Man Mehram by Umme Abbas NovelR50604 Man Mehram (Episode 03)
Rate this Novel
Man Mehram (Episode 03)
Man Mehram by Umme Abbas
میسم نے غیر ارادی طور پر اسکی پشت کو کچن میں گم ہونے تک اپنی نظروں کے حصار میں رکھا تھا ۔اسکی کشاده پیشانی پر پر سوچ لکیروں کا جال سا بن گیا تھا ۔شانزے کا رویہ اسے الجھا گیا تھا ۔صفا کی پکار پر وہ اسے اٹھائے اسکی بات سنتا اوپر کی جانب بڑھ گیا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
رات وہ سونے کی تیاری میں تھا جب دروازے پر دستک کے ساتھ سجاد آفندی کا چہرہ نمودار ہوا تھا ۔وہ بستر چھوڑتا اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔اسکی ساری زندگی میں چند ایک بار ہی وہ خود چل کر اسکے کمرے تک آئے تھے ۔انکی اس وقت اپنے کمرے میں موجودگی اسکے صحیح تعجب کا باعث تھی وہ بھی اس صورت میں جب وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی گھنٹہ بھر انکے ،محمود آفندی اور علی کے پاس بیٹھ کر آیا تھا ۔چل کر اسکے پاس آ کھڑے ہوتے وہ بھی اسکی حیرت بھانپ چکے تھے ۔
“تم سے کچھ ضروری بات کرنی تھی ۔”
“جی بیٹھیں ۔”وہ بیڈ پر ہی بیٹھ گئے تھے ساتھ ہی اسے بھی اشارہ کیا تو کچھ فاصلے پر وہ بھی بیٹھ گیا تھا ۔
“آگے کے بارے میں کیا سوچا ہے تم نے؟ ۔”گلا کھنگار کر انہوں نے بیڈ پر رکھی کتاب اٹھائی تھی ، اسکی ورق گردانی کرتے بنا اسکی طرف دیکھے بات کا آغاز کیا تھا ۔
انکی بات کے جواب میں اس نے انکی جانب نا سمجھی سے دیکھا تھا ۔
“میرا مطلب ہے تم واپس آ گئے ہو ۔جاب بھی شروع کر دی ہے تو شادی کے بارے میں بھی کچھ سوچا ہے کہ نہیں ۔”
بظاہر وہ اسکی جانب دیکھ نہیں رہے تھے مگر انکی حسيات سبھی اسی کی جانب مرکوز تھیں ۔
انکی بات سن کر میسم نے لب سختی سے باہم پیوست کرتے نظریں نیچے فرش پر گاڑھ دی تھیں ۔
“دیکھو میسم جو ہو چکا سو ہو چکا ۔اب اسی لكیر کو پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔مجھے امید ہے تم نے اپنے ماضی کے تجربات سے بہت کچھ سیکھا ہوگا ۔میں اور محمود اب چاہتے ہیں تم بھی زندگی میں آگے بڑھو ۔آخر کب تک یوں ہی رہو گے ۔چھوٹا بھائی بھی بال بچوں والا ہو گیا ہے میرے خیال میں اب تمہیں بھی شادی کر کے اپنی زندگی میں سیٹل ہو جانا چاہیے ۔”
کتاب واپس بیڈ پر رکھتے وہ کافی نرم آواز میں اس سے کہہ رہے تھے جو ایک عرصہ ہوا اس کے لئے مختص نہیں رہی تھی ۔
“میں نے اس بارے میں فلحال کچھ سوچا نہیں ۔”بے تاثر سی آواز میں وہ بولا تو سجاد آفندی نے بیٹے کے حد درجه سنجیدہ چہرے کی جانب دیکھا تھا ۔
“تو سوچو اس بارے میں ۔اور کب سوچو گے؟ ۔سر کے بال پوری طرح سفید ہونے کے بعد ۔”اس کی کنپٹی کے قریب سے سیاہ بالوں کے بیچ میں سے جھانکتے چند ایک گرے بالوں پر گرفت کرتے انہوں نے اسے گھرکا تھا ۔میسم خفت زدہ سا پہلو بدل کر ره گیا تھا ۔
“میں تو کل جا رہا ہوں مگر محمود اور صائمہ کو تمہاری ذمہ داری سونپ کر جا رہا ہوں ۔وہ تمہارے لئے کوئی معقول رشتہ تلاش کریں گے ۔اگلی بار کا چکر میرا بھی جلدی ہی لگے گا ۔آج شانزے کو دیکھنے بھی کچھ لوگ آئے تھے ۔لڑکا انگلینڈ ہوتا ہے اگلے ماہ وہ واپس آئے گا تو دیکھ بھال کر ہی بات آگے بڑھائیں گے ۔تب تک میں نے محمود کی ڈیوٹی لگائی ہے وہ تمہارے لئے بھی کوئی اچھا سا رشتہ دیکھ لے ۔اس لئے تم بھی خود کو ذہنی طور پر تیار رکھو ۔اور میں امید کرتا ہوں اپنی سابقہ غلطیوں سے تم نے بہت کچھ سیکھا ہوگا ۔اور اس بار تم انہیں نہیں دہراؤ گے ۔”
کہتے ہوئے آخر میں انکا لب و لہجہ ہلکی سی تلخی کی نذر ہو گیا تھا ۔اٹھ کر کھڑے ہوتے ہاتھ پیچھے باندھ کر انہوں نے پہلو میں اٹھ کھڑے ہوئے بیٹے کو ایک نظر دیکھا تھا ۔
“میری بات سمجھ تو آ گئی ہو گی ؟”میسم نے صرف ایک لمحے کے لئے انکا چہرہ دیکھا تھا پھر نگاہ چراتے سر ہلا دیا تھا ۔سجاد آفندی کے چہرے پر تناؤ کی كیفیت زائل ہوئی تھی ۔ہاتھ بڑھا کر بیٹے کا کندھا تهپکا تھا ۔
“اب میں چلتا ہوں ۔”انکے ساتھ وہ دروازے تک انہیں چھوڑنے آیا تھا پھر دروازہ بند کرتے ایک گہرا سانس خارج کرتے تھکے تھکے سے انداز میں بیڈ کی جانب بڑھا تھا ۔سائیڈ لیمپ کی تیز روشنی کم کرتے کتاب اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی تھی اور خود بیڈ پر دراز ہوا تھا ۔
اتنے سالوں بعد ایک بار پھر سے شادی کا موضوع چھڑ چکا تھا جس کے بارے میں اس نے عرصہ ہوا سوچنا تک گوارہ نہیں کیا تھا ۔فریحہ سے شادی ٹوٹنے کے بعد امریکا چلے جانے کے باوجود اسے دو سال لگے تھے اس ذہنی انتشار میں سے باہر نکلنے میں ۔پھر امی کی اچانک موت نے اسے اور بھی زیادہ ذہنی و جذباتی توڑ پھوڑ کا شکار کیا تھا ایسے میں اسکی کولیگ روز کی اس میں حد درجہ بڑھتی دلچسپی اور جذباتی سہارے نے اس سے ایک اور فاش غلطی کروائی تھی ۔روز کا پرو پوزل بنا سوچے سمجھے اس نے آناً فاناً قبول کر لیا تھا ۔گھر میں سب کی اس سے لا تعلقی فریحہ سے طلاق کے بعد سے ہنوز قائم تھی ۔اسکی دوسری شادی پر جیسے سب نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا ۔ایک محمود آفندی تھے جنہوں نے خوشی کا اظہار کرتے اس کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا ۔مگر صرف چھ ماہ کے عرصے میں ھی اس شادی کا انجام بھی طلاق کی صورت سامنے آیا تھا ۔جس کے بعد سات سال ہونے کو آئے تھے اس نے کبھی شادی کرنے کے بارے سوچا تک نہیں تھا ۔مدهم روشنی میں چھت کو تکتے ہوئے نیند اب ان آنکھوں سے کوسوں دوری پر تھی ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
دن کا وقت تھا ۔وہ ابھی ابھی ظہر کی نماز کے بعد سونے کے لئے لیٹی تھی جب صائمہ نے اس کے کمرے میں جھانکا تھا ۔
“شانزے بیٹا ۔”وہیں دروازے سے ہی دی جانے والی پکار پر اس نے سر اٹھا کر انکی جانب دیکھا تھا ۔
“جی ماما ۔”
“بیٹا میں نماز پڑھنے لگی ہوں تم زرا جا کر میسم کا روم صاف کر آؤ ۔دو دن ہو گئے ہیں تمہیں کہتے ہوئے مگر مجال ہے جو تم نے عمل کیا ہو ۔ویسے تو پورا گھر بنا کہے صاف کر دیتی ہو ایک اس کمرے میں بھی جھانک لیا کرو بیٹا ۔”خلاف معمول اسے جھڑکنے کے بجائے وہ نرمی سے سمجھا رہی تھیں ۔آگے سے بحث کرنا اسے بھی مناسب نہیں لگا تھا ۔بددلی سے اٹھتے اس نے دوپٹہ لیا تھا ۔
“اچھا میں جا رہی ہوں ماما ۔آپ نماز پڑھیں ۔”
“ماں صدقے میری پیاری بیٹی ۔”وہیں سے صدقے واری ہوتے وہ مڑی تو انکی اس عجلت بھرے محبت کے مظاہرے پر مسکراتے ہوئے جوتوں میں پاؤں گھسیڑ کر وہ انکے پیچھے پیچھے ہی کمرے سے نکل آئی تھی ۔صائمہ اپنے کمرے کی جانب بڑھیں تو وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آ گئی تھی ۔چہرے پر آئی چند بالوں کی لٹوں کو انگلی کی مدد سے کانوں کے پیچھے اڑستے دروازہ دهكیل کر وہ اندر داخل ہوئی تھی ۔اور اسکا پاره سیکنڈوں میں ہائی ہوا تھا ۔کمرے کی حالت واقع ہی ابتر ہو رہی تھی ۔بستر پر سے كمبل تک تہہ کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی گئی تھی ۔ تولیہ استعمال کر کے یوں ہی بیڈ پر پهینک دیا گیا تھا ۔اسکے اتارے ہوئے کپڑے صوفے پر لڑھک رہے تھے ۔غصے سے لال پیلی ہوتی ایک جھٹکے سے وہ آگے بڑھی تو کمر پر جھولتی چوٹی بھی بل کھا کر ره گئی تھی ۔سب سے پہلے تولیہ اٹھایا تھا جو ابھی بھی گیلا معلوم ہوتا تھا ۔باہر ٹیرس کی جانب کھلتے دروازے کو کھول کر تولیہ گرل پر دھوپ میں ڈالا تھا ۔پھر واپس آ کر ڈریسنگ پر بکھرے سامان کو ٹھیک کر کے رکھا تھا جن میں جینٹس پرفیومز ،باڈی اسپرے اور لوشن پڑے ہوئے تھے سب کے ڈھکن لگاتے وہ ٹھیک ٹھاک جهنجهلاہٹ کا شکار ہو چکی تھی ۔اسے بے ترتیبی سے سخت چڑ تھی اور اس وقت وہ کمرہ اسکی طبیعت پر سخت گراں گزر رہا تھا ۔ایک نظر واش روم کے کھلے درواززے سے اندر جھانکا تو خود کو اندر جانے سے روک نہیں پائی تھی ۔شیمپو کی الٹی پڑی بوتل اور اس کی بکھری پڑی شیونگ کٹ ۔تنے ہوئے چہرے کے ساتھ اس نے سب ترتیب وار رکھا تھا ۔آفٹر شیونگ لوشن کا ڈھکن ہی سرے سے غائب تھا ۔ادھر ادھر نگاہ دوڑاتے اسے وہ نیچے ماربل پر رلتا نظر آ ہی گیا تھا ۔
وہاں سے نکل کر کمبل تہہ کر کے رکھتے اب اسکی صدا کی بڑبڑانے کی عادت بھی اپنا آپ دکھانے لگی تھی ۔
“اقبال کے شاہین جب فرنگیوں کے دیس جاتے ہیں تو خودی کا ایسا تصور رگ و پے میں سرایت کر جاتا ہے جھوٹے برتن تک خود دھوتے ہیں مگر جوں ہی اپنے ملک کی ہوا لگتی ہے تو سارے پرزے زنگ آلود ہو کر ره جاتے ہیں کہ ہل کر پانی پینا بھی بھول جاتے ہیں ۔”بستر جھاڑ کر شکنیں درست کرتی اسکی بڑبڑاہٹیں اپنے عروج پر تھیں ۔میسم جو آج جلدی آفس سے واپس آ گیا تھا ،اسکے قدم دروازہ کی دهلیز پر ہی تھم گئے تھے ۔نظریں اور سماعتیں پوری طرح اسکی جانب متوجہ تھیں جو اسکی طرف پشت کیے اب جھک کر تکیہ ٹھیک کر رہی تھی ۔اس سے پہلے کھنگار کر وہ اسے اپنی آمد سے آگاہ کرتا اسکا ایک اور اپنے بارے میں نادر ارشاد اس کے گوش گزار ہوا تھا ۔
“لو جی کمرے میں اتنی بڑی بک ریک لگا رکھی ہے مگر کیا فائدہ جب کتابوں نے رلنا سرہانوں کے نیچے ہی تھا ۔ذرا ڈسپلن نہیں صاحب بہادر کو بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑے ہیں مگر زندگی میں بے ترتیبی کا عالَم یہ جیسے کسی بانکے نوجوان نے نیا نیا كالج میں ایڈمشن لیا ہو ۔”ناگواری سے سر کو جھٹکا دیتی کتاب کو گھور فلحال کے لئے سائیڈ ٹیبل پر رکھتے اسکی نظر کرسٹل کے سٹار نما چھوٹے سے اس خوب صورت شو پیس پر پڑی تھی جو اس کمرے میں نیا نیا اضافہ معلوم ہوتا تھا ۔اس کی آنکھیں چمک اٹھی تھیں ۔ہونٹوں کے کناروں پر پر سرار سی مسکان آ ٹھہری ۔
“ویسے پیارا تو بہت ہے مگر کیا کروں اب بڑے دن ہوئے اس کمرے کی در و دیوار کچھ چھناکے کی آواز سننے کو ترس رہے ہوں گے ۔”شو پیس ہاتھوں میں لئے اسکا جائزہ لیتے اسکی آواز میں بے چارگی کی انتہا تھی میسم لب نیم واہ کیے حیران کم پریشان زیادہ اسے آنکھیں پھاڑے دیکھ رہا تھا ۔
“اور میرے بھی ہاتھوں میں كهجلی سی ہو رہی ہے ۔اچھا ہے ایک آدھ چیز ٹوٹے گی تو ہی ٹوٹے ہاتھ جڑیں گے اگلی بار صفائی کا خود خیال رکھیں گے تو وقت بے وقت ماما میری دوڑیں کم لگوائیں گی ۔”خود کو تاویل پیش کرتے اس نے ایک دم ہی ہاتھوں میں سے شو پیس چھوڑتے اپنے قدم پیچھے لئے تھے ۔اگلے ہی پل وہی ہوا تھا جس کے اس کمرے کے درو دیوار عادی تھے مگر دروازے میں کھڑا وہاں کا مكین ہونق بنا اس کی یہ حرکت ہضم کرنے کی تگ و دو کر رہا تھا ۔
“آہ !چس آ گئی قسم سے ۔”دونوں بازو پھیلائے ٹھنڈی ٹھار پر سکوں آواز میں کہتی جیسے ہی وہ گھومی تھی نظر اسکی جانب اٹھی تھی اور اگلے ہی پل اسکا سارا سکون اسی دروازے سے رخصت ھو چکا تھا جہاں وہ بت بنا بڑے سکون سے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں اڑسے کھڑا تھا ۔فق ہوئی رنگت کے ساتھ اب وہ اسے اپنی جانب بڑھتا ہوا دیکھ رہی تھی جو بالکل نارمل تاثرات چہرے پر سجائے اس کے بالکل سامنے آن کھڑا ہوا تھا کانچ کے کہیں چھوٹے چھوٹے ٹکڑ ے اسکے بھاری بوٹوں کے نیچے چر مر ہو کر ره گئے تھے ۔شرمندگی اور پکڑے جانے کے خوف سے وہ پلكیں جهپکنا تک بھول گئی تھی ۔بے یقینی سے اسکا چہرہ پوری طرح کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی جو اب ارد گرد نظر دوڑا رہا تھا ۔پھر دو قدم پیچھے جا کر بک ریک پر سجے اس آخری شو پیس کو اٹھا کر اس کے سامنے واپس آ کھڑا ہوا تھا ۔ہاتھ اسکے سامنے کیے وہ ابرو اچکا کر اسکی توجہ ہاتھ میں پکڑے شو پیس کی جانب دلا رہا تھا ۔
“یہ آخری پیس بچا ہے ایسا کرو ایک ہی بار اسے بھی توڑ کر خلاصی کرتی جاؤ ۔روز روز تمہیں بلا وجہ زحمت ہوتی ھو گی نہیں ؟”اپنے مخصوص ٹھہر ٹھہر کر بولتے لہجے میں وہ پر سکون سا کہہ رہا تھا اور شانزے کا جی چاہا تھا اس وقت زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے ۔بلا شبہ یہ اسکی زندگی کے چند گنے چنے موسٹ امبیریسنگ موومنٹس میں سے ایک تھا ۔آنکھیں میچ کر کھولتے نظریں آپ ہی آپ جھک گئی تھیں ۔
“لو توڑو اب ۔”کچھ دیر اسے خشمگیں نظروں سے گھور اسکے پہلو میں گرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے وہ اس بار قدرے سخت لہجے میں بولتا زبر دستی وہ شو پیس اسے تهما رہا تھا ۔جب یک لخت آنکھوں میں اکھٹی ہوتی نمی کے ساتھ اس سے سر کو پوری قوت صرف کر کے دائیں بائیں جنبش دی تھی ۔ایسا کرنے سے اسکی آنکھ سے ایک قطرہ نکل کر گال پر بہہ نکلا تھا اور میسم کے ہاتھوں کی حرکت وہیں جامد ہوئی تھی ۔الفاظ کھو گئے تھے ،سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھتا چلا گیا تھا ۔عجیب دھوپ چھاؤں سا منظر تھا ۔ابھی کچھ لمحے قبل تو کس بے خوفی و بے فکری سے ساری دنیا کو جوتے کی نوک پر رکھے وہ خود ہی میں مگن مست و مسرور سی تھی ۔اور اب سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ لب کاٹتی روتے ہوئے وہ کوئی اور ہی شانزے لگتی تھی ۔کوئی چہرہ اتنا کتابی کیسے ہو سکتا تھا ۔حال دل کا آئینہ دار ،لمحوں میں کہیں رنگ تبدیل کرنے والا ۔اس کی اپنی کلائی پر گرفت ڈھیلی محسوس کرتے اس نے ایک جھٹکے سے خود کو چھڑایا تھا اور دروازے کی جانب دوڑ لگائی تھی ۔میسم عباس کسی خواب کی سی کیفیت سے بیدار ہوا تھا ۔
“شانزے !یہ کانچ کون صاف کرے گا ؟”اس سے زیادہ اپنی کیفیت پر جهنجلاہٹ کا شکار ہوتے وہ بنا اسکی طرف مڑے غرایا تھا ۔دروازے کے بیچ رکتے اس نے مڑ کر اسکی پشت کو گھورا تھا ۔
“خود کر لیں ۔نوکر نہیں لگی آپ کی ۔”تڑخ کر کہتی وہ اسے ٹھیک سے حیران ہونے کا موقع دیے بغیر ہی یہ جا وہ جا ھو چکی تھی ۔پیچھے وہ اس کے اتنی جلدی رنگ بدلنے پر اس بار پیچ و تاب کھا کر ره گیا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
وہ ابھی ابھی کچن سے باہر نکل کر لاؤنج میں محمود آفندی کے پاس آ کر بیٹھی تھی ۔جنہوں نے ٹی وی سے نگاہ ہٹا کر بڑی چاہ سے بیٹی کے شانوں پر اپنا بازو دراز کیا تھا جب ساتھ ہی کچن میں سے صائمہ کی آواز بھی سنائی دی تھی ۔
“شانزے !سلاد بنا لیا کیا ؟”بدمزہ ہوتے شکایتی انداز میں محمود صاحب کو دیکھتے اس نے بھی وہیں سے ہانک لگائی تھی ۔
“بنا لوں گی ماما ۔ابھی تو باہر آئی ہوں دو گھڑ ی سانس تو لینے دیں ۔”ابھی اسکی بات مکمل نہیں ہوئی تھی جب وہ خود بھی کچن سے نکل کر اسکے سر پر پہنچ آئی تھیں ۔
“اچھا تو کچن میں کون سا میں نے تمہاری گردن پر ہاتھ رکھا ہوا ہے جو وہاں سانس لینا دشوار ہو رہا ہے تمہارا ؟”خشمگیں نظروں سے اسے گھورا تھا جو اب روہانسی شکل بنائے باپ کو دیکھ رہی تھی ۔
“اٹھو ابھی کہ ابھی بناؤ ۔پھر تمہیں یاد نہیں رہے گا ۔”کچن کی طرف اشارہ کرتے وہ دو ٹوک انداز میں کہہ رہی تھیں ۔
“بس کر دو بیگم ۔میری معصوم بچی پر اتنا ظلم بھی مت ڈھاؤ ۔گھر کے کام کرا کرا کر کتنا کمزور کر دیا ہے تم نے اسے ۔”اسکا سر اپنے شانے سے لگاتے محمود صاحب اسکی حمایت میں بول اٹھے تھے ۔شانزے کو بھی ذرا ڈھارس ہوئی ۔
“محمود صاحب بھلا یہ کیا بات ہوئی ۔میری بھی بیٹی ہے میں کیوں خدا نخواستہ ظلم کرنے لگی اس پر ۔اور ہمارے گھر کا کام ہوتا ہی کتنا سارا ہے ۔آ جا کر چار لوگ تو بستے ہیں یہاں ۔میسم تو صبح کا نکلا شام کو واپس آتا ہے اسکا کام ہوتا ہی کتنا سارا ہے باقی رہے ہم تینوں تو سارا دن میں بھی تو ساتھ ہی لگی رہتی ہوں اسکے وہ نظر نہیں آتا ۔مگر بیٹی ذرا جو کچن میں جھانک کر دیکھ لے آپ کو کتنا درد اٹھنے لگتا ہے ۔”انکی بات کا برا مناتے دو پٹہ شانوں پر صحیح کرتے وہ سامنے والے صوفے پر بیٹھ چکی تھیں ۔انکے گلے پر محمود آفندی کے ساتھ ساتھ شانزے کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ رینگ گئی تھی ۔
“ارے بیگم ! خود ہی تو کہتی ہیں آپ بیٹیاں پرایا دھن ہوتی ہیں تو میں تو بس یہ کہہ رہا ہوں جب تک میری بیٹی یہاں ہے اسے آرام سے رہنے دیں ۔بعد میں ساری زندگی یہی سب تو کرنا ہے ۔”آج کل وہ بات بات پر دلگرفتہ ہو رہے تھے شانزے نے مصنو ئی انداز میں انہیں گھوراتھا ۔
“کیا ابو آپ بھی ملکہ جذبات بن جاتے ہیں ۔کہیں نہیں جا رہی میں آپ کو چھوڑ کر ۔”ہنس کر انکے گرد بازو پھیلائے تھے ۔
“کیا بولے جا رہی ہو بی بی ۔شب شب بولا کرو ۔کہیں نہیں جا رہی کی کچھ لگتی ۔سبرینہ بھی تو اپنے گھر گئی ہے نا اللّه خیر سے تمہارے لئے بھی ہمیں وہ دن دکھائے ۔”صائمہ نے ٹوکا تھا ۔شانزے نے منہ بنا کر انہیں دیکھا ۔
“بس آپ کے بس میں ہو نا ماما تو آج ہی میرا بوریا بسترا گول کر کے مجھے چلتا کریں آپ ۔”تنک کر کہا گیا تھا مگر دوسری طرف اثر کسے تھا ۔
“بالکل ایسا ہی ہے ۔اب اٹھ کر شرافت سے سلاد بنا لو ۔مغرب میں بس کچھ ہی وقت باقی ہے ۔میسم بھی آتا ہو گا ۔”اٹھ کر وہ کچن میں چلی گئی تھیں ۔
“دیکھا ابو آپ نے ۔ماما مجھ سے کتنی تنگ آئی ہوئی ہیں ۔”ڈھٹائی سے ہنستے ہوئے وہ انہیں بھی ہنسنے پر مجبور کر گئی تھی ۔
“ہر ماں کا ارمان ہوتا ہے بیٹی خوشی خوشی وقت کے ساتھ اپنے گھر کی ہو جائے ۔”انکے جاتے ہی انکی حمایت صائمہ کی طرف ہو گئی تھی ۔شانزے کی ہنسی بے ساختہ تھی ۔
“آپ بھی اب ماما کے ہم نوا ہو گئے ہیں ۔”
“کیا کریں بھئی ۔رسم دنیا ہے ۔ہم بھی تو تمہاری ماما کو انکے اماں ابا سے چرا کر لے آئے تھے ۔”شانزے نے اپنا سر انکے کندھے پر سے ہٹایا تھا ۔
“رسم دنیا بدلی بھی تو جا سکتی ہے ابو ۔”آنکھوں میں چمک لئے وہ رازدار ی سے بولی تو محمود آفندی نے دلچسپی سے اسکی طرف دیکھا تھا ۔
“وہ کیسے ؟”
“ہم ایسا کرتے ہیں لڑکا رخصت کرا کر اس گھر میں لے آتے ہیں ۔سوچیں کتنا مزہ آئے گا مجھے کہیں جانا بھی نہیں پڑے گا اور ماما کی بیٹی اپنے گھر بار والی بھی ہو جائے گی ۔”اسکی آنکھوں کی شرارت بتا رہی تھی وہ مذاق کر رہی ہے تبھی صائمہ کی آواز ایک بار پھر سنائی دی تھی ۔
“میں سلاد بنا ہی آؤں ورنہ ماما کو چین نہیں آئے گا ۔”وہ خود تو کچن کی جانب بڑھ گئی تھی ۔پیچھے محمود آفندی کے چہرے پر سوچ کی پرچھائیاں بڑی واضح تھیں ۔ایک ہی جملا کانوں میں بار بار گونج رہا تھا ۔
“سوچیں کتنا مزہ آئے گا مجھے کہیں جانا بھی نہیں پڑے گا اور ماما کی بیٹی اپنے گھر بار والی بھی ہو جائے گی۔”
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
چائے کا کپ لئے وہ اسکے کمرے کے باہر کھڑی دروازہ ناک کر رہی تھی ۔آج اس کا آف تھا اس لئے وہ سہ پہر ہی گھر میں پایا جا رہا تھا ۔شانزے نے صائمہ اور محمود صاحب کے لئے چائے بنائی تھی جب ماما نے ایک کپ چائے اسے بھی دے آنے کا حکم جاری کیا تھا ۔اس دن کے بعد سے اس نے اس کے کمرے کی صفائی کے لئے اسکے آفس جانے کے فوری بعد کا وقت معین کر لیا تھا ۔جب کرنی اسے ہی تھی تو روز روز ماما سے کہلوانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں تھا ۔اور حیرت انگیز طور پر آج کل کوئی چیز اسکا دو پٹہ یا ہاتھ لگنے سے ٹوٹ بھی نہیں رہی تھی ۔
دروازہ کھلا تھا ستے ہوئے چہرے اور سوئی سوئی آنکھوں کے ساتھ وہ سامنے کھڑا تھا ۔شاید وہ سویا ہوا تھا اسکے دروازہ ناک کرنے پر ہی آنکھ کھلی تھی ۔
“چائے لے لیں ۔”چائے کا مگ آگے کرتے اس سے نظریں ہٹا کر لٹھ مار سے انداز میں وہ بولی تھی ۔میسم نے دروازہ پورا کھول دیا تھا ۔
وہاں رکھ دو ۔میں منہ دھو کر آتا ہوں ۔”میز کی طرف اشارہ کرتے بھاری ہوتی آواز میں کہہ کر وہ واش روم کی جانب بڑھ گیا تھا ۔اس نئے آرڈر پر شانزے پیچ و تاب کھا کر ره گئی تھی پٹخنے کے سے انداز میں چائے کا مک ٹیبل پر رکھا تھا جب واش روم کا دروازہ کھولتے وہ مڑا تھا ۔
“جانا مت مجھے تم سے کام ہے ۔آتا ہوں ابھی ۔”خود وہ واش روم میں گم ہو چکا تھا جب کہ شانزے کے ماتھے پر تیوری چڑھ آئی تھی ۔
بے زار سی صورت لئے وہ وہیں کھڑی اسکی واپسی کا انتظار کرنے لگی تھی ۔گیلے چہرے کے ساتھ وہ باہر نکلا تھا ۔وارڈ روب کھول کر ایک شرٹ نکال ، اسکی طرف آیا تھا ۔پاس آ کر رکتے شرٹ اسکی جانب بڑھائی تھی ۔
“یہ پریس کر دینا پلیز ۔مجھے کل پہن کر جانی ہے ۔”سرسری سے انداز میں کہتا وہ اس کے شرٹ تھامنے کا منتظر تھا جو کینہ پرور نظروں سے اسے تو کبھی شرٹ کو گھور رہی تھی ۔جی چاہا صاف منع کر دے پر پھر اگر اس نے ماما سے شکایت لگا دی تو متوقع حوصلہ افزائی سے بچنے کے لئے اس نے جھپٹنے کے سے انداز میں شرٹ اس سے لی تھی ۔خود وہ صوفے پر بیٹھتا چائے کی جانب متوجہ ہو گیا تھا ۔شانزے نے قدم باہر کی جانب بڑھا دیے تھے ۔
” میری بات سنیں !وہاں امریکہ میں آپ کو کپڑے کون پریس کر کے دیتا تھا ۔”دروازے پر رک کر بڑے چٹختے لہجے میں پوچھا گیا تھا ۔چائے کا سپ لیتے میسم نے اسے دیکھا تھا ۔
“میں خود کرتا تھا ۔”بڑے آرام سے جواب دیا گیا تھا ۔
“تو اب کیا ہاتھ ٹوٹ گئے ہیں آپ کے ۔”مسکرا کر طنزیہ انداز میں کہتے وہ انگاروں پر لوٹ رہی تھی ۔
“ہاتھ تو نہیں ٹوٹے مگر چاچی نے اس دن مجھے شرٹ پریس کرتے دیکھ کر کہا تھا ۔شانزے کے ہاتھ ٹوٹ گئے ہیں کیا جو تم خود پریس کر رہے ہو ۔آئندہ خود مت کرنا بلکہ اسے کہنا وہ کر دیا کرے گی ۔”اسے بتاتے ہوئے اس کے لہجے میں کوئی طنز نہیں تھا بلکہ اک سادگی سی تھی مگر شانزے کو پھر بھی اسکا انداز اپنا مذاق اڑاتا محسوس ہوا تھا ۔ماما بھی نا اسے اسکی پرسنل اسسٹنٹ بنا کر ہی دم لیں گی اسے رونا آیا تھا ۔پیر پٹخ کر وہ وہاں سے باہر نکل گئی تھی ۔پیچھے چائے کا سپ لیتے میسم کو خود نہیں پتہ تھا اسکے ہونٹوں کے کناروں میں کس قدر دلفریب تبسم کھیل رہا ہے ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
محمود صاحب کی بات سن کر صائمہ کتنی دیر تک کچھ کہنے کے قابل تک نہ رہی تھیں ۔زبان جیسے گنگ ره گئی تھی ۔محمود آفندی بھی جیسے انکے متوقع ردعمل کے بارے میں جانتے تھے ۔انکے کچھ کہنے پہلے ہی بول اٹھے تھے ۔
“دیکھو صائمہ یہ صرف میری ایک خواہش ہے جس کا اظہار میں تم سے کر رہا ہوں ۔باقی ہم یہ فیصلہ باہمی رضا مندی سے سارے پہلو دیکھ بھال کر ہی کریں گے ۔میری طرف سے کوئی دباؤ نہیں ہے تم کھل کر اس بارے میں اپنی رائے کا اظہار کر سکتی ہو ۔”بیوی کی گومگوں ہوئی حالت دیکھتے انہوں نے صائمہ کو اعتماد میں لینا چاہا تھا ۔
“میں کیا کہوں محمود صاحب ۔میری تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا ۔شانزے اور میسم ۔۔۔۔۔کیسے ؟”اپنی بات کہنے کو انہیں ڈھنگ کے الفاظ ڈھونڈنے میں مشکل پیش آ رہی تھی ۔
“میں سمجھ رہا ہوں تم جو کہنا چاہتی ہو پچھلے تین دن میں میں نے اس بارے میں بہت غور و فکر کی ہے ۔میسم کی شادی کی ناکامی کو اگر نظر انداز کر دیا جائے تو وہ ہر لحاظ سے ایک اچھا اور سلجھا ہوا انسان ہے ۔پھر گھر کا دیکھا بھالا بچہ ہے ۔اور سب سے بڑی بات ہماری شانزے بياه کر بھی ہماری آنکھوں کے سامنے رہے گی ۔میں نے تو سبرینہ کے لئے بھی یہی سوچا تھا مگر ساری بات نصیب کی ہوتی ہے ۔”
“صرف شادی کا ہی مسئله نہیں ہے بلکہ آپ بھول رہے دو شادیوں میں ناکامی کا معاملہ ہے ۔ایسے میں سو خدشات دل میں جنم لیتے ہیں پھر فریحہ نے آپ کے سامنے ہی کیسی کیسی باتیں کہیں تھیں میسم کے بارے میں انکو جاننے کے بعد کوئی بھی ماں کس دل سے اپنی بیٹی ایسے شخص کے ساتھ بياهنے کو تیار ہوگی ۔”اپنے سبھی خدشات کو زبان دیتے اس وقت وہ صرف ایک بیٹی کی ماں لگ رہی تھیں ۔
“اول تو یہ کہ مجھے کبھی بھی فریحہ کی ان سب باتوں پر یقین نہیں رہا ۔میسم نے اپنے لئے اسٹینڈ کیوں نہیں لیا میں نہیں جانتا مگر یہ سچ ہے صائمہ میرا دل ان سب مغلطات کو ماننے سے ہمیشہ انکاری رہا ہے ۔لیکن فرض کرو اگر ہم مان بھی لیں تو اب تو اس بات کو بیتے بھی عرصہ ہو گیا ہے میرے خیال میں گڑھے مردے اکھاڑنے نہیں چاہیے ۔اس طرح انسان مزید الجھتا ہی ہے ۔”وہ حد درجہ سنجیدہ نظر آتے تھے ۔صائمہ بس انہیں دیکھ کر ره گئی تھیں ۔
“چلیں مان لیتی ہوں آپ کی یہ بات ۔مگر پھر بھی اس ایک نقطے کو نظر انداز کر بھی دیا جائے تو بھی میسم اور شانزے کی عمروں ،مزاج اور عادات کا فرق کس کس بات کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے محمود صاحب ۔”انہوں نے ہار اب بھی نہیں مانی تھی آخر سوال بیٹی کی زندگی بھر کا تھا ۔
“عمروں کے فرق کو تو چھوڑ ہی دیں آپ بیگم ۔آپ خود مجھ سے دس سال چھوٹی ہیں عمر کا یہ فرق کس قدر ہمارے رشتے پر اثر انداز ہوا ہے آپ بہتر بتا سکتی ہیں ۔ اور رہی بات مزاج و عادات کی تو وہ تو ایک ماں کے بطن سے جنم لینے والوں کے آپس میں نہیں ملتے میاں بیوی کے کہاں سے ملیں گے ۔بات ساری ایک دوسرے کو سمجھنے اور ایک دوسرے کو خوبیوں خامیوں سمیت قبول کرنے کی ہوتی ہے پھر یہ ساری باتیں بے معنی ہو کر ره جاتی ہیں ۔اور ویسے بھی آج کل کے بچے تو انڈر اسٹینڈنگ اور پسند نا پسند کا بڑا خیال رکھ کر شادیاں کرتے ہیں تو کیا وجہ ہے طلاق کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے ۔مسئله پسند نا پسند یا عادات و مزاج ملنے کا نہیں ہے اصل مسئله تو عدم برداشت کا ہے ۔”
صائمہ بس ہولتے دل کے ساتھ انہیں سنتی رہی تھیں جو لگتا ہے تین دن یہی سب جوڑ توڑ کرنے اور ہر متوقع سوال کا خاطر خواہ جواب تلاش کرنے میں لگے رہے تھے ۔تبھی تو انکے پاس سبھی سوالوں کے جواب تھے ۔
“اچھا مجھے ایک بات بتاؤ ؟تمہیں میسم پسند نہیں ہے کیا ؟”
“پسند کیوں نہیں ہوگا محمود صاحب ۔”ایک گہری سانس خارج کرتے انہوں نے جیسے ہار مانی تھی ۔
“تو پھر مسئله کیا ہے ؟”وہ اب کچھ مطمئین ہوتے مسکرا دیے تھے ۔
“پتہ نہیں بس دل نہیں مان رہا ۔میں استخاره کروں گی ۔اور اس کے بعد جو بھی ہو گا آپ کو ماننا ہو گا ۔”بے چینی سے کہتے انہوں نے شوہر کی یقین دہانی چاہی ۔
“لو بیگم یہ تو بہترین حل تلاشا ہے آپ نے اس سے بہتر بھلا کچھ ہو سکتا ہے ۔بالکل مانیں گے کیوں نہیں مانیں گے۔بس اللّه کی طرف سے منظوری ہونی چاہیے ۔”ہلکے پھلکے انداز میں کہتے وہ ہنس دیے تھے ۔
سر ہلا کر صائمہ انکے پاس سے اٹھ گئی تھیں جب کچھ خیال آنے پر رک کر انہیں دیکھنے لگیں ۔
“ویسے اچانک بیٹھے بٹھائے آپ کو یہ خیال آیا بھی کیسے ؟”انکی حیرت بجا تھی کل تک تو انہوں نے کبھی اشاروں کنایوں میں بھی اس طرح کی بات کا عندیہ نہیں دیا تھا ۔انکی بات پر ہاتھ میں پکڑ ی کتاب کے ساتھ عینک ناک پر رکھتے وہ پرسرار انداز میں مسکرائے تھے ۔
یہ خیال شانزے نے ہی میرے دل میں ڈالا ہے ۔”انکے پر سکون لہجے میں کہنے پر حیرت کی زيادتی سے صائمہ کی آنکھوں کی پتلیاں تک ساکت ہو گئ تھیں ۔انہیں حیران و پریشان کھڑا چھوڑ وہ بے فکری سے مسکراتے ہوئے کتاب کھولنے لگے تھے ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
اگلے دن استخارے سے ملنے والے مثبت جواب کے بعد صائمہ بھی چپ ہو گئی تھیں ۔محمود صاحب نے سجاد آ فندی کو کال ملائی تھی اور ساری بات سننے کے بعد انہیں بھائی کی دماغی حالت پر شبہ ہوا تھا ۔اگلے ہی دن کی فلائٹ پکڑ کر وہ آفندی ہاؤس میں موجود تھے ۔انکی آمد کے مقصد سے بے خبر شانزے خوش تھی تایا ابو کا اس بار چکر جلد ہی لگ گیا تھا ۔صائمہ کل سے اسے غیر معمولی طور پر خاموش لگی تھیں اس کے استفار پر انہوں نے کچھ نہیں کہہ کر اسے ٹال دیا تھا ۔
محمود آفندی کے کمرے میں سجاد آفندی چھوٹے بھائی کے سامنے بیٹھے تھے ۔انداز ایسا تھا جیسے کچھ بھی سمجھنے سے قاصر ہوں ۔
“میں پھر کہوں گا محمود ایک بار پھر سوچ لو ۔”انہوں نے فقط اتنا ہی کہا تھا محمود آفندی کھلے دل سے مسکرائے تھے ۔
“آپ کو کیا لگتا ہے بھائی صاحب بیٹی کی زندگی بھر کا فیصلہ یوں ہی سوچے سمجھے بنا کر رہا ہوں گا ۔انشاء اللّه سب بھلی ہوگی آپ اپنی رائے بتائیں ۔”
“میں کیا کہہ سکتا ہوں یار ۔کچھ بولنے لائق چھوڑ ہی کہاں رہے ہو تم مجھے ۔سب کچھ جانتے ہوئے بھی اپنی پھول سی بچی تم میرے بیٹے کو دینے کی بات کر رہے ہو ۔مجھے سمجھ نہیں آ رہا میسم کی خوش قسمتی پر ناز کروں یا شانزے کے لئے دعا کروں ۔”بنا لگی لپٹی رکھے انہوں نے دل کی بات کہہ ڈالی تھی ۔
سب کی دعائیں ساتھ ہوں گی تو آگے کے مراحل بھی آسان ہو جائیں گے اور دیکھئے گا بھائی صاحب ایک دن آئے گا جب سب میرے اس فیصلے کے معترف ہوں گے ۔”انکے پر یقین انداز میں کہنے پر سجاد آفندی نے بھائی کے اس یقین کے قائم و دائم رہنے کی صدق دل سے دعا کی تھی ۔
میسم کو جب سجاد آفندی کی بابت ان سب معاملات کا پتہ لگا تھا تو اس کے سر پر بھی آسمان جیسے آن گرا تھا ۔حیرت تھی کہ جس کا کوئی انت نہیں تھا ۔وہ یوں سجاد آفندی کا منہ تک رہا تھا جیسے انہوں نے اسے کسی انہونی کا ذکر کر دیا ہو ۔
“محمود بہت بڑے دل کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔اب تم بھی اسکی لاج رکھنا ۔”
ہلکی سی مسکراہت کے ساتھ وہ اس سے کہہ رہے تھے جس کا ذہن و دل بے یقینی کے سمندر میں بری طرح ہچکولے کھا رہے تھے ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
“ماما مجھے نہیں کرنی ان سے شادی ۔”زار و قطار روتے وہ بار بار ایک ہی جملہ دوہرا رہی تھی ۔صائمہ جو پاس بیٹھیں کتنی دیر سے اسے خود سے لگائے دل جوئی کر رہی تھیں اسکے دسویں بار کہنے پر بگڑ گئیں ۔
“یہ تب سوچنا تھا نا جب باپ کو ایسے نایاب مشورے دے رہی تھی ۔”انکے جل کر کہنے پر اس نے پانی سے لبالب آنکھیں حیرت سے اٹھا کر انہیں دیکھا تھا ۔
“کیوں تم نے نہیں یہ عظیم مشورہ دیا تھا کہ تمہیں شادی کرا کے رخصت کرنے کے بجائے لڑکا بياه کر یہاں لے آتے ہیں ۔تو بھگتو اب کہیں نہیں جاؤ گی تم ۔لڑکا اسی گھر کا ہی نکل آیا ہے ۔”انکی بات نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا ۔شانزے کے ذہن میں اپنے اس دن کے مذاق میں کہے الفاظ گھوم کر ره گئے جو اب اسکے گلے کا پھندا بن گئے تھے ۔پهندا بھی وہ جسے وہ اپنے گلے سے نکال سكنے میں بری طرح ناکام ہو رہی تھی ۔
“ہائے ماما میں تو مذاق کر رہی تھی ۔مجھے کیا پتہ تھا ابو یہ سب سوچ لیں گے ۔آپ بچا لیں نا مجھے ۔”انکا ہاتھ لجالت سے پکڑ کر کہتے اسکے آخری الفاظ کمرے میں داخل ہوتے محمود آفندی نے بھی سنے تھے ۔
“کس سے بچانا ہے میری بیٹی کو ۔ہم سے کہے بھئی ہم ہیں نا “ہاتھ پشت پر باندھے وہ کمرے میں داخل ہوئے تھے ۔انہیں دیکھ کر صائمہ بیٹی کے آگے سے اٹھ کھڑی ہوئی تھیں ۔
“لو آ گئے تمہارے ابو ۔اب جو کہنا سننا ہے ان سے خود کہو ۔میں ذرا چائے بنا لوں بھائی صاحب بھی کہتے ہوں گے آج شام کی چائے کہاں ره گئی۔”اپنا دامن بچاتے وہ شوہر کو کن اکھیوں سے اسکی طرف اشارہ کرتے خود کمرے سے نکل گئیں تو محمود انکی چھوڑی جگہ پر براجمان ہوتے سامنے بستر پر آلتی پالتی مارے بیٹی کا رونے کے باعث سرخ ہوا چہرہ دیکھ کر ره گئے ۔
“ابو مجھے شادی نہیں کرنی ۔”انکے سامنے نئے سرے سے روتے وہ سر نفی میں ہلا رہی تھی ۔محمود آفندی نے بیٹی کے بہتے آنسو اپنے ہاتھ کے پوروں پر چن لئے تھے ۔
“ارے تو اس میں رونے والی کون سی بات ہے ۔ہم کون سا اپنی چڑیا کو دور بھیج رہے ہیں ۔یہی تو رہو گی ہمارے سامنے اور وہ بھی ہمیشہ ۔”انکے بہلانے کے سے انداز پر اسکا سر اور بھی شدت سے نفی میں حرکت کرنے لگا تھا ۔
“مجھے یہاں رہنا ہی نہیں ہے ۔مجھے ان سے شادی نہیں کرنی نا ابو پلیز ۔”وہ صاف مکر گئی تھی ۔محمود صاحب سنجیدہ ہوئے تھے ۔
“یاد ہے شانزے آج سے ایک ڈیڑھ سال پہلے میں نے تم سے پوچھا تھا شادی کے بارے میں تب تم نے کہا تھا ابو جہاں آپ کہیں گے میں وہیں شادی کروں گی ۔”وہ اسے یاد دلا رہے تھے شانزے کے اپنے الفاظ آج بری طرح اسکے گلے میں اٹک رہے تھے ۔
“وہ تو میں اب بھی کہہ رہی ہوں ابو ۔جہاں آپ کہیں گے وہیں کر لوں گی مگر یہاں نہیں کروں گی ۔”
دونوں ہاتھوں سے چہرہ صاف کرتے وہ تیزی سے بول رہی تھی ۔
