Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Or Haqiqat (Episode 03)

Khuwab Or Haqiqat by Yaman Eva

نا جانے اس پر ظلم ہو رہا تھا یا پھر۔۔

اس پر احسان کیا جا رہا تھا۔۔

نمیرہ کو عفیرہ کے جہیز کا سفید نگینوں سے بھرا دوپٹہ اوڑھا دیا گیا۔

اس دوپٹے کا آنچل سلور کام سے بھرا ہوا تھا جو سفید رنگ پر خوب چمک رہا تھا اور نمیرہ کے لہنگے کے ساتھ بالکل میچ کر گیا۔

عفیرہ اور عبیرہ کے علاوہ اس کی کزنز، پھوپھو سب لوگ نجانے کیا کیا باتیں کر رہے تھے اور وہ بس خاموشی سے روتی رہی، کسی کو کوئی جواب نہ دیا، یوں جیسے سب سے ناراض ہو۔

”اسی لیے پیدا کیا تھا کہ مجھ پر ظلم کر سکیں۔۔

غضب خدا کا بابا اور ددا جانی کو میرا خیال ہی نہیں آرہا۔۔ بیٹھے بٹھائے نکاح کا شوشا چھوڑ دیا ہے۔۔

قربانی کا بکرا سمجھ رکھا ہے مجھے۔۔ ان کی محبتیں نچھاور ہو رہی ہیں اور زندگی تو میری عذاب ہوگی۔۔

ان کا کیا جاتا ہے۔۔“ نمیرہ رونے کے ساتھ زبان کو بھی مسلسل حرکت دے رہی تھی۔

اور ظاہر ہے سننے والی بھی اس کی ہی فیملی تھی، اس کی باتیں یوں سنی ان سنی ہو رہی تھیں جیسے ولیمہ پر بیک گراؤنڈ میں بجنے والے میوزک کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔۔

”ان کے لیے ہی ہاں کی میں نے ورنہ میں بھی آگ لگاتی اس ہمدردی اور فرمانبرداری کو جس میں اپنی خوشیوں کو قربان کرنا پڑے۔۔

بابا اور ددا جانی کے جو کام ہیں ناں ہماری قوم کو نیازی نہیں بلکہ بے نیازی ہونا چاہئیے تھا۔۔“

بولتے بولتے نمیرہ کی نظر اپنی ماں کی رونی صورت پر پڑی تو اس کو مجبوراً چپ ہونا پڑا۔۔

اور پھر نمیرہ ہی سمجھ سکتی تھی وہ کیسے ضبط کیے رہی۔ اس کا ضبط تب ٹوٹا جب مولوی صاحب نے نکاح کے لیے پوچھا۔۔

نمیرہ کے جواب نہ دینے اور صرف رونے پر بابا کا رنگ پھیکا پڑ گیا تھا۔ جواب نا ملنے پر ددا جانی کے ہاتھ پیر پھولنے لگے تو شارٹ کٹ پوچھا۔

”بولو نمیرہ تمہیں سیحان زبیری قبول ہے؟“

وہ حق مہر اور باپ کا نام وغیرہ سب پوچھنا بھول گئے۔ نمیرہ نے مرے مرے انداز میں سر ہلا دیا اور پھر نکاح ہو گیا۔

سیحان زبیری ددا جانی کے جگری دوست کا پوتا تھا۔

نمیرہ اس کے بارے میں ہمیشہ صرف تعریف سنتی آئی تھی مگر وہ خود کیسا تھا اور کیسا دکھتا تھا کوئی نہیں جانتا تھا۔

”فکر مت کرنا میں نے شاہد زبیری کو سمجھا دیا ہے کہ ابھی رخصتی کی بات نا کرے۔۔ عفیرہ کی شادی کا معاملہ ختم ہو تو پھر اس بات کو دیکھتے ہیں۔۔“

ددا جانی نے نکاح کے بعد اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کے بابا جان کو تسلی دی تو ازل سے منہ پھٹ نمیرہ کا یکدم صبر ختم ہوا۔

”نکاح کب اور کس سے کرنا ہے، یہ مرضی ان کی تھی تو رخصتی بھی ان کی مرضی سے ہی کریں۔۔

بلکہ بہتر ہی ہے اس معاملہ کو ابھی پورا کر دیں، مجھے بھی سب کے سوالوں اور نظروں سے کچھ نجات مل جائے گی۔۔“ وہ خفگی سے دونوں کو دیکھتے ہوئے بولی۔ سفیر صاحب کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔

”نمیرہ یہ فیصلہ ہم بڑوں کو کرنے دو۔۔“ ان کے ٹوکنے پر وہ آنکھیں پھیلا کر انہیں دیکھتی کھڑی ہو گئی۔

”کیوں؟ نکاح میرا ہوا ہے تو فیصلہ بھی میرا ہونا چاہئیے۔۔ مجھے ابھی رخصت ہونا ہے۔۔“

وہ منہ پھاڑ کر اپنے منہ سے ہی رخصتی کا بول گئی۔

ددا جانی نے بغور اس کی آنکھوں میں بغاوت دیکھی اور سمجھ کر سر ہلایا۔۔ یعنی سارا مسئلہ اس غصے کا تھا جو بیٹھے بٹھائے نکاح کروانے پر آ رہا تھا۔

”ٹھیک ہے۔۔ بات بھی ٹھیک ہے۔ سادگی سے رخصت کر دیتے ہیں۔ شاہد بھی یہی درخواست کر رہا تھا۔“

ددا جانی نے اس کا ساتھ دیا۔ نمیرہ گڑبڑا گئی۔

اس نے سوچا تھا اب گھر والے منتیں کریں گے اور اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں گے مگر وہ ایسا سوچتے ہوئے اپنے ددا جانی کو بھول گئی تھی۔

”مگر ابا جی۔۔“ سفیر صاحب نے کچھ بولنا چاہا۔

”بیٹا جوان بچوں سے ضد نہیں لگاتے۔۔“ نہایت سمجھداری سے اپنے بیٹے کو سمجھاتے ددا جانی نے گردن اکڑا کر نمیرہ کو دیکھا۔

وہ سیر تھی تو ددا جان سوا سیر تھے۔۔ یہاں بچوں نے کوئی ضد کی اور یہاں وہ ان کو ان کے ہی فیصلے کی غلطی کا احساس دلانے کے لیے ان سے زیادہ ضد لگا بیٹھتے تھے۔

اور نمیرہ کا اپنا ڈائلاگ اس کے حلق میں ایسا پھنسا کہ ددا جانی نے مزید کچھ سنے بنا اس کی رخصتی کا اعلان کر دیا تھا۔

نمیرہ رخصت ہوتے وقت۔۔ حتٰی کہ رخصت ہو کر زبیری ہاؤس پہنچنے تک۔۔ نمیرہ کو ایسا صدمہ لگا کہ رو بھی نہیں پائی تھی۔۔ اس سارے وقت میں نمیرہ کو صرف اور صرف میران کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔

(اپنا ارادہ تو نہیں ہو گیا رخصت ہونے کا۔۔؟) نمیرہ نے وہ الفاظ سوچ کر ہی دانت پیسے۔۔ وہ جانتا تھا وہ کالی زبان ہے پھر ایسا کیوں کہا اس نے؟

نمیرہ نے اس شادی کا سارا الزام میران پر ڈالا تھا حالانکہ قصہ کچھ یوں تھا کہ۔۔۔

ددا جانی کے جگری دوست شاہد زبیری کی اچانک سے طبیعت خراب ہوگئی اور انہیں افرا تفری میں ہاسپٹل داخل کروا دیا گیا۔۔

ڈاکٹرز نے چیک کر کے فرمان جاری کر دیا۔

”بچ نہیں سکتے، بس دعا کریں۔۔“ اور بس جی۔۔

دا جان یعنی شاہد زبیری نے رو دھو کر اپنے دوست کو بلوا بھیجا۔ یہ وہی وقت تھا جب جب سفیر صاحب کرسیاں سیٹ کر رہے تھے، انہیں اچانک کال آ گئی۔۔

انہوں نے جھٹ پٹ وہاں کھڑے لڑکوں کو ہدایات دیں، ددا جانی کا ہاتھ تھاما، تایا جانی کو اطلاع دی اور گاڑی میں بیٹھ کر ہاسپٹل پہنچ گئے۔۔

کچھ پل میں ہی وہ دنوں ہاسپٹل پہنچ چکے تھے۔ بابا جان ہاتھ تھامے اور ددا جانی آنسو صاف کرتے انہیں تسلیاں دے رہے تھے۔ اور یہی وقت تھا جب شاہد زبیری نے اپنی اصل پریشانی بیان کی۔

”میں اپنی بیماری کا سن کر پریشان نہیں ہوں شبیر۔۔مجھے تو بس سیحان کی فکر ہے، تم تو جانتے ہو وہ کتنا ریزروڈ نیچر کا ہے، بس اس کی کتابیں ہیں اور اس کی جاب ہے۔۔

اس کا میرے علاوہ کوئی نہیں ہے، اس کی پھوپھو اپنے گھر بار میں مصروف ہے اور میں سیحان کی شادی اپنی زندگی میں ہی کروا دینا چاہتا ہوں ورنہ میرے بعد کوئی بعید نہیں وہ کتابوں کا ہو کر رہ جائے گا۔۔“ اس بات پر نا جانے بابا اور ددا جانی نے کیا جواب دیا تھا۔ بہرحال دا جان نے اپنی پریشانی کے ساتھ ہی اپنے ہونہار پوتے سیحان زبیری کے لیے نمیرہ کا نام لے لیا۔

”تمہاری خواہش سر آنکھوں پر شاہد۔۔ سیحان میرا بھی بچہ ہے، مجھے تو کوئی انکار نہیں۔۔“

شبیر نیازی صاحب تو از حد خوش ہو گئے۔

سیحان زبیری وہ لڑکا تھا جو انہیں شروع سے پسند تھا اور وہ ہر وقت اس کی تعریفیں کرتے رہتے تھے۔

”تم کیا کہتے ہو سفیر۔۔؟“ ددا جانی دوست کو مطمئین کرتے ہوئے بابا کی طرف مڑے۔۔

گویا اشارہ دیا ہو آگے ہو کر ایک دو ڈائیلاگ ہی گھسیٹ دو بیٹے، منہ لٹکائے سن رہے ہو صرف۔۔۔

اور بابا کو تو موقع چاہیے تھا۔

”اسے فرزندی میں لینا تو میری خوش نصیبی ہو گی چچا جان۔۔ بڑا پیارا بچہ ہے سیحان۔۔“ بابا نے کچھ ایسی فرماں برداری دکھائی کہ ددا جانی نے گردن اکڑا کر اپنے دوست کی طرف دیکھا اور داداجان نے جذبات سے کپکپاتے ہاتھ بابا کے سر پر رکھ دئیے۔

گویا رشتے پر مہر لگائی جا چکی تھی۔ بات طے ہوئی۔

”شکریہ شبیر یار۔۔ شکریہ سفیر بیٹے۔۔ اب بس مجھ پر ایک اور احسان کر دو اور میری امانت جلد مجھے دے دو، میری زندگی۔۔۔ کا۔۔۔ کچھ پتہ۔۔ نہیں۔۔ میں۔۔۔“

اٹک اٹک کر بولتے ہوئے پھر جو کھانسی کا دورہ لگا تو ددا جانی نے پانی پلاتے ہوئے اسی وقت نکاح کا حکم دے دیا۔

”سفیر۔۔ تم ابھی اور اسی وقت کبیر (نمیرہ کے تایا جانی) کو کال کر کے کہو کہ مولوی صاحب کو لے کر ہاسپٹل پہنچے اور۔۔۔“ ددا جانی نے بابا کو سمجھاتے ہوئے بیمار دوست کی طرف دیکھا جو اب کھانسی تو کیا شاید سانس بھی روک کر سب سن رہے تھے۔

”نہیں شبیر۔۔ سیحان ابھی آنے والا ہے، میں اسے سمجھا دیتا ہوں۔ وہ اپنی پھوپھو کو ساتھ لے لے گا، بچی کو یہاں لانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔

اسے تنگ نہ کرو۔۔ نکاح وہیں گھر پر ہو جائے گا۔۔ “

وہ نحیف آواز میں بولے تھے۔

”اور تم؟ شاہد تمہاری غیر موجودگی میں کیسے۔۔“

ددا جانی نے پریشانی سے انہیں دیکھا۔

”میں مل لوں گا بعد میں۔۔ بلکہ جب گھر جاؤں گا تو جی بھر کر مل بھی لوں گا اور خدمت بھی کرواؤں گا۔۔“ وہ معصوم صورت بنائے خاصے لاڈلے انداز میں بولے تھے اور حد تو یہ کر دی کہ رخصتی کا بھی کہہ دیا اور بھولے ددا اور بابا کو نمیرہ کے بقول ان کی چالاکی بھی نظر نہیں آئی۔

البتہ وہ دونوں رخصتی کی بات پر تھوڑے متذبذب ہوئے تھے۔ اور محترم شاہد زبیری نے اس کا حل بھی ڈھونڈ لیا۔

”دراصل شبیر، میری زندگی کا کچھ پتہ نہیں اور سیحان۔۔۔“ بات کے دوران ہی ان کی آنکھوں میں پانی کی ندیاں جمع ہو گئیں۔

اور یہ آنسو۔۔ تابوت میں آخیر کیل کی مانند تھے۔

سب آناً فاناً ہوا، نمیرہ سے پوچھتے وقت بلکہ نہیں۔۔ نمیرہ کو بتاتے وقت بھی نم آنکھوں سے دادا شاہد کی بے بسی، بیماری، التجا، محبت اور مان کا بڑے ادب سے اور محبت کے ساتھ ذکر کیا جا رہا تھا۔

”شاہد بہت محبت کرنے والا شخص ہے وہ اپنے پوتے کے لیے بہت پریشان تھا۔۔“۔ شاید نمیرہ کو سنوایا جا رہا تھا اور اس کا جی چاہ رہا تھا کہ دا جان کا پوتا محترم اس کے سامنے آئے تو وہ اس کے بال کھینچ لے پر۔۔۔۔۔۔ بہر حال نمیرہ کا نکاح ہوا اور رخصتی کی پریشانی اس نے خود حل کر دی تھی۔۔

اور رخصتی سے پہلے نمیرہ کے سرد پڑتے وجود کو بھینچ بھینچ کر گلے سے لگاتی حیران، پریشان کزنیں، بہنیں، ممانیاں اور تائی وغیرہ سب بہت خاموش تھیں۔

کوئی نہیں جانتا تھا کہ کیسے تسلی دی جائے۔

موقع ایسا تھا کہ حواس باختگی میں نا چھیڑ چھاڑ یاد تھی نا ہی نصیحت نا کوئی دعا۔۔۔!

مریم بیگم کتنی دیر نمیرہ کو سینے سے لگائے روتی رہیں، پھر ددا نے گلے سے لگا کر ہزار بار کی دہرائی درخواست کو پھر سے دوہرایا۔

”اس جلد بازی کے لیے ہمیں معاف کر دینا۔۔ ان دو بے چارے افراد کو خوش رکھنے کی کوشش کرنا نمیرہ۔۔ سدا خوش رہو میری گڑیا۔۔“

”شکر ہے میرے لیے بھی کوئی دعا کی ورنہ مجھے کو لگا اب بھی انہی پیاروں کی فکر ستا رہی ہے۔“

نمیرہ نے جاتے جاتے بھی ددا جانے کے سامنے زبان چلانے سے گریز نہیں کیا تھا جس پر وہ صرف اسے گھور کر رہ گئے تھے۔

بابا اور تایا نے بھی باری باری گلے سے لگایا اور پھر نمیرہ کے وجود کو گاڑی میں پھینک کر پیچھے ہو گئے اور سیحان زبیری کی پھوپھو ندا خان نے اپنے شکنجوں میں ایسا جکڑا کہ نمیرہ زبیری ہاؤس جاتے تک گھٹی گھٹی آواز میں روتی رہی۔

عفیرہ کا جہیز نمیرہ کو دے دیا گیا تھا۔ بقول تائی جان کے جبران کبیر کا روم اب نئے سرے سے سیٹ کیا گیا تھا اس لیے اسے فرنیچر کی ضرورت بھی نا تھی۔

بہرحال کپڑے نہیں لیے تھے کیوں کہ عفیرہ اس سے لمبی تھی۔

••••••••••••

زبیری ہاؤس میں نمیرہ کا استقبال کرنے والا سیحان زبیری کی پھوپھی ذاد بہنوں اور ان کی چند کزنوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔۔

شاہد زبیری کا صرف ایک ہی بیٹا اور صرف ایک بیٹی تھی۔ بیٹا خیام زبیری کالج میں انگلش پروفیسر تھا اور پھر اس کی شادی بھی اپنے جیسی انگلش لیکچرار ثمینہ نامی لڑکی سے ہو گئی۔۔

ان دونوں کا ایک اکلوتا بیٹا تھا سیحان زبیری۔۔

وہ بلا کا ذہین مگر خاموش طبع نوجوان تھا۔ پڑھائی میں اچھا تھا بلکہ کتابی کیڑا ہی تھا۔ خیام زبیری اور ثمینہ کی زندگی بہت کم تھی۔ وہ جلد ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔

سیحان زبیری پہلے ہی کم بولنے والا تھا مگر ماں باپ کی موت کے بعد اور بھی ذیادہ خاموش رہنے لگا تھا یوں جیسے خود کو ایک خول میں بند کر لیا ہو۔

شاہد زبیری کی بیماری اور ہر وقت کی پریشانی کی بڑی وجہ صرف ان کا پوتا سیحان تھا۔

”سیحان ٹھیک سے کھایا کرو۔۔

سیحان ہر وقت بھی کتابیں پڑھنا صحیح نہیں ہوتا۔۔

کبھی آؤٹنگ بھی کر لیا کرو سیحان۔۔۔

سیحان ہنسا بولا کرو۔۔ سیحان کبھی ٹی۔وی بھی دیکھا کرو۔۔

سیحان خود کو اتنا مصروف رکھتے ہو بیمار پڑ جاؤ گے۔۔

سیحان اپنی ڈریسنگ پر بھی توجہ دیا کرو کبھی۔۔۔

سیحان اپنی ذات سے لاپروائی اچھی نہیں ہوتی۔۔“

ان کی زندگی سیحان اور اس کی فکر کے گرد گھومتی تھی۔ ہر وقت سیحان کو ٹوکنا ان کی مجبوری بن گئی تھی اور سیحان زبیری۔۔؟

وہ ہر بات کے جواب میں مسکرا کر کہتا

”ایم او۔کے دا جان۔۔ ڈونٹ وری۔۔ ریلیکس۔۔“

اور بس۔۔۔! جیسے وہ دادا کی نہیں مانتا تھا دادا بھی اسی کا دادا تھا، نہ ریلیکس ہوتا نا ڈونٹ وری سنتا۔

وہ دونوں ہی ایک دوسرے کی کمزوری تھے۔

اس اچانک شادی پر جہاں وہ جی بھر کر جھنجھلایا تھا وہیں پھوپھی بھی خفا ہوئی تھیں۔

”کیوں ابا جان، سیحان کے لیے میری بیٹیاں نظر نہیں آئیں جو ایک غیر لڑکی کا ہاتھ جا کر مانگ لیا؟“

ابا جی نے بیٹی کے شکوہ پر خاموشی سے آنکھیں بند کر لیں اور پھر جب کھولیں تو یوں ظاہر کیا جیسے کچھ سنا ہی نا ہو، کیا کہا؟ کچھ کہا تھا کیا۔۔؟؟

رہی بات سیحان زبیری کی اکلوتی پھوپھو کی تو ان کی بیٹیاں تو تین سیحان کے لائق تھیں مگر ان کا مزاج اور طبیعت کسی طور پر بھی سیحان کے لائق نا تھی۔۔

نہایت منہ پھٹ، بولڈ اور تمیز سے عاری، وہ نا شاہد زبیری کو قبول تھیں اور نا ہی سیحان زبیری کو۔۔۔

سیحان تو خیر ذیادہ تر مصروف ہی رہتا تھا، صبح آفس جاتا تو شام کو لوٹتا تھا۔

کچھ وقت دادا کو دیتا اور اس کے بعد۔۔

کتابیں ہوتیں اور دنیا سے بےزار سیحان زبیری۔۔۔

اس کے پاس دنیا جہاں کی کتابیں تھیں۔۔۔۔!

••••••••••••

نمیرہ سیحان کے کمرے میں پہنچی تو پہلی بار کھل کر روئی تھی اتنا کہ بس!

حیرت تو یہ تھی کہ نمیرہ کو اس طرح اچانک، بے رونق طریقے سے۔۔ اور ایک ایسے شخص سے، جس کا آج سے پہلے صرف نام ہی جانتی تھی، اس سے شادی ہونے پر اتنا رونا نہیں آیا تھا جتنا اپنے خوابوں کے پورا نا ہونے کا سوچ کر وہ روئی تھی۔

یہاں کچھ بھی اس کے خوابوں جیسا نا تھا سوائے سیحان زبیری کی شکل کے۔۔

وہ خوب صورت تھا اور بقول سنیعہ کے ہی از رئیلی wizard (ساحر)۔۔۔۔

پر وہ امیر نہ تھا، وہ اتنا پڑھا لکھا بھی نہ تھا اور اس کی جاب بھی معمولی سی تھی۔ نمیرہ جو اپنے سے بھی بڑے اور اونچے خاندان کے جواب دیکھا کرتی تھی۔ سیحان زبیری تو ان کے برابر کا بھی نہیں تھا۔

عام سا انسان تھا اور عام سا گھر تھا۔

نمیرہ پر تو اس کا پہلا امپریشن بھی خاص نہیں پڑا تھا۔ بد رنگ جینز پر گرے شرٹ، جس کے بازو کہنیوں تک فولڈ کیے ہوئے تھے، پیشانی پر سیاہ بال بے ترتیب پھیلے ہوئے، گندمی سنہری رنگت، مغرور کھڑی ناک پر چمکتی شہد رنگ آنکھیں اور چہرے پر بلا کی سنجیدگی۔۔

ویسے تو وہ عام حلیے میں بھی غضب کا لگ رہا تھا پر وہ ویل ڈریسڈ نا تھا۔ وہ شوخ ،شرارتی سا بالکل بھی نہیں تھا۔ اور صاف ظاہر تھا کہ اپنی جھنجھلاہٹ پر بمشکل قابو کیے وہ خود کو نارمل ظاہر کر رہا تھا۔

کچھ بھی تو نمیرہ کے خوابوں جیسا نا تھا۔

اور اسی چیز کا صدمہ نمیرہ کو کھائے جا رہا تھا۔

بہرحال نمیرہ نے روتے ہوئے اردگرد دیکھ کر کمرے کا جائزہ ضرور لیا۔

فرنیچر کافی پرانا تھا لیکن خاصی بہتر حالت میں تھا، کافی سادگی سے کمرے کی سیٹنگ کی ہوئی تھی۔

مگر نمیرہ جیسی رنگین مزاج لڑکی کو یہ بات بہت اٹک رہی تھی۔

اور جب نمیرہ رونے کا پروگرام پورا کر کے کمرے کا جائزہ بھی لے چکی، جمائیاں لیتی وہ خود کو سونے سے روک رہی تھی تب کافی وقت بعد کہیں جا کر مسٹر سیحان زبیری کمرے میں تشریف لایا اور سیدھا اپنی الماری کی طرف بڑھ گیا۔

نمیرہ سب بھلائے اس کے سنجیدہ چہرے کو گھورنے لگی۔ وہ کرتا شلوار اٹھا کر نمیرہ کی طرف متوجہ ہوا۔

نمیرہ نے پھرتی سے اپنی نظروں کا زاویہ پھیر لیا۔ اس نے کافی گہری نظروں سے نمیرہ کو دیکھا۔

”مجھے تو کہا گیا تھا کہ لڑکی جیسی بھی تیاری میں تھی بس اسے نکاح کے لیے بٹھا دیا ہے مگر تمہاری تیاری تو کسی دلہن سے کم نہیں ہے۔۔“

وہ حیرانگی سے بولا اور کافی حد تک سچ بھی کہہ رہا تھا ایک تو نمیرہ کا لہنگا فل بھرا ہوا تھا اور پھر اس نے کافی بھاری جیولری پہنی تھی اور فل میک اپ بھی کیا ہوا تھا۔

”آج میری بہن کی مہندی تھی جب مجھے خدمت خلق کے لیے پکڑ کر بٹھایا گیا تھا۔۔۔“ نمیرہ نے اپنی تیاری کی وجہ بتاتے ہوئے تاک کر نشانہ لگایا۔

اس نے آنکھین پھیلا کر اس من موہنی صورت کی تیز زبان ملاحظہ کی اور پھر اثبات میں سر ہلا گیا۔

”مجھے ابھی دا جان کے پاس جانا ہوگا ہاسپٹل۔۔“

اس نے نمیرہ کو دیکھتے ہوئے زرا رک کر بتایا۔

(تو جاؤ میری بلا سے۔۔ مجھے کون سا فرق پڑے گا۔۔)

نمیرہ نے جل کر سوچا۔

”آئی نو تم بھی ڈسٹرب ہوگی کافی۔۔ میری غیر موجودگی میں ریلیکس فیل کرو گی۔

سو پلیز ریسٹ کرو اور اپنی آنکھوں اور زبان کو بھی تھوڑا ریسٹ کرنے دو۔۔“ اس نے نمیرہ کی چلتی زبان اور بار بار گھورنے پر مخلصانہ مشورہ دیا۔

”ظاہر ہے آگے بھی بہت کام لینا ہے ان سے۔۔“ وہ بڑبڑا کر رخ موڑ گئی۔ سیحان نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر خاموشی سے پلٹ کر کمرے سے نکل گیا۔

“گھنا، میسنا۔۔ یہ بےچارہ ہے؟ اسے شریف کہتے ہیں؟

میرے باپ دادا نے تو بس دشمنی نکالنی تھی مجھ سے۔۔“ وہ اس کے جاتے ہی مٹھیاں بھینچ کر بولی اور کشن اٹھا کر دروازے کی جانب دے مارا۔

جسے کمرے میں واپس آتے سیحان نے بروقت کیچ کیا تھا۔ نمیرہ گڑبڑا کر سیدھی ہوئی۔

”اور پلیز۔۔ میری الماری کو فی الحال مت چھیڑنا۔۔ میں اپنا سامان خود نکال کر سیٹ کروں گا پھر یوز کر لینا۔۔ میری کچھ ضروری چیزیں ہیں جو یہاں وہاں ہو گئیں تو بہت مسئلہ ہو جائے گا۔“

وہ کشن ایک طرف رکھتے ہوئے سادہ سے لہجے میں بولا اور نمیرہ کا جواب لیے بنا وہاں سے چلا گیا۔

نمیرہ نے گردن موڑ کر کمرے کے ایک کونے میں بنی لکڑی کی بڑی الماری کو گھورا۔

”جی ہاں بل گیٹس رہتا ہے اس کمرے میں اور اس الماری میں اس کا ضروری سامان رکھا ہو گا۔۔

نہایت تنگ دل انسان ہے یہ تو۔۔ توبہ اللہ۔۔“

نمیرہ نے گہری سانس لی اور بھاری جیولری اتارنے لگی۔ ایک بار پھر اس کو رونا آیا تھا۔

”وہاں پر فنگشن ہو رہا ہو گا اور میں یہاں پر اکیلی بیٹھی ہوں، اچھا ہے میرے ساتھ۔۔ ددا جانی سے ضد لگانے چلی تھی۔۔ بھول گئی تھی وہ چنگیز خان کے بچھڑے ہوئے بھائی ہیں۔ یا اللہ ایسا دادا کسی دشمن کو بھی نا دینا۔۔“ وہ غصے سے بڑبڑاتی جا رہی تھی۔

سب کو مجبور کر کے اپنی رخصتی کروا تو لی تھی مگر اب خود بھی افسردہ تھی۔

باہر ہاسپٹل کے لیے نکلتے سیحان نے ایک بار رک کر اپنے کمرے کی جانب دیکھا تھا۔

”یہ معصوم بچی ہے؟ کم آن دا جان۔۔ آپ نے بہت دھوکے دئیے مجھے مگر اس کا لیول الگ تھا۔۔“

وہ نفی میں سر ہلاتا تاسف سے بڑبڑا رہا تھا۔

اور جب ہاسپٹل پہنچ کر اس نے یہی گلہ اپنے دا جان سے کیا تو انہوں نے اپنا پرانا ہتھیار آزمایا۔۔

یعنی آنکھیں بند کر لیں اور ساتھ میں کان بھی۔۔

سیحان سرد آہ بھر کر انہیں خفگی سے دیکھنے لگا۔۔

وہ تو پہلے ہی اس کو بلیک میل کر کے کام نکلواتے رہتے تھے پھر اب تو بیماری یافتہ ہو چکے تھے۔۔

اب تو وہ صرف ٹھنڈی آہ بھر کر سب منوا لیتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *