Man Mehram by Umme Abbas NovelR50604 Man Mehram (Episode 06)
Rate this Novel
Man Mehram (Episode 06)
Man Mehram by Umme Abbas
جی نہیں میں لڑکی ہوں ۔اگلی بار عورت کہنے سے اجتناب کیجئے گا ۔”نظریں چرا کر اپنی نروس ہوتی حالت پر قابو پاتے وہ چٹخ کر بولی تھی ۔اسکی ایک گہری نظر سے ہی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ سی گئی تھیں ۔میسم کا قہقہہ سن کر وہ حیران نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگی تھی ۔جو شیڈز ایک ہاتھ میں پکڑے کہنی اسٹئیرنگ پر جمائے ہوئے گردن پیچھے کی جانب پهینک کر دل کھول کر ہنسا تھا ۔شانزے نے کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں اسے پہلی بار یوں کھلکھلا کر ہنستے دیکھا تھا ورنہ اسکے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بھی بھولے بسرے سے نمودار ہوتی تھی ۔نظریں چراتے ہوئے اس نے سوچا تھا اچھا ہی تھا جو وہ کم کم ہنستا تھا پھر اپنی سوچ پر خود ہی جھرجهری سی لی تھی ۔شاید اسکے دماغی پرزے واقع ہی ہل سے گئے تھے ۔تبھی وہ اسے دیکھ کر اوٹ پٹانگ سوچ رہی تھی ۔
“ایک بات تو بتاؤ یہ تم “عورتوں” کو اپنی جنس سے مسئله کیا ہوتا ہے ؟کوئی کمپلیکس ہے کیا ؟عورت کہلوانے پر مزاج یوں برہم کیوں ہونے لگتے ہیں ؟تم کسی بارہ تیرا سالہ بچے کو بھی مرد کہہ کر پکارو گی نا تو فخر سے سینہ ٹھونک کر اترائے گا اور ذرا جو پینتیس چالیس سالہ خاتون کو بھی عورت کہہ دو تو بدلے میں یوں لڑنے کو تیار ہو جاتی ہیں جیسے خدا نخواستہ انکی شان میں کوئی گستاخی سرزد کر دی گئی ہو ۔میری مانو تو آج موقع اچھا ہے نادرا والوں کے آفس دھرنا دے کر بیٹھ جانا ۔وہ کیوں جنس کے خانے میں عورت لکھتے ہیں لڑکی بھی تو لکھا جا سکتا ہے ۔کہو اس سے ہم عورتوں اوہ سوری لڑکیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے ۔اپنی ہمنوا ساری خواتین کو ساتھ ملا کر ایک ملک گیر تحریک چلاؤ کہ حکومت وقت پریشان ہو کر عورت کی جگہ لڑکی کی اصطلاح استعمال کرنے پر مجبور ہو جائے ۔”اس جیسے سنجیده اور کم گو بندے کے منہ سے اتنی لمبی اور کچھ کچھ مزاح کا رنگ لئے بات سن کر اس کے ہونٹوں پر بھی بڑی دلفریب مسکراہٹ نمؤدار ہوئی تھی ۔
“ہم لڑکیاں اس معاملے میں ذرا ٹچی ہوتی ہیں ۔احتیاط کیا کریں آپ مرد حضرات ۔”کہہ کر وہ باہر نکل گئی تھی یہاں تک کہ وہ اسے روک بھی نہیں پایا تھا ۔پاس سے اکا دکا گاڑیاں نکل رہی تھیں ۔وہ فٹ پاتھ پر چلتی دور ہوتی جا رہی تھی ۔میسم کو بھی گاڑی سے نکل کر اسکے پیچھے جانا پڑا تھا ۔اسکے پاس جانے پر بھی اسے لگا تھا وہ بلی کا بچہ اٹھ کر بھاگ جائے گا ۔مگر حیرت انگیز طور پر وہ وہیں بیٹھا رہا تھا ۔شانزے اسکے پاس بیٹھی تو اس نے احتجاجاً غرا کر اسے اپنے پاس آنے سے باز رکھنا چاہا تھا ۔
“شانزے دیر ہو رہی ہے ؟”ریسٹ واچ دیکھتے ہوئے میسم نے اسے احساس دلانا چاہا تھا ۔
“ایک منٹ ۔”ہاتھ بڑھا کر بلی کا بچہ اٹھاتے اسے شدید جھٹکا لگا تھا اسکی پچھلی ٹانگ کا ایک حصہ بری طرح سے گھائل تھا جس کے بل وہ بیٹھی ہوئی تھی تبھی وہ نظر نہیں آ رہا تھا ۔پنجھے کے اوپر سے گوشت اتر چکا تھا نیچے سے ہڈی نظر آ رہی تھی ۔اسکا کسی گاڑی سے ایکسیڈنٹ ہوا تھا شاید ۔
“میسم یہ زخمی ہے ۔”تڑپ کر اسے دونوں ہاتھوں میں لیتے وہ تیز تیز بولی تھی ۔میسم نے ذرا آگے جھک کر اسے دیکھا تھا ۔وہ بلی کا بچہ اب شاید اس سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کر رہا تھا تبھی آنکھیں موند کر چپ ہو گیا تھا ۔
“پتہ نہیں لوگ گاڑیاں دھیان سے کیوں نہیں ڈرائیو کرتے معصوم جانور کچلے جاتے ہیں انکی لاپرواہیوں کی وجہ سے ۔ میرے بس میں ہونا تو اتنی سخت سزا دوں کہ آئندہ ساری زندگی یاد رکھیں ۔”آنکھوں میں تیرتی نمی کے ساتھ وہ اٹھ کر اسکی طرف مڑتی وہ غم و غصے کا بیک وقت شکار شکوہ کر رہی تھی ۔میسم نے بے یقین نظروں سے اسے دیکھا تھا یہ دوسری بار تھا جب اس نے اپنے پل پل بدلتے رنگوں سے اسے حیران کیا تھا ۔ایک بار جب اس نے اسے شو پیس توڑتے دیکھا تھا تب اور دوسری بار آج ۔
“میں اسے ساتھ لے کر جاؤں گی ۔”ضدی لہجے میں وہ پوچھ نہیں بتا رہی تھی ۔میسم چونک کر اپنی نگاہ بمشکل اسکے چہرے پر سے ہٹاتا بنا کچھ کہے پلٹ گیا تھا ۔وہ بھی اسے احتیاط سے اٹھائے اس کے پیچھے چل دی تھی ۔
نادرا آفس بھی وہ بڑی مشکل سے اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈال کر جانے پر تیار ہوئی تھی ۔وہاں سے فارغ ہو کر اس نے میسم کو جانوروں کا کوئی کلینک ڈھونڈنے میں خوب خوار کیا تھا ۔بلا آخر بلی کے بچے کی مرهم پٹی اور دوا لے کر وہ لوگ شام کے ڈھلتے سائے کے ساتھ گھر واپس آئے تھے ۔صائمہ اسے بلی کے بچے کے ساتھ دیکھ کر بدک گئی تھیں ۔انہیں کسی صورت اپنے گھر کے اندر کوئی جانور نہیں چاہیے تھا ۔
“اچھا میں اسے اپنے گھر میں رکھ لوں گی ۔آپ کے گھر نہیں رکھتی ۔”منت سماجت کے بعد بھی صائمہ کو رضا مند نہ دیکھ کر وہ تنک کر کہتی اوپر والے پورشن کی جانب بڑھی تھی ۔لاؤنج میں بیٹھے محمود آفندی کا بیٹی کا انداز دیکھ کر قہقہہ پڑا تھا ۔پاس بیٹھے میسم نے چائے کا کپ لبوں سے لگاتے دلچسپ نظروں سے سارا منظر دیکھا تھا ۔
“خبر دار شانزے جو اسے اوپر بھی لے کر گئی تم تو ۔”صائمہ وہیں سے دهاڑیں ۔
“ما ما ۔”سیڑھیوں پر کھڑی وہ احتجاج کرتی مڑی تھی ۔
“ارے بیگم کیوں تنگ کر رہی ہیں میری بیٹی کو ۔”بلا آخر بیٹی کی اتری صورت دیکھ کر محمود صاحب نے مداخلت کی تھی ۔بیٹی کے چہرے پر کچھ اور بھی مسکینیت ٹپکی تھی ۔
“آپ بالکل اسکی حمایت میں مت بولئے گا محمود صاحب ۔میں اپنے گھر میں کسی کتے بلے کو برداشت نہیں کروں گی ۔یاد ہے نا آپ کو بچپن میں بھی ایسے ہی ایک بلی کا بچہ اٹھا لائی تھی یہ ۔اور کیسے وہ سارے گھر میں گند کرتا رہتا تھا ۔بس میں نے کہہ دیا تو کہہ دیا ۔میرے گھر میں یہ سب نہیں چلے گا ۔”انکا انداز بالکل دو ٹوک تھا ۔محمود آفندی نے بے بسی سے کندھے اچکا کر بیٹی کو دیکھا تھا جس کی مایوس آنکھوں میں کوئی بجلی سی کوندی تھی ۔
“اچھا ٹھیک ہے ماما آپ کو اسے گھر کے اندر رکھنے پر اعتراض ہے نا ہم اسے باہر لان میں رکھ لیں گے پلیز اب تو مان جائیں ۔دیکھیں یہ بے چارہ زخمی بھی ہے کہاں جائے گا ۔آپ اسے اپنے ہاں رہنے کی اجازت دے دیں گی تو آپ کو دعائیں ہی دے گا پلیز میری پیاری ماما ۔”
اس کے لجاحت بھرے انداز پر صائمہ نے ہار مانتے اسے دیکھا تھا ۔
“ایک نمبر کی ڈھیٹ ہو تم ۔کرو جو کرنا ہے مگر اگر یہ گھر کے اندر مجھے دکھائی دیا تو اسی وقت میں اسے گھر سے باہر پهینک آؤں گی ۔”اسے وارننگ دیتے ہوئے وہ وہاں سے چلی گئی تھیں ۔
“بلے بھئی بلے ۔ہم ہو گئے کامیاب ۔”انکے نظروں سے اوجهل ہوتے ہی اس نے بھنگڑے کے سے انداز میں ایک ہاتھ ہوا میں لہراتے ،دوسرے میں نیا مہمان تھامے شرارت بھری فاتحانہ مسکراہٹ محمود آفندی کی جانب اچھالی تھی جو خود بھی ہنس رہے تھے ۔
خود میں مگن اسکی نگاہ اپنی جانب پر شوق نظروں سے دیکھتے میسم پر پڑی تھی جو بڑی فرصت سے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔خفیف سی ہو کر وہ ہوا میں بلند ہاتھ پہلو میں گرا گئی تھی ۔
میں اس کے ٹھکانے کا کچھ بندوبست کر لوں ۔”محمود آفندی سےکہتے ہوئے وہ اسے نظر انداز کرتے باہر کی جانب بڑھ گئی تھی ۔اس شام اس نے کچن کا کوئی بھی کام کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا ۔رات ہونے سے پہلے وہ اس نئے مہمان کے لئے گھر کے لان میں دیوار کے ساتھ چھوٹا سا آشیانہ بنانے میں کامیاب ہو چکی تھی ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
موسم بدل رہا تھا لہذا اس دن صبح صبح ہی سبرینہ آ گئی تھی ۔انہیں شاپنگ کے لئے جانا تھا ۔صائمہ نے صاف انکار کر دیا تھا جانے سے ۔ایسے میں وہ دونوں بہنیں صبح دس بجے کی جو نکلی تھیں تو شام کو واپس گھر لوٹی تھیں ۔وہیں لاؤنج میں شاپنگ بیگز رکھے وہ اب اب خریداری صائمہ کو دکھا رہی تھیں ۔محمود آفندی گھر پر نہیں تھے ۔سبرینہ نے اپنے اور شایان کے لئے بہت کچھ لیا تھا وہیں ماں باپ کے لئے بھی گرم شال اور سوئیٹر لیا تھا ۔شانزے نے بھی ان دونوں کے لئے کپڑے لئے تھے ۔اپنے لئے بھی سردیوں کی مناسبت سے اس نے کافی چیزیں لی تھیں ۔
“میسم کے لئے بھی کچھ لے آتی شانزے ؟”انکی لائی ہر چیز دیکھنے کے بعد انہوں نے نرمی سے کہا تھا تو سبرینہ یکسر لاتعلق بن گئی تھی ۔شانزے نے چیزیں سمیٹتے ہاتھ روک کر ہونق پن سے ماں کی جانب دیکھا تھا ۔
“وہ ۔۔۔۔مجھے آئیڈیا نہیں تھا امی انہیں کیا پسند آئے گا کیا نہیں اس لئے کچھ نہیں لیا ۔”نظریں چرا کر جھوٹ بولا تھا حالانکہ اسے ایک بار بھی وہاں چیزیں خریدتے اسکا خیال نہیں آیا تھا ۔حتی کہ شایان کی چیزیں خریدتے سبرینہ جب اسکی رائے لیتی تو بھی اسکا دھیان میسم کی طرف نہیں گیا تھا ۔
“تو بیٹا اپنی پسند سے ہی کچھ لے آتی ۔سبرینہ تم ہی بہن کو کہہ دیتی بیٹا ۔”انکے ایک دم سے کہنے پر سبرینہ نے برا سا منہ بنایا تھا ۔
“اب ماما میں کیا کہتی ۔اسکا شوہر ہے اسے کچھ لینا ہوتا تو خود لے لیتی ۔”کندھے اچکا کر لاپرواہی سے کہتے اس نے بات ہی ختم کر دی تھی ۔تبھی میسم اندر آتا دکھائی دیا تھا ۔انکے پاس سے گزرتے سلام کیا تھا ۔ایک سرسری سی نظر اس پھیلاوے پر ڈالی تھی ۔
“وعلیکم سلام جیتے رہو ۔آ گئے بیٹا ۔”صائمہ کی خوش مزاجی اس سے بات کرتے دیکھنے لائق ہوتی تھی ۔انکے لب و لہجے میں اس کے لئے کتنی اپنائیت ہوتی تھی گود میں رکھے جوڑے پر سے نظر اٹھا کر سبرینہ نے کلس کر ماں کو دیکھا تھا ۔
“جی ۔”ہلکا سا مسکراتا وہ اوپر کی جانب چلا گیا تھا ۔
“اس کا كلر اچھا ہے ۔”سبرینہ سر جھٹک کر دوبارہ اپنے شغل میں مصروف ہوتی شانزے سے کہہ رہی تھی اور وہ اسکے ہاتھ میں پکڑے کپڑوں کو دیکھ کر کچھ کہہ رہی تھی ۔صائمہ نے بڑی مشکل سے ضبط کرتے بیٹی کو دیکھا تھا ۔کچھ دیر انتظار کیا تھا مگر پھر انہیں بولنا پڑا تھا ۔
“شانزے میسم آیا ہے جاؤ جا کر پہلے اسے دیکھو ۔یہ سب یہی ہے کہیں بھاگا نہیں جا رہا ۔”انہوں نے ذرا سختی دکھائی تھی ۔
“تو ماما وہ کون سا کہیں بھاگے جا رہے ہیں ۔”سر جھٹک کر بے دھیانی میں اسکے منہ سے نکلا تھا اور اسکے ساتھ ہی سبرینہ کی ہنسی چھوٹ گئی تھی ۔صائمہ کے باری باری دونوں بیٹیوں کو خشمگیں نظروں سے دیکھا ۔
“شاباش ہے بیٹا ۔یہ تو حال ہے تمہارا ۔کپڑے کہیں نا جائیں شوہر جاتا ہے تو بھلے جائے ۔اٹھو اب اس سے پہلے کہ میرا دماغ گھومے ۔”وہ غصہ ہو رہی تھیں ۔
“جا رہی ہوں ۔”شانزے نے جھٹ سے اپنی گود سے سارا سامان سائیڈ پر رکھتے مند دلی سے کہا تھا ۔
“ماما وہ کوئی بچہ نہیں ہے جو اسکول سے آیا ہے اور شانزے اسکا یونیفارم چینج کروائے گی اور نوالے بنا کر اسکے منہ میں رکھے گی ۔”سبرینہ نے کڑھ کر مداخلت کی تھی ۔
“ایسا ہے نا سبرینہ تو پھر شایان بھی کوئی بچہ تو نہیں ہے ۔مگر اسکے آفس سے واپسی پر جب کبھی وہ یہاں آتا ہے تو تم اسے باہر پورچ میں لینے جاتی ہو ۔”بیٹی کے انداز انہیں ایک آنکھ نہیں بھائے تھے ۔تبھی وہ خود کو روک نہیں سکی تھیں فوری طور پر اسکی طبیعت صاف کی تھی ۔شانزے ان دونوں کو الجھا چھوڑ کر خود وہاں سے اٹھتی چلی گئی تھی ۔
“یہ آپ بات بے بات اس کا شایان سے مقابلہ کیوں کرنے لگتی ہیں ۔سب سمجھ آ رہا ہے مجھے ماما ابھی بھی شایان کے لئے کی گئی میری شاپنگ دیکھ کر آپ نے شانزے کو ڈانٹا ہے ۔”اپنی عادت کے مطابق وہ جلد ہی برا منا گئی تھی ۔
“میں کوئی مقابلہ نہیں کر رہی سبرینہ ۔بات کو غلط رنگ مت دو ۔میں یہ نہیں کہہ رہی تم شایان کی پرواہ کرتی ہو تو غلط کرتی ہو ۔مجھے اچھا لگتا ہے بیٹا تمہارا اسکا خیال رکھنا اسکے لئے سوچنا ۔میں تو بس شانزے کو احساس دلا نا چاہتی تھی کہ شوہر کی اہمیت سب سے پہلے آتی ہے ۔اسے ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا دھیان رکھنا چاہیے ۔اور تم اسکی بڑی بہن ہو ۔اسکی غلطیوں پر اسے سمجھایا کرو نہ کہ حمایت کر کے اسکا دماغ اور خراب کرو ۔”
بیٹی کو نرمی سے سمجھا کر وہ بات ختم کرتے وہاں سے اٹھ گئی تھیں ۔
کمرے میں داخل ہوتے وہ میسم کی طرف آئی جو اپنے کپڑے وارڈروب سے نکال رہا تھا ۔
آپ کو کچھ چاہیے ۔چائے ، پانی ؟”انداز جان چھڑانے جیسا تھا ۔میسم نے وارڈروب بند کرتے اسکے پھولے ہوئے چہرے کو دیکھا ۔
“چاچی نے زبردستی بھیجا ہے ؟”
“پتہ ہے تو پوچھ کیوں رہے ہیں ۔”ٹھس سے انداز میں کہنے پر میسم نے ٹھنڈی سانس خارج کی تھی ۔
“میری طرف سے تم پر کوئی حد نافذ نہیں ہے شانزے تم اپنی مرضی کی خود مالک ہو ۔اس سب کی فکر مت کیا کرو ۔”وہ آگے بڑھنے لگا تھا ۔
“مجھے کیا ضرورت ہے فکر کرنے کی ۔آپ کے بڑے سپورٹر ہیں یہاں ۔جنہیں بڑے مظلوم لگتے ہیں آپ۔اور مجھ معصوم پر حدود نافذ کی جاتی ہیں ۔ “ہاتھ سینے پر باندھ کر اس نے تپ کر کہا تھا ۔وہ رک کر اسے پھر سے دیکھنے لگا تھا ۔
“اب بتا بھی دیں یا ماما سے میری عزت افزائی کروانا چاہتے ہیں ۔مجھے سب سمجھ رہا ہے آپکا پلان ۔آپ یہی چاہتے ہیں نا کہ میرے ماما ابو کے سامنے مجھے برا بنا کر پیش کریں تاکہ وہ آپ کو معصوم اور مجھے قصور وار سمجھنے لگیں اور پھر آپ بالکل آزاد ہو کر جو چاہے کرتے پھریں میرے ساتھ ۔”نروٹھا سا لہجہ ،اکھڑے سے انداز ۔مشکوک سی آنکھوں میں بے پناہ بدگمانی ۔میسم کو خود پر رحم آیا تھا ۔
“چائے بنا لاؤ ۔”بنا اسکے کسی بھی تازہ تازہ جاری کرده الزامات کی بوجھاڑ پر کان دھرے وہ آگے بڑھ گیا تھا ۔وہ جلدی سے واپس پلٹ آئی تھی ۔
اگلی صبح ناشتے کی ٹیبل سے اٹھ کر کچن کی دہلیز پر کھڑے ہوتے وہ اپنے جانے کا بتاتے اللّه حافظ کہتا جب آگے بڑھنے لگا تو سنک میں برتن رکھتی شانزے کو اس نے کہتے سنا تھا ۔
“ماما میں میسم کو سی آف کر آؤں ۔”بتا کر وہ اسکے پیچھے آئی تھی ۔
“آپ جا رہے ہیں ؟”باہر پورچ میں پہنچ کر اس نے پیچھے مڑ کر اسے دیکھا تھا جو مصنوئی انداز میں مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی ۔
“تمہیں کیا لگ رہا ہے شانزے ؟آفس بیگ کے ساتھ صبح صبح تیار ہو کر میں جا رہا ہوں یا واپس آ رہا ہوں ۔”
وہ چڑ گیا تھا۔
“چپ کریں ۔میرا شوہر کو سی آف کرنے کا پہلا پہلا تجربہ ہے ۔پتہ نہیں بیویاں کیا کہتی ہوں گی ایسے وقت پر ۔”وہ خود زبردستی کی اس ڈیوٹی سے عاجز آئی لگتی تھی ۔چہرے کی مسکراہٹ ایک لمحے میں مفقود ہوئی تھی ۔میسم کو نا چاہتے ہوئے بھی اس پر ہنسی بھی آئی تھی اور اسکے ساتھ ساتھ ترس بھی ۔
“میں بتاؤں تمہیں ایسے موقعوں پر بیویاں کیا کہتی ہیں ؟”دو قدم اسکی طرف لیتے اسکے ذرا قریب آ کر وہ دوستانہ سی آفر کر رہا تھا ۔آنکھوں کی چمک میں اضافہ ہوا تھا ۔ہونٹوں کے کناروں میں مسکراہٹ دبی ہوئی تھی ۔
“ہاں جی آپ کو تو سب پتہ ہو گا ۔دو کو بھگتا چکے ہیں ۔تجربہ بولتا ہے بھئی ۔” اپنی ہی دھن میں سر ہلاتے اس نے کہا تھا ۔اور میسم کا جی چاہا کاش وہ اسے سی آف کرنے آئی ہی نہ ہوتی ۔
“کل سے کوئی ضرورت نہیں ہے میرے پیچھے باہر آنے کی ۔میں تمہارے سی آف کیے بغیر ہی اچھے سے چلا جاتا ہوں ۔”سر جھٹک کر وہ گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا ۔
“وہی تو ۔۔۔۔۔ماما کہتی ہیں شوہر کو باہر چھوڑنے جایا کرو ۔شوہر صاحب کہتے ہیں کوئی ضرورت نہیں ۔میں تو جیسے چابی کی گڑیا ہوں نا جدهر چابی دی جائے ادھر چل پڑا کروں ۔یہی بات ماما کے سامنے کہہ دیں تاکہ میری بھی جان چھوٹے اس مشقت سے ۔ورنہ آپکا کیا ہے ۔کہہ کر نکل جائیں گے اور پورا دن ماما کی باتیں سنوں گی میں معصوم ۔”اس کے پیچھے پیچھے چلتے وہ تیز تیز بول رہی تھی ۔جب ایک دم سے اسکے پلٹنے پر اسکی چلتی زبان کے ساتھ ساتھ قدموں کو بھی بریک لگی تھی ۔شانزے کا ماتھا اسکے سینے سے ٹھک کر کے لگا تھا ۔میسم خود بو کھلا کر اسے بازو سے پکڑ چکا تھا ۔
“اف اللّه جی !آج کا دن ہی برا ہے صبح صبح ہی سر پھوڑ دیا میرا ۔”اس نے ہاتھ ماتھے پر رکھے كراه کر کہا تھا ۔میسم نے اسکے سنبهلنے پر ہاتھ اسکے بازو سے ہٹایا ۔
“تو کس نے کہا تھا تیزگام کی سپیڈ سے میرے پیچھے پیچھے چلی آؤ ۔”اسکی جهنجهلاہٹ اب آواز میں در آئی تھی ۔
“آپ کی ہی غلطی ہے ساری ۔”سر اٹھا کر اسے موردالزام ٹھہرایا ۔میسم نے ٹھنڈی آہ بھری ۔
“تمہیں دیکھ کر مجھے یقین ہونے لگتا ہے یہ میری ہی غلطی ہے ۔”اسکے حسین چہرے پر ایک اچٹتی نگاہ ڈال اس نے کار ان لاک کی تھی ۔
“اچھا سنیں نا ؟”مسکرا کر بڑی ادا سے کہا گیا تھا ۔میسم کے ماتھے پر بل پڑے تھے ۔
“آپ جا رہے ہیں پھر ۔”آنکھیں شرارت سے ٹپٹپا کر مسکراتے ہوئے صاف لگ رہا تھا وہ اب صرف سے ٹیز کر رہی ہے ۔میسم نے تنبیہی نظروں سے اس کی جانب دیکھا ۔
“اللّه حافظ ۔خیر سے جائیں میرے سرتاج ۔رب آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔”دوپٹے کا کونہ انگلی پر لپیٹتے کسی جذباتی ہیروئن کی طرح اس نے بے تابی سے اسے دیکھ کر کہا تھا میسم نے تاسف سے اسے دیکھ کر یوں سر ہلایا تھا جیسے کہہ رہا ہو تم لا علاج ہو ۔
“بہت بڑا ڈرامہ ہو تم ۔”بے بسی سے گردن ہلاتا وہ اسکی کھلکھلاتی ہنسی کی گونج کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا تھا ۔
“اب یہاں تک آنے کی زحمت کر ہی دی ہے تو ذرا اپنے “سرتاج کے لئے گیٹ بھی کھول دو ۔”سامنے دیکھتے وہ شیڈز آنکھوں پر چڑھاتے ہوئے بولا تو شانزے کی ہنسی کو بریک لگا تھا ۔
“بس مجھ معصوم کو دیکھ کر سب کو کام یاد آ جاتے ہیں ۔”گھور کر ایک نظر اسے دیکھتے وہ گیٹ کھولنے کے لئے آگے ہی بڑھ گئی تھی ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
آفس کا کام ختم کرتے کرتے اسے سوا بارہ ہو گئے تھے ۔تھکی ہوئی گردن کو دائیں بائیں کرتے لیپ ٹاپ شٹ ڈاون کیا ۔نیم تاریکی میں ڈوبے کمرے میں اتنی دیر لیپ ٹاپ کی سکرین کی تیز روشنی دیکھ دیکھ کر آنکھیں جلنے لگی تھیں ۔رائٹنگ چیئر سے اٹھ کر اس نے بے سدھ سوئی ہوئی شانز کو دیکھا تھا پھر احتیاط سے کمرے سے باہر نکل گیا تھا ۔ اسکی آنکھ کھٹکے کی آواز پر کھلی تھی ۔آنکھ کی جهلی سے دیکھا وہ کمرے سے باہر نکل رہا تھا ۔جی چاہا بنا کچھ سوچے سوئی پڑی رہے۔اتنی اچھی نیند آ تو رہی تھی پر پھر جهنجهلا کر اٹھ بیٹھی ۔موسم میں خنکی بڑھ سی گئی تھی اور رات کے وقت تو اچھی خاصی ٹھنڈ ہونے لگتی تھی ۔گرم شال شانوں پر اچھے سے پھیلا کر وہ چہرے پر آئے بال سمیٹتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔
ابھی اس نے پتیلے میں پانی ہی ڈالا تھا جب آہٹ پر پیچھے مڑ کر دیکھا ۔سوئی جاگی سی شانزے کچن میں داخل ہو رہی تھی ۔
“ہٹیں میں بنا دیتی ہوں ۔”آنکھیں ملتی وہ پاس آ کر رکی ۔
“میں بنا لیتا تم کیوں اٹھ آئی ۔”اب وہ آ ہی گئی تھی تو بنائے بنا جانے والی نہیں تھی اس لئے میسم پیچھے ہٹ گیا تھا ۔
“بالکل بنا لیتے جیسے پرسوں بنائی تھی ۔”اوپر کیبنٹ کھولتے اس نے سر کو جھٹکا ۔
“تمہیں لگتا ہے میں نے چاچی سے تمہاری شکایت لگائی تھی ۔”کرسی پر بیٹھ وہ ہلکا سا ہنسا ۔
“لگائی یا نہیں مقصد تو پورا ہو جاتا ہے نا آپکا ۔ڈانٹ پڑ جاتی ہے مجھے ۔نكمی ہونے کے طعنے بھی مل جاتے ہیں ۔”ماما کی باتیں یاد آتے اسے نئے سرے سے دکھ ہوا تھا ۔میسم کو پرسوں رات کافی بناتے دیکھ کر اگلی صبح اسے خوب سننے کو ملی تھیں اوپر سے اسکی بری قسمت اس دن اسکی آنکھ بھی دیر سے کھلی تھی اسکے نیچے آنے سے پہلے میسم آفس جا چکا تھا ۔پھر ماما نے جو اگلے ایک گھنٹے تک اسے کھڑا کر کے اسے کھری کھری سنائی تھیں اس کے بعد وہ اسے کافی بنانے دینے کا رسک بالکل نہیں لے سکتی تھی ۔
میسم چپ ہوتا اسے دیکھنے لگا تھا جو اب بھی نیند کے جھونکوں کی زد میں لگتی تھی ۔کافی بن چکی تھی چھان کر مگ میں ڈالتے اسکا ہاتھ ذرا سا جھٹکا تھا اگلے ہی پل گرم کھولتی ہوئی کافی اسکے ہاتھ کی پشت پر گرتی چلی گئی ۔ہاتھ جھٹک کر وہ چینخی تھی ۔درد کی شدت سے دوسرے ہاتھ میں تھاما پین چھوٹ کر نیچے گرا تھا کہیں چھینٹے اسکے پاؤں پر بھی آ گرے تھے ۔میسم جو اسے ہی دیکھ رہا تھا سرعت سے اٹھ کر اس تک گیا تھا جو ہاتھ جھٹکتی اب كراه رہی تھی ۔
“ادھر دکھاؤ شانزے ۔”اسکا ہاتھ پکڑ نے پر اس نے ہاتھ پیچھے کیا تھا میسم کو ڈپٹ کر کہنا پڑا تھا ۔اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے غور سے اب وہ معائنہ کر رہا تھا جو بری طرح سے جهلس گیا تھا ۔سرخ و سپید رنگ کی صاف شفاف جلد پر سرخ دهبے بڑے واضح تھے ۔ شانزے بری طرح رو رہی تھی ۔میسم اسے ساتھ لئے نل کے نیچے اسکا ہاتھ کیے پانی بہا رہا تھا ۔نظر اسکے چہرے تک گئی تھی جہاں آنسوؤں کی لکیروں کے ساتھ تکلیف کے آثار بڑے واضح تھے ۔میسم نے سختی سے ہونٹ بھینچے ۔
“جب کہہ رہا تھا میں کر لوں گا تو کیا ضرورت تھی نیند میں جھولتے یہ سب کرنے کی ۔اب بھگتو ۔”اسکے گرتے آنسوؤں سے وہ غیر آرام ده ہو رہا تھا ۔اسی لئے جب بولا تھا تو آواز میں کچھ خفگی اور غصے کے ملی جلی سی كیفیت تھی ۔
“ڈانٹیں مت مجھے ۔پہلے ہی درد ہو رہا ہے ۔اور یہ سب آپ کی غلطی ہے آپ کی وجہ سے جلا میرا ہاتھ ۔”سسکی روکتے بھی اس کی زبان چلنے سے باز نہیں آئی تھی ۔
“بالکل ساری غلطیاں تو میری ہی ہوتی ہیں ۔”نل بند کرتے اسکی طرف مڑ کر وہ ہولے سے پھونک مار رہا تھا ۔
“کیا ہوا ہے ؟”صائمہ اسکی چینخ کی آواز پر جاگی تھیں حواس باختہ سی اپنی چادر سنبھالتیں اندر داخل ہوئی تھیں ۔میسم اسکا ہاتھ چھوڑ کر تھوڑا سا پیچھے ہٹ گیا تھا ۔
“میرا ہاتھ جل گیا ہے ۔”انہیں دیکھ کر رونے میں شدت آ گئی تھی ۔
“کیسے جلا لیا بیٹا ؟”وہ تیزی سے اسکے پاس گئی تھیں ۔
“کافی گر گئی ہے ۔”میسم کی طرف سے آہستگی سے جواب آیا تھا ۔
“یہ تو زیادہ جل گیا ہے ۔”صائمہ نے پریشانی سے اسکا ہاتھ دیکھا ۔”میں آئنمنٹ نکالتی ہوں ایک منٹ ۔”اسکے پاس سے ہٹ کر انہوں نے نیچے دراز کھولتے ہوئے ٹٹولا تھا ۔اسے کرسی پر جب بٹھا کر اسکے ہاتھ پر مرہم لگاتے وہ کہہ رہی تھیں ۔
“دھیان کہاں تھا تمہارا ؟اتنا جلا لیا ۔اچھا رونا بند کرو ابھی ٹھیک ہو جائے گا ۔”اسکا چہرہ دیکھ کر وہ نرم پڑی تھیں ۔
“پاؤں بھی دیکھ لیں ۔”اپنے پیچھے خاموش کھڑے میسم کے کہنے پر صائمہ نے جھک کر پاؤں دیکھا تھا اسکی بچت ہو گئی تھی ۔کہیں کہیں سرخ نشان سے تھے جو چھینٹے پڑنے کی وجہ سے تھے ۔جھک کر آئمنٹ لگاتے وہ سیدھی ہوئی تھیں ۔
“جل رہا ہے بہت ۔”میسم نے اسے دیکھا تھا جو سرخ پڑتی ناک اور بھیگی آنکھوں سے اب بھی اپنے ہاتھ پر نظریں جمائے ہوئے تھا ۔
“ابھی تھوڑی دیر تک ٹھیک ہو جائے گا بیٹا ۔جاؤ آرام کرو اب ۔”اسکا گال سہلا تے انہیں جیسے یاد آیا تھا ۔
“میسم تمہارے لئے دوسری کافی بنا دوں ؟”انکے پوچھنے پر شانزے نے رونا بھول کر اسے یوں دیکھا تھا جیسے اگر اس نے ہاں کی تو وہ اسکے اس جرم کے لئے تا عمر اسے معاف نہیں کرے گی ۔
“نہیں چاچی ۔اب جی نہیں چاہ رہا ۔”گڑبڑا کر انکار کرنے پر شانزے نے کچھ مطمئین ہو کر نظریں اس پر سے ہٹائی تھیں ۔
“جاؤ پھر بیٹا سو جاؤ ۔میں یہ صاف کر لیتی ہوں ۔اٹھو شاباش ۔”شانزے سے کہتے وہ اٹھ کر کاؤنٹر اور فرش پر گری ہوئی کافی کی طرف متوجہ ہو گئیں ۔
آگے پیچھے وہ دونوں ہی کچن سے باہر نکلے تھے ۔کمرے میں آ کر وہ دهپ سے بیڈ پر بیٹھی تھی ۔پیچھے میسم نے دروازہ بند کرتے ترحم آمیز نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔
“زیادہ درد ہو رہا ہے ؟”ہمدردانہ لہجہ اور فکر مند سی آواز ۔ شانزے کی نگاہ اٹھی تو ان میں کسی قسم کی خفگی کی رمق تک نہ تھی ۔
“ہو تو رہا ہے مگر اتنا بھی نہیں ہو رہا ۔”وہ مسکرائی تھی ۔میسم سر ہلاتا وہاں سے ہٹ گیا ۔
واش روم سے واپس آ کر جس وقت وہ اپنی جگہ دراز ہوا تھا وہ جلے ہاتھ کے باعث اسی جانب کروٹ کیے ہاتھ احتیاط سے درمیان رکھے کشنز میں سے ایک پر رکھے ہوئے تھی ۔
“آدھی رات کو اٹھ کر کافی پینے کی عادت کچھ عجیب سی نہیں ہے ؟”میسم مسکرایا تھا ۔صد شکر وہ فلحال اسکی عادت کو عجیب کہہ رہی تھی اسے نہیں ۔
“پہلے نہیں تھی ۔امریکہ میں بنی ہے ۔وہاں کام کرتے اکثر ضرورت پڑ جاتی تھی تو پی لیا کرتا تھا ۔اب ایسی لت لگی ہے کہ کبھی طلب ہو اور نہ ملے تو نیند بھی نہیں آتی ۔”سر کے نیچے بازو دراز کرتے ترچھی گردن کیے وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا اور خوش کن احساس یہ تھا وہ اب رو نہیں رہی تھی ۔
“تو اب کیا ہو گا آ جائے گی نیند کافی پیے بنا؟ ۔”اسکی آنکھوں میں بڑا معصوم سا حیرت بھرا سوال تھا ۔میسم نے بڑی فرصت سے اسے دیکھا تھا ۔وہ اب ہمدردی جتا رہی تھی حالانکہ کچھ دیر پہلے تک چاچی کے پوچھنے پر اس کی طرف کیسے گھور کر دیکھا تھا ۔
“تمہارا جلا ہاتھ دیکھ کر کیسے پی سکتا تھا ؟اب سو جاؤ ۔۔۔۔ہوں ۔”سر کے نیچے سے بازو نکال کر اس نے صرف ایک پل کے لئے اسکا گال چھوا تھا ۔اگلے ہی پل وہ کر وٹ بدل گیا تھا ۔مگر شانزے کا دل اس ایک پل میں ہی کہیں گنا زیادہ سپیڈ پکڑ چکا تھا ۔اسکی انگلیوں کا لمس گال کو دہکا سا گیا تھا ۔غیر آرام ده ہوتے اس نے اسکی پشت کو کھوئی کھوئی سی کیفیت میں دیکھتے اپنے دوسرے ہاتھ سے گال پر سے کچھ مٹانا چاہا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
یہ جل گیا ہے یا جلایا ہے کسی نے ؟”اگلے دن سبرینہ آئی تو اسکا جلا ہاتھ دیکھ کر تفتیشی انداز میں ہاتھ پہلوؤں پر جمائے کھڑی اسے گھور رہی تھی ۔اس وقت وہ دونوں اپنے مشترکہ کمرے میں موجود تھیں ۔ٹانگیں اوپر کیے شانزے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے نیم دراز سی بیٹھی ہوئی تھی
“جلایا ؟کیا کہہ رہی ہیں آپی ۔”نا سمجھی سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے وہ حیرت زدہ تھی ۔
“میسم نے تو نہیں جلا دیا ؟”اسکے مشکوک ہونے پر شانزے نے دنگ نظرو سے بہن کا چہرہ دیکھا تھا ۔
“کیا بول رہی ہیں آپی ۔میسم ایسا کیوں کریں گے ؟یہ میری اپنی غلطی سے ہوا ہے ۔”اسے ناگوار گزرا تھا تو آواز میں بھی ذرا خفگی آ گئی تھی ۔
“تم سچ کہہ رہی ہو نا ؟”سبرینہ اب اسکے پاس بیٹھ گئی تھی ۔
“جھوٹ کیوں کہوں گی ۔اور آپ کو ایسا کیوں لگا میسم ایسا کریں گے میرے ساتھ ؟”اس کی سوئی وہیں اٹک گئی تھی ۔
“جو کچھ وہ فریحہ کے ساتھ کر چکا ہے اس کے بعد میں اس سے کچھ بھی توقع کر سکتی ہوں ۔”سر کو جھٹک کر وہ تنفر سے کہہ رہی تھی ۔شانزے کو بے نام سی اداسی نے آن گھیرا ۔
“پتہ نہیں کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ آپی ۔میں پچھلے دو ماہ سے انکے ساتھ ره رہی ہوں مجھے تو ایک بار بھی وہ ویسے نہیں لگے جیسا فریحہ بھابھی انہیں بتایا کرتی تھیں ۔میں نے کبھی انہیں غصہ ہوتے نہیں دیکھا ،بد زبانی تو دور کی بات وہ تو بات بھی فالتو نہیں کرتے ۔کبھی مجھے کسی بات سے روکا نہیں ۔اگر کوئی دکھاوا بھی کر رہا ہو تو چوبیس گھنٹے تو نہیں کر سکتا نا ۔”سبرینہ نے اسے گھور کر دیکھا تھا جو اسکی طرف دیکھتے الجھی ہوئی سی بول رہی تھی ۔
“پاگل ہو گئی ہو تم ؟کچھ زیادہ ہی نہیں شوہر کی طرف داری کا بخار چڑھ گیا جو آنکھوں دیکھی مكهی بھی نگلنے لگی ہو ۔وہ تم ہی تھی نا جس نے اسے فریحہ کو مارتے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا پھر بھی یہ سب کہہ رہی ہو ۔”
اسے شانزے کی دماغی حالت پر شبہ ہوا تھا ۔غصے سے بھری وہ اسے ڈانٹ رہی تھی ۔
“میں کوئی طرف داری نہیں کر رہی ۔وہی کہہ رہی ہوں جو مجھے لگا ۔”اس نے برا منایا تھا ۔سبرینہ طنزیہ سا مسکرا دی ۔
“وہ بہت چالاک ہے ۔تمہیں بھی شیشے میں اتار لیا اس نے ۔خیر تم اس کے لیے آسان شکار تھی جسے وہ آسانی سے بیوقوف بنا کر اپنے ماضی پر لگے تمام بد نما داغ مٹا دینا چاہتا ہے ۔اور مبارک ہو تم ایسا کرنے میں اسکا پورا پورا ساتھ دے رہی ہو ۔”
شانزے کا دل ایک دم ہی ہر شے سے اچاٹ ہو گیا تھا ۔اسے مزید اس سب کے بارے میں کچھ نہیں سننا تھا ۔
“آپی پلیز کیا ہم کوئی اور بات کر سکتے ہیں ؟میرے سر میں پہلے ہی درد ہو رہا ہے ۔”وہ بے دلی سے بولی تھی تبھی نظر دروازے کے فریم سے نظر آتے میسم پر پڑی تھی ۔اسکی رنگت میں گهلتا تغیر اتنا واضح تھا کہ سامنے بیٹھی سبرینہ بھی چونکے بنا نہ ره سکی تھی ۔
“آپ کب آئے ؟”اپنی جگہ سے اٹھتی وہ سوکھے ہونٹوں پر زبان پھیر گئی تھی ۔دل کا شور حد سے سوا تھا جیسے کوئی چوری پکڑی گئی ہو ۔اور اگر اس نے سن لیا ہوا تو ؟۔سبرینہ نے ایک نظر مڑ کر اسے دیکھا تھا اگلے لمحے وہ نا گواریت سے چہرے کا رخ پھیر گئی تھی ۔
“ابھی ابھی آیا ہوں ۔کوئی بھی نظر نہیں آ رہا تھا تو یہاں دیکھنے چلا آیا ۔”سنجیده مگر نارمل سا انداز تھا ۔چہرے کے تاثرات بھی ٹھیک معلوم ہوتے تھے ۔شانزے نے سکھ کا سانس خارج کیا ۔
“ماما ابو کے ساتھ پڑوس میں گئی ہیں تھوڑی دیر پہلے ۔ساتھ والی آنٹی کی بہن کی ڈیتھ ہو گئی تھی تو تعزیت کے لئے گئے ہیں ۔”اسکے تفصیلی جواب پر سر ہلاتا وہ وہاں سے ہٹ گیا تھا ۔
“آپی میں آتی ہوں تھوڑی دیر تک ۔”کہتے ہوئے وہ بھی عجلت میں اسکے پیچھے نکل گئی تھی ۔سبرینہ نے تاسف سے بہن کو جاتے دیکھا تھا ۔
شام کو شایان بھی چلا آیا تھا ۔صائمہ نے اسے کھانے پر روک لیا تھا ۔شانزے کے ہاتھ کی وجہ سے صائمہ اسے کام بھی نہیں کرنے دے رہی تھیں ۔ایسے میں سبرینہ ہی انکے ساتھ لگی ہوئی تھی۔شانزے وہیں کرسی پر بیٹھی باتیں کر رہی تھی ۔باہر لاؤنج میں مرد حضرات بیٹھے ہوئے تھے ۔چائے بننے پر وہی باہر دینے آئی تھی ۔محمود آفندی کہیں دکھائی نہیں دیتے تھے ۔میسم اور شایان وہیں بیٹھے ہوئے تھے ۔اور شانزے نے انہیں شاید پہلی بار یوں ایک ساتھ اتنی دیر تک بیٹھے دیکھا تھا ۔میسم سبرینہ سے بات نہیں کرتا تھا مگر شایان سے وہ کافی خوش اخلاقی سے بات کر رہا تھا ۔نک چڑھا سا شایان بھی اچھے موڈ میں نظر آتا تھا ۔ورنہ اسکی طبیعت میں موڈی پن بہت زیادہ تھا ۔اپنے سسرال بھی وہ کم کم ہی آتا تھا ۔زیادہ تر سبرینہ کو صبح آفس جاتے ڈراپ بھی وہ باہر ہی کرتا تھا ۔واپسی پر کبھی کبھار وہ اسے لینے آ جاتا ورنہ زیادہ تر وہ خود ٹیکسی سے واپس جاتی تھی ۔کبھی کبھی شانزے کو حیرت ہوتی تھی اسکی اتنی خود پسند اپنی چلانے والی بہن اس کے ساتھ اتنی خوش کیسے رہتی تھی ۔مگر وہ باقیوں کے ساتھ جیسا بھی تھا مگر سبرینہ سے اسکی انڈرسٹینڈنگ کی وہ معترف تھی ۔
جب تک وہ انہیں چائے سرو کر رہی تھی محمود آفندی بھی وہیں چلے آئے تھے ۔انکی طبیعت کل سے کچھ خراب تھی شاید انہیں ٹھنڈ لگ گئی تھی مگر وہ اتنی پرواہ بھلا کب کرتے تھے ۔میسم کے کہنے کے باوجود وہ اس کے ساتھ ہوسپٹل جانے کو راضی نہیں ہوئے تھے ۔
انہیں چائے دیتی وہ واپس پلٹ آئی تھی ۔
رات کھانے کی ٹیبل پر اچھا خاصا اہتمام ہو گیا تھا ۔ڈنر کے بعد سبرینہ اور شایان تو چلے گئے تھے ۔پیچھے صائمہ اکیلے کچن میں لگی ہوں گی یہ سوچ کر وہ نماز پڑھنے کے بعد کچن میں آئی تھی ۔جہاں صائمہ کے ساتھ میسم کھڑا نظر آیا تھا ۔صائمہ برتن دھو رہی تھیں جب کہ وہ پاس کھڑا انہیں کپڑے سے خشک کرتا سگھڑاپے سے رکھتا جا رہا تھا ۔ساتھ ساتھ باتیں بھی جاری تھیں ۔شانزے غیر محسوس انداز میں مسکراتے ہوئے وہیں سے پلٹ کر کمرے میں محمود آ فندی کو دیکھنے چل پڑی تھی ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
پچھلے دو دن سے وقفے وقفے سے بارش برس رہی تھی ۔سرد ہواؤں نے شہر کا رخ کچھ اس طرح سے کیا تھا کہ فضا میں یخ بستگی کا احساس رچ بس سا گیا تھا ۔محمود آ فندی کا نزلا زكام بخار میں تبدیل ہو گیا تھا ۔رات کے آخری پہر انکی طبیعت بگڑ گئی تھی ۔وہ سانس لینے میں دشواری کے ساتھ سینے میں درد کی شکایت کر رہے تھے ۔میسم انہیں ہوسپٹل لے کر گیا تھا ایسے میں اس کے منع کرنے کے باوجود بھی صائمہ اور شانزے بھی ساتھ ہو لی تھیں ۔
ڈاکٹر نے نمونيه کی تشخیص کی تھی ۔انہیں ہوسپٹل میں ایڈمٹ کر لیا گیا تھا ۔جب تک انکی حالت کچھ بہتر ہوئی فجر کی اذانیں ہونے لگی تھیں ۔پرائیویٹ روم میں اس وقت وہ اکیلی انکے بیڈ کے پاس سٹول پر بیٹھی ہوئی تھی ۔صائمہ ابھی ابھی واش روم وضو کرنے کے لئے گئی تھیں ۔میسم اسٹور سے منگوائی دوائیں لے کر ابھی ابھی لوٹا تھا ۔دوا کے زیر اثر محمود آفندی سو رہے تھے اور پاس جھکے سر کے ساتھ بیٹھی وہ سوں سوں کرتی شاید رو رہی تھیں ۔وہ آہستگی سے چلتا اس تک آیا تھا ۔اپنا ہاتھ اسکے سر پر رکھا تو وہ چونک کر چہرہ اٹھاتی اسے دیکھنے لگی تھی ۔گیلی گیلی گلابی آنکھیں میسم نے نظریں پھیر لی تھیں ۔
“رو کیوں رہی ہو ؟”اپنا ہاتھ ہٹاتے وہ محمود صاحب کو پر سکون سوئے دیکھ وہ نرم اور دھیمی آواز میں پوچھ رہا تھا ۔رخ پھیر کر آنکھیں صاف کرتے شانزے نے گردن نفی میں ہلائی تھی ۔مگر وہ چپ رہی ۔
“چاچی کہاں ہیں ۔”
“وضو کرنے گئی ہیں ۔”زكام زدہ سی آواز میں کہنے پر میسم نے دوبارہ اسکے جھکے سر پر نگاہ ڈالی تھی ۔ساتھ ہی اپنا ہاتھ دلاسے کے سے انداز میں اسکے سر پر رکھ کر زدہ تهپتهپایا تھا ۔
“چاچو ٹھیک ہیں اب ۔ڈاکٹر کا کہنا ہے بہتر ہو گا اگر دو تین دن کے لئے انھیں ہوسپٹلائزڈ کر دیا جائے ۔چاچی نماز پڑھ لیں تو پھر تمہیں انکے ساتھ گھر ڈراپ کر آؤں گا ۔”میسم اب پیچھے دیوار کے ساتھ لگے صوفے کی جانب بڑھ گیا تھا ۔واش روم کا دروازہ کھلا تھا صائمہ باہر آئی تھیں ۔
“میں نماز پڑھ کر آتی ہوں ۔”ایک نظر شوہر کو دیکھ باری باری ان دونوں کو دیکھتے وہ کمرے سے باہر نکل کر نرس کی بتائی نماز گاہ کی تلاش میں آگے کی جانب بڑھ گئی تھیں ۔
“مجھے ابو ساتھ رہنا ہے ۔”ضد بھرا اصرار کرتے گردن موڑ کر اسے دیکھا تھا ۔
“ضرورت نہیں ہے شانزے میں ہوں یہاں ۔تم چاچی کے ساتھ گھر جا رہی ہو ۔”براؤن کھدر کی شلوار قمیض پر جرسی پہنے ،پیچھے کی جانب ٹیک لگائے وہ تهكن زدہ سا لگتا تھا ۔
“آپ آفس جائیں گے تب ؟”
“نہیں جاؤں گا۔ آف لے لوں گا کچھ دن ۔”اسکے بتانے پر سر ہلاتے وہ چپ کر گئی تھی ۔محمود آ فندی تین دن ایڈمٹ رہے تھے ۔وہ انکے ساتھ رہا تھا ۔صائمہ اور شانزے روز ہی آیا کرتی تھیں واپسی پر ڈراپ کرنے بھی وہ خود جایا کرتا تھا ۔سبرینہ بھی شایان کے ساتھ آئی تھی ۔
جس دن وہ گھر واپس آئے تھے طبیعت پہلے سے کافی بہتر معلوم ہوتی تھی ۔انہیں کمرے میں لٹا کر میسم صائمہ کو انکی میڈیسن کے بارے میں سمجھا رہا تھا جب دروازے سے گرم سوپ کا پیاله ٹرے میں سجائے شانزے اندر داخل ہوئی تھی ۔
“میں پلاؤں ابو آپ کو ؟”انکے سامنے بستر پر جگہ بنا کر ٹرے رکھتے وہ بیٹھتی مصروف سی پوچھ رہی تھی ۔محمود آفندی بشاشت سے ہنسے ۔
“اتنا بھی بیمار نہیں ہوں میں ۔خود پی لوں گا ۔لاؤ دو مجھے ۔”اٹھ کر سیدھا ہو کر بیٹھتے انہوں نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا ۔شانزے نے سوپ کا پیالہ انہیں تهمایا ۔
“سارا ختم کرنا ہے پھر ۔”اٹھ کر تنبیہی انداز میں انہیں دیکھتے وہ باہر جانے کو مڑی ۔میسم دوائیں سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر سیدھا ہو رہا تھا ۔
“آپ بھی آ جائیں ۔کھانا گرم کر دیا ہے ۔”وہ آگے بڑھ گئی تھی ۔میسم بھی سر ہلا کر اسکے پیچھے چل دیا تھا ۔صائمہ نے مسکراتی نظروں سے دونوں کو آگے پیچھے کمرے سے باہر نکلتے دیکھا تھا ۔محمود آفندی کی بیماری نے ان دونوں کے رشتے کو مضبوط کیا تھا ۔کوئی دیوار سی تھی جو گری تھی ۔شانزے کا رویہ اسکی بابت واضح طور پر تبدیل ہوا تھا ۔پچھلے تین چار دن میں جس طرح اس نے محمود آفندی کا خیال رکھا ہوتا ۔اسکی جگہ کوئی بھی اور ہوتا تو شاید ہی اتنا کر پاتا ۔خود شایان کی مثال اسکے سامنے تھی ۔کیا وہ اتنے دن ہوسپٹل میں انکے ساتھ ره پاتا اپنا سب کام چھوڑ چھاڑ کر ؟جواب بڑا واضح تھا اور یہی چیز اسے اسکے قریب کر گئی تھی ۔
سامنے بیٹھا وہ خموشی سے کھانا کھا رہا تھا ۔بلا وجہ وہاں کاؤنٹر سے ٹیک لگائے وہ ناخنوں سے کھیلتی گاہے بگاہے ساتھ ساتھ اس پر بھی نظر ڈال رہی تھی ۔اسے دیکھ کر اب وہ چڑتی نہیں تھی۔نا ہی دل میں اس کے لئے کوئی نا گواریت کا احساس پنپتا تھا ۔
“تمہارا ہاتھ کیسا ہے اب ؟کھاتے ہوئے اچانک سے سر اٹھا کر اسکی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا تو وہ جو بے اختیاری میں بغور اسکا چہرہ دیکھ رہی تھی، گڑبڑا کر اپنے ہاتھ کو سامنے کرتی اسکی پشت دیکھنے لگی ۔ جہاں اب صرف نشان سے باقی ره گئے تھے ۔
“ٹھیک ہے اب ۔”اسکی آواز بہت مدهم سی تھی ۔میسم نے ہاتھ روکتے اسکی طرف چونک کر دیکھا تھا کچھ تھا جو بدل گیا تھا ۔وہ ایسے نارمل انداز میں بات کرتی ،بلا وجہ اسکے آس پاس کھڑی اچھی لگ رہی تھی ۔
“تمہیں کیا ہوا ہے ؟” اسکی حیرت بجا تھی ۔
شانزے نے نفی میں گردن ہلا ئی تھی ۔اس نے بھی مزید کوئی سوال نہیں کیا تھا ۔کھانا کھا کر جب وہ اٹھا تھا تب پیچھے سے شانزے نے اسے پکارا تھا ۔
“میسم ؟”۔
جاتے جاتے وہ رکا ۔پلٹ کر اسے دیکھا جو کچھ نروس سی لگتی تھی ۔
“تھینک یو ۔ابو کے لئے اتنا سب کرنے کے لئے ۔”پچھلے کچھ ماہ سے ہر وقت اس سے لڑنے جھگڑنے اور فرنٹ لائن پر اسکے خلاف محاذ آرائی کرنے والی شانزے کو یہ کہتے ہوئے دقت ہوئی تھی ۔مگر اسکا دل بڑا صاف تھا جو محسوس کرتی تھی اس کا اظہار بھی کر دیا کرتی تھی ۔میسم ہلکا سا مسکرایا ۔آنکھیں ابھی بھی اسی کا طواف کر رہی تھیں ۔آسمانی نیلے رنگ کے گرم سوٹ میں وہ پیاری لگ رہی تھی ۔
“تمہیں لگتا ہے شانزے یہ کہنے کی ضرورت ہے ؟”ذرا دیر کو وہ رکا شانزے اسی کو دیکھ رہی تھی ۔”وہ صرف تمہارے ابو نہیں ہیں میرے چاچو بھی ہیں ۔انکی محبت و اپنائیت میرے لئے کیا ہے اور وہ خود میرے لئے کیا معنی رکھتے ہیں تم نہیں جان سکتی ۔ہوتا ہے نا کوئی ایک ایسا جو آپ کے برے سے برے حالات میں بھی آپ کے صحیح یا غلط ہونے کی پرواہ کیے بنا بس آپ کی فکر کرے ،آپ کی پرواہ کرے ۔چاچو میرے لئے وہی ایک شخص ہیں ۔جنکی محبت کا بدلا میں کسی صورت نہیں چکا سکتا ۔جنہوں نے میرے مشکل سے مشکل حالات میں بھی میرا ساتھ دیا ۔بس میرا احساس کیا ۔صحیح اور غلط کے پیمانے کو ایک سائیڈ پر رکھ کر ۔اگر تم میری زندگی میں نہ بھی ہوتی تو بھی میرے لئے وہ اتنے ہی اہم ہوتے ۔میں انکے لئے یہ سب کرتا ۔جانتی ہو کیوں ؟کیوں کہ وہ مجھے بیٹا کہتے ہی نہیں سمجھتے ہیں ۔اور بیٹوں کا شکریہ تو ادا نہیں کیا جاتا ۔”نرمی اور متانت سے کہتا وہ چہرے پر بھی ملائم سا تاثر رکھے ہوئے تھا ۔اپنی فیلنگز کا اتنا واضح اظہار کرتے شانزے نے اسے پہلی بار دیکھا تھا ۔مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا تو وہ واپس مڑتا باہر نکل گیا تھا ۔
پیچھے برتن سمیٹتے وہ اسی کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔وہ اسے احسان مندی کے زمرے میں لے رہی تھی ۔لیکن یہ جذبہ اس سے بڑھ کر تھا جس کا وہ لاشعوری طور پر شکار ہو رہی تھی ۔اور ادراک کی سرحد سے بہت دور تھی ۔
