پلانٹس کے پیچھے تو کبھی پورچ میں چھپتا پھر رہا تھا ۔
میسم اور شانزے کو ایک ساتھ دیکھ کر سجاد آفندی کے دل میں بھی ڈھیروں سکون پھیلتا چلا گیا تھا ۔دل کو لاحق خدشات دم توڑنے لگے تھے ۔
اس وقت وہ رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھیں ۔شانزے کے ساتھ شیریں بھی لگ پڑی تو صائمہ کچھ دیر کے لئے باہر لاؤنج میں جا بیٹھیں جہاں باقی سب موجود تھے ۔
“اور جیٹھانی جی کیا پروگریس ہوئی آپ کی طرف ۔”
شیریں کے شرارت بھرے انداز میں پوچھے سوال پر شانزے ہنسی ۔
“کیا شیریں بھابھی ۔اتنا بھاری بھر کم لفظ تو استعمال نہ کریں میرے لئے ۔میں شانزے ہی ٹھیک ہوں ۔”
سنک میں رکھے برتن دھو کر وہ اسٹینڈ پر رکھ رہی تھی ۔شیریں نے مسکراتے ہوئے سلاد بناتے اس کی جانب دیکھا تھا ۔
بھئی میں نے سوچا تم یہ نہ کہو میں نے رشتے کا لحاظ نہیں کیا ؟عمر میں چھوٹی سہی رشتے میں بڑی ہو گئی ہیں اب آپ ۔” آخری پلیٹ ٹھکانے لگاتی وہ ہاتھ خشک کرتی اسکے پاس ہی ٹیبل کے گرد بیٹھ کر ،میکرونیز میں ڈالنے کے لئے بوائل کیے انڈوں کے چھلکے اتارنے لگی تھی ۔
“معاف کریں مجھے ایسے لحاظ سے ۔”سر کو جھٹک کر منہ بنا کر کہا گیا تھا ۔
“چلو معاف کیا لڑکی کیا یاد کرو گی ۔اب یہ بتاؤ میرے جیٹھ جی سے کوئی انڈرسٹینڈنگ ڈویلپ ہوئی کہ نہیں ؟”رازداری سے اسکی طرف جھک کر پوچھا گیا تھا ۔شانزے نے مصنو ئی انداز میں اسے گھورا ۔
“ہو گیا ہے کچھ گزارا ۔”اپنے جواب پر وہ خود بھی دبا دبا سا مسکرائی تھی ۔
“صرف گزارا ؟۔۔۔۔”شیریں نے آنکھیں پھیلائیں پھر تاسف سے سر کو جنبش دی ۔
“بہت کوئی سست لڑکی ہو شانزے ۔لوگ تین چار ماہ میں کون کون سے سنگ میل عبور کر جاتے ہیں اور تم یہاں ابھی صرف گزارا کر رہی ہو ۔”وہ اسے ملامت کر رہی تھی ۔
“مثال کے طور پر ۔”بنا سر اٹھائے وہ اپنے کام میں مگن رہی ۔
“شادی کے بعد بس ایک ہی مثال ہوتی ہے بیٹا جی اور حرف عام میں اسے خوش خبری کہتے ہیں ۔”شیریں کے ہنس کر کہنے پر شانزے کے ہاتھ تھم سے گئے تھے ۔ااسکا چہرہ ذرا برابر شرم سے متغیر ہوا تھا ۔اگلے لمحے اسکی آنکھوں میں کوئی سرد سا تاثر جاگا تھا ۔شیریں کی مسکراہٹ معدوم ہوئی تھی ۔
“کیا ہوا تمہیں برا لگا میرا ایسا کہنا ۔”اگلے ہی لمحے وہ خفت زدہ سی کہہ رہی تھی ۔شانزے نے کھوئی کھوئی نظروں سے انکی طرف دیکھا ۔اگلے ہی لمحے خود کو سنبهالتی ہوئی وہ بے دلی سے مسکرا دی تھی ۔
“ارے نہیں بھابھی ۔برا نہیں لگا بس ایسے ہی ۔”وہ اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھے بشاش سے لہجے میں کہہ رہی تھی ۔شیریں کا یوں شرمندہ ہونا اسے برا لگ رہا تھا ۔
“یہ تو خدائی کام ہوتے ہیں ۔جب اللّه کو منظور ہو ۔”ہاتھ واپس لیتے وہ پھر سے اپنے کام میں لگ گئی تھی ۔
“بالکل انشاء اللّه ۔”شیریں کی شرمساری زائل ہوئی تھی ۔شانزے مسکرا دی ۔
تبھی وہاں صفا آ گئی تھی اور موضوع گفتگو بدل گیا تھا ۔شانزے نے سکھ کا سانس لیا تھا ۔مگر دل اندر کہیں بجھ سا گیا تھا ۔
رات سونے سے پہلے تک بھی اسکا رویہ میسم سے کھچا کھچا رہا تھا ۔بات پہلے کی ہوتی تو شاید وہ محسوس نہیں کرتا مگر پچھلے کچھ دنوں سے وہ جس قدر نارمل اس کے ساتھ بی ہیو کر رہی تھی ایسے میں اب یہ رویہ اس نے بڑی جلدی بھانپ لیا تھا ۔
“تمہیں کیا ہوا ہے ؟”رات سونے کے لئے لیٹتے وہ پوچھے بنا نہیں ره سکا تھا ۔
“مجھے کیا ہونا ہے ؟”لٹھ مار سے لہجے میں سوال کے بدلے سوال کیا گیا تھا ۔
“وہی تو پوچھ رہا ہوں ۔”اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے وہ نرمی سے پوچھ رہا تھا ۔شانزے نے نظر بھر کر اسکا چہرہ دیکھا پھر اپنا ہاتھ غیر محسوس کن انداز میں اسکے ہاتھ سے نکالتے ہوئے ساتھ نظریں بھی چرا لیں ۔
“تھک گئی ہوں شاید ۔”اداسی سے کہتے وہ کروٹ بدل گئی تھی ۔میسم نے اسکی تھکاوٹ کا احساس کرتے اسے مزید نہیں چھیڑا تھا ۔مگر ذہن تھا جو بار بار الارم دے رہا تھا سب ٹھیک ہونے کے باوجود بھی کچھ ہے جو ٹھیک نہیں ہے اور وہی کچھ اسکی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ۔چت لیٹے وہ بھی سونے کی کوشش کرنے لگا تھا ۔
بہت دیر بعد شانزے نے کروٹ بدلی تھی ۔میسم سو گیا تھا ۔نیم اندھیرے میں اسکی سانسوں کے زیرو بم اسکی گہری نیند کے غماز تھے ۔گال کے نیچے ہاتھ رکھے وہ کتنی دیر اداس مگر خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتی رہی تھی ۔پہلے اس سے صرف چڑ تھی ،ناپسندیدگی تھی ۔تو سب ٹھیک تھا کم از کم دل بے سکون تو نہیں تھا ۔اب جب وہ اچھا لگنے لگا تھا تو دل و دماغ میں جنگ سی چھڑ گئی تھی ۔ایک اپنی طرف کھینچتا تھا دوسرا اپنی طرف ۔اور وہ ان دونوں کے درمیان کسی پنڈولم کی طرح جھول رہی تھی ۔دل کا دو حصوں میں بٹ جانا بھی عذاب تھا ۔اس معاملے میں وہ بے بس تھی میسم عبّاس کے ماضی کے قد آور بھیانک سائے شانزے کو اپنی لپیٹ میں لے کر اسکے حال پر اثر انداز ہو رہے تھے ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
شیریں میسم کے کہنے پر اس کے لئے سٹار شیپ کا بالکل ہو بہو کرسٹل شو پیس لائی تھی جسے وہ کراچی سے ہی لے کر آیا تھا اور وہ شانزے کی بے دھیانی کی نذر ہوا تھا ۔آج صبح ہی میسم کو شیریں نے وہ اسکے سامنے ہی دیا تھا اور اب وہ میسم کی بیڈ سائیڈ ٹیبل پر سجا دکھائی دے رہا تھا ۔اسے دیکھ کر شانزے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی تھی ۔پاس آکر رکتے اس نے اسے ہاتھ میں لیا تھا اور تبھی دروازے سے میسم اندر داخل ہوا تھا ۔
“اب ایسا کچھ مت کرنا شانزے ۔”اسے دیکھ کر وہ وہیں سے وارننگ دیتا چلایا تھا ۔شانزے بری طرح چونکی تھی ۔اسکا ہاتھ لرزا تھا ۔شو پیس گرنے ہی لگا تھا جسے اس نے دونوں بازو جوڑ کر خود سے لگاتے زمین پر سجده ریز ہونے سے بچایا تھا ۔میسم کا اٹکا سانس بحال ہوا تھا ۔شانزے نے بھی آنکھیں میچ کر پر سکون سانس خارج کرتے احتیاط سے اسے ہاتھ میں لیا تھا ۔واپس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر وہ شکایتی نظروں سے اسے گھور کر ره گئی ۔
“ابھی آپ کی وجہ سے ٹوٹ جانا تھا ۔”میسم چلتا ہوا آگے آیا تھا ۔
“میں ڈر گیا تھا کہیں اپنی چس کے چکر میں تم ایک بار پھر اس پر ظلم نہ ڈھا دو ۔شیریں بتارہی تھی بڑی مشکل سے ملا ہے ۔”وہ مسکرا کر اسے چھیڑ رہا تھا ۔شانزے کو بھی ہنسی آئی تھی جسے اس نے روکا تک نہ تھا ۔کل رات کی دلی کدورت منٹوں میں زائل ہوئی تھی ۔وہ آج کل انہیں متضاد كیفیات کا شکار تھی ۔
“اب کہاں کچھ توڑتی ہوں میں ۔دیکھیں کتنے مہینے ہوئے کوئی ایک بھی چیز توڑی اس کمرے کی میں نے ؟۔بلکہ وہ بک ریگ پر رکھے شو پیس بھی میں لائی تھی ۔”اس نے بک ریک کے اوپر رکھے سمندری رنگ کے نیلے کرسٹل کے دو ہنسوں کے جوڑے کی طرف اشارہ کرتے جتایا تھا ۔
“توڑے بھی تو کتنے ہیں ۔اور ان میں سے کہیں تو ایسے تھے جو میں نے بچپن میں اپنی پا کٹ منی میں سے خریدے تھے ۔کتنی ظالم تھی تم یار بے جان چیزوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بناتی رہی ہو ۔میرا تو دل ہی توڑ دیا تھا تم نے جب میں واپس آیا تھا اور آگے کمرے کا صفایا ہو چکا تھا ۔”بیڈ پر بیٹھتا وہ اسکی جانب دیکھ افسوس سے گردن ہلا رہا تھا ۔
“چہ چہ چہ میسم عبّاس صاحب ۔آپکا دل تو بڑا نازک واقع ہوا ہے ذرا ذرا سی بات پر ٹوٹ جاتا ہے ۔کہیں تو ایلفی لا کر جوڑ دوں ؟”ابرو اچکا کر ہنسی دبائے وہ سینے پر ہاتھ باندھے کھڑی تھی ۔میسم نے لو دیتی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا ۔ہاتھ بڑھا کر اسکا بازو تھاما ،اگلے لمحے ایک جھٹکے سے وہ اسکے پہلو میں بیٹھی تھی ۔
“ایلفی کی کیا ضرورت ہے تم اپنی محبت سے جوڑ دو ۔”اسکی طرف جھک کر گردن ترچھی کیے میسم کی گھمبیر آواز اور جذبوں سے بوجھل لہجہ کان کے پیچھے بال اڑستی شانزے کی سٹی گم کر گئے تھے ۔تھوک نگل کر اس نے اپنے دل کی غیر ہوتی دھڑکن کو اپنے کانوں میں دھڑکتے سنا تھا ۔
“پھر کیا کہتی ہو ؟”اسکے خموشی سے نظریں چرانے پر میسم نے دلچسپی سے اسکے چہرے پر بکھرے رنگوں کو دیکھا تھا ۔ویسے تو وہ بڑی توپ چیز تھی مگر اسکے ذرا سے لطیف جملے اور پیش رفت پر بھیگی بلی بن جاتی تھی ۔اسکا شرمانا ،نظریں چرانا میسم کے لیے انوکھا سا احساس تھا ۔خوش کن ،دل کو لبهانے والا ۔
“تم کچھ بول نہیں رہی ۔کچھ تو کہو ۔ویسے تو زبان کے آگے خندق ہے تمہارے اب بھی کچھ بول دو منہ سے ۔”اپنا شانہ اسکے شانے سے ٹکراتے وہ اسے اکسا رہا تھا ۔اسکے طنز کرنے جیسے انداز پر شانزے نے ساری شرم و حیا کو ذرا سائیڈ پر کر کے کینہ پرور نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔
“مجال ہے جو کبھی مجھے سامنے دیکھ کر آپ کے منہ سے کچھ اچھا نکلا ہو میسم ۔دوسروں کے شوہر ہوتے ہیں اتنی پیاری بیوی سامنے ہو تو منہ سے اتنی خوب صورت رومینٹک باتیں جھڑتی ہیں کہ بیوی کا دل باغ باغ ہو جائے اور ایک آپ ہیں جب بھی بولیں گے طنز کے نشتر ہی برستے ہیں ۔”وہ ایک بار پھر اپنی جون میں واپس آ چکی تھی ۔
“تو تم چاہتی ہو میں تم سے رومینٹک باتیں کروں ؟”سر ہلا کر سمجھنے کے سے انداز میں وہ بولا تو شانزے کا منہ کھلا ۔خفیف سی ہو کر اس نے پہلو بدلا تھا ۔جذبات میں آ کر اس نے غلط پتہ کھیل دیا تھا شاید ۔
“نہیں میں نے ایسا تو کچھ نہیں کہا ۔”گڑبڑا کر وضاحت کی ۔
“لیکن ابھی میں نے ایسا ہی سنا شانزے ۔”اسکے معصوم بن کر کہنے پر وہ تپ سی گئی تھی ۔
“آج کل آپ کچھ زیادہ ہی سننے لگے ہیں میسم ۔میری ماما کو خواہ مخواہ آپ بڑے سلجھے ہوئے اور شریف سے لگتے ہیں ۔آپکا نام میسم نہیں میسنا ہونا چاہیے تھا ۔میں تایا ابو سے شکایت کروں گی انہوں نے آپ کے نام کے ساتھ اتنی بڑی زيادتی کیوں کی ۔”چڑ کر تیز تیز بولتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔جب ہنستا ہوا میسم بھی ساتھ ہی تیزی سے کھڑا ہوا تھا ۔
“تم جو بھی کہہ لو اب مگر میں تمہاری یہ حسرت پوری کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔کل کو تم ابو سے میری یہ شکایت بھی لگا سکتی ہو کہ آپ کے بیٹے نے کبھی مجھ سے رومینس ہی نہیں کیا ۔اور میں تو ویسے بھی انکی نظروں میں آیا رہتا ہوں تم شکوہ کرو گی تو میری خیر نہیں پھر ۔”وہ اب صرف اسے تنگ کرنے کا ارادہ کیے ہوئے تھا ۔اپنے دونوں ہاتھ اسکی کمر کے گرد باندھے وہ سنجیده سا لگتا تھا ۔شانزے نے روہانسی ہو کر اسکی طرف دیکھا تھا ۔
“توبہ توبہ ۔۔۔۔ایسی لگتی ہوں میں آپ کو ؟تایا ابو سے ایسی بات کہوں گی جا کر میں تاکہ ماما میرا اپنے ہاتھوں سے گلا دبا دیں ۔”
اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتے وہ پر شکوہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔میسم نے اسکی شکل دیکھ کر قہقہہ لگایا تھا ۔پھر آگے کو جھک کر اسکی پیشانی چوم ڈالی تھی ۔
“اب تم ٹھیک لگ رہی ہو ۔”نرمی سے اسے خود سے لگاتے اگلے لمحے وہ اس سے فاصلے پر ہو گیا تھا ۔
“باہر آ جاؤ اب ۔علی اور شیریں نکلنے لگے ہیں ۔”کہتا ہوا وہ واپس مڑ گیا تھا ۔ہلکے ہوتے دل کے ساتھ وہ مسکرا دی تھی ۔دو حصوں میں بٹا دل پھر سے جڑنے لگا تھا ۔ایک ہونے لگا تھا جس میں میسم عبّاس کے لئے اس لمحے میں کوئی بدگمانی ،کوئی کدورت نہیں تھی ۔وہ اسے محبت کا نام نہیں دینا چاہتی تھی مگر کوئی اچھوتا سا احساس ضرور تھا جو اسکے دل کو جکڑ رہا تھا ۔میسم سے باندھ رہا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
پھر یوں ہوا کہ بہت سی لامعنی سوچوں کے در شانزے نے خود پر بند کر دیا تھا ۔سبرینہ کی باتیں بھی ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتی تھی ۔وہ خوش تھی ۔محمود آفندی اور صائمہ ان دونوں کو ایک ساتھ خوش دیکھ کر نہال تھے ۔محمود آ فندی کو اپنے فیصلے پر اطمینان سا ہو گیا تھا ۔شانزے اور میسم دونوں کے حق میں انکا فیصلہ درست ثابت ہوا تھا ۔
سب ٹھیک جا رہا تھا جب اچانک شانزے کے رویے میں غیر محسوس انداز میں بدلاؤ سا آنے لگا تھا ۔وہ کچھ بجهی بجهی سی رہنے لگی تھی ۔میسم سے ٹھیک سے بات بھی نہیں کر رہی تھی ۔ہر وقت کھوئی کھوئی سی رہتی تھی ۔میسم اس سے پوچھ پوچھ کر تھک گیا تھا مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔
اس شام وہ جلدی آفس سے واپس آ گیا تھا ۔صائمہ نے بتایا تھا شانزے گھر پر نہیں ہے ۔اپنی دوست سے ملنے گئی ہے ۔حیران کن بات یہ تھی وہ اسے بتا کر نہیں گئی تھی ۔ورنہ کچھ ماہ سے وہ سبرینہ کے ساتھ مارکیٹ بھی جاتی تو اسے کال یا میسج کر کے بتاتی ضرور تھی ۔میسم وہیں لاؤنج میں ٹی وی کے آگے بیٹھ گیا تھا جب تھکی ہوئی سی وہ چہرے پر پریشانی کے تاثرات لئے اندر داخل ہوئی تھی ۔اسے دیکھ کر لمحہ بھر کو وہ ٹھٹک کر رک سی گئی تھی ۔رنگت میں ہلکا سا تغیر بھی برپا ہوا تھا ۔ہاتھ کی گرفت شولڈر بیگ پر سخت ہوئی تھی ۔پھر وہ سنبھل کر آگے بڑھی تھی ۔
“کہاں گئی تھی شانزے ؟”اسکے آہستگی سے دیے سلام کا سر ہلا کر جواب دیتے میسم نے وہیں بیٹھے اس کو بغور دیکھتے پوچھا تھا ۔وہ اسکے پاس سے گزرتی رک گئی تھی ۔
“اپنی دوست کی طرف ۔ماما کو بتا کر گئی تھی ۔”بنا اسکی طرف دیکھے وہ آہستگی سے بولتی آگے بڑھ گئی تھی ۔
میسم نے گردن موڑ کر اسے دیکھا تھا ۔اسکے چہرے پر سوچ کے گہرے سائے امڈ آئے تھے ۔
اور کچھ دن بعد اسکے مبہم سے رویے کا راز بھی کھل گیا تھا ۔محمود آ فندی کی میڈیسنز لانی تھیں ۔جن کا تحریری نسخہ شانزے کے پاس تھا ۔وہ اور صائمہ دونوں ہی سبرینہ کی طرف گئی ہوئی تھیں ۔میسم نے اسکا بیگ چیک کیا تھا کہ اس کے سامنے شانزے نے نسخہ بیگ میں رکھا تھا ۔اور اندر سے جو برآمد ہوا تھا اسے دیکھ کر انکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی ره گئی تھیں ۔وہ پریگننسی ٹیسٹ کی پازیٹو رپورٹ تھی جو آج سے آٹھ دن پہلے کی تھی ۔میسم کا دماغ بھک سے اڑا تھا ۔پچھلے کہیں دن سے شانزے کا اکھڑا اکھڑا انداز اب اسکی سمجھ میں آ رہا تھا ۔وہ دس سال پیچھے چلا گیا تھا تب بھی تو ایسا ہی ہوا تھا ۔
شانزے کمرے میں داخل ہوئی تو وہ پہلے سے وہیں موجود تھا ۔اسے ایک نظر دیکھ کر ہی وہ اپنی جگہ دہل گئی تھی ۔سرخ ہوتی آنکھوں میں سرد مہری کی رمق بڑی واضح تھی ۔چہرے پر سنجیدگی کے ساتھ دبا دبا سا غصہ بھی تھا ۔بھینچے ہوئے جبڑے اور گردن کی پھولی ہوئی رگ اسے خوفزدہ کر رہے تھے ۔اس نے میسم کو ایسے صرف ایک بار دیکھا تھا ۔دس سال پہلے مگر وہ لمحے اسے آج بھی یوں ازبر تھے کہ وہ ایک نظر میں ہی اسکے غیض و غضب کو بھانپ گئی تھی ۔کمرے میں داخل ہوتے اسے اپنی ٹانگیں بے جان لگی تھیں ۔وہیں پاس ہی دیوار کا سہارا لئے وہ زرد رنگت کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی جو اب قدم قدم چلتا اس تک آیا تھا ۔اس کے ہاتھ میں موجود لفافے کے اوپر ہوسپٹل کا نام بڑا واضح لکھا ہوا تھا ۔شانزے کو اپنی سانس رک رک کر چلتی محسوس ہوئی تھی ۔آنکھوں میں کچھ بھرتا چلا گیا تھا جو نمی بن کر آنکھیں ڈبڈبا گیا تھا ۔اتنی کہ آنسو گال پر بہنے لگے تھے ۔
“مجھ سے کیوں چھپایا ؟”وہ قہر آلود نظروں سے اسے دیکھتا بھینچے جبڑوں کے ساتھ سرد آواز میں پوچھ رہا تھا ۔سامنے کھڑی شانزے کارنگ فق ہو چکا تھا ۔خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے اس نے اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو گلے میں گھلتا محسوس کیا تھا ۔
“کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے مجھے کیوں نہیں بتایا ؟”اسے اتنا غصے میں دیکھ اسکی سانس خشک ہونے لگی تھی ۔گلے سے دبی دبی چینخ برآمد ہوئی ۔
“تمہیں یہ بچہ نہیں چاہیے ۔تم مارنا چاہتی ہو اسے ؟”وہ شک بھری نظروں سے اسے دیکھتا جیسے کہیں اور پہنچا ہوا تھا ۔منظر وہی تھا ،وہ بھی وہی تھا بس سامنے کھڑا چہرہ بدل گیا تھا ۔شانزے بے یقینی سے دنگ کھڑی اسے دیکھتی ره گئی ۔اسکا وجود اب ہولے ہولے لرزنے لگا تھا ۔
“بولو اب ۔۔۔۔بول کیوں نہیں رہی ڈیم اٹ ۔”سلگتی آواز میں وہ چینخا تھا ۔
“آپ اسے بھی مار دیتے ۔”آنکھیں میچ کر خوف سے پیلی پڑتی وہ گھٹی ہوئی آواز میں کہتی اسے ششدر چھوڑ گئی تھی ۔اپنی جگہ جہاں کا تہاں کھڑا وہ برف کا مجسمہ بنا تھا ۔یخ ٹھنڈی مگر جلا دینے والی برف ۔آنکھوں سے لپکتی غصے کی چنگاریوں میں کرب کی سیاہی گھلتی انھیں ویران کر گئی تھی ۔دبا دبا گھٹن آمیز سانس خارج کرتے وہ دھیرے سے سیدھا ہوا تھا ۔ایک طویل خاموشی تھی جو فضا میں افسردگی سے پھیلتی چلی گئی ۔چہرے پر ایک آنسو کی کھچتی لکیر کے ساتھ وہ رک رک کر سانس لیتی ابھی بھی آنکھیں بند کیے ہوئے تھی ۔
“میں سانپ ہوں جو اپنا ہی بچہ کھا جاتا ؟”وہ آواز کس قدر بے جان سی معلوم ہوتی تھی ۔وہ جو اسکے غضبناک ہونے کی منتظر تھی ۔اسکی گھن گرج کے لئے خود کو تیار کیے بیٹھی تھی ۔آہستگی سے آنکھیں کھول کر ڈرتے ہوئے اسکی جانب دیکھنے لگی جس کی سرسراتی آواز میں گلہ تھا تو چہرے پر بے پناہ غم و غصے کی پرچھائیاں ۔مگر کچھ اور بھی تھا وہاں وہ جانچ نہیں پا رہی تھی ۔وہ صدمے کی کیفیت تھی ۔جیسے اسے امید نہ ہو وہ یہ کہے گی ۔
شانزے روتے ہوئے وہیں زمین پر بیٹھتی گئی ۔سامنے کھڑے میسم نے ایک قدم بھی پیچھے نہیں کیا تھا یہاں تک کہ شانزے کے گھٹنے میسم کے لیدر کے سلیپرز میں مقید پاؤں کو چھونے لگے تھے ۔
“آپ نے پہلے بھی تو ایسے ہی کیا تھا فریحہ بھابھی کے ساتھ ۔ان کا بے بی بھی مار دیا تھا آپ نے ۔میرے بے بی کے لئے ایسا سوچئے گا بھی مت ۔”وہیں گھٹنوں پر سر رکھتے وہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ بول رہی تھی اور میسم عباس کا چہرہ ہر گزرتے پل سفید لٹھے کی مانند پڑتا جا رہا تھا ۔بے حس و حرکت ،بنا کسی جنبش کے وہ کتنی دیر کھڑا رہا تھا ۔خاموش اور سپاٹ چہرہ لئے ۔آنکھوں کی لالی میں خطرناک حد تک ہوا تھا ۔کمرے میں اب صرف شانزے کی دبی دبی سسکیاں گونج رہی تھیں ۔بہت دیر بعد وہ اسکے سامنے سے برق رفتاری سے ہٹتا واش روم میں بند ہو گیا تھا ۔
شانزے گھٹنوں پر سر رکھے بنا چہرہ اٹھا کر اسے دیکھے یوں ہی بیٹھی رہی تھی ۔
اس دن کے بعد سے ایک سرد سی جنگ تھی جو ان دونوں کے درمیان چھڑ گئی تھی ۔کچھ باتوں کا ان کہا رہنا بھی ضروری ہوتا ہے ۔کہہ دینے سے بھرم کھو جاتا ہے ۔ان دونوں کے درمیان رشتے کا بھی جیسے بھرم سا کھو گیا تھا ۔میسم بالکل خاموش ہو گیا تھا۔کمرے کے اندر ہوتے وہ اسے یوں نظر انداز کر دیتا جیسے اس نے سرے سے اسے دیکھا ہی نہ ہو ۔اپنے کسی کام تک کے لیے وہ اس سے مخاطب نہیں ہو رہا تھا تو اس خلیج کو پر کرنے کی کوشش شانزے نے بھی نہیں کی تھی ۔شانزے کو موہوم سی امید تھی کہ شاید وہ اس سے اعتراف کر لے گا ۔وہ اسے یقین دلانے کی کوشش کرے گا کہ ماضی میں جو غلطی اس نے کی وہ ایک بار پھر سر سرزد نہیں کرے گا ۔وہ بدل گیا ہے اور وہ اسکے اور اپنے آنے والے بچے کے ساتھ ایک نئی زندگی کی شروعات چاہتا ہے ۔دل تھا کہ اسے معاف کرنے کے بس بہانے ڈھونڈ رہا تھا اور دماغ تھا کہ بار بار سرزنش کر رہا تھا ۔
وہ نہیں بدلا تھا ۔سبرینہ کے اس کو لے کر سارے خدشات درست تھے ۔اسکی ساری اچھائی صرف ایک ڈرامہ تھی ۔ان دو یکسر الٹ کیفیات کے درمیان جھولتے وہ تھکنے لگی تھی ۔میسم کی ایک بار پھر سے مجرمانہ خموشی اسے اس سے متنفر کر گئی تھی ۔
محمود اور صائمہ کے سامنے بالکل نارمل بیہیو کرتے ان دونوں کے درمیان کچھ بھی نارمل نہیں رہا تھا ۔میسم کی مصروفیات یک لخت بڑھ گئی تھیں یا اس نے خود بڑھا لی تھیں ۔مگر ایسا ہوا تھا وہ گھر سے زیادہ دیر تک غائب رہنے لگا تھا ۔
اور انکے رشتے کی بڑھتی دراڑوں میں آخری شگاف اس دن پڑا تھا جو محمود اور صائمہ کے سامنے بھی ان دونوں کا بھرم لے ڈوبا تھا ۔
صبح ناشتے کی ٹیبل پر صائمہ میسم سے اسکی مصروفیت کا گلہ کر رہی تھیں جس کے جواب میں اس نے بتایا تھا آج کل وہ حقیقتاً بزی ہے کچھ دن تک روٹین پہلے جیسی ہو جائے گی ۔شانزے نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا تک نہ تھا وہ یوں ہی بیٹھی رہی تھی ۔میسم کے علم ہو جانے کے بعد اس نے صائمہ کو بھی اس خوش خبری کا بتا دیا تھا ۔گھر میں خوشی کی اک نئی لہر سی دوڑ اٹھی تھی ۔کراچی سے شیریں کی کال بھی آئی تھی وہ بے حد خوش تھی ۔سب ھی اپنی خوشی کا جی بھر کے اظہار کر رہے تھے ۔اور تو اور سبرینہ نے بھی اسے مبارکباد دی تھی ۔بس ایک وہی تھا جو کچھ بھی کہنے پر آمادہ نہیں تھا ۔شانزے کا دل کچھ اور دھواں دھواں ہونے لگا تھا ۔صد شکر مژدگی اور بے زاری بھر ی کیفیت کو اسکی حالت سے جوڑا جا رہا تھا یوں وہ بہت سے سوالوں کی زد میں آنے سے بچ گئی تھی ۔
اس دن سبرینہ آئی تھی ۔اسے مارکیٹ جانا تھا اپنے ساتھ ساتھ وہ شانزے کو بھی گهسیٹ لائی تھی ۔سبرینہ اپنے لئے کپڑے دیکھ رہی تھی اور وہ بے دلی سے یہاں وہاں نظر دوڑا رہی تھی جب اسکی نظر سامنے والی لیڈیز کاسٹیوم کی آؤٹ لٹ پر پڑی تھی اور پھر پلٹنا بھول گئی تھی ۔دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے مسکراتا ہوا وہ میسم ھی تھا جو ساتھ کھڑی گولڈن رنگ کے باب کٹ بالوں والی اس لڑکی کے ہنس کر کہی کوئی بات سنتا اس کے دکھائے ڈریس کو دیکھ رہا تھا ۔شانزے کے اندر دور کہیں چھناکے سے کچھ ٹوٹا تھا اور بری طرح ٹوٹا تھا ۔سبرینہ جو ایک کرتا دکھانے اس تک آئی تھی اسے یوں بت بنا دیکھ کر اس کی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھا تھا ۔کچھ حیرانگی سے دیکھتے اسکی آنکھوں میں استہزائی رنگ امڈ آئے تھے ۔
“نظر رکھو اپنے شوہر پر شانزے ۔کہیں ایک بار پھر سے وہ کوئی نیا جزیره دریافت کرنے نہ نکل پڑا ہو ۔”سر جھٹک کر تلخی سے کہتی وہ واپس مڑ گئی تھی مگر شانزے کے دل میں اک آگ سی سلگا گئی تھی ۔جس کی لپیٹ میں ہر چیز آتی گئی تھی ۔
