Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kanch K Rishtay (Episode 07)

Kanch K Rishtay by Khanzadi

چاندہ اور سجاول گھر پہنچ گئے جاؤ بیٹی تم تھوڑا آرام کر لو تھکی ہوئی لگ رہی ہو کافی چاندہ نے ڈرتے ہوئے سجاول کی طرف دیکھا

جاؤ امی جان تم سے کہہ رہی ہے چاندہ چل پڑی اپنا تکیہ اٹھا کر صوفے پر سونے لگی

سجاول نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا سو جاؤ بیڈ پر کل تو مجھے غصہ تھا کہ تم کیوں ہو میری دلہن عشف کیوں نہیں

آپ عشف بھابھی کا پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتے وہ بچے کی ماں بننے والی ہے

فوراً چاندہ کے قریب آیا اور پیچھے سے اس کے بال پکڑ لیے آج یہ بات کی ہے پھر کی تو مار ڈالوں گا ،،،،،،

بیچاری کے آنسو نکل رہے تھے

مجھے سجاول کو چھوڑ دینا چاہیے بہت خطر ناک ہےاپنا موبائل بیڈ پر پھینک کر خود فریش ہونے چلا گیا بہت زیادہ فون بج رہا تھا چاندہ ڈرتے ڈرتے اٹھی اور فون کو دیکھتی کبھی واش روم کی طرف جلدی سے رسیو کر کے کان سے لگایا

دوسری طرف سے چیخنے والی عورت کی آواز سنتے ہی جیسے چاندہ کا سکتا ہو گیا نمرا چیخ کر کہہ رہی تھی سجاول تم نے کہا تھا تم میری زندگی سے عشف کو نکل دو گے پر اپنی شادی کر کے گھر بسا کر گھوم پھر رہے ہو یہاں وہ میرے سینے پر سانپ کی لوٹ رہی ہے ،،،،

یہ کیا نمرا سجاول کے ساتھ مل کر عشف بھابھی سے گیم کر رہی ہے

تو کیا سجاول سب کچھ نمرا کے کہنے پر کر رہا ہے

چاندہ کا دماغ گھوم گیا

یہ سب کیا ہو رہا ہے اب میں عشف کو کیسے بتاؤں کہ اصل مجرم نمرا ہے

فون کی سکرین پر ہاتھ مارا جلدی سے فون پر لاک تھا ،،،،،

تم کیوں میرے موبائل کو اٹھا رہی ہو

کچھ نہیں بیڈ کی چادر ٹھیک ،،،،،

ٹھیک ہے زیادہ باتیں مت بناؤ

چاندہ بہت پریشان تھی ،،،،،،،،،،،

اگلے دن صبح چاندہ نے کہا میں اپنی امی کے گھر جانا چاہتی ہوں

ٹھیک ہے عشف کے گھر سے بھی چکر لگا لیں گے ،،،،،،عشف اپنی امی کے گھر ہوں گی ،،،،،،،،،،،،،،،،،

میری بیٹی آگئی جی امی جان آؤ بیٹا سجاول کیسے ہو ٹھیک ہوں امی بھابھی کو مل کر آتی ہوں سجاول بھی ساتھ کھڑا ہو گیا وہ کچن میں ہے بیٹا تم بیٹھو ،،،،،

بھابھی اپنا موبائل دیں جلدی

کیا ہوا سب خیر تو ہے نا چاندہ کی بھابھی نے پوچھا

ہاں بھابھی بوکھلاہٹ میں نمبر ہی بھول گئی اس شٹ واپس آ کر بیٹھ گئی

چائے پینے کے بعد سجاول بولا اجازت لیں

گھر واپس جاتے ہوئے سجاول کسی سے فون پر بات کر رہا تھا اچھا اچھا فکر مت کرو کچھ کرتا ہوں گھر جا کر ،،،،،،،

گھر پہنچتے ہی چاندہ کو کہا میں تمہیں کال ملا کر دوں گا تم عشف سے بات کرنا ،،،،،،،

جیسے ہی عشف نے کال رسیو کی چاندہ نے ابھی ہیلو ہی کیا تھا کہ جلدی سے موبائیل فون لے کر باہر کی طرف چل پڑا کیسی ہو عشف

تم ہاں میں چاندہ سے بات کرواؤ میری

اگر چاندہ سے اتنا ہی پیار ہے تو میری ایک بات مانو گی تم مجھے ابھی ہوٹل میں ملنے آؤ گی

کیا پاگل ہو گئے ہو تم میں ایسا کچھ نہیں کروں گی چلو پھر چاندہ کا حال اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا ویڈیو کال پر

تم کچھ نہیں کرو گے چاندہ کو کہاں آنا ہے

بچاری چاندہ کتنی اچھی ہے اور پھنس گئی برے انسان کے ساتھ

سجاول نے ایڈریس سینڈ کیا عشف اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ اس ہوٹل میں پہنچ گئی ،،،،،،،،

وہ پہلے سے موجود تھا عشف کی بہن الگ ٹیبل پر بیٹھ گئی ،،،،

کیا چاہتے ہو اور میرا شوہر مجھ سے بات تک نہیں کرتا میری زندگی تباہ تو کر چکے ہو ،،،،،

عشف تم جلد از جلد اس بچے سے جان چھڑواو اور مجھ سے نکاح کرو

پاگل ہو کیا کیوں پیچھے پڑے ہو میرے جینے دو مجھے

نمرا محراب کو ساتھ لے کر اس ہوٹل میں آگئی محراب غصے میں آ کر عشف کی طرف جارہا تھا۔

اچھا تو اس لیے میکے جانے کی ضد تھی تاکہ ڈیٹ پر جا سکے

آپ دفع کریں گھٹیا عورت کو

عشف نے سامنے کھڑے محراب کو دیکھ کر سر پکڑ لیا

سجاول میں تمیں کبھی معاف نہیں کروں گی یہ کہتے ہوئے عشف اٹھ کر چلی گئی ،،،،،،،،

محراب کافی غصے میں گھر آیا نمرا بہت خوش تھی

گھر پہنچ کر عشف نے محراب کو کال کی کے مجھے لے جاؤ

محراب چپ چاپ لینے پہنچ گیا پر راستے میں بار بار وہ اپنے آنسو صاف کر رہا تھا ،،،،،

پلیز محراب ایسا کچھ نہیں تھا مجھ پر یقین کرو چاندہ کی زندگی بہت تنگ کر رکھی ہے سجاول نے ،،،

میں تو اسے سمجھانے گئی تھی

میں نے کوئی صفائی نہیں مانگی ،،،،،،

وقت گزر رہا تھا ،،،،سجاول بہت لیٹ ہو گیا اب تو نمرا کا بچہ ہونے والا ہے اب کیا ہو گا

سجاول ہسنے لگا بچہ تمہارا اور عشف میری

محراب نمرا کی یہ باتیں روم کے باہر سے سن رہا تھا

ہاں سجاول آئیڈیا تو اچھا ہے ،

کیونکہ تمہاری بھی تو اولاد نہیں ہوئی

عشف کو تمہارے راستے سے ہٹاتے ہٹاتے مجھے سچی اس سے پیار ہو گیا

اچھا پھر چاندہ کا کیا کرو گے وہ اگر آزادی چاہے گی تو آزاد ورنہ ایک کونے میں پڑی رہے گی

ویسے ضد کے بہت پکے ہو دونوں ہسنے لگے بس یاد رکھنا بچہ ہونے کے بعد ایک بڑا ایشو بنانا ہے فکر مت کرو میں عشف کو ہوٹل روم میں بلاؤ گا اور تم نے محراب کو دیکھانا ہے بس پھر طلاق محراب نے یہ تمام باتیں سن لی

میری عشف کتنی مشکل میں ہے اور میں اس پر یقین نہیں کر رہا چاندہ میری بچی ،،،،اسی لیے تو میں سوچتا تھا کہ چاندہ کیسی عورت ہے جو ابھی تک عشف سے پیار کرتی ہے سب کچھ جانتے ہوئے ،،،،،،،

اچھا سجاول میں فون بند کرتی ہوں محراب آنے والا ہے بیوی کی خدمت کر کے

محراب واپس عشف کے روم میں چلا گیا اتنی معصومیت سے سوئی ہوئی تھی محراب کو شاید پیار آرہا تھا قریب بیٹھ گیا غور سے دیکھ رہا تھا

میری عشف تم کتنا کہتی رہی اور میں نے تمہارا یقین نہیں کیا کیسے کرتا یقین مجھے آنکھوں سے تصویر کا غلط رخ دیکھایا گیا

اور میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ نمرا ایسی سازش کر سکتی ہے

کتنے کچے رشتے تھے کانچ کی ماند ٹوٹ گئے ،،،،،،رشتے کانچ کے نہیں یا تو دلوں کے ہوتے ہیں یا احساس کے یا پھر خون کے ان سے جوڑا یقین کانچ کی ماند ہوتا ہے بھروسہ کانچ کی ماند ہوتا ہے اگر وہ ایک بار ٹوٹ جائے تو پھر ویسے نہیں جوڑ پاتا

کیا مجھے ابھی سے نمرا کو کہہ دینا چاہیے کہ میں سب کچھ جان گیا ہوں

یا آخری مرتبہ بھی گرتے ہوئے دیکھنا چاہیے ،،،،،مجھے دیکھنا چاہیے وہ خود سے یہی باتیں کرتے کرتے نا جانے بیڈ کی سائیڈ سے لگے عشف کا ہاتھ پکڑے سو گیا تھا صبح عشف کی آنکھ کھلی تو اس حالت میں دیکھ کر اووووووو محراب آپ یہاں سو گئے

عشف نے اسے اٹھا کر بیڈ پر سونے کا کہا

محراب سو گیا صبح صبح نمرا چاہے لیے پہنچ گئی کیسی ہو عشف واہ آج محراب کو تمہاری خدمت کرتے کرتے یہاں نیند آگئی اچھا اب کتنے بجے ہوسپٹل جانا ہے

شام کا ٹائم دیا ہوا ہے محراب۔ بھی اٹھ گیا نمرا یار مجھے چاہے دو اور عشف کو میں خود دودھ بنا کر دوں گا چاہے نہیں دینی اسے

محراب نے نمرا کو محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ سب جان گیا ہے اور بھابھی بھی آج رات کو پہنچ جائے گی

اچھا باجی نے مجھے تو نہیں بتایا

ہاں تم مصروف اتنی ہوتی ہو محراب نے تنزیہ کہا شام کو ہوسپٹل لے گئے عشف نے بہت خوبصورت بیٹے کو جنم دیا محراب بہت خوش تھا چاندہ اور سجاول بھی پہنچ گئے ان کو دیکھ کر محراب واش روم میں چلا گیا سجاول نے عشف کے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کیسی طبعیت ہے میری ہونے والی دلہن کی عشف نے ہاتھ اٹھا کر پھینکا خبردار مجھے ہاتھ مت لگانا چاندہ بیچاری خاموشی سے دیکھ رہی تھی اچھا تو یہ سب کچھ کر رہے تھے سجاول اور نمرا ،،،،،،،، بھابھی بھی پہنچ گئی تھی،،،،،،،نمرا بہت خوش تھی ،،،،،عشف کافی اداس تھی اس ڈر سے کہ محراب تو مجھ پر یقین ہی نہیں کر رہا اب کہیں مجھے چھوڑ ہی نا دے ،،،،،،،،جاری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *