Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Or Haqiqat (Episode 05)

Khuwab Or Haqiqat by Yaman Eva

نمیرہ نے کمرے میں جھانکا تو وہ توقع کے مطابق ٹیبل پر بکس پھیلائے مصروف بیٹھا تھا۔

”آپ نے کھانا نہیں کھایا، کیوں؟“ وہ کمرے میں قدم رکھتی آہستگی سے پوچھنے لگی۔

”ہوں؟“ ٹیبل پر کتابیں رکھتا وہ چونکا۔

”نہیں! تم نے کھا لیا؟“ چیٸر گھسیٹ کر ٹیبل کے قریب رکھتے ہوئے اس نے غائب دماغی سے اس کا جملہ سنا اور جواب کے ساتھ ہی سوال بھی کیا۔

”ہاں میں نے کھا لیا۔۔ میں نے آپ سے پوچھا، کھانا کیوں نہیں کھایا؟“ نمیرہ نے پھر سے سوال دہرایا۔

”اممم۔۔۔ ! ایکچوئیلی میں بزی ہوں تھوڑا۔۔“

مصروفیت سے بولتا وہ کچھ لکھنے میں مصروف تھا۔

”مجھے لگا بھوک نہیں ہو گی، باہر سے کھا آئے ہوں گے مگر آپ تو۔۔۔ افف ایسی بھی کیا مصروفيت کہ آپ کھانا ہی چھوڑ دیں۔۔ حد ہوتی ہے۔“

نمیرہ پیر پٹختی باہر نکلی۔ سیحان نے ٹھٹک کر اسے بڑبڑا کر جاتے دیکھا اور مسکرا کر سر جھٹکتا پھر سے مصروف ہو گیا۔۔

وہ سیدھا کچن میں پہنچی۔ کھانا گرم کیا اور ڈال کر کمرے کی طرف واپس آئی۔ ابھی وہ دروازہ کھولنے ہی والی تھی کہ اس کے کانوں میں آواز پڑی۔

”ہاں! وہ ٹھیک ہے، تم کیسی ہو۔۔؟؟ نہیں ابھی آفس سے لوٹا ہوں آج وہاں بھی کام ذیادہ تھا۔۔۔۔ کون نمیرہ؟نہیں وہ نہیں جانتی۔۔“ اس کی بات پر نمیرہ کے کان کھڑے ہوئے۔ ایسا کیا تھا جو وہ نہیں جانتی تھی؟

”اس نے پوچھا نہیں، میں نے بتایا نہیں۔۔“

وہ کندھے اچکا کر بول رہا تھا۔ نمیرہ رک گئی۔

(اس نے پوچھا نہیں کہ تم کسی کو پسند کرتے ہو؟ میں نے بتایا نہیں۔۔) نمیرہ نے اس کی بات کو اپنے طرز سے سوچا تھا اور خود ہی اداس ہوئی۔

”یہ ایسی ضروری بات بھی نہیں ہے، وقت آنے پر خود ہی جان جائے گی۔۔“ وہ لاپرواہ انداز میں بولا تو نمیرہ کی بے چینی حد سے بڑھنے لگی۔

وقت سے اس کی مراد دوسری شادی تو نہیں؟

کیا وہ جلد از جلد شادی کر رہا تھا۔۔۔

”نہیں، وہ شکایت کیوں کرے گی؟ نمیرہ سمپل سی لڑکی ہے۔ آئی تھنک اس کو فرق نہیں پڑتا میں کچھ بھی کروں۔۔“ وہ کتنے سکون سے بول رہا تھا۔۔

نمیرہ نے لب بھینچے۔ صحیح ہی تو کہہ رہا تھا۔۔

جس طرح اچانک ان کی شادی ہوئی تھی، اس میں اسے کچھ بھی بولنے کا موقع کب ملا ہو گا؟ اور میں بھلا شکایت۔۔۔ کیسے۔۔۔ کروں گی؟

اس کی آنکھوں میں نمی کی چادر دھیرے دھیرے پھیلنے لگی تھی۔ وہ پیچھے ہونے لگی مگر پھر کچھ سوچ کر اپنے قدم وہیں روک گئی۔

اگر اس کی اچانک شادی ہوئی تھی تو نمیرہ کی بھی اچانک شادی ہوئی تھی۔ وہ بھی اسی کے داد جان کے کہنے پر بلکہ بیماری کا ڈرامہ کرنے پر۔۔

تو وہ کیوں نہیں کر سکتی اس سے شکایت؟

اسے اپنے دادا جان سے اصل بات کہنی چاہئیے تھی اور اگر نہیں کہہ سکا تو اب ایڈجسٹ کرنا چاہیے تھا ناں اسے؟ بالکل ویسے جیسے وہ کر رہی تھی۔۔

”اب آگے بڑھو اور اسے جتا دو کہ تم نے اس کے سب اعمال سن لیے۔۔“ دل نے ہمدردی جتائی تھی۔ وہ خود کو کمپوز کر کے کمرے میں داخل ہوئی۔۔

”او۔کے بائے۔۔“ نمیرہ کو دیکھ کر اس نے کال کاٹ دی۔

نمیرہ نے بمشکل خود کو کچھ بھی کہنے سے باز رکھا۔

”اوہ! میں نے کہا تھا ناں کہ میں نے نہیں کھانا۔۔“

وہ کھانے کی ٹرے دیکھ کر شگفتگی سے بولا۔

”آپ نے تو یہ بھی کہا تھا کہ آپ بہت بزی ہیں۔۔“

نمیرہ نے چبھتے ہوئے لہجے میں کہا تو اس نے ٹھٹھک کر نمیرہ کی طرف دیکھا۔

”مگر آپ کتنے بزی تھے، مجھے سمجھ آ رہی ہے۔۔“

نمیرہ نا چاہتے ہوئے بھی تلخ ہوئی تھی۔

”کیا بات ہے؟ کیا کہنا چاہ رہی ہو۔۔؟“

وہ سنبھل کر بولا اور اپنی نظریں نمیرہ پر گاڑھ دیں پر آج وہ اس کی نظروں سے نروس نہیں ہوئی تھی۔

البتہ اپنی آنکھوں کو بھیگنے سے نہیں روک پائی تھی۔

”واٹ ہیپنڈ نمیرہ؟ آر یو او۔کے؟ اب کیا غلطی ہو گئی مجھ سے۔۔“ اس نے نمیرہ کا ہاتھ پکڑ کر نرمی سے دوسری کرسی پر اسے بٹھاتے ہوئے سوال کیا۔

”کیا آپ دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں؟ میں جانتی ہوں جن حالات میں ہماری شادی ہوئی آپ سے دا جان نے آپ کی پسند نہیں پوچھی ہو گی۔۔

مجھے پتا ہے آپ اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتے ہیں۔“

نمیرہ کے گلے میں آنسوؤں کا گولہ اٹکنے لگا۔

اپنی قسمت پر رونا آ رہا تھا۔ خوابوں کے برعکس نصیب پایا تھا، اب اپنے شوہر سے محبت ہوئی تو وہ کسی اور کو پسند کرتا تھا۔۔

وہ اتنی کم تر تو نہیں تھی کہ اسے نظرانداز کیا جاتا۔۔

وہ خود سب سوچ کر خود ہر بات طے کر رہی تھی۔

سیحان ہکا بکا سا نمیرہ کو دیکھنے لگا۔

”اوہ! تم تو واقعی پاگل ہو نمیرہ۔۔“ اس نے سر جھٹکا اور پھر مسکرا کر نمیرہ کو دیکھتا کھانا کھانے لگا۔

اور نمیرہ کو غصہ آنے لگا۔ کتنا معصوم بن رہا ہے؟ کتنی تیزی سے خود کو سنبھال لیا اس نے۔۔۔!

”دیکھو! آج کل کتنی مہنگائی ہے۔۔ میں غریب سا بندہ ہوں، میری کل جائیداد یہ گھر اور یہ کتابیں ہیں۔۔

میری سیلری بھی زیادہ نہیں ہے، ایسے میں کہاں سے افورڈ کر سکتا ہوں دو دو بیویاں؟“

نہایت شگفتہ لہجے میں کہتا وہ آخر میں معصومیت سے نمیرہ کو دیکھنے لگا۔ مگر نمیرہ تو مسکرا بھی نہیں سکی تھی۔ منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔

(تو یہ وجہ ہے کہ تم مجھے طلاق نہیں دے سکتے سیحان زبیری؟)

محبت میں شک آئے اور دل ایک بار الٹ جائے تو اسے سیدھا کرنا اتنا آسان کب ہوتا ہے۔۔؟

•••••••••••••

اس روز کے بعد سے سیحان زبیری بہت مصروف رہنے لگا تھا اور نمیرہ اس کی باتیں یاد کر کر کے خود کو جتنا سمجھانے کی کوشش کرتی رہی مگر اس کی طبیعت اداس سے اداس تر ہوتی گئی۔

تھک کر اس نے سیحان اور دا جان سے اجازت لے کر دو دن میکہ میں گزارے۔ عبیرہ اور یزدان کی شرارت بھری لڑائیاں اور میران کی چھیڑ چھاڑ نے نمیرہ کی طبیعت کافی حد تک سنبھال لی تھی۔

دوسرے دن صبح کے وقت نمیرہ اپنی ماں کے ساتھ سبزی کاٹتی دنیا جہان کی باتیں کر رہی تھی۔

”عفیرہ خوش ہے اپنے گھر میں؟“ نمیرہ نے سوال کیا۔

”ہاں! بہت ذیادہ۔۔ بھابھی مجھ سے بھی ذیادہ پیار کرتی ہیں اسے۔۔ اس گھر میں بھی پیار مل رہا ہے۔

یزدان اور عبیرہ بھی روزانہ شام کو وہاں جاتے ہیں، خود بھی ہر دوسرے دن یہاں آ جاتی ہے ہم سے ملنے کے لیے۔۔ مطمئن ہے شکر اللہ کا۔۔“

خوشی اور جوش سے بولتے بولتے ان کی نظر نمیرہ کے سنجيدہ چہرے پر پڑی تو چپ سی ہو گئیں۔

اور کچھ کچھ پریشان بھی۔۔ نمیرہ کی طرف سے لاکھ پوچھنے کے باوجود بھی گھر والوں کو جواب نہیں مل رہا تھا کہ وہ سچ میں خوش ہے یا نہیں۔۔۔۔!

”ہاں شکر ہے۔۔ وہ سب عفیرہ کو ملا جو ہر لڑکی چاہتی ہے، خوش نصیب ہے۔۔ اللہ خوش رکھے۔۔۔“

نمیرہ نے کب توقف کے بعد بولتے ہوئے نے دل سے دعا دی۔ اس کا دل بھر آیا تھا۔ عفیرہ خوش تھی اسے چاہ ملی، محبت اور مان ملا۔۔ اور وہ خود۔۔۔؟

ان چاہے نکاح کے بعد یک طرفہ محبت کر بیٹھی تھی۔۔

اپنی زندگی کا عفیرہ کی زندگی سے موازنہ کر کے خود ترسی کا شکار ہوتی وہ لب بھینچے خود کو رونے سے روک رہی تھی۔

”تم خوش ہو ناں نمیرہ۔۔؟ سیحان بہت پیارا اور اچھا لڑکا ہے، شاہد چچا بھی۔۔ تمہارا خیال تو رکھتے ہوں گے وہ لوگ؟ بتاؤ نمیرہ تم بھی خوش ہو ناں؟“

اس کی ماں نے پریشانی سے پوچھا وہ ان کے لہجے میں خوف صاف محسوس کر رہی تھی۔

ددا جان کی کھوجتی نظریں اور بابا کا یک ٹک دیکھنا بھی پہلے روز سے محسوس کر رہی تھی۔

وہ جان گئی وہ لوگ جذباتی پن میں اپنا فیصلہ اس پر تھوپ کر اب گھبرا رہے تھے۔ انہیں ڈر تھا وہ خوش نہیں ہو گی یا اب بھی ایڈجسٹ نہیں کر پا رہی۔

ان کا ڈر غلط تھا مگر فی الحال نمیرہ کے لیے دنیا کا مشکل ترین کام ان دونوں کے حق میں بولنا تھا۔۔

وہ ایڈجسٹ کر گئی تھی مگر اس کا شوہر اس سے لاپرواہ تھا۔ ان کا تعلق اب بھی اجنبی تھا۔۔

وہ ایک کمرے میں سوتے تک نہیں تھے اس کے بعد کیا تسلی دیتی سب کو جب اسے ہی تسلی نہیں تھی۔۔۔

نجانے وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جو خود کو کمپوز کر لیتے ہیں، بول لیتے ہیں حتیٰ کہ روتے دل کے ساتھ مسکرا بھی لیتے ہیں۔۔ نمیرہ کے لیے یہ سب بالکل آسان نہیں تھا۔ اس کی خاموشی پر ماں رونے لگیں۔

”میرا کوئی قصور نہیں نمیرہ۔۔ میں نے تو تمہارے بابا کو سمجھانے کی بہت کوشش کی تھی۔۔

میں نے بہت کہا کہ ہمدردی میں اپنی بیٹی کو قربان مت کریں، پر انہوں نے نہیں سنا۔۔ میں اب بھی لڑتی ہوں ان سے۔۔ تمہیں عیش بھری زندگی دے کر ایسے گھر میں دے دیا جہاں کمانے والا ایک ہے اور وہ ایک بھی بہت کم کماتا ہے۔۔

مجھے یہی ڈر تھا کہ تم ساری زندگی کا روگ پال لو گی نمیرہ۔۔ تم بہت پیارا ہنستی بولتی تھیں، یوں اس طرح ہمیں سنجیدگی کی مار مت مارو نمیرہ۔۔

جو گلہ شکوہ ہے ہم سے، کرو۔۔ مگر خوش تو رہو۔۔“

وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔

نمیرہ سر جھکائے لب کاٹی رہی۔۔ اگر اپنے آنسوؤں کو بہنے دیتی تو ان کے خدشے سچ ثابت ہوتے تھے، خاموش رہتی تب بھی ان کی تکلیف بڑھتی تھی۔

”سیحان زبیری تو بہت اچھا لڑکا ہے نمیرہ۔۔

احترام اور نرمی سے پیش آنے والا۔۔ کیا اس کا رویہ تم سے خراب ہے؟ میں تو اسے دیکھ کر کچھ مطمئن ہو گئی تھی۔۔ لیکن۔۔ ظاہر ہے اکثر ہم جو سمجھتے یا چاہتے ہیں ویسا نہیں ہوتا۔۔۔ بولو نا کچھ تو نمیرہ۔۔“ وہ خود سوال کرتیں،احساسات بتاتیں، خدشات بتاتیں اور پھر خود ہی جواب دے کر رونے لگتیں۔

وہ ڈری ہوئی تھیں نمیرہ کے نصیب سے۔۔ نمیرہ بھی ڈری ہوئی تھی اپنے مستقبل سے۔۔

”آپ نے جیسا سمجھا تھا، وہ ویسا ہی ہے۔۔

وہ بہت اچھا ہے اماں۔۔“ نمیرہ نے خود کو سنبھال ہی لیا تھا۔ بڑی دقتوں سے۔۔ آخر کار۔۔۔

سر شام تائی جان، جبران کبیر، عفیرہ اور میران آ گئے۔ ان کی تھوڑی ہی دیر بعد صفوان کبیر بھی اپنی بیوی منزہ اور بیٹی عشنا سمیت آ گیا۔

نمیرہ سادہ سے لہجے میں تائی جان کے ساتھ یہاں وہاں کی باتیں کر رہی تھی۔ شوخی و شرارت اس کے لب ولہجہ اور انداز سے غائب ہو چکی تھی۔

”تم بہت بورنگ ہوگئی ہو نمیرہ۔۔“ جبران کبیر نے حیرت سے تبصرہ کیا۔ شاید اس کو وہی نمیرہ چاہئیے تھی جو بڑی بے باکی کے ساتھ اس کے جذبات اور عفیرہ کے دل کا حال شئیر کرتی تھی۔

”صرف بورنگ نہیں بلکہ عجیب و غریب بھی۔۔“

میران نے نمیرہ کو گھورا اور وہ جو میران کے ایک ذرا سے تبصرے پر نان سٹاپ اس کی عزت افزائی کرتی تھی اب ایک ہلکی سی مسکراہٹ پر ہی اکتفا کیا۔۔۔!

میران حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھنے لگا۔

”یار آپا۔۔ آپ کیا بن کر آ گئی ہیں۔۔؟“ یزدان چڑ گیا

نمیرہ کا یہ روپ کسی سے ہضم نہیں ہو رہا تھا۔

نمیرہ سب کی فکر مندی اور اپنی ماں کو پھر سے رونے کی تیاری کرتا دیکھ کر سنبھلی۔۔

(اب نہیں۔۔ اب اور نہیں نمیرہ۔۔!)

”کیا بن گئی ہوں؟ کوئی ایلین تو نہیں بن گئی؟

پہلے مجھے لگتا تھا میں بچی ہوں، اب بڑی اور سمجھ دار ہو گئی ہوں بس اتنی سی بات ہے۔۔“

نمیرہ اب کی بار قدرے شرارت سے بولی تھی۔۔

”ایلین نہیں، سنجیدہ بی بی اور کافی بونگی بونگی سی بن گئ ہو۔۔ اور بڑی نہیں بلکہ چہرے سے لگتا ہے جیسے حواس اڑے ہوئے ہیں تمہارے۔۔

چہرے پر چوبیس گھنٹے بارہ ہی بجے رہتے ہیں اور۔۔۔“

میران حسب عادت شروع ہو چکا تھا۔

”تم تو بس ہی کر دو میرو۔۔“ اور نمیرہ کا میرو کہنا ہی اس کو آگ لگا گیا تھا۔ وہ دانت کچکچا گیا۔

سب بڑے ان کو لڑتا چھوڑ کر اپنی باتوں میں مشغول ہو گئے جب میران نے اسے گھورا۔

”تم جیسی بدتمیز، پھوہڑ اور جاہل لڑکی کبھی نہیں سدھر سکتی۔۔“ میران غصے سے بولا۔

”لگتا ہے سنیعہ نے جانے سے پہلے خوب مرچوں والے کریلے کھلائے ہیں اور کھاتے رہنے کی تاکید کر کے گئی ہے۔۔“ نمیرہ اب بھی پر سکون تھی۔

”جی نہیں! البتہ تمہارا سیحان زبیری ضرور تمہیں گھاس چرنے کو دیتا ہے روز۔۔ جانتا ہوں سب۔۔۔ اس لیے تو گھاس چرنے والی گدھی بن گئی ہو تم۔۔“

اس کی بات پر نمیرہ نے گھور کر اسے دیکھا۔

”میرے سیحان زبیری کا نام بھی دوبارہ مت لینا، ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا میران کبیر۔۔

وہ کتنا زبردست انسان ہے تم لنگور کیا جانو۔۔“

نمیرہ نے وارننگ دے کر بے نیازی سے جتایا۔ اس کی بات پر جبران، یزدان اور میران نے خاصا لمبا ”اوووووہ“ کیا تھا۔

”تو یہ معاملہ ہے۔۔“ عبیرہ لوگ چھیڑنے لگے۔

نمیرہ کی نظر ماں کے مسکراتے چہرے پر پڑی تو وہ ہلکی پھلکی ہوگئی۔۔ اس نے کر دکھایا تھا۔۔

اس نے ان لوگوں کے دلوں سے خدشات یقیناً مٹا دئیے تھے۔ اس نے اپنا آپ خوش اور مطمئن ظاہر کر دیا۔۔

اسی رات اچانک سیحان زبیری اسے لینے آ گیا۔

نمیرہ کو اس کی آمد کا سن کر حیرت ہوئی۔ اس کے سامنے گئی تو یک ٹک اس کو دیکھتی چلی گئی تھی۔

اس کے خوب صورت چہرے پر پھیلی تھکن ذدہ مسکراہٹ اسے نہایت ساحر بنا رہی تھی۔ نمیرہ نے ان دو دنوں میں اسے کتنا یاد کیا تھا، وہ خود بھی خود پر حیران ہوتی تھی۔

جانے کے لیے تیار ہوئی تو مریم بیگم نے ڈھیر سارے شاپنگ بیگز اس کو پکڑائے۔ وہ ٹھٹک گئی۔

”یہ سب کیا ہے اماں۔۔ مجھے کچھ نہیں لینا۔“

وہ ہاتھ پیچھے کرتی فوراً انکار کر گئی تھی۔

”پلیز نمیرہ ضد مت کرو ناں! یہ میں نے تمہاری شادی کے بعد اپنی خوشی سے تمہارے لیے خریدا ہے سب۔۔

نجانے کیا سوچ کر تم ہر بار انکار کر دیتی ہو۔۔ یہ ضد کیوں کر رہی ہو، ماں کی نیت پر بھی شک ہے کیا؟“

نمیرہ نے تھک کر ماں کے اداس چہرے کو دیکھا۔ انہوں نے نمیرہ کے لیے شاپنگ کی تھی اور وہ جانتی تھی کہ کتنے مہنگے شوز اور ڈریسز تھے۔۔

ہاں مگر وہ نہیں جان پا رہی تھی کہ وہ کیا سوچ کر انکار کرتی تھی؟ نمیرہ نے ان کی خوشی کی خاطر وہ شاپنگ بیگز پکڑ لیے۔

اور اپنی ماں کا خوشی سے جگمگاتا چہرہ کر ہی شرمندہ ہو گئی۔ وہ انہیں اتنی تکلیف کیوں دیتی رہی؟ وہ تو واقعی بے قصور تھیں، بلکہ کوئی قصور وار نہیں تھا۔۔ نجانے کیوں اس کا دماغ۔۔۔۔ اففف!

”اور یہ سیحان کے لیے میری طرف سے تحفہ ہے۔۔“ انہوں نے خوشی سے، مزید بیگز پکڑائے۔

مہنگے پرفیومز، واچ، ڈریسز، شوز، پینٹ شرٹس۔۔

”یہ سب سامان بہت زیادہ ہے اماں۔۔ کیا وہ لے لے گا؟“

نمیرہ نے اتنا سب کچھ دیکھ کر تذبذب سے کہا۔

ناجانے سیحان زبیری کس مزاج کا تھا۔ وہ تحفے تحائف پسند کرتا تھا یا بوجھ سمجھتا تھا۔ وہ اسے آج تک جان ہی تو نہیں پائی تھی۔

”کیوں نہیں لے گا؟“ ان کا خوف زدہ چہرہ دیکھ کر نمیرہ کو ہنسی آ گئی۔۔ اسے آج سمجھ آئی تھی زرا سی بات پر گھبرا جانے والی عفیرہ کس پر گئی تھی۔

”لاؤ۔۔ میں خود اسے دے دیتی ہوں۔۔ میں بھی اس کی ماں ہوں اور ماں کا تحفہ وہ کیسے ٹھکرا سکتا ہے؟“

وہ بڑی مضبوطی سے بولتے ہوئے شاپر تھامتی کمرے سے باہر نکلیں اور نمیرہ وہیں رک کر خاموش نظروں سے شیشے میں اپنا عکس دیکھنے لگی۔۔۔!

وہ واقعی بدل گئی تھی۔۔ وہ بدل رہی تھی۔۔

•••••••••••

وہ گھر آئی تو سب نئے سرے سے یاد آ گیا۔

”دا جان آپ نے اتنی جلدی شادی کروانے سے پہلے سیحان سے پوچھا تھا؟“ اگلی صبح ناشتہ دے کر نمیرہ نے سرسری لہجہ اپنا کر اچانک پوچھ لیا۔

اس کے سوال پر وہ چونک گئے۔

”کیوں؟ اس نے تم سے کچھ کہا ہے؟“ جواب میں سوال کرتے وہ پریشان نہیں ہوئے البتہ حیران ضرور ہوئے۔

”نہیں تو۔۔ وہ تو کچھ نہیں کہتے۔۔ بلکہ وہ بولتے کب ہیں۔۔“ نمیرہ نے جلدی سے کہا۔

”تو کیا اس کے روئیے میں کچھ غلط محسوس کیا ہے تم نے؟“ وہ اب پوری طرح سے کھوج لگا رہے تھے۔

”بالکل نہیں، ان کا رویہ بھی بہت نائس اور کائنڈ ہے۔۔“ نمیرہ نے پر زور تردید کرتے ہوئے بےساختہ تعریف کی۔

”ہاں! وہ ایسا ہی ہے، لونگ اور کئیرنگ۔۔“

لو جی انہوں نے بڑی چالاکی سے دو اور خاصیتیں بھی گنوا دیں۔ نمیرہ بس مسکرا کر رہ گئی۔

”خیر! وہ تو صحیح ہے مگر تم نے کیوں پوچھا؟“ محبت سے اس کا ذکر کرتے ہوئے وہ اب شاید اسی کو سوچنے میں مگن ہوئے پھر اچانک خیال آنے پر بولے۔

”ایویں!“ نمیرہ نے کندھے اچکائے۔

بات تو کرنی تھی، تمہید کیسے باندھتی۔۔۔

”میں نے سوچا ہوسکتا ہے ان کو کوئی لڑکی پسند ہو اور آپ کے کہنے پر خاموش ہو گئے ہوں بلکہ خاموش ہونا پڑا ہو۔۔ آپ بیمار بھی تو تھے۔۔“

نمیرہ نے لاپرواہ انداز میں بولتے اصل بات نکالی۔

اور وہ غیر متوقع طور پر مسکرانے لگے۔

”آپ مسکرائے کیوں؟ کیا یہ سچ ہے۔۔“ نجانے نمیرہ کے اندر یہ شکی عورت کب پیدا ہوئی تھی۔

”نہیں! تم خوامخواہ شک کر رہی ہو، تم شاید جانتی نہیں ہو، میں صرف دادا نہیں بلکہ اس کے بچپن سے اس کا بہترین دوست اور راز دار بھی ہوں۔۔“

نمیرہ نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا، یہ بات مسکرانے کی بہر حال ناں تھی۔

”اور میں جانتا ہوں وہ کسی کو پسند نہیں کرتا تھا۔

وہ تمہارے ساتھ خوش ہے بہت۔۔ یقین کرو۔۔“

وہ مطمئن تھے اس کی زندگی سے بھی اور اپنے فیصلے پر بھی مگر نمیرہ کو بہت افسوس ہوا۔

یہ اعتبار ،یہ مان بہت جلد ٹوٹنے والا تھا۔۔ تب کیا وہ اس طرح فخر سے کہہ سکیں گے کہ وہ ان کے بہترین راز دار اور دوست تھے؟

نہیں! ہاہ! مجھے افسوس ہوا۔۔ دل نے دکھ سے کہا اور نمیرہ خاموشی سے اٹھ کر کمرے باہر آئی۔

سامنے ہی صوفے پر کتابيں کھولے سیحان زبیری کچھ پڑھنے میں بری طرح مگن تھا۔ نمیرہ نے حیرت سے گھڑی دیکھی، 8 بج رہے تھے اور وہ روزانہ اس وقت آفس جانے کے لیے جلدی میں ہوتا تھا۔

مگر آج یہ سکون۔۔۔! کتابیں اور کتابیں۔۔۔

”لگتا ہے کافی آرام پرست ہو گئے ہیں آپ۔۔“

نمیرہ اس کے سر پر جا پہنچی۔ اس نے سر اٹھا کر نمیرہ کو دیکھا اور پھر سے سر جھٹک کر کتاب میں گم ہو گیا۔۔۔! نمیرہ کا اس ردعمل پر منہ کھل گیا۔

”آپ نے آج آفس نہیں جانا کیا؟“ وہ ہمت کر کے اسے یاد دلانے لگی کہ شاید جانا بھول گیا ہو۔

”نہیں!“ مختصر سا جواب ملا۔

”کیوں؟“ نمیرہ نے سوال کیا۔

”تم بہت دماغ کھاتی ہو۔۔“ یہ کیسا جواب تھا۔۔

نمیرہ نے اسے سنجیدگی سے دیکھا اور افسردہ ہوئی۔

”تنگ آ گئے ناں مجھ سے؟“ کچھ توقف کے بعد اس نے خاصے دکھ سے کہا۔

”کیا اس کا کوئی حل ہے؟“ اس کی توجہ ابھی بھی کتاب پر تھی۔ نمیرہ کا دماغ بھک سے اڑا۔

”ہاں جی حل ہے ناں۔۔ جان چھڑوا لیجئیے مجھ سے۔۔“

نمیرہ نے جل کر کہا۔ پر وہ خاموش رہا۔۔

جیسے نمیرہ نے اس کے دل کی بات چھیڑ دی ہو۔

وہ مزید اس کے قریب جا رکی۔ آج اسے جاننا تھا کہ کیا چیز اسے نمیر کے ساتھ جوڑے ہوئے ہے۔

”آپ شاید بس میرے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں؟

کیا دا جان کی وجہ سے؟ یہی بات ہے ناں؟“

نمیرہ نے روہانسے لہجے میں پوچھا۔ سیحان نے گہرا سانس بھر کر کتاب بند کی۔

”مجھے کس نے روکا ہے طلاق دینے سے؟

میں دے سکتا ہوں۔۔ مگر نہیں دی۔“

وہ نارمل لہجے میں بول رہا تھا۔ نمیرہ نے غصے سے سیحان زبیری کے پر سکون چہرے کو دیکھا۔

(یعنی جس دادا نے بستر پکڑ کر ایموشنل ڈائیلاگ بازی کی اور میرے باپ، دادا نے ہمدردی سے آنسو پونچھتے ہوئے جھٹ پٹ مجھے جہنم میں دھکیل دیا اور دا جان بدستور زندہ بلکہ ہٹے کٹے ہیں، جیسے مرنا ہی بھول گئے۔۔ تو ان کا لحاظ بھی نہیں کریں گے موصوف۔۔)

نمیرہ نے یہ سوچا ضرور تھا پر کہنے کی ہمت نہیں ہو سکی تھی۔ سیحان اس کی گھورتی آنکھیں خود پر محسوس کرتا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔

”اگر میرے بس میں ہوتا ناں تو اس غریب کی اکلوتی جائیداد، یہ گھر اور اس میں موجود ساری کتابيں حق مہر اور طلاق دینے کی صورت میں اپنے نام لکھواتی۔۔

تو پھر میں دیکھتی کیسے طلاق دے سکتے تھے مجھے۔۔“ نمیرہ اس کی خاموشی پر بھڑک گئی۔

اس کی بات سن کر وہ کتابیں پرے دھکیلتا سر اٹھا کر پھر سے اس کو دیکھنے لگا۔

نمیرہ بازو کمر پر رکھے اس کی جھکی اسے گھور رہی تھی۔ وہ اپنے سامنے صوفہ پر جگہ بنا کر اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے سامنے بٹھا گیا۔

نمیرہ چونک کر اسے دیکھنے لگی، اسے لگا وہ مسکرا رہا ہے مگر وہ سنجیدہ تھا۔

کیا وہ غصہ کرنے والا تھا؟ فیصلہ سنانے والا تھا؟

نمیرہ نے پریشانی سے پہلو بدلا اور اپنی تیزگام کی طرح چلتی زبان کو کوسا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *