Khuwab Or Haqiqat by Yaman Eva NovelR50590 Khuwab Or Haqiqat (Episode 02)
Rate this Novel
Khuwab Or Haqiqat (Episode 02)
Khuwab Or Haqiqat by Yaman Eva
چند دنوں میں گھر پورا جنجال پورہ بن چکا تھا، نمیرہ کی چار پھوپھیاں تھیں۔۔ بڑی کوہاٹ سے ، دوسری جہلم اور تیسری پھوپھی امریکہ سے آ چکی تھیں۔۔ چوتھی پھوپھو تو رہتی ہی ان کے گھر کے قریبی محلہ میں تھیں۔۔
سب کی سب بمعہ اہل و عیال شادی کے لیے ساز و سامان سمیت آ چکی تھیں۔۔ سفیر صاحب سب سے چھوٹے بھائی تھے اسی لیے خصوصی طور پر سب نے ان کے گھر کی پہلی خوشی میں حصہ ڈالا تھا۔
پھوپھیوں نے آتے ہی گھر بانٹ لیے۔۔ دو تایا کے پاس اور دو نمیرہ لوگوں کے ہاں۔۔ صفوان کبیر بہت مصروف تھا اور جبران کبیر تو آج کل آسمان پر رہنے لگا تھا، خوشی سے اس کے پاؤں زمین پر ہی نہیں ٹک نہیں رہے تھے۔۔
اور رہا میران کبیر تو وہ مہمانوں کی اس نا انصاف تقسیم پر ابھی تک صدمے میں تھا۔۔ زیاہ تر چھوٹے بچوں والے سب لوگ ان کے ہاں تھے، اتنا رش، شور شرابا، چیخنا چلانا اور بچوں کی ریں ریں سے دن میں جانے کتنے نادیدہ ہارٹ اٹیکس میران کبیر کو ہو چکے تھے۔۔
جس کے نتیجہ میں وہ اپنا بیمار لاغر وجود لیے اپنے چچا کے گھر آن پہنچتا تھا کیونکہ ان کے گھر قدرے سکون تھا، بیٹی والا گھر تھا زیادہ میوزک ناچ گانے کا شور نہیں تھا۔۔
ہلا گلا کبیر صاحب کے گھر کیا جا رہا تھا۔۔ ہاں سفیر صاحب کے گھر رہنے والے مہمانوں کے چند بچوں نے یزدان سفیر کا سر گھما دیا تھا۔۔
امریکہ والی پھپھو پورے آٹھ سال بعد پاکستان آئی تھیں، ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔۔
بیٹی جس کا نام سنیعہ تھا، اتنی باتونی تھی کہ دو دن میں ان سب کو پورا امریکہ نامہ رٹوا دیا تھا۔ اس وقت بھی سب کے گھیرے میں بیٹھی وہ امریکی بلی ایکسائیٹڈ سی بولتی جا رہی تھی۔۔
”اوہ اتنے فنکشنز۔۔؟ واؤ انجوائے کریں گے۔۔ وہاں تو بس گروم فادر کے پاس جا رکتا ہے، برائڈ اپنے فادر کا یا گارڈئین کا ہاتھ تھام کر وہاں آتی ہے۔ سب کلاس کی صورت بیٹھے ہوتے ہیں۔۔
میرج ہوتی ہے اور ڈاٹ۔۔“ وہ منہ بنا بنا کر امریکی لب و لہجے میں بول رہی تھی۔۔
”ڈونٹ وری سسٹر۔۔ یہاں تین چار دن تک کوما رہے گا۔۔ مایوں، مہندی، ابٹن، رخصتی، ولیمہ اور پھر سب کو ادھ موا کر کے ڈاٹ ہو گا۔۔“
یزدان تھکن زدہ سا بولا۔۔ وہ ابھی مارکیٹ سے دھکے کھا کر آ رہا تھا۔۔ سب اس کی بات پر ہنسنے لگے۔۔
سب شادی کی تیاریوں کو لے کر باتیں کر رہے تھے مگر سنیعہ ان کو اپنی کہانیاں سنانے میں مصروف تھی۔۔
”یہ میران کبیر کیا کرتا ہے ویسے؟“ اچانک ہی وہ میران کے بارے میں پوچھنے لگی۔۔
جمائیاں لیتی نمیرہ نے ٹھٹک کر اسے دیکھا۔
”سٹوڈنٹ ہے فورتھ ائیر کا۔۔ کیوں؟“ نمیرہ نے شکی نظروں سے اسے دیکھا۔ کچھ تو گڑبڑ تھی۔۔
سنیعہ کا سب کو چھوڑ کر میران کے بارے میں پوچھنا نمیرہ کی سستی کو رفع دفع کر چکا تھا۔
”نتھنگ جسٹ۔۔ ویسے کافی ہینڈسم ہے میران کبیر۔۔“
نمیرہ کا شک سہی نکلا تھا، سنیعہ کافی فدا ہوتی نظروں سے میران کو دیکھ رہی تھی۔۔ نمیرہ نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا۔
میران ہنس ہنس کر یزدان سے کچھ بول رہا تھا، وہ پیارا تو واقعی تھا تو کیا سنیعہ اس سے۔۔ نمیرہ نے سوچوں کو جھٹکا اور اٹھ کر عفیرہ کے پاس چلی گئی۔۔
•••••••••••••
”عفیرہ یار تمہاری شادی میری جان لے لے گی، میرا دل پھٹے گا کسی دن ان ہنگاموں سے۔۔“ میران آج پھر منہ بگاڑے ان کے سر پر سوار تھا۔۔
”تم نے ہی یہ سب رولا ڈال دیا، سکون ملا اب۔۔“
عفیرہ بھی جل کر بولی تھی، وہ ہنس پڑا۔
”کیا بات ہے شادی نہیں کرنی تھی کیا کبھی۔۔“
سکون سے بالوں کو سنوار کر بولتا وہ نمیرہ کو زہر لگا تھا۔
”میں جب بھی عفیرہ کے ساتھ اکیلے وقت گزارنا چاہوں، تم کیوں ٹپک پڑتے ہو۔۔ میری بہن رخصت ہونے والی ہے۔ کچھ دن بعد ویسے بھی تم نے اس کے سر پر سوار ہی رہنا ہے، ابھی تو اسے بخش دو۔۔
تمہیں اپنے گھر میں سکون نہیں ملتا کیا۔۔“
نمیرہ نے غصے سے کہتے ہوئے اسی کا طعنہ لوٹایا۔۔ وہ نہایت سکون سے نمیرہ کو اگنور کر گیا۔۔
”یار کزن ہمارا گھر منڈی بنا ہوا ہے۔۔ تمہارے گھر میں، تمہارے کمرے میں کچھ سکون ہے، تم کون سا مایوں میں بیٹھی ہو۔۔ میرا آنا برا لگتا ہے کیا؟؟“
وہ عفیرہ سے بولتا کافی بےچاری شکل بنا گیا تھا۔۔ نمیرہ کو بھی ترس آ گیا۔
”برا لگے تب بھی تم نے کون سا چلے جانا ہے۔ اب آ ہی گئے ہو تو بیٹھ جاؤ۔۔“ وہ احسان جتا کر بولی۔
”تھینک یو لوگو دل بڑا تھا تو نہیں پر کر ہی لیا۔۔“
وہ دل جلانے سے باز نہیں آیا تھا۔
”اب ہمارا دماغ مت جلاؤ اور صرف ایک گھنٹے تک یہاں رکنا۔۔“ نمیرہ نے اسے وارننگ دی۔
”ایک گھنٹہ کیوں؟“ وہ غصہ ہوا۔
”کیونکہ اس سے ذیادہ میری برداشت نہیں ہے۔۔“
نمیرہ نے بے نیازی سے اسے جتایا۔
”مرو تم۔۔ جہنم میں جاؤ۔۔ خدا کرے کمرہ بدر ہو جاؤ۔“ میران کی بڑبڑاہٹیں عروج پر تھیں۔
مگر نمیرہ نے جیسے کان بند کر لیے تھے۔
”یہ میرا مہندی کا ڈریس ہے۔ پیارا ہے ناں؟
امی جان لے کر ہی نہیں دے رہی تھیں۔
کہہ رہی تھیں ایک تو لہنگا ہے اوپر سے اتنا مہنگا اور بھرا ہوا۔۔ کوئی سمپل سے کپڑے لو مہندی کے لیے۔۔“
نمیرہ نے لائٹ لیمن کلر کا لہنگا بہن کے سامنے پھیلایا جس پر سلور نگینے لگے ہوئے تھے۔۔
گلے اور لہنگے کے بارڈر پر بھاری کام تھا
”بہت پیارا ہے نمیرہ۔۔ واقعی کافی ہیوی لگ رہا ہے۔۔“
عفیرہ نے ہچکچا کر ماں والی بات کی مگر نمیرہ کے گھورنے پر خاموش ہو گئی ۔
”تم تو پاگل ہو سچ میں! آج کل ایسے ڈریسز کا فیشن ہے اور ویسے بھی گھر کی پہلی شادی ہے میں اپنے سارے ارمان نکالوں گی۔۔“ وہ دو ٹوک لہجے میں بولی۔
”اور تمہارے ارمان بہت مہنگے ہیں۔“ عفیرہ کی بات پر وہ خفت زدہ ہو گئی۔
”شادی کے بعد مرنے کا ارادہ ہے جو اپنے ارمان پورے کر رہی ہو۔۔“ میران کبیر موجود ہو اور اس کی زبان پر کھجلی نہ ہو؟ نا ممکن! ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔
”اف کبھی تو اچھا بول لیا کرو، مرے تمہاری بیوی، میں کیوں مروں۔۔“ نمیرہ اس پر چڑھ دوڑی تھی۔۔
”ایسا تو مت بولو ظالم لڑکی۔۔“ وہ تو تڑپ ہی اٹھا تھا۔
نمیرہ کو اس کی بات سن کر جیسے آگ ہی لگ گئی۔
”میں مروں تو خیر ہے؟ تمہاری بیوی کا صرف کہہ دیا تو میں ظالم ہو گئی؟ واہ۔۔ تمہاری بیوی آسمان سے اتری ہے کیا۔۔“ نمیرہ نے دانت پیسے۔
”آہاں۔۔ اب سمجھا وہ کیا بات ہے جو تمہیں جلاتی ہے۔۔“ وہ خاصے پُرجوش لہجے میں بولا۔
جو کبھی سر درد کا کہہ چکا تھا، وہ بھی بھول گیا۔
”نکلو میرے کمرے سے۔۔ ابھی اور اسی وقت۔۔“
نمیرہ چیخ کر بولی تو عفیرہ بے بسی سے کبھی بھڑکی ہوئی نمیرہ کو تو کبھی شرارت سے مسکراتے میران کو دیکھنے لگی۔
”اوکے ایک بات تو بتاؤ! میں نے نوٹس کیا ہے سنیعہ ہر وقت مجھے گھور رہی ہوتی ہے، میں کیا سمجھوں؟“ میران نے اچانک سنجیدگی سے کہا تو عفیرہ نے چونک کر اسے دیکھا۔
ہاں البتہ نمیرہ نارمل ہی رہی جیسے انتظار تھا کہ کب وہ یہ بات کہے گا۔۔
”شی لوز یو۔۔ مے بی۔۔“ نمیرہ نے آنکھیں پٹپٹا کر اسے اطلاع دی تھی۔
”واٹ؟“ وہ اچھلا۔
”سچ میں۔۔؟“ عفیرہ خوش ہو کر بولی تو نمیرہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
”ویسے لڑکی اتنی بری نہیں ہے۔۔ کیا کہتی ہو کزن؟“
وہ اچانک شوخی سے بولا تو نمیرہ نے غور سے اسے دیکھا اور نفی میں سر ہلانے لگی۔
”امپاسبل۔۔ کہاں وہ نازک سی گڑیا اور کہاں تم غضب ناک بیل۔۔ اوہ !کم آن۔۔“۔وہ حیرت سے نمیرہ کی بات سن رہا تھا اور نمیرہ کا (غضب ناک) کہنا ہی غضب ہوگیا تھا۔
”اور تم۔۔؟ تم نے خود کو کبھی دیکھا ہے پھوہڑ، سڑیل اور نہایت جاہل قسم کی لڑکی ہو۔۔“وہ نان سٹاپ نمیرہ کی عزت افزائی کرتا پیر پٹخ کر باہر نکل گیا۔
”مذاق کی حد ہوتی ہے نمیرہ۔“ عفیرہ نے تاسف سے اسے دیکھا اور سر پکڑ لیا۔ نمیرہ خاموش رہی۔۔
سچ تو یہ تھا کہ اسے بھی میران کا موڈ خراب کر دینے پر پچھتاوا ہونے لگا۔ کم از کم ان دنوں تو تنگ نہ کرتی! اس کا بھی موڈ آف ہوگیا۔ وہ منہ بنا کر ایک طرف ہو بیٹھی۔
عفیرہ خاموشی سے پھیلا ہوا سامان سمیٹنے لگی۔۔۔!
•••••••••••••••
اس وقت وہ ساری لڑکیاں تایا جانی کے روم میں بیٹھی ساڑھیاں پسند کر رہی تھیں جو ددا جانی کی طرف سے سب کو دی جارہی تھیں۔
نمیرہ کی نظر چاکلیٹ کلر کی ساڑھی پر پڑی، پلین سلک کی وہ ساڑھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔
ساڑھیاں تو ساری اچھی تھیں پر وہ بہت خوبصورت تھی۔
نمیرہ اٹھا کر الٹ پلٹ کر دیکھتی اپنے لیے ڈن کر گئی۔اس ساڑھی کا کریم کلر کا بلاؤز تھا جس کے گلے اور بازوؤں پر چاکلیٹی نگ جڑے تھے۔
”سنیعہ کیا ہوا ساڑھی نہیں پسند آ رہی؟“
نمیرہ نے ناسمجھی سے یہاں وہاں دیکھتی سنیعہ سے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔
”یہ سب اچھی ہیں، سمجھ ہی نہیں آ رہا کون سی پسند کروں۔۔“ وہ اٹھ کر نمیرہ کے ساتھ آ بیٹھی۔
”تم نے پسند کر لی؟“ اس نے نمیرہ سے پوچھا۔
وہ اثبات میں سر ہلا کر اپنی ساڑھی اس کے سامنے کر گئی۔
”واؤ۔۔ اٹس یونیک اینڈ بیوٹیفل۔۔ نمیرہ تم پلیز یہ مجھے دے دو۔۔ تم کوئی اور پسند کر لو۔۔“ وہ یکدم نمیرہ کی پسند کی ہوئی ساڑھی مانگ گئی۔
نمیرہ بری پھنسی تھی۔ نا انکار کر سکی نا دینے کا دل تھا۔ اس نے تیزی سے سامنے پڑی ساڑھیوں پر نظر دوڑائی۔۔
”یہ کلر میران کو نا پسند ہے بہت۔۔ ایسا کرو وہ جو سامنے لائٹ پرپل کلر کی ساڑھی پڑی ہے۔ وہ جلدی سے اٹھا لو۔۔ ایگزیٹ یہی کلر پسند ہے اس کو۔۔“
صد شکر بر وقت نمیرہ کو آئیڈیا آ گیا۔ اس کی قسمت اچھی تھی کہ سنیعہ نے صبح ہی اپنے اس راز سے نمیرہ کو آگاہ کیا تھا کہ وہ خاندان کا سب سے منفرد لڑکا، میران کبیر۔۔ اسے بہت اچھا لگ گیا تھا۔
اس نے نمیرہ سے میران کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کی تھی۔ نمیرہ نہیں جانتی تھی میران کو لڑکیوں کے ساتھ کونسا رنگ اچھا لگتا ہے۔۔
اسے تو بس اپنی ساڑھی بچانی تھی سو اس نے بچا لی اور چپ چاپ وہاں سے ساڑھی لے کر کھسک گئی۔
گھر سے نکلتے ہوئے گیٹ سے اندر آتے میران سے اس کا ٹکراؤ ہوا تو وہ بےساختہ رک گئی۔۔
”میران ایک بات تو بتاؤ۔۔“ نمیرہ نے اسے روکا۔
”کیا؟ اب پھر میرا دماغ مت جلانا۔۔“ اس نے رک کر پہلے سے وارن کیا تھا۔
”نہیں نہیں !یہ بتاؤ تمہیں اپنی آئیڈیل لڑکی کے لیے کونسا رنگ اچھا لگتا ہے؟“ میران نے پہلے ناسمجھی سے اسے دیکھا اور پھر اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔۔
”تمہیں اس سے مطلب؟“وہ اسے گھور کر بولا۔
”ایکچوئیلی میں نے سنیعہ کو پرپل ساڑھی دی ہے کہ تمہیں یہ کلر پسند ہے۔۔ تو پلیز جب وہ پہنے تو اس کی تعریف کر۔ دینا۔۔“ نمیرہ جلدی سے بات ختم کر کے باہر نکل گئی۔
مگر اگلے ہی لمحے میران دیوار پر چڑھ کر اس کی اچھی خاصی خاطر تواضع کر رہا تھا۔
”نمیرہ کی بچی۔۔ بے حیا۔۔ دھوکے باز۔۔ایڈیٹ۔۔ سٹوپڈ۔۔ نان سینس۔۔ چاپلوس عورت۔۔ شرم نہیں آتی جھوٹ بولتے ہوئے۔۔ کسی معصوم کو خوامخواہ خواب دکھانے کی کیا ضرورت ہے؟ تم جیسی مطلب پرست۔۔ خود غرض۔۔ ڈھیٹ۔۔ مکار اور عیار عورت کو موٹا، کالا، سڑے ہوئے بینگن کے منہ والا ہزبینڈ کے طور پر جچے گا ان شاء اللہ۔۔۔ آمین۔۔“
وہ سانس لیے بغیر بولتا چلا گیا تھا۔ نمیرہ کو صدمہ لگا۔ نا جانے نیا کے ہزبینڈ سے اسے کیا پرخاش تھی جو ہر بار ایسی ہی بکواس کر کے اس کا دل دہلا دیتا تھا۔
”اور تمہیں خدا کرے، کانی، بھینگی اور گلی سڑی توری کی طرح بیوی ملے۔۔“ اسے نیچے اترتا دیکھ کر نمیرہ نے جلدی سے بدلہ اتارا اور توقع کے عین مطابق رزلٹ نکلا تھا ۔
”واٹ؟“کب کا غائب ہوا سر پھر سے نمودار ہوا۔ نمیرہ نے اس کے سامنے زور سے آمین کہا اور اندر آ گئی۔۔
••••••••••••••
آج مہندی تھی اور ہر طرف مہمانوں کا خاص طور پر لڑکیوں کا شور پھیلا ہوا تھا۔
ہر ایک جلد از جلد تیار ہونے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ پر سکون ہو کر بیٹھ سکے اور اس سارے شور شرابے اور عروج پر پہنچی تیاریوں کو خاموشی سے دیکھتی عفیرہ آج کافی اداس سی لگ رہی تھی۔
لائٹ یلو کلر فراک میں اس کی گندمی رنگت بہت کھل رہی تھی۔ ایک پل کو تو نمیرہ بھی اپنی تیاری بھولے یک ٹک اسے دیکھنے لگی تھی۔
اداس تو وہ بھی بہت تھی کیونکہ ان دونوں کی بہت بنتی تھی مگر کیا کر سکتی تھی، شادی تو ہونی تھی۔
”عبیرہ۔۔ پاگل انسان میں نے بکواس کی تھی ناں کل سب ایک ساتھ ساڑھی پہنیں گے۔۔“
عبیرہ کو ساڑھی پہنے دیکھ کر نمیرہ کو غصہ آیا۔
”تو پہن لینا۔۔ تم سب کل پہننا مگر میں نے تو آج پہن لی ہے۔ ویسے بھی مجھے منفرد ہونا پسند ہے۔“
وہ بے نیازی سے کندھے اچکاتی خود کو میک اپ کرنے لگی۔ نمیرہ اس کی بڑبڑاہٹ پر بڑبڑاتے ہوئے سر جھٹک کر باہر نکل گئی، اس کی تیاری بس ہو چکی تھی۔
”سنیں یار نمیرہ آپا۔۔ ایک ہی بھائی ہوں آپ لوگوں کا۔۔ مجھ پر ترس کھائیں۔۔“ مردوں کے ساتھ کام کرواتے یزدان کی نظر نمیرہ پر پڑی تو رونی صورت بنا کر بولا۔ وہ ہنسی دبا کر اسے دیکھنے لگی۔
”یزدان۔۔ بس تم یہ کرسیاں سیٹ کر دو لان میں۔۔
میں ابھی آتا ہوں۔۔“ سفیر صاحب کوئی کال سن کر آئے تو کافی پریشان نظر آ رہے تھے۔
یزدان نے ہاتھ میں پکڑی کرسی زمین پر پٹخ کر غصے سے نمیرہ کو دیکھا۔
”اتنی تیار ہو کر آ گئی ہیں، میرا دل جلانے۔۔۔ میں نے آج کُرتا پہننا تھا جو ابھی تک ٹیلر کے پاس پڑا ہے۔۔
ٹائم ہونے والا ہے اور مجھے ابھی بہت کام کرنے ہیں، میں کیسے سب سنبھالوں گا۔۔“ وہ رونے والا ہو گیا۔
نمیرہ کو اس پر ترس آیا، ویسے بھی وہ اس کی کمزوری تھا۔ ذرا سا منہ بنا دیتا تو نمیرہ کی جان پر بن آتی تھی۔
”ایسا کرو یہ کرسیاں میں سیٹ کر لیتی ہوں۔۔ تم جا کر اپنی تیاری کرو اور ہاں۔۔۔“ نمیرہ نے اس کے سامنے سے کرسی اٹھا لی۔ وہ خوش ہو کر جانے لگا جب اس نے روکا۔
”پلیز میرے لیے بازار سے گجرے بھی لیتے آنا پلیز پیارے بھائی۔۔“ نمیرہ نے منت کی ۔
”آپا بابا کی گاڑی نہیں کھڑی۔۔ مجھے اپنی بائیک پر جانا پڑے گا اور میں بائیک تیز بھی نہیں چلا سکتا۔۔ لیٹ ہو جاؤں گا۔۔“ اس نے منہ بسورا۔
”او۔کے میں کسی اور سے کہہ دیتی ہوں۔۔ تم جاؤ۔۔“
نمیرہ نے اس کی مشکل آسان کی۔۔
”خیر کوئی نہ مانے تو مجھے کال کر دینا، خود ہی لانے کی کوشش کروں گا۔۔“ وہ نیا کو ہدایت دیتا چلا گیا۔۔
نمیرہ نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا۔
”تم جاؤ یار !ہم لڑکے کر رہے ہیں ناں یہ کام۔۔“ سنیعہ کے بھائی ابو ہریرہ نے آ کر نمیرہ کو روک دیا۔
اس نے بھی موقع غنیمت جانا اور سیدھی تایا کے پہنچ گھر گئی۔۔
”صفوان بھائی آپ کا بازار چکر لگے گا کیا؟ مجھے کام ہے؟“ نمیرہ نے صفوان کبیر سے جا کر پوچھا۔ ان کا سارا وقت بازار کے چکر لگاتے گزرتا تھا۔
”اوہو! میں تو ابھی بازار سے آیا ہوں ڈئیر۔۔ ایسا کرو میران سے ابھی امی کچھ منگوانے کا کہہ رہی تھیں، اس سے پوچھو اس کا شاید چکر لگے۔۔“
جواب دیتے ہوئے انہوں نے نمیرہ کا منہ اترا دیکھ کر جلدی سے مشورہ دیا۔ نمیرہ نے گہرا سانس بھرا۔
ایک بار پھر اسے میران سے کام پڑ گیا تھا۔ وہ میران کے کمرے میں پہنچی۔ وہ اپنے کپڑے استری کرنے میں مصروف تھا۔ وہ گلا کھنکار کر کمرے میں داخل ہوئی۔
میران چونک کر پلٹا اور اسے دیکھ کر ٹھٹک گیا۔
”اوہ مائی گاڈ۔۔ لوگوں کی آج تو سج دھج ہی نرالی ہے۔۔“ اس نے آنکھیں پوری سے ذیادہ کھول لیں۔
”کیا ہوا بھئی۔۔ تمہارا اپنا ارادہ تو نہیں رخصت ہونے کا؟“ اس نے شوخی سے کہا۔
نمیرہ نے اس کی بکواس پر بمشکل ضبط کیا کیونکہ وہ خاندان میں کالی زبان مشہور تھا۔
”جسٹ سٹاپ اٹ! پلیز میرا ایک کام کر دو۔۔“ نمیرہ نے بڑی التجائیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
”فرماؤ جناب آج تو ایک نہیں بلکہ سو کام بتاؤ۔۔“
اس کا موڈ آج ضرورت سے ذیادہ ہی خوش گوار تھا۔
”بازار کا چکر لگے گا؟“ نمیرہ نے بھی فائدہ اٹھانا مناسب سمجھا۔
”کیوں۔۔؟“ اس نے حیرت سے پوچھا تو نمیرہ فوراً سیدھی ہوئی اور معصوم صورت بنا لی۔
”مجھے گجرے لا دو۔۔“ نمیرہ نے درخواست کی مگر اس کو امید نہیں تھی اس کا کام ہو گا کیوں کہ وہ کم ہی ایسے کام کرتا تھا۔
”بھول جاؤ۔۔ تمہارا تو دماغ بالکل ہی خراب ہے۔۔“
پل بھر میں اس کا موڈ ناخوش گوار ہوا تھا اور عین اسی کی امید تھی نمیرہ کو اس سے۔۔۔
”پلیز لا دو ناں میران۔۔ دیکھو سب کے پاس ہیں پر صرف میرے پاس نہیں ہیں اور تم جانتے ہو ناں مجھے گجرے کتنے پسند ہیں۔۔ لانے والا کوئی نہیں۔۔“
نمیرہ نے منت بھرے انداز میں کہا۔
”جاؤ یار یہاں سے۔۔ تمہیں ہر فضول چیز پسند ہے اور ویسے بھی ہم دولہے والے ہیں اور میں تو خاص طور پر دلہن والوں کے کسی ایک بھی بندے کے لیے ایک سوئی بھی لانا پسند نہ کروں۔۔“
وہ بڑی لا پروائی سے بولا۔ نمیرہ نے دانت پیسے۔۔
”میران تمہاری چچی نے تم سے کوئی کام کہا تھا؟“
اسی وقت میران کی ماں کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولیں۔ اس نے تائی جان کی بات پر خوش ہو کر میران کو دیکھا۔۔
ظاہر ہے جب اس کی ماں کا کام کرے گا تو نمیرہ کا کیوں نہیں۔
”میرا مطلب ہے سارے دلہن والے تو نہیں۔۔ صرف تم لڑکیاں۔۔ یو نو واٹ تم لڑکیاں بھی اگر دلہن کی چچیاں ہوتی تو۔۔۔
اوہ گاڈ چچی نے مجھ سے دودھ لانے کو کہا تھا۔۔“
بات کرتے کرتے اس نے اپنے سرپر ہاتھ مارا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔
”جسٹ گو ٹو ہیل میرو۔۔“ نمیرہ پیچھے سے چیخی اور یزدان کا نمبر ملانے لگی۔۔
اب وہی بچا تھا جو گجرے لا سکتا تھا۔۔
نمیرہ کی بات سن کر اس نے ”اوکے ڈونٹ وری“
کہہ کر اس کو ریلیکس کر دیا تھا۔
•••••••••••••••
”ددا جانی یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔؟
پلیز مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔ م۔۔۔ میرا نکاح۔۔۔“
باباجان اور ددا جانی کی بات سن کر نمیرہ حقیقتاً سکتے میں آ گئی تھی۔
”پلیز نمیرہ بیٹا سمجھ دار بچی ہو۔۔ مجھے اتنی بے وقوفی کی امید نہیں تھی تم سے۔۔“ نمیرہ کی بات کا جواب سفیر صاحب نے دیا تو اس کو رونا ہی آ گیا۔
”اس میں سمجھ نہ آنے والی کیا بات ہے؟ سب واضح کر دیا ہے۔۔ اب ہاں کرو یا انکار کرو۔۔“ ددا جانی نے محبت سے نمیرہ کے سر پر ہاتھ رکھا تو اس کو قدرے تسلی ہوئی۔
یعنی انکار کی کی ڈوری ابھی اس کے ہاتھ تھی۔
”ہاں ہی کرے گی ابا جان۔۔ آپ کیا جواب لینے بیٹھ گئے ہیں۔۔ ہماری بیٹی اب ہمارے فیصلے سے انکار کرے گی کیا۔۔“ اس سے پہلے کہ نمیرہ مناسب الفاظ میں انکار کرتی بابا ہمیشہ کی طرح خود بول پڑے۔
بولے ہی نہیں بلکہ۔۔ ایک جملے میں ہی اس کے اعتراضات کا گلا گھونٹ دیا تھا۔
نمیرہ نے بے چارگی سے بابا کی طرف دیکھا۔
”آج تو عفیرہ کی مہندی ہے اور آپ لوگوں کو میرے نکاح کی پڑی ہے۔۔“ نمیرہ نے روتے ہوئے بابا جان سے کہا۔ اب عفیرہ کے رونے کی بھی سمجھ آ رہی تھی۔
”بیٹا پلیز میری بات مان جاؤ۔۔ ریکوئسٹ ہے میری تم سے۔۔ دیکھو میں تمہاری جگہ عبیرہ بھی دینے کو تیار تھا مگر انہوں نے اسپیشلی۔۔ بلکہ بڑی منت سے تمہارا ہی رشتہ مانگا ہے۔۔“ باپ کی بےبسی سے دی گئی وضاحت پر نمیرہ نے خاموشی سے سر جھکا دیا۔
وہ خوش ہو کر مریم بیگم کی طرف مڑے۔
”اسے کوئی اور دوپٹہ پہنائیں۔۔ مولوی صاحب بس آتے ہی ہوں گے۔۔“ ان کی تاکید پر مریم بیگم نے اثبات میں سر ہلا کر نمیرہ کو دیکھا۔ یلو بھرے ہوئے لہنگا پر وہ بالکل سمپل جالی والا دوپٹہ پہن کر بیٹھی تھی۔
”اللہ نے تمہارا نصیب ایسے ہی لکھا تھا نمیرہ۔۔ اور یقین کرو ہمارے فیصلے کی درستگی کا جلد تمہیں احساس ہو گا۔۔“ ددا جانی نے نمیرہ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بابا کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گئے۔
نمیرہ کو میران پر بہت شدید غصہ آیا۔ اتنا شدید کہ دل کر رہا تھا ابھی وہ اس کے سامنے آئے اور وہ اس کا قتل کر دے۔
”منحوس انسان۔۔“ اسے نئے لقب سے نوازتی نمیرہ ماں کی پکار پر ان کے پیچھے چل پڑی۔
بڑی بہن کی شادی پر ارمان پورے کرنے کے لیے تیار ہوئی تھی اور اسی تیاری میں اپنے ارمان خون کروانے کی باری آ گئی تھی۔
قسمت بھی عجیب کھیل کھیلتی ہے، نمیرہ کو ایسا جھٹکا لگا تھا کہ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
خود پر ہنسے یا اپنی حالت پر پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔
نا جانے اس پر ظلم ہو رہا تھا یا پھر۔۔
اس پر احسان کیا جا رہا تھا۔۔
