Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kanch K Rishtay (Episode 02)

Kanch K Rishtay by Khanzadi

سب کی تیاری مکمل ہو گئی میں بھی ساتھ ائیرپورٹ چھوڑنے کے لیے گئی وہاں بھی مجھے محراب یہں کہتے رہے کہ میں ہر ماہ اماں کے لیے چکر لگتا ہوں اب بھی لگاتا رہوں گا تم بے فکر رہنا

مطلب آپ مجھے اتنی جلدی ساتھ لے جانے والے نہیں ہیں

وہ ہسنے لگے نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں

نمرا بھی ہمارے درمیان کود پڑی چلیں ہماری فلیٹ کی طرف بلا رہے

اس نے بے تکلفی سے محراب کو اپنی طرف کھینچا تو میں حیرت سے دیکھنے لگی محراب مسکرانے لگا

اور چل پڑا میں ڈرائیور اور محراب کی ایک کزن تھی جو ان کی بلکل بہن کی طرح تھی وہ ہم گھر واپس آگئے آج بلکل دل نہیں لگ رہا تھا محراب کی کزن اور میں ہم اچھی دوستیں بن گئی تھی ہم نے سارا دن محراب کی امی کے پاس گزارا

بہت اچھی تھی محراب کی امی اور میری ساس کچھ ہی دنوں میں وہ بہت مانوس ہو گئی تھی مجھ سے مجھے بھی ان کا ہر کام کرنا اچھا لگتا تھا

میں نے رات کو فون کی تو محراب کی بھابھی نے اٹھایا

جی بولو۔

بھابھی محراب سے بات کرنی ہے وہ تو اس وقت مصروف ہے صبح کال کرنا اور کم ہی کال کیا کرو وہ بہت مصروف ہوتا ہے

بھابھی کا رویہ بہت عجیب تھا میرے ساتھ جیسے وہ خوش نہیں تھی مجھ سے

خیر اگلے دن چاندہ آگئیہم نے خوب ساری باتیں کی بھابھی آپ سے ایک بات کہوں برا تو نہیں مانے گی

نہیں نہیں کہو آپ اپنی کیئر کرے محراب کے آنے تک وہ ہر ماہ آتا ہے دُنیا بہت تیز ہے یہ نا ہو کوئی آپ کا گھر خراب کر دے

نہیں محراب ایسے نہیں ہیں میں بولی بھابھی کسی پر بھروسہ مت کریں لوگ جب تک اچھے نہیں بنے گے تو کوئی ان پر بھروسہ کیسے کرے گا

اور مرد ذات تو بھروسے کے بلکل بھی قابل نہیں ہوتی

نہیں چاندہ سبھی مرد ایک جیسے نہیں ہوتے

آپ کو پتہ ہے بھابھی سمیہ بڑے بھائی کی دوسری بیوی ہے

ہیں میں حیرت سے دیکھنے لگی ہاں جی

تو پہلی کہاں ہے وہ سمیہ نے اس کی طلاق کروا دی وہ بہت اچھی تھی

بچے نہیں تھے کیا اس کے نہیں بھائی یہاں رہے ہوتے تو بچے ہوتے وہ اماں کی پسند تھی اور سمیہ بھابھی نے بھائی کو آفس میں پھنسا لیا اس لیے مجھے نمرا اور سمیہ دونوں زہر لگتی ہیں

ہاں میں بولی نمرا بھی ساتھ گئی ہے امریکہ

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ بھابھی نے آپ سے محراب کی شادی کیوں کروائی

کل شام کو آپ تیار رہنا میں آپ کو پارلر لے جاؤں گی

چاندہ کی باتوں سے اب میں بھی کافی پریشان تھی

محراب تو جیسے جا کر مجھے بھول ہی گیا تھا

دو ماہ گزر گئے آ رہا ہوں ہر ہفتے یہی

بات ہوتی میں بہت فکر مند تھی

میں چاندہ کے ساتھ مارکیٹ گئی ہوئی تھی وہاں چاندہ کی ایک دوست مل گئی ہم سب آئیس کریم کھانے بی بیٹھ گئی اس کی چھوٹی بہن بھی ساتھ تھی وہ نمرا کی بیسٹ فرینڈ نکلی امریکہ کی بات ہوئی تو وہ کہنے لگی ہاں میری دوست نمرا کی بھی شادی ہو کر امریکہ گئی ہے

چاندہ کے کان کھڑے ہو گئے میں بھی متوجہ ہو گئی

اچھا کس کے ساتھ اس کی بہن کے دیور کے ساتھ مجھے کال کرتی ہے بہت خوش ہے کیا نام ہے اس کے شوہر کا

محراب بھائی میرے تو جیسے سانس رکنے لگی

میں بے ساختہ اٹھی اور چلنے لگی چاندہ نے مجھے پکڑ لیا رک جاؤ عشف میرے گالوں پر آنسوں جاری ہوگئے

مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ

کیا پتہ غلط فہمی ہوئی ہو

نہیں چاندہ سب کچھ تو بتا دیا اس نے میں ایک پل نہیں رہوں گی

تو کیا کرو گی

میں اپنے گھر واپس چلی جاؤں گئی

ایسا کبھی مت کرنا شادی شدہ بیٹی کو واپس آنے پر میکہ کبھی قبول نہیں کرتا میری مانو تو اپنا گھر بچانے کی پوری کوشش کرو

آخری سانس تک لڑو

کیوں ایسا ہوتا ہے لوگ دلوں کو کیوں توڑ دیتے ہیں

افسوس اس بات کا ہے مجھے بیوی جیسے مقدس رشتے میں دھوکا دینے کے لیے باندھا گیا

میں ساتھ ساتھ روتی جا رہی تھی اور ساتھ بولتی بھی جا رہی تھی

تم اماں سے بات کرو

میں گھر پہنچ گئی اماں کے کمرے کی طرف گئی تو اماں کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی

تمہاری ہمت کیسے ہوئی تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم پورا حق دو گے اس کو بھی اور اب دو ماہ گزر گئے تم آئے نہیں

دوسری طرف سے محراب کی آواز تھی اماں نمرا نہیں آنے دے رہی میرا پاسپورٹ چھپا دیا ہے

مجھے نہیں پتہ تم اگر اس ہفتے نہیں آئے تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی

سمیہ سے بات کرواؤ میری

جی ماں جی اپنی بہن کو کچھ عقل دو

تمہاری مرضی سے عشف اس گھر میں آئی ہے خدا سے ڈرو بیٹی کی ماں ہو تم بھی اس بچی کی حالت دیکھی نہیں جا رہی مجھ سے

جی ماں جلدی بھیجو محراب کو

جی ماں میں اندر داخل ہو گئی اور ماں کے گلے لگ کر رونے لگی

میری بچی تم فکر مت کرو میں ہوں نا ماں جی مجھ سے دھوکا کیوں کیا محراب نے

تم فکر مت کرو تمہیں اب اور دھوکا نہیں ہو گا

میں اب اماں کے پاس ہی سو جاتی تھی چاندہ روز آ جاتی مجھے پارلر لے جاتی

اب بہت خوب صورت لگتی میں جو بھی دیکھتا تعریف کرتا تھا

دو ہفتے مزید گزرے تو اماں کی اچانک طبیعت بہت خراب ہو گئی چاندہ نے محراب کو کال کر دی وہ لگ سب کل رات پہنچ جائیں گے

میں ہسپتال میں کھڑی تھی جب چاندہ نے مجھے بتایا سب مطلب

ہاں سب آرہے ہیں

اگلی رات ہم اماں کو گھر لے آئے

وہ لوگ بھی پہنچ گئے

میں نے سب کے لیے کھانا بنایا اب میں بھی ویسی سیدھی نہیں تھی چاندہ کی دوستی نے مجھے کافی بدل دیا تھا

اور میں نے بھی سوچ لیا تھا کے اپنے حق کے لیے مجھے لڑنا چاہیے

یہ میرا حق ہے

میرا موڈ سب کے ساتھ خراب تھا

نمرا آپ کا شوہر ساتھ نہیں آیا

نمرا کھانا کھا رہی تھی جب میں نے یہ بات کی تو اس کے گلے میں پھنس گیا وہ کھانسنے لگی

سمیہ بھابھی بولی اس کو میں ساتھ لے آئی ہوں چلو امی لوگوں کو مل لے گی

شام کو نمرا اپنے میکے چلی گئی محراب چھوڑنے گیا

واپس کافی لیٹ آیا میں سونے کا ڈرامہ کر رہی تھی میرے منہ سے کمبل ہٹا کر بولا ناراض ہو

میں نے کوئی جواب نا دیا وہ مجھے منانے لگا

کیا بچ گیا ہے ہمارے درمیان

جب نمرا سے شادی کرنی تھی تو مجھے کیوں دھوکا دیا ماں کی خدمت کے لیے نوکری چاہیے تھی تاکہ آپ اپنی خوبصورت بیوی کے ساتھ وہاں آرام سے عیاشی کر سکو

تمیں کس نے کہا میں سب جان چکی ہوں

میں اپنا تکیہ اٹھا کر صوفے پر سو گئی صبح کچن میں گئی تو سمیہ بھابھی بولی محراب کیوں نہیں جاگا

آج اس کا فیورٹ ناشتہ بنا رہی ہوں

رہنے دیں بھابھی وہ میرا شوہر ہے اور اس کا ناشتہ میں بناوں گی آپ اپنا بنائے

یہ تم مجھ سے کس لہجے میں بات کر رہی ہو

ٹھیک ہی تو کر رہی ہوں اتنی دیر میں کسی نے مجھے پیچھے کھینچ کر اتنی زور سے تھپڑ مارا کے میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا آگیا بھابھی رونے لگی ڈرامہ کرنے لگی

تمہاری ہمت بھی کیسی ہوئی بھابھی سے اس طرح بات کرنے کی آواز سے پتہ چلا کہ وہ محراب تھا میں منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنے روم کی طرف بھاگی

مجھے اس حرکت کی امید نہیں تھی

میں روتی رہی سارا دن محراب روم میں نہیں آیا

اس کی بھابھی آئی عقل تو ٹھکانے آگئی ہو گی

اب میرے سامنے بولنے کی ہمت بھی مت کرنا ورنہ اگلی مرتبہ طلاق ہو گی تمہاری

شام کو چاندہ آئی تو میں نے اسے رو رو کر بتایا

وہ بھی بہت اداس ہوئی میں کہتی تھی نا کہ سمیہ بھابھی بہت چالاک ہے اگلے دو دن محراب گھر نہیں آیا

شام کا وقت تھا میں اماں کو لان میں فریش ائیر میں لے آتی تھی وہاں میں اور اماں بیٹھے تھے محراب گاڑی سے اترا نمرا کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا اور دونوں ہنستے ہوئے اندر کی طرف باتیں کرتے ہوئے جا رہے تھے

جب اماں نے آواز دی تو اس طرف آگئے

تمہیں ماں کی پرواہ نہیں دو دن سے سسرال میں پڑے تھے نمرا مسکرا رہی تھی مجھے دیکھ کر میں سر جھکائے بیٹھی تھی

رات کو کھانے پر میں گئی تو کسی نے ٹھیک طرح سے مجھ سے بات نہیں کی تھی میں اپنے روم میں چلی گئی محراب نمرا کے پاس سویا تھا

اب جب کے سارا سچ سامنے آگیا تھا تو رشتوں کا سارا سچ بھی سامنے تھا دو تین دن بعد محراب آج میرے روم میں سونے آیا تھا میں دوسری طرف منہ کر کے سو گئی

بیوی ہو تم میری میرا حق ہے تم پر

عورت کے وجود کو نوچنے پر صرف مرد کا حق نہیں ہوتا اسے عزت دینا اور زمانے سے اس کی عزت کرونا بھی مرد کی زمہ داری ہوتی ہے دیتا تو ہوں جی اس لیے اپنی بھابھی کے سامنے میرے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا

تم نا کرتی بھابھی سے با تمیزی آپ کی بھابھی جو کچھ کر رہی ہے وہ

اس گھر میں وہ پہلے بیاہ کر آگئی تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے وہ آنے والی ہر دیورانی پر حکمرانی کا حق رکھتی ہے

میں نے اکثر دیکھا ہے بڑی جیٹھانی چھوٹی دیورانی کو قبول ہی نہیں کرتی جس کی وجہ سے گھر میں فساد ہوتے ہیں

ایسا نہیں ہے میری بھابھی بہت اچھی ہے اس لیے آپ کی دو دو شادیاں کروا دی نمرا میری ضد تھی

میں نے زور زور سے تالی بجائی اور میں آپ کی ضرورت

تو اب آپ کیا چاہتی ہو

مجھے عزت اور مقام چاہیے

میں وہی سو گئی

صبح ہوتے ہی میں باہر گئی تو نمرا میڈم بہن کے سامنے رو رہی تھی کے رات میرے لاکھ منع کرنے کے باوجود اس کے پاس سونے چلا گیا اچھا تم فکر مت کر تمہارا اس سے کی مقابلہ تمہارے پاس ہی واپس آئے گا

میں کچن میں جا رہی تھی

سنو نمرا کے لیے ایک کپ چائے بنا دو

میں خاموش رہی باجی اس کے کچھ زیادہ ہی پر نہیں نکل آئے ہاں بے فکر رہو مجھے کاٹنے آتے ہیں اس کو چاندہ

نے خراب کر دیا ہے

میں کچھ کرتی ہوں اس چاندہ کا

بھی کچھ ہی دیر میں خراب موڈ کے ساتھ محراب بھی روم میں آگیا اٹھ گئے ہو بہت سکون کی نیند آئی ہو گی بیوی کی بانہوں میں

کہاں ہے وہ کچن میں ہے

عشف ایک کپ چائے لانا میں نمرا کو چائے دینے آئی تو

بھابھی بولی نمرا بنا دے گی

کیوں یہ کیوں نا بنا دے اور نمرا خود تو اس ے بنوا کر پی رہی ہے

آج لگتا تھا محراب بہت غصے میں ہے

مجھے آج شاپنگ پر جانا ہے نمرا بولی

ٹھیک ہے تم بھی تیار رہنا مجھے محراب نے کہا

مجھے کچھ نہیں چاہیے سب کچھ ہے میرے پاس

سب کچھ تو نمرا کے پاس تم سے زیادہ ہے

وہ بھی تو جا رہی ہے

محراب اٹھ کر نمرا کر روم کی طرف چل پڑا میں کچن میں چلی گئی

باجی آپ نے ایک بات نوٹس کی محراب اس کی طرف جھک رہا ہے

ہاں میں خود حیران ہوں

لگتا ہے کوئی جادو ٹونا کر رہی ہے

اتنی دیر میں چاندہ آگئی

بھابھی میں اور عشف بھابھی پارلر جارہے ہیں

چاندہ نے آتے ہی کہا

کیوں اسے کیا ضرورت ہے پارلر کی اتنی دیر میں محراب آگیا اس نے بھی سن لیا

چاندہ جاؤ تم لوگ

آج جب واپس آئی تو بہت خوب صورت لگ رہی تھی بہت ہی کم عمر اور معصوم سی

کھانے کھاتے ہوئے محراب کی نظر بار بار عشف کی طرف جا رہی تھی

میں نے امی کی طرف جانا ہے ابھی

کیوں آج جانا ضروری ہے

بھابھی نے کہاں ہاں ہاں جاؤ کب سے نہیں گئی

یہ سب کچھ میں چاندہ کے کہنے پر کر رہی تھی کیونکہ چاندہ کہتی ہے کہ مرد کو آسانی سے میسر آنے والی چیز پسند نہیں ہوتی

میں دو دن کے لیے امی کے گھر چلی گئی محراب کا اگلی ہی صبح فون آگیا کے میں لینے آرہا ہوں

اماں بار بار تمہارا پوچھ رہی ہے

یہ مجھے کیا ہو رہا ہے میں تو نمرا سے شدید محبت کرتا تھا اس کی اب پروا ہی نہیں میں عشف کی طرف کھنچتا جا رہا ہوں

محراب نا جانے کن سوچوں میں گم نمرا کے روم میں بیٹھا تھا اچانک اٹھ کر عشف کو لینے پہنچ گیا

کیا کرتی وہ بھی ساتھ ا گئی

رات کو کھانے میں عشف نے کوفتے بنائے جو کہ محراب کو بہت پسند تھے نمرا منہ بنا رہی تھی کھانے کے بعد بولی چلو محراب اپنے روم میں

نہیں نمرا میں آج عشف کی طرف ہوں یہ کیا بات ہوئی

نمرا نے موڈ خراب کیا اور اٹھ کر غصے میں کرسی کو دھکا دیا اور چل پڑی

عشف بھی کچن کا کام ختم کرنے کے بعد اپنے روم میں گئی

کیوں اتنی دیر لگا دی کب سے انتظار کر رہا تھا

کیوں کوئی کام تھا آپ کو نہیں ویسے انتظار نہیں کر سکتا ادھر میرے پاس بیٹھو پر عشف نے اپنا تکیہ اٹھایا اور صوفے پر چل پڑی

یار کتنی سزا دو گی مجھے

غصے میں روم سے باہر چلا گیا

اور پوری رات واپس نا آیا صبح عشف کچن میں کھڑی تھی تو جا کر اس کا بازو پکڑ لیا کیا سمجھتی ہو خود کو پلیز میرا بازو چھوڑو درد ہو رہا ہے اتنے میں بھابھی بھی کچن میں پہنچ گئی

نمرا کو میں ابھی کچھ دیر میں ڈاکٹر کے پاس لے کر جا رہی ہوں اچھا بھابھی بول کر ہال

پھر اٹھ کر نمرا کے روم کی طرف بڑھا تو بھابھی کی آواز آرہی تھی نمرا بس تم ایک بار ماں بن جاؤ پھر تو میں اس کی ویسے ہی چھوٹی کروا دوں گی

اور یہ عمر میں بھی زیادہ ہے اس کے کون سا بچے ہونے

سچی باجی

ہاں اور نہیں تو کیا

محراب نے واپسی کی تیاری کر لی کسی کام کے سلسلے میں نمرا بہت خوش

تھی پر اس بار محراب عشف کو ساتھ لے کر جارہا تھا

نمرا پلیز رونا بند کرو ایک ہفتے کی تو بات ہے،،،،،،،جاری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *