Khuwab Or Haqiqat by Yaman Eva NovelR50590 Khuwab Or Haqiqat (Last Episode)
Rate this Novel
Khuwab Or Haqiqat (Last Episode)
Khuwab Or Haqiqat by Yaman Eva
کیا وہ غصہ کرنے والا تھا؟ فیصلہ سنانے والا تھا؟
نمیرہ نے پریشانی سے پہلو بدلا اور اپنی تیزگام کی طرح چلتی زبان کو کوسا تھا۔
”میں نے پڑھنے کے لیے چھٹی کی تھی نمیرہ۔۔
میرا کل پیپر ہے اور میں اس وقت صرف پڑھنا چاہتا ہوں تو کیا تم اپنی غلط فہمیوں اور سوالات کو بریک لگا سکتی ہو۔۔“ اس نے بےچارگی بھرے لہجے میں نمیرہ سے التجا کی۔
اس کی بات پر پہلے تو وہ غصے سے اٹھی مگر پھر اس کا پہلا جملہ سوچ کر چونک گئی۔
میرا کل پیپر ہے؟ کس چیز کا پیپر تھا؟ وہ پڑھتا تھا؟ کہاں؟ کب؟ ہر بات سے بےخبر نمیرہ حیرت سے مڑی۔
وہ پھر سے کتابیں کھول کر اب ساتھ لیپ ٹاپ بھی اپنی ٹانگوں پر رکھ کر مصروف ہو چکا تھا۔
”آپ نے ابھی کیا کہا؟“ نمیرہ نے کنفرم کرنا چاہا۔
”میں پڑھ رہا ہوں۔۔“ لیپ ٹاپ پر نظریں گاڑھے وہ بولا اور ہمیشہ کی طرح الٹا ہی جواب دیا تھا۔
نمیرہ اس کی بےتوجہی پر خفگی سے سر جھٹک کر وہاں سے چلی آئی تھی مگر ذہن الجھ گیا تھا۔
وہ کس کلاس میں پڑھ رہا تھا، کون سی ڈگری لے رہا تھا، کس یونی ورسٹی میں جاتا تھا۔ نمیرہ کا چھوٹا سا دماغ سوچوں سے پوری طرح بھر چکا تھا۔
اسے اپنی بےخبری پر دکھ بھی تھا اور ناراضگی بھی۔۔
یہ کیسی شادی تھی؟ کیا جیون ساتھی ایسے ہوتے ہیں؟ وہ ہمیشہ اسے جاننے کے لیے کوشاں رہتی تھی اور ہر بار اسے چھپا ہوا کسی راز سا لگتا تھا۔
اسے شدت سے احساس ہونے لگا کہ وہ سیحان زبیری کے بارے میں کچھ جانتی ہی نہیں ہے۔ وہ اسے کچھ بتاتا ہی نہیں تھا۔۔ خیر وہ بات ہی کب کرتا تھا۔
اس کا دل چاہا اس گھُنے کے سر پر جا کر چیخے، اس سے لڑے اور سب چھوڑ چھاڑ کر یہاں سے چلی جائے مگر یہ دل۔۔ ہاہ۔۔ کسی نے سچ کہا ہے انسان کا سب سے بڑا دشمن تو اس کا اپنا دل ہوتا ہے۔
نمیرہ کو بھی اس کے دل نے ہر بار رک جانے پر مجبور کیا تھا اور ہر بار اپنی مجبوری پر وہ کڑھ کر رہ جاتی تھی۔۔
اس نے بد دلی سے ناشتے کے برتن سمیٹے اور کچن میں جا کر دھونے لگی۔ آج برتن دھوتے ہوئے بھی اس نے اچھا خاصہ شور کیا تھا جس کی وجہ سے باہر بیٹھے سیحان نے زچ ہو کر کانوں میں ہینڈز فری لگا لیے مگر اسے بیٹھنا وہیں تھا۔
وہ اکیلے گھر میں بھی سٹڈی روم میں بند ہو کر پڑھائی کرنے والا سیحان اب ڈرائنگ روم میں جا کر بیٹھ جاتا تھا۔ ارد گرد گھومتا، کام کرتا نازک وجود اس کی نظروں میں آ کر اسے زندگی کا احساس دلاتا تھا۔
وہ نمیرہ کی موجودگی محسوس کر کے فریش ہو جاتا تھا مگر وہ اسے یہ سب بتا نہیں پاتا تھا۔
نمیرہ نے برتن دھو کر رکھے اور باہر آ کر صفائی کرنے لگی اور آج تو اس کا بس نہیں چل رہا تھا پورے گھر کی تفصیلی صفائی کرے۔۔
ڈرائنگ روم کی صفائی کرتے ہوئے دو تین بار اس کی نظر بھٹک کر سیحان زبیری پر پڑی اور وہ ہر بار نمیرہ کو دیکھ کر ہنستے ہوئے سر نفی میں ہلاتے ہوئے سکرین کی طرف متوجہ ہو جاتا تھا۔۔
وہ اس کی مسکراہٹوں پر بری طرح چڑ گئی۔۔
”خوشی کس بات کی ہے آپ کو؟؟ میرے منہ پر کوئی لطیفہ لکھا ہے کیا؟“ وہ غصے سے اس کے سر پر پہنچی۔ وہ چونک کر سیدھا ہوا۔
”تم نے کچھ کہا؟“ ہینڈز فری اتار کر پوچھتا وہ ایسے ظاہر کر رہا تھا جیسے کچھ جانتا ہی نا ہو۔۔
نمیرہ اس کے سوال پر تن فن کرتی وہاں سے چلی گئی۔ پیچھے وہ کتنی دیر اپنی غصیلی پاگل بیوی پر ہنستا رہا تھا۔
ماسیوں والا حلیہ بنائے سر سے پیر تک الجھے بکھرے حلیہ میں وہ غصے سے سرخ چہرہ لیے سیدھی سیحان زبیری کے دل میں اتر رہی تھی۔
وہ شاید دنیا کا پہلا شخص تھا جسے اپنی اتنی اجڑی صورت والی بیوی پیاری لگ رہی تھی۔
وہ دونوں منفرد تھے، دنیا سے الگ ہی تھے۔ اس لیے تو ساتھ تھے۔ اسی لیے ان کے دل آپس میں بندھے تھے۔
نمیرہ اپنے کمرے میں جا کر فریش ہوئی اور نم بال سلجھا کر ڈوپٹہ اوڑھتی دا جان کے پاس جا بیٹھی۔
”آج آنے میں دیر کر دی۔۔“ تنہائی سے بےزار دا جان شاید اسی کے منتظر تھے، تبھی سوال کیا۔
”ہاں۔۔ بس۔۔ وہ۔۔“ اب کیا کہتی ان کے پوتے نے دماغ کو ایسا الجھا رکھا تھا کہ دو منٹ کا کام وہ بیس منٹ میں کرنے لگی تھی۔ چپ ہو گئی۔
”سیحان آج گھر پر ہے؟“ دا جان نے سوال کیا۔
”پتا نہیں۔۔ میں نے نہیں دیکھا۔“ وہ مُکر گئی۔
ایسے بن گئی جیسے سیحان زبیری نامی شخص زندگی میں کبھی دیکھا ہی نا ہو۔۔
کیا وہ ان کے ہی گھر میں رہتا تھا؟ وہ انسان تھا؟
اچھا؟ بھئی اسے تو کچھ نہیں پتا تھا۔
دا جان اس کے ڈراموں سے اب واقف ہو چکے تھے۔ اس لیے ہنس کر اسے دیکھنے لگے۔
وہ کچھ وقت دا جان کے پاس بیٹھی رہی اور یہاں وہاں کی باتیں کرتی رہی مگر پہلی بار اس نے سیحان زبیری کی کوئی بات نہیں کی تھی۔
یعنی ناراضگی کا کھلم کھلا اظہار کر رہی تھی۔
کچھ دیر بعد اٹھ کر دوپہر کا کھانا بنانے کچن میں آ گئی۔ سبزی بناتے وقت نمیرہ کی نظر آلوؤں پر پڑی تو اتنے وقت بعد پھر سے چپس بنانے کو دل مچل اٹھا۔
اس نے بہت عرصہ روکا تھا خود کو، حالات کی وجہ سے کم آمدنی میں گزارا کرتی رہی تھی مگر اب نہیں رہ سکی تھی۔
ہاں اتنا کیا کہ صرف ایک آلو اٹھا کر تھوڑے سے چپس بنائے اور وہیں سٹول پر بیٹھ کر کھانے لگی۔
چٹخارے لے کر کھاتے ہوئے قدموں کی چاپ پر نظر اٹھائی تو دروازے پر کھڑے سیحان زبیری کے سنجیدہ چہرے پر نظر پڑی۔ نمیرہ گڑبڑا کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور اس سے پہلے کہ وہ کوئی وضاحت دیتی۔ وہ تیزی سے پلٹ کر وہاں سے چلا گیا۔
نمیرہ نے بددلی سے پلیٹ شیلف پر رکھی اور سر پکڑ لیا۔ وہ کیا سوچ رہا ہو گا؟ وہ اتنا سنجیدہ ہو کر کیوں پلٹا؟ یقیناً اسے نمیرہ کی یہ چھپ کر کی جانے والی عیاشی ناگوار گزری ہو گی۔
وہ پھر سے منفی سوچوں میں الجھ چکی تھی مگر اس کے پیچھے جا کر پوری بات واضح کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔
وہ پورا دن سیحان زبیری سوچ میں گم، سنجیدہ سا رہا تھا۔۔ کیوں؟ نمیرہ یہی سوچ سوچ کر پاگل ہوتی رہی اور اس کے سامنے جانے پر شرمندہ ہوتی رہی۔
وہ شرمندہ تھی کہ سیحان زبیری کی محنت کی کمائی سے لیے گئے مختصر سامان میں اس نے یوں چپس کیوں بنا لیے۔۔
یہ رزق اور اس گھر کی ہر چیز پر اس کا حق تھا مگر اس حق کا اسے احساس نہیں دلایا گیا تھا۔ سیحان زبیری سنجیدہ ہو گیا تھا مگر اسے اپنی سنجیدگی کی وضاحت نہیں دے پایا تھا۔
وہ نہیں بتا پایا کہ نمیرہ کو یوں چھپ کر تھوڑے سے چپس کھاتے دیکھ کر اس کے دل کو کچھ ہوا تھا، اسے اپنا آپ برا لگ رہا تھا کہ اس کی بیوی بن کر آنے والی لڑکی یوں گزارہ کر رہی تھی۔
ایسے کھانے کے لیے ترس رہی تھی۔
ان کے رشتے میں ابھی جو جھجک تھی وہ انہیں پریشان کرتی تھی مگر ہمت دونوں نہیں کر پائے اور کئی دن اسی طرح اپنی اپنی جگہ دونوں چور سے بنے رہے تھے اور دا جان یہ سب محسوس کر کے جلنے کڑھنے کے سوا کچھ نہیں کر پا رہے تھے۔
••••••••••••••
نمیرہ چائے بنا کر دا جان کے کمرے میں پہنچی تو سیحان کو وہیں بیٹھا دیکھ کر دروازے پر ہی رک گئی۔ وہ بےوقت گھر کیسے آ گیا تھا۔ ابھی تو دن کے چار بج رہے تھے اور اس وقت عموماً سیحان زبیری جاب پر ہوتا تھا۔
”آ جاؤ نمیرہ۔۔ ایک تو چائے بنانے میں اتنی دیر لگا دیتی ہو کہ حد نہیں۔۔“ دا جان مسکرا رہے تھے۔
وہ گہرا سانس بھر کر قدم بڑھاتی ٹرے ٹیبل پر رکھ گئی۔ سیحان نے ایک نظر اس کے سادہ چہرے پر ڈالی۔
”کیا مجھے بھی چائے مل سکتی ہے؟“ سیحان نے دو کپ دیکھ کر آہستگی سے فرمائش کی۔
”تم نے آ کر اپنی بیوی کو نہیں بتایا کہ گھر آئے ہو؟ یہ کیا حرکت ہوئی بھلا۔۔ اب وہ تمہارے لیے الگ سے چائے بنائے گی کیا؟“ دا جان اپنے پوتے کی لاپروائی پر دل جلے انداز میں بولے تو سیحان شرمندہ ہو گیا۔
نمیرہ نے خاموشی سے اپنا چائے کا کپ کھسکا کر اس کے سامنے کر دیا۔ وہ اس کی حرکت پر اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔
”میں نے اپنی بیوی کو اس لیے نہیں بتایا تاکہ ہم دونوں ایک ہی کپ شئیر کر سکیں۔۔ آپ بوڑھے ہیں آپ کو ایسی باتوں کا کیا پتا۔۔“ سیحان یکدم چائے کا کپ اٹھا کر گہرے لہجے میں بولا تو دا جان کو اچھو لگا۔
نمیرہ آنکھیں پھیلائے حیرت سے اس کم گو سیحان کو دیکھ رہی تھی جو بولتا اُدھار پر تھا اور آج شوخیاں سُوجھ رہی تھیں۔
”مجھے بہت کچھ پتا ہے۔ جو ہمارا زمانہ تھا تب۔۔ تمہاری دادی اور میں۔۔۔“ دا جان ماضی میں ڈوبتے جانے کون سے قصے کہانیاں چھیڑنے والے تھے جب نمیرہ اور سیحان دونوں نے گھبرا کر انہیں روکا۔
”اچھا بس چھوڑیں جو بھی کرتے تھے۔۔“ سیحان نے انہیں باقاعدہ روک کر چپ کروایا۔
”آپ کی چائے ٹھنڈی ہو جائے گی داجان۔۔ پھر نا کہیے گا گرم کر کے لا دو۔۔ پہلے چائے پئیں پھر باتیں کرنا۔“
نمیرہ نے بھی دوسری جانب ان کے پاس بیٹھتے ہوئے وارننگ دی تھی۔ وہ منہ بنا گئے۔
”سیحان کی دادی کے ساتھ میں اتنی باتیں کرتا تھا کہ وہ بار بار چائے گرم کر کے لا دیتی اور میں باتوں میں ٹھنڈی کر دیتا تھا۔۔ مگر کبھی آخری گھونٹ تک چائے ٹھنڈی نہیں پینے دیتی تھیں مرحومہ۔۔“
دا جان نے اپنی یادیں دوہراتے ہوئے ٹھنڈی آہ بھری۔
”جانے دیں دا جان اب کچھ زیادہ ہی ہو رہا ہے۔“
سیحان چائے کا سپ بھر کر بڑبڑایا تھا۔ نمیرہ ان کو ان سنا کیے نظریں گھماتی کمرے کا جائزہ لینے لگی۔
”سیحان۔۔ نمیرہ کے کزن میران کی شادی ہے۔ ہمیں بھی دعوت دی گئی ہے مگر میری حالت تمہیں پتا ہے۔
اور یہ پاگل نمیرہ میری وجہ سے معذرت کر چکی ہے۔“
دا جان نے اچانک نمیرہ کا زکر چھیڑا تو سیحان نے چونک کر نمیرہ کو دیکھا جو گڑبڑا کر دا جان کو دیکھتی چپ رہنے کا اشارہ دینے لگی۔
”اسے لے جاؤ۔۔ آج شام بھی مہندی ہے وہاں۔۔ کچھ دیر کے لیے چلے جاؤ دونوں۔۔ ان لوگوں کو اچھا لگے گا۔“
دا جان نے ان دونوں کو تاکید کی تو وہ بےساختہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگی۔
”جانا۔۔ اتنا ضروری۔۔ بھی نہیں ہے۔“ نمیرہ نے نظریں ملتے ہی نظریں چرا کر ہچکچاتے ہوئے انکار کیا۔
”میں آج فری ہوں۔ چلنا ہے تو کوئی پریشانی نہیں۔“
سیحان اس کے انکار پر بولا۔ نظریں اس سادہ سے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔
وہ آئی تھی تو چہرہ کھلتے گلاب سا ہوا کرتا تھا مگر اب کچھ ہی عرصہ میں اس کا چہرہ مرجھا گیا تھا۔ سیحان یک ٹک اسے دیکھتا جا رہا تھا۔
”بس پھر طے ہوا۔۔ جاؤ نمیرہ تیاری کرو۔۔ تم لڑکیاں تو بہت وقت لیتی ہو تیاری کرنے میں۔۔
سیحان کی دادی تو جب ہم کہیں جاتے تھے مرحومہ اسی وقت۔۔۔“ ابھی دا جان بول رہے تھے کہ دونوں اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ رک کر انہیں دیکھنے لگے۔
”میں۔۔ کپڑے نکالوں۔۔“ نمیرہ وضاحت دیتی وہاں سے چلی گئی۔ سیحان نے بھی وہی بہانہ بنایا اور کمرے سے نکل گیا۔
کیونکہ یہ قصہ وہ دونوں سن چکے تھے اور دادی مرحومہ کی فوری تیاری کے باوجود چاند سے زیادہ روشن لگنے والے چہرے کی داجان اتنی لمبی تعریف کرتے تھے کہ انہیں روکنا مشکل ہو جاتا تھا۔
دا جان ان دونوں کے جانے کے بعد بڑبڑا کر رہ گئے۔
••••••••••••
نمیرہ اپنا ڈریس لیے دوسرے کمرے میں تیاری کرنے جا چکی تھی۔ شاور لے کر کیمل کلر کی میکسی پہن کر وہ شیشے کے سامنے کھڑی ہوتی تیزی سے ہاتھ چلا کر اپنے پرکشش نقوش کو مزید سنوارنے لگی۔
بالوں کو ڈھیلا سٹائلش سا جوڑا بنا کر کانوں میں بھاری جھمکے پہنے اور ایک آخری نظر خود پر ڈالی۔
اس سج دھج اور تیاری میں اس کا سراپا اور دلکش نقوش نہایت خوبصورت لگ رہے تھے۔ وہ مطمئن ہوئی اور سینڈل پہن کر، کلچ اٹھاتی کمرے سے نکلی۔
دروازے کے عین سامنے سیحان زبیری اس کا منتظر کھڑا ہوا تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ٹھٹک گئے۔ سیحان اس کا دمکتا حسن دیکھ کر اور۔۔
نمیرہ اس کے وجیہہ دلکش سراپا پر کیمل کلر کاٹن کا کرتا شلوار دیکھ کر۔۔۔
”واؤ۔۔ واٹ آ کو انسیڈینس۔۔ سب سمجھیں گے ہم نے جان بوجھ کر سیم کلر کی ڈریسنگ کی ہے۔“
سیحان نے مسکرا کر اسے سر تا پا گہری نظروں سے دیکھا تھا۔ وہ اسے نہیں بتانے والا تھا کہ اسے کیمل کلر کا ڈریس لے کر جاتا دیکھ کر اس نے جان بوجھ کر ہی اسی کلر کا ڈریس پہنا تھا۔
”اوہ۔۔ جی ہاں مگر۔۔ کوئی بات نہیں، اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔“ نمیرہ جھینپ کر مسکرائی۔ وہ بھی اسے بتانے والی نہیں تھی کہ شادی پر جانے کا سوچ کر اس نے ہم رنگ لباس ہی استری کیے تھے۔
”فرق تو واقعی نہیں پڑتا۔۔“ وہ مسکرا کر اس کے سامنے ہاتھ پھیلا گیا۔ نمیرہ نے اس کا ہاتھ دیکھا اور پھر اس کا مسکراتا دلکش چہرہ۔۔
”کیا ہم وہاں سب کے سامنے ایک ہیپی کپل شو کر سکتے ہیں؟ پلیز۔۔“ وہ اس کی کنفیوژن پر وضاحت دے رہا تھا۔ دل کی بات کو زبان پر لا کر صفائی دے رہا تھا۔ کہہ ہی نہیں پایا تمہارا ہاتھ تھامنا چاہتا ہوں۔
نمیرہ نے سر ہلا کر جھجک کر اس کے بھاری ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ یہ پہلا لمس تھا جو اس نے محسوس کیا تھا۔ اس کے رخسار تپ اٹھے۔
سیحان نے اس کا نازک سا ہاتھ تھام کر گرفت مضبوط کی اور اسے ساتھ لے کر باہر نکلا۔ وہ اسے اپنے پہلو میں محسوس کر کے مسکرا رہا تھا اور نمیرہ۔۔۔
وہ تو اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ محسوس کر کے ہی مسرور تھی۔
شادی میں سب نے ان کے جوڑے کو سراہا تھا اور وہ لوگوں کے سامنے، لوگوں کو دکھانے کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ایک ساتھ تھے۔۔ قریب تھے۔۔
مگر ان کی دھڑکنیں بےترتیب سی ہو رہی تھیں، محبت ان کے وجود میں پوری طرح بس چکی تھی۔
•••••••••••
میران کی شادی کے بعد دن ویسے ہی مصروف بےزار سے ہو گئے تھے۔ سیحان زبیری بھی مصروف ہو چکا تھا اور نمیرہ بھی اپنے خول میں بند ہو چکی تھی۔
”مبارک ہو بہت بہت۔۔“ کچن میں کام کرتی نمیرہ نے دا جان کی پرجوش کپکپاتی آواز سنی تو حیران ہوئی۔
وہ کس بات کی مبارک دے رہے تھے۔ اور کس کو؟؟
وہ کچن سے نکل کر ان کے کمرے میں پہنچی۔
سیحان زبیری اور دا جان کے دمکتے چہرے اور ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ دیکھ کر وہ ہونقوں کی طرح ان دونوں کو دیکھنے لگی۔
”آؤ نمیرہ۔۔ تمہیں ہی بلانے والا تھا۔۔ دیکھو میرا سیحان کامیاب ہو گیا۔“ دا جان نے اسے پکار کر بتایا۔
اور جو بتایا اس نے نمیرہ کی آنکھیں کھول دی تھیں۔
سیحان زبیری کا رزلٹ آیا تھا۔ اے۔سی۔سی۔اے میں شاندار رزلٹ لینے والا سیحان زبیری۔۔۔
اس کے سامنے بیٹھا اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
وہ۔۔ جسے نمیرہ صرف کتابوں کا دلدادہ سمجھتی تھی بلکہ کبھی بےوقوف بھی کہہ دیتی تھی جو جاب روٹین کی تھکاوٹ بھولے لیٹ نائٹ جاگ کر خوامخواہ کتابیں پڑھتا تھا۔
جو صبح نماز کے بعد پھر سے کتابیں اٹھاتا تھا اور پھر ناشتہ کر کے آفس کی تیاری کرنے تک وہ کتابیں اس کے سامنے ہی رہتی تھیں۔
پھر اس کا آفس سے باقاعدہ چھٹی لے کر ایگزام کی تیاری کرنا اور پھر آنلائن پیپر دینا۔۔ یہ سب محنت اور لگن، وہ خود پاگل تھی جو سمجھ نہیں پائی تھی۔۔
خوشی میں شوگر بھول کر مٹھائی کھاتے دا جان پر بھی نمیرہ کو غصہ آیا، گھنٹوں باتیں کرتے تھے۔۔
وہ ان کے پوتے کو نکما اور کتابی کیڑا اور ناجانے کیا کچھ بولتی تھی، وہ ہنس ہنس کر لطف اندوز ہوتے رہے مگر کبھی اس بات کا ذکر تک نہیں کیا۔
وہ سنجیدہ ہوتی پلٹ کر وہاں سے چلی گئی۔ سیحان اور دا جان چونک کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
”کیا تم نے۔۔۔ اسے پہلے نہیں بتایا؟ اپنے رزلٹ کا؟“
دا جان نے پریشانی سے سوال کیا۔
”کبھی اس موضوع پر۔۔ بات ہی نہیں ہوئی۔۔“ سیحان نے نفی میں سر ہلا کر سادگی سے جواب دیا۔
”وہ ناراض ہو چکی ہے۔ وہ ہرٹ لگ رہی تھی۔
تم اسے خوش نہیں رکھ سکے الٹا ہرٹ کر دیا۔“
دا جان بھی آدھا ڈبہ مٹھائی کھا کر ناراض ہو گئے۔
”میں منا لوں گا۔۔ دوبارہ کبھی ہرٹ نہیں کروں گا۔“
سیحان نے پُرعزم لہجے میں کہا تھا۔
•••••••••
اے سی سی اے کی شاندار ڈگری اور اعلا گریڈز کے بعد سیحان زبیری کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب لگ گئی تھی۔ اسے کمپنی کی جانب سے پُرآسائش خوبصورت گھر اور گاڑی ملی۔۔ وہ دا جان اور نمیرہ کو لے کر وہاں شفٹ ہو گیا۔
اس کی کامیابی پر نمیرہ، اس کے گھر والے اور خاندان والے سب ہی حیران ہوئے تھے۔۔
”اگر وہ پڑھ رہا تھا تو یہ بات چھپانے کا کیا مقصد تھا اور اسے معمولی تعلیم یافتہ کہنے کا کیا مقصد تھا؟“ ہر کسی کا نمیرہ سے پہلا سوال یہی تھا۔
اب وہ کیا جواب دیتی، یہ سب تو وہ خود بھی نہیں جانتی تھی اور اسے اسی بات کا تو افسوس تھا کہ سیحان نے اسے کیوں نہیں بتایا تھا۔۔
اور پھر دا جان کے تو کیا ہی کہنے۔۔۔۔۔!
اس وقت نمیرہ اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹی اداس سی یہی سب سوچ رہی تھی۔ وہ اسے کامیابیوں کے بارے میں بتانا گوارا نہیں کرتا تھا۔ وقت آنے پر نمیرہ کو خبر ہوئی وہ بھی کیسے۔۔ یوں لگا جیسے موقع پر پہنچ کر بائے چانس سب جان لیا تھا ورنہ۔۔۔۔۔
شاید وہ اسے انجان رکھتا اور وہ انجان ہی رہتی۔۔
نا اس نے دا جان سے شکایت کی۔۔ نا سیحان زبیری سے۔۔ اس کی ناراضگی کا یہی انداز تھا۔
اسے لگا دا جان تو شاید سمجھ ہی نہیں پا رہے کہ نمیرہ ناراض ہے۔ وہ غلط تھی، دا جان اس بار سیحان کو آگے بڑھنے کا موقع دے رہے تھے۔
اور سیحان زبیری۔۔۔ اس کے بارے میں نمیرہ نہیں جان سکی کہ وہ نمیرہ کی ناراضگی سے انجان تھا یا اسے فرق ہی نہیں پڑتا تھا۔
”کیا کر رہی ہو نمیرہ؟“ سیحان کی نرم آواز پر وہ خیالوں سے نکل کر اسے دیکھنے لگی پھر خاموشی سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ ناراضگی کے اظہار میں جواب بھی نہیں دیا اور رخ بھی پھیر لیا تھا۔
سیحان نے مسکرا کر اس کے پاس بیٹھتے ہوئے ٹرے اس کے سامنے رکھا۔ نمیرہ نے جانی پہچانی خوشبو محسوس کر کے چور نظروں سے ٹرے کی جانب دیکھا تو آنکھیں پھیل گئیں۔
گرما گرم چائے کے دو کپ اور ساتھ ایک بھری ہوئی پلیٹ اس کے پسندیدہ کرسپی فنگر چپس کی تھی۔ اس کا دل للچانے لگا۔ بےساختہ ہاتھ بڑھایا مگر اس روز سیحان کا کچن میں اسے چپس کھاتے دیکھ کر سنجیدگی سے پلٹنا یاد آیا تو ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔
اس کی حرکت پر سیحان نادم ہو گیا۔
”ایم سوری نمیرہ۔۔ میری وجہ سے تمہیں اتنا برا وقت گزارنا پڑا۔۔ دراصل میری سیلری اتنی کم نہیں تھی مگر مجھے اپنی سٹڈی کا خرچ بھی پورا کرنا ہوتا تھا تو میں گھر میں کم دے پاتا تھا۔۔
اسی بات پر میں دا جان سے بہت الجھا تھا، مجھے تم سے شادی کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا مگر میں سٹیبل نہیں تھا اور دا جان کو لگتا تھا میں بہانے بناتا ہوں اور بعد میں مُکر جاؤں گا۔۔
مگر تم۔۔ وہ ٹھیک کہتے تھے، تم چاہے جانے کے قابل ہو، اپنائے جانے کے قابل ہو۔۔ تم نے اتنے طریقے سے خود کو ایڈجسٹ کر لیا تھا، ایسے محدود رقم میں گزارہ کر لیا تھا کہ میں حیران رہ گیا تھا۔“
وہ آہستگی سے وضاحتیں دیتا پلیٹ کے ایک کنارے پر کیچپ ڈالتا پلیٹ اس کے سامنے کر گیا۔ وہ چپس بھُلائے سیحان کو دیکھ رہی تھی۔
”میں شروع میں کچھ ان ایزی تھا، میں نے نہیں سوچا تھا مجھ جیسے خاموش طبع انسان کو اتنا بولنے والی پارٹنر ملے گی۔۔ دا جان اور مجھے زیادہ وقت باتیں کرنے کی عادت ہی نہیں تھی۔۔
مگر پھر تمہارا بولنا، بے تکان بولتے رہنا مجھے اچھا لگنے لگا تھا، مجھے زندگی کا احساس ہونے لگا۔۔“
نمیرہ خاموشی سے سب سن رہی تھی۔ مشکل سے تو کچھ بول رہا تھا، وہ بھی اتنے عرصے بعد۔۔
حالانکہ۔۔۔۔ کتنا اچھا بولتا تھا۔۔ کتنا پیارا بولتا تھا۔
وہ اس کی دیوانی ہو رہی تھی۔۔
”میں نے تمہیں اپنی سٹڈی کا بھی نہیں بتایا۔۔ میں کنفیوز تھا کہ تم پوچھ نہیں رہی تو خود کیسے بتاؤں۔۔۔ مطلب ہمارے درمیان کبھی اس ٹاپک پر بات بھی تو نہیں ہوئی۔۔
اس دن بھی میری کلاس فیلو نے مجھ سے یہی سوال کیا تھا کہ تم جانتی ہو یا نہیں اور میں نے کہا کہ تم نے پوچھا نہیں میں نے بتایا نہیں۔۔
اس کا خیال تھا تم پتہ چلنے پر خفا ہو جاؤ گی اور شاید اس نے ٹھیک کہا تھا۔ خفا ہو ناں مجھ سے؟
ایم سوری نمیرہ۔۔“ وہ اس کی خاموشی سے بےچین ہونے لگا۔ وہ اس کے بولنے سے خوش ہو رہی تھی۔
سب وضاحت سن کر وہ ہلکی پھلکی ہو گئی۔
شک اور بدگمانی سب اڑن چھو ہو گئی۔ سیحان نے چپس اٹھا کر اس کے منہ میں دیا۔
”مجھے عبیرہ نے بتایا تھا کہ تمہیں چپس بہت پسند ہیں لیکن میرے ہاں تمہیں ایسا کچھ نہیں ملا۔۔۔
اس دن تمہیں کچن میں دیکھ کر مجھے دکھ ہوا تھا، بہت ذیادہ دکھ ہوا تھا اور میں تم سے شرمندہ بھی تھا۔
میں پرامس کرتا ہوں کہ اب میری طرف سے کبھی کوئی مشکل یا دکھ نہیں ملے گا تمہیں۔۔
کیا تم ناراض ہو ابھی تک؟“ وہ اب بھی نمیرہ کے نا بولنے پر پریشان ہو گیا تھا۔
”نہیں، خوش ہوں بہت۔۔“ نمیرہ خوشی سے چہکی۔
”اور ہاں آپ اگر مجھے پسند کرتے ہیں تو وہ بھی آج مجھے بتا دیں ورنہ بعد میں مجھے یقین نہیں آئے گا۔“
نمیرہ نے اسے مزید بولنے پر اکسایا تھا۔
اس کی بات پر بمشکل مسکرانے والے سیحان زبیری نے قہقہ لگایا، یہ خوشی کی علامت تھی۔
نمیرہ کی سنگت میں وہ خوش تھا اور مطمئن بھی۔۔۔
”بہت اچھی لگتی ہو مجھے، مجھے اتنا زبردست ہم راہی ملا، یقین نہیں آتا۔۔ آئی لو یو نمیرہ۔۔“
اس کے کھلم کھلا اظہار پر نمیرہ شرما گئی۔
سیحان نے ہنس کر اس کا رخسار سہلایا۔ وہ نظر جھکائے چائے کا کپ اٹھا گئی۔
وہ دونوں ہلکی پھلکی باتیں کرتے اپنے درمیان جھجک ختم کر چکے تھے۔ محبت تو تھی ہی اجنبیت کی دیوار بھی گر گئی۔ ماحول خوشگوار ہو گیا۔
ان کے لبوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔
سیحان کے ہنستے ہوئے چہرے کو دیکھتی نمیرہ نے گہرا پر سکون سانس بھر کر چائے کا گھونٹ بھرا۔
ایک اس کا خواب تھا جو وہ ہر وقت دیکھتی تھی، اور ایک یہ حقیقت تھی کہ اتنی مشکلات کے بعد راہ سہل ہوئی تھی۔
اور نمیرہ سفیر اس حقیقت میں ذیادہ خوش تھی، محبت جو ہو گئی تھی اور محبت تو پھر ہر کسی کا اصل خواب ہوتی ہے جس کے ملنے پر حقیقی زندگی کی ہر آزمائش بے معنی لگتی ہے۔
اسے سیحان زبیری سے محبت ہونا تھی، ضروری نہیں تھا کوئی اور ملتا تو اس سے بھی محبت ہو جاتی۔۔۔
اسی لیے شاید نمیرہ وہ خواب پورا ہونے پر اتنا پُرسکون نہ ہوتی، جتنی اب تھی۔
