Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Or Haqiqat by Yaman Eva

”عفیرہ میں تائی جان کے گھر جا رہی ہوں، تم چلو گی؟“ بالوں کو کیچر میں قید کرتے ہوئے نمیرہ نے سامنے بیٹھی عفیرہ سے پوچھا۔۔
”نہیں بھئی مجھے نہیں جانا، تم جاؤ۔۔ جانتی تو ہو اس وقت جبران گھر پر ہوتے ہیں اور۔۔
”اور آپ شہزادی صاحبہ نے ان کے سامنے نا جانے کی قسم کھا لی ہے۔۔“ نمیرہ نے جل کر اس کی شرمیلے لہجے میں کہی جانے والی بات کاٹی۔۔
جواباً اس کا ڈھٹائی سے کندھے اچکانا نمیرہ کو آگ ہی تو لگا گیا تھا، وہ دانت کچکچا کر رہ گئی۔
”مرو تم۔۔ مت کرنا شادی بھی۔۔ یونہی گھونگھٹ ڈالے ساری عمر گزار دینا۔۔“ نمیرہ کو اس کے ساتھ نا جانے پر شدید غصہ آ رہا تھا۔۔
ایسا نہیں تھا کہ نمیرہ اکیلی نہیں جا سکتی تھی یا اس کے تایا کبیر احمد کا گھر دور تھا۔۔
ایک ہی دیوار تھی اپنے گھر سے نکل کر ساتھ ہی ان کے گھر کا گیٹ تھا۔۔ پہلے تو گھر کے درمیان میں راستہ تھا پھر جب وہ بہنیں جوان ہوئیں تو راستہ بند کر دیا گیا کیونکہ تایا جان کے تین جوان بیٹے تھے۔۔
صفوان کبیر، جبران کبیر اور عفیرہ کا ہم عمر میران کبیر۔۔
صفوان کبیر کی شادی تین سال پہلے اپنی خالہ زاد منزہ سے ہو چکی تھی اور ان کی شادی میں ہی جبران کبیر کی ہی فرمائش پر عفیرہ اور ان کا نکاح کر دیا گیا تھا۔
مگر اس نکاح کا صفوان کبیر کو یہ نقصان ہوا تھا کہ شادی تک عفیرہ کو دیکھنے یا ملنے کا چانس ختم ہو گیا تھا۔۔
حالانکہ عفیرہ پر کسی طرف سے کوئی پابندی نہیں لگائی گئی تھی۔ بس وہ خود ضرورت سے زیادہ شرمیلی تھی، اور اسی بات کا نمیرہ کو شدید غصہ تھا۔۔
وہ دھپ دھپ کر کے کبیر صاحب کے گھر پہنچی مگر گھر میں داخل ہوتے ہی نمیرہ کا پہلا سامنا میران سے ہوا تھا۔۔ وہ گنگناتے ہوئے صحن میں کھڑی بائیک دھو رہا تھا۔ اس کے چہرے پر شریر چمک امڈ آئی۔
”کیسے ہو میرو؟“ اس نے شرارت سے پوچھا۔ میران نے اس آواز پر لب بھینچے۔ اسے نمیرہ کا میرو کہنا بہت برا لگتا تھا۔۔
”تم پھر آ گئیں۔۔ کبھی اپنے گھر بھی ٹک کر بیٹھ جایا کرو۔۔“ وہ جل کر بولا اور پھر سے اپنی بائیک دھونے لگا۔۔ نمیرہ کو اس کا یوں چڑنا مزہ دیتا تھا۔۔
”تم مجھ سے اتنا جل کر کیوں بات کرتے ہو۔۔“ نمیرہ نے منہ بسورتے ہوئے معصومیت سے اسے دیکھا۔
”تمہاری صورت ہی ایسی دیکھ کر کسی کا دل ٹھنڈا نہیں ہوتا۔۔“ وہ سنجیدگی سے بولا اور پائپ سے پانی بائیک پر پریشر سے ڈالتے ہوئے دھونے لگا۔۔
”تائی جان کہاں ہیں میرو۔۔“ نمیرہ نے پھر سے چڑایا۔
”دفع ہو جاؤ یہاں سے ورنہ آج اپنی اس لمبی زبان سے محروم ہو جاؤ گی۔۔“ وہ پائپ زمین پر پٹخ کر دھاڑا۔
”میران شرم کرو۔۔ ایسے بات کرتے ہیں؟“
تائی جان شاید اسی کی آواز پر ہی باہر آئی تھیں، اسے گھورتے ہوئے گھرکا۔ وہ جلتا بھنتا اندر چلا گیا۔۔
”کیسی ہیں تائی اماں؟“ نمیرہ نے ان کے ساتھ اندر جاتے ہوئے محبت سے پوچھا۔
”میں ٹھیک ہوں بیٹا۔۔ تم کیسی ہو؟“ وہ اسے اپنے پاس بٹھا کر نرمی سے بولیں۔
”میں بالکل ٹھیک ہوں تائی اماں۔۔“ نمیرہ نے پھیل کر بیٹھتے ہوئے انہیں جواب دیا۔
”گھر میں سب ٹھیک ہیں؟ اور یہ عفیرہ نے تو آنا ہی چھوڑ دیا۔۔ کیا اب کوئی اور رشتہ ہی نہیں رہا ہم سے۔۔“ سوال کرنے کے ساتھ انہوں نے گلہ کر ڈالا اور یہ گلہ نمیرہ ہر بار آ کر سنتی تھی اور نمیرہ کا غصہ عفیرہ پر مزید بڑھ جاتا تھا۔
”آئے گی تائی اماں، شرمانے سے جب فرصت ملے گی تو آ جائے گی کبھی وہ بھی۔۔۔“
نمیرہ نے منہ بنا کر کہا تو تائی جان مسکرانے لگیں۔۔
”اسے تو شرمانے سے کبھی فرصت نہیں ملنی۔۔ امی سے کہتا تو ہوں جلد کوئی انتظام کریں۔۔ تاکہ اس کی شرم کا میں خود کوئی علاج کروں۔۔“
جبران جو اسی وقت وہاں پہنچا تھا، نمیرہ باتوں کا جواب خفگی سے دینے لگا۔۔ اسے ہنسی آئی۔۔
”اچھی خاصی ہنستی بولتی تھی، آپ کو ہی آرام نہیں آیا پکڑ کر نکاح پڑھوا لیا اس سے۔۔“ نمیرہ نے تائی جان کا لحاظ کیے بغیر ٹھک سے جواب دیا تھا۔
نمیرہ کی یہی عادت عفیرہ اور عبیرہ کو سخت نا پسند تھی، عبیرہ تو اکثر کہتی تھی۔
”مجھے لگتا ہے نمیرہ اپنی شادی پر بھی نہیں شرمائے گی۔۔“ اور نمیرہ ہنس کر کندھے اچکا دیتی تھی۔۔
یعنی لگتا تو اسے خود بھی یہی تھا۔۔
”ہاں بہت پچھتاوا ہے مگر اتنا بھی نہیں۔۔ میں ابھی چینج کر کے آتا ہوں۔۔“
جبران نے ہنستے ہوئے شوخی سے جواب دیا اور اپنے کمرے میں چینج کرنے چلا گیا۔
”تائی امی عشنا کہاں ہے۔۔؟“ نمیرہ نے بےچینی سے پوچھا۔۔ عشنا سب سے بڑے صفوان کی دو سالہ بیٹی تھی جو ان دونوں گھرانوں کے لیے ایک دلچسپ کھلونا تھی۔۔
وہ بہت پیاری تھی بلکل گڑیا جیسی اور نمیرہ اسی کے لیے زیاہ تر یہاں آتی تھی۔۔ اور وہ جب سفیر صاحب کے گھر جاتی، میران فوری لینے پہنچ جاتا تھا۔
”اپنی جیسی عادت نا بنا دینا۔۔ ہر وقت دوسروں کے گھر۔۔“ وہ نمیرہ سے چھین کر جتا کر کہتا تھا اور نمیرہ جلتی رہ جاتی تھی۔۔
”وہ منزہ کے بھتیجے کی سالگرہ ہے وہاں گئی ہے۔۔“
تائی جان بتا کر کچن میں چلی گئیں۔ جبران چینج کر کے باہر اسی کے پاس آ بیٹھا۔
وہ اس کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو گئی۔۔
اور زیادہ تر ان دونوں کی باتیں عفیرہ کے گرد ہی گھومتی تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *