Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kanch K Rishtay (Episode 03)

Kanch K Rishtay by Khanzadi

عشف بیٹی محراب کے ساتھ اب جانے کی تیاری کرو

عشف ساس کی ٹانگیں دبا رہی تھی

ماں جی نمرا جائے میں جا کر کیا کروں گی آپ کو اس حالت میں چھوڑ کر میں نہیں جاتی

میرا دل تو اس دن سے ٹوٹ گیا ہے ماں جی جس دن سے محراب کا دھوکا سامنے آیا

میں تو کب کی جا چکی ہوتی آپ کو چھوڑ کر نہیں جا سکتی

ماں جی ابھی تو میرے میکے میں کسی کو محراب کی دوسری شادی

کا نہیں پتا

بیٹی تم کسی کو مت بتاؤ جب وہاں سیٹ ہو جاؤ گی تو کسی کو کیا پتا ہو گا

ساس کے کہنے پر عشف جانے کی تیاری کرنے لگی

نمرا کے روم سے بہت اونچی اونچی آوازیں آ رہی تھی

سارے فساد کی جڑ ہے یہ عورت میں اسے نہیں چھوڑوں گی نمرا تم حد سے بڑھ رہی ہو وہ بھی میری بیوی ہے کل تک تمہیں زہر لگتی تھی آج عشق جاگ گیا

نہیں نمرا تم ایسا مت سوچو میری ماں کی خواہش ہے کہ میں عشف کو لیں جاؤں

رات کو نکالنا تھا تو چاندہ میری تیاری کروانے آ گئی میں محراب کے ساتھ اپنی ماں کو ملنے چلی گئی

واپس آئی تو

عشف مجھے تمہاری بہت فکر رہے گی اپنا بہت خیال رکھنا

ہاں چاندہ اب تو وہ شخص قابل بھروسہ نہیں

رو رو کر نمرا کی آنکھیں سوجی ہوئی تھی نمرا مت رو میں نے تمہارے بھائی سے بات کر لی ہے وہ ہماری سیٹس کنفرم کروا رہا ہے ہم بھی دو چار دن میں پہنچ جائے گے

لیکن بھابھی ہم تو ایک ہفتے میں واپس آ جائے گے

کیوں محراب کیا عشف اب ہمیشہ وہی نہیں رہے گی

نہیں بھابھی میں خود کچھ ٹائم گھر میں رہنا چاہتا ہوں

ہم جہاز میں بیٹھ گئے

عشف اب تو اپنا موڈ ٹھیک کر لو یار

تمہارا ایسا موڈ مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا

اتنا لمبا سفر کرنے کے بعد ہم وہاں پہنچے تو کافی تھکے ہوئے تھے جاتے ہی سو گئے

رات کو محراب کے آفس کی بہت بڑی پارٹی تھی

عشف تیار ہو جاؤ

میں ،،،،،،میں کیسے جا سکتی ہوں کیوں تم کیوں نہیں جا سکتی

میں تیار ہو گئی وہاں پہنچے تو سب محراب سے ہاتھ ملاتے پر میں دور سے سلام کر دیتی محراب کے بزنس پارٹنر نے ہاتھ کیا تو میں نے سلام کیا وہ پھر بھی ہاتھ کر کے کھڑا رہا محراب نے مجھے اشارہ کیا کہ ملا لو

میں نے کہا سوری میرا مذہب اجازت نہیں دیتا وہ غصے سے مجھے اور محراب کو دیکھ کر چلا گیا

محراب اگر تم ملا لیتی تو کیا ہو جاتا

عشف نے کوئی جواب نا دیا

گھر واپس آئے تو محراب کا بھی موڈ خراب تھا عشف ایسے کیسے چلے گا

تم میری ایک بھی بات نہیں مانتی

عشف دوسری طرف منہ کرکے سو گئی

محراب روم سے باہر چلا گیا جب آدھی رات گزر گئی تو عشف باہر گئی تو محراب سگریٹ پی رہا تھا

آپ سوئے نہیں نیند نہیں آئی

تم جا کر سو جاؤ عشف آ کر سو گئی

صبح ہونے کو تھی محراب روم میں آیا عشف میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر

مر جاؤں گا مجھے آپ پر بھروسہ نہیں تو کیا جان دے دوں

وہ عشف کے ہاتھ پکڑ کر رو رہا تھا

اچھا چپ ہو جائیں دونوں میں قربت بڑھتی گئی ناجانے کب دن ہوا دنیا سے بے خبر دونوں فون کی گھنٹی پر

چونک گئے دوسری طرف نمرا کی کال تھی ہیلو

کہاں ہو مجھے پتہ ہے بوڑھی بیوی کی بانہوں میں ہوں گے

شٹ اپ فون سے آواز باہر آ رہی تھی

نمرا اب جب تک میں یہاں ہوں تمہاری کال نا آئے

عشف بچاری اٹھ کر فریش ہونے چلی گئی واپس آئی تو اس کی آنکھوں سے صاف پتا چل رہا تھا کہ بہت زیادہ روئی ہے وہ

محراب نے جاکر عشف کو اپنی بانہوں میں لے لیا وہ شیشے کے سامنے کھڑی تھی عشف خود کو اس آئینے میں غور سے دیکھو کتنی حسین ہو تم اور کہیں سے بھی لگ رہا ہے کہ تم بوڑھی ہو

اس کے آنسو گرنے لگے محراب اس کے سامنے کھڑا ہو گیا آنسو کا قطرہ انگلی پر اٹھایا

اور کہا بہت قیمتی ہیں یہ آنسو میری زندگی میں اب پھر کبھی مت رونا

اور پاگل ہو تم کچھ تو ہے تم میں کہ

میں تمہارا دیوانہ ہو گیا ہوں اور کچھ کمی تو ہے نمرا میں کے اس سے محبت کی شادی ہونے کے باوجود

اس کی قربت نہیں پسند بہت جلدی بیزار ہو گیا ہوں اس سے

کل مجھ سے بھی ہو جائے گے

نہیں ہو سکتا کاش

قسمت نے مجھے تم سے شادی کے بعد کچھ وقت دیا ہوتا

تو نمرا شاید میری زندگی میں کبھی نا آتی

تمہارا ہر بات پر صبر کر جانا

مجھے بہت پسند ہے

اور نمرا کا ہر بات پر جھگڑا کرنا نہیں

پسند مجھے

پر مجھے ڈر لگ رہا ہے تمھاری محبت سے جو کل نمرا کے ساتھ شدید تھی آج مجھ سے

اور پھر کل نا جانے کس کے ساتھ

محراب ہسنے لگا

مجھے قسمت نے ایک وقت میں دو عورتیں میسر کر دی اور میں عورت کی دو اقسام سے وقف ہو گیا

تو ان میں مجھے آپ کی فطرت اچھی لگی ہاں آپ جیسی تیسری بھی مل جائے تو سوچا جا سکتا ہے

پھر دونوں زور سے ہنسنے لگے عشف نے زور سے مکا مارا

محراب کو

اچھا بہت ہو گئی باتیں ہم نے شاپنگ پر بھی جانا ہے اور بہت سارا گھومنا بھی ہے

اور اپنا کام بھی جو کرنے آیا ہوں مکمل کرنا ہے

شاپنگ کرنے بعد واپس آگئے تو اتنی دیر میں سجاول بھی آگیا ہائے محراب ہائے سجاول دونوں ایک دوسرے کو گلے ملے پھر تیاری ہو گئی آپ کی جی آپ بھی چل رہے ہو ہاں جی چل رہا ہوں سوری یار یہ تیری ایک دن پہلے والی بھابھی اچھا تو یہ ہیں عشف نے بھی سلام کیا سجاول کو

میں سمجھا نمرا آئی ہو گی ساتھ

نہیں بڑی مشکل سے اس نے آنے دیا

اچھا سجاول تم بھابھی کو کچھ دیر کمپنی دو میرا تھوڑا کام ہے میں کر کے آیا

عشف تم چائے بناؤ

عشف کچن میں گئی محراب باہر چلا گیا

تو سجاول کچن میں ہی آگیا آپ کا نام جان سکتا ہوں جی عشف

واہ اپنے نام کی طرح ہو بہت ہی خوبصورت

شکریہ

ایک بات کہوں جی میں نے آج تک شادی نہیں کی

اچھا کیوں

کیوں کہ میری آئیڈیل آپ جیسی لڑکی تھی وہ اب ملی ہے تو دوست کی بیوی کے روپ میں

پلیز آپ بیٹھیں میں چائے لے کر آتی ہوں

کیوں آپ کو میری بات اچھی نہیں لگی پر میں سوری نہیں بولوں گا

کیوں کہ یہ حقیقت ہے

عشف تیزی سے چائے لے کر اس کے ساتھ سے گزر کر ہال میں آگئی وہ کافی ڈر رہی تھی

وہ بھی پیچھے آگیا

چائے اٹھا کر پینے لگا کافی اچھی چائے بناتی ہو شکریہ

اتنی دیر میں محراب بھی گھر میں داخل ہوا سوری یار لیٹ ہو گیا

بور تو نہیں ہوئے نہیں یار آپ کی بیوی نے بور ہونے ہی نہیں دیا اچھا

واہ پھر تو خوش قسمتی ہے کہ یہ آپ کو کمپنی دیتی رہی

،،،،،،، لائٹ بلیو ساڑھی اور پنک بلاؤز

میں گولڈ ہئیر قیامت لگ رہی تھی دس سال بڑی ہونے کے باوجود دس چھوٹی لگ رہی تھی آج رات کو واپس جانا تھا تو سجاول کے گھر لنچ پر انوئٹڈ تھے

سجاول تو جیسے دیوانہ ہو گیا تھا

سجاول کے اس طرح دیکھنے سے محراب نے کہاں یار اب کیا نظر لگاؤ گے میری بیوی کو

وہ تھوڑا شرمندہ ہو گیا

یار کتنا حسن تو گھریلو لڑکیوں میں ہوتا ہے جو گھر میں چھپا ہوتا ہے

ہاں سجاول سچ کہہ رہے ہوتے ہو

نا صرف حسن سیرت بھی خوب ہوتی ہے

سجاول تم چل رہے ہو ہاں یار پر ایک ہفتے بعد آؤں گا

اوکے دل تو تھا ساتھ چلوں پر قسمت میں اتنا خوبصورت ہمسفر نہیں

کیا محراب نے کہا

مطلب تم جیسے دوست کے ساتھ شاہد سفر نصیب میں نہیں

اس کی نظر عشف پر ہوتی اور

بات محراب سے کرتا

اچھا یار ہیمں ایئرپورٹ چھوڑ دو

لیٹ ہو رہے ہیں ہاں ہاں

چلو

گاڑی میں سجاول کی نظر شیشے پر رہی اور عشف کو ہی دیکھتا رہا

محراب نے بھی کافی نوٹ کر لی پر عشف سر جھکا کر رہی

،،،،،،،،،جاری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *