Kanch K Rishtay by Khanzadi NovelR50518 Kanch K Rishtay (Episode 04)
No Download Link
Rate this Novel
Kanch K Rishtay (Episode 04)
Kanch K Rishtay by Khanzadi
عشف کوشش کرتی تھی کہ اس کی طرف نا دیکھے
ائیرپورٹ پر پہنچ کر محراب کسی کام سے گیا تو سجاول کو موقع مل گیا بات کرنے کا تم ایسے جھکی نظروں میں اور بھی حسین لگتی ہو شکریہ
کاش تم مجھے پہلے ملی ہوتی
ابھی یہ بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ محراب آگیا ،،،،،،،
گھر پہنچے تو سامنے ٹیبل پر بیٹھی نمرا بولی واہ گھر پہنچ گئے یاد تھا کہ گھر بھی آنا ہے
محراب سیدھا نمرا کے روم کی طرف گیا وہاں جا کر فریش ہوکر سو گیا تھکا ہوا تھا کافی
عشف ساس کے روم میں بیٹھی تھی
باہر سے بہنوں کی آواز آئی
باجی یہ تو بہت خوب صورت ہوتی جا رہی ہے
ہاں میں نے سنا ہے مرد کی محبت کے سبھی رنگ عورت کے چہرے پر نظر آتے ہیں مطلب محراب بہت محبت دے رہا ہے
ہاں کافی رات ہو گئی ہے اور تمہارا میاں تمہارے روم میں ہے تم جاؤ
اچھا باجی
جب نمرا روم میں گئی تو محراب گہری نیند سو چکا تھا
نمرا نے لائٹ آن کی محراب نے آنکھوں پر تکیہ رکھتے ہوئے کہا پلیز نمرا لائٹ آف کر دو
نمرا بھی سو گئی نمرا کی آنکھ کھلی
تو محراب روم میں نہیں تھا وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی یہاں صرف نیند پوری کرنے آیا تھا اب وہاں گپیں چل رہی ہوں گی
میں بھی تو جا کر دیکھوں جیسے ہال میں پہنچی تو محراب اپنی بھابھی سے باتیں کر رہا تھا عشف کچن میں
ناشتہ لگ گیا ہے سب ناشتے پر بیٹھ گئی
عشف کافی تھکی ہوئی تھی اپنے روم میں چلی گئی
نمرا محراب کو زبردستی اپنے میکے ساتھ لے گئی واپس آئے تو اس وقت سب کھانا کھا کر سو چکے تھے
محراب سنو نمرا میں عشف کے پاس ہوں آج رات کوئی ضرورت نہیں ہے
اتنے دن باہر اس کے ساتھ رہ کر آئے ہو اچھا ٹھیک ہے لیٹ نائٹ واپس آ جاؤں گا
عشف سو چکی تھی
محراب اسکے سرہانے بیٹھ گیا اس کے چہرے آئے بال ہٹانے لگا
آپ ،،،،،،،،اپ کب آئے ابھی تھوڑی دیر ہوئی ہے
اچھا کھانا لگاؤں نہیں ہم باہر سے کھا کر آئے ہیں تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا محراب نے پوچھا جی بالکل ٹھیک ہوں اچھا تم ریسٹ کرو میں جا رہا ہوں نمرا کے روم میں سونے جیسے محراب اٹھا عشف نے ہاتھ پکڑ لیا
کیا آج بھی وہاں سوئیں گے
محراب عشف کے قریب بیٹھ گیا سچ بتاؤں تو نہیں سونا چاہتا وہاں پر مجبوری ہے ایسی کیا مجبوری ہے
بھابھی کل بھی ناراض تھی کہ تم نمرا کو وقت نہیں دیتے میں آج کل نوٹس کر رہی ہوں
سوچتا ہوں کتنی غلطی ہو گئی مجھ سے کاش وقت پیچھے چلا جائے اور صرف تم ہی
پھر خاموش ہو گیا اب صرف پچھتا ہی سکتے ہیں اب کچھ ہو نہیں سکتا
اچھا اپنے ہاتھوں کی ایک کپ چائے پلا دو پھر میں جاؤں جی ضرور
عشف جیسے اٹھ کر گئی عشف کا فون بجنے لگا
محراب نے دیکھا تو وہ سجاول کا نمبر تھا اتنی رات کو یہ کیوں عشف کو کال کر رہا ہے
محراب نے اٹھا کر ہیلو خیر تو ہے نا ہاں یار کہاں غیب ہو صبح سے کال نہیں رسیو کر رہے اچھا وہی تو میں سوچ رہا تھا کہ عشف کے نمبر پر کال کیوں
کیوں نہیں کر سکتا نہیں یار کر سکتے ہو پھر دونوں ہسنے لگے ہو
کال بند ہوئی اتنی دیر میں عشف چایے لے کر آ گئی جادو ہے آپ کے ہاتھوں میں
اوکے جی کل ملتے ہیں محراب بھاگا
نمرا کسی سے فون پر بات کر رہی تھی محراب کو آتے دیکھ کر فون بند کر دیا
مل گئی فرصت
نمرا سنو کل رات کو سجاول پہنچ جائے گا تو آنٹی نے ڈنر رکھا ہے ہماری پوری فیملی انوئٹ ہے بھابھی کو بھی بتا دیا
اچھا واہ کیا بات ہے
آپکی بوڑھی بیوی بھی جائے گی نمرا وہ تمہیں کہاں سے بوڑھی لگتی ہے
یہ الگ بات ہے کہ میں عمر میں اس سے چھوٹا ہوں تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کے وہ بوڑھی ہے
نمرا ہسنے لگی توبہ دلیل دینا تو آپ کے بعد بس ہے
ہاں تو اس میں کیا غلط ہے
،،،،،،،،،،رات کو نمرا روم سے تیار ہو کر آئی تو بھابھی اس کی نظر اتارنے لگی
محراب جاؤ اسے بلا لاؤ لیٹ ہو رہے ہیں اتنی اچھی ڈریسنگ کیسے کر لیتی ہو
فیش ڈیزائنر کا کورس کر رکھا ہے عشف نے جواب دیا
ریلی اپنے سامنے موڑتے ہوئے
جی پھر تو تم میرے آنے والے پروجیکٹ میں بہت کام آنے والی ہو دونوں مسکرانے لگے چلو چلو بہت دیر ہو گئی ہے بھابھی غصے ہو رہی ہیں تم پر
جیسے سجاول کے گھر پہنچے تو سب کہنے لگے
یار تمہاری کس بیوی کو دیکھیں دل ہی نہیں بھرتا
سجاول نے کہا عشف کو دیکھوں بس یہی دل کرتا ہے
سب گپ شپ کرنے لگے سجاول کی نظر عشف پر رہی یہ بات نمرا نے بھی نوٹ کر لی آج بھی وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی
اچھا محراب بیٹا اپنے دوست کو کچھ سمجھاؤ خود تو دو دو شادیاں کر رکھی ہیں اسے بھی کہو کہ چاندہ سے شادی کے لیے ہاں بول دے
محراب فورا بولا آنٹی اس سے اچھی لڑکی سجاول کو نہیں مل سکتی
نہیں نہیں میں جس کو پسند کرتا ہوں شادی تو صرف اسی سے کروں گا
اچھا کون ہے وہ
یار مسئلہ ہے وہ پہلے سے شادی شدہ ہے عشف نے یہ بات سنی تو اس کو کھانسی شروع ہو گئی
یہ لو بیٹی پانی لگتا ہے کچھ گلے میں
چلا گیا ہے
شادی شدہ آپ سے کیسے شادی کرے
نمرا نے جھٹ سے کہا
ہو جائے گی
پھر کہا مذاق کر رہا ہوں
اب ہمیں اجازت محراب نے کھانے کے بعد کہاں جی جی گھر واپس آئے تو عشف کافی پریشان تھی
کیا ہوا لان میں ٹہل رہی تھی
محراب نے پوچھا ،،،،،،کچھ نہیں
کچھ تو ہوا ہے جب سے آئی ہو اداس ہو کسی نے کوئی بات کی ہے
نہیں یہ بات نہیں پر مجھے سجاول نہیں پسند آپ کم ملا کریں محراب وہ بہت عجیب باتیں کرتا ہے
نہیں عشف اس سے ڈرو مت وہ برا انسان نہیں ہے وہ سب کو ہی تنگ کرتا رہتا ہے
پکا ہاں یار میں سمجھا پتہ نہیں کیا ہو گیا اچھا بھابھی واپس جا رہی ہے امریکہ بھائی نے بلا لیا ہے اچھا کیوں بس چھ ماہ ہوگئے ہیں ان کو یہاں
اور نمرا؟
محراب ہسنے لگا وہ آپ کے گلے کا زیور ہے
اچھا آپ جائیں میں آج ماں جی کے پاس سونے لگی ہوں اوکے ڈارلنگ
عشف بیٹی جی ماں جی کل میں نے تمہارے لیے لیڈی ڈاکٹر سے ٹائم لیا ہے تم نے جانا ہے
اچھا ماں جی
ساتھ چاندا کو لے جانا
چاندہ اور عشف ڈاکٹر کے پاس سے ہو کر مارکیٹ چلی گئی وہاں کچھ کام تھا
آجاؤ عشف آئسکریم کھاتے ہیں دونوں آئسکریم کھانے بیٹھ گئی
چاندہ واش روم گئی تو عشف اکیلی بیٹھی تھی سجاول وہاں سے گزر رہا تھا جیسے عشف کو دیکھا اس کے پاس آگیا
ہائے عشف اکیلی کیوں بیٹی ہو کیا میں بیٹھ سکتا ہوں
جی بیٹھ جائیں
محراب نہیں آیا میں چاندہ کے ساتھ آئی ہوں او اچھا تو وہ کہاں ہیں واش روم گئی ہے
ویسے ایک بات کہوں آپ بہت خوب صورت ہیں
شکریہ
نمرا اور محراب نے عشف کو سجاول کے ساتھ بیٹھے دیکھ لیا نمرا نے سو باتیں کی یہ ڈاکٹر ہے جس کو ملنے آئی ہے آپ کی بیوی محراب بھاگتا ہوا ان کے پاس آگیا آپ دونوں
ابھی یہ بات ہی ہوئی تھی اوپر سے چاندہ بھی آگئی بھابھی اور میں آئے ہوئے تھے
تب سجاول نے کہاں یہاں سے گزر رہا تھا بھابھی کو اکیلا دیکھا تو پوچھنے آگیا
او اچھا
چلو پھر ساتھ میں گھر چلتے ہیں اور سجاول تم بھی ساتھ چلو اوکے
سجاول کی گاڑی میں چاندہ اور عشف بیٹھ گئے اور نمرا جلدی سے محراب کے ساتھ
عشف کو سجاول کا بار بار دیکھنا بلکل پسند نہیں تھا اور اس زومعنی باتیں کرنا یہ بات عشف بہت بار محراب کو بھی کہہ چکی تھی
عشف ہال میں بیٹھی تھی ہاتھ میں چائے کا مگ لیے پاس سے سجاول گزرا رات کو کال کروں گا ضرور رسیو کرنا ضروری بات کرنی ہے
