Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Or Haqiqat (Episode 04)

Khuwab Or Haqiqat by Yaman Eva

اس عجیب و غریب شادی کو اب کافی وقت گزر چکا تھا اور نمیرہ اب کافی حد تک ایڈجسٹ بھی کر چکی تھی۔ بہرحال سیحان زبیری سے نمیرہ کی اس پہلے روز کے بعد سے دوبارہ کوئی خاص بات چیت نہیں ہوئی تھی۔

اور نا ہی کبھی اس نے تنگ کیا تھا، وہ اپنے سٹڈی روم تک ہی محدود ہو گیا تھا۔ کتابیں پڑھتے ہی سو جاتا اور صبح ناشتہ کر کے آفس کے لیے نکل جاتا تھا۔

دا جان بھی اب گھر آ چکے تھے اور انہیں دیکھ کر نمیرہ کو پختہ یقین ہو گیا تھا کہ

”جسے رب رکھے، اسے کون چکھے۔۔“

وہ دا جان جن کو ڈاکٹرز نے مایوسی سے جواب دے دیا تھا کہ اب علاج ہی ممکن نہیں اور انہوں نے اتنا رو دھو کر نمیرہ کی زندگی عذاب کر دی تھی۔

اب وہ مرنا بھول گئے تھے۔ ہاں وہ لاغر اور کمزور ہو چکے تھے۔۔ بستر پر پڑے کمزور سے، دا جان پر اسے غصہ بھی بہت آتا تھا مگر جب وہ نمیرہ کو دیکھ کر اپنے بوڑھے چہرے پر شفقت بھری مسکان سجاتے تو پیار بھی آتا اور ترس بھی۔۔

خیر ان کے ساتھ اب نمیرہ کی کافی حد تک دوستی ہو چکی تھی۔ سارا دن فارغ وقت میں وہ انہی کے کان کھاتی تھی اور وہ بس محبت سے اس کی باتیں سنتے رہتے تھے اور شاید اسی وجہ سے وہ کافی حد تک ٹھیک بھی ہو چکے تھے۔۔

ددا جانی اور بابا تقریباً روز ان سے ملنے آتے، باقی لوگ بھی ایک دو مرتبہ نمیرہ کے پاس ملنے آ چکے تھے۔ البتہ میران سے مل کر نمیرہ نے خوب لڑائی کی تھی کہ یہ سب اس کی کالی زبان کی بدولت ہوا ہے۔

اور وہ نمیرہ کی حالت پر قہقہے لگا رہا تھا۔

”تمہیں کچھ ہوا تو نہیں ناں؟ بیٹھے بٹھائے اتنا زبردست انسان مل گیا ہے، تمہیں اور کیا چاہیے۔۔؟“

وہ بولا تو نمیرہ نے اس کے آخری جملہ پر ناک چڑھایا۔

(نا جانے سب لوگوں کو سیحان زبیری میں ایسا کیا نظر آتا تھا جو نمیرہ کو نظر نہیں آیا۔)

وہ بڑبڑا کر سر جھٹک گئی۔

”صدمہ تو یہ ہے کہ اگر تمہاری دعا قبول ہوگئی تو میرا کیا ہو گا؟ ناجانے میری بیوی کیسی آئے گی۔۔“

وہ سچ میں پریشان تھا اور نمیرہ پُر سکون ہو گئی۔۔

(تھوڑا اور رو لے پھر مشورہ دوں گی کہ سنیعہ سے شادی کر لے)

وہ گردن اکڑا کر میران کو دیکھ رہی تھی۔

اور پھر کچھ دن بعد پھوپھو کے جانے سے پہلے پہلے نمیرہ کے مشورہ دینے پر ان دونوں کا رشتہ طے کر دیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ دونوں ہی نمیرہ کے احسان مند تھے۔

مگر اس سب کے باوجود سب کے لاکھ سمجھانے، منت کرنے اور معافی مانگنے کے بعد بھی نمیرہ دوبارہ اپنے گھر نہیں گئی تھی۔ اس اچانک شادی کا غصہ تب تک نہیں اترنے والا تھا جب تک وہ اپنی اس لائف سے مطمئین نہیں ہو جاتی تھی۔

اور جب تک نمیرہ کا غصہ باقی تھا وہ کسی صورت گھر نہیں جا سکتی تھی۔ اس کی ڈھٹائی اور ضد پر ددا جانی نے سب لڑکیوں اور گھر والوں کو اس سے ملنے بھیج دیا تھا۔

جب نمیرہ کی کزنز اس سے ملنے آئیں تو نمیرہ کو تھوڑی شرمندگی بھی ہوئی تھی کیونکہ انہوں نے نمیرہ سے وہ سوالات کیے جو ہر لڑکی کی شادی کے بعد اس کی دوستیں اور کزنیں بڑے اشتیاق سے پوچھتی ہیں۔۔

”بھائی کیسے ہیں؟ انہوں نے پہلی بار مل کر تم سے کیا کہا؟

کیا انہوں نے تم سے اپنی محبت کا اظہار کیا؟

کیا وہ شوخ مزاج ہیں، رومینٹک ہیں؟

ان کو کیا کیا پسند ہے؟ رونمائی کا تحفہ ملا؟

کیا ان کی اور تمہاری کیمسٹری ملتی ہے؟

تم دونوں میں دوستی ہو گئی یا سخت مزاج ہیں۔“

اس قسم کے کئی سوالات کیے گئے تھے اور نمیرہ کے پاس کسی ایک سوال کا بھی جواب نا تھا۔

وہ گھبرا کر نظریں چراتی لب کاٹتی رہی۔

”یا خدا تم شرماتی تو بالکل نہ تھیں نمیرہ۔۔ کیا اب اتنی شرمانے لگی ہو کہ جواب تک نہیں دے پا رہیں؟“

عبیرہ اس کی خاموشی اور نظریں جھکانے پر سخت حیرت زدہ تھی۔

”لگتا ہے یہ مسٹر دیکھنے میں سنجیدہ طبیعت کے ہیں مگر اصل میں بہت رومینٹک ہوں گے۔۔

دیکھو تو نمیرہ کو بھی چپ لگوا دی۔۔“

سب کزنز اسے چھیڑ رہی تھیں اور نمیرہ گہری سانس بھر کر رہ گئی۔

اب وہ انہیں کیا بتاتی کہ اس کے ساتھ ایک بار کے بعد دوبارہ بات ہی نہیں ہوئی اور پہلی ملاقات کوئی اتنی اچھی بھی نہ تھی کہ بتا دیتی۔۔

نمیرہ کو اپنا بھرم رکھنا تھا۔ وہ بتا نہیں پائی کہ اچانک لائی گئی ہے اور شاید ان چاہی بھی ہے۔

اس نے خاموشی میں ہی عافیت جانی۔

” شادی والے دن تو سیحان بھائی کا چشمہ نہیں لگا ہوا تھا کیا ان کی آئی سائٹ ویک ہے؟“

نمیرہ کی بڑی پھوپھو ذاد تابندہ نے چشمہ لگا کر بیٹھے سیحان زبیری کو دیکھ کر پوچها۔

”ہاں۔۔ نظر کا مسئلہ ہے، چشمہ بھی bifocals ہے ( یعنی دوہرے لینس کا، دور و نزدیک کا)۔۔“

جواب دے کر وہ ایسے مطمئن ہوئی جیسے تمغہ جیتا ہو۔ صد شکر کچھ تو پتا تھا۔

کیوں؟ جہاں تک ہم نے سنا ہے اتنی خاص تعليم بھی نہیں ہے، سیحان بھائی کی۔۔ تو کیا جاب روٹین ٹف ہے۔۔“ سامعہ حیران ہوئی تھی۔

اور اس کی حیرت ہمیشہ حیران ہی کر دیتی تھی۔

“Yes! and he is bibliophile too…”

(ہاں اور وہ کتابوں کا شوقین بھی ہے۔۔)

نمیرہ کچھ پرسکون ہوئی۔ یعنی اب اتنی بھی بے خبر نہيں تھی وہ۔۔ نمیرہ مسکرانے لگی۔

اور اگلے ہی پل اس کا سکون غارت ہو گیا تھا جب سب نے پوچھا۔

”کس ٹائپ کی بکس؟ سفر نامے، ناولز، ہسٹری یا کچھ اور۔۔“ نمیرہ نے بد دلی سے کندھے اچکا کر خاصہ جل کر سیحان زبیری کی طرف دیکھا تھا۔

عین اسی لمحے سیحان کی نظر نمیرہ پر پڑی تو نمیرہ کا ماتھے پر بل ڈال کر اسے دیکھنا اور اسے دیکھتا پا کر جھٹکے سے منہ پھیر لینا اسے کافی حیران کر گیا تھا۔۔

اب اس نے کیا غلطی کی تھی؟ وہ دا جان کی معصوم سی بہو اس سے اتنی الجھن کیوں کھاتی تھی؟

وہ حیرت سے نمیرہ کی طرف دیکھتا چلا گیا تھا۔۔۔۔۔

•••••••••••••

رات کو کافی دیر تک نمیرہ جب سونے میں کامياب نہ ہو پائی تو اٹھ کر بیٹھ گئی۔ دن بھر خاندان کی لڑکیوں سے مغز ماری کر کے اب اس کا سر درد کر رہا تھا۔

شادی ہوئی تھی اور ایسی کہ وہ خود بھی نہیں اس تعلق کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ وہ اپنی مرضی سے رہ رہی تھی، کوئی روک ٹوک نا تھی۔ دا جان تو اس کے دوست جیسے بن چکے تھے مگر اس شادی میں اصل انسان اس سے لاپرواہ تھا۔

جس کے نام پر وہ آئی تھی، جس کے لیے لائی گئی تھی۔ وہ کہاں گم رہتا تھا کچھ خبر نہیں تھی۔۔

وہ اکتائی ہوئی سی بالوں کی ڈھیلی ڈھالی چٹیا بنا کر دوپٹہ کندھے پر اٹکا کر کمرے سے نکلی اور پاؤں گھسیٹتی کچن کی طرف گئی۔

کچن میں پہلے سے لائٹ آن تھی اور کھٹ پٹ کی آواز بھی واضح تھی مگر نیند میں جھولتی نمیرہ ان دونوں باتوں کو محسوس نہیں کر پائی تھی۔

وہ کچن کے دروازے پر پہنچی تو سیحان زبیری نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا، اپنے سامنے اسے دیکھ کر نمیرہ نے جلدی سے دوپٹہ صحیح کیا۔

”جس طریقے سے چل رہی تھیں تم۔۔ پہلے سے پتا چل گیا تھا کوئی کچن کی طرف آ رہا ہے۔۔“ وہ مڑ کر مصروف انداز میں بولا تو نمیرہ شرمندہ ہو گئی۔

”آپ اس وقت کچن میں کیا کر رہے ہیں۔۔؟“

وہ شرمندگی مٹانے کے لیے بولی تو خاصی تمیز کا مظاہرہ کر گئی۔ جس پر وہ حیران سا پلٹ کر نمیرہ کو دیکھنے لگا جیسے یقين چاہ رہا ہو کہ اس کے علاوہ دوسری ہستی نمیرہ ہی ہے ناں؟

اتنی شرم لحاظ والی۔۔؟ اتنی با ادب یعنی واقعی معصوم اور نیک شریف۔۔؟ یقین نہیں آیا۔

اس کی نظروں سے نمیرہ نروس ہو گئی۔

”کچھ چاہئیے تھا؟“ اس کا حیرت سے کیا گیا سوال نمیرہ کو اندر تک آگ لگا گیا۔

”ظاہر ہے۔۔ میں آدھی رات کو یہاں واک کرنے تو نہیں آئی ناں۔۔“ اپنے موڈ میں آتے پل بھر ہی لگا تھا نمیرہ کو اور وہ یوں مطمئین سا پلٹا جیسے اب یقين ہوا ہو کہ یہ نمیرہ ہی ہے۔

نمیرہ نے دانت کچکچا کر اس کی پشت دیکھی۔

وہ اتنا مصروف کیوں تھا، آخر کر کیا رہا تھا۔ ۔متجسس ہو کر اس نے پیچھے سے جھانک کر دیکھنے کی کوشش کی۔

”چائے بنا رہا ہوں۔۔“ شاید وہ نمیرہ کے اس طرح دیکھنے کو بھانپ گیا تھا تبھی بتایا۔

وہ ان سنا کر گئی۔ مطلب اس نے پوچھا تھوڑی تھا۔

”میں پڑھ رہا تھا تو چائے کی طلب محسوس ہوئی۔

سو میں نے سوچا پہلے چائے پی لوں، تم پیو گی۔۔؟“ خاصا تفصيلی جواب دے کر اس نے گردن موڑ کر نمیرہ کو دیکھتے ہوئے سوال داغا۔

”آپ ہٹیں، میں بناتی ہوں چائے۔۔“ عورت کے ہوتے مرد کام کرے۔ نمیرہ کو یہ بات گوارہ نہ تھی۔

اس بات کا احساس ہونے پر وہ شرمندہ ہوئی تھی۔

خلاف توقع وہ بڑی شرافت سے ایک طرف ہو گیا پر وہيں قریب ہی شیلف سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوتا نمیرہ کو دیکھنے لگا۔ نمیرہ کنفیوز سی آگے بڑھی اور کیتلی میں دودھ پتی کا اضافہ کرنے لگی۔

”موصوف یہاں سے ہٹتے کیوں نہیں۔۔ اب میرے چہرے پر کون سا خزانہ تلاش کیا جا رہا ہے۔ ہونہہ۔۔“

نمیرہ نے ناک چڑھا کر سوچا۔ اس کے چہرے کے تاثرات اس کی سوچ صاف واضح کر رہے تھے۔

”او۔کے میرے روم میں دینے کی زحمت کر لینا پلیز۔۔“

اس نے جیسے نمیرہ کے دل کی آواز سن لی تھی۔

نمیرہ نے بخوشی بلکہ نہایت فرماں برداری کے اثبات میں سر ہلا دیا اور وہ جاتے جاتے ایک گہری نظر نمیرہ پر ڈال کر گیا تھا۔

”یا خدا یہ انسان نجانے کون سے نقص تلاشنا چاہ رہا ہے مجھ میں۔۔“ اس کی گھوریوں پر نمیرہ بڑبڑائی۔

”میری عزت رکھنا خدایا۔۔“ ساتھ میں دعا بھی کر ڈالی جو شاید ابھی اللہ کو منظور نہ تھی یا نمیرہ کا یہ کہنا ہی اللہ کو برا لگا تھا کہ اگلے چند منٹوں میں ہی اچھی خاصی شرمندگی اٹھا لی تھی۔۔

وہ کپ دھونے کے لیے سنک کی جانب بڑھی جب اس کو اپنے جوتوں کے نیچے کسی نرم چیز کا احساس ہوا۔

اس نے جھک کر غور سے دیکھا تو نیم اندھیرے میں پڑے سانپ کو دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہو گئے۔

”یہ سانپ ہے؟“ بے یقينی سے دیکھا اور کنفرم ہوتے ہی نمیرہ کی چیخ بے ساختہ نکلی تھی۔

وہ فریج کے دوسری جانب کونے میں چھپی بری طرح لرز رہی تھی جب سیحان زبیری حیران و پریشان سا کچن میں داخل ہوا۔ وہ کبھی نمیرہ کو تکتا تو کبھی کچن میں یہاں وہاں دیکھتا یقیناً اس چیخ کی وجہ جاننا چاہ رہا تھا۔

”کیا ہوا۔۔؟ آر یو او۔کے۔۔؟“ اس نے تھک کر پوچھ ہی لیا۔ سیحان زبیری کی جگہ اگر یہاں یزدان یا میران ہوتے تو نمیرہ ان کے اندھے پن کے ثبوت پر خوب عزت افزائی کرتی مگر۔۔۔۔۔!

”وہ۔۔ سانپ۔۔“ نمیرہ نے لڑکھڑاتی زبان میں بتاتے ہوئے اس جانب اشارہ کیا۔ سیحان نے چونک کر اس کے اشارے کے تعاقب میں جا کر غور سے فرش پر دیکھا اور جھک کر اسے اٹھا لیا۔

”کیا وہ پاگل ہے؟“ نمیرہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔

“Hello… This is just a toy…..”

اس کی آواز میں نمیرہ کے لیے واضح تمسخر تھا۔

اس کے جملے پر وہ بری طرح شرمندہ ہو گئی۔

”آپ کو ابھی تک کھلونوں سے کھیلنے کا شوق ہے؟“

وہ شرمندگی مٹانے کے لیے بولی بھی تو کیا؟

”واٹ؟ یہ میرا نہیں ہے۔۔“ وہ جھٹکا کھا کر اسے دیکھتا حیرت سے بولا اور پھر گہرا سانس بھرا۔

”مجھے سانپ رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔“

وہ اس کی کم عقلی پر افسوس کر رہا تھا۔

”بالکل رئیل لگ رہا ہے، پھوپھو کے پوتے کا ہے؟“

نمیرہ نے سوال کیا تو اس نے سانپ وہیں کیبنیٹ میں پھینکتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا۔

”ڈرنے یا چیخ مارنے سے پہلے کنفرم تو کرنا چاہئیے تھا کہ رئیل ہے یا نہیں۔۔“ شاید نمیرہ کی چیخ سے وہ کچھ ذیادہ ہی ڈسٹرب ہوا تھا۔۔

”بس کنفرم ہوا کہ سانپ ہے آگے کا کچھ خوف نے سوچنے ہی نہیں دیا۔۔“ نمیرہ نے اس وقت سچ کہنا ہی مناسب سمجھا تھا۔

”اگر اس کی جگہ basilisk ہوتا تو کیا ہوتا۔۔“

کچھ توقف کے بعد وہ جھرجھری لے کر بولی۔۔

سنیعہ کا بتایا basilisk کا بھوت کچھ ذیادہ ہی اس کے دل و دماغ پر قابض تھا۔

”ایکسکیوزمی۔۔ یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟ باسیلِسک۔۔؟“ وہ حیرت سے پوچھ رہا تھا۔

(شاید بے چارہ جانتا تک نہیں کہ basilisk کیا ہوتا ہے)

نمیرہ نے تاسف سے اس ”کم پڑھے“ خوب رو نو جوان کو دیکھا جو بد قسمتی سے یا خوش قسمتی سے اس کا خاوند بن چکا تھا۔

”باسیلسک ایک اژدھا ہوتا ہے، جس کی نظر اور پھنکار۔۔۔“

وہ تفصیل بتانا چاہ رہی تھی جب وہ ٹوک گیا۔

”آئی نو دا ڈیٹیل۔۔۔۔ میں تمہارے خوف پر حیران ہوں، وہ بھلا تمہارے پاس کہاں سے آئے گا؟“

وہ قریب پڑے سٹول پر بیٹھتا اطمینان سے بولا۔

کبھی کبھی ایسے باتیں کرتا وہ بہت ویل ایجوکیٹڈ لگتا تھا۔ نمیرہ اس کے انداز پر اپنی حیرت دبا گئی۔

اس نے چائے کپوں میں ڈال کر ایک کپ سیحان کو تھمایا اور دوسرا اپنے قبضے میں لیا۔

”کیوں؟ آپ کا گھر زمين پر نہیں یا وہ سانپ کسی اور دنیا کا ہے۔۔؟“ وہ ابرو چڑھا کر بولی۔

بحث کرنا تو ویسے بھی اس کی عادت رہی تھی۔

اس کی بات پر سیحان نے یوں غور سے اس کو دیکھا جیسے اس کے اچانک سے سینگ نکل آئے ہوں یا ناک غائب ہو گئی ہو۔۔۔

وہ خاموشی سے چاۓ پیتا رہا، جواب نہیں دیا۔ نمیرہ بھی خاموش ہو گئی۔

Actually Mrs nameerah, basilisk…

ایک افسانوی۔۔ صرف افسانوی اژدھا ہے جس کی نظر اور پھنکار بہت مہلک بتائی جاتی ہے۔۔

یعنی وہ بس ایک تصوراتی وجود ہے اور بس۔۔“

سیحان نے کپ فارغ کرتے ہوئے سنجیدگی سے نمیرہ کو وضاحت دی تو وہ خفت زدہ ہو گئی۔

(دھت تیرے کی۔۔ سنیعہ کی بچی!! کبھی پوری بات نہ کرنا۔۔۔۔۔! عزت کروا بیٹھی ہوں۔۔)

اسے کم پڑھا اور انجان سمجھنے کے چکر میں نمیرہ خود کو پاگل ثابت کر بیٹھی تھی۔

”کیوں؟ آپ کا گھر زمین پر نہيں ہے یا وہ سانپ کسی اور دنیا کا ہے؟“ وہ نمیرہ کی نقل اتار کر شرارت سے اسے دیکھنے لگا۔

مارے شرمندگی کے نمیرہ نے کپ پٹخنے کے انداز سے رکھا اور گڈ نائٹ کہتی باہر نکل گئی۔ اس کی نظروں میں عزت تو خوب بڑھ گئی تھی۔۔۔!

آہ نمیرہ آہ۔۔۔ یہ زبان بند کیوں نہیں ہو جاتی۔۔۔

••••••••••••

اس واقعہ کے بعد سے ہی نمیرہ اس سے خاصی گھل مل گئی تھی۔۔

جیسے ایک راہ ملی تھی دوستانہ بڑھانے کی۔۔

اب وہ جیسے ہی گھر آتا، نمیرہ تھوڑا وقت یہاں وہاں گھوم کر پھر اس کے سر پر سوار ہو جاتی اور خوب گپیں ہانکتی۔۔

اس کے ساتھ باتيں کرنے کا مزہ ہی کچھ اور تھا، ایک تو وہ خاموشی سے سنتا تھا۔ ٹوکتا بالکل نہیں تھا۔۔

پھر اگر نمیرہ کچھ غلط کہہ بھی دیتی تو نرمی سے تردید کرتا اور اس کے بضد ہونے پر ہار ماننے کے انداز میں سر جھکا دیتا تھا۔

اس کے پاس معلومات کا ایک ذخیرہ تھا، اس کی ذہین آنکھوں کی چمک نمیرہ کو متاثر کرتی تھی۔

دھیرے دھیرے وقت گزرنے کے ساتھ نمیرہ اس گھر میں پوری طرح ایڈجسٹ کر گئی تھی۔ بلکہ اسے تو سچ میں اچھا لگنے لگا تھا یہ نیا انداز زندگی۔۔۔

وہ اپنی مرضی سے گھر چلا رہی تھی، اسے کوئی ٹوکنے والا نہ تھا، دادا جان بھی نمیرہ کو خوش دیکھ کر خوشی سے ہی بھلے چنگے ہو رہے تھے۔

سیحان زبیری نے تنخواہ ملنے پر ساری رقم لا کر نمیرہ کے ہاتھ پر رکھ دی، وہ کم تھی لیکن یہ احساس ہی خوش گوار تھا کہ اب نمیرہ کو تنخواہ اپنی مرضی سے استعمال کرنی ہے ،دوسرے لفظوں میں یہ نمیرہ جیسی لاپرواہ اور شاہ خرچ لڑکی کا کڑ امتحان بھی تھا کہ اس کم رقم میں پورا مہینہ گزارنا تھا۔۔۔۔!

مگر اس نے گزارہ کر لیا۔۔ کچھ کر دکھانے کا جنون ہی اتنا پُر زور تھا کہ سب کر گزری۔۔ سیحان کے سامنے خود کو ثابت کا شوق اس سے یہ مشکل کام بھی کروا گیا تھا۔۔

وہ آلو کے چپس بنا کر کھانا بھی بھول گئی اور ہر دوسرے موقع پر نیا اور مہنگا سوٹ لینا بھی۔۔۔۔۔۔!

بابا اور ددا جانی لوگوں نے کافی کوشش کی مالی مدد کرنے کی، وہ نمیرہ کی عیش پسند طبیعت سے اچھی طرح واقف تھے اور کسی حد تک حیران بھی تھے کہ گزارا اور نمیرہ۔۔۔۔؟

گویا زمین آسمان ایک ہو رہا تھا۔

اور بقول سیحان کے، نمیرہ اپنی بے وجہ ضد کے باعث اپنی ذات کو اذیت دے رہی ہے، پر یہ صرف اس کا خیال تھا کیونکہ نمیرہ اپنی ضد کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ سب اپنی خوشی سے کر رہی تھی۔

ایک نہایت چھپا ہوا سچ تو یہ تھا کہ نمیرہ کو سیحان زبیری اچھا لگنے لگا تھا، اسے حیرت ہوتی تھی خود پر۔۔ کہاں اس کے خواب اور کہاں یہ حقیقت۔۔!

زمین آسمان جیسا فرق تھا مگر اسے یہ فرق نظر ہی نہیں آ رہا تھا، شاید واقعی صحیح کہا تھا کسی نے نکاح کے بول بہت پاور رکھتے ہیں۔

اونچے خواب دیکھنے والی نمیرہ سفیر۔۔۔ اپنے غریب شوہر سیحان زبیری سے محبت کرنے لگی تھی۔

•••••••••••

نمیرہ گنگناتے ہوئے کچن میں کام کر رہی تھی۔ نا گرمی کا احساس ستا رہا تھا نا تھکن کی پرواہ تھی۔۔

عجیب سی شادی نے اس کا عجیب سا حال کر دیا تھا۔ محبت ٹھنڈی ہوا بن کر اس کے گرد جھومتی تھی اور وہ خیالوں کی دنیا میں خوش رہتی تھی۔

سیحان آفس سے گھر پہنچا تو وہ چونک کر کچن سے باہر جھانکنے لگی۔ فارمل ڈریسنگ میں وہ تھکن زدہ چہرہ لیے قدم بڑھاتا اپنے کمرے کی جانب جا رہا تھا جب اسے دیکھ کر ٹھٹک کر رک گیا۔

”السلام و علیکم۔۔“ نمیرہ کے سلام پر وہ اپنے سرخیاں چھلکاتے تھکن زدہ چہرے نرم سی مسکراہٹ سجا گیا تھا۔ شہد رنگ آنکھوں میں سرخ ڈورے تیر رہے تھے۔

کوئی رف سے حلیہ میں بھی اتنا شاندار کیسے لگ سکتا ہے؟ کوئی پیارا لگے تو کیا ایسا لگتا ہے؟

نمیرہ یک ٹک اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔۔

”دا جان کیسے ہیں؟ آج کا دن کیسا گزرا۔۔“

وہ وہی سوال دوہرا رہا تھا جو روزانہ آ کر پوچھتا تھا۔ نا انداز بدلتا تھا نا الفاظ بدلتا تھا۔

مختصر اور مخصوص بات کرنے والا عجیب انسان۔۔

”وہ ٹھیک ہیں۔۔ دن اچھا تھا۔۔“ نمیرہ اس کے وہی ایک انداز پر منہ بنا کر کچن میں لوٹ گئی۔

”اچھا تو۔۔۔ اچھی بات ہے۔۔“ وہ اس کے یوں پلٹ کر جانے پر تھوڑا خفیف سا ہو کر بولا۔

”جی۔۔“ نمیرہ نے پلٹے بنا جواب دیا تو وہ کچھ پل وہیں رکا اسے دیکھتا رہا پھر قدم آگے بڑھا گیا۔

نمیرہ نے جلدی سے کھانا گرم کر کے لگایا مگر سیحان نے کھانے سے منع کر دیا۔ وہ لب بھینچ کر رہ گئی۔

”ہمیشہ سے ایسا ہے۔۔ ہر وقت مصروف رہ کر خود کو تھکا دیتا ہے اور جب تھک جاتا ہے تو کھانا پینا اور آرام بھلا کر کتابیں پڑھنے بیٹھ جاتا ہے۔۔

اس کو زندگی کے کسی موڑ پر سدھار ہی لینا نمیرہ۔۔“

دا جان اس سے بھی زیادہ منہ پھلا کر بول رہے تھے۔

وہ بےساختہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔

”آپ نے آدھی زندگی گزار کر نہیں سدھارا تو میں کیا سدھاروں گی۔“ وہ جیسے مایوس ہوئی تھی۔

”تم نہیں تو تمہاری محبت سہی۔۔ مجھ بوڑھے دادا کی اسے کیا پروا۔۔ تم تو بیوی ہو، لڑ جھگڑ کر سمجھاؤ گی تو دیکھنا کیسے سیدھا ہو گا۔۔“

وہ اسے پٹیاں پڑھانے لگے، نمیرہ کی آنکھیں پھیلیں۔

”کیا اتنا سیدھا لگتا ہے آپ کو وہ۔۔ آپ کا پوتا ناں پورا گھُنا ہے۔۔ بوڑھے دادا کی فکر نہیں تو میری کیا خاک فکر ہے جس سے شادی کے بعد بات کرنے کے لیے مخصوص جملے تیار کر رکھے ہیں جو روزانہ بول کر فارغ ہو جاتا ہے۔۔ ہونہہ۔۔“ وہ ہاتھ جھلا کر بولتی اس کی برائیاں کرنے میں مصروف تھی۔

”پتا نہیں یہ انسان کتابوں میں کیا پڑھتا ہے آخر۔۔ جو پڑھتا ہے وہی بول دیا کرے۔۔

آج تک بولنا ہی نہیں سیکھا، منہ پر تالا لگا کر رکھتا ہے۔“ اس سے زیادہ تو دا جان نالاں تھے۔

دونوں پر بار اس کی شکایات کرنے میں ایسے ہی مگن ہوتے تھے۔۔ سیحان زبیری شاید خود سے جڑے ہر انسان کو مایوس کر دیتا تھا۔۔

نمیرہ کو یکدم احساس ہوا۔ وہ خاموش رہ کر تھک بھی تو جاتا ہو گا؟ شاید جو کہنا چاہتا ہو کہہ نا پاتا ہو یا پھر شاید۔۔ جب وہ بولنا چاہتا تھا اسے سنا نہیں گیا اس لیے وہ اب بولتا ہی نہیں۔۔

وہ اس کو سوچ کر الجھنے لگی۔

”کیا ہوا نمیرہ؟؟ پریشان مت ہو بیٹا۔۔ وہ ابھی تمہارے ساتھ زیادہ فری نہیں ہوا اس لیے کم بولتا ہے۔۔“

دا جان اس کی خاموشی پر گھبرا کر وضاحت دینے لگے۔ نمیرہ نے چونک کر انہیں دیکھا۔

”وہ کم بولتا ہے پھر بھی اچھا لگتا ہے۔ آپ رکیں میں کھانے کا پوچھ کر آتی ہوں۔۔“ نمیرہ نے گہرا سانس بھر کر کہا اور اٹھ کر کمرے سے نکل گئی۔

پیچھے دا جان اس کے جملوں پر بےاختیار مسکرائے۔

”بس میرے سیحان کے لیے۔۔۔ یہی محبت کافی ہے۔“

وہ بڑبڑائے، ان کے سر سے گویا بوجھ اترا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *