Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Last Episode

Ishq Ka Samandar Season 02 by Umme Laila Last Episode

خان چیر سے اٹھ کر ہانی اور ذاکر پاس چلا آیا.
اس سے پہلے کے ذاکر خان پر ہاتھ اٹھاتا ہانی نے ذاکر کا ہاتھ پکڑ لیا
” ہانی میرا ہاتھ چھوڑو ” بے لچک لہجے میں گویا ہوا
” ذاکر پلیز نہیں ” ہانی نے التجایا لہجے میں کہا
” ذاکر تم تو مرگئے تھے نا ? ” خان نے عام سے لہجے میں پوچھا
” تم یہاں کیا کر رہے ہو ? ” کرخت لہجے میں پوچھا گیا
” تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے ? ” سوال کے بدلے سوال پر خان بھی ہتھے سے اکھڑ گیا
ذاکر نے جھٹکے سے ہاتھ چھوڑوایا اور زور دار گونسہ خان کے منہ پر جڑ دیا.
ہانی نے عمر کو نیچے اتار کر اندر جانے کا اشارہ کیا ہانی نہیں چاہتی تھی کہ عمر یہ لڑائی دیکھے.
خان کے ہونٹ کے قریب سے خون کی لکیر نکل کر شرٹ میں جذب ہونے لگی. خان نے ہاتھ کی پشت سے خون صاف کیا اور ذاکر کو مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا مگر ہانی دونوں کے درمیان میں آگئی.
ہانی کی پشت ذاکر کی طرف تھی
” خان پلیز ” ہانی نے خان سے التجایا لہجے میں کہا کیونکہ ہانی جانتی تھی ذاکر کو روکنا بہت مشکل ہے بلکے ناممکن. اس لیے خان کو ہی روک دیا جائے تو بہتر ہوگا
ذاکر نے ہانی کو کندھوں سے پکڑ کر سایڈ پر کیا
” ہانی یہاں سے جاؤ ” ذاکر خان کو دیکھتے ہوئے ہانی سے مخاتب ہوا
” ذاکر… “
” ہانی میں نے کہا جاؤ ” ذاکر چیخا
ہانی لرزتے قدموں سے اندر جانے لگی مگر ذاکر کو غصے سے خان کی طرف بڑھتا ہوا دیکھ کر پھر سے ذاکر اور خان کے درمیان آگئی.
” ذاکر پلیز گھر جائیں “
” ہانی تم خان کی سایڈ لے رہی ہو ? ” ذاکر کے ماتھے پر بل پڑگئے
” ہاں “
ذاکر کے دل کو کچھ ہوا اور نظریں ہانی کے چہرے پر تھیں. کچھ دیر دیکھنے کے بعد تھک زدہ چال چلتے ہوئے گیٹ کی طرف بڑھا.
ذاکر کو جاتا ہوا دیکھ کر ہانی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور ذاکر کے پیچھے بھاگی
” ذاکر ذاکر میری بات سنیں “
ذاکر کار میں بیٹھ کر کار سٹاٹ کر چکا تھا ہانی پر ایک نظر ڈال کر کار بھاگا لے گیا.
” ہانی نے مجھ پر اس خان کو فوقیت دی ہاؤ کڈ شی ڈو دس ٹو می ” سٹیرنگ پر زور سے ہاتھ مارا اور کار کی سپیڈ مزید بڑھا دی.
……
ہانی مردہ قدموں سے چلتی ہوئی واپس گھر میں داخل ہوئی خان اسی پوزیشن میں کھڑا تھا.
” ہانی ایم سوری میری وجہ سے…”
ہانی نے ہاتھ کھڑا کرکے مزید بولنے سے روک دیا اور اندر کی طرف بڑھی
” بچہ یہ عمر پاپا پاپا کیوں کہہ رہا ہے ? میں نے پوچھا پاپا سے مل کر آئے ہو تو اس نے ہاں میں سر ہلا دیا ” ناصرہ نے پریشانی سے بھرے لہجے میں کہا
” ہاں پیچھلے دو دن سے میں اور عمر ذاکر پاس ہی تھے ” کہہ کر ناصرہ پاس صوفے پر بیٹھ گئی اور کوٹ اتار کر صوفے کی بازو پر رکھ دیا
” ذاکر …….ذاکر زندہ ہے ? ” ناصرہ بے ہوش ہونے والی ہوگئیں
” ہاں زندہ ہیں “
” تو وہ ….”
” مام میں بہت تھکی ہوئی ہوں شام کو بات کریں گے فل حال میں کمرے میں جارہی ہوں ڈسڑب مت کیجیے گا ” اور اٹھ کر کمرے کی طرف بڑھی
کمرے میں داخل ہوکر حجاب کھول کر سٹالر صوفے پر پھینکا اور بیڈ پر لیٹ گئی. سایڈ ٹیبل سے ذاکر کی تصویر اٹھاکر دیکھی اور سینے پر رکھ کر انکھیں موند لیں.
” kızgın adamım ” ( My angry man )
……
ذاکر نے گھر آکر سیٹ بک کروائی اور انگلینڈ چل دیا.
ادریس کی سزا ختم ہوچکی تھی اور اس بات پر بے انتہا خوش تھا کہ ذاکر لینے آئے گا.
……
شام کے وقت گھر کے تمام افراد لاؤنج میں جما تھے اور ہانی کے منتظر تھے.جبکہ ہانی اپنے کمرے میں ذاکر کی تصویر سینے سے لگائے بے خبر سورہی تھی.
عامرہ ہانی کے کمرے میں آئی اور ہانی کو بے خبر سوتا ہوا دیکھ کر زور سے ہلایا
” ہانی باہر سب تمہارا انتظار کررہے ہیں اور تم ….”
” اف یار اتنا اچھا خواب دیکھ رہی تھی تم نے جگا کر اچھا نہیں کیا ” ہانی نے منہ بسور کر کہا
” کیا خواب دیکھ رہی تھی ? “
” ذاکر کو دیکھ رہی تھی ” ہانی نے کھوئے کھوئے لہجے میں مسکراتے ہوئے کہا
عامرہ ہنس پڑی.
” جلدی باہر آؤ ہم سب ذاکر کے بارے میں سننے کے لیے بے تاب ہیں “
” میں نے ذاکر کو ناراض کردیا ” ایک دم سے افسردہ ہوگئی
” خان لالہ نے کچھ دیر پہلے بتایا سب کو کہ دوپہر میں کیا ہوا “
” تم باہر چلو میں منہ ہاتھ دھوکر باہر آکر باقی سب کچھ بتاتی ہوں ” اور اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھی
ہانی لاؤنج میں آئی تو سب کی نظریں ہانی پر ٹک گئیں. ہانی صوفے پر علیزے ساتھ بیٹھ گئی
” ذاکر زندہ ہیں اور پچھلے دو دن سے میں انہی کے ساتھ تھی. “
” تم نے کہا تھا باس کے ساتھ مٹینگ ? ” عامر نے سوال کیا
” جھوٹ کہا تھا میں نے “
” اور وہ دو لاشیں جن کو ہم نے دفنایا تھا ? “
ہانی نے لاعلمی کے اظہار کے طور پر کندھے اچکا دیے .
” تمہیں ذاکر نے کچھ نہیں بتایا پیچھلے تین سالوں کے بارے میں ? “
” میں نے پوچھا نہیں اور انہوں نے خود بتایا نہیں ” ہانی نے معصوم سا منہ بناکر کہا
” ہانی تم کیا چاہتی ہو ? ” ناصر نے دل میں مچلتا سوال زبان سے ادا کردیا
” بابا میں چاہتی ہوں کہ سب لڑائیاں ختم ہوجائیں “
” اور وہ کیسے ? “
” بابا پلیز آپ سب میری خوشی کی خاطر ایک بار ذاکر سے ملنے چلیں جائیں اور خان ان سے معافی مانگ لے “
” ٹھیک ہے ” ناصر نے حامی بھرلی
” میں معافی…. “
” خان ” خان کی بات پوری ہونے سے پہلے ناصر نے سخت لہجے میں ٹوکا
……
ذاکر انگلینڈ پہنچ کر سیدھا پولیس سٹیشن پہنچا. ناری ذاکر کو دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑا
” جگر تمہیں آج تین سال بعد دیکھ رہا ہوں پتہ ہے تمہارے اچانک غائب ہوجانے کی اطلاح پر آدھا سے زیادہ انگلینڈ رو پڑا تھا اور میری بیوی نے رو رو کر سارا گھر ڈبو دیا. ہیکر نے میرے علاوہ کسی کو نہیں بتایا کہ تم ترکی چلے گئے ہو. یار بھابھی کی موت کی خبر… “
” وہ زندہ ہے ” ذاکر نے ناری کی بات کاٹ کر کہا
” کیا سچ میں ? “
” ہاں سچ میں اور میں ایک عدد خوبصورت بچے کا باپ بھی بن گیا ہوں ” ذاکر نے آخری بات خوشگوار لہجے میں کہی
” سچ میں ہائے اللہ ساتھ لائے ہو بھابھی اور بے بی کو ? “
” نہیں یار ” ذاکر نے برا سا منہ بناکر کہا
” نام کیا رکھا ہے اور کوئی تصویر تو ہوگی تمہارے پاس اس کی “
” عمر شاہ ” ذاکر نے عمر کی تصویر نکال کر دیکھائی
” واؤ بیوٹیفل یار بلکل تیری کاربن کاپی ہے بس آنکھیں تجھ سے نہیں ملتیں… “
” آنکھیں ہانی جیسی ہیں ” ذاکر نے عمر کی شرارتوں کو یاد کرتے ہوئے افسردہ لہجے میں کہا
” ایک بات کہوں ? ” ناری نے ذاکر کو باغور دیکھتے ہوئے کہا
” ہاں کیوں نہیں “
” تم پہلے سے بھی زیادہ ہنڈسم ہوگئے ہو یار ” ناری نے فلائینگ کس دیتے ہوئے کھل کر تعریف کی
ذاکر جھینپ گیا
” بکواس نا کرو “
” سچ میں قسم سے “
” اوکے مان لیتا ہوں ” ذاکر نے ہار مانتے ہوئے کہا
” بھابھی اور تمہارا بے بی کیسا ہے ? “
” بلکل ٹھیک. یار پھر سے ماڈلنگ شروع کردے میری بیوی تیری بہت بڑی فین ہے پچھلے تین سال سے میرا دماغ کھا رہی ہے کہ ذاکر کو کہو پھر سے ماڈلنگ شروع کردے “
ذاکر ہنسنے لگا
” کیا سچ میں ? “
” ہاں بلکل سچ ہماری پانچ چھ بار اس بات پر لڑائی بھی ہوچکی ہے “
” اف ” ذاکر کا قہقہ بلند ہوا
” ذاکر ” ادریس کی آواز پر ذاکر نے پلٹ کر دیکھا
ادریس کی آنکھوں کے نیچے ہلکے پڑچکے تھے اور چہرہ مرجھا ہوا تھا کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی آدمی ہے جس کی پرسنلٹی تمام بزنس مین سے زیادہ تھی.
ذاکر چیر سے اٹھ کر ادریس کے گلے لگ گیا
” ذاکر مجھے خوشی ہے کہ تم مجھے لینے آئے “
” بابا پلیز روئیں مت ” کہہ کر ادریس کی آنکھوں سے آنسوں صاف کیے
……
ہانی مسلسل چار دن سے ذاکر کے بنگلے کے چکر کاٹ رہی تھی مگر ہر بار مایوس لوٹتی تھی اور آج چوکیدار کو اپنا نمبر دے کر آئی تھی کہ جب ذاکر آئے تو بتادینا.
” ذاکر کیا میری ساری زندگی آپ کے پیچھے روتے ہی گزر جائے گی ? ” ہانی سیڑیوں پر بیٹھ کر رونے لگی
” ہانی ” عامرہ کی آواز پر آنسوں صاف کیے
” ہانی سب ٹھیک ہوجائے گا ” ہانی کو ساتھ لگالیا
” عمر ذاکر کو بہت مس کررہا ہے ” ہانی کی آنکھوں سے پھر سے آنسوں جاری ہوگئے.
……
دو ہفتے بعد ذاکر ادریس کو لیے واپس ترکی چلا آیا تھا اور چوکیدار کے بتانے پر ہانی نے ناصر سے بات کی.
” ٹھیک ہے بچہ ہم سب کل جائیں گے لیکن صرف تمہاری خوشی کے لیے “
ہانی نے سر ہلادیا.
…..
اگلے دن ناصر سب کو لیے ذاکر کے بنگلے چل دیا.
ذاکر ادریس کے ساتھ بلکل نارمل بی ہیو کرنے لگا. ذاکر نے اپنا کہا سچ کردیکھایا تھا. اس کی آنکھوں میں اب ادریس کے لیے نفرت نہیں دِکھتی تھی اور یہی بات ادریس کے لیے سکونِ دل تھی.
جب سے ذاکر نے ہانی اور عمر کے بارے میں بتایا تھا ادریس دونوں کو دیکھنے کے لیے بےتاب تھا. عمر کی تصویر دیکھ کر ان کی بے چینی اور زیادہ بڑھ گئی تھی.
ناصر اور باقی سب جب سفید بنگلے میں داخل ہوئے تو ادریس کو دیکھ کر ناصر کے قدم رک گئے.
ناصر کو دیکھ کر ادریس صوفے سے اٹھ کر ان کی طرف بڑھا.
” آپ رک کیوں گئے ہیں آئے پلیز ” ادریس نے نرم لہجے میں کہا
ہانی نے ادریس کے سامنے سر جھکا دیا. ادریس نے ہانی کے سر پر پیار دے کر عمر کو ہانی سے لے لیا
” ذاکر کہاں ہیں ? “
ادریس نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا اور ہانی نے اس کمرے کی طرف قدم بڑھائے.
دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو قدم رک گئے ذاکر چیر پر بیٹھا سامنے بنی ہانی کی بڑی سی تصویر کو گھور رہا تھا اور سگریٹ پہ سگریٹ پھونک رہا تھا.
کمرے کی تمام دیواروں پر ہانی کی تصویریں بنی ہوئیں تھیں. ہانی ذاکر کی طرف بڑھی اور ہونٹوں کے درمیان سے سگریٹ کھینچ لیا
” یاد ہو تو میں نے سگریٹ پینے سے مناکیا تھا “
ہانی کی آواز پر ذاکر نے سر اٹھاکر دیکھا
بلیک پینٹ اور ریڈ شرٹ میں ملبوس بلیک فلاورز لے کر کھڑی ذاکر کو گھور رہی تھی.
ذاکر پھر سے تصویر کو دیکھنے لگا
” kızgın adamım “( my angry man )
ہانی ذاکر کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر نیچے بیٹھ گئی
ْ” ذاکر ایم سوری “
” تم جانتی ہو میں کسی کو معاف نہیں کرتا “
” میں یہ بھی جانتی ہوں آپ مجھ سے ناراض نہیں ہوسکتے “
” تو پھر غلطی کیوں کرتی ہو ? ” کڑے تیوروں سے پوچھا
” ذاکر آپ نے مجھے گزشتہ تین سالوں کے بارے میں ایک لفظ تک نہیں بتایا اور نا ہی مجھ سے پوچھا کیوں ? “
” جب تم زندہ ہو میں زندہ ہوں تو اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں کیا ہوچکا ہے. کس نے اچھا کیا کس نے برا کیا ہر کسی کا فیصلہ میں خدا پر چھوڑ چکا ہوں تو پھر پرانی باتوں کو یاد کرکے دل جلانے کا کیا فائدہ اور ویسے بھی مجھے پتہ ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے سے دور گزشتہ تین سالوں سے ازیت میں ہی تھے. مجھے نہیں جاننا کہ گزرے سالوں میں کیا ہوا تھا تم پاسٹ سناتے سناتے رو پڑو گی میں تمہاری آنکھوں میں آنسوں نہیں دیکھ سکتا مائی لیڈی تمہارے آنسوں مجھے تکلیف دیتے ہیں ” کہتے ہوئے ہانی کا ہاتھ پکڑکر اٹھنے میں مدد کی اور گود میں بٹھالیا
ہانی نے ذاکر کے ماتھے پر اپنا ماتھا ٹکا دیا
” ذاکر آپ بہت برے ہیں “
ذاکر ہانی کو گھورنے لگا اور ہانی نے پہلی بار شرارت کی. ذاکر حیران پریشان سا ہانی کو تکے جارہا تھا
” ہاہ یہ تم ….”
” جو بھی تھا گناہ نہیں تھا ” ذاکر کی بات کاٹ کر کہا
” اور اب جو میں کروں گا وہ بھی گناہ نہیں ہوگا ” ہنستے ہوئے آنکھ ماری
ذاکر کی شرارتیں بڑھتی جارہیں تھیں اور ہانی ہنستی چلی جارہی تھی
” پاپا آپ تیا تر ری ہیں ” ( پاپا آپ کیا کررہی ہیں ? ) عمر نے ذاکر کا بازو ہلاتے ہوئے پوچھا
ذاکر نے ہانی کے بالوں سے چہرہ نکال کر عمر کو دیکھا
” بیٹا میں رومینس کررہی ہوں ” ذاکر نے عمر کے پھولے پھولے گالوں پر پیار کرتے ہوئے کہا
ہانی ہنسنے لگی اور اٹھ کھڑی ہوئی
ذاکر نے ہاتھ کھینچ کر واپس بیٹھالیا
” پاپا کی جان اب پاپا کو ڈسڑب نہیں کرنا ٹھیک ہے ? “
” تھیک ہے ” کہہ کر وہیں کھڑا رہا
ذاکر پھر سے ہانی کی طرف متوجہ ہوا
” کچھ شرم کرلیں آپ کا بیٹا آپ کے پاس کھڑا ہے ” ہانی نے شرم دلائی
” تو کیا ہوا بڑا ہوکر اس نے بھی تو یہی کرنا ہے ” ذاکر نے ڈھٹائی سے ہنستے ہوئے کہا
” انتہائی بے شرم ہیں آپ “
” جیسا بھی ہوں تمہارا ہوں “
” باہر چلیں سب ہمارا انتظار کررہے ہوں گے اور یہ آپ کے لیے ” سایڈ ٹیبل سے بلیک فلاورز کا گلدستہ اٹھاکر ذاکر کو دیا
” The Black Magic rose of Halfeti ” ( Halfeti tiny village of Turkey. These roses referred as Black Magic Roses or Bacarra Roses. )
( ان پھولوں کا رنگ بلیک نہیں ہے بلکہ ڈارک ریڈ ہے جو بلیک کی شیڈ دیتا ہے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ موسم گرما کے دوران صرف ایک مختصر مدت کے لیے بلیک ہوجاتا ہے. ترکی کے اس گاؤں میں موسم ‘ مٹی اور مخصوص اجزاء وغیرہ کے مخصوص ماحول کی وجہ سے یہ پھول صرف ترکی میں پائے جاتے ہیں دنیا میں کہیں اور ایسے پھول نہیں پائے جاتے اور نا ہی کہیں اور کاشت کیے جاتے ہیں. بلیک فلاورز جو عام طور پر استعمال کیے جاتے ہیں وہ اصلی نہیں ہوتے بلکہ ان کو بلیک کلر کیا جاتا ہے. مختصر یہ کہ بلیک روز پوری دنیا میں کہیں بھی نہیں پائے جاتے ) ہانی نے پہلی بار ذاکر کو روز دیے تھے اور وہ بھی بلیک ذاکر کا دل بلیوں اچھلنے لگا.
” ذاکر یہ ساری پینٹنگ آپ نے کی ہے ? ” اردگرد دیکھتے ہوئے کہا
” ہاں بلکل “
” کب ? “
” گزشتہ تین سالوں میں “
” کافی اچھی پینٹنگ کی ہے “
” شکریہ ” ذاکر نے سر خم کرکے کہا
” چلیں اب “
” اوکے “
عمر کو اٹھاکر ہانی ساتھ کمرے سے نکلا تو خان کو دیکھ کر ذاکر کا خون کھول اٹھا مگر خاموش رہا.
” ذاکر مجھے کچھ بات کرنی ہے” ناصر نے ذاکر کو دیکھتے ہوئے کہا
” جی کہیے ” ذاکر نے تمیز دار لہجے میں پوچھا
” ذاکر کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم سب کچھ بھلا کر ایک دوسرے کی طرف صلاح کے لیے ہاتھ بڑھائیں “
ذاکر خاموش رہا
” ہم سب اپنے کیے پر شرمندہ ہیں ” ناصر نے نا چاہتے ہوئے بھی کہا
” مجھے آپ سے یا عامر سے کوئی گلہ نہیں ہے مگر خان …. “
” ذاکر ہم معذرت خواں ہے ” خان نے شرمندہ لہجے میں کہا
ذاکر نے ایک نظر سب کو دیکھا اور سر جھکالیا
” دادی ماں کے آخری الفاظ تھے کہ ذاکر سے کہنا مجھے معاف کردے ” عامرہ کی آنکھ سے آنسوں ٹوٹ کر گرا
” میں معاف کرنے کی کوشش کروں گا ” ذاکر نے نا چاہتے ہوئے بھی کہا
” ناصر صاحب میں آپ سے معافی مانگنا چاہتا ہوں. میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں ” ادریس نے جھکے سر کے ساتھ کہا
” ہم نے تمہیں معاف کیا ” اور اٹھ کر کھڑے ہوگئے
” ہم چلتا ہے ” ہانی کے سر پر پیار دیا اور عمر کو پیار کرکے ذاکر کو گلے لگالیا. ذاکر خاموشی سے گلے لگ گیا
سب کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے باہر کی طرف بڑھے
” ذاکر شکریہ ” ہانی نے ذاکر کا گال کھینچا
ادریس ہنسنے لگے اور اٹھ کر کمرے میں چلے گئے.
” ایسے شکریہ کہتے ہیں ? ” ذاکر نے گھورا
” پھر کیسے کہتے ہیں ? ” مصومیت سے پوچھا گیا
” پاس آنا زرا ” شرارت سے کہا
” نہیں ” ہانی نے صاف ہری جھڑی دیکھائی
ذاکر نے عمر کو نیچے اتار دیا
” ہانی آئی ایم سوری ” افسردہ سا منہ بناکر کہا
” کیوں ? “
” میں نے دوسری شادی کرلی ہے “
” کب ? ” ہانی اچھل پڑی
” دو تین دن پہلے انگلینڈ میں “
ہانی ذاکر پاس چلی آئی
” کہہ دیں کہ یہ جھوٹ ہے ” ہانی رونے والی ہوگئی
ذاکر نے مسکراہٹ روکتے ہوئے کمر میں ہاتھ ڈال کر قریب کرلیا
” اگر شرافت سے نزدیک آجاتی تو مجھے جھوٹ نا بولنا پڑتا ” کہہ کر ہانی کے چہرے پر جھکا
” کیا مطلب? ” ہانی نے ناسمجھنے والے انداز میں پوچھا
” میں نے دوسری شادی نہیں کی ” ہنستے ہوئے کہا
ہانی نے ذاکر کے بال پکڑ لیے
” اللہ اللہ ہانی میرے بال چھوڑ دو ورنہ میں سچ میں دوسری شادی کرلو گا ” ذاکر چیخا
” جھوٹ بو… ” ذاکر نے ہانی کی بولتی بند کردی
ہانی نے ذاکر کے بال چھوڑ دیے اور نظریں خود با خود جھک گئیں
” آپ دوسری شادی نا کرنا میں آپ کی ہر بات مانوں گی ” ہانی نے سر جھکائے ہوئے کہا
” تم نے بعد میں اپنی بات سے مکر جانا ہے ” ذاکر نے مسکراہٹ روکتے ہوئے کہا
” نہیں پلیز ” کہتے ہوئے رونے لگی
” اف ہانی یار مزاق بھی برداشت نہیں ہوتا تم سے ” کہتے ہوئے ہانی کے آنسوں صاف کیے
” دوبارہ ایسی بات مت کہیے گا ورنہ میری دھڑکن رک جائے گی ” ہانی نے سرخ آنکھیں اٹھاکر ذاکر کو دیکھا
” Aşkım senin için ölümsüz ” ( My love is immortal for you )
کہتے ہوئے ہانی کو اپنے ساتھ لگالیا اور پیشانی پر ہونٹ رکھ دیے
” kızgın adamım seni çok seviyorum ” ( My angry man i love you so much )
نہایت آہستہ آواز میں کہا مگر ذاکر کو آسانی سے سن گیا تھا اور چہرے پر مسکراہٹ بکھرگئی..
( ختم_شد )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *