Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Man Mehram (Episode 04)

Man Mehram by Umme Abbas

“تو پھر یہاں کیوں نہیں بیٹا ۔یہاں بھی تو میں ہی کہہ رہا ہوں ۔”وہ اسے متانت سے دیکھ رہے تھے اور شانزے کو اپنا آپ کسی گہری کھائی میں گرتا محسوس ہو رہا تھا ۔

“پتہ ہے شانزے جب سبرینہ کے لئے بھائی صاحب نے میسم کی بات کی تھی تو میں بہت خوش ہوا تھا ۔میسم مجھے ہمیشہ سے بہت عزیز رہا ہے ۔میں خوش تھا کہ میری بیٹی بياه کر بھی میری ہی آنکھوں کے سامنے رہے گی ۔مگر اس نے انکار کر دیا ۔ہاں مجھے دکھ ہوا تھا مگر وہ میری بیٹی تھی ۔اسکی خوشی میرے لئے اپنی خوشی سے زیادہ اہم تھی ۔جو کہ میسم کے ساتھ نہیں تھی ۔مجھے اس انکار نے بہت تکلیف دی تھی مگر بیٹی کی خوشی کے آگے وہ تکلیف کچھ بھی نہیں تھی۔ ماں باپ اولاد کی خوشی کے لئے اپنا دل مار لیتے ہیں بیٹا ۔اب اگر تم انکار کرو گی تو بھی مجھے دکھ ضرور ہو گا مگر آخری فیصلہ صرف اور صرف تمہارا ہی ہوگا ۔میں تمہاری خوشی کو مقدم رکھو گا بیٹے ۔اس لئے رونا بند کرو اور آج رات سکون سے سوچو ۔مجھے یقین ہے میری بیٹی بہتر فیصلہ کرے گی ۔”اسکا سر پیار سے تهپکتے ہوئے وہ بال اسکے کورٹ میں ڈال کر خود اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔

انکے جانے کے بعد بھی وہ یوں ہی بیٹھی رہی تھی ۔رونے کی شدت میں کمی آ گئی تھی ۔ماؤف ہوتے دماغ کے ساتھ کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اس وقت وہ کھو چکی تھی ۔تکیے پر سر رکھتے وہ لیٹ گئی تھی ۔محمود آفندی کی باتیں سوچ اسے نئے سرے سے رونا آ رہا تھا ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

میسم صبح جاگنگ سے واپس آیا تو محمود آفندی اسے لان میں ہی نظر آ گئے تھے ۔اندر جانے کے بجائے وہ انکے پاس ہی چلا آیا تھا ۔وہ اسے اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر خوش دلی سے مسکرائے تھے ۔بلیک ٹریک سوٹ میں ملبوس چہرے پر گھلی سرخی کے ساتھ وہ انہیں سلام کرتا ساتھ والی کرسی پر بیٹھ چکا تھا ۔ پسینے سے گیلے ہو رہے بالوں کو ہاتھوں کی انگلیوں کی مدد سے پیچھے کی جانب کر رکھا تھا چہرے پر بڑے سنجیدہ سے تاثرات سجے ہوئے تھے ۔

“کچھ کہنا چاہتے ہو ؟”اسے تذبذب کا شکار دیکھ انہیں کہنا پڑا تھا ۔

میسم نے لب کاٹتے ہاتھوں کو باہم پیوست کیا تھا پھر ذرا آگے کو جھک کر بیٹھا تھا ۔

“ابو رات کو کچھ بات کر رہے تھے ۔”اپنے منہ سے کہنا اسے آکورڈ لگ رہا تھا مگر اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ۔محمود صاحب نے سر اثبات میں ہلا کر جیسے اسے بات جاری رکھنے کو کہا تھا ۔

“چاچو !آپ کو لگتا ہے یہ صحیح ہو گا شانزے کے ساتھ ؟”کچھ ہچکچا کر اس نے بول ہی دیا تھا ۔کل رات سے وہ اسی بارے میں سوچ رہا تھا وہ خود کیا چاہتا تھا کیا نہیں اس جانب خیال ایک بار بھی نہیں گیا تھا ۔

“تم اپنی بات کرو میسم تمہارے خیال میں کیا تمہارے ساتھ صحیح ہو رہا ہے ؟”انکے یوں براہ راست پوچھنے پر وہ گڑبڑایا تھا ۔ہاتھ بے اختیار ماتھے کو چھو گیا تھا ۔

“میں نے عرصہ ہوا چاچو اس بارے میں کبھی نہیں سوچا ۔پچھلی بار ابو کہہ کر گئے تھے مجھے اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے ۔میں مینٹلی خود کو تیار بھی کر رہا تھا مگر شانزے ۔۔۔۔”کہتے ہوئے بے بسی سے اس نے بات ادھوری چھوڑ دی تھی ۔محمود آفندی نے بغور اسے دیکھا تھا کچھ دیر کی خاموشی رہی تھی پھر انکی آواز سنائی دی ۔

“تم کھل کر بات کرو میسم کیا شانزے تمہارے لائق نہیں ہے یا تم اسے اپنے جیون ساتھی کے روپ میں قبول نہیں کر پاؤ گے ۔اگر ایسی کوئی بات ہے بیٹا تو تم کہہ سکتے ہو ؟”

“میں نے ایسا کب کہا ۔”انکے سوال کے جواب میں سرعت سے اسکے منہ سے پهسلا تھا ۔اپنی بے اختیاری پر وہ خود ہی خفت زدہ سا نظریں چرا گیا تھا ۔محمود آفندی نے بڑے سنبھاؤ سے اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی ۔

“تم مجھے بہت پیارے ہو میسم بالکل اپنے بچے کی طرح ۔بھتیجا ہونے کے باوجود میں نے ہمیشہ تمہیں اپنے بیٹے کی نگاہ سے دیکھا ہے ۔تمہارا بھلا چاہا ہے تو بے فکر رہو شانزے تو پھر میری اپنی بیٹی ہے اسکے لئے کوئی فیصلہ میں جلد بازی یا جذبات میں آ کر نہیں لوں گا ۔اللّه سب بہتر کرے گا ۔”کہہ کر انہوں نے بات ہی ختم کر دی تھی ۔وہ بمشکل مسکرا کر سر کو جنبش دے پایا تھا ۔

اب آ جاؤ ناشتہ تیار ہو گا پھر تمہاری چاچی آوازیں لگانا شروع کر دیں گی ۔”اپنی کرسی چھوڑتے اسکے پاس رک کر اسکا کندھا تهپتهپاتے وہ اندر کی جانب بڑھ گئے تو وہ بھی انکی معیت میں اٹھ کر پیچھے چل دیا تھا ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

وہ آفس کے لئے نکل رہا تھا جب مین گیٹ سے سبرینہ اندر داخل ہوئی تھی ۔گاڑی ان لاک کرتے اس نے ایک نظر بس اسے دیکھا تھا پھر کار نکالنے کے لئے گیٹ کھولنے آگے بڑھا تھا جب سبرینہ اسکے پاس سے گزرتے ہوئے رکی تھی ۔

“بات سنو !”وہ اس سے چار سال بڑا تھا مگر آپ جناب جیسے تکلفات میں وہ کبھی نہیں پڑی تھی ۔بحالت مجبوری وہ رک کر اسکی طرف دیکھنے لگا تھا ۔

“ابو کو کیا پٹیاں پڑھائی ہیں تم نے ؟”تنے ہوئے چہرے کے ساتھ وہ نخوت سے بولی تھی ۔

“ایکسکیوز می ؟”میسم کی نظروں میں واضح ناگوای در آئی تھی ۔

“سب جانتی ہوں میں ۔زیادہ معصوم مت بنو ۔ابو کے سامنے جو تم بہت ہی فرمانبرداری اور شرافت کا ڈرامہ کرتے ہو تو یہ چالیں وہاں تک ہی کامیاب ہیں ۔میں تمہاری اصلیت پہلے بھی جانتی تھی اور اب بھی تم سے اچھے سے واقف ہوں ۔”وہ پھنکاری تھی ۔میسم صبح صبح کی اس بحث سے جی بھر کے بے زار ہوا تھا ۔

“تو کس نے روکا ہے جا کر باقی سب کو بھی بتا دو ۔”کوفت زدہ سا کہتا وہ جان چھڑانے کے سے انداز میں کہہ رہا تھا ۔

“بتاؤں گی اور بہت اچھے سے بتاؤں گی اور یہ جو تم میری معصوم بہن کی زندگی برباد کرنے کے اب خواب دیکھ رہے ہو نا خواب ہی رہیں گے یہ ۔دیکھ لینا تم ؟”سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ وہ اسے انگلی اٹھا کر چیلنج کر رہی تھی ۔میسم نے سر جھٹک کر تمسخر آمیز انداز میں مسکرا کر اسے دیکھا تھا ۔پھر کمال فرمانبرداری سے سر کو ہاں میں ہلایا تھا ۔

“دیکھ لیں گے ۔اب میں جاؤں ؟”ابرو اچکا کر کہتا وہ اسے ہمیشہ سے زیادہ زہر لگا تھا ۔

“ہمارے ایسے نصیب کہاں جو تم چلے جاؤ ۔تم تو گئے ہوئے واپس آ کر ہمارے سروں پر مسلط ہو گئے ہو ۔مگر اگر یہ تسلط میری بہن کی زندگی پر جمانے کی کوشش کی تو میں تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا دوں گی ۔”اسکا حقارت بھرا لہجہ اب میسم کے ماتھے پر بھی تیوری کا باعث بننے لگا تھا ۔اک سرد کاٹ دار نگاہ اس پر ڈال کر اس نے اپنے ہاتھ پینٹ کی جیبوں سے باہر نکالے تھے ۔

“تو پھر بہتر ہو گا سبرینہ محمود تم اپنی اینٹیں اکٹھی کرنا شروع کر دو ۔”ٹھنڈے ٹھار انداز میں کہتا وہ اسکے پاس سے گزر کر تیزی سے آگے بڑھ گیا ٹھا ۔پیچھے وہ اسکی پشت کو گھورتی شدید اشتعال میں اندر کی جانب بڑھی تھی ۔

لاؤنج میں ہی محمود صاحب بیٹھے مل گئے تھے ۔بیٹی کے تیور دیکھ کر صورت حال بھانپتے مسکرا کر اسکا خیر مقدم کرنے اٹھ کھڑے ہوئے ۔صائمہ اس خبر پر اسکے متوقع ردعمل کے بارے میں پہلے ہی اپنے خدشات کا اظہار کر چکی تھیں اور ایسے ہی کچھ تحفظات انہیں خود بھی لاحق تھے ۔

“آؤ بیٹا ۔کیسی ہو ؟”اسکے قریب آنے پر اسکے پھولے چہرے کے بر عکس وہ بڑے نارمل سے انداز میں اسکا سر سینے سے لگا کر بوسہ لیتے پوچھ رہے تھے ۔

“ٹھیک ہوں میں ۔”الفاظ کے بر عکس وہ ٹھیک تو کسی صورت نہیں لگ رہی تھی ۔

“میں شانزے کو دیکھتی ہوں ۔”نروٹھے لہجے میں کہتی وہ آگے بڑھنے کو تھی جب انہوں نے اسے پکارا ۔

“سبرینہ ۔۔۔۔۔کوئی مسئله ہے بیٹا ۔”اپنے کمرے سے نکلتی صائمہ بھی انکی طرف بڑھ آئی تھیں ۔

“ابو آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ؟”بے یقینی سے انہیں دیکھتے اس سے شکایت کی تھی ۔

“میں اسکا باپ ہوں ۔میں ہی تو ایسا کر سکتا ہوں ۔”اسکی طرف مڑتے انہوں نے انتہائی سنجیدگی سے کہا تھا ۔

“باپ ہیں مگر لیکن آپ اسکے ساتھ زيادتی کر رہے ہیں ۔ایک ایسا شخص جو کسی صورت میری بہن کے قابل نہیں ۔۔۔”

“سبرینہ ۔”اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ اسے سخت آواز میں ٹوک گئے تھے ۔

“میں اسکا باپ ہوں اور ابھی میں زندہ ہوں ۔کون اسکے قابل ہے کون نہیں یہ فیصلہ میں خود کروں گا ۔تم نے اپنی زندگی کا فیصلہ خود کیا تھا میں نے پوری خوشی سے تمہارا ساتھ دیا ۔اب شانزے کے معاملے سے تم خود کو دور رکھو بیٹا ۔”انکے تنبیہی انداز پر وہ بھونچکا کر انہیں دیکھ رہی تھی ۔محمود آفندی نے اپنی بیٹیوں سے تمام عمر اس انداز میں بات نہیں کی تھی ۔صائمہ بھی پریشان حال سی پاس کھڑی کبھی شوہر کا حد درجہ سنجیدہ چہرہ تو کبھی بیٹی کا غصے سے سرخ پڑتا رنگ دیکھ رہی تھیں ۔

“میں کیوں دور رکھوں خود کو ابو ۔وہ میری بہن ہے کوئی بے زبان جانور نہیں جسے آپ بھتیجے کی محبت میں قربان کر رہے ہیں ۔”وہ بھی سدا کی منہ پھٹ تھی ۔اب بھی سارے لحاظ بالائے طاق رکھتے ہوئے اونچی آواز میں بولی تھی ۔محمود آفندی نے ناپسندیدگی سے اسے دیکھا تھا ۔

“آواز نیچی رکھو ۔بھائی صاحب اوپر اپنے کمرے میں ہیں ۔”دبی ہوئی آواز میں درشتگی سے اسے باور کروایا تھا ۔انکے بولنے کے شور سے شانزے بھی اپنے کمرے سے باہر نکل آئی تھی اور اب نا سمجھی بھری نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی جو آمنے سامنے خطرناک تیور لئے کھڑے تھے ۔

“اچھا ہے سن لیں تایا ابو ۔انہیں بھی احساس ہو یہ کس قدر بے جوڑ رشتے بنائے جا رہے ہیں اس گھر میں ۔اپنی کوئی بیٹی تو ہے نہیں جو دوسروں کی بیٹیوں کی زندگی برباد کرتے انہیں کوئی احساس ہو ۔”سینے پر ہاتھ باندھتے وہ بے خوفی سے کہہ رہی تھی ۔صائمہ تیزی سے اسکی جانب بڑھی تھیں جس کی کڑوی زبان انہیں اکثر شرمسار کر دیا کرتی تھی ۔محمود صاحب قہر آ لود نظروں سے اسے گھور کر ره گئے ۔

“صائمہ سمجھاؤ اپنی لاڈلی کو ۔یہ نہ ہو غصے میں میرا ہاتھ اٹھ جائے اب ۔”ماتھے پر آئے پسینے کو صاف کرتے وہ ہانپنے لگے تھے ۔وہ بہت ٹھنڈے مزاج کے حامل تھے شانزے نے انہیں کبھی یوں غصہ ہوتے نہیں دیکھا تھا وہ انکی جانب بڑھ آئی تھی ۔

“میری تو ہر بات بری لگتی ہے ابو آپ کو ۔آپ شانزے سے پوچھ لیں وہ خود اس رشتے سے راضی نہیں ہے ۔”

ماں کے آنکھیں نکالنے کے باوجود وہ باز نہیں آئی تھی ۔اپنے نام پر شانزے سٹپٹائی نظروں سے بہن کو دیکھنے لگی تھی جو بڑے یقین سے اب اسے ہی دیکھ رہی تھی جیسے اسکے کہے کی تردید وہ کسی صورت نہیں کرے گی ۔

“تم اپنی رائے اس پر مسلط مت کرو ۔وہ خود سمجھدار ہے اپنا بھلا برا خود سوچ سکتی ہے ۔”سبرینہ کو کہتے انہوں نے شانزے کو دیکھا تھا ۔

“بتاؤ بیٹا تم نے کیا سوچا ہے ۔”انکے نرمی سے پوچھنے پر شانزے نے مدد طلب نظروں سے ماں کو دیکھا تھا جو خود بے بس سی کھڑی تھیں ۔

“ہاں شانزے کسی دباؤ میں آنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے تمہاری پوری زندگی کا سوال ہے ۔”سبرینہ نے اسکی ہمت بڑھانی چاہی ۔

“تم چپ رہو سبرینہ ۔”سخت نظروں سے اسے دیکھتے انہوں نے ٹوکا تھا وہ نخوت سے سر جھٹک گئی ۔

“تم بولو بیٹا ۔جو تم چاہتی ہو بنا کسی ڈر اور دباؤ کے ۔”اسکے شانے پر اپنا دست شفقت رکھتے وہ مسکرا کر کہہ رہے تھے ۔نم آنکھوں سے شانزے نے پہلے سبرینہ کو دیکھا تھا جو آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے اشارہ کرتے بنا آواز کے ہلتے لبوں سے بولنے کو کہہ رہی تھی ۔پھر بے چارگی سے باپ کو دیکھا تھا جو بظاہر مسکرا کر اسکے جواب کے منتظر تھے مگر انکی پر امید آنکھوں میں بے چینی کے ہلکورے اسے سر جھکانے پر مجبور کر گئے تھے ۔اور پھر اسکی دبی دبی آواز گونجی تھی ۔

“میں نے یہ فیصلہ ابو پر چھوڑا تھا مجھے انکا اپنے بارے میں ہر فیصلہ منظور ہے ۔”بنا کسی کی طرف بھی دیکھے اس نے کہا تھا ۔محمود آفندی کے لبوں سے اک تشکر آمیز سانس خارج ہوا تھا ۔

“خوش رہو ۔”اسکا سر محبت سے تهپتھپاتے انہوں نے اک جتاتی نظر بڑی بیٹی پر ڈالی تھی جو آنکھیں بے یقینی و صدمہ سے پھاڑے ابھی بھی شانزے کو دیکھ رہی تھی ۔

“میں نے کہا تھا نا میری بیٹی بہت سمجھ دار ہے ۔وہ کھرے کھوٹے کا فرق پہچانتی ہے ۔”وہ بظاہر صائمہ سے مسکرا کر کہہ رہے تھے مگر سبرینہ کو وہ کسی طنز کی طرح لگا تھا ۔

“آپ نے اسے ایموشنل بلیک میل کیا ہے ابو ۔اور یہ تو ہے ہی بیوقوف جذبات میں آ کر اپنی زندگی تباہ کر رہی ہے ۔خیر بھاڑ میں جائے یہ میں ہی پاگل تھی جو اس کے لئے آواز اٹھانے چلی آئی ۔جا رہی ہوں میں ۔”ماں کا ہاتھ اپنے شانے سے ہٹاتی وہ جلتی کڑھتی انہیں قدموں واپس ہو لی تھی ۔

“سبرینہ بیٹا ۔۔۔۔بات تو سنو ۔”صائمہ نے اسکے پیچھے جانا چاہا تھا ۔

“جانے دو صائمہ اسے فلحال وہ اپنے بغض کی آگ میں اندھی ہوئی پڑی ہے کچھ دکھائی نہیں دے رہا اسے ۔کچھ دن گزرنے دو خود ہی ٹھیک ہو جائے گی ۔”انکے سختی سے منع کرنے پر صائمہ دل مسوس کر ره گئیں ۔

“تم کیوں رو رہی ہو پاگل ۔”آنسو بہاتی شانزے کا سرتھپکا ۔

“آپی ناراض ہو کر گئی ہیں ابو ۔”رندھے ہوئے لہجے میں وہ بولی تھی ۔

“تو کون سا پہلی بار ایسا ہوا ہے اسکی مرضی کے خلاف کچھ بھی ہو وہ ہمیشہ ایسے ہی ناراض ہو کر جاتی ہے ۔تھوڑے دن بعد ٹھیک ہو جاتی ہے اس بار بھی ایسا ہی ہو گا تم رونا بند کرو ۔جاؤ میرے لئے اچھی سی چائے بنا کر لاؤ ۔بلکہ پہلے جا کر دیکھو تایا ابو کو سر درد کا آرام آیا کہ نہیں ۔ان سے بھی چائے کا پوچھ لینا ۔”اسے پچکارکر کہتے وہ خود صوفے پر بیٹھ گئے تھے ۔وہ سر ہلا کر ایک نظر ماں کو دیکھتی سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی تھی ۔چال کی مژدگی حد سے سوا تھی ۔جو فیصلہ وہ ساری رات جاگ کر نہ کر سکی تھی باپ کے چہرے پر پڑنے والی ایک نگاہ نے کروا دیا تھا ۔تو کیا واقع ہی اس نے جذبات میں آ کر غلط فیصلہ کر دیا تھا ۔سبرینہ کے الفاظ اسے مزید دلبرداشتہ کر رہے تھے ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

سبرینہ ناراض ہو کر گئی تھی ۔اس کے باوجود شام تک گھر کا ماحول خوش گوار ہو چکا تھا ۔آناً فاناً جنگل میں آگ کی طرح رشتہ طے پانے کی خبر پورے خاندان میں پھیل گئی تھی ۔جو بھی سنتا حیرت کا ایک بار تو اظہار ضرور کرتا ۔عجیب چہ میگوئیاں شروع ہو گئی تھیں ۔بھلا محمود آفندی کو ایسی بھی کیا مجبوری تھی جو اپنی پڑھی لکھی ،خوبصورت ،کم عمر بیٹی دو بار کے طلاق یافتہ مرد سے کرنے کو تیار ہو گئے تھے ۔گھر میں مبارک باد دینے کے لئے آنے والی آس پڑوس آنٹياں اور رشتے دار خواتین بھی دبے دبے لفظوں میں جتا کر ہی جاتی تھیں ۔صائمہ تو ایسے میں ازراہ مروت مسکرا کر بات ٹال جاتیں مگر آتے جاتے کوئی جملہ شانزے کے کانوں میں پڑتا تو اسے اپنی قسمت پر اور رونا آتا ۔دل پہلے ہی اچاٹ تھا مزید بے زار ہونے لگتا ۔آتے جاتے ہوئے میسم کہیں دکھائی دے جاتا تو اسے یوں جلا دینے والی نظروں سے دیکھتی جیسے سارا کیا دھرا ہی اسی کا ہو ۔

وہ تو چلتا پھرتا روبوٹ تھا چہرے پر سجی سنجیدگی اور بے تاثر پن ہنوز ہر وقت قائم رہتا تھا مگر اسے دیکھ کر وہ ضرور غصے سے لال پیلی ہری ہونے لگتی تھی بلکہ اب تو اسے لگتا تھا وہ خود چلتی پھرتی ست رنگی دھنک بن گئی ہے ۔چہرے پر ایک رنگ آتا تو دوسرا جاتا ۔اس پر مستزاد سبرینہ اسکے کسی کال اور میسج کا جواب نہیں دے رہی تھی ۔اتنے دن ہو گئے تھے اسکی ناراضگی اس بار ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔محمود آفندی خود اس کے گھر جا کر اسے مناکر آئے تھے جس کے بعد بلاآخر اسے شانزے کی کال اٹھانے کی یاد آ ہی گئی تھی ۔

“ابھی تک ناراض ہیں ؟”حال احوال پوچھنے کے بعد اسکے لہجے کے بیگانے پن پر وہ پوچھے بنا نہ ره سکی تھی ۔

“تو کیا نہیں ہونا چاہیے ؟میں وہاں تمہارے لئے لڑ رہی تھی شانزے کہ رات کو کال کر کے روتے ہوئے تم نے کہا تھا تمہیں اس سے شادی نہیں کرنی ۔اور تم ۔۔۔۔تم نے کیا کیا ۔ابو کے سامنے اپنے فرمانبردار بیٹی ہونے کا رول نبهاتے نبهاتے اپنے پیر کو آپ کلہاڑے پر دے مارا ۔خیر میری بلا سے میرا کیا جاتا ہے اپنا کیا اب خود بھگتنا تم ۔”وہ بڑی بے رحمی سے تجزیہ کرتے اسکے دل کا تیا پانچہ کر گئی تھی ۔

“سوری آپی !مجھے پتہ ہے آپ میرے لئے بول رہی تھیں مگر میں کیا کرتی ؟آپ نے دیکھا تھا نا ابو کو کس قدر امید تھی مجھ سے میں چاہ کر بھی انکار نہیں کر پائی ۔کس قدر دکھ ہوتا انہیں ۔”وہ مزید دلگرفتہ ہوئی ۔

“تو بس پھر رونا کس بات کا ہے خوشی خوشی دلہن بننے کی تیاریاں کرو ۔ابو کی نظروں میں اچھی بیٹی کا امیج سلامت رکھ لیا ہے نا تم نے اب زندگی بھر روتی رہنا انکی خوشی کے چکروں میں ۔”وہ اسکی بیوقوفانہ منطق پر کڑھ کر کال ڈراپ کر گئی تھی ۔سبرینہ نے خود ہمیشہ اپنی زندگی کے ہر فیصلے میں اپنی مرضی کو مقدم جانا تھا ۔اسکے نزدیک اپنی زندگی انسان کو اپنی خوشی کے لئے گزارنی چاہیے نہ کہ ساری عمر دوسروں کو خوش کرنے کے جتن کرنے میں ۔اپنے کپڑوں جوتوں سے لے کر پڑھائی اور پھر شادی تک کا فیصلہ اسکی اپنی پسند سے ہوا تھا ۔اسکی من مانی کی یہ عادت اس قدر پختہ ہو گئی تھی کہ خود سے نو سال چھوٹی شانزے کو بھی بہت سے معاملوں میں وہ اپنا تابع بنا چکی تھی ۔بچپن میں ہی جو چیز اسے اچھی نہیں لگتی تھی پھر بھلے وہ شانزے کو کتنی پسند کیوں نہ ہو وہ اسے کبھی وہ چیز لینے نہیں دیتی تھی ۔بلکہ اس میں سے اتنی میخ نکالتی کہ خود شانزے کا دل اس چیز سے بے زار ہونے لگتا تھا ۔

وقت کے ساتھ ساتھ یہ عادت پختہ ہوتی چلی گئی تھی ۔میسم عبّاس سے سبرینہ کی بچپن سے نہیں بنتی تھی ۔وجہ اسکی روکھی سوکھی سی طبیعت تھی ۔وہ بچپن سے کم گو ثابت ہوا تھا ۔اور کچھ وہ اپنی عمر کی نسبت زیادہ سنجیده اور بردبار طبیعت رکھتا تھا ۔محمود آفندی کا اس سے لگاؤ بچپن سے زیادہ تھا ۔باقی بھتیجوں کی نسبت وہ اسے زیادہ اہمیت دیتے تھے اور کبھی كبهار وہ اسے سبرینہ پر بھی ترجیح دے جایا کرتے تھے ۔ایسے میں وہ بے وجہ اس سے چڑنے لگی تھی اور جوانی تک پہنچتے یہ چڑ ناپسندیدگی میں بدلنے گی تھی ۔شانزے اس سے نو سال چھوٹی تھی اس لئے جہاں وہ اسکا بہت خیال رکھتی تھی وہاں وہ اس پر کنٹرول بھی خوب رکھتی تھی ۔اسے کیا کھانا ہے اسکول میں کس سے دوستی کرنی ہے ۔کون سے کپڑے پہننے ہیں سب میں اسکی چلتی تھی ۔صائمہ نے اسے ہمیشہ اسکی بڑی بہن ہونے کے ناطے محبت کی نظر سے دیکھا تھا ۔مگر وقت تھوڑا اور آگے بڑھا تو انہیں یہ چیز کھٹکنے لگی تھی ۔شانزے کی اپنی شخصیت اس سب میں دبنے لگی تھی جو ان کے لئے تشویش کا باعث تھا ۔رفتہ رفتہ انہوں نے سبرینہ کو ٹوکنا شروع کر دیا تھا مگر تب تک شانزے اس پر انحصار کی اتنی عادی ہو چکی تھی کہ اب اسکا اپنا گزارا بہن کی رائے کے بغیر ناممکن تھا ۔

میسم سے سبرینہ کی چڑ غیر محسوس انداز میں شانزے میں بھی منتقل ہوئی تھی ۔جب گھر میں سبرینہ اور میسم کے رشتے کی بات چلی تو سبرینہ نے اسقدر واویلا مچایا تھا کہ کہیں نہ کہیں اس کے گیارہ سالہ ذہن میں یہ بات پختہ ہو گئی تھی ضرور میسم میں ہی کچھ برائی ہے جو اسکی بہن اس سے شادی کے لئے آماده نہیں ہوئی ۔سبرینہ کی مرضی نہ دیکھ کر گھر کے بڑوں نے چپ سادھ لی تھی ۔پھر فریحہ سے میسم کی شادی ہو گئی ۔شروع شروع میں تو سب ٹھیک رہا تھا مگر پھر شادی کے دو تین ماہ بعد ہی فریحہ نے دبے دبے لفظوں میں میسم کے بارے میں باتیں کرنا شروع کر دی تھیں ۔سبرینہ کو جہاں میسم ایک آنکھ نہ بھاتا تھا اسکی بیوی سے بڑی گاڑھی جم گئی تھی ۔میسم کے آفس ٹائم میں فریحہ اکثر انہی کے پورشن میں پائی جاتی تھی ۔اور زیادہ تر وہ سبرینہ کے کمرے میں ہی بیٹھا کرتی تھیں ۔ایسے میں شانزے اور سبرینہ کا ایک ہی کمرہ ہونے کے باعث اکثر شانزے بھی اپنے کمرے میں موجود ہوم ورک کرنے یا اپنے بستر پر آرام کر رہی ہوتی تھی ۔وہ دونوں آپس میں دھیمی آواز میں باتیں کرتے کبھی اسے سویا ہوا جان کر تو کبھی اپنی پڑھائی میں مصروف دیکھ اس سے بالکل غافل ہو جایا کرتی تھیں ۔ایسے میں فریحہ کے میسم سے سارے گلے شکوے نا چاہتے ہوئے بھی اس کے کانوں تک پہنچ ہی آتے تھے ۔

میسم اس پر شک کرتا ہے ۔اسے اسکے کزنز سے اسکا بات کرنا پسند نہیں ۔وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس سے لڑتا ہے ،بے عزتی پر اتر آتا ہے ۔فریحہ اسکے ساتھ خوش نہیں ہے ایسی بہت ساری باتیں ڈسکس ہوتی تھی اور آخر میں فریحہ بڑی حسرت سے سبرینہ سے کہا کرتی تھی اسکی قسمت اچھی ہے جو وہ میسم جیسے خود پسند ، تنگ نظر و دل انسان سے بچ گئی تھی ۔ایسے میں اسکی بھرا ئی آواز اور اکثر بھیگی آنکھیں دیکھ اسے فریحہ سے ہمدردی ہونے لگتی تھی ۔وہ ایک ایسی پری جیسی لگتی جو کسی ظالم دیو کی قید میں ہو ۔سبرینہ اسکی ہمت بندھاتی ۔اسے اپنے لئے اسٹینڈ لینے کا کہتی ،اپنے گھر والوں کو اس سب میں انوالو کرنے کو کہتی تو وہ ہر بار منع کر دیتی ۔اس امید پر کہ شاید میسم بدل جائے ۔

مگر وہ نہیں بدلا تھا بلا آخر وہ ہوا تھا جس کا کسی نے سوچا تک نہیں تھا ۔اس شام شانزے فریحہ کو ڈھونڈتی اس کے کمرے میں گئی تھی جب بے دھیانی میں بنا دستک کے دروازہ کھولنے پر اس نے اپنی آنکھوں سے میسم کو غصے کی حالت میں نیم پاگل ہوتے فریحہ کا گلا دباتے دیکھا تھا ۔فریحہ نے چینخ چینخ کر پورے گھر کو اکٹھا کر لیا تھا اور پھر جو انکشافات ہوئے تھے اس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔

وہ رو رو کر اسکا ایک ایک ظلم گنوا رہی تھی ۔بہتے آنسوؤں کے ساتھ اسکے گال پر میسم کی انگلیوں کے نشان اس قدر واضح تھے کہ اسکی باتوں سے اختلاف کی راہ بچتی ہی نہیں تھی ۔میسم اسے مارتا ہے اس پر شک کرتا ہے ،اس سے لڑتا جھگڑتا ہے سے بات شروع ہو کر جس نقطے پر ختم ہوئی تھی وہ بھیانک ترین تھا ۔فریحہ نے الزام لگایا تھا کہ میسم نے اپنے ہی بچے کے ابارشن کے لئے اسے فورس کیا تھا وہ فلحال بچہ نہیں چاہتا تھا اور اسکے ڈر سے مجبور ہو کر وہ یہ قبیح فعل سرزد کر بھی چکی تھی ۔

سب بے یقینی سے میسم کو دیکھ رہے تھے جو سرخ آنکھوں اور سفید پڑتی رنگت میں چپ چاپ بنا کسی تردید کے سب سن گیا تھا ۔کوئی احتجاج نہیں کیا گیا تھا ،کوئی وضاحت کوئی صفائی پیش نہیں کی گئی تھی ۔صاف ظاہر تھا فریحہ جو کہہ رہی تھی سب سچ تھا اور میسم ہی اصل قصور وار تھا ۔گھر والوں نے صلح صفائی کی کوشش کی تھی مگر فریحہ کی ایک ہی رٹ تھی وہ میسم کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی اسے اس سے طلاق چاہیے تھی بصورت دیگر وہ کورٹ جانے کو بھی تیار تھی ۔اسکے گھر والے بیٹی سے ہوئی زيادتی پر سیخ پا تھے ایسے میں انکی ساری سپورٹ بیٹی کے ساتھ تھی ۔پہلے ہی سب میں خوب تماشہ بن چکا تھا مزید رسوائی سے بہتر تھا میسم خود ہی اسے طلاق دے دیتا مگر یہاں وہ اڑ گیا تھا ۔وہ کسی صورت نہ تو فریحہ کو ساتھ رکھنے کا متقاضی تھا نہ ہی اسے طلاق دینے پر آماده ۔ایسے میں سجاد آفندی اور اسکی ٹھن گئی تھی ۔دونوں کے درمیان خوب گرماگرمی ہوئی تھی ۔زندگی میں پہلی بار وہ باپ کے سامنے اونچیآواز میں بات کر رہا تھا ۔سجاد آفندی کا اس پر ہاتھ اٹھتے اٹھتے ره گیا تھا ۔محمود آفندی نے بڑی مشکل سے بپھرے ہوئے بڑے بھائی کو قابو میں رکھتے میسم کا بچاؤ کیا تھا ورنہ اسکا گال انکے تهپڑوں کی زد میں ہوتا ۔

بلا آخر ماں کے منت کرنے اور ہاتھ جوڑنے پر مجبور ہوتے میسم نے بحالت جبر فریحہ کو طلاق دی تھی ۔مگر پھر وہ خود بھی یہاں نہیں رہا تھا دو ماہ کے قلیل عرصے میں وہ امریکا چلا گیا تھا ۔سب اسکی ناراضگی سمجھنے سے قاصر تھے ۔غلطی اسکی اپنی تھی اس کے باوجود وہ اس قدر غصہ و ناراضگی کا اظہار کر رہا تھا یہ سمجھ سے باہر تھا ۔رفته رفته سب نے اسے اسکے حال پر چھوڑ دیا تھا ۔ایسے میں محمود آفندی نے اس سے رابطہ بنائے رکھا تھا ۔جو بھی ہوا تھا اس میں میسم کی مجرمانہ خموشی کے باوجود انکا دل ان سب الزامات کو ماننے سے انکاری تھا ۔اسکے یہاں ہوتے ہوئے انہوں نے کہیں بار اس سے سچ پوچھنا بشری اسکے لئے روتی رہتی تھیں ۔اسکا دکھ انہیں وقت سے پہلے بستر مرگ تک لے گیا تھا یہ بھی اسکی خوش نصیبی تھی جو انکے مرنے سے پہلے وہ آ کر ان سے مل گیا تھا ورنہ یہ كسک ساری زندگی رہتی ۔مگر اسکے بعد جو وه گیا تو آٹھ سال تک واپس پلٹ کر نہ دیکھا ۔

وہ گیا تھا تو سب کی زندگیوں میں اک بھونچال لا کر گیا تھا ۔اب واپس آیا تھا تو بھی سر پر آسمان ہی گرايا تھا اور اس بار اسکی زد میں شانزے آئی تھی ۔اسکا چڑیا جتنا دل بری طرح زخمی ہوا تھا ۔

وہ موبائل ہاتھ میں لئے اپنے ہوئے نقصان کا تخ مینہ لگا رہی تھی جب گیٹ کھلا تھا اور اسکی گاڑی اندر داخل ہوئی تھی ۔اسے دیکھ کر اسکا زور زور سے رونے کا جی چاہا تھا ۔بھلا کسی کی قسمت یوں بھی پھوٹتی ہو گی جس طرح اسکی پھوٹی تھی ۔کار سے نکلتے ہوئے میسم کی بس ایک سرسری سی نظر اسکی جانب اٹھی تھی ۔حسب حال وہ اسے سخت نظروں سے گھور رہی تھی ۔اگلے ہی پل نظر ہٹا کر وہ بے نیازی سے اندر کی جانب بڑھ گیا تھا ۔

“اللّه پوچھے آپ سے میسم بھائی ۔میری ہنستی بستی زندگی میں آگ لگا کر خود پر سکون ٹھنڈی سانسیں لے رہے ہیں آپ ۔میں مر کیوں نہیں جاتی ۔بلکہ میں کیوں؟مجھ معصوم کی کیا غلطی ؟ جو کرے وہی بھرے میسم بھائی آپ کیوں نہیں مر جاتے ۔”غم و غصے سے پاگل ہوتے وہ خود نہیں جانتی تھی وہ کیا سوچ رہی ہے ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

گھر میں شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں ۔صائمہ آئے دن بازاروں کے چکر کاٹ رہی تھیں ۔ایسے میں اسے ہول اٹھ رہے تھے ۔امی کی منت سماجت پر سبرینہ بھی اپنی ضد چھوڑ کر انکی مدد کو آ پہنچتی تھی ۔شاپنگ اسکا پسندیده مشغلہ تھا ۔شانزے نے سب اسکے سر ڈال کر خود کی جان خلاصی کروا لی تھی ۔بازاروں کے چکر لگاتے اسے پہلے بھی موت پڑتی تھی آج کل تو صحیح معنوں میں دل ہی مرده ہوا تھا ۔

کچھ ہی دنوں میں علی کی فیملی بھی آنے والی تھی ۔جوں جوں دن قریب آ رہے تھے اسکا چہرہ اترتا جا رہا تھا ۔محمود آفندی کے سامنے وہ بے دلی سے مسکراتی تو لگتا اب ساری عمر یہی ایکٹنگ کرتے ہی گزرنے والی تھی ۔صائمہ اسکی کیفیت سمجھ رہی تھیں اس لئے اسے زیادہ چھیڑتی نہیں تھیں ۔پہلے کی طرح بهگا بهگا کر اس سے کام بھی نہیں کرواتی تھیں ۔آتے جاتے ہوئے اسے خود سے لگا کر پیار کرتیں تو اسکی آنکھیں بے اختیار نم ہونے لگتیں ۔

اسکا برائیڈل ڈریس آ گیا تھا ۔سبرینہ دوپٹہ اس کے سر پر ٹکائے اسے دیکھ کر تمسخر سے مسکرائی تھی ۔

“بہت پیاری لگو گی دولہن بن کر مگر افسوس ایک ایسے مرد کی سیج سجانے جا رہی ہو جو تیسری بار اس تجربے سے گزر رہا ہے ۔تمہارے حصے میں کیا آئے گا اسکے بوسیده جذبات ۔”بھاری کامدار دو پٹہ شانزے کے سر سے ڈھلک گیا تھا ۔

“آپی ۔۔۔”تیزی سے آنکھوں میں تیرتی نمی کے ساتھ اس نے التجائی انداز میں اسے پكارا تھا ۔پتہ نہیں وہ اتنی سفاک کیوں بن جایا کرتی تھی ہر وقت اپنی طنزیہ باتوں سے اسکے معصوم پہلے سے ٹوٹے دل کو اور کرچی کرچی کرنے کو تیار رہتی ۔

“کیا آپی؟ دل مضبوط کرو اپنا شانزے محمود ۔اتنی بڑی قربانی دینے جا رہی ہو آسان تو نہیں ہو گا ۔پتہ نہیں کیا کیا سہنا پڑے گا ۔”اس کے پر سرار سے انداز پر دو پٹہ سر سے اتار کر نا سمجھی سے اسے دیکھا تھا ۔

“کیا کہنا چاہ رہی ہیں آپ ؟”

“اتنی بچی بھی مت بنو شانزے ۔مرد بڑا کینہ پرور مخلوق واقع ہوئی ہے ۔اور تم سے تو میسم کے حساب بھی بہت سے نکلتے ہیں ۔”اسکے بھولپن پر وہ کوفت زدہ سی بولی ۔

“کیسے حساب ؟”۔سرسراتی آواز میں نا چاہتے ہوئے بھی خوف گھل گیا تھا ۔سبرینہ نے اسکی عقل پر ماتم کرتے اسے تاسف بھری نظروں سے دیکھا تھا ۔

“تم بھول سکتی ہو شانزے تم سبرینہ محمود کی بہن ہو مگر میسم یہ بات کبھی نہیں بھولے گا ۔جانتی ہو نا سبرینہ کون تھی ؟سبرینہ وہ تھی جس نے پہلی بار میسم عبّاس کو ٹھکرایا تھا ۔اور مرد اپنے آپ کو ٹھکرانے والی عورت کو کبھی نہیں بھولتا ۔اس کے خلاف عناد اپنے دل میں ہمیشہ پالے رکھتا ہے ۔اگر وہ بدلا تم سے لینے پر اتر آیا تو کیا ہو گا سوچا ہے تم نے ؟”اسکی زرد پڑتی رنگت بھی اسے گل فشانی کرنے سے روک نہیں پائی تھی ۔

“چلو ہم کچھ دیر کے لئے اس بات کو نظر انداز کر بھی دیں تو کیا میسم یہ بھول گیا ہو گا جو تمہاری وجہ سے اسکے ساتھ ہوا تھا ؟یاد ہے فریحہ کو زد و کوب کرتے تم نے ہی اسے دیکھا تھا اور فریحہ کے حق میں گواہی بھی تایا ابو اور سب گھر والوں کے سامنے تم نے دی تھی جس نے فریحہ کے کیس کو مضبوط کیا تھا ۔تمہیں کیا لگتا ہے میسم کو یہ یاد نہیں ہو گا کیا ؟”دم سادھے سنتے اسکی آنکھ سے آنسو بہہ نکلے تھے مگر سبرینہ کو اس پر ترس نہیں آیا تھا ۔زندگی میں پہلی بار شانزے نے اسکی کسی بات سے انخراف کیا تھا وہ اسے معاف تک کرنے کو تیار نہیں تھی ۔اس گھر میں آتے ہوئے اسکا جتنی بار بھی میسم سے سامنا ہوتا تھا اسے ره ره کر شانزے پر غصہ آتا تھا ۔اس دن باہر کھڑے ہو کر اس نے کس قدر کروفر سے کہا تھا وہ اسکی شانزے سے شادی نہیں ہونے دے گی ۔اور وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتی اگر شانزے پیچھے نہ ہٹتی ۔اسکی وجہ سے اسے میسم کے سامنے سبکی اٹھانی پڑی تھی ۔اس کی اپنی طرف اٹھتی نگاہیں خود پر ہنستی محسوس ہوتی تھیں جب وہ کبھی مارکیٹ سے صائمہ کے ساتھ واپس آتی اور وہ کبھی گھر میں موجود ہوتا ۔کیا سوچتا ہو گا وہ باتیں تو بڑی بڑی کی تھیں اب کس منہ سے اسکی شادی کی تیاریاں کرتی پھر رہی تھی ۔

“وہ جو نظر آتا ہے نا شانزے وہ ہے نہیں ؟اس نے فریحہ کو کتنا ٹارچر کیا مگر کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہونے دی تھی ۔کتنا معصوم بنا پھرتا رہا تھا ۔بنیادی طور پر وہ چھپ کر وار کرنے والوں میں سے ہے ۔سب کے سامنے اچھا بننے کا ڈھونگ رچائے وہ اپنی اصلیت سامنے تک نہیں آنے دیتا مگر اپنی فطرت بدل بھی نہیں سکتا ۔ورنہ پہلی کے بعد دوسری شادی کیوں ناکام ہوتی ؟اس لئے اسکی زندگی کا حصہ بننے سے پہلے خود کو ہر لحاظ سے پوری طرح تیار رکھنا ۔ہوں ؟”اسکا خوفزدہ چہرہ تهپتهپا کر وہ کمرے سے باہر نکلتی چلی گئی تھی ۔پیچھے ہوائیاں اڑے چہرے کے ساتھ وہ بیڈ پر بیٹھتی چلی گئی تھی ۔بیڈ پر پڑے اپنے عروسی جوڑے کا دوپٹہ بیڈ پر رکھے ہاتھ کے نیچے آیا تھا ۔اک ٹوٹی ہوئی سسكی اسکے لبوں سے خارج ہوئی تھی ۔دوپٹے کو سختی سے مٹھی میں بھینچتے اس پر لگے نگ اس کی ہتھیلی میں جیسے پیوست سے ہو گئے تھے ۔درد کا احساس سا جاگا ۔شل ہوتے ذہن کے ساتھ اسے آگے صرف اور صرف اندھیروں کے گہرے بادل منڈلاتے نظر آ رہے تھے ۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

کہیں دنوں کے اعصابی دباؤ نے بخار کی شکل جو اختیار کی تو ایسا چمٹا کہ شادی کے دن بھی وہ بخار میں تپ رہی تھی ۔دولہناپے کا روپ بخار کی تمازت سے دو آتشہ ہو رہا تھا ۔ہلکے گلابی رنگ کے بھاری لهنگے میں وہ موم کی گڑیا معلوم ہوتی تھی ۔اسکے پہلو میں بیٹھے سفید بالکل سادہ کاٹن کے کرتا شلوار پر نفیس مگر کسی بھی تزئین و آرائش سے مبرا پرنس کوٹ پہنے میسم کے گلے میں تازہ گلابوں کا ہار اسے دولہا ظاہر کر رہا تھا ۔ورنہ اسکی تیاری بہت سادہ سی تھی ۔مبارک باد کے لئے اسٹیج پر آنے والے مہمان رشتہ دار سے ملتے وہ بے دھیانی میں بیٹھا تو اسکا اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتی شانزے کے گرم بخار سے تپتے ہاتھ سے ٹکرایا تھا ۔اس نے چونک کر گردن موڑے اسے دیکھا تھا جو خلاف معمول بہت خموشی سے ستے ہوئے چہرے کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی ۔وہ ہر ممکن حد تک اسے نظر انداز کیے ہوئے تھی میسم لب بھینچ کر سامنے دیکھنے لگا تھا ۔

رخصتی کے بعد ہوٹل سے گھر تک کا سفر بڑی خموشی سے کٹا تھا ۔اسکی طبیعت کے پیش نظر اسے جلد ہی کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا ۔سبرینہ ہوٹل سے ہی واپس اپنے گھر چلی گئی تھی ۔دنیا داری کی خاطر وہ سب کے سامنے تو مسکراتی رہی تھی مگر اب مزید ایکٹنگ کرنے کی اس میں بھی سکت نہیں رہی تھی ۔اس لئے بہتر یہی تھا وہ اپنے گھر واپس چلی جاتی ۔صائمہ نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا تھا ۔

شیریں نے اسے زبردستی چند نوالے کھانا کھلا کر بخار کی دوا کھلائی تھی ۔

“نکاح کے بعد میسم کے گلے ملتے محمود آفندی نے میسم سے بس اتنا ہی کہا تھا ۔

“اپنی سب سے پیاری چیز تمہیں سونپ رہا ہوں میسم خیال رکھنا ۔”

انکا چھوٹا سا فقرہ اسکے کندھوں پر کس قدر بوجھ ڈال گیا تھا میسم کو اپنے شانے انکی امیدوں کے بوجھ تلے ڈھلکتے محسوس ہوئے تھے ۔

“میسم بیٹا ۔”

سیڑ ھیاں چڑھتے اس نے صائمہ کی پکار پر پیچھے مڑ کر دیکھا تھا ۔

“شانزے کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔خرابی طبیعت میں کچھ چڑچڑی سی ہونے لگتی ہے ۔اسکا دھیان رکھنا ۔”انکے التجائی انداز پر مسکرا کر سر ہلاتا وہ سیڑھیاں چڑھ گیا تھا ۔

کمرے میں قدم رکھتے اسکے احساسات سرد سے تھے ۔کوئی نیا جذبہ ،کوئی اچھوتا سا احساس اپنے دل میں جاگتا محسوس نہ ہوا تھا ۔

کمرے کا لاک لگنے کی آواز کے ساتھ ہی وہ جو بیڈ کے کونے پر پاؤں نیچے کیے بیٹھی تھی سرعت سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔زیوروں کی جلترنگ نے میسم کو اسکی طرف متوجہ کیا تھا جو سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ کھڑی اسے حوف و ہراس بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔میسم کو اچنبھا ہوا تھا ۔وہ پچھلے تین ماہ سے اسکو دیکھ رہا تھا ۔وہ کوئی دبو قسم کی لڑکی نہیں تھی اور خود سے ڈرتے تو اس نے اسے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔

گلے میں پہنا ہار تو پہلے ہی وہ باہر کہیں اتار چکا تھا ۔پرنس کوٹ اتارتا وہ آگے بڑھا تھا ۔اسکے ہر بڑھتے قدم پر شانزے کا سانس خشک ہونے لگا تھا ۔

“کھڑی کیوں ہو ۔بیٹھ جاؤ ۔”کوٹ صوفے پر رکھتے ہوئے کہتا وہ اسکی جانب دیکھ رہا تھا جو سر کو نفی میں ہلا رہی تھی ۔اس نے قدم آگے بڑھانے چاہے تھے جسے شانزے کی تیز آواز نے وہیں روک دیا تھا ۔

“وہیں رک جائیں ۔آگے مت بڑھیے گا ۔میں بتا رہی آپ کو ۔”انگلی اٹھا کر اسے تنبیہ کرتی اسکی آواز میں خوف کی آمیزش گھلتی میسم کو حیرت زدہ کر گئی تھی ۔

“شانزے میں ۔۔۔۔”اس نے مصالحتی انداز میں ہاتھ اٹھا کر اسکی طرف پیش رفت کر نی چاہی تھی ۔

“آپ سن کیوں نہیں رہے ۔۔۔۔میں ۔۔۔میں منع کر رہی ہوں نا آپ کو ۔میں شور مچا دوں گی ۔”چینخنے کے سے انداز میں کہتی وہ گھٹی گھٹی آواز میں رو دی تھی ۔میسم نے پریشانی سے صورت حال بھانپنے کی کوشش کی تھی ۔یہ سب اسکے لئے قطعی غیر متوقع تھا ۔اسکا رونا میسم کی سمجھ سے باہر تھا ۔

“اوکے میں نہیں آ رہا پاس ۔ٹھیک ہے ؟”دھیمی آواز میں اس نے اسے بے چارگی سے دیکھتے کہا تھا ۔

“یہی آپ کے لئے اچھا ہو گا ۔میں ۔۔۔۔میں فریحہ بھابھی نہیں ہوں ۔میرے ساتھ کچھ بھی برا کرنے سے پہلے ہزار بار سوچئے گا آپ ۔میں چپ چاپ آپ کے ظلم سہنے والی نہیں ہوں اگر ۔۔۔۔۔اگر آپ نے کچھ بھی ایسا ویسا کرنے کا سوچا بھی تو میں چلا چلا کر سب کو اکٹھا کر لوں گی ۔پھر تایا ابو اور ابو مل کر اچھے سے دیکھ لیں گے آپ کو ۔مجھے کمزور سمجھنے کی غلطی مت کیجئے گا ۔”

گالوں پر بہتے آنسوؤں کو صاف کرتے وہ اسے دھمکا رہی تھی یا خود کو حوصلہ دے رہی تھی وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔مگر وہ بری طرح سے پھنسا تھا ۔نئی زندگی کی شروعات کے ساتھ ہی وہ اسے فریحہ کا طعنہ دے رہی تھی ۔ اس نئے تعلق سے کوئی خاص امیدیں پہلے بھی وابستہ نہیں تھیں اسکے الفاظ اور رویے نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی تھی ۔وہیں صوفے پر بیٹھتے اس کا چہرہ ہر طرح کے تاثر سے عاری تھا ۔وہاں صرف سنجیدگی نظر آتی تھی ۔

“بیٹھ جاؤ شانزے ۔”قدرے سختی سے کہتے وہ اس آفت کو چھبتی نظروں سے دیکھ رہا تھا جس کا وجود اب ہولے ہولے لرز رہا تھا ۔

“حکم مت چلا ئیں مجھ پر ۔مجھے بیٹھنا ہو گا تو بیٹھ جاؤں گی ورنہ یوں ہی کھڑی رہو گی ۔آپ چپ رہیں بس ۔”بہتی آنکھوں کے ساتھ اسکا آئی میک اپ بھی بہنے لگا تھا ۔میسم نے لب بھینچ کر ضبط کیا تھا ۔کون حکم چلا رہا تھا یہ تو صاف نظر آ رہا تھا ۔کچھ دیر تک وہ اسے یوں ہی دیکھتا رہا تھا جو بس رونے کے شغل میں زور و شور سے مصروف تھی ۔کمرے میں اب اسکی بندھتی ہچکیوں کی آواز گونجنے لگی تھی ۔مزید تماشہ دیکھنا اسکے لئے ممکن نہیں رہا تھا ۔وہ تیزی سے اٹھتا اسکی جانب بڑھا تھا اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر خوف سے پھیرلی آنکھوں کے ساتھ اگلے ہی پل وہ لہرا کر گری تھی ۔میسم نے بمشکل بازو آگے کرتے اسے زمین بوس ہونے سے بچایا تھا ۔اسکی باہوں میں جھولتی وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو چکی تھی ۔میسم کے صحیح معنوں میں ہاتھوں کے طوطے اڑے تھے ۔اسے بیڈ پر منتقل کرتے وه اس پر جھکا اسکا چہرہ تهپتهپاتے اسے پکار رہا تھا مگر اسکی بند پلکوں میں ذرا برابر بھی جنبش نہ ہوئی تھی ۔سر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اس نے بے بسی سے اسکے ساکت پڑے وجود کو دیکھا تھا ۔گھر میں کچھ مہمان بھی تھے ۔ایسے میں شانزے کی بے ہوشگی کہیں افسانے بنانے کا باعث بن سکتی تھی ۔کچھ سوچ کر اس نے جیب میں سے موبائل نکال کر علی کو کال کی تھی ۔کچھ ہی دیر تک کمرے کے دروازے پر بہت ہلکی سی دستک ہوئی تھی ۔شب خوابی کے لباس میں ملبوس علی کے ساتھ شیریں بھی باہر کھڑی تھی ۔میسم نے دروازہ کھولا تھا ۔شیریں تیزی سے اندر داخل ہوتی شانزے کی جانب بڑھ گئی تھی ۔اسکی نبض ٹٹولتے وہ اسکا معائنہ کر رہی تھی ۔علی بھائی کے پہلو میں آ کھڑا ہوا تھا جو پریشان سا لگتا تھا ۔

“بی پی لو ہو گیا ہے ۔سٹریس کی وجہ سے بے ہوش ہوئی ہے ابھی ٹھیک ہو جائے گی ۔”پیچھے مڑ کر میسم سے کہتی وہ دوبارہ شانزے کی جانب مڑی تھی ۔پانی کے گلاس سے اس کے منہ پر چھینٹے مارتے وہ اسے ہوش میں لانے کی سعی کر رہی تھی ۔

“سوچنے کی بات ہے میسم بھائی !آپ نے ایسا بھی کیا کر دیا جو یہ بے ہوش ہی ہو گئی ہے ۔”اتنے ٹینس ماحول میں بھی علی کی رگ ظرافت پھڑ کی تھی ۔بدلے میں میسم نے گردن موڑ کر اسے جن سرد نگاہوں سے دیکھا تھا علی گڑبڑا کر اس سے ذرا فاصلے پر ہوا تھا ۔

شانزے ہوش میں آ رہی تھی علی بھائی سے پہلو بچاتا اسکی طرف بڑھا تھا ۔اسکے اآنکھیں کھولنے پر شیریں اس کی پیشانی چوتھے پوچھ رہی تھی ۔

“تم ٹھیک ہو شانزے ؟”

“ہوسپٹل لے کر جانے کی ضرورت ہے کیا ؟”تفکر سے اسکا زرد پڑتا چہرہ دیکھتا علی شیریں سے مخاطب تھا ۔

“ضرورت تو نہیں ہے جوس وغیرہ پی لے گی تو بہتر محسوس کرے گی ۔”

“شیریں بھابھی ماما کو بلا دیں پلیز ۔”ارد گرد خالی نظروں سے دیکھتے اس نے شیریں کا ہاتھ پکڑ لیا تھا ۔آنکھ کے کونے سے آنسو نکل کر بالوں میں جزب ہونے لگے تھے ۔شیریں نے شوہر کی جانب دیکھا تھا ۔

“کیا ہو گیا ہے شانزے ۔اچھا بلا لیتے ہیں چاچی کو تم رونا بند کرو پہلے ۔”جھک کر اسکا سر تهپتهپاتے ہوئے علی نے اک چور نگاہ بھائی کے سنجیده چہرے پر ڈالی تھی ۔پھر اسکے پاس سے ہٹتے میسم کے پاس آ کر رہا تھا ۔اجازت طلب نظروں سے بھائی کی جانب دیکھا تھا جس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا ۔سر کو خم دیتے وہ تیزی سے باہر نکل گیا تھا ۔

کچھ ہی دیر بعد وہ صائمہ کے ہمراہ واپس آیا تھا ۔جو پریشان سی ایک سائیڈ پر کھڑے میسم سے نظریں چراتے بیٹی کی جانب بڑھی تھیں ۔ماں کے سینے سے لگتے اس نے رونا شروع کیا تو وہ بھی بوکھلا کر ره گئی تھیں ۔میسم کو اب اس پر غصہ آنے لگا تھا۔قصور وار نہ ہوتے ہوئے بھی اپنا آپ اسے سب کی نظروں میں چور سا لگنے لگا تھا ۔پہلے علی اور شیریں اور اب صائمہ ۔پتہ نہیں سب اسکے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے ۔خفت اور شرمندگی کا احساس اسکے چہرے پر سرخی بکھیرنے لگا تھا ۔

“کیا ہو گیا ہے شانزے ۔بچی تھوڑی ہو اب تم بیٹا ۔اتنی سی بیماری پر کون ایسے روتا ہے ۔”ارد گرد سب پر نگاہ ڈالتے انہوں نے اسکا کندھا سہلاتے ہوئے دبے دبے لفظوں میں اسے ٹوکا تھا ۔شیریں اسکے لئے جوس لینے چلی گئی تھی ۔علی ایک طرف ہوتا صوفے ٹک چکا تھا ۔ایک وہی تھا جو بیڈ سے ذرا فاصلے پر پائنتی والی سائیڈ بازو سینے پر لپیٹے اسے گہری سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا ۔صائمہ کو اس آکورڈ سی صورت حال میں بیٹی کے اس بچگانہ فعل پر سبکی سی ہونے لگی تھی ۔میسم کی طرف تو وہ دیکھ بھی نہیں پا رہی تھیں ۔ره ره کر شانزے پر غصہ آ رہا تھا مگر ایک تو اسکا بخار اور اوپر سے اس قدر زور و شور سے رونا انہیں اپنے غصے کا اظہار کرنے سے روک رہا تھا ۔مگر وہ دل ہی دل بعد میں اسکی ٹھیک سے عزت افزائی کا پکا تہیہ کر چکی تھیں ۔

شیریں کے جوس لانے پر انہوں نے اسے زبردستی اپنے سہارے بٹھا کر جوس پلایا تھا ۔اسکے انکار کرنے پر انکے ایک ہی بار آنکھیں نکالنے پر وہ شرافت سے پورا

گلاس ختم کر گئی تھی ۔

“اب ریسٹ کرو گی تو ٹھیک ہو جاؤں گی صبح تک انشاء اللّه ۔اسکی طرف جھک کر اسکا گال تهپتهپاتے ہوئے شیریں نے پیار سے کہا تھا ۔علی اٹھ کھڑا ہوا ۔

“بچے کمرے میں اکیلے ہیں شیریں ۔میرے خیال میں چلنا چاہیے اب ۔”اسکے کہنے پر شیریں نے سر ہلایا تھا ۔

“شکریہ بیٹا ۔تمہیں بھی خواہ مخواہ زحمت ہوئی ۔”صائمہ اب شیریں کی مشکور ہو رہی تھیں ۔

“کیسی باتیں کرتی ہیں چاچی آپ بھی ۔پیشنٹ کے لئے تو ڈاکٹرز آدھی آدھی رات کو بھی تیار رہتے ہیں اور شانزے یہ کوئی غیر تھوڑی ہے ۔بلکہ اب تو زیادہ اپنی ہو گئی ہے ۔جیٹھانی جی جو بن گئی ہے اس سے تو بنا کر رکھنی پڑے گی ۔”مسکرا کر شانزے کو دیکھتے اس نے ماحول کا کھچاؤ ذرا کم کرنے کی کوشش کی تھی جو اب بھی صائمہ کے گرد اپنا بازو پھیلائے نڈھال سی آنکھیں موندے پڑی تھی ۔ ۔

“جیتی رہو بیٹا ۔”وہ مسکرا دیں تو وہ دونوں میاں بیوی میسم کی طرف اک الوداعی مسکان اچھالتے آگے پیچھے کمرے سے نکلتے چلے گئے ۔انکے جاتے ہی صائمہ نے شانزے کا بازو اپنے گرد سے ہٹانا چاہا تھا مگر اسکی گرفت میں مزید سختی آ گئی تھی ساتھ ہی آنکھیں کھول کر اس نے انہیں دیکھا تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *