Kanch K Rishtay by Khanzadi NovelR50518 Last updated: 8 February 2026
No Download Link
331K
9
Rate this Novel
Kanch K Rishtay by Khanzadi
عشف کوشش کرتی تھی کہ اس کی طرف نا دیکھے
ائیرپورٹ پر پہنچ کر محراب کسی کام سے گیا تو سجاول کو موقع مل گیا بات کرنے کا تم ایسے جھکی نظروں میں اور بھی حسین لگتی ہو شکریہ
کاش تم مجھے پہلے ملی ہوتی
ابھی یہ بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ محراب آگیا ،،،،،،،
گھر پہنچے تو سامنے ٹیبل پر بیٹھی نمرا بولی واہ گھر پہنچ گئے یاد تھا کہ گھر بھی آنا ہے
محراب سیدھا نمرا کے روم کی طرف گیا وہاں جا کر فریش ہوکر سو گیا تھکا ہوا تھا کافی
عشف ساس کے روم میں بیٹھی تھی
باہر سے بہنوں کی آواز آئی
باجی یہ تو بہت خوب صورت ہوتی جا رہی ہے
ہاں میں نے سنا ہے مرد کی محبت کے سبھی رنگ عورت کے چہرے پر نظر آتے ہیں مطلب محراب بہت محبت دے رہا ہے
ہاں کافی رات ہو گئی ہے اور تمہارا میاں تمہارے روم میں ہے تم جاؤ
اچھا باجی
جب نمرا روم میں گئی تو محراب گہری نیند سو چکا تھا
نمرا نے لائٹ آن کی محراب نے آنکھوں پر تکیہ رکھتے ہوئے کہا پلیز نمرا لائٹ آف کر دو
نمرا بھی سو گئی نمرا کی آنکھ کھلی
تو محراب روم میں نہیں تھا وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی یہاں صرف نیند پوری کرنے آیا تھا اب وہاں گپیں چل رہی ہوں گی
میں بھی تو جا کر دیکھوں جیسے ہال میں پہنچی تو محراب اپنی بھابھی سے باتیں کر رہا تھا عشف کچن میں
ناشتہ لگ گیا ہے سب ناشتے پر بیٹھ گئی
عشف کافی تھکی ہوئی تھی اپنے روم میں چلی گئی
نمرا محراب کو زبردستی اپنے میکے ساتھ لے گئی واپس آئے تو اس وقت سب کھانا کھا کر سو چکے تھے
محراب سنو نمرا میں عشف کے پاس ہوں آج رات کوئی ضرورت نہیں ہے
اتنے دن باہر اس کے ساتھ رہ کر آئے ہو اچھا ٹھیک ہے لیٹ نائٹ واپس آ جاؤں گا
عشف سو چکی تھی
محراب اسکے سرہانے بیٹھ گیا اس کے چہرے آئے بال ہٹانے لگا
آپ ،،،،،،،،اپ کب آئے ابھی تھوڑی دیر ہوئی ہے
اچھا کھانا لگاؤں نہیں ہم باہر سے کھا کر آئے ہیں تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا محراب نے پوچھا جی بالکل ٹھیک ہوں اچھا تم ریسٹ کرو میں جا رہا ہوں نمرا کے روم میں سونے جیسے محراب اٹھا عشف نے ہاتھ پکڑ لیا
کیا آج بھی وہاں سوئیں گے
محراب عشف کے قریب بیٹھ گیا سچ بتاؤں تو نہیں سونا چاہتا وہاں پر مجبوری ہے ایسی کیا مجبوری ہے
بھابھی کل بھی ناراض تھی کہ تم نمرا کو وقت نہیں دیتے میں آج کل نوٹس کر رہی ہوں
سوچتا ہوں کتنی غلطی ہو گئی مجھ سے کاش وقت پیچھے چلا جائے اور صرف تم ہی
پھر خاموش ہو گیا اب صرف پچھتا ہی سکتے ہیں اب کچھ ہو نہیں سکتا
اچھا اپنے ہاتھوں کی ایک کپ چائے پلا دو پھر میں جاؤں جی ضرور
عشف جیسے اٹھ کر گئی عشف کا فون بجنے لگا
محراب نے دیکھا تو وہ سجاول کا نمبر تھا اتنی رات کو یہ کیوں عشف کو کال کر رہا ہے
محراب نے اٹھا کر ہیلو خیر تو ہے نا ہاں یار کہاں غیب ہو صبح سے کال نہیں رسیو کر رہے اچھا وہی تو میں سوچ رہا تھا کہ عشف کے نمبر پر کال کیوں
کیوں نہیں کر سکتا نہیں یار کر سکتے ہو پھر دونوں ہسنے لگے ہو
کال بند ہوئی اتنی دیر میں عشف چایے لے کر آ گئی جادو ہے آپ کے ہاتھوں میں
اوکے جی کل ملتے ہیں محراب بھاگا
نمرا کسی سے فون پر بات کر رہی تھی محراب کو آتے دیکھ کر فون بند کر دیا
مل گئی فرصت
نمرا سنو کل رات کو سجاول پہنچ جائے گا تو آنٹی نے ڈنر رکھا ہے ہماری پوری فیملی انوئٹ ہے بھابھی کو بھی بتا دیا
اچھا واہ کیا بات ہے
آپکی بوڑھی بیوی بھی جائے گی نمرا وہ تمہیں کہاں سے بوڑھی لگتی ہے
یہ الگ بات ہے کہ میں عمر میں اس سے چھوٹا ہوں تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کے وہ بوڑھی ہے
نمرا ہسنے لگی توبہ دلیل دینا تو آپ کے بعد بس ہے
ہاں تو اس میں کیا غلط ہے
