Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kanch K Rishtay (Episode 08)

Kanch K Rishtay by Khanzadi

محراب جیسے باہر آیا تو سجاول تھوڑا پیچھے ہو گیا

نمرا اندر داخل ہوئی اپنی بہن کے ساتھ

ماشاءاللہ ہمارا منا تو بہت پیارا ہے

دونوں بہنیں خوش تھی

نمرا اٹھا لو منے کو

محراب ہم گھر لے جاتے ہیں منے کو اس کی ماں کا کیا فیصلہ کرنا ہے تم بتاؤ

محراب کی بھابھی نے کہاں

بھابھی منا اور اس کی ماں ابھی دونوں ہی عشف کے میکے جائے گے

میں کچھ کام سے ملک سے باہر جا رہا ہوں واپس آ کر دیکھتا ہوں

پر ہمارا منا ادھر کیوں جائے گا بھابھی وہ ماں ہے اور میں ابھی اپنے بچے کو اس کی ماں کے دودھ سے محروم نہیں کر سکتا

بھابھی کا موڈ خراب ہو گیا اور ساتھ میں سجاول بھی پریشان ہو گیا

منا سچ میں بہت پیارا تھا عشف کو اس کے گھر والے لے گئے

محراب اپنے گھر آگیا

دونوں بہنیں اب اسی چکر میں تھی کہ منا ان کو مل جائے

ماں جی آپ کا پوتا ہوا ہے محراب نے اپنی ماں کو بتایا

میں بہت خوش ہوں محراب کی امی نے کہا

میری بچی کو اللہ پاک نے اجر دیا ہے وہ شادی ہو کر آئی ہے اور دکھ دیکھنے لگی ہے پر ہمت نہیں ہاری

سچ کہہ رہی ہو

امی جان ،

نمرا نے اپنی باجی کو

کو کہا کہ محراب کو اب عشف کو چھوڑ دینا چاہئے ،ہاں میں بات کرتی ہوں آج

محراب۔ حال میں سے گزر رہا تھا تب بھابھی نے آواز دی محراب تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے

جی جی بھابھی ،،،

کریں اب کیا سوچا ہے تم نے ہم خاندانی لوگ ہیں عشف نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا تم جلد از جلد کوئی فیصلہ کرو

جی بھابھی آپ بلکل ٹھیک کہہ رہی ہیں میں نے سوچ لیا ہے کچھ کرتا ہوں

برے لوگوں کے ساتھ نبھانے کی ہماری کوئی بھی مجبوری نہیں ہوتی

یہ تو ہم نے خود کو خود مجبور بنا رکھا ہوتا ،،،،،،،

محراب اٹھ کر چلا گیا دونوں بہنوں نے ہاتھ پر ہاتھ مارا

نمرا میری بچی اللہ پاک تمہیں بہت ساری خوشیاں دے یہ سب محراب سامنے سے دیکھ رہا تھا ان دونوں کو پتہ نہیں تھا

باجی کو گلے لگاتے ہوئے نمرا نے کہاں اگر آپ میرا ساتھ نا دیتی اور سجاول کو ایگری نا کرتی تو یہ سب ممکن نا ہوتا ،،،،،

اچھا تو بھابھی جس کو میں ماں کا درجہ دیتا تھا وہ بھی سازش میں شامل تھی ،،،،،

محراب نے اپنے بھائی کو کال کی بھائی میں کسی کام سے آ رہا تھا پر اب نہیں آ پاؤ گا ماں آپ کو بہت یاد کر رہی ہیں آپ چکر لگا جاؤ

باپ کے بعد محراب کو بھائی نے بہت پیار دیا تھا ،،،،،،،،،،،،

چاندہ دیکھو میں عشف کے لیے گولڈ کا چین لے کر آیا ہوں اب جب وہ مجھے ملنے آئے گی میں اسے گفٹ کروں گا ،،،،

چاندہ بچاری خاموش رہی

عشف کو فون کرو نا یہ لو چاندہ اور اسے کہو کے اس کا بےبی اب ایک ماں کا ہو گیا ہے تو مجھے ملنے آئے

نہیں میں ایسا کچھ نہیں کہوں گی کہنہ تو پڑے گا جا کر چاندہ کی بازوں مروڑ دیا وہ درد سر چیخ رہی تھی

ادھر سے عشف کو کال ملا دی چاندہ کے چیخنے کی آوازیں عشف سن کر چیخ رہی تھی چاندہ کیا ہوا

فون کان سے لگایا اور کہنے لگا

ہوٹل کا ایڈریس سینڈ کیا کہ اگر آج شام تم وہاں نا آئی تو چاندہ کا وہ حال کروں گا کہ کوئی پہچان بھی نہیں سکے گا

اور الزام مجھ پر آئے گا

عشف سسک سسک کر رو رہی تھی اللہ پاک یہ شخص ظالم ہے اس کا برا انجام کر

مجھے بلیک میل کر رہا ہے میں ایک پاک دامن عورت ہوں تو ہی میری اور چاندہ کی مدد فرما

ایڈریس دیکھ کر عشف جانے کے لیے تیار ہوئی اور رکشہ پر نکل پڑی ،،،،،،ہوٹل میں پہنچی تو سجاول سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا

چلو کہاں روم میں عشف ابھی روم میں داخل ہو رہی تھی ادھر سے محراب کو نمرا ساتھ لے آئی تھی ،،،،

محراب نے جیسے روم میں جاتے دیکھا تو چیخنے لگا عشف روم میں گئی ہے سجاول کے ساتھ

نمرا بولی آپ سچے ہو اس لیے اس عورت کی حقیقت تمہیں خدا تمیں دیکھا رہا ہے

کیوں نہیں چھوڑ دیتے میرا پیچھا

عشف چیخی عشف میری ہو جاؤ نا

دیکھو تمہارے لیے گفٹ لے کر آیا ہوں

طلاق لے لو محراب سے میں ہاتھ جوڑتی ہوں مجھے جینے دو چاندہ کو اتنے دکھ نا دو اس بیچاری کا اس سب میں کیا قصور

ہاں میں آزاد کر دوں گا اسی دن جب تم میری سیج پر بیٹھی ہو گی

ایسا کبھی نہیں ہو سکتا تو پھر اسے بھی سکون کبھی نہیں مل سکتا

مار ڈالوں گا اسے

اور تمہارا بچہ بھی چھین کے تم سے بہت دور لے جاؤں گا تب تمہیں احساس ہو گا میری تڑپ کا میرا جسم چائیے تمہیں مجھے نوچنا چاہتے ہو اپنی ہوس کی آگ بجھانا چاہتے ہو تو یہ لو نوچ لو عشف نے اپنا دوپٹہ اتار کر پھینک دیا اور بخش دو ہم سب کو

جلدی سے عشف کا دوپٹہ اٹھا کر عشف کی طرف بڑھا دیا

میری خواہش نکاح کی ہے

وہ عشف کے آنسو صاف کرنے کے لیے آگے بڑھا تو عشف نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا اپنا دوپٹہ سر پر لیا اپنے آنسو صاف کرنے لگی بتاؤں کیا چاہتے ہو میں تیار ہوں ،،،،،

ہاں ایک بات یاد رکھنا کے تم مجھ سے نکاح کے بعد میرا جسم تو پا لوگے پر میری روح تک کبھی رسائی نہیں پا سکو گے ،،،،،

سچی تم کرو گی مجھ سے شادی

وہ ہسنے لگا ہاں اتنے لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے مجھے خود کو قربان کرنا پڑے گا

دیکھو میں یہ چین تمہارے لیے گفٹ لایا ہوں میرے ہاتھوں سے پہن لو گی تو میں سمجھوں گا تم سچ کہہ رہی ہو مجھ پر تمہارا نکاح سے پہلے کوئی حق نہیں تم مجھے نہیں بھول سکتے میں محراب کی امانت ہوں جب تک اس کے نکاح میں ہوں

پلیز یہ چین ہمارے رشتے کا گفٹ سمجھ لو عشف نے آنکھوں کو بند کیا

پہنا دو مجھے وہ عشف کو خوش ہو کر پہنانے لگا

عشف کو اس کے ہاتھ ناگوار گزر رہے تھے

میں آج بہت خوش ہوں

پر میں تمیں اور نمرا کو کبھی معاف نہیں کروں گی

جو کھیل تم لوگوں نے کھیلا ہے

عشف تیزی سے آنسوں صاف کرتے ہوئے روم کا دروازہ کھول کر باہر نکلی تو باہر محراب اور نمرا کھڑے تھے عشف نے ایک پل کے لیے رک کر محراب کی طرف دیکھ کر نمرا کو غصے سے دیکھا اور سامنے آتے اپنے باپ سے کہا چلیں بابا

محراب اور نمرا بھی چل پڑے نمرا یہ عشف اپنے باپ کو ساتھ کیوں لے آتی ہے

کوئی بھی لڑکی اگر گناہ کی نیت سے گھر سے باہر جاتی ہے تو وہ چھپ کر اکیلی آتی ہے پر عشف اپنے باپ کے ساتھ

کیا پتہ باپ ڈھونڈتے ہوئے آیا ہو نہیں جب رکشے سے اتری تھی تب بھی باپ ساتھ تھا میں نے دیکھا تھا

اب اس کی زندگی میں میری کوئی جگہ نہیں ہے ہاں ہاں محراب اب تو یہ عورت ہر حد پار کر چکی ہے تم نے دیکھا نہیں تھا کہ اس کی آنکھوں میں ڈر نہیں تھا

ہاں میں نے دیکھا تھا ،،،،،،،

گھر پہنچتے ہی نمرا نے چین کو گلے سے کھینچا اور چیخ چیخ کر رونے لگی

بیٹی تم کیوں رو رہی ہو تمہارا باپ تمہارے ساتھ کھڑا ہے تمیں مجھ پر بھروسہ نہیں ہے

بابا جان چاندہ بہت مشکل میں ہے سب سے پہلے مجھے اس کی جان چھڑانی ہے ہاں بیٹا مجھے پتہ ہے

،،،،،،، نمرا تم گھر جاؤ محراب نے گاڑی اپنے گھر کے سامنے روک دی

میں ایک وکیل سے ملنے جا رہا ہوں

نمرا بہت خوش تھی

،،،،،،،،،،محراب واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک فائنل تھی نمرا کو بہت تجسس تھا جب محراب سو گیا تو نمرا نے فائیل کھول کر دیکھی تو نمرا کی خوشی سے چیخ نکل گئی

محراب نے عشف کو طلاق دے دی تھی

اور نمرا بہن کے پاس بھاگی دونوں نے ایک دوسرے کو چوما گلے لگایا

مبارکیں دی ،،،،،،،،،،،،،،،،،،جاری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *