Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kanch K Rishtay (Last Episode)

Kanch K Rishtay by Khanzadi

محراب نیند سے بہت پریشانی کی حالت میں جاگا ہاتھ میں فائیل لیے باہر کی طرف جا رہا تھا ،،

بھابھی ،،محراب کہاں جا رہے ہو

میں عشف کو طلاق دینے

وہ یہ کہہ کر نکل گیا ،،،،،،،،،

عشف کے گھر جیسے طلاق پہنچی عشف کو جیسے سکتا ہو گیا

نمرا نے سجاول کو کال کی سجاول مبارک ہو عشف کو طلاق ہو گئی سجاول کی تو جیسے سانس روک گئی خوشی سے پاگل ہو گیا ،،،،،،،،،،،،،

چاندہ مبارک ہو عشف کو محراب نے طلاق دے دی ہے ،،،،اسے کال کرو

عشف کو چاندہ نے کال کی تو عشف بہت پریشان تھی سجاول نے فون ہاتھ سے لے لیا عشف اب ہمیں دنیا کی کوئی طاقت ایک ہونے سے نہیں روک سکتی نہیں

نہیں سجاول جب تک تم چاندہ کو طلاق نہیں دو گے میں تم سے شادی نہیں کروں گی پہلے بھی ایک سوتن کی وجہ سے میرا گھر خراب ہوا ہے

چاندہ جتنی اچھی مرضی ہو

پر میرا گزارا اس کے ساتھ نہیں ہو سکتا اچھا ٹھیک ہے میں کل یہ پیپر بنوا لوں گا

نہیں پیپر میں خود بنواو گی ایک ساتھ تین طلاق ہو گی چاندہ کو اوکے میری جان جیسے تمہیں بہتر لگے ،،،،،

دو دن بعد

عشف نے سارے کاغذات مکمل کیے سجاول کو ہوٹل میں بلایا

یہاں دستخط کر دیں ،،،،سجاول نے سارے پیپر سائن کر دیے

اب میں چلتی ہوں بتا دو کب لینے آؤں بارات لے کر عشف مسکرا کر چل دی

ہاں اب عشف کے پاس میں آخری آپشن ہوں

عشف سیدھا سجاول کے گھر گئی

چاندہ چاندہ

جی عشف آپ یہاں ہاں چلو سجاول نے تمہیں طلاق دے دی ہے

پر میں نے تو طلاق نہیں مانگی

چاندہ کو کیوں طلاق دی سجاول نے چاندہ کی ساس حیرت سے پاس آئی آنٹی آپ نے کبھی اپنے بیٹے سے پوچھا ہے کہ وہ کر کیا رہا ہے یہ بات کرتے چاندہ کے بازو سے پکڑ کر اسے گاڑی میں لے گئی

،،،،،سجاول گھر میں داخل ہوا

تم نے کیوں چھوڑا چاندہ کو چلی گئی کیا ہاں عشف آئی تھی اسے لے گئی اچھا ہوا کہ بے وجہ کےرشتے سے جان چھوٹی ،،،

اگلے دن سجاول اپنے آفس گیا تو سب کچھ بدل چکا تھا کسی نے سجاول کو سلام نہیں کیا وہ اپنے روم کی طرف بھاگا تو وہاں پر کرسی پر کوئی بیٹھا تھا کون ہو تم اور

تمہاری جرات کیسے ہوئی میری اجازت کے بغیر میرے روم میں آنے کی

بہت تیزی سے کرسی کو اس کی طرف موڑا تو سامنے چاندہ کو دیکھ کر وہ حیران

رہ گیا تم یہاں کیا کر رہی ہو

وہ ہسنے لگی

یہ سوال تو مجھے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ تم میرے آفس میں کیا کر رہے ہو

تمہارا آفس سجاول ہسنے لگا کل ہی تمہاری طلاق ہوئی ہے تمہیں تو گھر پر عدت میں ہونا چاہیے تھا

عدت میں کیوں ہوتی جس عورت کو مرد نے ہاتھ تک نا لگایا ہو وہ آج بھی کنواری جیسی ہو وہ کیوں عدت میں بیٹھے گئی ،،،،

یہ آفس میرا ہے یہ فائیل دیکھ لو

چاندہ نے سامنے فائیل اٹھا کر پھینکی

سجاول نے اٹھا کر دیکھی

یہ کیا عشف نے میرے ساتھ اتنا بڑا دھوکا کیا ہے

میری ساری جائیداد تمہارے نام

سجاول وہاں سے بھاگا

راستے میں عشف کے نمبر پر کال کر رہا تھا مسلسل اس کا نمبر بند جا رہا تھا

وہ عشف کے میکے پہنچا

عشف تو محراب کے ساتھ چلی گئی

اس کے بھائی نے کہاں

سجاول یہ کیسے ہو سکتا ہے محراب اسے طلاق دے چکا تھا

پتہ نہیں

وہاں سے گاڑی محراب کے گھر کی طرف موڑ دی

جیسے محراب کے گھر میں داخل ہوا تو شور تھا

نمرا کی آواز تھی اس کو تو طلاق ہو چکی تھی پھر یہ آپ کے ساتھ کیسے

اس کو صرف پہلی طلاق ہوئی تاکہ سجاول کو یقین آ جائے اور وہ چاندہ کو چھوڑ دے

ورنہ دو طلاق تک رجوع ہو سکتا ہے

محراب نے چیخ کر کہاں محراب کا بھائی بھی یہ سب سن رہا تھا

جو گندا کھیل بھابھی نے نمرا تم نے اور سجاول نے میرے ساتھ کھیلا ہے

میں تو برباد ہو گیا ہوتا اگر مجھے سچ کا پتا نا چلتا

سجاول بھی آگے بڑھا اور عشف کو تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تو محراب نے ہاتھ پکڑ لیا

خبردار میری بیوی کو ہاتھ لگایا تو محراب نے طلاق کے پیپر پھاڑ کر پھینک دیے

نمرا اب تم بتاؤ تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں کیونکہ تم پر اعتبار اب میں نہیں کر سکتا ،،،میرے رشتے مجھے دھوکا دیتے رہے میرے بھروسے کے ٹکڑے ہو گے کانچ کی طرح اب

بھابھی نے شرم سے سر جھکا رکھا تھا

محراب کا بھائی آگے بڑھا اپنی بیٹی کا ہاتھ اپنی بیوی کے ہاتھ سے لے لیا تم تو میری بچی کی بھی ایسی تربیت کر رہی ہو گی

نہیں پلیز خدا کے لیے میری بچی کو مجھ سے جدا نا کرے

تم دونوں بہنیں یہاں سے جا سکتی ہو اور سجاول تم بھی دفاع ہو جاؤ

سجاول چیخ کر بولا میرا کوئی قصور نہیں ہے مجھے تو نمرا اور بھابھی نے کہا تھا کہ عشف کو راستے سے ہٹا دو

پر مجھے سچ میں عشف سے پیار ہو گیا

عشف میں نہیں جی سکتا تمہارے بغیر مر جاؤں گا

محراب نے جا کر زور سے تھپڑ سجاول کے منہ پر لگایا

میرے سامنے میری ہی بیوی کو

محراب کے بڑے بھائی نے کہا تم دونوں بہنیں جا سکتی ہو

عشف تم اپنے روم میں جاؤ محراب نے ہاتھ سے روم کی طرف اشارہ کیاسجاول وہاں سے روتا ہوا چلا گیا

ڈرائیور تم گاڑی نکالو

محراب کے بھائی نے اپنی بیوی اور نمرا کو گاڑی میں بٹھایا اور ان کے میکے لے گیا

بابا جان اپنی بیٹیوں کو سنبھالو

ان کی اب ہمارے گھر اور دل میں کوئی جگہ نہیں

ہم نے آسمان پر رکھا تھا ان کو اور یہ ہمیں ہی زمین بوس کرنے کے منصوبے بناتی رہی

کیا ہوا بیٹا نمرا کے ابا نے پوچھا بہتر ہے اپنی بیٹیوں سے پوچھ لینا

ہوں ہم ان کو طلاق نہیں دے گے دونوں بھائی کیوں ہم یہ گناہ نہیں کرنا چاہتے

جس دن یہ خود مانگیں گئی مل جائے گی

پلیز خدا کے لیے ہمیں معاف کر دے

نمرا اور اس کی بہن قدموں میں گر گئی

پر محراب کا بڑا بھائی چل پڑا،،،،،

عشف روم میں اپنے بچے کو سلانے لگی

محراب روم میں آیا اور محراب کو پیچھے سے گلے لگا لیا

پلیز عشف مجھے معاف کر دو میں نے تم پر بھروسہ نہیں کیا

مجھے ایسے رشتوں نے توڑا ہے جن پر

مجھے تم سے بھی زیادہ بھروسہ تھا

خود سے بھی زیادہ

کوئی بات نہیں محراب میں نے آپ کو معاف کیا

عشف نے بہت ہی سلیکھے سے سارا گھر سمبھال لیا

بڑے بھائی اور اس کی بیٹی کا بھی خوب خیال رکھتی

بھائی میں اندر آجاؤ جی عشف بیٹا

بھائی چھ ماہ گزر چکے ہیں آپ بھابھی کو لے آئیں پلیز

محراب کا بھائی عشف کی طرف دیکھنے لگا

اگر تم کچھ اور کہتی تو میں مان جاتا

پر ایسی عورت کی میری زندگی میں کوئی جگہ نہیں اب تو میری بیٹی بھی یاد نہیں کرتی

پلیز عشف بیٹی پھر ایسا سوچنا بھی مت

آج چاندہ صبح سے عشف کے گھر پر تھی گڑیا بھی چاندہ سے کافی مانوس ہو گئی تھی

سب کھانا کھا رہے تھے

تو عشف کے ذہن میں ایک خیال آیا

کیوں نا چاندہ کی شادی بڑے بھائی سے کر دی جائے

محراب رات کو روم میں آیا تو عشف

نے کہا کہ چاندہ اور بھائی کا نکاح کر دیں

محراب کو بھی یہ بات بہت پسند آئی

محراب اپنے بڑے بھائی کے پاس گیا

بھائی چاندہ سے آپ کا نکاح کر دے

محراب یار وہ بہت چھوٹی ہے مجھ سے کوئی نہیں بھائی ایسا تو ہوتا رہتا ہے

کیا سوچے گی وہ کچھ نہیں بس آپ مان

جائیں

اگلے دن عشف محراب چاندہ کے گھر گئے رشتہ لے کر

چاندہ کی ماں نے فوراً ہاں کر دی

پر چاندہ کہنے لگی میں تو بچپن سے بھائی کہتی تھی تو اب بہت شرم آ رہی ہے مجھے

یار چاندہ وہ کزن ہے سگا بھائی تھوڑی ہے

اب سے شہریار کہنا

اگلی رات چاندہ کا نکاح ہو گیا

شہریار سے

وہ دلہن بنی اپنے روم میں بیٹھی تھی

شہریار روم میں آئے کیسی ہو چاندہ

جی میں ٹھیک چاندہ تمہاری زندگی میری بیوی کی سازشوں کی وجہ سے خراب ہوئی تھی پاس بیٹھتے ہوئے شہریار نے کہاں ،،، اس لیے میں بہت شرمندہ ہوں

کوئی بات نہیں آپ بھی تو مل گئے مجھے چاندہ نے شرماتے ہوئے کہا

شہریار نے چاندہ کا ہاتھ پکڑ کر بوسہ لیا

اگلی صبح عشف دونوں کو ناشتے پر بلانے آئی تو سب بہت خوش تھے

محراب تو عشف کا دیوانہ ساتھ سارا ناشتہ لگوایا

سارا گھر بہت خوش تھا چاندہ اپنے شوہر اور شوہر کی بیٹی کا بہت خیال رکھتی تھی چاندہ نے بہت کم وقت میں سب کا دل جیت لیا

نمرا اور اس کی بہن اپنی زندگی میں بہت تنگ تھی سارا دن میکے میں نوکرانی بنی پھرتی تھی ،،،،،،،،،،،،،،،،ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *