Khuwab Or Haqiqat by Yaman Eva NovelR50590 Khuwab Or Haqiqat (Episode 01)
Rate this Novel
Khuwab Or Haqiqat (Episode 01)
Khuwab Or Haqiqat by Yaman Eva
(آئیے آئیے۔۔ کیا آپ اس بلیک گیٹ کو دیکھ رہے ہیں۔؟ جی ہاں یہ میرا گھر ہے۔۔
اندر آئیے ناں۔۔ میں آپ کو اپنی فیملی سے ملواتی ہوں۔
وہ سامنےتخت پر جو بزرگ بیٹھے ہیں وہ میرے ددا جان ہیں۔۔ ان کا نام شبیر احمد ہے اور ان کے ساتھ جو عورت بیٹھی ہیں۔ نرم سی مسکراہٹ والی۔۔ پیاری سی عورت۔۔ وہ میری ماں ہیں۔۔ ان کا نام مریم ہے۔۔
ان کے ساتھ جو سستی سے جمائیاں لیتی بےزار صورت لڑکی بیٹھی ہے یہ میری بڑی بہن عفیرہ ہے۔۔
جی ہاں ٹھیک سمجھے عفیرہ بہت لمبی ہے۔۔
اور وہاں جو سامنے کسی مہ جبیں کی طرح زلفیں پھیلائے رونی صورت لڑکی آ رہی ہے۔۔
ارے ڈرئیے مت یہ میری چھوٹی بہن ہے کوئی چڑیل نہیں۔۔ اس کا نام عبیرہ ہے۔۔ اور یقیناً اس کا یہ حال یزدان نے کیا ہے۔۔۔ جی؟ یزدان کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟ اوہ یزدان میرا چھوٹا بھائی ہے۔۔
جو عبیرہ سے ایک سال بڑا اور مجھ سے دو سال چھوٹا ہے۔۔۔۔۔۔
یہ جو ٹی۔وی لاؤنج میں بیٹھا ہے یہی ہے یزدان۔۔
ارے یہاں وہاں کیا دیکھ رہے ہیں۔۔ یہ سامنے صوفہ پر ہی تو بیٹھا ہے ٹی۔وی کو سالم نگل جانے جیسی نظروں سے دیکھتا ہوا۔۔۔
اوہ سمجھ گئی یقیناً آپ بھی دوسروں کی طرح دھوکہ کھا گئے اور اسے بڑا بھائی سمجھ بیٹھے۔۔۔
نہیں بالکل نہیں۔۔ یہ صرف قد کاٹھ کے لحاظ سے بڑا دکھتا ہے، ورنہ چھوٹا ہے مجھ سے۔۔
اور یہ جو ٹیلی فون پر مصروف کھڑے ہیں یہ میرے بابا جانی ہیں۔۔ ان کا نام سفیر احمد ہے۔۔
ارے نہیں آپ غلط سمجھے میرے بابا جانی روزانہ گھر پر نہیں ہوتے۔۔ فارغ تھوڑی ہیں۔۔
ان کی بڑے بازار میں کپڑے کی دو دکانیں ہیں۔۔ آج جمعہ ہے تو گھر پر موجود ہیں۔۔
جی ہاں سہی سمجھے جب عبیرہ اور یزدان کی لڑائی ہوئی ہو گی (جو کہ ان دونوں کا معمول ہے)
تب بابا موجود تھے اور یقیناً آپ کے لیے یہ قابل حیرت ہے کہ انہوں نے روکا بھی نہیں۔۔
کیوں کہ ان کی عادت ہی ایسی ہے۔۔ جب تک دو فریقین برابر ہوتے ہیں بابا کچھ نہیں کہتے اور جہاں کوئی ایک زیادہ زور آور ہونے لگے تو پھر دونوں کی ہی خیر نہیں۔۔
اور رہ گئی میں۔۔ تو میرا نام نمیرہ ہے۔۔
جی بالکل میں نا عفیرہ جیسی لمبی ہوں نا ہی عبیرہ جیسی موٹی ہوں۔۔
مجھے آلو کے چپس بہت پسند ہیں جس کی وجہ سے میں اکثر کچن میں پائی جاتی ہوں جیسے اس وقت بھی وہیں جا رہی ہوں۔۔ اور پھر پھنس بھی جاتی ہوں ٹھیک اس طرح۔۔
”نمیرہ اماں کہہ رہی ہیں کچن میں ہو تو چائے بھی بنا لو۔۔“ یہ عبیرہ نے آواز لگائی ہے۔۔
سنا آپ نے؟ اسی طرح یہ لوگ مجھے کام سونپ دیتے ہیں جو مجھے کرنا ہی پڑتا ہے سو میں تو اب چائے بنانے لگی ہوں)
نمیرہ نے اپنی لمبی کہانی کا یہاں اختتام کر کے سامنے بیٹھے بھائی بہنوں کو داد طلب نظروں سے دیکھا۔۔
عفیرہ اور عبیرہ کے ساتھ ساتھ یزدان بھی منہ کھولے اس کو دیکھ رہے تھے۔۔
”کیا تم۔۔ یہ تم۔۔ ایسے۔۔ ایسے اپنے رشتہ لانے والوں کو۔۔ یوں گھر کا حال بتاؤ گی۔۔۔ خود آگے ہو کر۔۔؟“
ان سب کا صدمے سے منہ کھلا ہوا تھا اس نے شرما کر نظریں جھکاتے ہوئے سر ہلایا۔۔
”تو وہ بھی وہیں بلیک گیٹ سے ہی آپ کو ٹا ٹا بائے بائے بول دیں گے۔۔ اتنی افسانہ نگاری اور ایسی بھیانک شکل میں تعارف۔۔ اللّٰہ معاف کرے آپا۔۔
کون کرے گا آپ جیس منہ پھٹ سے شادی۔۔ “
یزدان منہ بنا کر بول رہا تھا، نمیرہ کے گھورنے پر منہ بناتا اٹھ کر چلا گیا۔۔
عفیرہ اور عبیرہ بھی اٹھ کر جا چکی تھیں اور نمیرہ اکیلی کھڑی سوچ میں گم ہو گئی۔ بھلا اس نے غلط کیا کہا تھا؟ اس کو سمجھ نہیں آئی۔۔
ہاں ہو سکتا ہے جل گئے ہوں میری زہانت سے۔۔۔
•••••••••••••
”عفیرہ میں تائی جان کے گھر جا رہی ہوں، تم چلو گی؟“ بالوں کو کیچر میں قید کرتے ہوئے نمیرہ نے سامنے بیٹھی عفیرہ سے پوچھا۔۔
”نہیں بھئی مجھے نہیں جانا، تم جاؤ۔۔ جانتی تو ہو اس وقت جبران گھر پر ہوتے ہیں اور۔۔
”اور آپ شہزادی صاحبہ نے ان کے سامنے نا جانے کی قسم کھا لی ہے۔۔“ نمیرہ نے جل کر اس کی شرمیلے لہجے میں کہی جانے والی بات کاٹی۔۔
جواباً اس کا ڈھٹائی سے کندھے اچکانا نمیرہ کو آگ ہی تو لگا گیا تھا، وہ دانت کچکچا کر رہ گئی۔
”مرو تم۔۔ مت کرنا شادی بھی۔۔ یونہی گھونگھٹ ڈالے ساری عمر گزار دینا۔۔“ نمیرہ کو اس کے ساتھ نا جانے پر شدید غصہ آ رہا تھا۔۔
ایسا نہیں تھا کہ نمیرہ اکیلی نہیں جا سکتی تھی یا اس کے تایا کبیر احمد کا گھر دور تھا۔۔
ایک ہی دیوار تھی اپنے گھر سے نکل کر ساتھ ہی ان کے گھر کا گیٹ تھا۔۔ پہلے تو گھر کے درمیان میں راستہ تھا پھر جب وہ بہنیں جوان ہوئیں تو راستہ بند کر دیا گیا کیونکہ تایا جان کے تین جوان بیٹے تھے۔۔
صفوان کبیر، جبران کبیر اور عفیرہ کا ہم عمر میران کبیر۔۔
صفوان کبیر کی شادی تین سال پہلے اپنی خالہ زاد منزہ سے ہو چکی تھی اور ان کی شادی میں ہی جبران کبیر کی ہی فرمائش پر عفیرہ اور ان کا نکاح کر دیا گیا تھا۔
مگر اس نکاح کا صفوان کبیر کو یہ نقصان ہوا تھا کہ شادی تک عفیرہ کو دیکھنے یا ملنے کا چانس ختم ہو گیا تھا۔۔
حالانکہ عفیرہ پر کسی طرف سے کوئی پابندی نہیں لگائی گئی تھی۔ بس وہ خود ضرورت سے زیادہ شرمیلی تھی، اور اسی بات کا نمیرہ کو شدید غصہ تھا۔۔
وہ دھپ دھپ کر کے کبیر صاحب کے گھر پہنچی مگر گھر میں داخل ہوتے ہی نمیرہ کا پہلا سامنا میران سے ہوا تھا۔۔ وہ گنگناتے ہوئے صحن میں کھڑی بائیک دھو رہا تھا۔ اس کے چہرے پر شریر چمک امڈ آئی۔
”کیسے ہو میرو؟“ اس نے شرارت سے پوچھا۔ میران نے اس آواز پر لب بھینچے۔ اسے نمیرہ کا میرو کہنا بہت برا لگتا تھا۔۔
”تم پھر آ گئیں۔۔ کبھی اپنے گھر بھی ٹک کر بیٹھ جایا کرو۔۔“ وہ جل کر بولا اور پھر سے اپنی بائیک دھونے لگا۔۔ نمیرہ کو اس کا یوں چڑنا مزہ دیتا تھا۔۔
”تم مجھ سے اتنا جل کر کیوں بات کرتے ہو۔۔“ نمیرہ نے منہ بسورتے ہوئے معصومیت سے اسے دیکھا۔
”تمہاری صورت ہی ایسی دیکھ کر کسی کا دل ٹھنڈا نہیں ہوتا۔۔“ وہ سنجیدگی سے بولا اور پائپ سے پانی بائیک پر پریشر سے ڈالتے ہوئے دھونے لگا۔۔
”تائی جان کہاں ہیں میرو۔۔“ نمیرہ نے پھر سے چڑایا۔
”دفع ہو جاؤ یہاں سے ورنہ آج اپنی اس لمبی زبان سے محروم ہو جاؤ گی۔۔“ وہ پائپ زمین پر پٹخ کر دھاڑا۔
”میران شرم کرو۔۔ ایسے بات کرتے ہیں؟“
تائی جان شاید اسی کی آواز پر ہی باہر آئی تھیں، اسے گھورتے ہوئے گھرکا۔ وہ جلتا بھنتا اندر چلا گیا۔۔
”کیسی ہیں تائی اماں؟“ نمیرہ نے ان کے ساتھ اندر جاتے ہوئے محبت سے پوچھا۔
”میں ٹھیک ہوں بیٹا۔۔ تم کیسی ہو؟“ وہ اسے اپنے پاس بٹھا کر نرمی سے بولیں۔
”میں بالکل ٹھیک ہوں تائی اماں۔۔“ نمیرہ نے پھیل کر بیٹھتے ہوئے انہیں جواب دیا۔
”گھر میں سب ٹھیک ہیں؟ اور یہ عفیرہ نے تو آنا ہی چھوڑ دیا۔۔ کیا اب کوئی اور رشتہ ہی نہیں رہا ہم سے۔۔“ سوال کرنے کے ساتھ انہوں نے گلہ کر ڈالا اور یہ گلہ نمیرہ ہر بار آ کر سنتی تھی اور نمیرہ کا غصہ عفیرہ پر مزید بڑھ جاتا تھا۔
”آئے گی تائی اماں، شرمانے سے جب فرصت ملے گی تو آ جائے گی کبھی وہ بھی۔۔۔“
نمیرہ نے منہ بنا کر کہا تو تائی جان مسکرانے لگیں۔۔
”اسے تو شرمانے سے کبھی فرصت نہیں ملنی۔۔ امی سے کہتا تو ہوں جلد کوئی انتظام کریں۔۔ تاکہ اس کی شرم کا میں خود کوئی علاج کروں۔۔“
جبران جو اسی وقت وہاں پہنچا تھا، نمیرہ باتوں کا جواب خفگی سے دینے لگا۔۔ اسے ہنسی آئی۔۔
”اچھی خاصی ہنستی بولتی تھی، آپ کو ہی آرام نہیں آیا پکڑ کر نکاح پڑھوا لیا اس سے۔۔“ نمیرہ نے تائی جان کا لحاظ کیے بغیر ٹھک سے جواب دیا تھا۔
نمیرہ کی یہی عادت عفیرہ اور عبیرہ کو سخت نا پسند تھی، عبیرہ تو اکثر کہتی تھی۔
”مجھے لگتا ہے نمیرہ اپنی شادی پر بھی نہیں شرمائے گی۔۔“ اور نمیرہ ہنس کر کندھے اچکا دیتی تھی۔۔
یعنی لگتا تو اسے خود بھی یہی تھا۔۔
”ہاں بہت پچھتاوا ہے مگر اتنا بھی نہیں۔۔ میں ابھی چینج کر کے آتا ہوں۔۔“
جبران نے ہنستے ہوئے شوخی سے جواب دیا اور اپنے کمرے میں چینج کرنے چلا گیا۔
”تائی امی عشنا کہاں ہے۔۔؟“ نمیرہ نے بےچینی سے پوچھا۔۔ عشنا سب سے بڑے صفوان کی دو سالہ بیٹی تھی جو ان دونوں گھرانوں کے لیے ایک دلچسپ کھلونا تھی۔۔
وہ بہت پیاری تھی بلکل گڑیا جیسی اور نمیرہ اسی کے لیے زیاہ تر یہاں آتی تھی۔۔ اور وہ جب سفیر صاحب کے گھر جاتی، میران فوری لینے پہنچ جاتا تھا۔
”اپنی جیسی عادت نا بنا دینا۔۔ ہر وقت دوسروں کے گھر۔۔“ وہ نمیرہ سے چھین کر جتا کر کہتا تھا اور نمیرہ جلتی رہ جاتی تھی۔۔
”وہ منزہ کے بھتیجے کی سالگرہ ہے وہاں گئی ہے۔۔“
تائی جان بتا کر کچن میں چلی گئیں۔ جبران چینج کر کے باہر اسی کے پاس آ بیٹھا۔
وہ اس کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو گئی۔۔
اور زیادہ تر ان دونوں کی باتیں عفیرہ کے گرد ہی گھومتی تھیں۔
••••••••••••
نمیرہ سفیر ایک خوابوں میں جینے والی لڑکی تھی جیسا کہ اکثر لڑکیاں ہوتی ہیں۔۔ اور اس کے خواب بھی اسی فیصد لڑکیوں کی طرح ہی تھے۔۔
ایک امیر و کبیر انتہائی خوبصورت لڑکا۔۔ جو اس کا دیوانہ ہو جائے اتنا کہ شادی کر کے ہی دم لے۔۔
ذہین، کامیاب، ویل ڈریسڈ اور ویل پرسنالٹی کے ساتھ ساتھ ویل آف بھی۔۔ اف۔۔۔!!
یعنی سب کچھ ایک ساتھ چاہئیے تھا اسے۔۔
نمیرہ خوبصورت تھی مگر وہ خود کو نہایت حسین سمجھتی تھی اور سمجھنے کا کیا ہے۔۔
(شاید سب کو ہی اپنا آپ حسین ہی لگتا ہے مگر اس کو تو بہت زیادہ لگتا تھا)
نمیرہ کا رنگ باقی دونوں بہنوں کی نسبت پیارا تھا، ان دونوں کی گندمی رنگت تھی اور نمیرہ سفید شفاف رنگت کی مالک تھی۔۔
ان دونوں کے بال گھونگھریالے سیاہ اور بہت لمبے تھے اور نمیرہ کے بال براؤن، بالکل سیدھے اور کندھوں سے بس کچھ ہی نیچے تھے۔۔
نقش ان تینوں بہنوں کے تقریباً ایک جیسے تھے۔۔
بادامی آنکھیں، نا چھوٹی نا بہت بڑی۔۔ پتلی چھوٹی سی ناک اور تراشیدہ خوبصورت لب۔۔
عفیرہ اور عبیرہ کی قد بہت آئیڈیل تھی۔ وہ دراز قد تھیں جبکہ نمیرہ درمیانے قد کی لڑکی تھی۔۔
عفیرہ اور نمیرہ تو بہت سمارٹ سی تھیں مگر چھوٹی عبیرہ فربہ مائل تھی۔۔
بس یہ فرق تھا ان تینوں میں۔۔
مگر نمیرہ کو لگتا تھا کہ صرف وہی پرفیکٹ ہے۔ وہ حسین ہے اور بےحد حسین ہے۔۔ اتنی کہ کوئی بھی امیر زادہ ان کے درمیان کلاس کا فرق بھلائے شادی کرنے کو تیار ہو جائے گا۔۔
اور نمیرہ میں ایک خامی یہ بھی تھی کہ وہ بےحد منہ پھٹ تھی اور اپنی یہ خامی اس کو بالکل بری نہیں لگتی تھی کیونکہ کچھ لوگوں کا ماننا ہوتا ہے منہ پھٹ انسان دل کا سچا ہوتا ہے۔ وہ بھی اسی زعم میں اپنی خامی کو خاصیت بنا کر جیتی تھی۔۔
مگر بقول عفیرہ کے اس کے خواب بس خواب ہی رہیں گے۔۔ نمیرہ کو یقین تھا کہ جلد اس کے خواب پورے ہوں گے اور حقیقت بن کر سامنے آئیں گے۔۔
”نمیرہ۔۔ کیا پھر سے خوابوں میں کھو گئی ہو۔۔“
عفیرہ اسے جانے کب سے پکار رہی تھی، اسے سوچ میں مبتلا دیکھ کر جھنجھوڑتے ہوئے نا گواری سے بولی تھی۔
”تمہیں کیا تکلیف ہے میرے خوابوں سے۔۔“ نمیرہ نے اسے گھورا اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔۔
”عفیرہ آپا۔۔ نمیرہ آپا۔۔۔ میرے پاس ایک فنٹاسٹک سی نیوز ہے۔“ یزدان پر جوش سا آ کر بولا اس کی آنکھیں خبر بتانے سے پہلے ہی چمک رہی تھیں۔۔
”یزدان کے بچے۔۔ چپ رہو۔۔ میں بتاؤں گی۔۔“
عبیرہ اس کے پیچھے چیختی ہوئی پہنچی اور اس کی شرٹ پکڑ کر اسے پیچھے دھکیلا۔۔
”تمیز کرو جاہل۔۔ ایک سال بڑا ہوں تم سے۔۔“ یزدان اس دھکے پر غصہ سے چیخا۔۔ اور یہیں ان دونوں کی لڑائی پھر سے شروع ہو چکی تھی۔۔
جبکہ ان دونوں کے کان اس فنٹاسٹک نیوز کو سننے کے لیے منتظر ہی رہ گئے۔
”تمہیں کون عزت دے۔۔ تم اور عزت۔۔ دو بالکل الگ چیزیں ہو۔۔“ عبیرہ ناک چڑھا کر بول رہی تھی۔۔
”مجھے تو عزت مل جاتی ہے پھر بھی۔۔ تم جیسی موٹی کو کوئی دکھاوے کی بھی عزت نا دے۔۔“
وہ بھی دوبدو بول رہا تھا۔۔ نمیرہ کا ضبط ختم ہوا۔
”یہی لڑائی کرنی ہے تو دفع ہو جاؤ یہاں سے دونوں۔۔“ نمیرہ نے غصے سے دونوں کو گھور کر ٹوکا۔۔
”بند کرو ڈرامہ ہر وقت لڑائی کرتے ہو۔۔“
عفیرہ کو بھی بڑا ہونا یاد آ گیا تھا۔۔ گھرک کر کہا۔۔
”ایسا کرو ایک بندہ مجھے بتائے اور ایک عفیرہ کو۔۔“
یزدان کا اترا ہوا منہ دیکھ کر نمیرہ نے حل دیا۔۔ جس پر ایک نئے سرے سے بحث شروع ہو گئی۔۔
”میں عفیرہ آپا کو بتاؤں گا۔۔“ یزدان پرجوش ہوا۔
” نہیں ان کو میں بتاؤں گی۔۔“ عبیرہ پھر سے ٹوک گئی۔ مقابلہ پھر سے شروع ہونے کو ہی تھا بس۔۔
دونوں کی ضد تھی وہ عفیرہ کو بات بتائیں گے۔
”بس کرو میں سمجھ گئی کیا بتانے والے ہو۔۔“
نمیرہ نے معنی خیزی سے عفیرہ کو دیکھ کر کہا، وہ دونوں چونکے جبکہ عفیرہ انجان بن گئی۔۔
دونوں کی ضد پر سمجھ تو وہ بھی گئی تھی۔۔
”عفیرہ آپا کی شادی۔۔ ”ہاں اور وہ بھی اگست میں۔“ ان دونوں نے جلدی سے مل کر بتا دیا۔۔
نمیرہ بھی خوش ہوئی۔۔
”مطلب آج تین تاریخ ہے اور ہمارے پاس دو ماہ بھی پورے نہیں۔۔“ نمیرہ نے حساب لگایا۔۔ عفیرہ اٹھ کر چلی گئی اور وہ تینوں سر جوڑے مل کر شادی کی پلاننگ کرنے لگے۔۔ بہت ارمان تھے ان لوگوں کے جو پورے ہونا باقی تھے۔۔
••••••••••••••••
شادی کی تیاریاں دونوں طرف سے عروج پر تھیں دونوں گھروں میں طوفان کا سا سماں تھا۔۔
“بابا آپ نے کہا تھا میرا B.A کمپلیٹ ہونے دیں گے ابھی تو تھرڈ ائیر کا رزلٹ نہیں آیا۔۔“
عفیرہ نے یہ شکایت نجانے کتنی مرتبہ گھر کے ہر فرد کے سامنے دہرائی تھی اور ہر بار اسے سمجھا بجھا کر چپ کروا دیا جاتا تھا۔۔
”نمیرہ پلیز میرا تو خیال کرو کوئی۔۔ مجھے ابھی پڑھنا ہے شادی نہیں کرنی۔“ نمیرہ اسے اپنی شاپنگ دکھانے لگی تو وہ بےاختیار رو پڑی۔۔ نمیرہ کو ترس آیا۔
”ددا جانی نے فیصلہ کر لیا ہے عفیرہ۔۔ تم جانتی ہو وہ کچھ ٹھان لیں تو پیچھے نہیں ہٹتے۔۔“
اس نے پیار سے عفیرہ کو سمجھایا جو وہ ان سنی کیے روتی رہی۔۔ نمیرہ چڑ گئی۔
”سٹاپ کرائنگ عفیرہ۔۔ تمہارا اپنا قصور ہے، تم جانتی ہو ناں۔۔“ نمیرہ نے غصے سے اسے گھورا۔ وہ رونا بھول کر حیرت سے نمیرہ کو تکنے لگی۔۔
”میرا قصور۔۔؟ پاگل ہو گئی ہو؟“ صدمے سے پوچھا۔
”جی ہاں۔۔ یاد کرو پچھلے ماہ جبران بھائی کی بنک میں جاب ہونے پر تایا جان نے سب کو کھانے کی دعوت دی تھی۔۔ سب نے وہاں جبران بھائی کو مبارک دی اور تم مبارک تو ایک طرف ملی تک نہیں ان سے۔۔
”اس سب کا شادی سے کیا تعلق۔۔؟“ عفیرہ نے اس کی بات کاٹ کر الجھے ہوئے لہجے میں سوال کیا۔۔
”ہے تعلق۔۔ تب رات کے وقت جبران بھائی نے تم سے کیا کہا تھا یاد کرو۔۔“ نمیرہ نے یاد دلایا۔۔
(حد ہو گئی عفیرہ۔۔۔ ایسی بھی کیا شرم۔۔ ایک مبارک تو دے دیتیں مجھے، تمہاری اس بےوجہ شرم کا علاج اب مجھے خود کرنا پڑے گا۔۔)
جبران کبیر کے یہ الفاظ یقیناً عفیرہ کو بھی یاد آ گئے تھے، تبھی وہ روہانسی ہو گئی۔۔
”ہائے ان کی وجہ سے ہوا سب۔۔“ وہ بےچین ہوئی۔۔
”جی ہاں۔۔۔ تب سے ددا جانی کے پیچھے لگے ہیں کہ شادی کریں میری۔۔ اور پھر وہ شیطان کا چیلا میران ہے ناں۔۔ اس نے ہیلپ کی ان کی۔۔
جا کر ددا جانی سے بولا ہہ جبران بھائی شادی کرنا چاہتے ہیں اور انہیں اتنی جلدی ہے کہ عفیرہ سے نا کروائی تو کسی اور سے کر لیں گے۔۔
اور ددا جانی یہ بات سن کر اتنے خوفزدہ ہوئے کہ جبران بھائی سے نا پوچھا نا بتایا، شادی کی تاریخ طے کر دی۔۔ ان کے فیصلے سے اب کون انکار کرے۔۔“
نمیرہ نے من و عن تفصیل سنا کر اپنے ڈریسز شاپر میں ٹھونسے اور اٹھ کر الماری میں رکھ دئیے۔
”میران کے بچے کو تو میں پوچھ ہی لوں گی۔۔ ہر جگہ شیطان بنا پھرتا ہے۔“ عفیرہ کو غصہ آیا۔
میران جو اسی وقت کمرے میں داخل ہو رہا تھا۔ اس کی بات پر یکدم شوخی سے مسکرایا۔
”میران کا بچہ جب دنیا میں آئے گا تو پوچھ لینا، آخر تائی جان کا اتنا تو حق بنتا ہی ہے۔۔“ وہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولا تو عفیرہ نے جواباً کشن اٹھا کر اسے دے مارا جسے کیچ کر کے اس نے قہقہ لگایا۔
”شٹ اپ سٹوپڈ، تمہارے بچوں کا میں نے قیمہ نا بنایا تو میرا نام بدل دینا۔۔“ عفیرہ غصے میں تھی۔
”خیال کرنا ان کی ماں تمہارا قیمہ بنا دے گی۔۔“
وہ مسلسل عفیرہ کو چڑا رہا تھا اور وہ غصے سے کشن اٹھا اٹھا کر اسے مارتی جا رہی تھی۔۔
پر لگا ایک بار بھی نہیں تھا، وہ ہر بار خود کو بچا گیا۔نمیرہ کو اپنی بہن پر افسوس ہوا۔
پاگل کو چڑانا بھی نہیں آتا۔ وہ تاسف سے سر ہلا گئی۔
”میرو تم کوئی پہلوان بیوی لانے کا پلان کئیے بیٹھے ہو؟؟“ نمیرہ نے از حد معصومیت سے سوال کیا جو اس کی توقع کے مطابق میران کو آگ ہی لگا گیا۔
”شٹ اپ نان سینس، ایڈیٹ، سٹوپڈ۔۔۔“ وہ بلا توقف نمیرہ کی عزت افزائی کرنے لگا، پر پرواہ کسے تھی۔۔ عفیرہ بھی اب مزے لے رہی تھی۔۔
”تم نے خود کہا تھا قیمہ بنائے گی۔۔“ نمیرہ نے غصے سے اس کی بات لوٹائی۔۔
”ٹھیک کہا تھا۔۔عفیرہ کو چھوڑو، وہ تمہارا قیمہ ضرور کرے گی۔۔ میں اسے کہوں گا۔۔“
وہ جل جل کر راکھ ہو رہا تھا۔
”یعنی پہلوان نہیں۔۔ قصائن ہو گی۔۔۔“
نمیرہ نے اس کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ کر مسکراہٹ دبائی۔۔ جانے اسے جلا کر نمیرہ کو کیوں اتنا سکون ملتا تھا۔۔
”تم میرا موڈ ہمیشہ خراب کر دیتی ہو۔۔ بہت منحوس ہو میرے لیے تم۔۔“ وہ غصہ ضبط کرنے کی نا کام کوشش میں لگا ہوا تھا۔۔ نمیرہ کو تو نہیں البتہ عفیرہ کو اس پر ترس آ گیا تھا۔
”بس کرو نمیرہ۔۔۔ تم جاؤ میرے بھائی کے لیے چائے بنا کر لاؤ۔“ عفیرہ نے بہن کو ٹوک کر کہا۔
”پہلے ہی اتنی گرمی چڑھی ہوئی ہے جناب کو، الٹا تم چائے لانے کا کہہ رہی ہو۔۔ کچھ ٹھنڈا ہونا چاہئیے جو اس نواب کو سکون دے۔۔“ نمیرہ نے اسے سنوایا تھا۔
”شکریہ۔۔ بس مجھے چائے لا دو۔۔“ وہ غصہ ضبط کر چکا تھا۔ نارمل لہجے میں بولا۔۔ اور بولا کیا بس حکم ہی دیا تھا جو نمیرہ کو آگ لگا گیا تھا۔۔
”زہر نا لا دوں۔۔؟“ وہ جل کر بولی۔ اس کا پُر سکون ہونا تو چڑا دیتا تھا نمیرہ کو۔۔
”دفع ہو جاؤ۔۔ خدا کرے تمہیں موٹا، ڈھیٹ اور بےحد نکما شوہر ملے۔۔“ وہ جاہل عورتوں کی طرح بد دعائیں دینے لگا۔ نمیرہ کا معصوم دل ایسی باتوں پر ہر بار کی طرح سہم گیا۔۔
”اور خدا کرے تمہیں موٹی کالی بدسلیقہ، الو کی پٹھی اور بد زبان بیوی ملے۔۔“ نمیرہ نے منہ پھٹ انداز میں اسے گالیوں سے نوازا اور پیر پٹختے ہوئے باہر نکل گئی۔۔
جیسا کہ نمیرہ نہایت ہی بد زبان لڑکی تھی۔۔ اور یہ خامی وہ باقی سب کے سامنے نہایت صفائی سے چھپا سکتی تھی۔۔
میران اس کی بد دعا پر پیچھے قہقہے لگا رہا تھا۔۔ وہ بھی ڈھیٹ تھا، اس پر یہ بد دعائیں اثرا انداز نہیں ہوتی تھیں۔
